| علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | ||||||
|
|||||||
|
مناظر: 1889
|
|||||||
| 7 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (19-11-11), skjatala (21-11-11), احمد نذیر (21-11-11), بلال الراعی (20-11-11), حیدر (19-11-11), عبداللہ آدم (24-11-11), عبداللہ حیدر (20-11-11) |
|
|
#2 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" Last edited by حیدر; 19-11-11 at 10:51 PM. وجہ: Merging because of Thread Rules & Regulations |
||
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (23-11-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بڑے لوگوں کی باتیں
یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ بڑے لوگوں کی باتیں بڑی ہوتی ہیں ’’رشد‘‘ کے جن مضمون نگاروں نے اس طرح کی بحث اُٹھائی ہے وہ بلاشبہ بڑے لوگ ہیں اور خصوصاً سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا مقام بھی اپنی جگہ ایک خاص اہمیت رکھتا ہے، ۔۔۔۔۔۔ جس میں موصوف رقم طراز ہیں کہ: یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جس رسم الخط میں ابتداءً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کی کتابت کرائی تھی اور جس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہلا مصحف مرتب کرایا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جس کی نقل بعد میں شائع کرائی اس کے اندر نہ صرف یہ کہ اعراب نہ تھے بلکہ نقطے بھی نہ تھے کیونکہ اس وقت تک یہ علامات ایجاد نہ ہوئی تھیں اس رسم الخط میں پورے قرآن کی عبارت یوں لکھی گئی تھی۔ ’’کتاب احکمت ایتہ ثم فصلت من لدن حکیم خبیر اس طرزِ تحریر کی عبارتوں کو اہل زبان اٹکل سے پڑھ لیتے تھے اور بہرحال بامعنی بنا کر ہی پڑھا کرتے تھے۔‘‘ (اس کی کوئی مثال پیش کرنا ہرگز ہرگز ممکن نہیں) حقیقت یہ ہے کہ حروف کی اشکال ایسی تھیں کہ بغیر نقاط کے ان کی پہچان کی جا سکتی۔ مودودی صاحب جو فرمائیں اُن کا حق ہے بہرحال سید مودوی رحمہ اللہ جو کچھ بھی اور جیسے بھی تحریر کریں اُن کو حق ہے اور جس چیز کو وہ تاریخی حقیقت فرما دیں شاید اُس کا مقام فی نفسہٖ قرآن و سنت سے اوپر ہوتا ہو گا کیونکہ اُن کو ماننے اور تسلیم کرنے والے اس ملک عزیز میں منظم طور پر موجود ہیں۔ ہمیں تعجب تو ’’اہل رشد‘‘ پر ہے کہ اُنہوں نے اپنا جو مسلک متعارف کرایا ہے وہ کتاب اللہ اور صحیح حدیث رسول اللہ ہے کیا فی الواقعہ کتاب اللہ اور صحیح حدیث رسول اللہ ﷺ میں بھی کوئی ایسی بات موجود ہے؟ اگر ہے تو وہ کہاں ہے؟ میرے جیسے کمزور دماغوں کو جب تک انگلی رکھ کر اس کی نشاندہی نہ کی جائے سمجھ نہیں آتی اور ایسی تاریخی حقیقت کو جو کتاب و سنت کے خلاف ہو دل تسلیم نہیں کرتا خواہ اس کو کہنے والے علامہ مودودی ہوں۔ تاریخی کہانیوں کا مقام بہرحال صحیح روایات کے بعد ہے اور جب صحیح روایات بھی محض سند کے اعتبار پر صحیح تسلیم نہیں کی جا سکتیں جب وہ درایت کے خلاف ہوں تو پھر کسی بات کو اگر تاریخی حقیقت کہا جائے تو محض کسی بڑے بزرگ کے کہنے سے ایک خلافِ حقیقت بات کو کیسے مان لیا جائے؟ خصوصاً جب کہ وہ اُس کے اپنے بیان کے بھی نقیض ہو۔ اسی مضمون میں چار سطر پہلے سید موصوف فرماتے ہیں کہ: ’’یہ بات اپنی جگہ بالکل صحیح ہے کہ قرآنِ مجید آج ٹھیک اسی صورت میں موجود ہے جس میں وہ نبی ﷺ پر نازل ہوا تھا اور اس میں ذرا برابر کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔‘‘ دو مختلف باتیں بھی حق ہو سکتی ہیں؟ سید مودودی رحمہ اللہ علیہ کی ان دونوں عبارتوں کو کم از کم تین چار بار ضرور پڑھیں اور اس تحریر کو بھی دیکھیں جو بقول سید صاحب موصوف قرآنِ کریم کے نزول کے وقت تحریر کی گئی تھی جو سورہ ہود کی پہلی آیت کے طور پر قرآنِ کریم میں آج بھی موجود ہے اور پھر ان دونوں تحریر کو آپس میں ملائیں اور فیصلہ خود کر لیں کہ سید صاحب والی عبارت وہی ہے جو خود نبی کریم ﷺ نے تحریر کرائی ہے کیونکہ بقول سید صاحب موصوف وہ نقاط اور اعراب کے بغیر تھی اگر بات ایسی ہے تو پھر اس وقت سارا قرآن ہی بدلا ہوا ہے اور بقول سید صاحب یہ تبدیلی بھی پہلی صدی میں کر دی گئی تھی جو ابوالاسود دولی رحمۃ اللہ نے کی تھی اور جو کسر رہ گئی وہ حجاج بن یوسف سے پوری کرائی گئی اور یہ سب کچھ ہونے کے باوجود قرآنِ کریم پھر من و عن وہی رہا جو اُس وقت آپؐ پر نازل ہوا جس میں ایک نقطہ یا شوشہ کا فرق بھی نہیں ہے کیا یہ دونوں باتیں کسی طرح صحیح ہو سکتی ہیں؟ ہاں! یہ دونوں باتیں صحیح ہیں، کیونکہ سید مودودی رحمہ اللہ نے تحریر کر دی ہے۔ کیا اسلام میں کسی چیز کے سمجھنے کامعیار یہی ہے جو اس جگہ بیان ہو رہا ہے؟ سید مودودی حروف کی شکلیں واضح کر دیتے تو بہتر ہوتا بہتر ہوتا کہ سید صاحب موصوف اگر یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ اُس وقت حروف ہجا نقاط سے خالی تھے تو اُن کی کوئی فرضی صورت ہی تشکیل دے کر واضح کر دیتے کہ اُس وقت ب ، ت ، ث کو اس شکل میں تحریر کیا جاتا تھا اور ان کی شکلیں الگ الگ تحریر کر دیتے تاکہ انسانی ذہن آپ کی بات کو قبول کر لیتا اس لیے کہ اگر موجودہ حروفِ ہجا سے نقاط ختم کر دیئے جائیں تو حروف کی صرف بارہ شکلیں باتی رہ جاتی ہیں اور بارہ حروف ہجا سے قرآنِ کریم کی عربی عبارت کا تحریر کرنا کسی صورت بھی ممکن نہیں پھر تحریر وہ چیز ہے جو مشاہدہ میں آنے والی ہے اگر اُس وقت ممکن تھی تو آج بھی ہے۔ پورا قرآنِ کریم تو بہت بڑی بات ہے صرف دس سطور ان بارہ حروف ہجا میں تحریر کر کے دکھائیں جس کو عام لوگ نہ سہی صاحب علم ہی پڑھ کر سنا دیں۔ اس طرح یہ بھی کہ بارہ حروف میں تحریر ہونے والی عبارت اٹھائیس انتیس حروف میں تحریر ہو رہی ہو اور اُس میں ایک شوشہ کا بھی فرق نہ ہو کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ اور اس بات پر کیسے یقین کر لیا جائے؟ کیا بڑے لوگوں کے بڑا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ وہ کہہ دیں اُن کے سامنے سر ہلا دیا جائے جب کہ قرآنِ کریم کی ہدایت ہے کہ وَالَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْھَا صُمًّا وَّعُمْیَانًاo (۲۵:۷۳) پھر سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ’’ان دو تاریخی حقیقتوں کو نگاہ میں رکھ کر دیکھئے کہ اگر قرآن کی اشاعت کا دارو مدار صرف تحریر پر ہوتا تو جس رسم الخط میں امت کو یہ کتاب ملی تھی اُس کو پڑھنے میں تلفظ اور اعراب ہی کے نہیں متشابہ حروف کے بھی کتنے بے شمار اختلافات ہو گئے ہوتے۔ محض زبان اور اس کے قواعد کی بنا پر خود اہل زبان بھی اگر نقطے اور اعراب لگانے بیٹھتے تو قرآن کی ایک ایک سطر میں بیسیوں اختلافات کی گنجائش نکل سکتی تھی اور کسی ذریعہ سے بھی یہ فیصلہ نہ کیا جا سکتا تھا کہ اصل عبارت جو نبی ﷺ پر نازل ہوئی تھی وہ کیا تھی۔‘‘ از قلم : عبدالکریم اثری Last edited by rana ammar mazhar; 20-11-11 at 06:50 AM. |
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (23-11-11) |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ ۗ لِسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُبِينٌ ( 16:103 ) اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کی طرف (تعلیم کی) نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے We know indeed that they say, "It is a man that teaches him." The tongue of him they wickedly point to is notably foreign, while this is Arabic, pure and clear. __________________ كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" Last edited by حیدر; 19-11-11 at 10:52 PM. |
|
|
|
|
|
|
#5 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
’ربنا باعد بین أسفارنا‘ ’ربنا بعد بین أسفارنا‘ مثلاً مصحف عثمانی میں اگر ایک لفظ بعد لکھاگیا ہے تو اس کی قراءت بٰعِدْ اور بَعَّدَ تو قبول کی جاسکتی ہے جواب خود ہی دے دیا !!! Last edited by حیدر; 19-11-11 at 10:54 PM. وجہ: Merging because of Thread Rules & Regulations |
||
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (23-11-11) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کشتی لڑنے کے لیئے کیا ایک ہی اکھاڑا کافی نہیں۔ بالکل اسی طرح کی بحث ایک دھاگے میں ہو رہی تھی اب اس بحث کو دوسرا دھاگہ کھول کر شروع کر دیا۔ کیا پرانا دھاگہ کافی نہیں تھا ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (19-11-11), فیصل ناصر (20-11-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (23-11-11) |
|
|
#8 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (19-11-11), حیدر Rehan (23-11-11) |
|
|
#9 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور ایک الزام بھی لگایا ہے۔ تو کیا آپ اس الزام کی تائید میں اس مضمون میں وہ تحریف شدہ مقام دکھائیں گے؟ Last edited by حیدر; 19-11-11 at 10:57 PM. وجہ: Shortining the quoted text because of forums rules and regulations |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (19-11-11), حیدر Rehan (23-11-11) |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آج حسین حقانی بھی اسی طرح بے پر کی اُڑا رہا تھا۔ کبھی وہ فیمیل اینکر پرسن سے کہے کہ آپ میری دوست ہیں ، میں آپ کے گھر آتا رہا ہوں آپ بھی میرے گھر آئی ہیں۔ تو اس پر اُس فیمیل اینکر پرسن نے اُسی وقت کہا کہ میں کبھی آپ کے گھر نہیں ائی اور نہ ہی آپ میرے گھر آئے ہیں۔
پھر حسین حقانی نے کہا کہ آپ نے کہا تھا کہ ہم نے ایجنسیوں کے کہنے پر ایسا کیا۔ تو اس پر اُس فیمیل اینکر پرسن نے اُسی وقت تردید کی کہ ایسی کوئی بات نہیں کی گئی ۔ آپ غلط بیانی کر رہے ہیں۔ تو غلط بیانی کرنے سے گُریز کیا جائے۔ اگر الزام لگانا ہے تو وہ ثبوت بھی دینا ہو گا تاکہ تحریف کرنے والے صاحب کو وارننگ دی جا سکے۔ بصور ت دیگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (19-11-11) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
یہاں کیوں وقت ضاع کر رہے ہیں؟
کیا اس بحث کا کوئی فائدہ بھی ہے؟ میں شرط لگا کر کہتا ہوں کہ ایسے مضمون لکھنے والوں کو استنجہ کرنے کا بھی نہیں پتا ہوتا اور یہ مضمون وضوع کیے بغیر لکھا گیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ان بحثوں میں نہ پڑھیں بلکہ ایک دوسرے سے محبت کریں۔
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
یہ صرف میرے کزن کے ساتھ ایسا نہیں ہے، بلکہ ہر وہ ان پڑھ شخص یا کم پڑھا لکھا شخص سعودی عرب گیا ہوا ہے ان کی اکثریت کے ساتھ یہی معاملہ پیش آتا ہے۔ اس کے برعکس میں انگلش پڑھ لیتا ہوں، سمجھ لتا ہوں ، لکھ لیتا ہوں، لیکن بولنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔ linguistic problemپرابلم کہلاتا ہے۔ اور یہ کوئی ایسا انوکھا مسئلہ نہیں ہے جس پر آپ جیسے فاضل حضرات اچنبھے کا شکار ہو جائیں۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مودودی صاحب کا اصل مضمون ان کی اصل کتاب سے پڑھ کر مقابلہ کرلیں !!! |
|
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (23-11-11) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا میں انتظامیہ سے درخواست کر سکتا ہوں کہ ’صرف‘ رانا صاحب کی پوسٹس کو میرے بنائے گئے تھریڈ میں سے نکال کر علیحدہ تھریڈمیں منتقل کر دیا جائے؟
دیکھئے، ہر شخص کو اپنی بات کہنے کا حق ہے اور اعتراضات کا بھی حق ہے۔ لیکن بہرحال رانا صاحب کا انداز آداب محفل کی ہر جگہ پامالی والا ہوتا ہے۔ اگر کسی موضوع پر انہیں ہم سے اختلاف ہے تو اپنے بنائے گئے دھاگے میںجو چاہیںکہتے رہیں۔ لیکن ہر اختلافی موضوع پر کاپی پیسٹنگ، عجیب و غریب سوالات، پوری پوری پوسٹ کے اقتباسات لے کر آخر میں ایک دو جملے لکھ دینا۔ پھر نئی پوسٹ میںدوبارہ پوری پوسٹ کا اقتباس لے کر پھر کوئی عجیب الخلقت سوال داغ دینا ؟ معذرت کے ساتھ، ایسے انداز میںنہ تو کوئی سلجھی ہوئی بات ممکن ہے۔ نہ کسی کے لئے جواب دینا ممکن ہے اور نہ سمجھ پانا ہی ممکن ہوگا۔ اگر انہیںکوئی اعتراض ہے تو ازراہ کرم اس موضوع کے متعلق نیا دھاگا کھول کر وہاں اپنا شوق پورا کریں۔ ایسے ہر اختلافی دھاگے پر ان کی یہ روش قطرہ قطرہ کر کے پاک نیٹ فورم سے ہی سنگین شکایات کا باعث بن رہی ہے۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (20-11-11), skjatala (21-11-11) |
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (19-11-11) |
![]() |
| Tags |
| فن, کمال, قواعد, قرآن, مکہ, مکمل, منتقل, ممکن, مجید, معلوم, آج, اللہ, اسلام, اسلامی, استاد, بہترین, جواب, حکم, حدیث, خلاف, عقل, صحابہ, صحت, صدقہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| لاتوں كے بھوت باتوں سے نہيں مانتے | شمشاد احمد | گپ شپ | 5 | 19-10-11 04:15 PM |
| مکہ میں صرف دو عمارتوں پر 28 لاکھ ریال کمشن لیا گیا | کنعان | خبریں | 3 | 07-11-10 10:19 PM |
| باتوں باتوں میں بچھڑنے کا اشارہ کر کے | احمدنواز | شعر و شاعری | 23 | 12-11-09 03:14 PM |
| ::::::: عید اور نعمتوں کا شکر ::::::: اللہ کی نعمتوں پر شکر اس طرح تو نہیں کیا جاتا ::::::: | عادل سہیل | اسلام اور معاشرہ | 1 | 15-09-09 11:16 AM |
| باتوں باتوں میں بچھڑنے کا اشارہ کرکے | aliali | شعر و شاعری | 5 | 05-12-07 02:22 PM |