واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


قرآن مشکوک نہیں، اختلاف قراءات اور قرآنی مصاحف

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-12-11, 08:05 PM   #1
قرآن مشکوک نہیں، اختلاف قراءات اور قرآنی مصاحف
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آن لائن ہے 08-12-11, 08:05 PM

قرآن مشکوک نہیں، اختلاف قراءات اور قرآنی مصاحف

دنیا بھر میں ایک ہی قرآن ہے، ہاں جو تبدیلیاں بعد میں کی گئی ان کا اختلاف ہو سکتا ہے، جیسا کہ نمبرنگ سسٹم، دو امیج پیش کر رہا ہوں، ایک حافظ نذر احمد، دوسرے عبدالکریم اثری صاحب ہیں، دونوں میرے استاد ہیں، موجودہ نمبرنگ سسٹم جس میں بسم اللہ کو نمبر ۱ قرار دیا جاتا ہے وہ عبدالکریم اثری صاحب کی ایجاد ہے، اہل حدیث ہونے کی وجہ سے، جبکہ تاج کمپنی کے قرآن میں بسم اللہ کو نمبر ۱ نہیں دیا گیا، اسی پر باقی تبدیلیوں کو قیاس کر لیں۔

ڈاکٹر حمید اللہ "تاریخ قرآن" میں فرماتے ہیں :

ایک اور نکتہ یہاں بیان کرنا خالی از فائدہ نہ ہو گا اور اسی پر یہ تقریر ختم کرتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے کا ذکر ہے، جرمنی کے عیسائی پادریوں نے یہ سوچا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں آرامی زبان میں جو انجیل تھی وہ تو اب دنیا میں موجود نہیں۔ اس وقت قدیم ترین انجیل یونانی زبان میں ہے اور یونانی سے ہی ساری زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے ہیں۔ لہٰذا یونانی مخطوطوں کو جمع کیا جائے اور ان کا آپس میں مقابلہ کیا جائے۔ چنانچہ یونی زبان میں انجیل کے نسخے جتنے دنیا میں پائے جاتے تھے کامل ہوں کہ جزوی، ان سب کو جمع کیا گیا اور ان کے ایک ایک لفظ کا باہم مقابلہ (Collation) کیا گیا۔ اس کی جو رپورٹ شائع ہوئی اس کے لفظ یہ ہیں: "کوئی دو لاکھ اختلافی روایات ملتی ہیں" یہ ہے انجیل کا قصہ۔ غالباً اس رپورٹ کی اشاعت سے کچھ لوگوں کو قرآن کے متعلق حسد پیدا ہوا۔ جرمنی ہی میں میونک یونیورسٹی میں ایک ادارہ قائم کیا گیا "قرآن مجید کی تحقیقات کا ادارہ" اس کا مقصد یہ تھا کہ ساری دنیا سے قرآن مجید کے قدیم ترین دستیاب نسخے خرید کر، فوٹو لے کر، جس طرح بھی ممکن ہو جمع کیے جائیں۔ جمع کرنے کا یہ سلسلہ تین نسلوں تک جاری رہا۔ جب میں 1933ء میں پیرس یونیورسٹی میں تھا تو اس کا تیسرا ڈائریکٹر پریتسل Pretzl، پیرس آیا تھا تاکہ پیرس کی پبلک لائبریری میں قرآن مجید کے جو قدیم نسخے پائے جاتے ہیں ان کے فوٹو حاصل کرے۔ اس پروفیسر نے مجھ سے شخصاً بیان کیا کہ اس وقت (یہ 1933ء کی بات ہے) ہمارے انسٹی ٹیوٹ میں قرآن مجید کے بیالیس ہزار نسخوں کے فوٹو موجود ہیں اور مقابلے (Collation) کا کام جاری ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں اس ادارے کی عمارت پر ایک امریکی بم گرا اور عمارت اس کا کتب خانہ اور عملہ سب کچھ برباد ہو گیا لیکن جنگ کے شروع ہونے سے کچھ ہی پہلے ایک عارضی رپورٹ شائع ہوئی تھی۔ اس رپورٹ کے الفاظ یہ ہیں کہ قرآن مجید کے نسخوں میں مقابلے کا جو کام ہم نے شروع کیا تھا وہ ابھی مکمل تو نہیں ہوا لیکن اب تک جو نتیجہ نکلا ہے وہ یہ ہے کہ ان نسخوں میں کہیں کہیں کتابت کی غلطیاں تو ملتی ہیں لیکن اختلافاتِ روایت ایک بھی نہیں۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ کتابت کی جو غلطی ایک نسخے میں ہو گی وہ کسی دوسرے نسخوں میں نہیں ہو گی۔ مثلاً فرض کیجئے "بسم اللہ الرحیم" میں "الرحمٰن" کا لفظ نہیں لیکن یہ صرف ایک نسخے میں ہے۔ باقی کسی نسخے میں ایسا نہیں ہے۔ سب میں "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" ہے۔ اس کو ہم کاتب کی غلطی قرار دیں گے۔ یا کہیں کوئی لفظ بڑھ گیا ہے مثلاً ایک نسخے میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہے باقی نسخوں میں نہیں تو اسے کاتب کی غلطی قرار دیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسی چیزیں کہیں کہیں سہو قلم یعنی کاتب کی غلطی سے ملتی ہیں لیکن اختلاف روایت یعنی ایک ہی فرق کئی نسخوں میں ملے ایسا کہیں نہیں ہے۔ یہ قرآن مجید کی تاریخ کا خلاصہ، جس سے ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں خدا کا جو فرمان ہے (انا نحن نزلنا الذکر ونا لہ لحافظون) "ہم ہی اسے نازل کرتے ہیں اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے" یہ تمام واقعات جو میں نے آپ سے بیان کیے اس آیت کی حرف بحرف تصدیق کرتے ہیں۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
ہمارا دعویٰ ‌ہے کہ قرآن کریم کی چار متداول قراءات جو دنیا بھر میں‌تلاوت کی جا رہی ہیں۔ ان میں‌درج ذیل نوعیت کے اختلافات موجود ہیں:
1. اسماء کاا ختلاف جس میں افراد، تثنیہ وجمع اور تذکیر وتانیث دونوں کا اختلاف داخل ہے جیسے’تمت کلمۃ ربک اور’تمت کلمات ربک‘۔
2. افعال کا اختلاف کہ کسی قراء ت میں صیغہ ماضی ہو کسی قراء ت میں مضارع اور کسی میں امرمثلاً ’ربنا باعد بین أسفارنا‘ اور’ربنا بعد بین أسفارنا‘۔
3. وجو ہ اعراب کا اختلاف یعنی حرکتیں مختلف ہوںمثلاً’لایضار کاتب‘اور’ذوالعرش المجیدُ ‘ اور ’ذوالعرش المجیدِ‘۔
4. الفاظ کی کمی وبیشی کا اختلاف کہ ایک قراء ت میں کوئی لفظ کم اور دوسری قراء ت میں زیادہ ہومثلاً’وما خلق الذکر والانثی‘اور ’ماخلق‘کے بغیر صرف ’والذکر والانثی‘۔
5. تقدیم وتاخیر کا اختلاف کہ ایک قراء ت میں ہے ’وجاء ت سکرۃ الموت بالحق‘ اور دوسری قراء ت میں حق کا لفظ مقدم ہے ’وجاء ت سکرۃ الحق بالموت‘۔
6. بدلیت کا اختلاف کہ ایک قراء ت میں ایک لفظ ہے اور دوسری قرا ء ت میں اس کی جگہ دوسر ا لفظ ہے مثلاً ’ننشرھا‘اور ’ننشزھا‘ اور ’طلح‘اور’طلع‘۔
7. لہجے کااختلاف جس میں تفخیم،ترقیق،امالہ،قصر،اخف ائ،اظہاراور ادغام وغیرہ کے اختلاف شامل ہیں مثلاً ’موسی‘امالہ کے ساتھ اور امالہ کے بغیر۔
درج بالا وجوہ اختلافات کے ہوتے ہوئے کیسے ممکن ہے کہ قراءات کے منزل من اللہ ہونے کا بھی انکار کیا جائے اور قرآن کی حفاظت کا دعویٰ‌بھی ہو۔

شکاری صاحب دعویٰ اپنا ثابت کریں !!!

اختلاف قراءات اور دنیا بھر میں‌شائع ہونے والے قرآنی مصاحف


تیسرا امیج صرف حدیثی کتابی باتیں ہیں !!!

Attached Thumbnails
quran-6-v.jpg   quran-7-v.jpg   jamma53.jpg  

__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 319
Reply With Quote
پرانا 08-12-11, 09:06 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default 37416 = Missing Verses of Quran Based on Saba’tu Ahruf Qiraat

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
نعوذباللہ۔ اللہ نہ کرے کہ ہم ایسی کسی حرکت میں‌بالواسطہ یا بلاواسطہ کبھی ملوث ہوں، یا اس پر راضی ہوں۔ اسی لئے پہلے علم القراءات کے حوالے سے اہم ترین وضاحتیں پیش کرنے کے بعد یہ ثبوت پیش کئے گئے ہیں، تاکہ جس کے ذہن میں‌شکوک آئیں تو وہ پہلے دیگر دھاگوں کا مطالعہ کر لے۔ آپ سے بھی ایک بھائی کی حیثیت سے گزارش ہے کہ اس بات کو مان لینے کے بعد کہ دنیا بھر میں‌مختلف روایات میں‌ واقعی قرآن شائع ہو رہے ہیں، اب آپ مودودی صاحب کا درج ذیل مضمون ایک مرتبہ پھر از اول تا آخر مطالعہ کر لیجئے۔
قرآن مجید میں‌قراءاتوں کا اختلاف
جیسے کہ میں نے پہلے کہیں‌عرض کیا تھا کہ اگر ہم غلط معیار بنا کر قرآن کو اس پر پرکھیں‌گے اور پھر معیار پر پورا نہ اترنے کی شکایت کریں‌گے تو غلط ہوگا۔ فوری مثال یہ لے لیجئے کہ فیس بک پر مشہور کیا جا رہا ہے کہ جی خانہ کعبہ کے اوپر سے آج تک کوئی جہاز، پرندہ نہیں‌گزرا، نہ گزر سکتا ہے، کیونکہ اس سے خانہ کعبہ کی بے ادبی لازم آتی ہے، یہ معجزہ ہے، وغیرہ۔
اب جن لوگوں‌نے یہ معیار بنا لیا ہے۔ وہ خانہ کعبہ جا کر اپنی آنکھوں سے پرندوں کو خانہ کعبہ کی چھت کے اوپر سے پرواز کرتا دیکھ لیں، تو ان کے لئے بہترین رد عمل کیا ہونا چاہئے؟
1۔ کیا یہ کہ اگر پرندے اس گھر کی بے ادبی کر رہے ہیں تو یہ گھر بیت اللہ نہیں‌ہو سکتا۔
2۔ یا یہ کہ میرا ہی بنایا گیا معیار غلط تھا، اور پرندے کی چھت پر سے پرواز میں‌کوئی بے ادبی لازم نہیں‌آتی؟
بعینہ یہی صورتحال اختلاف قراءات والے مسئلے میں‌ہم سب کو درپیش ہے۔ ہمارے پاس صرف دو آپشن ہیں:
1۔ یا تو ہم یہ مان لیں کہ یہ تمام قرإءات منزل من اللہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ‌ہی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو تعلیم دی ہیں۔ اور اسی لئے آج دنیا بھر میں ‌پڑھی جا رہی ہیں۔ اس کے دو عظیم فائدے ہیں۔ قرآن کی حفاظت کے وعدہ الٰہی پر کوئی آنچ نہیں آتی، کیونکہ یہ روایات خود اللہ ہی نے نازل کی ہیں۔ لہٰذا ان میں‌کوئی ایک نقطہ بھی آج تک نہیں‌ بدلا جا سکا۔ جس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبر پڑھا آج بھی وہاں‌زبر ہی پڑھا جا رہا ہے۔ جس لفظ‌ پر زبر اور پیش دونوں‌ پڑھے، وہاں آج بھی کسی روایت کے تحت زبر اور کسی کے تحت پیش پڑھا جا رہا ہے، لہٰذا قرآن کی حٍفاظت پر کوئی انگلی نہیں‌ اٹھا سکتا اور دوسرا اہم فائدہ یہ ہے کہ پوری امت چونکہ اختلاف قراءات کے مسئلے میں‌متفق و متحد ہے، اور یہ اتفاق صدیوں‌پر پھیلا ہوا ہے، لہٰذا امت کے اجماع کا ساتھ نہیں‌چھوٹتا، جو بذات خود حجت ہے۔
2۔ یا پھر ہم یہ مان لیں‌کہ یہ تمام قراءات تحریف قرآن ہیں، جو قاریوں‌نے اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کر ڈالی ہیں۔ ایسی صورت میں‌دو عظیم قباحتیں لازم آتی ہیں۔ سب سے اہم تو یہ کہ قرآن کی حفاظت کا جو اللہ نے وعدہ کیا ہے، اس وعدہ پر شدید حرف آتا ہے۔ یہ بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ امت صدیوں‌سے کسی غیر قرآن کو قرآن سمجھ کر نمازوں‌میں‌پڑھتی رہے، تلاوت کرتی رہے، حفظ‌کرتی رہے، درس و تدریس ہو،تحریف شدہ قرآن شائع ہوتے رہیں، اور امت میں ایک کو بھی معلوم نہ ہو پائے کہ کون یہ سازش کر گیا؟ اور قرآن پھر بھی محفوظ مانا جاتا رہے؟ اور جب قرآن کی حفاظت پر ہی انگلی اٹھ جائے تو پھر اسلام میں بچا ہی کیا؟ دوسری بڑی قباحت یہ لازم آتی ہے کہ صحابہ، تابعین، سلف صالحین، محدثین، فقہاء، اہل سنت کے تمام مسالک کے علماء، ائمہ حرمین کا اجماعی ساتھ چھوٹ جاتا ہے۔ صدیوں‌کے اجماعی عقیدہ کے برخلاف عقیدہ رکھنا پڑتا ہے، جو بذات خود لمحہ فکریہ ہے۔
محترم فیصل صاحب،
یہ ایک دوسرے پر طنز کرنے یا کیچڑ چھالنے کی بات ہرگز نہیں۔ نہ نیچا دکھانا مقصود ہے، نہ فتح کے جھنڈے گاڑنے ہیں، نہ کوئی میڈل ملنا ہے، نہ کسی اور دنیاوی مفاد کا لالچ ہے۔ ان سب دھاگوں‌کا مقصد صرف اور صرف درست اور حق بات تک رسائی حاصل کرنا ہے۔ کہ اگر دوسرے میرے بھائی غلطی پر ہیں، تو ان کی اصلاح ہو جائے، اگر میں‌ہی گمراہ ہو گیا ہوں تو میرے بھائی میری اصلاح کر دیں۔ کسی قسم کا تعصب، انا پرستی، جاہلانہ حمیت میں‌اپنے اندر نہیں رکھتا کہ دلیل کے سامنے سر تسلیم خم نہ کروں‌اور بس ایک مخصوص‌گروہ کی فکر کو بلا دلیل قبول کرتا جاؤں۔
پھر بھی اگر اس دھاگے، عنوان یا کسی بھی بات سے آپ کو یا کسی اور بھائی کو تکلیف ہوئی ہو تو میں‌تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں۔ لیکن جو بات کہی ہے اس پر بہرحال قائم ہوں‌کہ اب تک دلائل کی روشنی میں‌حق بات یہی ہے۔ ان شاءاللہ۔
اللہ سے دعا ہے کہ آپ کو اور مجھے اور سب کو حق بات تک پہنچنے اور پھر اسے بلا تعصب مان کر اس کے مطابق اپنا عقیدہ و عمل سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

یہ تمام سبعہ احرف قرإءات منزل من اللہ ہیں تو ::

جامعہ لاہور کے ان بارہ محقق اساتذہ کو یقیناً تین سال کی محنت کا معاوضہ مل چکا ہو گا ان کو مزید مصروف رکھنے کے لیے بہتر ہے کہ سیدنا عمر فاروق بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی قراءت میں جو فرق تھا جس کے باعث دونوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہما کے درمیان اتنی سخت لے دے ہوئی تھی اُس کی تلاش پر لگا دیں کہ وہ فرق در اصل کیا تھا کیونکہ مکمل قرآنِ کریم کی چھ ہزار سے زائد آیات کریمات ہیں اور سورہ الفرقان کی صرف ستتر(77) آیات ہیں پورے قرآنِ کریم کے مقابلہ میں یہ بہت کم وزنی کام ہے اگر وہ یہ کام سر انجام دے سکے تو مبارک کے مستحق ٹھہریں گے اور پوری اسلامی دنیا ان کے علمی لوہا کو مان جائے گی اور اہل ’’رشد‘‘ وہ کام کر دکھائیں گے جو آج تک تقریباً تیرہ سو سال میں کوئی نہ کر سکا، کیا اتنا بڑا اعزاز حاصل کرنا معمولی بات ہے؟ بلاشبہ یہ اتنا بڑا اعزاز ہے کہ اسلامی دنیا میں کوئی خلیفہ و بادشاہ بھی اس کو حاصل نہ سکا۔

عبدالکریم اثری


اگر پورا قرآن مجید سات حروف پر نازل ہوا ہے تو ::

اب اس قرآن مجید میں چھ ساڑھے چھ ہزار کے لگ بھگ آیات موجود ہیں۔ ان میں سے کوئی چار پانچ آیات مسلسل سات حروف پر بتا دیں تاکہ ہم کوئی ٹھوس نتیجہ نکال سکیں ۔

37416 = Missing Verses of Quran Based on Saba’tu Ahruf Qiraat

Total Saba’tu Ahruf Verses 6236*7 = 43652

Missing Verses 43652 - 6236 = 37416


Qira'at - Wikipedia, the free encyclopedia

Difference Between Ahruf and Qira'at

Bilal Philips writes that the Qur'an continued to be read according to the seven ahruf until midway through Caliph 'Uthman's rule when some confusion arose in the outlying provinces concerning the Qur'an's recitation. Some Arab tribes had begun to boast about the superiority of their ahruf and a rivalry began to develop. At the same time, some new Muslims also began mixing the various forms of recitation out of ignorance. Caliph 'Uthman decided to make official copies of the Qur'an according to the writing conventions of the Quraysh and send them along with the Qur'anic reciters to the major centres of Islam. This decision was approved by Sahaabah and all unofficial copies of the Qur'an were destroyed. Uthman burned the unofficial copies of the Quran. Following the distribution of the official copies, all the other ahruf were dropped and the Qur'an began to be read in only one harf. Thus, the Qur'an which is available throughout the world today is written and recited only according to the harf of Quraysh.[7]
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 08-12-11, 10:10 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default تلاوت قرآن میں ہر آدمی کا اپنا اپنا لحن و لہجہ : جو تبدیلیاں بعد میں کی گئی ان کا اختلاف ہو سکتا ہے

ہاں جو تبدیلیاں بعد میں کی گئی ان کا اختلاف ہو سکتا ہے !!!

We also present the manuscript evidence that marks different Qirâ'ât and is dated probably 3rd century AH. This is sufficient evidence to show that Qirâ'ât were given utmost importance even in the past.

Probably 3rd cent. A.H. no diacritical marks but advanced system of vocalization. Moreover, this Mushaf marks the different canonical readings of the text (Qirâ'ât). The process of restoring a masterpeice like this provides the unique opportunity ot display the beauty and philological precision of one Mushaf by showing more than just two pages.[13]

Conclusions

It is clear from our discussion about that the 'variant' readings of the Qur'an which are actually called Qirâ'ât do not give the impression as 'variant' or something different than the Qur'an. Muslims in the past as well as in the present have treated them with utmost respect as they were all recited by the Prophet(P) and his Companions(R). They Qirâ'ât are just not considered as something different from the Qur'an.

One of the important conclusions of the Christian missionary is also that:

> the evidence is considered. Since the Qur'an has variation within its text
> it is not superior to other Holy Books.

It will be good to study the variant readings (they are truly variant!) in the New Testamant, their origins and impact in the next section. It will be clear who exactly should be worried about the variant readings and why should the Bible be considered as the last candidate to be the 'inerrant' word of God.


Reply To Samuel Green's "The Seven Readings Of The Qur'an"

تلاوت قرآن میں ہر آدمی کا اپنا اپنا لحن و لہجہ

جس طرح اس وقت ہمارے ہاں قرآن کی تلاوت تو ہر مسلم گھر میں ہوتی ہے اور ہر آدمی کا لحن و لہجہ اپنا اپنا ہوتا ہے اورجب وہ اپنی مخصوص لے میں پڑھتا ہے تو مسرور بھی ہوتا ہے خواہ اس کی قراءت علم تجوید کے سراسر خلاف ہو تاہم بعض قراء حضرات ہر زمانہ میں معروف ہوتے ہیں اور وہ باقاعدہ صاحب فن ہوتے ہیں اور نئے نئے فنون کا اضافہ ہوتا رہتا ہے جس طرح تمام علوم نے ترقی کی ہے اس علم تجوید نے بھی بہت ترقی کی ہے اور ہر صاحب فن اپنے فن کو گزشتہ لوگوں کی طرف منسوب کر کے اپنے فن میں پذیرائی حاصل کر سکتا ہے جب تک وہ گزشتہ سے پیوستہ نہ کرے فن آگے چل ہی نہیں سکتا جس کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں آپ غور کریں گے تو ہر حال اس بات کی تصدیق کرنا پڑے گی اہل تفسیر ہوں، اہل حدیث ہوں، اہل فقہ ہوں یا علاوہ دوسرے فنون سے ان کا تعلق ہو یہاں تک کہ گانے بجانے والے ہوں تو ان کے گانے بجانے کا فن بھی اسی طرح ترقی پایا ہے اور ترقی پا رہا ہے۔ اور سب کے سب گزشتہ سے پیوستہ کرتے ہیں۔

قراءت در اصل ایک فن ہے

مختصر یہ کہ کتابوں میں الگ الگ چیزیں ہر فن میں موجود ہیں اسی طرح قراءت کے فن میں بھی پیچھے سے صاحب فن چلے آ رہے ہیں اور قرآنِ کریم کی قراءت کو ایک مدت سے ان کی طرف منسوب کیا جا رہاہے حالانکہ یہ تمام قراء حضرات وہ ہیں جن میں سے کسی نے بھی خود نبی اعظم و آخر ﷺ کے زمانہ اقدس کو نہیں پایا اور نہ اُنہوں نے آپؐ سے کچھ سنا یا پڑھا ہے لیکن ان میں سے ہر ایک کے فن کو کسی صحابی سے نسبت لگا دی گئی ہے۔

سبعہ احرف اور روایات کے مختلف حروف

’’سبعہ احرف‘‘ کے متعلق جو روایات کتب روایات میں پائی جاتی ہیں ان کا اپنا ایک مقام ہے اور یہ ’’حروف‘‘ بھی مختلف روایات میں ہوتے ہوئے آخر کسی نہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ بعد میں آنے والوں نے جب سر توڑ کوشش کرنے کے باوجود ان حروف کا مفہوم آپؐ کی طرف یا آپؐ کے صحابہ کی طرف منسوب نہ پایا کیونکہ اس کے لیے حفاظت خداوندی نے اپنا ہاتھ دکھایا تو اس کے لیے یہ راہ نکال لی گئی کہ ’’سبعہ احرف‘‘ سے مراد معروف قراءات ہیں کیونکہ روایات میں ’’سبعہ احرف‘‘ کے الفاظ بھی موجود ہیں اور ’’قراءات‘‘ کے الفاظ بھی اور دونوں کی نسبت بھی صحابہ کرام تک پہنچتی ہے۔ قراءتیں تو بہت ہیں لیکن چونکہ ان میں سے سات یا دس زیادہ معروف ہو چکی ہیں اور ان کے شاگردان سے بھی زیادہ تیز نظر آتے ہیں اس طرح ایک قراءت کو دو شاگردوں کی طرف نسبت دے کر بیس قراءات معروف ہو گئیں۔ ’’اہل رشد‘‘ نے ان سے فائدہ اُٹھایا اور ان کو روایات پر بیس قرآن الگ الگ قراءت کے طبع کرنے کا عزم کر لیا اس طرح وہ یعنی ’’اہل رشد‘‘ بھی معروف ہو جائیں گے اور قرآنِ کریم بھی محفوظ رہے گا کیونکہ جو کچھ ان بیس قراءتوں میں ہے سارا قرآن ہے اور وعدۂ الٰہی سارے قرآنِ کریم کی حفاظت کا ہے یہ دوسری بات ہے کہ پہلے یہ حفاظت مختلف کتابوں میں محفوظ تھی اور اب وہ قرآنِ کریم کے الگ الگ بیس نسخوں میں موجود رہے گی اور بیس قرآن مل کر ایک قرآن کی تکمیل ہو جائے گی۔

موقع و محل اور ’’رشد‘‘

اس وقت حالات زمانہ اس کے متقاضی ہیں کہ یہ کام کر دیا جائے کہ فضا بالکل موافق ہے جب جہاد کو صرف جہاد کا نام باقی رکھ کر بیسیوں طریقوں سے معروف کرایا جا چکا ہے حالانکہ وہ بھی تمام دنیا کے مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے ہے تو پھر قرآن کو بیسیوں نسخوں میں آخر کیوں نہیں طبع کرایا جا سکتا جب کہ اسلام کے نام سے معروف حکومتیں بھی اس کام میں ممد و معاون ہیں عوام تو پہلے ہی کالانعام ہوتے ہیں مختلف قرآن طباعت کرنے والوں کو جب حکومتوں کی اشیرباد حاصل ہو تو عوام کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے۔ اس طرح اہل رشد نے گویا موقع و محل سے فائدہ اُٹھایا۔

کیا آپؐ صحابہ کو قرآن الگ الگ طریقہ پر پڑھاتے رہے ؟

تعجب بالائے تعجب ہے کہ تمام مسلمان تسلیم کرتے ہیں کہ قرآنِ کریم نبی اعظم و آخر ﷺ کے سینہ اقدس پر نازل ہوا آپؐ نے جس کو بھی قرآنِ کریم پڑھایا وہ ایک ہی طریقہ پر پڑھایا لیکن ان روایات کے ذریعہ ہم کو بتایا جا رہا ہے کہ آپؐ نے کسی کو ایک طریقہ پر اور کسی کو کسی دوسرے طریقہ پر پڑھایا اس طرح گویا مختلف ایک ایک طریقہ پر پڑھاتے ہوئے سات مختلف طریقوں پر پڑھا دیا اور یہ جو کچھ کیا وہ لوگوں کی سہولت کے لیے اللہ رب کریم کی اجازت سے کیا لیکن پوری امت میں سے کسی کو آپؐ کی طرف سے یہ معلوم بھی نہ ہو سکا کہ کسی ایک کو کس طرح پڑھایا اور کسی دوسرے کو کس طرح اور اسی طرح آپ کی پڑھائی ہوئی سات قراءات بھی کسی کے پاس محفوظ نہ رہیں اور آپؐ کی لکھائی ہوئی تحریر صرف بارہ حروف پر ہونے کے باعث ویسے ہی اس قابل نہ تھی کہ امت میں سے کوئی اُس کو پڑھ سکے بھلا ہو ابوالاسود و ولی کا اور حجاج بن یوسف کا کہ اُنہوں نے خلیفہ وقت کے حکم سے نئے حروف ہجا ایجاد کر کے قرآنِ کریم کو اس قابل بنایا کہ اس تحریر کو پڑھا جا سکے پھر اللہ بھلا کرے اُن دس قراء حضرات کا کہ اُنہوں نے سو سال کے بعد قرآنِ کریم کی مختلف قراءات کو لوگوں تک پہنچایا اور آج ہم تمام مسلمان اس قرآنِ کریم کو چار مختلف قراءتوں میں پڑھتے ہیں جو پڑھنے کے قابل بنایا گیا اور ان قراءات کو اس طرح پڑھتے اور سنتے ہیں جس طرح ان دس قراء نے مختلف قراءتوں میں محفوظ کیا اور ان کے ساتھ مزید بھلا ہو ’’اہل رشد‘‘ کا کہ اُنہوں نے نہایت سعی و کوشش سے ان قراءتوں کو مختلف قرآنی نسخوں میں الگ الگ محفوظ کیا جو آسمانوں سے نازل ہوا تھا اس طرح بحمداللہ اُنہوں نے اللہ رب کریم کے قرآنی حفاظت کے وعدہ کو پندرہ سو سال بعد پورا کر دکھایا جو ابھی تک پورا نہیں ہو سکا تھا۔ ہاں! اگر ’’رشد‘‘ کے وہ سولہ قرآن کسی وجہ سے طباعت نہ ہو سکے تو قرآن پھر ادھورا رہ جائے گا۔ اس پر ہم تو انا للہ وانا الیہ راجعون ہی کا ورد کر سکتے ہیں کاش کہ ہم ایسا وقت نہ دیکھیں جب موجودہ قرآن کو ادھورا کہا جانے لگے۔

قرآنِ کریم اور ’’سبعہ احرف‘‘

مؤلف : **عبدالکریم اثری

**: Imam Jamia Masjid Ahle-Hadith, Jinnah Street, Gujrat, Punjab, Pakistan
Attached Images
 
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-12-11, 03:23 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اختلاف قراءات اور دنیا بھر میں‌شائع ہونے والے قرآنی مصاحف

جی جناب، شکاری صاحب، آپ کی فیڈ بیک کا انتظار ہے !!!

اختلاف قراءات اور دنیا بھر میں‌شائع ہونے والے قرآنی مصاحف

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
محترم، جن سولہ نسخوں کی آپ بات کر رہے ہیں وہ ریسرچ ورک ہے۔ اور پہلے ہی سے کتب احادیث ‌میں‌ موجود ہیں۔ صرف ان کو یکجا کرنا مقصود ہے تاکہ علم القرات کے طلبا اس سے مستفیض ہو سکیں۔
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-12-11, 06:41 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
جی جناب، شکاری صاحب، آپ کی فیڈ بیک کا انتظار ہے !!!

اختلاف قراءات اور دنیا بھر میں‌شائع ہونے والے قرآنی مصاحف
میری جانب سے کس فیڈ بیک کے منتظر ہیں جناب؟
جس دھاگے کا آپ نے لنک دیا ہے، وہاں‌تو ثبوت پیش کئے گئے ہیں‌کہ قرآن دنیا بھر میں‌مختلف قراءات میں‌شائع ہو رہا ہے۔ کیا آپ اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں‌کہ ہاں‌یہ قراءات تو درست نہیں، لیکن قرآن واقعی دنیا بھر میں‌مختلف قراءات میں‌شائع ہو رہا ہے؟؟؟؟
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (09-12-11)
پرانا 09-12-11, 07:03 PM   #6
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکاری صاحب آپ ہی کچھ پوسٹ پیش کرنے کی جسارت کرسکتا ہوں اگر آپ اسے غیر متعلقہ یا کاپی پیسٹ کہہ کر ڈیلیٹ نا کروا دیں تو
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-12-11), کنعان (11-12-11), شکاری (09-12-11)
پرانا 09-12-11, 07:10 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
شکاری صاحب آپ ہی کچھ پوسٹ پیش کرنے کی جسارت کرسکتا ہوں اگر آپ اسے غیر متعلقہ یا کاپی پیسٹ کہہ کر ڈیلیٹ نا کروا دیں تو
فیصل صاحب،
مجھے عجیب سا محسوس ہو رہا ہے۔ دیکھئے محترم، میں نے جن پوسٹس کو غیر متعلقہ کہہ کر رپورٹ کیا ہے، اگر آپ کی نظر میں‌واقعی وہ غیر متعلقہ نہیں‌تھیں، تو ان کو ڈیلیٹ نہ کرتے۔ اور اگر آپ نے میری رپورٹنگ پر ان پوسٹس کو ڈیلیٹ‌کیا ہے تو بار بار طعنہ دینے کا مقصد میری سمجھ سے باہر ہے۔
آپ نے خود فرمایا تھا کہ پاک نیٹ پر نوے فیصدی دھاگوں کا کوئی انجام نہیں ہوتا کیونکہ موضوع دھڑا دھڑ ادھر سے ادھر ڈولتا رہتا ہے۔ دوسری طرف حیدر صاحب نے بھی ایک گر کی بات بتائی کہ آپ ذہانت سے اپنے دھاگے کے قوانین بنائیں تو غیر متعلقہ مداخلت کو روک سکتے ہیں۔
پھر آپ ہی نے مجھے گائیڈ کیا کہ اوپن فورم پر پوسٹ میں‌چلاّنے کے بجائے رپورٹ‌کا فیچر استعمال کرنا چاہئے۔

میں نے تو صرف درج بالا نصائح پر عمل کیا ہے اور اس کا نتیجہ میرے خیال میں‌بہت بہتر رہا ہے۔ جس شخص‌ کے پاس موضوع سے متعلق دلائل ہیں وہ بے شک پیش کرے، میں‌بھلا ایسی پوسٹ کو کیسے رپورٹ کر سکتا ہوں۔ اب ایک شخص کی نیت ہی یہ ہوتی ہے کہ پوسٹ کے موضوع سے ہٹ کر ۔۔ چلیں‌خیر۔ چھوڑیں۔
یہ میرا دھاگا نہیں ہے۔ رانا صاحب کا ہے۔ لہٰذا دھاگے کا موضوع انڈا ہو تو برگر سمیت ڈنڈے کے ڈایامیٹر پر بات چیت بھی موضوع ہی میں‌ شمار ہوگی، بے فکر ہو کر کہہ ڈالیں۔
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (09-12-11)
پرانا 09-12-11, 09:44 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بے فکر ہو کر کہہ ڈالیں، شکاری صاحب کے پاس کون سا جواب ہے سوائے انڈا برگر کے !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
شکاری صاحب آپ ہی کچھ پوسٹ پیش کرنے کی جسارت کرسکتا ہوں اگر آپ اسے غیر متعلقہ یا کاپی پیسٹ کہہ کر ڈیلیٹ نا کروا دیں تو
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
یہ میرا دھاگا نہیں ہے۔ رانا صاحب کا ہے۔ لہٰذا دھاگے کا موضوع انڈا ہو تو برگر سمیت ڈنڈے کے ڈایا میٹر پر بات چیت بھی موضوع ہی میں‌ شمار ہوگی، بے فکر ہو کر کہہ ڈالیں۔
بے فکر ہو کر کہہ ڈالیں، شکاری صاحب کے پاس کون سا جواب ہے سوائے انڈا برگر کے !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-12-11, 10:18 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default دنیا بھر کی، افریقہ کی بات بعد میں، پہلے یہ بتائیں کہ درست پاکستانی قراءت کیا ہے ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
میری جانب سے کس فیڈ بیک کے منتظر ہیں جناب؟
جس دھاگے کا آپ نے لنک دیا ہے، وہاں‌تو ثبوت پیش کئے گئے ہیں‌کہ قرآن دنیا بھر میں‌مختلف قراءات میں‌شائع ہو رہا ہے۔ کیا آپ اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں‌کہ ہاں‌یہ قراءات تو درست نہیں، لیکن قرآن واقعی دنیا بھر میں‌مختلف قراءات میں‌شائع ہو رہا ہے؟؟؟؟

دنیا بھر کی، افریقہ کی بات بعد میں، پہلے یہ بتائیں کہ درست پاکستانی قراءت کیا ہے ؟؟؟
قرآن پاکستان بھر میں‌ مختلف قراءات میں‌ شائع ہو رہا ہے۔

سَوْءَةَ (5:31)
یا
سَوْاَةَ (5:31) : تاج کمپنی
یا
سوہ (5:31) : المصحف الإمام ـ مصحف طشقند
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-12-11, 01:05 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default لیکن پاکستانی طبع قرآن میں 6666 آیات نہیں ہیں !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
رانا صاحب،
معذرت کے ساتھ عرض‌ہے کہ اس دھاگے کا موضوع یہ نہیں‌ہے کہ کون سی قراءت درست ہے اور کون سی درست نہیں‌۔ اگر آپ کو اس بات پر کوئی اعتراض ہے کہ دنیا بھر میں‌مختلف روایات میں ‌قرآنی مصاحف کی اشاعت ہرگز نہیں ‌ہو رہی ، اور جو کچھ اوپر مضمون میں ‌بیان کیا گیا ہے وہ غلط ہے۔ تو بسم اللہ کریں ۔ آڈیو اور اسکین حوالہ جات کو جھوٹ ‌ثابت کیجئے۔ اگر آپ یہ نہیں‌کر سکتے ، تو تسلیم کریں‌ کہ دنیا کے مختلف ممالک میں‌واقعی روایت حفص‌کے علاوہ بھی دیگر روایات میں‌قرآن کریم طبع ہو رہا ہے اور پڑھا پڑھایا جا رہا ہے۔
شکراً۔
اختلاف قراءات اور دنیا بھر میں‌شائع ہونے والے قرآنی مصاحف

مشہور بات ہے کہ، "نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک کا مفہوم ہے کہ جس نے قرآن مجید کی ایک آیت سیکھی اسے سو رکعت نفل نماز پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔ قرآن مجید میں 6666 آیات مبارکہ ہیں اس لحاظ سے ایک حافظ قرآن کو حفظ کرنے پر (6666x100=666600) رکعت نوافل پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔"

لیکن پاکستانی طبع قرآن میں 6666 آیات نہیں ہیں !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 11-12-11, 01:49 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں

مشہور بات ہے کہ، "نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک کا مفہوم ہے کہ جس نے قرآن مجید کی ایک آیت سیکھی اسے سو رکعت نفل نماز پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔ قرآن مجید میں 6666 آیات مبارکہ ہیں اس لحاظ سے ایک حافظ قرآن کو حفظ کرنے پر (6666x100=666600) رکعت نوافل پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔"

لیکن پاکستانی طبع قرآن میں 6666 آیات نہیں ہیں !!!
یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب یہ فرماتے ہیں کہ قرآن سبعہ احرف پر نازل کیا گیا ہے تو وہ آپ مانتے نہیں۔ حالانکہ وہ احادیث‌بھی متواتر اسناد کے ساتھ مذکور ہیں۔
لہٰذا معلوم ہوا کہ اآپ کو صرف اپنے من بھاتی احادیث‌ہی درکار ہیں۔ واللہ اعلم!

ویسے الزاماً عرض ہے کہ آپ کے ممدوح عبدالکریم اثری صاحب بسم اللہ کو اآیت شمار کریں‌گے تو آیات کی تعداد میں‌تو ٹھیک ٹھاک اضافہ ہو جاتا ہے۔ ادھر بھی توجہ کیجئے گا۔
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (11-12-11)
پرانا 11-12-11, 02:56 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default سورت الفاتحہ کی آیات کتنی ہیں ؟؟؟ ۶ یا ۷, اور کیسے ؟؟؟ صرف مطابق قرآن احادیث ‌ہی درکار ہیں۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب یہ فرماتے ہیں کہ قرآن سبعہ احرف پر نازل کیا گیا ہے تو وہ آپ مانتے نہیں۔ حالانکہ وہ احادیث‌بھی متواتر اسناد کے ساتھ مذکور ہیں۔
لہٰذا معلوم ہوا کہ آپ کو صرف اپنے من بھاتی احادیث‌ہی درکار ہیں۔ واللہ اعلم!
ویسے الزاماً عرض ہے کہ آپ کے ممدوح عبدالکریم اثری صاحب بسم اللہ کو آیت شمار کریں‌گے تو آیات کی تعداد میں ‌تو ٹھیک ٹھاک اضافہ ہو جاتا ہے۔ ادھر بھی توجہ کیجئے گا۔
لہٰذا معلوم ہوا کہ آپ کو صرف اپنے من بھاتی احادیث‌ہی درکار ہیں۔ واللہ اعلم!

صرف مطابق قرآن احادیث ‌ہی درکار ہیں۔

بسم اللہ کو آیت شمار کریں‌گے تو آیات کی تعداد میں ‌تو ٹھیک ٹھاک اضافہ ہو جاتا ہے۔ ادھر بھی توجہ کیجئے گا۔

سورت الفاتحہ کی آیات کتنی ہیں ؟؟؟ ۶ یا ۷، اور کیسے ؟؟؟

Last edited by rana ammar mazhar; 11-12-11 at 02:58 PM.
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, فوٹو, فرض, کلمات, واقعات, قرآن, قرآنی, مکمل, موجودہ, مقابلہ, ممکن, مجید, اللہ, استاد, تاج, حدیث, خدا, عیسیٰ, عمارت, عارضی, عبدالکریم, عرصہ, عظیم, غلطیاں, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ڈینگی سے لوگ مررہے ہیں، کسی کو ذمہ داری کا احساس نہیں، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ گلاب خان خبریں 12 16-09-11 08:41 AM
شریف برادران 30 سال سے کرپشن میں ملوث ہیں، بیرون ملک موجود اثاثے سامنے لائیں، فردوس عاشق اعوان گلاب خان خبریں 4 13-07-11 01:42 PM
ریلوے انجنوں کی خریداری میں 40ارب کا گھپلا معمولی بات نہیں، خدارا ملک پر رحم کریں، چیف جسٹس گلاب خان خبریں 0 02-02-11 03:47 AM
وزارتوں اور عہدوں کے لالچی نہیں، نظریاتی ترجیحات کیلئے حکومت کا حصہ ہیں، فضل الرحمن گلاب خان خبریں 9 02-07-10 11:01 AM
ڈیمز بن رہے ہیں، آبی وسائل بہتر انداز میں استعمال کیے جائیں، صدر پرویز عبدالقدوس خبریں 0 08-12-07 08:04 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:07 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger