واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


قرآن "مصحف امام" كا عہد نبوی میں "اسطوانتہ المصحف" کے پاس "صندوق المصحف" میں جمع ہونا ۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-11-11, 09:18 PM   #1
قرآن "مصحف امام" كا عہد نبوی میں "اسطوانتہ المصحف" کے پاس "صندوق المصحف" میں جمع ہونا ۔
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آن لائن ہے 11-11-11, 09:18 PM

قرآن "مصحف امام" كا عہد نبوی میں "اسطوانتہ المصحف" کے پاس "صندوق المصحف" میں جمع ہونا ۔

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كاتبين وحى كو قرآن مجيد خود لكھاتے اور اس كى املاء كرواتے تھے ۔

اگر اللہ كا اس كى حفاظت كا ضامن ہونے ميں امت كا كوئى عمل نہ ہوتا تو اللہ تعالى كا اس كى حفاظت كا ذمہ لينے اور بتا دينے كے بعد نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اسے نہ لكھواتے، ليكن آپ كے علم ميں تھا كہ اللہ كى حفاظت ميں شامل ہے كہ وہ اسے ہمارے ليے آسان كرے اور اس كى كتابت كى تعليم دے اور ہمارے مابين صحف ميں ضبط كروائے۔

قرآن كاتبين وحى سے كتابت کروا کر ایک صندوق میں رکھا جاتا تھا جو کہ مصحف امام کہلایا ۔

مصحف امام ایک صندوق المصحف صندوق المصحف میں مسجد نبوی میں ایک ستون اسطوانتہ المصحف کے پاس رکھا جاتا تھا۔

بعد میں رسول کریم ﷺ کی یہ وراثت ام المومنین حفصہ بنت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہا کے مکان میں موجود رہی۔

لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں‌ مکمل لکھا ہوا قرآن موجود تھا۔

قران کسی کی سنی سنائی اسناد سے آپ تک نہیں پہنچا۔

كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ (80:11)
دیکھو یہ (قرآن) نصیحت ہے (80:11)
By no means (should it be so)! For it is indeed a Message of instruction:‎ (80:11)

فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ (80:12)
پس جو چاہے اسے یاد رکھے (80:12)
Therefore let whoso will, keep it in remembrance.‎ (80:12)

فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ (80:13)
قابل ادب ورقوں میں (لکھا ہوا) (80:13)
(It is) in Books held (greatly) in honour,‎ (80:13)

مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ (80:14)
جو بلند مقام پر رکھے ہوئے (اور) پاک ہیں (80:14)
Exalted (in dignity), kept pure and holy,‎ (80:14)

بِأَيْدِي سَفَرَةٍ (80:15)
(ایسے) لکھنے والوں کے ہاتھوں میں (80:15)
(Written) by the hands of scribes-‎ (80:15)

اللہ سبحانہ و تعالى نے خبر دى ہے كہ يہ صحف اولى ميں ہے اور محمد صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس بھى اس جيسا ہے فرمان بارى تعالى ہے:
{ اللہ تعالى كا رسول پاك صحيفے تلاوت كرے، جن ميں صحيح اور درست احكام ہوں }.

رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً (98:2)
(یعنی) خدا کے پیغمبر جو پاک اوراق پڑھتے ہیں (98:2)
An messenger from Allah, rehearsing scriptures kept pure and holy:‎ (98:2)

تو يہ جمع قرآن اللہ اور اس كے رسول كى اقتداء میں عہد نبوی میں ہوا۔

انہوں نے اس اللہ تعالى كے درج ذيل فرمان كو ثابت اور پورا كرنا چاہا:

{ يقينا ہم نے ذكر نازل كيا ہے اور ہم ہى اس كى حفاظت كرنے والے ہيں }.

يہ اس كے پاس محفوظ تھا، اور اللہ نے ہميں بتايا كہ اس كے نزول كے بعد بھى اس كى حفاظت كريگا، اور اس كى حفاظت ميں يہ شامل ہے كہ اللہ تعالى نے اسے جمع كرنا صحابہ كے ليے آسان كر ديا، اور اس كى تقييد اور ضبط ميں ان سب كو جمع فرمايا كسى نے بھى اس ميں اختلاف نہيں كيا۔

يہ ثابت ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے دشمن كے علاقے ميں قرآن مجيد لے جانے سے منع فرمايا ہے" يہ اس كى تنبيہ ہے كہ امت ميں قرآن لكھا ہوا ہو گا اور وہ اسے اپنے ساتھ سفروں ميں لے كر جائيں گے۔

ابو بكر بن العربى كہتے ہيں:
يہ سب سے واضح وجوہات ہيں.
ديكھيں: احكام القرآن ( 2 / 612 ).

حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی نے مصحف امام" کے نسخے کو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس سے منگوا کر دوبارہ شائع کیا۔

8 - نماز کا بیان : (155)
ستون کی طرف (منہ کرکے) نماز پڑھنے کا بیان، اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کسی باتیں کرنے والے انسان کے پس پشت نماز پڑھنے سے یہ افضل ہے کہ ستون کی (آڑمیں) نماز ادا کرے، ابن عمر نے (ایک مرتبہ) کسی شخص کو دو ستون کے قریب کے درمیان میں نماز پڑھتے دیکھا تو اسے ایک ستون کے قریب کردیا، اور فرمایا کہ اس کی آڑ میں نماز پڑھو
حدثنا المکي بن إبراهيم قال حدثنا يزيد بن أبي عبيد قال کنت آتي مع سلمة بن الأکوع فيصلي عند الأسطوانة التي عند المصحف فقلت يا أبا مسلم أراک تتحری الصلاة عند هذه الأسطوانة قال فإني رأيت النبي صلی الله عليه وسلم يتحری الصلاة عندها
صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 478 حدیث مرفوع مکررات 10 متفق علیہ 7
مکی بن ابراہیم، یزید بن ابی عبید روایت کرتے ہیں کہ میں سلمہ بن اکوع کے ہمراہ (مسجد نبوی) میں آیا کرتا تھا، وہ اس ستون کے پاس نماز پڑھا کرتے تھے، جو مصحف کے قریب تھا، میں نے کہا کہ اے ابومسلم! میں دیکھتا ہوں کہ تم اس ستون کے پاس نماز پڑھنے کی کوشش کیا کرتے ہو، انہوں نے کہا کہ یہ اس لئے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے پاس نماز پڑھنے کی کوشش فرماتے دیکھا ہے۔
Narrated Yazid bin Al 'Ubaid: I used to accompany Salama bin Al-Akwa' and he used to pray behind the pillar which was near the place where the Quran's were kept I said, "O Abu Muslim! I see you always seeking to pray behind this pillar." He replied, "I saw Allah's Apostle always seeking to pray near that pillar."

5 - نماز کا بیان : (322)
نماز سترہ کے قریب کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مَکِّيٌّ قَالَ يَزِيدُ أَخْبَرَنَا قَالَ کَانَ سَلَمَةُ يَتَحَرَّی الصَّلَاةَ عِنْدَ الْأُسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ الْمُصْحَفِ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا مُسْلِمٍ أَرَاکَ تَتَحَرَّی الصَّلَاةَ عِنْدَ هَذِهِ الْأُسْطُوَانَةِ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّی الصَّلَاةَ عِنْدَهَا
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1131 حدیث مرفوع مکررات 10 متفق علیہ 7
محمد بن مثنی، مکی، حضرت یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سلمہ اس ستون کے پاس نماز کا ارادہ کر رہے تھے جو مصحف کے قریب تھا میں نے کہا یا ابا مسلم کیا تم اس ستون کے پاس نماز کا ارادہ کر رہے ہو تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس ستون کے پاس نماز کا ارادہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
Yazid reported: Salama sought to say prayer near the pillar which was by that place where copies of the Qur'an were kept. I said to him: Abu Muslim. I see you striving to offer your prayer by this pillar. He said: I saw the Messenger of Allah (may peace be upon him) seeking to pray by its side.

7 - اقامت نماز اور اس کا طریقہ : (630)
مسجد میں نماز کے لئے ایک جگہ ہمیشہ
حدثنا يعقوب بن حميد بن کاسب حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن المخزومي عن يزيد بن أبي عبيد عن سلمة بن الأکوع أنه کان يأتي إلی سبحة الضحی فيعمد إلی الأسطوانة دون المصحف فيصل قريبا منها فأقول له ألا تصلي ها هنا وأشير إلی بعض نواحي المسجد فيقول إني رأيت رسول الله صلی الله عليه وسلم يتحری هذا المقام
سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1430 حدیث مرفوع مکررات 10 بدون مکرر
یعقوب بن حمید بن کا سب، مغیرۃ بن عبدالرحمن مخزومی، یزید بن ابی عبید، حضرت سلمہ بن اکوع سے روایت ہے کہ وہ چاشت کی نماز کے لئے آتے تو اس ستون کے پاس جاتے جہاں مصحف رکھا رہتا ہے اس کے قریب ہی نماز پڑھتے۔ یزید بن ابی عبید کہتے ہیں میں نے مسجد کے ایک کونے کی طرف اشارہ کر کے حضرت سلمہ بن اکوع سے کہا آپ یہاں نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟ تو فرمانے لگے میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مقام کا قصد کرتے دیکھا ۔
It was narrated from Yazid bin Abu 'Ubaid that Salamah bin Al-Akwa' used to offer the Dulta prayer, and he would come to the pillar that was near the Mushaf. I said to him: "Why do you not pray over there?" And l pointed to some comer of the Masjid. He said: "I saw the Messenger of Allah seeking out this place." (Sahih)

5 - نماز کا بیان : (322)
نماز سترہ کے قریب کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ وَهُوَ ابْنُ الْأَکْوَعِ أَنَّهُ کَانَ يَتَحَرَّی مَوْضِعَ مَکَانِ الْمُصْحَفِ يُسَبِّحُ فِيهِ وَذَکَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَتَحَرَّی ذَلِکَ الْمَکَانَ وَکَانَ بَيْنَ الْمِنْبَرِ وَالْقِبْلَةِ قَدْرُ مَمَرِّ الشَّاةِ
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1130 حدیث مرفوع مکررات 10 متفق علیہ 7
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن مثنی، اسحاق ، حماد بن مسعدہ، حضرت یزید بن ابی عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ مصحف کی جگہ نماز پڑھنے کی سوچ میں تھے اور ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس مکان کی فکر فرماتے تھے اور منبر اور قبلہ کے درمیان بکری کے گزرنے کی مقدار جگہ ہوتی تھی۔
Salama b. Akwa' reported: He sought the place (in the mosque) where the copies of the Qur'an were kept and glorified Allah there, and the narrator made a mention that the Messenger of Allah (may peace be upon him) sought that place and that was between the pulpit and the qibla-a place where a goat could pass.

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی مرویات

مسند احمد:جلد ششم:حدیث نمبر 2324
یزید بن ابوعبید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں آتا تھا، وہ اس ستون کے پاس نماز پڑھتے تھے جو مصحف کے قریب تھا، میں نے پوچھا اے ابومسلم! میں آپ کو اس ستون کا خاص اہتمام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں ، اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کو اہتمام کے ساتھ اس ستون کے قریب نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔


1 - ا ب ج : (26407)
حضرت ابن اکوع کی بقیہ مرویات

مسند احمد:جلد ششم:حدیث نمبر 2350
یزید بن ابوعبید کہتے ہیں کہ میں حضرت سلمہ بن اکوع کے ساتھ مسجد میں آتا تھا، وہ اس ستون کے پاس نماز پڑھتے تھے جو مصحف کے قریب تھا، اور فرماتے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اہتمام کے ساتھ اس ستون کے قریب نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اس وقت منبر اور قبلہ کے درمیان سے بکری گذر سکتی تھی۔


مسألة: التحليل الموضوعي

باب الصلاة إلى الأسطوانة وقال عمر المصلون أحق بالسواري من المتحدثين إليها ورأى عمر رجلا يصلي بين أسطوانتين فأدناه إلى سارية فقال صل إليها

480 حدثنا المكي بن إبراهيم قال حدثنا يزيد بن أبي عبيد قال كنت آتي مع سلمة بن الأكوع فيصلي عند الأسطوانة التي عند المصحف فقلت يا أبا مسلم أراك تتحرى الصلاة عند هذه الأسطوانة قال فإني رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يتحرى الصلاة عندها
مسألة: التحليل الموضوعي

بَاب الصَّلَاةِ إِلَى الْأُسْطُوَانَةِ وَقَالَ عُمَرُ الْمُصَلُّونَ أَحَقُّ بِالسَّوَارِي مِنْ الْمُتَحَدِّثِينَ إِلَيْهَا وَرَأَى عُمَرُ رَجُلًا يُصَلِّي بَيْنَ أُسْطُوَانَتَيْنِ فَأَدْنَاهُ إِلَى سَارِيَةٍ فَقَالَ صَلِّ إِلَيْهَا

480 حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ كُنْتُ آتِي مَعَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فَيُصَلِّي عِنْدَ الْأُسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ الْمُصْحَفِ فَقُلْتُ يَا أَبَا مُسْلِمٍ أَرَاكَ تَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَ هَذِهِ الْأُسْطُوَانَةِ قَالَ فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَهَا
مسألة: التحليل الموضوعي

باب الصلاة إلى الأسطوانة وقال عمر المصلون أحق بالسواري من المتحدثين إليها ورأى عمر رجلا يصلي بين أسطوانتين فأدناه إلى سارية فقال صل إليها

480 حدثنا المكي بن إبراهيم قال حدثنا يزيد بن أبي عبيد قال كنت آتي مع سلمة بن الأكوع فيصلي عند الأسطوانة التي عند المصحف فقلت يا أبا مسلم أراك تتحرى الصلاة عند هذه الأسطوانة قال فإني رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يتحرى الصلاة عندها
الحاشية رقم: 1
قوله : ( باب الصلاة إلى الأسطوانة ) أي السارية ، وهي بضم الهمزة وسكون السين المهملة وضم الطاء بوزن أفعوانة على المشهور ، وقيل بوزن فعلوانة ، والغالب أنها تكون من بناء ، بخلاف العمود فإنه من حجر واحد . قال ابن بطال : لما تقدم أنه - صلى الله عليه وسلم - كان يصلي إلى الحربة ، كانت الصلاة إلى الأسطوانة أولى ; لأنها أشد سترة .

قلت : لكن أفاد ذكر ذلك التنصيص على وقوعه والنص أعلى من الفحوى .

قوله : ( وقال عمر ) هذا التعليق وصله ابن أبي شيبة والحميدي من طريق همدان - وهو بفتح الهاء وسكون الميم وبالدال المهملة وكان بريد عمر ، أي رسوله إلى أهل اليمن - عن عمر به . ووجه الأحقية أنهما مشتركان في الحاجة إلى السارية المتخذة إلى الاستناد والمصلى لجعلها سترة ، لكن المصلي في عبادة محققة فكان أحق .

قوله : ( ورأى ابن عمر ) كذا ثبت في رواية أبي ذر والأصيلي وغيرهما ، وعند بعض الرواة " ورأى عمر " بحذف ابن وهو أشبه بالصواب ، فقد رواه ابن أبي شيبة من طريق معاوية بن قرة بن إياس المزني عن أبيه وله صحبة قال " رآني عمر وأنا أصلي " فذكر مثله سواء لكن زاد " فأخذ بقفاي " . وعرف بذلك تسمية المبهم المذكور في التعليق . وأراد عمر بذلك أن تكون صلاته إلى سترة ، وأراد البخاري بإيراد أثر عمر هذا أن المراد بقول سلمة " يتحرى الصلاة عندها " أي إليها ، وكذا قول أنس " يبتدرون السواري " أي يصلون إليها .

قوله : ( حدثنا المكي ) هو ابن إبراهيم كما ثبت عند الأصيلي وغيره وهذا ثالث ثلاثيات البخاري . وقد ساوى فيه البخاري شيخه أحمد بن حنبل ، فإنه أخرجه في مسنده عن مكي بن إبراهيم .

[ ص: 688 ] قوله : ( التي عند المصحف ) هذا دال على أنه كان للمصحف موضع خاص به ، ووقع عند مسلم بلفظ " يصلي وراء الصندوق " وكأنه كان للمصحف صندوق يوضع فيه ، والأسطوانة المذكورة حقق لنا بعض مشايخنا أنها المتوسطة في الروضة المكرمة ، وأنها تعرف بأسطوانة المهاجرين . قال : وروي عن عائشة أنها كانت تقول " لو عرفها الناس لاضطربوا عليها بالسهام " وأنها أسرتها إلى ابن الزبير فكان يكثر الصلاة عندها . ثم وجدت ذلك في تاريخ المدينة لابن النجار وزاد " أن المهاجرين من قريش كانوا يجتمعون عندها " وذكره قبله محمد بن الحسن في أخبار المدينة .

قوله : ( يا أبا مسلم ) هي كنية سلمة ، و " يتحرى " أي يقصد .

شروح الحديث
فتح الباري شرح صحيح البخاري
أحمد بن علي بن حجر العسقلاني
دارالريان للتراث
سنة النشر: 1407هـ / 1986م
رقم الطبعة: ---
عدد الأجزاء: ثلاثة عشرجزءا

__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 905
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (13-11-11), مرزا عامر (12-11-11), حیدر Rehan (14-11-11), شمشاد احمد (12-11-11), غلام خان (26-01-12)
پرانا 11-11-11, 09:25 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default قرآن "مصحف امام" کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انصار میں سے چار آدمیوں نے جمع کیا


قرآن "مصحف امام" کے علاوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انصار میں سے چار آدمیوں نے جمع کیا تھا۔

قرآن جمع کرنے سے مراد ہے کتابت قرآن یعنی اس کا مصحف میں لکھا جانا۔
49 - اختلافات قرأت ولغات اور قرآن جمع کرنے کا بیان : (17)
اختلاف قرات ولغات اور قرآن جمع کرنے کا بیان

مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 728
مشکوۃ کے اکثر نسخوں میں یہاں صرف " باب" لکھ کر عنوان قائم کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ باب متعلقات قرآن کے بیان میں ہے مگر بعض نسخوں میں اس موقع پر یہ عنوان لکھا ہوا ہے " باب اختلاف القرآن وجمع القرآن" یعنی اختلافات قرات ولغات اور قرآن جمع کرنے سے مراد ہے کتابت قرآن یعنی اس کا مصحف میں لکھا جانا۔


نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انصار میں سے چار آدمیوں نے قرآن جمع کیا
45 - مناقب کا بیان : (359)
حضرت معاذ بن جبل زید بن ثابت ابی بن کعب اور ابوعبید بن جراح رضی اللہ عنہم کے مناقب
حدثنا محمد بن بشار حدثنا يحيی بن سعيد حدثنا شعبة عن قتادة عن أنس بن مالک قال جمع القرآن علی عهد رسول الله صلی الله عليه وسلم أربعة کلهم من الأنصار أبي بن کعب ومعاذ بن جبل وزيد بن ثابت وأبو زيد قال قلت لأنس من أبو زيد قال أحد عمومتي قال أبو عيسی هذا حديث حسن صحيح
جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1764 حدیث مرفوع مکررات 6
محمد بن بشار، یحیی بن سعید، شعبہ، قتادة، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انصار میں سے چار آدمیوں نے قرآن جمع کیا۔ حضرت ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابوزید رضی اللہ عنہم۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کون سے ابوزید؟ انہوں نے فرمایا کہ میرے ایک چچا ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that four men all of them ansars collected the Qur’an in the era of Allah’s Messenger (SAW) (They were) : Ubayy ibn Ka’b, Mu’adh ibn Jabal, Zayd ibn Thabit and Abu Zayd (RA).”. The subnarrator said that he asked Anas “Who was Abu Zayd?” He said, “One of my uncles.”

[Ahmed 13944, Bukhari 3810, Muslim 2465]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چار آدمیوں نے قرآن پاک کو جمع کیا تھا۔
43 - انبیاء علیہم السلام کا بیان : (585)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔
حدثني محمد بن بشار حدثنا يحيی حدثنا شعبة عن قتادة عن أنس رضي الله عنه جمع القرآن علی عهد النبي صلی الله عليه وسلم أربعة کلهم من الأنصار أبي ومعاذ بن جبل وأبو زيد وزيد بن ثابت قلت لأنس من أبو زيد قال أحد عمومتي
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1015 حدیث مرفوع مکررات 6 متفق علیہ 5
محمد بن بشار یحیی شعبہ قتادہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چار آدمیوں نے قرآن پاک کو جمع کیا تھا۔ اور وہ چاروں انصاری تھے ابی بن کعب معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابوزید زید بن ثابت۔ میں نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا۔ ابوزید کون؟ انہوں نے فرمایا کہ میرے ایک چچا تھے۔
Narrated Qatada:
Anas said, "The Quran was collected in the lifetime of the Prophet by four (men), all of whom were from the Ansar: Ubai, Muadh bin Jabal, Abu Zaid and Zaid bin Thabit." I asked Anas, "Who is Abu Zaid?" He said, "One of my uncles."

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اس وقت تک چار آدمیوں کے سوا کسی نے قرآن جمع نہیں کیا تھا
46 - فضائل قرآن : (82)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قراء صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ۔
حدثنا معلی بن أسد حدثنا عبد الله بن المثنی قال حدثني ثابت البناني وثمامة عن أنس بن مالک قال مات النبي صلی الله عليه وسلم ولم يجمع القرآن غير أربعة أبو الدردائ ومعاذ بن جبل وزيد بن ثابت وأبو زيد قال ونحن ورثناه
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2147 حدیث مرفوع مکررات 6 متفق علیہ 5
معلی بن اسد، عبداللہ بن مثنیٰ، ثابت بنانی و ثمامہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اس وقت تک چار آدمیوں کے سوا کسی نے قرآن جمع نہیں کیا تھا وہ یہ تھے حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابوزید، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ہم ابوزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وارث ہوئے۔
Narrated Anas bin Malik:
When the Prophet died, none had collected the Qur'an but four persons;: Abu Ad-Darda'. Mu'adh bin Jabal, Zaid bin Thabit and Abu Zaid. We were the inheritor (of Abu Zaid) as he had no offspring .

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اس وقت تک چار آدمیوں کے سوا کسی نے قرآن جمع نہیں کیا تھا
46 - فضائل قرآن : (82)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قراء صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ۔
حدثنا معلی بن أسد حدثنا عبد الله بن المثنی قال حدثني ثابت البناني وثمامة عن أنس بن مالک قال مات النبي صلی الله عليه وسلم ولم يجمع القرآن غير أربعة أبو الدردائ ومعاذ بن جبل وزيد بن ثابت وأبو زيد قال ونحن ورثناه
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2147 حدیث مرفوع مکررات 6 متفق علیہ 5
معلی بن اسد، عبداللہ بن مثنیٰ، ثابت بنانی و ثمامہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اس وقت تک چار آدمیوں کے سوا کسی نے قرآن جمع نہیں کیا تھا وہ یہ تھے حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابوزید، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ہم ابوزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وارث ہوئے۔
Narrated Anas bin Malik:
When the Prophet died, none had collected the Qur'an but four persons;: Abu Ad-Darda'. Mu'adh bin Jabal, Zaid bin Thabit and Abu Zaid. We were the inheritor (of Abu Zaid) as he had no offspring .

رسول اللہ کے زمانہ مبارک میں چار آدمیوں نے قرآن مجید کو جمع کیا
46 - فضائل کا بیان : (559)
حضرت ابی بن کعب اور انصار سے ایک جماعت کے فضائل کے بیان میں
حدثنا محمد بن المثنی حدثنا أبو داود حدثنا شعبة عن قتادة قال سمعت أنسا يقولا جمع القرآن علی عهد رسول الله صلی الله عليه وسلم أربعة کلهم من الأنصار معاذ بن جبل وأبي بن کعب وزيد بن ثابت وأبو زيد قال قتادة قلت لأنس من أبو زيد قال أحد عمومتي
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1840 حدیث مرفوع مکررات 6 متفق علیہ 5
محمد بن مثنی، ابوداؤد شعبہ، قتادہ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کے زمانہ مبارک میں چار آدمیوں نے قرآن مجید کو جمع کیا اور وہ سارے کے سارے انصار سے تھے معاذ بن جبل ابی بن کعب زید بن ثابت اور ابوزید قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس سے کہا اب زید کون تھے انہوں نے کہا وہ چچاؤں میں سے ایک تھے۔
Anas is reported to have said: Four persons collected the Qur'an during the lifetime of Allah's Messenger (may peace be upon him) and all of them were Ansar: Mu'adh b. Jabal, Ubayy b. Ka'b, Zaid b. Thabit, Abu Zaid. Qatada said: Anas, who was Abu Zaid? He said: He was one of my uncles.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں قرآن مجید کس نے جمع کیا انہوں نے کہا چار نے
46 - فضائل کا بیان : (559)
حضرت ابی بن کعب اور انصار سے ایک جماعت کے فضائل کے بیان میں
حدثني أبو داود سليمان بن معبد حدثنا عمرو بن عاصم حدثنا همام حدثنا قتادة قال قلت لأنس بن مالک من جمع القرآن علی عهد رسول الله صلی الله عليه وسلم قال أربعة کلهم من الأنصار أبي بن کعب ومعاذ بن جبل وزيد بن ثابت ورجل من الأنصار يکنی أبا زيد
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1841 حدیث مرفوع مکررات 6 متفق علیہ 5
ابوداؤد سلیمان بن معبد عمرو بن عاصم، ہمام قتادہ، انس بن مالک، حضرت ہمام سے روایت ہے کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں قرآن مجید کس نے جمع کیا انہوں نے کہا چار نے اور وہ سارے انصار میں سے تھے ابی بن کعب معاذ بن جبل اور زید بن ثابت اور انصار میں سے ایک آدمی نے جن کو کنیت ابوزید تھی۔
Hammam said: I said to Anas b. Malik: Who collected the Qur'an during the lifetime of Allah's Messenger (may peace be upon him)? He said: Four (persons), all of them belonging to Ansar: Ubayy b. Ka'b, Mu'adh b. Jabal, Zaid b. Thabit and a person from the Ansar whose Kunya was Abu Zaid.

قرآن جمع کرنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ چار آدمیوں نے جمع کیا
46 - فضائل قرآن : (82)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قراء صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ۔
حدثنا حفص بن عمر حدثنا همام حدثنا قتادة قال سألت أنس بن مالک رضي الله عنه من جمع القرآن علی عهد النبي صلی الله عليه وسلم قال أربعة کلهم من الأنصار أبي بن کعب ومعاذ بن جبل وزيد بن ثابت وأبو زيد تابعه الفضل عن حسين بن واقد عن ثمامة عن أنس
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2146 حدیث مرفوع مکررات 6 متفق علیہ 5
حفص بن عمر، ہمام، قتادہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انس بن مالک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں قرآن جمع کرنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ چار آدمیوں نے جمع کیا جو سب کے سب انصاری تھے وہ حضرت ابی بن کعب، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور حضرت ابوزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے فضل نے بواسطہ حسین بن واقد ثمامہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی متابعت میں روایت کی ہے۔
Narrated Qatada:
I asked Anas bin Malik: "Who collected the Qur'an at the time of the Prophet ?" He replied, "Four, all of whom were from the Ansar: Ubai bin Ka'b, Mu'adh bin Jabal, Zaid bin Thabit and Abu Zaid."

ان صحابہ میں سے ایک ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قرآن جمع کیا تھا ۔
198 - اہل بدر میں سے ان صحابہ کے ناموں کا ذکر جو جامع بخاری میں مذکور ہیں : (46)
ابوزیدانصاری

مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 933
حضرت ابوزیدانصاری ان صحابہ میں سے ایک ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قرآن جمع کیا تھا ۔ یہ حضرت انس کے ایک چچا ہیں ، جنگ بدر میں شریک تھے سعد قاری کے نام سے زیادہ مشہور تھے ان کے اصل نامی اختلافی اقوال ہیں ، بغض نے سعد بن عمیر لکھا ہے اور بعض نے قیس بن سکن ۔ رضی اللہ عنہ ۔


یہ ان صحابہ میں سے ایک ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قرآن جمع کیا تھا
198 - اہل بدر میں سے ان صحابہ کے ناموں کا ذکر جو جامع بخاری میں مذکور ہیں : (46)
عبادہ بن صامت

مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 942
حضرت عبادہ بن صامت انصار مدینہ میں سے ہیں اور ان کا شمار سرداروں میں ہوتا ہے تھا ۔ عقبہ اولی ، عقبہ ثانیہ ، اور عقبہ ثالثہ، تینوں میں یہ موجود تھے ، انہوں نے جنگ بدر اور دوسرے جہادوں میں شرکت کی یہ ان صحابہ میں سے ایک ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قرآن جمع کیا تھا ۔ حضرت عبادہ دراز قد اور خوبصورت جسم کے تھے ، حضرت عمر نے اپنے عہد خلافت میں ان کو شام کا قاضی ومعلم بنا کر بھیجا تھا ، چنانچہ انہوں نے حمص میں اقامت اختیار کرکے اپنے فرائض انجام دئیے پھر بعد میں فلسطین چلے گئے تھے ، اور وہیں رملہ میں وفات پائی ، بعض حضرات نے لکھا ہے کہ ان کی وفات بیت المقدس میں ٣٤ھ میں ہوئی تھی ، اس وقت ان کی عمر ٧٢سال کی تھی ، ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت عبادہ ، حضرت معاویہ کے زمانہ تک زندہ رہے ۔
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (13-11-11), مرزا عامر (12-11-11), غلام خان (26-01-12)
پرانا 11-11-11, 09:31 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default رسول کریم ﷺ نے " مابين الدفتين" ، "دو جلد کے درمیان" "Between the two bindings" قرآن کو جمع کیا !

رسول کریم ﷺ نے " مابين الدفتين" ، "دو جلد کے درمیان" ، "Between the two bindings" قرآن کو جمع کیا تھا۔

He did not leave anything except what is Between the two bindings (of the Qur'an).

"The Prophet did not leave except what is between the bindings (of the Qur'an)."


46 - فضائل قرآن : (82)
قرآن کی جلد کے درمیان جو کچھ ہے رسول اللہ کا اس کے علاوہ اور کچھ نہ چھوڑنے یعنی قرآن ترکہ رسالت مآب ہونے کا بیان

حدثنا قتيبة بن سعيد حدثنا سفيان عن عبد العزيز بن رفيع قال دخلت أنا وشداد بن معقل علی ابن عباس رضي الله عنهما فقال له شداد بن معقل أترک النبي صلی الله عليه وسلم من شيئ قال ما ترک إلا ما بين الدفتين قال ودخلنا علی محمد بن الحنفية فسألناه فقال ما ترک إلا ما بين الدفتين

صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 11 حدیث مرفوع مکررات 1

قتیبہ بن سعید، سفیان کہتے ہیں کہ عبدالعزیز کا بیان ہے کہ میں اور شداد بن معقل ابن عباس کے پاس گئے ان سے شداد بن معقل نے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لکھی ہوئی چیزیں بھی چھوڑی ہیں وہ بولے جلد قرآن کے درمیان جو کلام الہی ہے صرف وہی چھوڑا پھر ہم محمد بن حنفیہ کے پاس گئے اور ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ قرآن کی جلد کے درمیان جو کچھ ہے اس کے علاوہ آپ نے اور کچھ بھی نہیں چھوڑا

Narrated 'Abdul 'Aziz bin Rufai':
Shaddad bin Ma'qil and I entered upon Ibn 'Abbas. Shaddad bin Ma'qil asked him, "Did the Prophet leave anything (besides the Qur'an)?" He replied. "He did not leave anything except what is Between the two bindings (of the Qur'an)." Then we visited Muhammad bin Al-Hanafiyya and asked him (the same question). He replied, "The Prophet did not leave except what is between the bindings (of the Qur'an)."
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (13-11-11), مرزا عامر (12-11-11), حیدر Rehan (14-11-11)
پرانا 12-11-11, 12:22 AM   #4
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جس طرح بدر بھائي طويل مراسلات سے گھبراتے ہيں۔۔ اسي طرح ميں دلائل سے بھر پور مراسلات سے پريشان ہو جاتا ہوں۔۔۔ اگر آپ اس تحقيق انيق كا كچھ خلاصہ يا خلاصے كا نچوڑ بغير دلائل كے بيان فرما ديں تو آپ كي تحقيق ، موقف اور نظريہ سمجھنے ميں آساني ہوگي۔۔۔ اور يہي مقصو د ہے۔۔۔۔ جب مقصود بالذات بنا طويل مراسلات اور عميق دلائل كے حاصل ہو سكتا ہے۔۔۔ تو كيوں يہ بار گراں ہم پر ڈالتے ہيں۔۔۔ جب دلائل كي ضرورت پيش آئي تو آپ سے انشاء اللہ استفادہ كر ليں گے۔۔

شكريہ
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (12-11-11), فیصل ناصر (13-11-11), نبیل خان (18-11-11), احمد نذیر (13-11-11), غلام خان (26-01-12)
پرانا 12-11-11, 08:29 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default یہی قرآن مکمل ہونے پر " مابين الدفتين" ترکہ رسالت مآب کہلایا !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
اگر آپ اس تحقيق انيق كا كچھ خلاصہ يا خلاصے كا نچوڑ بغير دلائل كے بيان فرما ديں تو آپ كي تحقيق ، موقف اور نظريہ سمجھنے ميں آساني ہوگي۔۔۔ اور يہي مقصو د ہے۔
شكريہ
ہجرت سے پہلے جتنا قرآن نازل ہوا تھا وہ لکھا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ۔

اس کی تعلیم ہجرت کے بعد انصار کو دینے کے لیے اس کو مسجد نبوی میں ایک صندوق "صندوق المصحف" میں رکھ کر ایک ستون "اسطوانتہ المصحف" کے پاس رکھ دیا گیا ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی ستون کے پاس صلاۃ قائم کرتے تھے اور انصار ہجرت سے پہلے جتنا قرآن نازل ہوا تھا وہ نقل کیا کرتے تھے ۔

مہاجرین بھی پاس ہوتے تھے ۔ أبن حجر العسقلاني :: وأنها تعرف بأسطوانة المهاجرين

الأولى: بحضرة النبي (صلى الله عليه وآله وسلم) حفظاً وكتابةً، حيثُ حُفِظ في الصدور، وكُتِب على السطور في قراطيس وألواح من الرقاع والعسب واللخاف والاكتاف وغيرها. أخرج الحاكم بسند صحيح على شرط الشيخين، عن زيد بن ثابت، قال: "كنّا عند رسول الله (صلى الله عليه وآله وسلم) نؤلّف ـ أي: نكتب ـ القرآن من الرقاع"

یعنی ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر رقعوں سے یعنی اوراق سے قرآن جمع کیا کرتے تھے ۔

(1) المستدرك 2: 611.

یعنی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر رقعوں سے یعنی اوراق "مصحف امام" یعنی "مصحف نبوی" سے قرآن جمع کیا کرتے تھے ۔

یہی قرآن مکمل ہونے پر " مابين الدفتين" ترکہ رسالت مآب کہلایا !!!


فہو المطلوب !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (13-11-11), فاروق سرورخان (13-11-11), مرزا عامر (12-11-11), احمد نذیر (13-11-11), حیدر Rehan (14-11-11), غلام خان (26-01-12)
پرانا 13-11-11, 01:09 PM   #6
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تو آج ما بين الدفتين قرآن كريم كا جو نسخہ آپ كے پاس گھر ميں ہے جو رسول كريم صلي اللہ عليہ والہ وسلم نے جمع فرمايا تھا اس ميں كوئي فرق ہے يا نہيں۔۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (13-11-11), فیصل ناصر (13-11-11), نبیل خان (18-11-11), غلام خان (26-01-12)
پرانا 13-11-11, 02:16 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کتابت کی غلطی یا رسم خط کا فرق ہو سکتا ہے آیات نمبر میں بھی فرق ہو سکتا ہے متن میں کوئی فرق نہیں ہے

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
تو آج ما بين الدفتين قرآن كريم كا جو نسخہ آپ كے پاس گھر ميں ہے جو رسول كريم صلي اللہ عليہ والہ وسلم نے جمع فرمايا تھا اس ميں كوئي فرق ہے يا نہيں۔۔۔۔
Quran: The Mushaf of Uthman, Completed With Dots Vowel and Diacritical Marks المصحف الشريف المنسوب إلى عثمان بن عفان - رضي الله عنه

کتابت کی غلطی یا رسم خط کا فرق ہو سکتا ہے آیات نمبر میں بھی فرق ہو سکتا ہے متن میں کوئی فرق نہیں ہے !!!

تاج کمپنی کے قرآن میں سورة الفَاتِحَة میں ۶ تک آیات نمبر ہیں سعودی میں ۷ آیات نمبر ہیں !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
حیدر Rehan (14-11-11), غلام خان (26-01-12)
پرانا 13-11-11, 03:27 PM   #8
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس سے تو یہ بات ثابت ہوگئی کے حضرت عثمان کے قرآن اور آج کے قرآن میں کوئی فرق نہیں
اور میرا خیال ہے اس پر کوئی اختلاف بھی نہیں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (13-11-11), فاروق سرورخان (14-11-11), نبیل خان (18-11-11), غلام خان (26-01-12)
پرانا 13-11-11, 07:20 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اختلاف تو احادیث میں ہے کہ یہ آیت یوں تھی اور یوں تھی !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
اس سے تو یہ بات ثابت ہوگئی کے حضرت عثمان کے قرآن اور آج کے قرآن میں کوئی فرق نہیں
اور میرا خیال ہے اس پر کوئی اختلاف بھی نہیں
اختلاف تو احادیث میں ہے کہ یہ آیت یوں تھی اور یوں تھی !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (14-11-11), حیدر Rehan (14-11-11)
پرانا 14-11-11, 10:57 AM   #10
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حدیث ثقلین

ایک حدیث ایک اور اہم نکتہ :
حدیث ثقلین کے مطابق ایک طرف اہلبیت علیہ سلام قرین قرآن ہیں کہ جنکی جدائی نا ممکن ہے اور دوسری طرف وہ سنت آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور آپ ص کی سیرت کو تمام لوگوں سے زیادہ اور بہترطریقہ سے جاننے والے ہیں۔

رسول اکرم (ص) نے اپنے بعد دو عظیم گرانبہا میراث ہمارے درمیان میں چھوڑی ہیں اور تمام مسلمانوں کو انکی پیروی کا حکم دیا ہے اور لوگوں کی فلاح اور ہدایت کو انھیں کے ساتھ تمسک ( وابستگی ) میں قرار دی ہے
۱۔ اللہ کی کتاب قرآن مجید ۔
۲۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اہل بیت و عترت پاک علیہم السلام


ترمذی نے اپنی صحیح میں جابر بن عبد اللہ انصاری سے اور انھوں نے رسول اکرم (ص) سے روایت نقل کی ہے: میں تمھارے درمیان دو سنگین چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم نے مضبوطی سے انھیں پکڑ ے رکھا تو ہر گز گمراہ نہ ہوگے۔ ایک کتاب خدا اور دوسرے میری عترت۔ (۱)

ترمذی اپنی صحیح میں اس حدیث کو بھی نقل کرتے ہیں : میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جارہا رہوں ، اگر ان کو پکڑے رکھا تو ہر گز میرے بعد گمراہ نہ ہوگے اور ا ن میں سے ہر ایک دوسرے پر برتری رکھتی ہے ، کتاب خدا زمین سے آسمان تک متصل ہے ، اور میری عترت و اہل بیت یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوںگے یہاں تک کہ حوض کوثرپر میرے پاس آپہونچیں ، اس میں غوروفکر کرو میرے بعد انکے ساتھ کیا سلوک و برتاوٴ کروگے ۔ (۲)

مسلم بن حجاج اپنی صحیح میں رسول اسلام (ص) سے یہ حدیث نقل کرتے ہیں : اے لوگو! میں انسان ہوں قریب ہے خدا کا بھیجا ہوا فرشتہ( ملک الموت ) میرے پاس آئے اور میں اس کے جواب میں لبیک کہدوں میں تمھارے درمیان دو گراں بہا چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک اللہ کی کتاب جس میں نور ہدایت ہے پس اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑلو اور اس سے وابستہ رہنا حضرت (ص) نے یہ فرما کر قرآن سے تمسک کی ترغیب دی پھر فرمایا:اور میرے اہل بیت (ع) ، میں تمہیں اپنے اہل بیت (ع) کے لئے تاکید کرتا ہوں ، میں تمہیں اہل بیت (ع) کے لئے تاکیدکرتا ہوں ،میں تمہیں اپنے اہل بیت (ع) کے لئے تاکید کرتا ہوں ۔ (۳)

متعدد محدثین نے آنحضرت (ص) سے نقل فرمایاہے: حضرت (ص) نے ارشاد فرمایا : ” میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ ایک کتاب خدا دوسرے میری عترت ۔ یہ ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہونگے ، یہاں تک کہ ( قیامت میں ) میرے پاس حوض کوثر پر آپہونچیں ۔ (۴)
مذکورہ روایات کے مضمون پر مشتمل اسقدر زیادہ حدیثیں ہیں جو اس کتاب کی گنجائش سے باہر ہیں محقق التحر یر سید میر حامد حسین ( ہندی ) رحمۃ اللہ علیہ نے ان روایات بیشتراسنادکو اپنی کتاب عبقات الانوار میں جمع کیا ہے ۔


(۱)صحیح ترمذی ، کتاب المناقب ، باب مناقب اہل بیت النبی (ص) ، ج/۵ طبع بیروت ، ص/ ۶۶۲ ، حدیث ۳۷۸۶۔” یا ایھّا النّاس انّی قد ترکت فیکم ما ان اٴخذتم بہ لن تضلوا کتاب اللّٰہ وعترتی اہل بیتی“
(۲)مدرک سابق ، ص/ ۶۶۳ ، حدیث ۳۷۸۸۔
(۳) صحیح مسلم ، جزء ۷ باب فضائل علی ابن ابی طالب (ع) ، ط مصر ، ص/ ۱۲۲ ۔ ۱۲۳ ۔
(۴) مستدرک حاکم ، جزء ۳ ص/ ۱۴۸ ۔ الصواعق المحرقۃ ، باب ۱۱ فصل اول ص/ ۱۴۹ اور اسی طرح کے مضمون پر مشتمل دیگر احادیث درج ذیل کتابوں میں بھی دیکھی جاسکتی ہے :” مسند احمد ، جزء ۵ ص/ ۱۸۲ و ۱۸۹ ۔ ” کنز العمال ، جزء اول ، باب الاعتصام بالکتاب و السنۃ ، ص/ ۴۴ ۔


حدیث ثقلین سے یہ بات کلی طور پر واضع ہوجاتی ہے کہ رسول اکرم ص کے دور میں قرآن پاک کی جمع آوری کا کام خود رسول اکرم ص کی نگرانی میں مکمل ہوچکا تھا اسی لیے انھوں نے فرمایا کہ میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک قران پاک اور دوسرا اہلبیت علیہ سلام۔

دوسری طرف یہ بھی صاف ظاہر ہے۔ کہ اہل بیت (ع) کے دامن سے تمسک،اور ان کی اتباع ،قرآن مجید اور سنت نبی (ص) کی پیروی کے مترادف ہے۔ اور ضروریات دین اسلام ہے ۔ لہٰذا ان کے دامن کو چھوڑ دینا ضلالت وگمراہی کا باعث ہے ۔
اور اسی فرمان کے مطابق اہل بیت طاہرین (ع) کی اتباع اور انکی پیروی واجب و ضروری ہے ۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-11-11, 03:42 PM   #11
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
Quran: The Mushaf of Uthman, Completed With Dots Vowel and Diacritical Marks المصحف الشريف المنسوب إلى عثمان بن عفان - رضي الله عنه

کتابت کی غلطی یا رسم خط کا فرق ہو سکتا ہے آیات نمبر میں بھی فرق ہو سکتا ہے متن میں کوئی فرق نہیں ہے !!!

تاج کمپنی کے قرآن میں سورة الفَاتِحَة میں ۶ تک آیات نمبر ہیں سعودی میں ۷ آیات نمبر ہیں !!!
جب احاديث نبويہ اور حضرت عثمان رضي اللہ تعالي عنہ جيسي ہستياں قابل بھروسہ نہيں ہيں تو تاج كمپني اور سعودي حكومت كيوں كر قابل بھروسہ ہو گئي۔۔۔۔
تاج كمپني كے قرآن ميں سورہ فاتحہ ميں 6 آيات اور سعودي نسخے ميں 7 آيات تھيں تو نبوي نسخہ ميں كتني تھيں۔۔۔؟؟؟

يہي تو پوچھا تھا ميں نے آپ سے كہ آپ كي نظر ميں قابل بھروسہ قرآن ا ور حضور صلي اللہ عليہ والہ وسلم كے جمع كردہ قرآن ميں كيا فرق ہے۔۔
آپ نے پہلي ہي سورت ميں ايك فرق بيان كر ديا ۔۔ اس كا مطلب يہ ہے كہ ديگر سورتوں، منزلوں، ركوعات اور پاروں وغيرہ ميں بھي يقينا فرق ہو گا؟
اگر ہے تو كس كتنا اور كس قسم كا۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (14-11-11), حیدر Rehan (14-11-11), غلام خان (26-01-12)
پرانا 14-11-11, 05:31 PM   #12
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
اس سے تو یہ بات ثابت ہوگئی کے حضرت عثمان کے قرآن اور آج کے قرآن میں کوئی فرق نہیں
اور میرا خیال ہے اس پر کوئی اختلاف بھی نہیں
اختلاف ہي اسي بات پر ہے۔۔۔
بس اختلاف كي نوعيت الگ الگ ہے۔۔ وہ نوعيت ہر ايك نے اپنے مخصوص نقطہ نظر كي وجہ سے بنائي ہوئي ہے۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-11-11, 05:41 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default حضرت عثمان رضي اللہ تعالي عنہ جيسي ہستياں قابل بھروسہ ہيں اللہ ان سے راضی ہے !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
جب احاديث نبويہ اور حضرت عثمان رضي اللہ تعالي عنہ جيسي ہستياں قابل بھروسہ نہيں ہيں تو تاج كمپني اور سعودي حكومت كيوں كر قابل بھروسہ ہو گئي۔۔۔۔
تاج كمپني كے قرآن ميں سورہ فاتحہ ميں 6 آيات اور سعودي نسخے ميں 7 آيات تھيں تو نبوي نسخہ ميں كتني تھيں۔۔۔؟؟؟
يہي تو پوچھا تھا ميں نے آپ سے كہ آپ كي نظر ميں قابل بھروسہ قرآن اور حضور صلي اللہ عليہ والہ وسلم كے جمع كردہ قرآن ميں كيا فرق ہے۔۔
آپ نے پہلي ہي سورت ميں ايك فرق بيان كر ديا ۔۔ اس كا مطلب يہ ہے كہ ديگر سورتوں، منزلوں، ركوعات اور پاروں وغيرہ ميں بھي يقينا فرق ہو گا؟
اگر ہے تو كس كتنا اور كس قسم كا۔

حضرت عثمان رضي اللہ تعالي عنہ جيسي ہستياں قابل بھروسہ ہيں اللہ ان سے راضی ہے کوئی جھوٹ ان سے منسوب کر دے تو وہ قابل قبول نہیں ہے !!!

تاج كمپني كے قرآن ميں سورہ فاتحہ ميں 6 آيات اور سعودي نسخے ميں 7 آيات تھيں تو نبوي نسخہ ميں كتني تھيں ؟؟؟

نمبر نہیں تھے بعد کی ایجاد ہے !!!

قابل بھروسہ قرآن اور حضور صلي اللہ عليہ والہ وسلم كے جمع كردہ قرآن ميں کوئی فرق نہیں ہے !!!

احاديث نبويہ قابل بھروسہ ہيں کوئی جھوٹ حضور صلي اللہ عليہ والہ وسلم سے منسوب کر دے تو وہ قابل قبول نہیں ہے !!!

ديگر سورتوں، منزلوں، ركوعات اور پاروں وغيرہ ميں بھي يقينا فرق ہو گا اگر ہے تو كس كتنا اور كس قسم كا ؟


متن میں کوئی فرق نہیں ہے !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (15-11-11), حیدر Rehan (16-11-11), غلام خان (26-01-12)
پرانا 15-11-11, 10:39 PM   #14
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں

حضرت عثمان رضي اللہ تعالي عنہ جيسي ہستياں قابل بھروسہ ہيں اللہ ان سے راضی ہے کوئی جھوٹ ان سے منسوب کر دے تو وہ قابل قبول نہیں ہے !!!

تاج كمپني كے قرآن ميں سورہ فاتحہ ميں 6 آيات اور سعودي نسخے ميں 7 آيات تھيں تو نبوي نسخہ ميں كتني تھيں ؟؟؟

نمبر نہیں تھے بعد کی ایجاد ہے !!!

قابل بھروسہ قرآن اور حضور صلي اللہ عليہ والہ وسلم كے جمع كردہ قرآن ميں کوئی فرق نہیں ہے !!!

احاديث نبويہ قابل بھروسہ ہيں کوئی جھوٹ حضور صلي اللہ عليہ والہ وسلم سے منسوب کر دے تو وہ قابل قبول نہیں ہے !!!

ديگر سورتوں، منزلوں، ركوعات اور پاروں وغيرہ ميں بھي يقينا فرق ہو گا اگر ہے تو كس كتنا اور كس قسم كا ؟


متن میں کوئی فرق نہیں ہے !!!
بعد كي ايجاد تواعراب۔۔ يعني زبر زير پيش بھي ہيں كيا ان ميں كوئي تبديلي ہے يا نہيں
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-11-11), حیدر Rehan (16-11-11), غلام خان (26-01-12)
پرانا 16-11-11, 09:21 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default نازل شدہ قرآن کی تحریرات کی حفاظت کا انتظام : کاتبین وحی کے رسم الخط کا فرق

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
بعد كي ايجاد تواعراب۔۔ يعني زبر زير پيش بھي ہيں كيا ان ميں كوئي تبديلي ہے يا نہيں
نازل شدہ قرآن کی تحریرات کی حفاظت کا انتظام

مختصر یہ کہ جوں جوں قرآنِ کریم نازل ہوتا رہا لکھا جاتا رہا جس کو آپؐ اپنے ایک مخصوص صندوق میں رکھتے یا رکھواتے رہے جو بعد میں صندوق المصحف کے نام سے معروف ہوا جو ہجرت کے وقت آپؐ کے ساتھ ہجرت کر کے آیا اور ہجرت کے بعد یہ صندوق مسجد نبوی کے ایک ستون کے ساتھ رکھا گیا جس ستون کو اسطوانہ المصحف سے یاد کیا جاتا رہا ہے اور نزول کے اختتام تک اسی جگہ محفوظ طریقہ سے رکھا رہا جس کو روایات میں ’’امام‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اسطوانہ المصحف کا نام اور اس جگہ کو منفرد مقام حاصل رہا جیسے ریاض الجنہ وغیرہ کو جس کا ذکر روایات میں موجود ہے۔ چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ:
حدثنا المکی قال حدثنا یزید بن ابی عبید قال کنت اتی مع سلمۃ بن الاکوع فیصلی عند الاسطوانۃ التی عند المصحف، فقلت یا ابا سلمۃ! اراک تتحری الصلوٰۃ عند ھذہ الاسطوانۃ؟ قال فانی رایت النبی صلی اللہ علیہ وسم یتحری الصلوٰۃ عندھا۔ (ص۱۰۵، ح:۵۰۲)
یہ روایت امام بخاری رحمہ اللہ کی ثلاثیات میں سے ہے جس میں ابی عبید کہتے ہیں کہ میں سلمہ بن اکوع کے ساتھ مسجد نبوی میں آیا تو وہ نماز پڑھنے لگے اس ستون کے پاس جو ستون مصحف کے نام سے معروف تھا تو میں نے کہا اے ابو مسلم! میں دیکھتا ہوں کہ تم کوشش کرتے ہو کہ اس ستون کے پاس نماز ادا کرو تو اُنہوں نے کہا کہ ہاں! میں یہ کوشش اس لیے کرتا ہوں کہ میں نے آپؐ کو دیکھا ہے کہ آپؐ اس ستون کے ساتھ نماز ادا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔‘‘


قرآنِ کریم کے لیے مخصوص صندوق

یہ روایت مسند احمد بن حنبل میں موجود ہے اور علاوہ ازیں بھی مسند احمد میں دیکھی جا سکتی ہیں اور ان روایات میں بھی ’’موضع مکان المصحف‘‘ کے الفاظ موجود ہیں جن سے اس بات کی وضاحت مل جاتی ہے کہ قرآنِ کریم ایک خاص صندوق میں جو صندوق ایک ستون کے ساتھ رکھا رہتا تھا اور صندوق بھی ’’صندوق المصحف‘‘ کے نام سے معروف تھا اور وہ جگہ بھی مکان المصحف کے نام سے معروف تھی۔
ہاں! روایات میں اس کی اس سے زیادہ وضاحت اس لیے نہیں کی گئی کہ لوگ اس مقام کو ایسا متبرک نہ سمجھنے لگیں جس کے باعث لوگوں کو مسجد نبوی میں اس مخصوص جگہ نماز ادا کرنا ہی مشکل ہو جائے جو زائرین کی تکلیف کا باعث بنے جیسا کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ اسی طرح اکثر اوہام کا شکار ہو جاتے ہیں۔

مخصوص صندوق کے لیے مخصوص جگہ

مختصر یہ کہ مسلم کی روایات میں بھی ’’مکان المصحف‘‘ کا ذکر موجود ہے اور امام بخاریؒ والی پوری روایت بھی من و عن ان الفاظ میں موجود ہے نیز امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کی شرح میں اس مقام پر اور امام نوی نے مسلم کی شرح کرتے ہوئے اس روایت کے مقام پر تفصیل کر دی ہے اگر وضاحت مقصود ہو تو محولہ کتابوں کی شروح دیکھیں۔
ہمارا اس جگہ بیان کرنے کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ قرآنِ کریم پورے انتظام کے تحت لکھا جاتا رہا جس کو ایک خاص طرح کے صندوق میں رکھا جاتا تھا اور وہ صندوق ہجرت کے بعد مسجد نبوی کے ایک ستون کے ساتھ رکھا رہتا تھا اور جتنی وحی نازل ہوتی تھی ایک خاص نظم و انضباط کے ساتھ اس کو رکھا جاتا تھا اور ظاہر ہے کہ اپنی اپنی ضرورت کے مطابق صحابہ کرام براہ راست آپؐ سے بھی سن سن کر یاد کرتے اور لکھتے تھے اور اس خاص ’’امام المصحف‘‘ سے بھی لکھتے ہوں گے جس لیے یہ مخصوص مصحف بھی ترتیب پاتا رہا اور بہت سے لوگوں کے پاس بھی اس کی مکمل یا بعض حصوں کی نقلیں موجود تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ روایات میں قرآنِ کریم کو دیکھ کر پڑھنے کا زیادہ اجر بتایا گیا ہے اور مختلف صحابہ کے نام سے مصاحف کا ذکر روایات میں اکثر پایا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ وہی مصاحف تھے جو انہوں نے اپنے اپنے پڑھنے کے لیے محض اپنے لیے تحریر کر رکھے تھے اور یہ مکمل مصحف امام کی نقل نہیں تھے بلکہ بعض سورتوں اور بعض سورتوں کے حصوں اور بعض آیتوں پر مشتمل تھے گویا جتنا جتنا قرآنِ کریم کا حصہ صحابہ کرام نے اپنے لیے لکھ رکھا تھا وہ اُن کے مصحف کے نام سے معروف ہو گیا۔


مصحف امام اور اس کی نقول

عین ممکن ہے کہ صحابہ کرام میں سے بعض نے پورے مصحف امام کی بھی نقلیں اپنے پاس محفوظ کر لی ہوں کیونکہ ہر ایک آدمی کا شوق اور اس کے فرصت کے اوقات کا معاملہ الگ ہوتا ہے تاہم اگر اس طرح بعض صحابہ کرام جیسے سیدنا ابوبکر صدیقؓ، سیدنا علیؓ بن ابی طالب اور زید بن ثابت جیسے کتنے ہی ہوں گے جنہوں نے اس سلسلہ میں کوشش کی ہوگی اور اپنے لیے اس طرح مصاحف تحریر کر رکھے ہوں لیکن یہ جتنے لوگ بھی ہوں اور ان کے پاس جتنے مصاحف بھی موجود ہوں ان کی ترتیب وہ ترتیب تو نہیں ہو سکتی تھی جو عرضۂ اخیرہ میں آپؐ نے جبریل علیہ السلام کے دوسرے دور کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق دی تھی اور یہ بات سورج سے بھی زیادہ واضح ہے کہ یہ ترتیب ترتیب نزولی کے علاوہ تھی اور اس ترتیب نو کے بعد آپؐ جلد ہی اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے کیونکہ جس کام کی تکمیل کے لیے آپؐ کی بعثت ہوئی وہ پایہ تکمیل کو پہنچ گیا اور بحمداللہ آپؐ کی موجودگی میں آپؐ کے ہاتھوں یعنی آپؐ کے سامنے پایہ تکمیل کو پہنچا اور اس ترتیب نو کے بعد مصحف کو محفوظ کر کے اُس کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کر دیا گیا کیونکہ فطرت کا یہی تقاضا تھا۔


کاتبین وحی کے رسم الخط کا فرق

جیسا کہ اوپر بھی ذکر کیا جا چکا ہے، روایات بھی اس پر گواہ ہیں اور فطرت بھی اس کو قبول کرتی ہے کہ جب عرصہ تئیس سال میں مختلف کاتبین وحی سے قرآنِ کریم لکھوایا گیا تو اُس کے مختلف حصوں، ٹکڑوں اور حالاتِ زمانہ کے مطابق مختلف چیزوں پر تحریر ہونے کے باعث نہ تو اُس کے رسم الخط میں یکسانیت آ سکتی تھی نہ آئی اور نہ اس ترتیب کے ساتھ کسی شخص کے پاس بھی اس کی کوئی دوسری کاپی موجود ہو سکتی تھی اور نہ ہوئی بالکل اسی طرح اس ترتیب کے لحاظ سے قرآنِ کریم اُس وقت لوگوں کے حافظہ میں موجود نہیں تھا لیکن ان ساری باتوں کے باوجود قرآنِ کریم مکمل طور پر تحریراً بھی محفوظ ہو گیا اور لوگوں کے حافظہ میں بھی فرق صرف یہ تھا کہ اس ترتیب نو کے مطابق صرف وہ صندوق المصحف میں موجود تھا اور لوگوں کے حافظہ میں بغیر اس ترتیب کے محفوظ تھا لوگوں کے حافظہ میں اس ترتیب کے مطابق محفوظ کرنا اس مصحف امام ہی کا کام تھا اور یہی کام اس سے لیا گیا۔


عبدالکریم اثری**
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (16-11-11), حیدر Rehan (19-11-11), شمشاد احمد (18-11-11), غلام خان (26-01-12)
جواب

Tags
allah, color, come, holy, honour, messenger, prayer, پاک, قرآن, قصد, نماز, مکمل, مسجد, مسجد نبوی, اللہ, انسان, جلد, حدیث, خبر, خدا, زندگی, شخص, عہد, صندوق, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ََِِ"" اپنا وزن کم کریں "" مژگان فیشن اور بیوٹی ٹپس 29 01-01-12 02:34 AM
انٹرنیٹ میں انقلابی سہولتوں کا اضافہ: "بنگ" اور "ویوز" Hashims Search Engines 8 02-09-11 03:24 PM
اسلامی سکرین سیور """ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ؟ """" عادل سہیل اسلام اور معاشرہ 17 23-02-11 07:37 PM
"کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا حیدر خبریں 6 11-10-10 04:49 PM
کراچی میں پولیس کا "ناکے پہ ناکہ "اور ڈاکو ں کا "ڈاکے پہ ڈاکہ"جاری جاویداسد خبریں 0 01-10-10 06:38 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:07 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger