واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


قرآن مجید میں قراء توں کا اختلاف

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-11-11, 07:15 PM   #1
قرآن مجید میں قراء توں کا اختلاف
شکاری شکاری آن لائن ہے 19-11-11, 07:15 PM

قرآن مجید میں قراء توں کا اختلاف


مضمون نگار: ابوالاعلیٰ مودودی
ماخذ: ماہنامہ رشد: قراءت نمبر حصہ دوم

اقتباس:
عصر حاضر کے متجدِّدین نے یہ طے کررکھا ہے کہ اسلام کا ہر وہ حکم جو مغرب کے لئے باعث تشویش ہے، اسے کسی نہ کسی طرح منسوخ اور ناقابل عمل قرار دے دیا جائے۔ ان کا یہ رویہ نہ جانے مغرب سے مرعوبیت کی وجہ سے ہے یا پھر مستشرقین کی ذمہ داری وہ اسلامی معاشروں میں بیٹھ کر نبھا رہے ہیں، کیونکہ ان کا ہر کام اسلامی تعلیمات کی تشریح و توضیح کے بجائے ان کی تعطیل و تضحیک اور مستشرقین کے گمراہ کن افکار کی تثبیت و توثیق پر مبنی نظرآتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہے کہ ایسے افراد کے کار ہائے غلط کی تردید کے لیے ایسی عظیم ہستیوں کوپیدا فرما دیتے ہیں، جو انہی کا سا پس منظر رکھنے کے باوجود اِس قسم کے آوارہ منش مفکرین کے خلاف برسرپیکار ہوجاتے ہیں۔ ہماری رائے میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی بھی ایک ایسی ہی شخصیت ہیں، جنہوں نے بیسویں صدی میں فکر اسلامی کے دفاع کی ذمہ داری بڑ ے احسن انداز سے نبھائی ہے او راسلامی تعلیمات کو دقیانوسی قرار دینے کے بجائے دور جدید کے مطابق ان کی بہترین توجیہہ پیش کی ہے۔ دیگر اُمور کی طرح جب ان سے اختلافِ قراء ات کے بارے میںدریافت کیاگیا تو انہوں نے متجدِّدین کے برعکس اِن کی بھرپور انداز میں توثیق کی او ر انہیں منزل من اللہ قرار دیا۔ ان کا یہ فتویٰ ماہنامہ ترجمان القرآن کے شمارہ بابت جون ۱۹۵۹ء میں شائع ہوا ہے، جسے اتمام فائدہ کے لیے فتوی کے بجائے مضمون کی صورت میں شائع کیا جارہا ہے۔ [ادارہ]
سوال: ذیل میں درج شدہ مسئلہ کے متعلق آپ کی رہنمائی چاہتا ہوں ۔اُمید ہے تفصیلی دلائل سے واضح فرمائیں گے۔

قرآن مجیدکے متعلق ایک طرف تویہ کہا جاتا ہے کہ یہ بعینہٖ اُسی صورت میں موجود ہے جس صورت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل ہواتھا۔ حتیٰ کہ اس میں ایک شوشے یا کسی زیر، زبر کی بھی تبدیلی نہیں ہوئی، لیکن دوسری طرف بعض معتبر کتب میں یہ درج ہے کہ کسی خاص آیت کی قراء ت مختلف طریقوں سے مروی ہے جن میں اعراب کا فرق عام ہے۔بلکہ بعض جگہ تو بعض عبارات کے اختلاف کاذکر تک کیا گیا ہے۔

اگر پہلی بات صحیح ہو تواختلاف قراء ت ایک مہمل سی بات نظر آتی ہے، لیکن اس صورت میں علماء کا اختلاف قراء ت کی تائید کرناسمجھ میں نہیں آتا اور اگر دوسری بات کوصحیح مانا جائے تو قرآن کی صحت مجروح ہوتی نظر آتی ہے۔ یہ بات تو آپ جانتے ہی ہیں کہ اِعراب کے فرق سے عربی کے معانی میں کتنافرق ہوجاتا ہے۔یہاں میں یہ عرض کردینا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ منکرین حدیث کی طرف میرا ذرہ بھر بھی میلان نہیں ہے بلکہ صرف مسئلہ سمجھنے کے لیے آپ کی طرف رجوع کررہاہوں ۔



جواب:یہ بات اپنی جگہ بالکل صحیح ہے کہ قرآن مجید آج ٹھیک اسی صورت میں موجود ہے جس میں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہواتھا اور اس میں ذرہ برابر کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے، لیکن یہ بات بھی اس کے ساتھ قطعی صحیح ہے کہ قرآن میں قراء توں کا اختلاف تھا اور ہے۔ جن لوگوں نے اس مسئلے کا باقاعدہ علمی طریقے پرمطالعہ نہیں کیا ہے وہ محض سطحی نظر سے دیکھ کر بے تکلف فیصلہ کردیتے ہیں کہ یہ دونوں باتیں باہم متضاد ہیں اور ان میں سے لازماً کوئی ایک ہی بات صحیح ہوسکتی ہے،یعنی اگر قرآن صحیح طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل ہوا ہے تو اختلافاتِ قراء ت کی بات غلط ہے اور اگر اختلافِ قراء ت صحیح ہے تو پھر معاذ اللہ قرآن ہم تک صحیح طریقے سے منتقل نہیں ہوا ہے، حالانکہ فیصلے صادر کرنے سے پہلے یہ لوگ کچھ علم حاصل کرنے کی کوشش کریں تو خود بھی غلط فہمی سے بچ جائیں اور دوسروں کوغلط فہمیوں میں مبتلاکرنے کاوبال بھی اپنے سر نہ لیں ۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جس رسم الخط میں ابتداءً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کی کتابت کرائی تھی اور جس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہلا مصحف مرتب کرایا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جس کی نقل بعد میں شائع کرائی، اس کے اندر نہ صرف یہ کہ اعراب نہ تھے بلکہ نقطے بھی نہ تھے، کیونکہ اس وقت تک یہ علامات ایجاد نہ ہوئی تھیں ۔اس رسم الخط میں پورے قرآن کی عبارت یوں لکھی گئی تھی:

کتاب احکمت ایتہ ثم فصلت من لدن حکیم خبیر


اس طرز تحریر کی عبارتوں کو اہل زبان اٹکل سے پڑھ لیتے تھے اور بہرحال بامعنی بناکر ہی پڑھا کرتے تھے، لیکن جہاں مفہوم کے اعتبار سے متشابہ الفاظ آجاتے ہیں ، یا زبان کے قواعد و محاورہ کی رو سے ایک ہی لفظ کے کئی تلفظ یا اِعراب ممکن ہوتے وہاں خود اہل زبان کو بھی بکثرت اقتباسات پیش آجاتے ہیں اور یہ تعین کرنا مشکل ہوجاتا تھاکہ لکھنے والے کا اصل منشا کیا ہے۔مثلاً ایک فقرہ اگریوں لکھا ہو کہ ربنا بعد بین اسفارنا تو اسے رَبَّنَا بَاعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَابھی پڑھا جاسکتا تھا اور رَبُّنَا بَعَّدَ بَیْنَ اَسْفَارِنَا بھی۔ اسی طرح اگر ایک عبارت یوں لکھی ہو کہ انظر الی العظام کیف ننشزھا تو اسے اُنْظُرْ اِلَی الْعِظَامِ کَیْفَ نُنْشِزُھَا بھی پڑھاجاسکتا تھا اور کَیْفَ نُنْشِرُھَا بھی۔

یہ اختلافات تو اس رسم الخط کے پڑھنے میں اہل زبان کے درمیان ہوسکتے تھے، لیکن ایک عربی تحریر اگر اسی رسم الخط میں غیر اہل زبان کو پڑھنی پڑ جاتی تو وہ اس میں ایسی سخت غلطیاں کرجاتے جو قائل کے منشا کے بالکل برعکس معنی دیتی تھیں ۔مثلاً ایک دفعہ ایک عجمی نے آیت إنَّ اﷲَ بَرِیٌٔ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَرَسُوْلُہُ میں لفظ وَرَسُوْلُہُ کا اعراب وَرَسُوْلِہِ پڑھا جس سے معنی یہ بن گئے کہ ’’اللہ بری الذمہ ہے مشرکین سے اور اپنے رسول سے‘‘ معاذ اﷲ

پھر یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قرآن میں اعراب لگانے کی ضرورت سب سے پہلے بصرے کے گورنر زیاد رحمہ اللہ نے محسوس کی جو ۴۵ھ سے ۵۳ ھ تک وہاں کا گورنر رہا تھا۔ اس نے ابوالاسود دؤلی رحمہ اللہ سے فرمائش کی کہ وہ اعراب کے لیے علامات تجویز کریں اور انہوں نے یہ تجویز کیا کہ مفتح حرف کے اوپر، مکسور حرف کے نیچے اورمضموم حرف کے بیچ میں ایک ایک نقطہ لگا دیا جائے۔اس کے بعد عبدالملک بن مروان رحمہ اللہ ۶۵ھ تا ۸۶ ھ کے عہد حکومت میں حجاج بن یوسف رحمہ اللہ والی عراق نے دو علماء کو اس کام پرمامور کیا کہ وہ قرآن کے متشابہ حروف میں تمیز کرنے کی کوئی صورت تجویز کریں ۔چنانچہ انہوں نے پہلی مرتبہ عربی زبان کے حروف میں بعض کو منقوط اور بعض کو غیرمنقوط کرکے اورمنقوط حروف کے اوپر یانیچے ایک سے لے کر تین تک نقطے لگاکر فرق پیدا کیا اور ابوالاسود رحمہ اللہ کے طریقے کو بدل کر اعراب کے لیے نقطوں کے بجائے زیر، زبر، پیش کی وہ حرکات تجویز کیں جو آج مستعمل ہیں ۔

ان دو تاریخی حقیقتوں کونگاہ میں رکھ کر دیکھئے کہ اگر قرآن کی اشاعت کا دار ومدار صرف تحریر پر ہوتا توجس رسم الخط میں اُمت کو یہ کتاب ملی تھی اس کو پڑھنے میں تلفظ اور اعراب ہی کے نہیں متشابہ حروف کے بھی کتنے بے شمار اختلافات ہوگئے ہوتے۔ محض زبان اور اس کے قواعد کی بناپر خود اہل زبان بھی اگر نقطے اور اعراب لگانے بیٹھتے تو قرآن کی ایک ایک سطر میں بیسیوں اختلافات کی گنجائش نکل سکتی تھی اور کسی ذریعہ سے یہ فیصلہ نہ کیا جاسکتاتھا کہ اصل عبارت جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی وہ کیا تھی۔ اس کااندازہ آپ خود اس طرح کرسکتے ہیں کہ اُردو زبان کی کوئی عبارت بے نقطہ لکھ کر دس بیس زبان داں اصحاب کے سامنے رکھ دیں ۔ آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے کسی کی قراء ت بھی کسی دوسرے کی قراء ت کے مطابق نہ ہوگی۔اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن میں نقطے اور اعراب لگانے کا کام محض لغت اور قواعد زبان کی مہارت کے بل بوتے پرنہیں کیا جاسکتاتھا، کیونکہ اس طرح ایک مصحف نہیں ،بے شمار مصاحف تیار ہوجاتے جن میں الفاظ اور اعراب کے اَن گنت اختلافات ہوتے اور کسی نسخے کے متعلق بھی یہ دعویٰ نہ کیاجاسکتا کہ یہ ٹھیک اس تنزیل کے مطابق ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی۔

اقتباس:
اب وہ کیا چیز ہے جس کی بدولت آج دنیابھر میں ہم قرآن کا ایک ہی متفق علیہ متن پارہے ہیں اور جس کی بدولت قراء توں کے اختلافات امکانی وسعتوں تک پھیلنے کے بجائے صرف چند متواتر یامشہور اختلافات تک محدود رہ گئے؟یہ اُسی نعمت کا صدقہ ہے جس کی قدر گھٹانے اورجس پر سے اعتماد اٹھانے کے لیے منکرین حدیث ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں یعنی روایت۔
اوپر جن دو تاریخی حقیقتوں کاذکر کیا گیا ہے ان کے علاوہ ایک تیسری اہم ترین تاریخی حقیقت بھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ قرآن کی اشاعت ابتداًء تحریر کی صورت میں نہیں بلکہ زبانی تلقین کی صورت میں ہوئی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی عبارت کو کاتبانِ وحی سے لکھوا کر محفوظ تو ضرور کرا دیاتھا، لیکن عوام میں اس کے پھیلنے کا اصل ذریعہ یہ تھا کہ لوگ براہِ راست حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قرآن کوسن کر یاد کرتے تھے اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھنے والے آگے دوسروں کوسکھاتے اور حفظ کراتے تھے۔اس طرح قرآن کاصحیح تلفظ اور صحیح اعراب،جو عین تنزیل کے مطابق تھا، ہزارہا آدمیوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوا اور پھر لاکھوں آدمیوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگردوں کی زبانی تعلیم سے حاصل ہوا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ایک معتدبہ گروہ ایسے اصحاب کاتھاجنہوں نے پوراقرآن لفظ بلفظ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنااور یاد کیاتھا۔ ہزارہا اصحاب ایسے تھے جو قرآن کے مختلف اجزاء حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کرچکے تھے اور ایک بہت بڑی تعداد ان صحابیوں کی تھی جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں تو آپ سے صرف بعض اجزاء قرآن کی تعلیم حاصل کی تھی، مگر آپ کے بعد پورے قرآن کی قراء ت لفظ بلفظ اُن اصحاب سے سیکھی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو سیکھ چکے تھے۔ یہی اصحاب وہ اصل ذریعہ تھے جن کی طرف بعد کی نسل نے قرآن کی صحیح قراء ت (Reading)معلوم کرنے کے لیے رجوع کیا۔
اس قراء ت کا حصول محض لکھے ہوئے مصحف سے ممکن نہ تھا۔ یہ چیز صرف اسی طرح حاصل ہوسکتی تھی کہ مصحف مکتوب کو ان جیتے جاگتے مصاحف سے پڑھ کر اس کی اصلی عبارت تک رسائی حاصل کی جائے۔


یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن کے جومستند نسخے لکھوا کر مملکت کے مختلف مراکز میں رکھوائے تھے ان کے ساتھ ایک ایک ماہر قراء ت کو بھی مقرر کیاتھا تاکہ وہ ان نسخوں کوٹھیک طریقے سے پڑھنا لوگوں کو سکھائے۔ مدینہ میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اس خدمت پر مقرر تھے۔ مکہ میں حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کو خاص طور پر اسی کام کے لیے بھیجا گیا تھا۔ شام میں مغیرہ بن شہاب رضی اللہ عنہ ، کوفہ میں ابوعبدالرحمن السلمی رضی اللہ عنہ اور بصرہ میں عامر بن عبدالقیس رضی اللہ عنہ اس منصب پر مامور کئے گئے تھے۔ ان کے علاوہ جہاں جو صحابی بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست یا آپ کے بعد قراء صحابہ سے قرآن کی پوری قراء ت سیکھے ہوئے تھے، ان کی طرف ہزارہا آدمی اس مقصد کے لیے رجوع کرتے تھے کہ قرآن کا صحیح تلفظ اور صحیح اعراب لفظ بلفظ ان سے سیکھیں ۔


ان عام متعلمین قرآن کے علاوہ تابعین و تبع تابعین کے عہد میں ایک گروہ ایسے بزرگوں کابھی پیدا ہوگیا جنہوں نے خصوصیت کے ساتھ قراء ت قرآن میں اختصاص پیدا کیا۔ یہ لوگ ایک ایک لفظ کے تلفظ، طریق ادا اور اعراب کومعلوم کرنے کے لیے سفر کرکے ایسے اَساتذہ کے پاس پہنچے جو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تر نسبت تلمذ رکھتے تھے اور ہر ہر لفظ کی قراء ت کے متعلق یہ نوٹ کیا کہ اسے انہوں نے کس سے سیکھا ہے اور اس کے استاد نے کس سے سیکھا تھا۔اسی مرحلے میں یہ بات تحقیق ہوئی کہ مختلف صحابیوں رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے شاگردوں کی قراء ت میں کہاں کہاں اور کیا اختلافات ہیں ۔ ان میں سے کون سے اختلافات شاذ ہیں ، کون سے مشہور ہیں ، کون سے متواتر ہیں اور ہر ایک کی سند کیا ہے۔

پہلی صدی کے دورِ آخر سے لے کردوسری صدی تک اس طرح کے ماہرین قراء ت کا ایک گروہ کثیر دنیائے اسلام میں موجود تھا۔ مگر ان میں خاص طور پر جن لوگوں کا کمال علم تمام اُمت میں تسلیم کیا گیا وہ حسب ذیل سات اَصحاب ہیں جوقراء سبعہ کے نام سے مشہور ہیں :

1۔ نافع بن عبدالرحمن رحمہ اللہ متوفی ۱۶۹ھ یہ اپنے وقت میں مدینہ کے رئیس القراء مانے جاتے تھے ان کا سب سے زیادہ معتبر سلسلہ تلمذیہ تھا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پورا قرآن پڑھا۔ انہوں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

2۔ عبداللہ بن کثیر رحمہ اللہ یہ مکہ کے امام قراء ت تھے۔ ۴۵ھ میں پیدا ہوئے اور ۱۲۰ ھ میں وفات پائی۔ ان کے خاص استاد عبداللہ بن سائب مخزومی رضی اللہ عنہ تھے جنہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن کے سرکاری نسخے کے ساتھ تعلیم دینے کے لیے مکہ بھیجا تھا اور عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ وہ بزرگ تھے جنہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پورا قرآن پڑھا تھا۔

3۔ ابوعمرو بن العلاء البصری رحمہ اللہ ۶۸ھ میں پیداہوئے اور ۱۵۵ ھ میں وفات پائی۔حرمین اور کوفہ و بصرہ کے کثیر التعداد ائمہ قراء ت سے علم حاصل کیا۔ ان کے سب سے زیادہ معتبر سلسلہ تلمذ دو تھے۔ایک مجاہد رحمہ اللہ اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا سلسلہ جو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تک پہنچتا تھا۔ دوسرا حسن بصری رحمہ اللہ کا سلسلہ جن کے اساتذہ ابوالعالیہ تھے اور وہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے شاگرد تھے۔

4۔ عبداللہ بن عامر رحمہ اللہ ۔یہ اہل شام میں قراء ت کے امام مانے گئے۔ ۸ ھ میں پیدا ہوئے اور ۱۱۸ میں وفات پائی۔ بڑے بڑے صحابہ سے قراء ت سیکھی تھی۔ ان کے خاص استاذ مغیرہ بن شہاب مخزومی رحمہ اللہ تھے جنہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے قراء ت کا علم حاصل کیاتھا۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قرآن کاجو سرکاری نسخہ شام بھیجا گیا تھا اس کے ساتھ یہی مغیرہ بن شہاب رحمہ اللہ تعلیم قراء ت پر مامور کرکے بھیجے گئے تھے۔

5۔ حمزہ بن حبیب الکوفی رحمہ اللہ ۸۰ ھ میں پیداہوئے اور ۱۵۷ھ میں وفات پائی۔ ان کاخاص سلسلۂ سندعن الاعمش، عن یحییٰ بن وثاب، عن زر بن حبیش، عن علی و عثمان و ابن مسعودy ہے۔ اپنے وقت میں یہ کوفہ کے امام اہل قراء ت مانے جاتے تھے۔

6۔ علی الکسائی رحمہ اللہ ۔ یہ حمزہ کے بعد کوفہ کے امام قراء ت مانے گئے۔ یہ بیک وقت نحو کے امام بھی تھے اور قراء ت کے امام بھی۔ان کی مجلس میں سینکڑوں آدمی اپنے اپنے مصاحف لے کر بیٹھ جاتے اور یہ قرآن کے ایک ایک لفظ کا صحیح تلفظ، طریق اَداء اور اعراب بتاتے جاتے تھے۔ ۱۸۹ ھ میں وفات پائی۔

7۔ عاصم بن ابی النجود رحمہ اللہ ۔کوفہ کے شیخ القراء ،۱۲۷ ھ میں وفات پائی۔ان کے معتبر ترین ذریعہ علم قراء ت دو تھے۔ ایک زر بن حبیش رحمہ اللہ جنہوں نے حضرات علی و عثمان و عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم سے قراء ت کا علم حاصل کیا تھا۔ دوسرے عبداللہ بن حبیب السلمی رحمہ اللہ جنہوں نے حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے قرآن کی تعلیم حاصل کی تھی اور بعد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو امام حسن رضی اللہ عنہ اور امام حسین رضی اللہ عنہ کامعلم قراء ت مقرر کیا تھا۔ آج قرآن کاجونسخہ ہمارے ہاتھوں میں ہے وہ انہی عاصم بن ابی النجود رحمہ اللہ کے مشہور ترین شاگرد حفص رحمہ اللہ [ ۹۰ھ، ۱۸۰ھ ] کی روایت کے مطابق ہے۔

ان سات اصحاب کے علاوہ مزید جن اَصحاب کی قراء توں نے شہرت حاصل کی وہ یہ ہیں :
ابوجعفر ، یعقوب، خلف ، حسن بصری ، ابن محیصن، یحییٰ الیزیدی اور الشنبوذی

اقتباس:
ان قراء کے زمانے میں سینکڑوں ہزاروں آدمی ایسے موجود تھے جنہیں انہی ذرائع اور سندوں سے یہ قراء تیں پہنچی تھیں جن سے وہ ان کو پہنچی تھیں وہ بھی انہی استادوں کے شاگرد تھے جن کے یہ لوگ شاگرد تھے اور ان سب کے پاس ہر ایک قراء ت کے لیے پورا سلسلۂ اسناد موجود تھا جو کسی صحابی کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا تھا۔ اس لیے ان میں سے کسی امام قراء ت کے بارے میں بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اپنی قراء ت کی روایت میں منفرد تھا۔ دراصل ہر ایک کی قراء ت کے بکثرت گواہ دنیائے اسلام کے ہر حصے میں پائے جاتے تھے، اسی وجہ سے ان اماموں کی قراء تیں اُمت میں مسلّم مانی گئیں ۔



مختلف قراء توں کو ردّ یا قبول کرنے کے لیے اہل فن کے درمیان جن شرائط پر قریب قریب مکمل اتفاق پایا جاتاہے وہ یہ ہیں :

اوّل: یہ کہ جو قراء ت بھی ہو وہ مصحف عثمانی کے رسم الخط سے مطابقت رکھتی ہو۔ اس رسم الخط میں جس قراء ت کی گنجائش نہ ہو وہ کسی حال میں قبول نہیں کی جائے گی، مثلاً مصحف عثمانی میں اگر ایک لفظ بعد لکھاگیا ہے تو اس کی قراء ت بٰعِدْ اور بَعَّدَ تو قبول کی جاسکتی ہے مگر بَعَّدْتَ قبول نہیں کی جاسکتی کیونکہ وہ مستند سرکاری متن کے خلاف پڑتی ہے۔

دوم: یہ کہ قراء ت ایسی ہو جو لغت، محاورے اور قواعد زبان کے خلاف نہ ہو اور عبارت کے سیاق و سباق سے مناسبت رکھتی ہو۔

ان دونوں شرطوں کے ساتھ تیسری اہم ترین شرط یہ ہے کہ ایک قراء ت اسی صورت میں قابل قبول ہوگی جب کہ اس کی سند معتبر اور مسلسل واسطوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی ہو۔ ورنہ محض یہ بات کہ ایک قراء ت کے لیے مصحف کے رسم الخط میں گنجائش ہے اور قواعد زبان کے لحاظ سے بھی ایک سیاق و سباق میں کوئی لفظ اس طرح پڑھا جاسکتا ہے ، اس کو قبول کرلینے کے لیے کافی نہیں ہے۔ ہر قراء ت کے لیے اس امر کا ثبوت لازما ہوناچاہئے کہ اس لفظ یا اس عبارت کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح پڑھا تھایا کسی صحابی کو اس طرح پڑھایا تھا۔ یہی آخری شرط وہ اصل نعمت ہے جس کی بدولت قراء توں کے وہ بے شمار ممکن اختلافات، جن کی گنجائش مصحف عثمانی کے رسم الخط اور زبان و محاورہ میں نکل سکتی تھی، گھٹ کر چند مستند اختلافات تک محدود ہوگئے اور ہم کو یہ سعادت میسر ہوئی کہ قرآن جیسا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا ویسا ہی آج ہم پڑھ سکیں ۔

اب رہ گیا یہ سوال کہ معتبر قاریوں کے واسطہ سے متواتر اور مشہور سندوں کے ساتھ جو مختلف قراء تیں ہم تک پہنچی ہیں ان کے اختلافات کی نوعیت کیا ہے؟کیا فی الواقع حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی بعض الفاظ کو مختلف طریقوں سے پڑھا اور پڑھایا تھا یا ان میں سے کسی قراء ت کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط نسبت دے دی گئی ہے؟ اور کیا یہ قراء تیں معنی کے لحاظ سے متضاد ہیں یا ان میں کوئی مطابقت پائی جاتی ہے؟ اس کاجواب یہ ہے کہ فی الواقع حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے بعض الفاظ مختلف طریقوں سے پڑھے اور پڑھائے ہیں اور ان مختلف قراء توں میں درحقیقت تضاد نہیں ہے بلکہ غور کرنے سے ان میں بڑی گہری معنوی مناسبت اور اِفادیت پائی جاتی ہے۔

مثال کے طور پر ملک یوم الدین کی دو متواتر قراء تیں ہیں ۔ عاصم، کسائی، خلف اور یعقوب رحمہم اللہ نے کثیر التعداد صحابہ کی سند سے اس کو مٰلِکِ یوم الدین روایت کیاہے، اور دوسرے قاریوں نے بہت سے صحابہ سے اسکی قراء ت مَلِکِ یوم الدین نقل کی ہے۔ ایک قراء ت کی رُو سے ترجمہ ہوگا’’روز جزاء کامالک‘‘اور دوسری قراء ت کا ترجمہ ’’روز جزاء کابادشاہ‘‘ غور کیجئے کیا ان دونوں میں تضاد ہے؟ درحقیقت ان دو قراء توں نے مل کر تو معنی کو اور زیادہ وسعت دے دی اور مدعا کو پوری طرح نکھار دیا۔ سند سے قطع نظر ، عقل بھی کہتی ہے کہ جبریل علیہ السلام نے دونوں قراء توں کے ساتھ یہ لفظ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوسکھایا ہوگا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس لفظ کو کبھی ایک طرح اورکبھی دوسری طرح پڑھتے ہوں گے۔


ایک اور مثال آیت وضوء کی ہے جس میں ارجلکم کی دو متواتر قراء تیں منقول ہوئی ہیں ۔نافع، عبداللہ بن عامر، حفص، کسائی اور یعقوب رحمہم اللہ کی قراء ت اَرْجُلَکُمْ ہے جس سے پاؤں دھونے کاحکم ثابت ہوتاہے اور عبداللہ بن کثیر، حمزہ بن حبیب، ابوعمرو بن العلاء اور عاصم رحمہم اللہ کی قراء ت اَرْجُلِکُمْ ہے جس سے پاؤں پرمسح کرنے کاحکم نکلتا ہے۔ بظاہر ایک شخص محسوس کرے گا کہ یہ دونوں قراء تیں متضاد ہیں ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے معلوم ہوگیاکہ دراصل ان میں تضاد نہیں ہے بلکہ یہ دو مختلف حالتوں کے لیے دو الگ الگ اَحکام کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔بے وضو آدمی کووضو کرنا ہوتو اسے پاؤں دھونا چاہئے۔باوضو اگر تجدید وضو کرے تو وہ صرف مسح پراکتفاکرسکتا ہے۔ وضو کرکے اگر آدمی پاؤں دھونے کے بعد موزے پہن چکا ہو تو پھر بحالت قیام ایک شب وروز تک اور بحالت سفر تین شب و روز تک وہ صرف موزوں پر مسح کرسکتا ہے۔ حکم کی یہ وسعت ان دو قراء توں کی بدولت ہی واضح ہوتی ہے۔

اسی طرح دوسرے جن جن مقامات پر بھی قرآن کی متواتر اور مشہور قراء توں میں اختلافات پائے جاتے ہیں ان میں کسی جگہ بھی آپ تضاد اور تصادم نہ پائیں گے۔ہرقراء ت دوسری قراء ت کے ساتھ ایک نیافائدہ دیتی ہے جو تھوڑے سے غور و فکر اور تحقیق سے آپ کو معلوم ہوسکتا ہے۔

[بشکریہ:ماہنامہ ترجمان القرآن]
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]

Last edited by حیدر; 19-11-11 at 09:35 PM.. وجہ: Adding some pictures of otomanic written Quran

شکاری
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1889
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (19-11-11), skjatala (21-11-11), احمد نذیر (21-11-11), بلال الراعی (20-11-11), حیدر (19-11-11), عبداللہ آدم (24-11-11), عبداللہ حیدر (20-11-11)
پرانا 19-11-11, 08:11 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
ایک اور مثال آیت وضوء کی ہے جس میں ارجلکم کی دو متواتر قراء تیں منقول ہوئی ہیں ۔نافع، عبداللہ بن عامر، حفص، کسائی اور یعقوب رحمہم اللہ کی قراء ت اَرْجُلَکُمْ ہے جس سے پاؤں دھونے کاحکم ثابت ہوتاہے اور عبداللہ بن کثیر، حمزہ بن حبیب، ابوعمرو بن العلاء اور عاصم رحمہم اللہ کی قراء ت اَرْجُلِکُمْ ہے جس سے پاؤں پرمسح کرنے کاحکم نکلتا ہے۔ بظاہر ایک شخص محسوس کرے گا کہ یہ دونوں قراء تیں متضاد ہیں ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے معلوم ہوگیاکہ دراصل ان میں تضاد نہیں ہے بلکہ یہ دو مختلف حالتوں کے لیے دو الگ الگ اَحکام کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔بے وضو آدمی کووضو کرنا ہوتو اسے پاؤں دھونا چاہئے۔باوضو اگر تجدید وضو کرے تو وہ صرف مسح پراکتفاکرسکتا ہے۔ وضو کرکے اگر آدمی پاؤں دھونے کے بعد موزے پہن چکا ہو تو پھر بحالت قیام ایک شب وروز تک اور بحالت سفر تین شب و روز تک وہ صرف موزوں پر مسح کرسکتا ہے۔ حکم کی یہ وسعت ان دو قراء توں کی بدولت ہی واضح ہوتی ہے۔

اسی طرح دوسرے جن جن مقامات پر بھی قرآن کی متواتر اور مشہور قراء توں میں اختلافات پائے جاتے ہیں ان میں کسی جگہ بھی آپ تضاد اور تصادم نہ پائیں گے۔ہرقراء ت دوسری قراء ت کے ساتھ ایک نیا فائدہ دیتی ہے جو تھوڑے سے غور و فکر اور تحقیق سے آپ کو معلوم ہوسکتا ہے۔
[بشکریہ:ماہنامہ ترجمان القرآن]
ہر قراءت دوسری قراءت کے ساتھ ایک نیا فائدہ دیتی ہے جو تھوڑے سے غور و فکر اور تحقیق سے آپ کو معلوم ہوسکتا ہے جیسا کہ متعہ قرآن ہی سے حلال ہو جاتا ہے ۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
ایک اور مثال آیت وضوء کی ہے جس میں ارجلکم کی دو متواتر قراء تیں منقول ہوئی ہیں ۔نافع، عبداللہ بن عامر، حفص، کسائی اور یعقوب رحمہم اللہ کی قراء ت اَرْجُلَکُمْ ہے جس سے پاؤں دھونے کاحکم ثابت ہوتاہے اور عبداللہ بن کثیر، حمزہ بن حبیب، ابوعمرو بن العلاء اور عاصم رحمہم اللہ کی قراء ت اَرْجُلِکُمْ ہے جس سے پاؤں پرمسح کرنے کاحکم نکلتا ہے۔ بظاہر ایک شخص محسوس کرے گا کہ یہ دونوں قراء تیں متضاد ہیں ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے معلوم ہوگیاکہ دراصل ان میں تضاد نہیں ہے بلکہ یہ دو مختلف حالتوں کے لیے دو الگ الگ اَحکام کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔بے وضو آدمی کووضو کرنا ہوتو اسے پاؤں دھونا چاہئے۔باوضو اگر تجدید وضو کرے تو وہ صرف مسح پراکتفاکرسکتا ہے۔ وضو کرکے اگر آدمی پاؤں دھونے کے بعد موزے پہن چکا ہو تو پھر بحالت قیام ایک شب وروز تک اور بحالت سفر تین شب و روز تک وہ صرف موزوں پر مسح کرسکتا ہے۔ حکم کی یہ وسعت ان دو قراء توں کی بدولت ہی واضح ہوتی ہے۔

اسی طرح دوسرے جن جن مقامات پر بھی قرآن کی متواتر اور مشہور قراء توں میں اختلافات پائے جاتے ہیں ان میں کسی جگہ بھی آپ تضاد اور تصادم نہ پائیں گے۔ہرقراء ت دوسری قراء ت کے ساتھ ایک نیا فائدہ دیتی ہے جو تھوڑے سے غور و فکر اور تحقیق سے آپ کو معلوم ہوسکتا ہے۔
[بشکریہ:ماہنامہ ترجمان القرآن]
ہر قراءت دوسری قراءت کے ساتھ ایک نیا فائدہ دیتی ہے جو تھوڑے سے غور و فکر اور تحقیق سے آپ کو معلوم ہوسکتا ہے جیسا کہ شیعہ وضو قرآن ہی سے ثابت ہو جاتا ہے ۔
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

Last edited by حیدر; 19-11-11 at 10:51 PM. وجہ: Merging because of Thread Rules & Regulations
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (23-11-11)
پرانا 19-11-11, 08:25 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بڑے لوگوں کی باتیں :: مودودی صاحب جو فرمائیں اُن کا حق ہے !!!

بڑے لوگوں کی باتیں

یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ بڑے لوگوں کی باتیں بڑی ہوتی ہیں ’’رشد‘‘ کے جن مضمون نگاروں نے اس طرح کی بحث اُٹھائی ہے وہ بلاشبہ بڑے لوگ ہیں اور خصوصاً سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا مقام بھی اپنی جگہ ایک خاص اہمیت رکھتا ہے، ۔۔۔۔۔۔ جس میں موصوف رقم طراز ہیں کہ:
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جس رسم الخط میں ابتداءً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کی کتابت کرائی تھی اور جس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہلا مصحف مرتب کرایا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جس کی نقل بعد میں شائع کرائی اس کے اندر نہ صرف یہ کہ اعراب نہ تھے بلکہ نقطے بھی نہ تھے کیونکہ اس وقت تک یہ علامات ایجاد نہ ہوئی تھیں اس رسم الخط میں پورے قرآن کی عبارت یوں لکھی گئی تھی۔
’’کتاب احکمت ایتہ ثم فصلت من لدن حکیم خبیر
اس طرزِ تحریر کی عبارتوں کو اہل زبان اٹکل سے پڑھ لیتے تھے اور بہرحال بامعنی بنا کر ہی پڑھا کرتے تھے۔‘‘ (اس کی کوئی مثال پیش کرنا ہرگز ہرگز ممکن نہیں) حقیقت یہ ہے کہ حروف کی اشکال ایسی تھیں کہ بغیر نقاط کے ان کی پہچان کی جا سکتی۔

مودودی صاحب جو فرمائیں اُن کا حق ہے

بہرحال سید مودوی رحمہ اللہ جو کچھ بھی اور جیسے بھی تحریر کریں اُن کو حق ہے اور جس چیز کو وہ تاریخی حقیقت فرما دیں شاید اُس کا مقام فی نفسہٖ قرآن و سنت سے اوپر ہوتا ہو گا کیونکہ اُن کو ماننے اور تسلیم کرنے والے اس ملک عزیز میں منظم طور پر موجود ہیں۔
ہمیں تعجب تو ’’اہل رشد‘‘ پر ہے کہ اُنہوں نے اپنا جو مسلک متعارف کرایا ہے وہ کتاب اللہ اور صحیح حدیث رسول اللہ ہے کیا فی الواقعہ کتاب اللہ اور صحیح حدیث رسول اللہ ﷺ میں بھی کوئی ایسی بات موجود ہے؟ اگر ہے تو وہ کہاں ہے؟ میرے جیسے کمزور دماغوں کو جب تک انگلی رکھ کر اس کی نشاندہی نہ کی جائے سمجھ نہیں آتی اور ایسی تاریخی حقیقت کو جو کتاب و سنت کے خلاف ہو دل تسلیم نہیں کرتا خواہ اس کو کہنے والے علامہ مودودی ہوں۔
تاریخی کہانیوں کا مقام بہرحال صحیح روایات کے بعد ہے اور جب صحیح روایات بھی محض سند کے اعتبار پر صحیح تسلیم نہیں کی جا سکتیں جب وہ درایت کے خلاف ہوں تو پھر کسی بات کو اگر تاریخی حقیقت کہا جائے تو محض کسی بڑے بزرگ کے کہنے سے ایک خلافِ حقیقت بات کو کیسے مان لیا جائے؟ خصوصاً جب کہ وہ اُس کے اپنے بیان کے بھی نقیض ہو۔ اسی مضمون میں چار سطر پہلے سید موصوف فرماتے ہیں کہ:
’’یہ بات اپنی جگہ بالکل صحیح ہے کہ قرآنِ مجید آج ٹھیک اسی صورت میں موجود ہے جس میں وہ نبی ﷺ پر نازل ہوا تھا اور اس میں ذرا برابر کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔‘‘

دو مختلف باتیں بھی حق ہو سکتی ہیں؟

سید مودودی رحمہ اللہ علیہ کی ان دونوں عبارتوں کو کم از کم تین چار بار ضرور پڑھیں اور اس تحریر کو بھی دیکھیں جو بقول سید صاحب موصوف قرآنِ کریم کے نزول کے وقت تحریر کی گئی تھی جو سورہ ہود کی پہلی آیت کے طور پر قرآنِ کریم میں آج بھی موجود ہے اور پھر ان دونوں تحریر کو آپس میں ملائیں اور فیصلہ خود کر لیں کہ سید صاحب والی عبارت وہی ہے جو خود نبی کریم ﷺ نے تحریر کرائی ہے کیونکہ بقول سید صاحب موصوف وہ نقاط اور اعراب کے بغیر تھی اگر بات ایسی ہے تو پھر اس وقت سارا قرآن ہی بدلا ہوا ہے اور بقول سید صاحب یہ تبدیلی بھی پہلی صدی میں کر دی گئی تھی جو ابوالاسود دولی رحمۃ اللہ نے کی تھی اور جو کسر رہ گئی وہ حجاج بن یوسف سے پوری کرائی گئی اور یہ سب کچھ ہونے کے باوجود قرآنِ کریم پھر من و عن وہی رہا جو اُس وقت آپؐ پر نازل ہوا جس میں ایک نقطہ یا شوشہ کا فرق بھی نہیں ہے کیا یہ دونوں باتیں کسی طرح صحیح ہو سکتی ہیں؟ ہاں! یہ دونوں باتیں صحیح ہیں، کیونکہ سید مودودی رحمہ اللہ نے تحریر کر دی ہے۔ کیا اسلام میں کسی چیز کے سمجھنے کامعیار یہی ہے جو اس جگہ بیان ہو رہا ہے؟


سید مودودی حروف کی شکلیں واضح کر دیتے تو بہتر ہوتا

بہتر ہوتا کہ سید صاحب موصوف اگر یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ اُس وقت حروف ہجا نقاط سے خالی تھے تو اُن کی کوئی فرضی صورت ہی تشکیل دے کر واضح کر دیتے کہ اُس وقت ب ، ت ، ث کو اس شکل میں تحریر کیا جاتا تھا اور ان کی شکلیں الگ الگ تحریر کر دیتے تاکہ انسانی ذہن آپ کی بات کو قبول کر لیتا اس لیے کہ اگر موجودہ حروفِ ہجا سے نقاط ختم کر دیئے جائیں تو حروف کی صرف بارہ شکلیں باتی رہ جاتی ہیں اور بارہ حروف ہجا سے قرآنِ کریم کی عربی عبارت کا تحریر کرنا کسی صورت بھی ممکن نہیں پھر تحریر وہ چیز ہے جو مشاہدہ میں آنے والی ہے اگر اُس وقت ممکن تھی تو آج بھی ہے۔ پورا قرآنِ کریم تو بہت بڑی بات ہے صرف دس سطور ان بارہ حروف ہجا میں تحریر کر کے دکھائیں جس کو عام لوگ نہ سہی صاحب علم ہی پڑھ کر سنا دیں۔ اس طرح یہ بھی کہ بارہ حروف میں تحریر ہونے والی عبارت اٹھائیس انتیس حروف میں تحریر ہو رہی ہو اور اُس میں ایک شوشہ کا بھی فرق نہ ہو کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ اور اس بات پر کیسے یقین کر لیا جائے؟ کیا بڑے لوگوں کے بڑا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ وہ کہہ دیں اُن کے سامنے سر ہلا دیا جائے جب کہ قرآنِ کریم کی ہدایت ہے کہ
وَالَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْھَا صُمًّا وَّعُمْیَانًاo (۲۵:۷۳)
پھر سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ’’ان دو تاریخی حقیقتوں کو نگاہ میں رکھ کر دیکھئے کہ اگر قرآن کی اشاعت کا دارو مدار صرف تحریر پر ہوتا تو جس رسم الخط میں امت کو یہ کتاب ملی تھی اُس کو پڑھنے میں تلفظ اور اعراب ہی کے نہیں متشابہ حروف کے بھی کتنے بے شمار اختلافات ہو گئے ہوتے۔ محض زبان اور اس کے قواعد کی بنا پر خود اہل زبان بھی اگر نقطے اور اعراب لگانے بیٹھتے تو قرآن کی ایک ایک سطر میں بیسیوں اختلافات کی گنجائش نکل سکتی تھی اور کسی ذریعہ سے بھی یہ فیصلہ نہ کیا جا سکتا تھا کہ اصل عبارت جو نبی ﷺ پر نازل ہوئی تھی وہ کیا تھی۔‘‘


از قلم : عبدالکریم اثری

Last edited by rana ammar mazhar; 20-11-11 at 06:50 AM.
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (23-11-11)
پرانا 19-11-11, 08:36 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اہل زبان لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُبِينٌ اٹکل سے پڑھ لیتے تھے واہ جی واہ !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
کتاب احکمت ایتہ ثم فصلت من لدن حکیم خبیر

اس طرز تحریر کی عبارتوں کو اہل زبان اٹکل سے پڑھ لیتے تھے اور بہرحال بامعنی بناکر ہی پڑھا کرتے تھے، لیکن جہاں مفہوم کے اعتبار سے متشابہ الفاظ آجاتے ہیں ، یا زبان کے قواعد و محاورہ کی رو سے ایک ہی لفظ کے کئی تلفظ یا اِعراب ممکن ہوتے وہاں خود اہل زبان کو بھی بکثرت اقتباسات پیش آجاتے ہیں اور یہ تعین کرنا مشکل ہوجاتا تھاکہ لکھنے والے کا اصل منشا کیا ہے۔مثلاً ایک فقرہ اگریوں لکھا ہو کہ ربنا بعد بین اسفارنا تو اسے رَبَّنَا بَاعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَابھی پڑھا جاسکتا تھا اور رَبُّنَا بَعَّدَ بَیْنَ اَسْفَارِنَا بھی۔ اسی طرح اگر ایک عبارت یوں لکھی ہو کہ انظر الی العظام کیف ننشزھا تو اسے اُنْظُرْ اِلَی الْعِظَامِ کَیْفَ نُنْشِزُھَا بھی پڑھاجاسکتا تھا اور کَیْفَ نُنْشِرُھَا بھی۔

یہ اختلافات تو اس رسم الخط کے پڑھنے میں اہل زبان کے درمیان ہوسکتے تھے، لیکن ایک عربی تحریر اگر اسی رسم الخط میں غیر اہل زبان کو پڑھنی پڑ جاتی تو وہ اس میں ایسی سخت غلطیاں کرجاتے جو قائل کے منشا کے بالکل برعکس معنی دیتی تھیں ۔مثلاً ایک دفعہ ایک عجمی نے آیت إنَّ اﷲَ بَرِیٌٔ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَرَسُوْلُہُ میں لفظ وَرَسُوْلُہُ کا اعراب وَرَسُوْلِہِ پڑھا جس سے معنی یہ بن گئے کہ ’’اللہ بری الذمہ ہے مشرکین سے اور اپنے رسول سے‘‘ معاذ اﷲ
[بشکریہ:ماہنامہ ترجمان القرآن]
اہل زبان لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُبِينٌ اٹکل سے پڑھ لیتے تھے واہ جی واہ !!!

وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ ۗ لِسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُبِينٌ
( 16:103 )

اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کی طرف (تعلیم کی) نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے

We know indeed that they say, "It is a man that teaches him." The tongue of him they wickedly point to is notably foreign, while this is Arabic, pure and clear.‎
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

Last edited by حیدر; 19-11-11 at 10:52 PM.
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-11-11, 08:50 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
قرآن مجید میں قراء توں کا اختلاف

پہلی صدی کے دورِ آخر سے لے کردوسری صدی تک اس طرح کے ماہرین قراء ت کا ایک گروہ کثیر دنیائے اسلام میں موجود تھا۔ مگر ان میں خاص طور پر جن لوگوں کا کمال علم تمام اُمت میں تسلیم کیا گیا وہ حسب ذیل سات اَصحاب ہیں جوقراء سبعہ کے نام سے مشہور ہیں :

[بشکریہ:ماہنامہ ترجمان القرآن]
حدیث " هكذا أنزلت إن القرآن أنزل على سبعة أحرف فاقرءوا ما تيسر منه " کی روشنی میں سات قاریوں کے استاد نبی ﷺ کے زمانے میں کون کون تھے ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
اوّل: یہ کہ جو قراء ت بھی ہو وہ مصحف عثمانی کے رسم الخط سے مطابقت رکھتی ہو۔ اس رسم الخط میں جس قراء ت کی گنجائش نہ ہو وہ کسی حال میں قبول نہیں کی جائے گی، مثلاً مصحف عثمانی میں اگر ایک لفظ بعد لکھاگیا ہے تو اس کی قراء ت بٰعِدْ اور بَعَّدَ تو قبول کی جاسکتی ہے مگر بَعَّدْتَ قبول نہیں کی جاسکتی کیونکہ وہ مستند سرکاری متن کے خلاف پڑتی ہے۔
[بشکریہ:ماہنامہ ترجمان القرآن]
2. افعال کا اختلاف کہ کسی قراء ت میں صیغہ ماضی ہو کسی قراء ت میں مضارع اور کسی میں امر مثلاً ’ربنا باعد بین أسفارنا‘ اور ’ربنا بعد بین أسفارنا‘۔

’ربنا باعد بین أسفارنا‘

’ربنا بعد بین أسفارنا‘

مثلاً مصحف عثمانی میں اگر ایک لفظ بعد لکھاگیا ہے تو اس کی قراءت بٰعِدْ اور بَعَّدَ تو قبول کی جاسکتی ہے

جواب خود ہی دے دیا !!!

Last edited by حیدر; 19-11-11 at 10:54 PM. وجہ: Merging because of Thread Rules & Regulations
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (23-11-11)
پرانا 19-11-11, 08:55 PM   #6
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کشتی لڑنے کے لیئے کیا ایک ہی اکھاڑا کافی نہیں۔ بالکل اسی طرح کی بحث ایک دھاگے میں ہو رہی تھی اب اس بحث کو دوسرا دھاگہ کھول کر شروع کر دیا۔ کیا پرانا دھاگہ کافی نہیں تھا ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (19-11-11), فیصل ناصر (20-11-11)
پرانا 19-11-11, 09:11 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default وہاں جواب نہیں تھا اس لیے !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
کشتی لڑنے کے لیئے کیا ایک ہی اکھاڑا کافی نہیں۔ بالکل اسی طرح کی بحث ایک دھاگے میں ہو رہی تھی اب اس بحث کو دوسرا دھاگہ کھول کر شروع کر دیا۔ کیا پرانا دھاگہ کافی نہیں تھا ۔
وہاں جواب نہیں تھا اس لیے !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (23-11-11)
پرانا 19-11-11, 09:16 PM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
ہر قراءت دوسری قراءت کے ساتھ ایک نیا فائدہ دیتی ہے جو تھوڑے سے غور و فکر اور تحقیق سے آپ کو معلوم ہوسکتا ہے جیسا کہ متعہ قرآن ہی سے حلال ہو جاتا ہے ۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
ہر قراءت دوسری قراءت کے ساتھ ایک نیا فائدہ دیتی ہے جو تھوڑے سے غور و فکر اور تحقیق سے آپ کو معلوم ہوسکتا ہے جیسا کہ شیعہ وضو قرآن ہی سے ثابت ہو جاتا ہے ۔
اگر آپ کے نزدیک شیعہ وضو قرآن سے ثابت نہیں تو کیا آپ کے نزدیک شیعہ حضرات کا وضو کرنے کا طریقہ غلط ہے؟ اور کیا انکی تمام نمازیں وضو نہ ہونے کی وجہ سے غیر مقبول ہیں؟
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (19-11-11), حیدر Rehan (23-11-11)
پرانا 19-11-11, 09:19 PM   #9
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
بڑے لوگوں کی باتیں

یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ بڑے لوگوں کی باتیں بڑی ہوتی ہیں ’’رشد‘‘ کے جن مضمون نگاروں نے اس طرح کی بحث اُٹھائی ہے وہ بلاشبہ بڑے لوگ ہیں اور خصوصاً سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا مقام بھی اپنی جگہ ایک خاص اہمیت رکھتا ہے ان کا مضمون بھی ہلکی پھلکی تحریف کے بعد ’’رشد‘‘ میں تحریر کیا گیا ہے جس میں موصوف رقم طراز ہیں کہ:
‘‘
چونکہ آپ نے یہ مضمون لکھا ہے اور خوب ذمہ داری سے لکھا ہے۔یقیناَ
اور ایک الزام بھی لگایا ہے۔
تو کیا آپ اس الزام کی تائید میں اس مضمون میں وہ تحریف شدہ مقام دکھائیں گے؟

Last edited by حیدر; 19-11-11 at 10:57 PM. وجہ: Shortining the quoted text because of forums rules and regulations
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (19-11-11), حیدر Rehan (23-11-11)
پرانا 19-11-11, 09:22 PM   #10
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آج حسین حقانی بھی اسی طرح بے پر کی اُڑا رہا تھا۔ کبھی وہ فیمیل اینکر پرسن سے کہے کہ آپ میری دوست ہیں ، میں آپ کے گھر آتا رہا ہوں آپ بھی میرے گھر آئی ہیں۔ تو اس پر اُس فیمیل اینکر پرسن نے اُسی وقت کہا کہ میں کبھی آپ کے گھر نہیں ائی اور نہ ہی آپ میرے گھر آئے ہیں۔
پھر حسین حقانی نے کہا کہ آپ نے کہا تھا کہ ہم نے ایجنسیوں کے کہنے پر ایسا کیا۔ تو اس پر اُس فیمیل اینکر پرسن نے اُسی وقت تردید کی کہ ایسی کوئی بات نہیں کی گئی ۔ آپ غلط بیانی کر رہے ہیں۔

تو غلط بیانی کرنے سے گُریز کیا جائے۔ اگر الزام لگانا ہے تو وہ ثبوت بھی دینا ہو گا تاکہ تحریف کرنے والے صاحب کو وارننگ دی جا سکے۔ بصور ت دیگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (19-11-11)
پرانا 19-11-11, 09:29 PM   #11
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,108
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہاں کیوں وقت ضاع کر رہے ہیں؟
کیا اس بحث کا کوئی فائدہ بھی ہے؟
میں شرط لگا کر کہتا ہوں کہ ایسے مضمون لکھنے والوں کو استنجہ کرنے کا بھی نہیں پتا ہوتا اور
یہ مضمون وضوع کیے بغیر لکھا گیا ہے۔
میرا خیال ہے کہ ان بحثوں میں نہ پڑھیں بلکہ ایک دوسرے سے محبت کریں۔
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط
میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط
میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (19-11-11), مرزا عامر (19-11-11), حیدر (19-11-11)
پرانا 19-11-11, 09:30 PM   #12
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
اہل زبان لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُبِينٌ اٹکل سے پڑھ لیتے تھے واہ جی واہ !!!

وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ ۗ لِسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُبِينٌ
( 16:103 )

اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کی طرف (تعلیم کی) نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے


__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
میرا کزن ہے وہ عربی بول تو لیتا ہے ، سمجھ بھی لیتا ہے، لیکن وہ عربی تحریر کو پڑھ نہیں پاتا۔ اٹک اٹک کر پڑھ لے تو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی بچہ بڑی کلاس کی کتاب پڑھ رہا ہو۔
یہ صرف میرے کزن کے ساتھ ایسا نہیں ہے، بلکہ ہر وہ ان پڑھ شخص یا کم پڑھا لکھا شخص سعودی عرب گیا ہوا ہے ان کی اکثریت کے ساتھ یہی معاملہ پیش آتا ہے۔

اس کے برعکس میں انگلش پڑھ لیتا ہوں، سمجھ لتا ہوں ، لکھ لیتا ہوں، لیکن بولنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔
linguistic problemپرابلم کہلاتا ہے۔ اور یہ کوئی ایسا انوکھا مسئلہ نہیں ہے جس پر آپ جیسے فاضل حضرات اچنبھے کا شکار ہو جائیں۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (19-11-11), skjatala (21-11-11), احمد نذیر (21-11-11)
پرانا 19-11-11, 09:35 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default مودودی صاحب کا اصل مضمون ان کی اصل کتاب سے پڑھ کر مقابلہ کرلیں !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
آج حسین حقانی بھی اسی طرح بے پر کی اُڑا رہا تھا۔ کبھی وہ فیمیل اینکر پرسن سے کہے کہ آپ میری دوست ہیں ، میں آپ کے گھر آتا رہا ہوں آپ بھی میرے گھر آئی ہیں۔ تو اس پر اُس فیمیل اینکر پرسن نے اُسی وقت کہا کہ میں کبھی آپ کے گھر نہیں ائی اور نہ ہی آپ میرے گھر آئے ہیں۔
پھر حسین حقانی نے کہا کہ آپ نے کہا تھا کہ ہم نے ایجنسیوں کے کہنے پر ایسا کیا۔ تو اس پر اُس فیمیل اینکر پرسن نے اُسی وقت تردید کی کہ ایسی کوئی بات نہیں کی گئی ۔ آپ غلط بیانی کر رہے ہیں۔

تو غلط بیانی کرنے سے گُریز کیا جائے۔ اگر الزام لگانا ہے تو وہ ثبوت بھی دینا ہو گا تاکہ تحریف کرنے والے صاحب کو وارننگ دی جا سکے۔ بصور ت دیگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کا مضمون بھی ہلکی پھلکی تحریف کے بعد ’’رشد‘‘ میں تحریر کیا گیا ہے

مودودی صاحب کا اصل مضمون ان کی اصل کتاب سے پڑھ کر مقابلہ کرلیں !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (23-11-11)
پرانا 19-11-11, 09:37 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا میں انتظامیہ سے درخواست کر سکتا ہوں کہ ’صرف‘ رانا صاحب کی پوسٹس کو میرے بنائے گئے تھریڈ میں‌ سے نکال کر علیحدہ تھریڈ‌میں منتقل کر دیا جائے؟
دیکھئے، ہر شخص کو اپنی بات کہنے کا حق ہے اور اعتراضات کا بھی حق ہے۔ لیکن بہرحال رانا صاحب کا انداز آداب محفل کی ہر جگہ پامالی والا ہوتا ہے۔ اگر کسی موضوع پر انہیں‌ ہم سے اختلاف ہے تو اپنے بنائے گئے دھاگے میں‌جو چاہیں‌کہتے رہیں۔ لیکن ہر اختلافی موضوع پر کاپی پیسٹنگ، عجیب و غریب سوالات، پوری پوری پوسٹ کے اقتباسات لے کر آخر میں‌ ایک دو جملے لکھ دینا۔ پھر نئی پوسٹ میں‌دوبارہ پوری پوسٹ کا اقتباس لے کر پھر کوئی عجیب الخلقت سوال داغ دینا ؟
معذرت کے ساتھ، ایسے انداز میں‌نہ تو کوئی سلجھی ہوئی بات ممکن ہے۔ نہ کسی کے لئے جواب دینا ممکن ہے اور نہ سمجھ پانا ہی ممکن ہوگا۔
اگر انہیں‌کوئی اعتراض ہے تو ازراہ کرم اس موضوع کے متعلق نیا دھاگا کھول کر وہاں اپنا شوق پورا کریں۔ ایسے ہر اختلافی دھاگے پر ان کی یہ روش قطرہ قطرہ کر کے پاک نیٹ فورم سے ہی سنگین شکایات کا باعث بن رہی ہے۔
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-11-11), skjatala (21-11-11)
پرانا 19-11-11, 09:38 PM   #15
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
ان کا مضمون بھی ہلکی پھلکی تحریف کے بعد ’’رشد‘‘ میں تحریر کیا گیا ہے

مودودی صاحب کا اصل مضمون ان کی اصل کتاب سے پڑھ کر مقابلہ کرلیں !!!
الزام آپ نے لگایا ہے تو ثبوت دینا بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (19-11-11)
جواب

Tags
فن, کمال, قواعد, قرآن, مکہ, مکمل, منتقل, ممکن, مجید, معلوم, آج, اللہ, اسلام, اسلامی, استاد, بہترین, جواب, حکم, حدیث, خلاف, عقل, صحابہ, صحت, صدقہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
لاتوں كے بھوت باتوں سے نہيں مانتے شمشاد احمد گپ شپ 5 19-10-11 04:15 PM
مکہ میں صرف دو عمارتوں پر 28 لاکھ ریال کمشن لیا گیا کنعان خبریں 3 07-11-10 10:19 PM
باتوں باتوں میں بچھڑنے کا اشارہ کر کے احمدنواز شعر و شاعری 23 12-11-09 03:14 PM
::::::: عید اور نعمتوں کا شکر ::::::: اللہ کی نعمتوں پر شکر اس طرح تو نہیں کیا جاتا ::::::: عادل سہیل اسلام اور معاشرہ 1 15-09-09 11:16 AM
باتوں باتوں میں بچھڑنے کا اشارہ کرکے aliali شعر و شاعری 5 05-12-07 02:22 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:07 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger