| علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 356
|
||||
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (20-11-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
قرآنِ کریم اور’’سبعہ احرف‘‘
مختلف قراءات کے باعث "مستقل بیس قرآنِ کریم" کی اشاعت۔ ایک روایت کا ترجمہ جو مسلم میں بیان کی گئی ہے ایک نظر اُس کو بھی دیکھ لیں۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں تھا تو ایک آدمی آیا وہ نماز پڑھنے لگا اس نے ایسی قراء ت کی جسے میں نے درست نہیں سمجھا پھر ایک دوسرا آدمی آیا اُس نے اس کے خلاف قراء ت کی جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم سب رسول اللہﷺ کے پاس گئے میں نے کہا بے شک اس نے ایسی قراء ت کی ہے جسے میں نے درست نہیں سمجھا اور دوسرا آیا تو اُس نے پہلے کے خلاف قراء ت کی آپ ﷺ نے ان دونوں کو پڑھنے کا حکم دیا اُنہوں نے پڑھا تو آپ ﷺ نے اُن دونوں کی توثیق کی۔ میرے دل میں تکذیب کا وسوسہ پیدا ہوا جو کہ زمانہ جاہلیت میں بھی کبھی پیدا نہ ہوا تھا۔ جب آپ ﷺ نے میری حالت دیکھی تو میرے سینے پر ہاتھ مارا تو میں پسینہ پسینہ ہو گیا، گویا کہ خوف کی وجہ سے میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں۔ آپ ﷺ نے مجھے فرمایا اے ابی! میری طرف فرشتہ بھیجا گیا کہ میں قرآن کو ایک طریقہ پر پڑھوں میں نے تکرار کی کہ میری امت پر آسانی فرمائیں۔ دوسری مرتبہ میری طرف فرشتہ بھیجا گیا کہ میں قرآن کو دو طریقوں پر پڑھوں میں نے تکرار کی کہ میری امت پر آسانی فرمائیے۔ تیسری مرتبہ میری طرف فرشتہ بھیجا گیا کہ میں قرآن کو سات قراء توں پر پڑھوں۔‘‘ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اس روایت اور اس جیسی دوسری روایات کوناچیز بندہ بھی صحیح اور درست مانتا ہے لیکن روایت کے طور پر ’’مثل قرآن‘‘ نہیں تاہم اس روایت یا اس جیسی دوسری روایات کا جو مطلب و مفہوم عام طور پر سمجھا گیا ہے خصوصاً جو ’’اہل رشد‘‘ نے بیان کیا ہے اُس کے ساتھ مجھے مکمل اتفاق نہیں وضاحت ان شاء اللہ اپنے وقت پر آئے گی۔ جیسا کہ پیچھے ذکر کیا جا چکا ہے کہ روایت تو ایک ہے لیکن پانچ بار ذکر کی گئی ہے جس کی مصلحت امام صاحب موصوف کے ابواب واضح کر رہے ہیں۔ اس روایت کو ایک سے زیادہ بار ذکر کرنے سے جو مضمون اور الفاظ کی کمی بیشی ہے وہ بھی اپنے اندر بہت حکمت رکھتی ہے جو مفہوم بیان کرنے میں بہت مدد دیتی ہے اس کے ساتھ ہی میرے جیسے ناخواندہ اور سطحی علم رکھنے والے لوگوں میں اس کو بغور پڑھنے سے کچھ ایسے سوالات پیدا ہوتے ہیں جن کا جواب ’’رشد‘‘ کے مضامین نگاروں کے ذمہ عموماً اور ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی صاحب کے ذمہ خصوصاً لازم آتا ہے امید ہے کہ وہ ہم جیسے عامی لوگوں کی تفہیم کی کوشش کریں گے تاکہ ہم جیسے لوگ بھی ’’رشد‘‘ کا مطالعہ کرتے رہیں۔ اس روایت سے فطرتاً پیدا ہونے والے سوالات درج ذیل ہیں۔ ۱۔ کیا ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ جماعت کروا رہے تھے جب اُنہوں نے سورہ الفرقان پڑھی تھی اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ جماعت میں شریک تھے؟ ۲۔ اگر ہشام بن حکیم جماعت کرا رہے تھے تو یہ کس وقت کی نماز تھی؟ کیونکہ وہ قرآنِ کریم کی تلاوت جہر کر رہے تھے؟ ۳۔ کیا آپؐ کی موجودگی میں بھی دوسرے صحابہ کرام جماعت کرا لیا کرتے تھے؟ یا فرض کے علاوہ نوافل کی جماعت کرایا کرتے تھے؟ ۴۔ اگر ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ انفرادی طور پر نمازِ نفل ادا کر رہے تھے تو کیا اُس وقت ابھی انفرادی نماز ادا کرنے والا بھی اپنی نماز میں قرآنِ کریم جہر پڑھتا تھا؟ ۵۔ کوئی نمازی دورانِ نماز جب قرآن کی تلاوت کر رہا ہو تو اُس کو غلطی لگے تو دوسرے کا حق تصحیح کرانا نہیں؟ جس کو لقمہ دینا کہتے ہیں؟ کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس سے واقف نہیں تھے یا کوئی اور بات ہے؟ وضاحت درکار ہے۔ ۶۔ کیا سورہ الفرقان اُس وقت آیات کی موجودہ ترتیب کے لحاظ سے مکمل ہو چکی تھی؟ ۷۔ کیا دو یا دو سے زیادہ آدمی انفرادی طور پر اپنی اپنی نماز ادا کر رہے ہوں تو ان کو قرا ء ت جہر کرنی چاہیے یا خفی، اپنی اپنی قراء ت پر خیال رکھنا چاہیے یا دوسروں کی قراء ت پر؟ جیسا کہ صحابہ کرام نے کیا؟ ۸۔ کیا آپؐ ہر ایک صحابی کو فرداً فرداً قرآنِ کریم کی آیات پڑھایا کرتے تھے اور ہر ایک کو الگ الگ الفاظ یاد کراتے تھے؟ ۹۔ کیا اس روایت سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ دونوں صحابہ کرام نے مختلف طریقوں سے سورہ الفرقان کو پڑھا اور دونوں کو آپؐ نے فرمایا کہ یہ آیت یا سورت ’’اس طرح نازل ہوئی‘‘ تسلیم ہے کہ ایک کا پڑھنا تو ایسا ہی تھا جیسا کہ اس وقت قرآنِ کریم میں ہم سورہ الفرقان کو پڑھتے ہیں کیا دوسرے صحابی کا پڑھا ہوا بھی کسی جگہ محفوظ ہے اگر ہے تو کہاں ہے؟ اگر نہیں تو قرآنِ کریم محفوظ کیسے رہا؟ ۱۰۔ ’’سبعہ احرف‘‘ سات حروف میں سے کسی ایک حرف پر پڑھنے سے جو آسانی مطلوب تھی اُس کا تقاضا ہے کہ ان سات حروف سے سب واقف ہوں جب ان سات میں سے ایک کے سواکسی دوسرے حرف کا علم ہی نہ ہو تو آسانی کس چیز میں ہوئی؟ کیا یہ بات مہمل نہیں ہو جاتی؟ پھر کسی مہمل بات کو آپؐ کی طرف منسوب کرنا روا ہو سکتا ہے؟ ۱۱۔ ’’پورا قرآنِ کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے‘‘ پورے قرآن کریم میں چھ ہزار سے زائد آیات ہیں کہیں سے صرف دس آیات مسلسل ’’سات حروف‘‘ پر بتا دیں تاکہ کچھ سمجھنے کی کوشش کی جائے؟ ۱۲۔ جب کسی ایسی بات کی نسبت آپؐ کی طرف ہو جو آپؐ کے شایانِ شان نہ ہو تو کیا اُس سے بھی اعراض نہیں کیا جا سکتا؟ نہیں تو پھر اس آیت کا مفہوم کیا ہے کہ ’’جب تم نے ایسی بات کو سنا (جو آپ کے شایانِ شان نہیں تھی) تو تم نے کیوں نہ کہہ دیا کہ ہم کو زیب نہیں دیتا کہ اس طرح کی بات اپنی زبان پر لائیں۔ اے اللہ! تو پاک ہے یہ تو بہت بڑا بہتان ہے‘‘ (۲۴:۱۶) ۱۳۔ ایک لفظ یا جملہ قرآنِ کریم ہے لیکن قرآنِ کریم میں موجود نہیں تو اُس کو قرآنِ کریم کی طرح محفوظ کیسے کہا جا سکتا ہے؟ مثال دے کر واضح کریں تاکہ بات سمجھنا آسان ہو؟ ۱۴۔ روایات میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کے واقعہ کے علاوہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو بھی اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ بالکل اسی طرح کا واقعہ پیش آیا ان دونوں واقعات میں پہلے کونسا واقعہ ہوا؟ پھر واقعہ اتنا اہم ہے کہ ایک کے بعد بھی دوسروں پر یہ بات واضح نہ ہو سکی، پھر دونوں صحابہ کرام کو تکذیب کا خیال بھی یکساں ایک جیسا آیا اور دونوں کے سینہ پر ہاتھ مارنے سے تسلی ہو گئی کیا یہ حسن اتفاق ہے؟ یا کوئی اور بات ہے۔ ۱۵۔ مشاہدہ میں آنے والی باتوں میں سے جس بات کی سمجھ نہ آئے اُس کو بغیر سمجھے تسلیم کر لینا اگر ضروری ہے تو اس کا ثبوت کیا ہے؟ حالانکہ قرآنِ کریم کی ہدایت تو یہ ہے کہ ’’اور یہ وہ لوگ ہیں جب ان کو اُن کے رب کی آیتیں یاد دلائی جاتی ہیں تو ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ (۲۵:۷۳) گویا اصل مفہوم کے لحاظ سے اس آیت کا مقصد اللہ کی آیات میں غور و فکر اور اثر پزیری ہے جو تفہیم کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ قارئین کرام کہہ سکتے ہیں کہ میں نے یہ فرضی سوال پیدا کر کے روایات کی تنقیص کی ہے اور خیال نہیں کیا کہ یہ انتخاب امام بخاری جیسے جلیل القدر محدث رحمہ اللہ کا ہے اور سند کے لحاظ سے بالکل صحیح روایات ہیں ان پر اس طرح کے سوال پیدا کرنا کسی مسلمان کا شیوہ نہیں ہو سکتا؟ ہاں! قارئین کرام ایسا کہنے کا حق رکھتے ہیں بلکہ علاوہ ازیں بھی جو کچھ وہ کہنا چاہیں کہیں اور آزادی سے کہیں صرف اتنا خیال کرلیں کہ ان روایات میں جس ذاتِ اقدس کی بات کی جا رہی ہے وہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی ذات گرامی ہے جو ان روایات کے تمام راویان اور امام بخاری رحمہ اللہ سے زیادہ احترام اور تقویٰ کی حامل ہے بلکہ ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے آپؐ کی طرف مشاہدہ میں آنے والی کسی ایسی بات کو منسوب کرنا جس کا کوئی مفہوم و مطلب متعین نہ ہو سکے سراسر زیادتی ہے اس طرح کسی مفہوم کو فرضی طور پر آپؐ کی طرف منسوب کرنا اس زیادتی پر مزید زیادتی ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔ بات یقیناًکچھ ہو گی لیکن راویانِ حدیث اس کو واضح نہیں کر سکے بلکہ ان کے اس طرح کے بیانات نے قرآنِ کریم کو عام لوگوں کی نظروں میں بھی غیر محفوظ ثابت کر دیا ہے اور اہل رشد نے اس کو محفوظ کرنے کے لیے سولہ قرآن الگ الگ طباعت کرنے کے عزم کا اظہار فرمایا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ’’رشد‘‘ کے تمام مضمون نگاروں نے بھی فرضی سوال پیدا کر کے ان کے فرضی جواب دینے کی جو کوشش کی ہے وہ ایک ناکام کوشش ہے جو تمام مضامین میں واضح اور صاف نظر آ رہی ہے ہم نے یہ سوال اس لیے اُٹھائے ہیں کہ فرضی سوال اُٹھا کر فرضی جواب دینے والے ان کے جوابات بھی دیں جو روایات کو دیکھنے سے ہر ذہن میں اُٹھتے ہیں۔ ہم مختلف قراء ت کا انکار نہیں کر رہے قراء ت ایک فن ہے جس کا تعلق محض فن سے ہے اور لحن و لہجہ سے ہے قرآنِ کریم کی عبارات کو بدلنے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے قرآنِ کریم کے الفاظ میں تغیر و تبدل، کمی و بیشی اور غلط ملط کرنے کی کسی انسان کو اجازت نہیں دی جا سکتی خواہ وہ کون ہو، کہاں ہو اور کیسا ہو؟ ہمارا ایمان ہے کہ آپؐ نے بھی کبھی ایسا نہیں کیا اور نہ ایسا کرنے کا حکم دیا۔ بات اور تھی لیکن بد قسمتی سے کچھ اس طرح گڈ مڈ کر دی گئی کہ اس کو خواہ مخواہ ایک چیستاں بنا کر رکھ دیا گیا جس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ قرآنِ کریم کو مختلف قراء حضرات کی طرف منسوب کرنا کہ فلاں نے اس طرح پڑھا اور فلاں نے اس طرح اور ہماری اس سر زمین میں فلاں قاری کی قراء ت پڑھی جاتی ہے اور فلاں فلاں علاقہ اور ملک میں فلاں فلاں قاری کی قراء ت پڑھی جاتی ہے اور یہ تمام قراء تیں آپس میں مختلف ہیں اور سب منزل من اللہ ہیں اس طرح کے بیان کی کوئی حیثیت نہیں قرآنِ کریم اللہ رب کریم کا کلام ہے جو نبی اعظم و آخر ﷺ کے سینہ اقدس میں نازل کیا گیا ہے شفوی اور سمعی طور پر آپؐ کے حکم کے مطابق مختلف کاتبانِ وحی نے تحریر کیا ہے جس کے باعث رسم الخط میں یقیناًفرق پایا جاتا ہے اور یہ ایک فطری چیز ہے لیکن شفوی اور سمعی صورت میں مکمل طور پر یکساں ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے خط کو توقیفی کہا گیا ہے جس میں رد و بدل جائز نہیں۔ ہاں اس کے متن کو اس رسم الخط میں تحریر کرنے کے ساتھ ساتھ شفوی صوت کو محض لوگوں کی تفہیم کے لیے تحریراً پیش کیا جا سکتا ہے تاکہ عام لوگ بھی جو قراء حضرات سے تلقی بالقبول کے طور پر نہیں پڑھ سکتے وہ حروف کی شناخت سے تلفظ کو صحیح طور پر ادا کر سکیں جس طرح اردو خواں لوگوں کے لیے ناچیز بندہ نے قرآنِ کریم کے متن کے نیچے تجوید الحروف کے لحاظ سے صوتِ قرآنی کو درج کیا ہے جس کوملک عزیز میں مختلف ادارے طباعت کرا رہے ہیں اور بیرونِ ملک بھی اردو خواں لوگوں کی سہولت کے لیے طبع کیا جا رہا ہے۔ اور اس طرح اس کے تلفظ کو دوسری زبانوں میں بھی ان کے اپنے حروف ہجا کے ساتھ متن قرآنی کے تحت پیش کیا جا سکتا ہے اس لیے کہ قرآنِ کریم صرف عربی بولنے والوں کے لیے نہیں بلکہ تمام جہانوں کے انسانوں کے لیے یکساں ایک جیسا ہے۔ یہی وہ سہولت ہے جو روایات میں بیان کی گئی ہے۔ گویا ’’سبعہ احرف‘‘ کی تمام قراء ا تیں ہی قرآنِ کریم کے اندر موجود ہیں۔ دنیا میں جتنے حروف ہجا ایجاد کیے گئے ہیں اور مختلف لوگوں کی بول چال میں استعمال ہوتے ہیں جس سے کوئی بھی زبان یعنی بولی معرضِ وجود میں آتی ہے اُس میں ارتقا جاری رہا ہے اس طرح اُس کا رسم املائی بھی ارتقاء حاصل کرتا آیا ہے کر رہا ہے اور کرتا رہے گا لیکن قرآنِ کریم کے رسم الخط کو اس لیے توقیفی کہا گیا ہے کہ وہ رسم ارتقائی صورت کو قبول نہیں کرتا محض اس لیے کہ رسم املائی میں خواہ کتنا بھی ارتقاء ہو شفوی صوت وہی رہے گی وہ بدل نہیں سکتی کیونکہ وہ ’’تلقی بالقبول‘‘ کے تحت آپؐ سے براہ راست حاصل کی گئی ہے اور بدستور اسی طرح آگے چلتی آ رہی ہے کہ اس کی حفاظت کا وعدہ خداوندی ہے جس کے باعث اس میں تغیر و تبدل ممکن نہیں۔ ہاں! کسی علاقہ یا ملک میں بھیجے گئے مصحف اول سے قرآنِ کریم کی طباعت میں قرآنِ کریم کا کوئی لفظ قرآنِ کریم ہی کے کسی دوسرے لفظ کے مطابق بدل گیا ہو اور آگے طباعت اُس طرح ہوتی چلی آ رہی ہو تو یہ دوسری بات ہے کیونکہ قرآنِ کریم میں ہزاروں مقامات پر الفاظ و جملے قرآن کریم کی آیات میں ایکدوسرے کے ساتھ بدل کر آتے ہیں جو ہر صفحہ پر دیکھے جا سکتے ہیں جو حفاظ کے لیے متشابہ کا باعث ہوتے ہیں۔ یہ قرآنِ کریم میں اختلاف نہیں بلکہ ان کا نزول ہی اس طرح ہوا ہے۔ جب تک نزول جاری رہا اس طرح کے متشابہات کا پیدا ہونا ایک فطری امر تھا لیکن قرآنِ کریم کے نزول کی تکمیل کے بعد جب عرضہ آخیرہ میں اس کی تکمیل ہو گئی تو موجودہ ترتیب کے مطابق اگر کسی جملہ یا لفظ پر متشابہ ہوا تو مکمل تحریر نے اُس کو حل کر دیا اور قرآنِ کریم کی ترتیب وتکمیل کے بعد اس طرح کے متشابہات خود بخود ختم ہو گئے اب جو لفظ جس مقام پر آیا وہ اُس مقام پر اس طرح پڑھا جائے گا اگرچہ بدل کر پڑھنے سے بھی وہ قرآن ہی رہے گا کیونکہ قرآنِ کریم کے کسی دوسرے مقام پر موجود ہے جس کی سینکڑوں مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ گذشتہ روایت میں جس سورت کا ذکر کیا گیا ہے یعنی سورہ الفرقان کا اس میں بھی بدستور ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں صرف غور و فکر کی ضرورت ہے جو ہمارے ہاں مفقود ہے۔ 16 /ستمبر 2009ء کو ایک دوست کا فون آیا جس نے ’’رشد‘‘ کے قراء ات نمبر کا ذکر کیا مجھے معلوم نہیں تھا میں نے عدم علم کا ذکر کیا تو اُس نے مجھے کچھ کاغذات بھجوا دیئے جن میں بعض سوال درج تھے بعض میں واویلا تھا کہ ’’رشد‘‘ نے کیا تحریر کر دیا۔ پھر کراچی سے ایک دوست کا فون اوربعد ازیں ایک مضمون دیکھنے کے لیے ملا جس کے باعث ناچیز بندہ کی توجہ اس طرح مبذول ہوئی۔ مختصر یہ کہ میں نے ’’رشد‘‘ کی دوسری جلد منگوائی کہ پہلی ختم ہو چکی تھی جو بعد میں ایک جہانیاں کے دوست نے مجھے روانہ کر دی دونوں جلدوں کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ کام یقیناً ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت ہو رہا ہے کیونکہ اتنا بڑا جو نتیجہ کے لحاظ سے محض فضول کام ہے کوئی بھی خیراتی ادارہ اپنے ذمہ نہیں لے سکتا۔ ایک عرصہ کی بات ہے کہ ایک بزرگ دوست کے ساتھ مل کر کراچی مفتی رشید احمد صاحب کے ہاں جانے کا اتفاق ہوا تووہاں طلباء کو جس حال میں میں نے دیکھا باہر آ کر میں نے اپنے بزرگ دوست سے عرض کیا کہ یہ لوگ جو وہاں بیٹھے تھے طلباء تھے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ ہاں طلباء ہیں۔ میں نے عرض کیا مدرسہ کے طلباء تو معلوم نہیں ہوتے چونکہ آپ فرما رہے ہیں اس لیے مجھے خاموش رہنا ہی بہتر ہے لیکن چند ہی دنوں کے بعد معلوم ہو گیا کہ وہ طلباء نہیں تھے بلکہ طالبان تھے۔ اُس وقت افغانستان میں جہاد جاری تھا اور فلسطین و کشمیر میں بھی زور و شور سے کام ہو رہا تھا کہ ہر زبان پر طالبان، اسلام اور جہاد کا راگ شروع ہو گیا پھر جو کچھ ہوا وہ ہر آنکھ نے دیکھا اور جو کچھ ہو رہا ہے ہر آنکھ دیکھ رہی ہے تاہم ایسا ہونے کی وجوہات کا سب کو علم نہیں بلکہ بہت ہی کم لوگوں کو علم ہے۔ مختلف قراء ات کا معاملہ بھی بارہ تیرہ سو سال سے جاری ہے اور تقریباً ہر دور میں اس کا ذکر ہوتا آیا ہے ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا لیکن مختلف قراء ات کے باعث مستقل بیس قرآنِ کریم کے طبع ہونے کی بات اس نئے اسلامی جہاد کے معاً بعد شروع ہو جانا اور اس پر باقاعدہ کام کا آغاز ہونا کسی مدرسہ کے طلباء کا کام نہیں بلکہ یہ اُس تحریک کا کام ہے جو پوری اسلامی دنیا میں تمام حکمرانوں کے آنکھوں میں نمک چھڑک کر باور کرا رہی ہے کہ تمہاری آنکھوں میں کسی وبائی مرض کا عارضہ ہو رہا ہے جس کا علاج صرف اور صرف اس تحریک کے پاس ہے اور تمام اسلامی ممالک کے حکمران اس تحریک کے شکرگذار ہو رہے ہیں۔ جہاد اسلام کا کام تھا اور قرآنِ کریم اسلام کی تھیوری ہے ظاہر ہے کہ اسلام کا نام جہاں بھی اور جب بھی آئے گا تو علمائے اسلام ہی اس کا بیڑا اُٹھا سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جہاد کا کام بھی علمائے اسلام کے توسط سے شروع ہوا اور اسلامی حکومتیں ان کی نگران تھیں ، ہیں اور رہیں گی بالکل اسی طرح اب قرآنِ کریم کا کام شروع ہوا ہے تو وہ بھی علمائے اسلام ہی کے توسط سے شروع ہونا چاہیے۔ پھر جب جہاد پہلے والا جہاد نہیں رہا بلکہ وہ نئی مختلف اقسام میں تقسیم ہو گیا ہے تو قرآنِ کریم کو بھی پہلے والا قرآن نہیں رہنا چاہیے اُس کا نئی اور مختلف اقسام میں تقسیم ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ جہاد اور قرآن دونوں لازم و ملزوم ہیں جب ایک میں تغیر و تبدل ہوا ہے تو دوسرے میں آخر کیوں نہ ہو۔ آج /10 فروری 2010ء تک ’’رشد‘‘ کی تیسری جلد میں نے نہیں دیکھی وہ طبع ہو کر آ چکی ہے یا نہیں میرے علم میں نہ ہے جب تیسری جلد بھی طبع ہو کر آئے گی تو اُس کا جائزہ لینے کے بعد اس کا جائزہ گذشتہ دونوں جلدوں پر جو کچھ تحریر کیا گیا ہے اُس کے ساتھ ملایا جائے گاپھر ان شاء اللہ اس کی طباعت کا بندوبست بھی ہو گا اس طرح ’’رشد‘‘ پر جو کچھ لکھا گیا ہے ان شاء اللہ کم و بیش دو صد صفحات کی ایک جلد معرض وجود میں آ جائے گی فی الحال ’’سبعہ احرف‘‘ کا یہ ابتدائیہ کتابت کے مراحل سے گذار کر دوستوں کو بھیجا جا رہا ہے جنہوں نے بیسیوں سوالات مجھے بھیجے ہیں ان کے سوالات کے جوابات ان شاء اللہ عنقریب کتاب کے اندر ان کو مل جائیں گے بشرطیکہ اُنہوں نے مطالعہ کیا۔ فقط والسلام عبدالکریم اثری یکم فروری 2010 |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
1424 - اعربوا القرآن والتمسوا غرائبه :: مصحف نبوی ﷺ پر بھی نقطے تھے !!!
3696 - أخبرنا إسحاق بن سعد بن الحسن بن سفيان الشيباني ، ثنا جدي ، ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ، ثنا أبو معاوية ، حدثني عبد الله بن سعيد المقبري ، عن أبيه ، عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : " اعربوا القرآن والتمسوا غرائبه " . " هذا حديث صحيح الإسناد على مذهب جماعة من أئمتنا ولم يخرجاه . متون الحديث المستدرك على الصحيحين أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحاكم النيسابوري دار المعرفة سنة النشر: 1418هـ / 1998م رقم الطبعة: --- عدد الأجزاء: خمسة أجزاء Last edited by rana ammar mazhar; 20-11-11 at 08:43 PM. |
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (20-11-11) |
|
|
#4 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
رانا صاحب سے تو کوئی خاص امید نہیں۔ عام قارئین کے لئے درج بالا فتویٰ کا مکمل جواب مضمون کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
’اہل اشراق‘ کے قراء اتِ قرآنیہ پر حالیہ اِعتراضات مضمون نگار:عمران اسلم٭ ’الاشراق‘ کے اکتوبر ۲۰۰۹ء کے شمارہ میں غامدی صاحب کے خوشہ چیں محمد رفیع مفتی صاحب نے قراء اتِ قرآنیہ سے متعلق فتویٰ دیتے ہوئے اپنی بعض نگارشات کا اِظہار کیا ہے، جس کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں : قراء توں کے رد و قبول کا کوئی منصوص معیار موجود نہیں ہے۔ بعض قراء توں سے معنی ومفہوم میں فرق واقع ہوجاتا ہے، بلکہ بعض جگہ شریعت کا حکم بھی بدل جاتا ہے۔ تمام لوگ قراء تِ عامہ کے مطابق قرآن پڑھتے رہے ہیں اور یہ وہی قراء ت ہے جو عرضۂ اَخیرہ میں پڑھی گئی۔ ان اِعتراضات کی حقیقت کیا ہے، بالترتیب ان کا جائزہ لیتے ہیں ۔ موصوف مفتی صاحب رقمطراز ہیں : قراء توں کے ردّ وقبول کا کوئی منصوص معیار موجود نہیں ہے، بس اہل فن نے مل کر کچھ شرائط طے کر دی ہیں جن پر پورا اترنے والی قراء ت کو قبول کیا جاتا اور باقی کو رد کر دیا جاتا ہے۔ یہ شرائط درج ذیل ہیں : قراء ت مصحف عثمانی کے رسم الخط کے مطابق ہو۔ لغت، محاورے اور قواعد زبان کے خلاف نہ ہو۔ اس کی سند معتبر اور مسلسل واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی ہو۔ سب سے پہلے تو ہم اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ مفتی صاحب نے اپنے پورے فتویٰ میں بارہا لفظ قراء ت کو ’قرأت‘ لکھا ہے، حالانکہ اس سے قبل محترم حافظ زبیر صاحب اپنے مضمون میں غامدی صاحب کی اس غلطی کی جانب توجہ دلا چکے ہیں ۔ طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ جس جگہ پر قراء ت کی جمع ’قراء ات‘ استعمال ہونی چاہیے تھی وہاں بھی ’قرأت‘ ہی سے کام چلایا گیا ہے۔ لیکن ذخیرۂ اَحادیث کے بعد لغت کی کتابوں کو کھنگالنے کے بعد بھی جس طرح ہم غامدی صاحب کے فرمان کہ ’امت میں یہ نقطۂ نظر بھی موجود ہے کہ قرآن کریم کی قراء ت صرف ایک ہے‘ میں حلقۂ اِشراق کے علاوہ کسی دوسرے شخص کا ایسا نقطۂ نظر تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے، یہاں بھی معاملہ کچھ ایسا ہی ہوا۔مفتی صاحب کے لفظ ’قرأت‘ پر اِصرار کی وجہ ہم تو یہی سمجھ پائے ہیں کہ وہ لفظ’ قراء ت‘ کا استعمال کر کے اپنے ’روحانی پیشوا‘ جاوید احمد غامدی صاحب کی شان میں گستاخی نہیں کرنا چاہ رہے تھے، جو اپنی کتاب ’میزان‘ میں اسے ’قرأت‘ درج کر چکے ہیں ، اورسادہ سی بات ہے کہ جب غامدی صاحب کی اندھا دھند تقلید میں اُمت کے معتد بہ طبقے کو صرف ایک ’قراء ت‘ کا قائل قرار دیا جا سکتا ہے تو اس قدر معمولی’ غلطی‘ دہرانے میں کیا مضائقہ ہے۔ جناب مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ قراء توں کے ردّ وقبول کا کوئی منصوص معیار موجود نہیں ہے بس اہلِ فن نے مل کر کچھ شرائط طے کر دی ہیں ۔ اس سلسلے میں ہم عرض کرتے چلیں کہ وہ تمام قراء ات جو ہم تک پہنچی ہیں وہ کسی منصوص معیار کے بجائے اہلِ فن کے مقرر کردہ انہی قواعد کی رو سے پہنچی ہیں ،جن میں غامدی صاحب کی اِختیار کر دہ ’قراء ت حفص‘جو اصل میں روایتِ حفص ہے، بھی شامل ہے۔ اگر روایتِ حفص ان قواعد سے ہٹ کر کسی منصوص معیار کے مطابق اہلِ اشراق تک پہنچی ہے تو ضرور آگاہ کریں تاکہ پوری اُمت اپنے اختیار کردہ مؤقف پر نظر ثانی کر سکے۔ ہم ان قواعد سے متعلق کسی قسم کی بحث سے قبل اس قدر وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ ان قواعد کو مقرر کرنے کی ضرورت کیونکر پیش آئی اور صرف انہی قواعد پر پورا اترنے والی قراء ت ہی کو قبولیت کیوں حاصل ہوئی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں جب مختلف قراء ات سے متعلق فتنہ و فساد رونما ہونے لگا اور ایک دوسرے کی تکفیر کی جانے لگی تو انہوں نے اُمت کو فتنہ اور اِختلاف سے بچانے کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اِجماع سے تمام وہ قراء ات جو عرضۂ اَخیرہ میں منسوخ کر دی گئی تھیں یا وہ تفسیری کلمات جو بعض صحابہ نے اپنے اپنے مصاحف میں بطور حواشی درج کر رکھے تھے،کو ان تمام سے الگ کر دیا۔ پھر یہ مصاحف ماہرینِ قراء ات کی معیت میں مختلف علاقوں میں بھیج دئیے گئے اور باقی تمام مصاحف کو تلف کرنے کا حکم دے کر اس فتنہ کا دروازہ بند کر دیاگیا۔ اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تابعین رحمہم اللہ کا ایک جم غفیر جب ان قراء ات کو سیکھ کر اپنے علاقوں میں پہنچا تو ان سے سیکھنے والے ظاہر ہے کہ عدل وثقاہت اور حفظ واتقان میں ایک جیسے نہیں تھے۔ بعض جو عدالت وحفظ کے اس معیار پر نہ تھے، انہوں نے بعض قراء اتِ شاذہ اور ضعیفہ کو قرآن سے ملانا شروع کر دیا، بعض نے اِجماعِ امت سے ہٹ کر اپنے اپنے معیارات مقرر کر لیے ۔چنانچہ ایک دفعہ پھر امت میں اختلافات کا خطرہ پیدا ہوا تو ائمہ عظام کی جانب سے قرآنِ کریم کو غیرِ قرآن سے الگ کرنے کے لیے گہرے غور وخوض اور دقت نظری کے بعد چنداصولی ضوابط اور معیارات مقرر کر دئیے گئے۔پوری امت انہی اصولوں پر اعتماد کا اظہار کرتی رہی ہے اور انہی کو قراء ات کے رد وقبول کا معیار قرار دیتی رہی ہے۔ امام جزری رحمہ اللہ ان تین شرائط کے متعلق فرماتے ہیں : اقتباس:
اقتباس:
سند متواتر کسی قراء ت کے صحیح ہونے کے لیے اولین معیار یہ ہے کہ شروع سے لے کر آخر تک متواتر ہو۔ جو قراء ت سنداً اس معیار پر پوری نہ اترے اسے قرآن نہیں کہا جا سکتا ، ہمارے ہاں تواتر کا وہی مفہوم درست ہے جو کہ جمہور اہل الحدیث کے ہاں معروف ہے یعنی ’ما أفاد القطع فہو متواتر‘ (اس ضمن میں تفصیلی بحث کے لیے رشد قراءات نمبر حصہ اول میں مضمون ’تواتر کا مفہوم اور ثبوت قراء ات کا ضابطہ‘ کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے نیز اس شمارہ میں مکتوب بنام حافظ عبدالمنان نور پوری حفظہ اللہ میں بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔) مصحف عثمانی کے رسم کی موافقت وہ مصاحفِ عثمانیہ میں سے کسی ایک کے رسم کے موافق ہو۔ یہ موافقت حقیقی بھی ہوسکتی ہے اور تقدیری بھی۔ مصحفِ عثمانی کے رسم کی اس قدر اہمیت کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مہاجرین وانصار کے مشورہ سے جب تمام اُمت کو ایک رسم پر جمع کرنے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے سب سے پہلے اس بات کو ملحوظ رکھا کہ مصاحف کا رسم ان تمام حروف پر مشتمل ہو جو عرضۂ اَخیرہ کے وقت باقی رکھے گئے تھے۔ اس کو ایک مثال سے یوں سمجھئے کہ سورۃ فاتحہ کی آیت { مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ }[الفاتحۃ:۳] میں [مٰلِکِ] کو[مَلِکِ ]اور [مٰلِکِ ]دونوں طرح پڑھا جا سکتا ہے اور یہ دونوں قراء ات ، متواترہ ہیں ، روایتِ حفص میں اسے [مٰلِکِ] میم پر کھڑا زبر اور روایت ورش میں [مَلِکِ] میم پر زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔ لیکن جس مقام میں اختلاف قراء ت کے متعلق متواتر سند نہ ہو وہاں رسم الخط میں گنجائش کے باوجود دوسری قراء ت پڑھنا ناجائز اور حرام ہے مثلاً سورۃ الناس کی دوسری آیت رسم عثمانی کے مطابق اس طرح ہے، {مَلِکِ النَّاسِ} [الناس:۲] اس مقام پر تمام قراء مَلِکِ النَّاسِ ہی پڑھتے ہیں اسے کوئی بھی مٰلِکِ النَّاسِ نہیں پڑھتا، کیونکہ یہاں اختلافِ قراء ت منقول نہیں ہے۔ ابوبکر الانباری فرماتے ہیں : اجتمع القراء علی ترک کل قراء ۃ مخالف المصحف۔ [البحر المحیط:۷؍۶۰] اقتباس:
اس شرط کو دوسری دونوں شروط کا لوازمہ قرار دیا جا سکتا ہے اور اس کا مقصود یہ ہے کہ ہر وہ قراء ت جو متواتر سند کے ساتھ منقول ہو مصحف عثمانی کے خط کے بھی موافق ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ لغتِ عرب میں بھی اس کی کوئی وجہ موجود ہو، اگرچہ وہ زیادہ معروف نہ بھی ہو۔ جاری ہے۔۔۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65] |
|||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (21-11-11), کنعان (20-11-11) |
|
|
#5 | ||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یاد رہے کہ قرآن کریم کی ایسی کسی قراء ت کا وجود نہیں ہے جو متواتر ہو اور رسم عثمانی کے بھی موافق ہو لیکن لغت عرب میں اس کی کوئی وجہ موجود نہ ہو۔ اور اگر فرض کر بھی لیا جائے کہ ایک ایسی ثابت شدہ متواتر قراء ت جس میں بقیہ دونوں شروط تو پائی جا رہی ہیں لیکن لغت عرب میں اس کی کوئی وجہ نہ مل رہی ہو تو یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ پوری لغت عرب میں اس کا وجود نہیں ہے، یہ بات قطعی ہے کہ ہر وہ قراء ت جو تواتر کے ساتھ منقول ہو اور مصحف عثمانی کے موافق ہو وہ نازل کردہ قرآن ہے۔ یہ ایک ایسی قطعی دلیل ہے جو وجود لغت کا پتہ دے رہی ہے اور جس کے ثبوت میں کوئی بحث نہیں ہے۔
ابو عمرو دانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اقتباس:
مفتی صاحب مزیدلکھتے ہیں : ’’مختلف قراء توں کے اس تصور کو قبول کرنے کے بعد یہ خیال غلط قرار پاتا ہے کہ خدا کی طرف سے نازل ہونے والے قرآن کے الفاظ میں ایک زیر، زبر اور ایک شوشے کا بھی فرق نہیں ہے اور مزید یہ کہ بعض قراء توں میں معنی و مفہوم میں بھی فرق واقع ہوجاتا ہے، بلکہ بعض جگہ شریعت کا حکم بھی بدل جاتا ہے۔‘‘ جناب مفتی صاحب نے بڑی شدو مد کے ساتھ یہ تو دعویٰ کردیا ہے کہ قراء ات کے بدلنے سے معنی ومفہوم اور شریعت کا حکم بدل جاتا ہے لیکن اس کے لیے کسی ایک بھی قراء ت کو بطور دلیل نقل کرنا گوارا نہیں کیا۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ کسی بھی ایسی متواتر، حتیٰ کہ شاذ قراء ت کا بھی وجود نہیں ہے جس سے شریعت کا حکم بدل جاتا ہو۔ امت کے ہر دور میں اَحکام فقہ اور قواعد نحو میں مختلف قراء اتِ قرآنیہ سے بھرپور مدد لی گئی ہے، قرآن کریم کی تفسیر کے سلسلہ میں تو قرائات کو ایک اَہم ماخذ کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اور اس بات پر اِجماع نقل کیا گیا ہے کہ ہر ایک قراء ت کو مستقل آیت شمار کیا جائے گا اور اگر ان کے مابین تعارض ہوتا ہے تو ان کا تعارض بالکل اسی طرح حل کیا جا ئے گا جیسا کہ دو آیات کا کیا جاتا ہے۔ اَحکام القرآن للجصاص میں ہے: وہاتان القرائتان قد نزل بہما القرآن جمیعا ونقلتہما الأمۃ تلقیا من رسول اﷲ ﷺ۔ ’’یہ دونوں قراء تیں ایسی ہیں کہ قرآن ان دونوں کے ساتھ نازل ہوا ہے اور امت نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا ہے۔‘‘ [احکام القرآن للجصّاص:۲؍۳۲۵] علامہ قنوجی لکھتے ہیں : وقد تقرّر أن القرائتین بمنزلۃ الآیتین فکما أنہ یجب الجمع بین الآیتین المشتملۃ إحداہما علی زیادۃ بالعمل بتلک الزیادۃ، کذلک یجب الجمع بین القرائتین۔ [نیل المرام:۳۵] اقتباس:
وتعارض القرائتین بمنزلۃ تعارض الآیتین۔ [الإتقان:۲؍۳۰] اقتباس:
ومن القواعد الأصولیۃ عند الطائفتین أن القرائتین المتواترتین إذا تعارضتا في آیۃ واحدۃ فلہما حکم آیتین۔[۶؍۶۶] اقتباس:
تمام قراء ات اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہیں ۔ قراء ات کا تعدد تحریف وتغییر کا نتیجہ ہے اور نہ ہی ان سے معانی میں التباس ،تناقض یا تضاد پیدا ہوتا ہے۔ بلکہ بعض قراء ات بعض قراء ات کے معانی کی تصدیق کرتی ہیں ۔ بعض قراء ات سے متنوع معانی سامنے آتے ہیں ۔ جن میں سے ہر ایک معنی مقاصد شریعت اور بندوں کی مصلحتوں میں سے کسی مصلحت کو محقق کرنے والے حکم پر دلالت کرتا ہے۔ ایسی قراء ات میں سے ایک ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: { وَکُلَّ اِنْسٰنٍ أَلْزَمْنٰہُ طٰٓپرَہُ فِیْ عُنِقِہٖ۱ وَنُخْرِجُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ کِتٰباً یَّلْقٰہُ مَنْشُوْرًا } [الاسرائ:۱۳] اس آیت مبارکہ میں لفظ یَلْقٰہُ‘ میں دو قراء ات ہیں ۔ ’یَلْقٰہُ‘ (بفتح الیاء والقاف مخففۃ)اس قراء ت کی صورت میں اس آیتِ مبارکہ کا معنی ہوگا کہ ہم روزِ قیامت انسان کے لئے ایک کتاب نکالیں گے جو اس کے اعمال کا صحیفہ ہوگا اور وہ آدمی اس صحیفے کے پاس اس حال میں پہنچے گا کہ وہ مفتوح (کھلا ہوا) ہو گا۔ اگر وہ شخص جنتی ہو گا تو اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑے گا اور اگر جہنمی ہوگا تو اسے اپنے بائیں ہاتھ سے پکڑے گا۔ ’یُلَقّٰہُ‘ (بضم الیاء وتشدید القاف) اس قراء ات کی صورت میں اس آیت مبارکہ کا معنی ہوگا کہ ہم روزِ قیامت انسان کے لئے ایک کتاب نکالیں گے جو اس کے اعمال کا صحیفہ ہوگا اوروہ کتاب انسان کو اس حال میں دی جائے گی کہ وہ مفتوح (کھلی ہوئی) ہوگی۔ مذکورہ دونوں قراء ات کے معانی معمولی سے فرق سے واضح ہوتا ہے کہ بالآخر دونوں کا ایک ہی معنی ہے، کیونکہ کتاب کے پاس جانا یا کتاب کادیا جانا ایک ہی شے ہے۔ اور دونوں صورتوں میں ہی وہ کتاب مفتوح (کھلی ہوئی) ہوگی۔ |
||||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (21-11-11), کنعان (20-11-11) |
|
|
#6 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
{فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ۔ فَزَادَہُمُ اﷲُ مَرَضاً ۵ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ۔ بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ } [ البقرۃ:۱۰] اس آیتِ مبارکہ میں لفظ’ یَکْذِبُوْنَ‘ میں دو قراء اتیں ہیں ۔ ’ یَکْذِبُوْنَ‘ (بفتح الیاء وسکون الکاف وکسر الذال) اس قراء ات کی صورت میں اس کا معنی ہو گا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور مومنوں کی طرف سے جھوٹی خبریں دیتے ہیں ۔ ’یُکَذِّبُوْنَ‘بضم الیاء وفتح الکاف وتشدید الذال المکسورۃ) اس قراء ات کی صورت میں اس کا معنی ہوگا کہ وہ رسولوں اور ان کی لائی ہوئی شریعت کو جھٹلاتے ہیں ۔ مذکورہ دونوں قراء ات کے معنی میں نہ تو تناقض ہے اور نہ ہی تضاد ہے بلکہ دونوں قراء ات میں سے ہر ایک نے منافقین کے اَوصاف میں سے ایک ایک وصف بیان کیا ہے۔ پہلا وصف: وہ اللہ تعالی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کی خبروں میں جھوٹ بولتے ہیں ۔ دوسرا وصف: وہ اللہ تعالی کی طرف سے رسولوں کی دی گئی شریعت کو جھٹلاتے ہیں ۔ اورمنافقین کے بارے میں یہ دونوں صفات ہی برحق ہیں ۔ کیونکہ انہوں نے ان دونوں صفات(کذب اور تکذیب) کو ہی اپنے اَندر جمع کر لیا تھا۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ تعددِ قراء ات اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی حکمت کی بناء پر ہے۔ تحریف وتغیر کا نتیجہ نہیں ہے۔ اور نہ ہی قراء ات سے معانی میں التباس، تناقض یا تضاد پیدا ہوتا ہے ، بلکہ بعض قراء ات بعض قراء ات کی تصدیق کرتی ہیں ۔ مفتی صاحب کا یہ بھی کہنا ہے کہ تمام لوگ قراء تِ عامہ کے مطابق قرآن پڑھتے رہے ہیں اور یہ وہی قراء ت ہے جو عرضۂ اَخیرہ میں پڑھی گئی۔ اور زرکشی رحمہ اللہ کے حوالے سے ابو عبدالرحمن السلمی کا یہ قول بھی نقل کیا ہے : ’’ابو بکر وعمر، عثمان، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور تمام مہاجرین وانصار کی قراء ت ایک ہی تھی۔ وہ قراء تِ عامہ کے مطابق قرآن پڑھتے تھے۔ یہ وہی قراء ت ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے سال جبریلِ اَمین علیہ السلام کو دو مرتبہ قرآن سنایا۔ عرضۂ اَخیرہ کی اس قراء ت میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ دنیا سے رخصت ہونے تک وہ لوگوں کو اسی کے مطابق قرآن پڑھاتے تھے۔‘‘ [الاتقان فی علوم القرآن:۱؍۳۳۱] حلقۂ اِشراق کی طرف سے پیش کی جانے والی قراء تِ عامہ کی دلیل اور زرکشی رحمہ اللہ کے حوالے سے ابو عبدالرحمن السلمی کے قول کی حقیقت تو حافظ زبیر صاحب اپنے مضمون’قراء تِ متواترہ … غامدی مؤقف کا تجزیہ‘ میں واضح کر چکے ہیں ۔ ہم ’شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات‘ کے مصداق مکرر عرض کیے دیتے ہیں ۔ غامدی صاحب قرآن کو ثابت کرنے چلے ہیں اور اس کے ثبوت کی دلیل کے طور پر اُن کے پاس اگر کچھ ہے تو وہ ایک تابعی کاقول ہے کہ جس کی کوئی سند بھی موجود نہیں ہے۔امام زرکشی رحمہ اللہ نے ’البرھان‘ میں اس قول کی کوئی سند بیان نہیں فرمائی ہے۔اگر توایک تابعی کایہ قول ایک سے زائد قراءات کے اِنکار پر مبنی ہے جیسا کہ غامدی صاحب کا گمان ہے تو تابعی کے ایک ایسے قول کو، کہ جس کی سند بھی موجود نہ ہو، صحاح ستہ کی قراء ا ت متواترہ کے ثبوت میں موجود صحیح، مستند ، مرفوع اور اُمت میں معروف و مقبول روایات پر ترجیح دینا، ہماری سمجھ سے بالاتر ہے ۔ امام قراء ت، امام اَبو عبد الرحمن سلمی رحمہ اللہ کی طرف اس قول کی نسبت کو درست تسلیم کر بھی لیا جائے توپھر بھی اس کا معنی و مفہوم وہ نہیں ہے جو کہ غامدی صاحب سمجھ رہے ہیں ۔امام زرکشی رحمہ اللہ نے جب اس قول کو اپنی کتاب البرھان میں بیان کیا ہے تو انہیں تو وہ بات سمجھ میں نہ آئی جو کہ غامدی صاحب اِس قول سے نکال رہے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بعض روایات میں ’قرا ء تِ عامہ‘ کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ ہیں : عن عبد اﷲ بن مسعود أن رسول اﷲ ﷺ قرأ { فَھَلْ مِن مُّدَّکِرٍ } [القمر:۱۷] مثل القراء ۃ العامۃ۔ [ صحیح البخاري، کتاب الأنبیاء، حدیث: ۳۳۴۱] اقتباس:
قرائۃ العامۃ أي القرائۃ المشھورۃ التي یقرأ بھا عامۃ القراء الذین رووا القرائات المتواترۃ۔[صحیح البخاري: ۳؍۱۲۱۶، دار ابن کثیر الیمامۃ، بیروت ] اقتباس:
اِمام بخاری رحمہ اللہ نے { فَھَلْ مِن مُّدَّکِرٍ } کی قراء ت کو واضح کرنے کے لیے کتاب التفسیرمیں چار اَبواب باندھے ہیں ، جن میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی چھ اَحادیث بیان کی ہیں ، انہی میں سے ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ آپ سے یہ سوال بھی ہوا تھا کہ اس لفظ کو مذکر پڑھنا چاہیے یا مدکر؟ پس اہل سنت کے نزدیک ’قراء تِ عامہ‘ سے مراد وہ قراء ت ہے‘ جو قراء ت شاذہ نہیں ہے یعنی قراء اتِ متواترہ۔ ’قراء اتِ شاذہ کے بالمقابل ’قراء تِ عامہ‘ ایک ہی ہے لیکن اپنی اَصل کے اعتبار سے یہ کئی ایک روایات پر مبنی ہے۔ علاوہ اَزیں امام ابو عبد الرحمن سلمی رضی اللہ عنہ سے صحیح اور متصل سند کے ساتھ مروی ہے کہ انہوں نے امام عاصم رحمہ اللہ کو جو قراء ت پڑھائی تھی وہ دو روایتوں ، روایتِ حفص اور روایتِ شعبہ پر مشتمل تھی۔جبکہ غامدی صاحب کی قراء تِ عامہ صرف روایت حفص کو شامل ہے۔پس اِمام ابوعبد الرحمن السلمی سے صحیح اور متصل سند کے ساتھ روایت شعبہ کا ثبوت اس بات کی دلیل کے طور پر کافی ہے کہ امام صاحب کی قراء تِ عامہ صرف روایتِ حفص پر مشتمل نہ تھی۔اس رسالہ کے بعض دوسرے مضامین میں ان اَسناد کے بارے میں تفصیلاً بحث موجود ہے۔ [رشدقراء ات نمبر:۱؍۵۱۱] ضرورت تو اس بات کی تھی کہ اپنے مؤقف کے اِثبات کے لیے حافظ صاحب کے مضمون کا علمی طور پر محاکمہ پیش کیا جاتا اور اس کا کافی وشافی جواب دیا جاتا، لیکن چونکہ حلقۂ اشراق روز اول سے اپنے مؤقف کے خلاف محکم براہین کے ہوتے ہوئے بھی ’میں نہ مانوں ‘ کی پالیسی پر بڑی جرأت کے ساتھ کاربند رہا ہے لہٰذا یہاں بھی اپنے اُصول کی خلاف ورزی کو مناسب خیال نہیں کیا۔ بہرحال ہم علامہ زرکشی رحمہ اللہ کے حوالے سے مزید چند ایک گزارشات پیش کرتے ہیں ۔ اولاً:یہ کہ اِمام زرکشی رحمہ اللہ نے ابو عبدالرحمن السلمی کا مذکورہ قول جمع قرآن کی بحث میں ذکر کیا ہے جس سے ان کا مقصود ترتیبِ سور اور آیات کے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یکساں عمل نقل کرنا ہے نہ کہ قرآن کی قراء ات کے متعلق بحث کرنا کہ قراء تِ عامہ سے مراد صرف روایتِ حفص ہے۔ ثانیا: یہ کہ غامدی صاحب کے اِس قول سے استدلال کے مطابق تو تمام مہاجرین وانصار کی ایک ہی قراء ت یعنی روایتِ حفص ہونی چاہیے تھی اور اگر فی الواقع ایسا ہی ہے تو پھر لوگوں میں قراء ت کے حوالے سے اختلاف ہی کیوں رونما ہوا تھا ایک شخص قراء ت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ترجیح دے رہا تھا تو دوسرا قراء ت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو، حالانکہ آپ کے بقول تو ان سب کی قراء ت ایک تھی۔اس سلسلے میں علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : إن حذیفۃ قدم من غزوۃ فلم یدخل في بیتہ حتی أتی عثمان فقال: یا أمیر المؤمنین! أدرک الناس۔ قال: وما ذاک؟ قال: غزوت أرمینیۃ فإذا أہل الشام یقرئون بقرائۃ أبي بن کعب فیأتون بما لم یسمع أہل العراق وإذا أہل العراق یقرئون بقرائۃ عبداﷲ بن مسعود فیأتون بما لم یسمع أہل الشام فیکفر بعضہم بعضاً۔ ’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی ایک غزوہ سے واپسی ہوئی تو وہ واپسی پر وہ اپنے گھر میں داخل نہیں ہوئے تاآنکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو ئے ،اور عرض کیا: اے امیر المؤمنین ! لوگوں کی خبر لیجئے۔ انہوں نے پوچھا کیا بات ہے؟ کہا میں لڑ ائی کے سلسلے میں آرمینیا گیا ہوا تھا وہاں پہنچا تومعلوم ہوا کہ اہل شام اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قراء ت پڑھتے ہیں جسے اہلِ عراق نے نہیں سنا ہوا تھا اور اہلِ عراق عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراء ت میں پڑھتے ہیں جسے اہل شام نے نہیں سنا اس اِختلاف کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو کافر قرار دے رہے ہیں ۔‘‘[عمدۃ القاری: ۱۶] حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی شاید خود اس خطرے سے آگاہ تھے۔انہیں اس بات کی اِطلاع ملی تھی کہ خود مدینہ طیبہ کے اَندر ایسے واقعات پیش آئے کہ جب مختلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے شاگرد اکٹھے ہوئے تو اِختلاف کی سی ایک کیفیت پیدا ہو رہی تھی۔ [ الاتقان فی علوم القرآن:۱؍۶۱] اِس سے ثابت ہوتاہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین قراء ات کے اختلافات موجود تھے اور انہوں نے اپنے اپنے اختیارات اپنا رکھے تھے اور قراء تِ عامہ صرف روایتِ حفص کو ہی نہیں بلکہ دیگر متواترقراء ات کو بھی شامل تھی۔ اس سلسلہ میں ہم علامہ زرکشی رحمہ اللہ کے ان اَقوال کو پیش کرتے ہیں جو متعدد قراء ات قرآنیہ سے متعلق ان کا مؤقف واضح کرنے اور ناقابل تردید دلائل کے ساتھ پنجہ آزمائی کر کے ثابت شدہ قراء ات کا اِنکار کرنے والوں کے لیے کافی ہوں گے۔ امام صاحب فرماتے ہیں : إن القراء ات توقیفیۃ ولیست اختیاریۃ۔ ’’قراء ات توقیفی ہیں نہ کہ کسی کی اپنی اختیار کردہ ہیں ۔‘‘ مزید فرماتے ہیں : وقد انعقد الإجماع علی صحۃ قرائۃ ہؤلاء الأئمۃ وأنہا سنۃ متبعۃ لا مجال للإجتہاد فیہا۔ [البرہان فی علوم القرآن: ۱؍۳۲۲] ’’قراء عشرہ کی قراء ت کی حجیت پر اِجماع منعقد ہو چکا ہے، یہ قراء ت، سنت متبعہ (یعنی توقیفی) ہیں اور ان میں اجتہاد کی گنجائش موجود ہے۔‘‘ قاضی ابوبکر رحمہ اللہ کے حوالہ سے ذکر کرتے ہیں کہ صحیح بات یہ ہے: أن ہذہ الأحرف السبعۃ ظہرت واستفاضت عن رسول اﷲ ﷺ وضبطہا عنہ الأئمۃ وأثبتہا عثمان والصحابۃ في المصحف۔ [البرہان فی فی علوم القرآن:۱؍۲۲۳] ’’یہ سبعہ حروف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑے مشہور و معروف ہیں ۔ ائمہ نے سبعہ حروف کو ضبط کیا ہے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی انہیں مصاحف میں ثابت رکھا۔‘‘ ایک جگہ پر اَحرف سبعہ سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار یوں فرماتے ہیں : ’’سبعہ اَحرف پر انزال قرآن کی اجل حکمت اور اہم غرض یہ ہے کہ تلاوتِ قرآن کی بابت عرب پر تیسیر وآسانی پیدا کر دی جائے۔ اَحرف سبعہ پر انزالِ قرآن منجانب اللہ امت محمدیہ پر توسع ورحمت اور تخفیف وتیسیر کا معاملہ ہے، کیونکہ اگرعرب کا ہر قبیلہ فتح وامالہ، تحقیق وتخفیف، مد و قصر وغیرہ کے متلق اپنی عادی وطبعی لغت کو چھوڑ کر چار و ناچار دوسرے قبیلہ کے لغت کے موافق پڑھنے کا مکلف قرار دیا جاتا تو اس میں بہت تنگی ومشقت لازم آتی۔‘‘ [البرہان فی علوم القرآن:۱؍۲۷۷] لہٰذا اِمام زرکشی رحمہ اللہ کا کہنا کہ’تمام مہاجرین وانصار قراء تِ عامہ کے مطابق قرآن پڑھتے تھے‘ اس میں صرف روایتِ حفص داخل نہیں تھی بلکہ قراء تِ عامہ تمام متواتر قراء ات کو شامل تھی اور اسی کے مطابق صحابہ وتابعین اور مابعد اَدوار کے تمام لوگ متنوع قراء اتِ قرآنیہ کو سیکھتے اور سکھاتے چلے آرہے ہیں ۔ اس تمام تر وضاحت کے بعد ہم اس قدر ہی کہہ سکتے ہیں خدا تعالیٰ مفتی موصوف اور ان کے کارپردازان کو نفس مسئلہ سمجھنے کی توفیق دے اور حقائق کے ادراک کے بعد کھلے دل سے تسلیم کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین ٭_____٭_____٭ |
||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (21-11-11), احمد نذیر (21-11-11) |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
قرآن کریم پر پہلا حملہ :: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں جب مختلف قراءات سے متعلق فتنہ و فساد رونما ہونے لگا اور ایک دوسرے کی تکفیر کی جانے لگی تو انہوں نے اُمت کو فتنہ اور اِختلاف سے بچانے کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اِجماع سے تمام وہ قراءات جو عرضۂ اَخیرہ میں منسوخ کر دی گئی تھیں یا وہ تفسیری کلمات جو بعض صحابہ نے اپنے اپنے مصاحف میں بطور حواشی درج کر رکھے تھے،کو ان تمام سے الگ کر دیا۔ پھر یہ مصاحف ماہرینِ قراء ات کی معیت میں مختلف علاقوں میں بھیج دئیے گئے اور باقی تمام مصاحف کو تلف کرنے کا حکم دے کر اس فتنہ کا دروازہ بند کر دیاگیا۔ قرآن کریم پر دوسرا حملہ :: اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تابعین رحمہم اللہ کا ایک جم غفیر جب ان قراء ات کو سیکھ کر اپنے علاقوں میں پہنچا تو ان سے سیکھنے والے ظاہر ہے کہ عدل وثقاہت اور حفظ واتقان میں ایک جیسے نہیں تھے۔ بعض جو عدالت وحفظ کے اس معیار پر نہ تھے، انہوں نے بعض قراء اتِ شاذہ اور ضعیفہ کو قرآن سے ملانا شروع کر دیا، بعض نے اِجماعِ امت سے ہٹ کر اپنے اپنے معیارات مقرر کر لیے ۔چنانچہ ایک دفعہ پھر امت میں اختلافات کا خطرہ پیدا ہوا تو ائمہ عظام کی جانب سے قرآنِ کریم کو غیرِ قرآن سے الگ کرنے کے لیے گہرے غور وخوض اور دقت نظری کے بعد چنداصولی ضوابط اور معیارات مقرر کر دئیے گئے۔پوری امت انہی اصولوں پر اعتماد کا اظہار کرتی رہی ہے اور انہی کو قراء ات کے رد وقبول کا معیار قرار دیتی رہی ہے۔ مصحفِ عثمانی کے رسم کی اس قدر اہمیت کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مہاجرین وانصار کے مشورہ سے جب تمام اُمت کو ایک رسم پر جمع کرنے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے سب سے پہلے اس بات کو ملحوظ رکھا کہ مصاحف کا رسم ان تمام حروف پر مشتمل ہو جو عرضۂ اَخیرہ کے وقت باقی رکھے گئے تھے۔ قرآن کریم پر تیسرا حملہ :: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اِجماع سے تمام وہ قراءات جو عرضۂ اَخیرہ میں منسوخ کر دی گئی تھیں ان کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش !!! ’’اہل رشد‘‘ نے وہ کرنے کا عزم کیا جو ’’رشدی‘‘ نہ کر سکا اس لیے جامعہ لاہور الاسلامیہ جن کو ’’اہل رشد‘‘ کے بہترین نام سے ہم موسوم کر رہے ہیں ان کو معروف و مشہور ’’رشدی‘‘ کا کرادار ادا نہیں کرنا چاہیے اور اپنی متداول قراء توں کو کتابوں سے اخذ کر کے ایک بنا دیں اور علمائے کرام کی قرآنِ کریم کے مفہوم کو تفہیم کرانے کی جو کوشش انہوں نے اپنے اپنے طور پر کی ہے ان کے ناموں کے ساتھ طبع کرا کر اہل علم کے لیے آسانی پیدا کر دیں تاکہ اتنی اتنی بڑی کتابوں کے مطالعہ کی بجائے وہ آپ لوگوں کی مساعی کا شکریہ ادا کریں۔ قرآنِ کریم جب بحمداللہ ایک ہے اور اس کو ایک ہی رہنا ہے تو اس کو دس، سولہ یا بیس بنانے کی ناکام کوشش کر کے مفت میں بدنامی حاصل کرنے کی بجائے ایسا کام کریں کہ آپ کو نیک نامی نصیب ہو اور یہ تب ہی ممکن ہے جب حسنات کے ذریعے سیئات کو بدلنے کی کوشش کریں، اللہ کرے بات آپ کی یعنی اہل رشد کی سمجھ میں آ جائے۔ ’’اہل رشد‘‘ سے بے نام درخواست اہل رشد کے سامنے ہماری دوبارہ درخواست ہے کہ وہ محض ’’سبعہ احرف‘‘ کے مفہوم کو غلط طریقہ سے تفہیم کر لینے کے باعث مختلف قرآن طبع کر کے قومِ مسلم کے لیے فتنہ کاباعث نہ بنیں اس لیے کہ اس طرح قرآنِ کریم کو تو ایک سے زیادہ باور نہیں کرایا جا سکے گا کیونکہ قوم کے بے شمار لوگوں کے سینہ میں محفوظ ہے اور جس طرح وہ محفوظ ہے بالکل اسی طرح ا س کو محفوظ رہناہے کہ یہ وعدۂ الٰہی ہے اور اس کو آپ کے سینہ اقدس پر ایک دیانتدار فرشتہ نے اُتارا ہے ’’اہل رشد‘‘ جیسی کسی تحریک نے نہیں جس سے آپؐ نے لوگوں کو ڈرایا ہے اور بعض لوگوں کو خوشخبریاں سنائی ہیں اور پندرہ سو سال ہوئے یہ قرآنِ کریم ہی لوگوں کے لیے کفایت کرتا آ رہا ہے اس کے اپنے بیان کے مطابق کوئی ایسی ہدایت نہیں جو اس میں بیان نہ کر دی گئی ہو اور کوئی ایسا ڈراوا نہیں جو اس میں موجود نہ ہو۔ عبدالکریم اثری |
|
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (21-11-11) |
|
|
#8 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
دوسری بات یہ ہے رانا صاحب، کہ آپ کی وساطت سے عبدالکریم اثری صاحب تک ایک پیغام بھیجنا ہے۔ اور پیغام یہ ہے کہ: اقتباس:
اس کے باوجود ضد، عناد اور تعصب میں یہ کہے جانا کہ رشد والے ایک کے بیس قرآن بنا رہے ہیں، آخرت میں جوابدہی کے احساس سے یکسر بیگانہ ہونا نہیں؟ کیا اس گراؤنڈ ریلیٹی کو تسلیم کرنے کے لئے کچھ بہت زیادہ عقل و فہم کی ضرورت ہے کہ دنیا بھر میں صرف مجمع الملک فھد ہی کروڑوں کی تعداد میں کم سے کم چار روایات پر مبنی مصاحف تقسیم کر رہا ہے؟ یہ سعودی حکومت کی وزارۃ الشون الاوقاف الاسلامیہ کی زیر نگرانی چلنے والا ادارہ ہے اور یہاں سے شائع ہونے والے مصاحف سعودی و مصری قرائے کرام کی جماعت سے مراجعت کے بعد ہی شائع ہوتے ہیں۔ کم سے کم اس ثابت شدہ حقیقت کو تو تسلیم کریں اور پھر کوئی اعتراض کریں تو بجا۔ لیکن آپ اب بھی اسی بات کا راگ جاری رکھے ہوئے ہیں کہ دنیا بھر میں ایک ہی متن قرآن رائج ہے۔ میں نے جو دوسرے دھاگے میں مختلف قراءات پر مبنی مصاحف اور آڈیو ویڈیو قراءات کے ثبوت پیش کئے تھے ، وہ دوبارہ پیش خدمت ہیں۔ ازراہ کرم یا تو ان ثبوتوں کو جھٹلائیں۔ یا ان کی تصدیق کریں اور پھر بات آگے بڑھائیں۔ اقتباس:
|
|||
|
|
|
| شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (21-11-11) |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کہوں گا !!! پاکستان میں موجود قرآن میں کون سی قراءت ہے اور دوسری قراءت کس ملک کے قرآن میں ہے ؟؟؟ کروڑوں مسلمان انہی اختلاف قراءات پر مبنی مصاحف کو قرآن سمجھ کر پڑھ رہے ہیں۔ کون سے ملک میں دوسرے "اختلاف قراءات پر مبنی مصاحف" والا قرآن پڑھا جا رہا ہے ؟؟؟ سكين كر كے آپ صفحات پيش كر ديں گے ؟؟؟ لہٰذا ہمارے سوال کا جواب دیجئے کہ امت مسلمہ اگر کسی غیر قرآن کو قرآن سمجھ کر پڑھ رہی ہے (نعوذباللہ) تو آپ اپنی اس بات سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہیں "اختلاف قراءات پر مبنی مصاحف" والا قرآن کہاں پڑھا جا رہا ہے جسے آپ کے خیال میں میں "غیر قرآن" کہہ رہا ہوں ؟؟؟ گوگل کے اس دور میں رانا صاحب یا دیگر منکرین قراءات کے لئے یہ کچھ مشکل ہے کہ سرچ کر کے دیکھ لیں کہ آیا واقعی دنیا بھر میں ایک ہی روایت پر مبنی قرآن کو قرآن سمجھا جاتا ہے یا نہیں ؟؎ انکار کی کیا بات ہے میں نے خود اپ لوڈ کی ہیں ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() اٹھو قرآن کا دفاع کرو !!! اختلاف قرأت کی بنا پر قرآن کے الگ الگ نسخے چھاپنے کا حکم kitabosunnat.com دار الافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی Quran Khallad Qirat Multi Readings Equivalent to Distorting the Quran تعدد قرا ئت مترادف تحریف قرآن Quran Ibn Zakwan Multi Readings Equivalent to Distorting the Quran تعدد قرا ئت مترادف تحریف قرآن Quran Dori Qirat Multi Readings Equivalent to Distorting the Quran تعدد قرا ئت مترادف تحریف قرآن Quran Dori2 Multi Readings Equivalent to Distorting the Quran تعدد قرا ئت مترادف تحریف قرآن |
|
|
|
|
|
|
#10 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے الگ الگ علاقوں میں الگ الگ قراءت والا قرآن ارسال کیا یا ایک جیسا ارسال کیا یا ایک ایک علاقہ میں الگ الگ ۷ ، ۷ ارسال کیے ؟؟؟ اقتباس:
یہ وہی قراءت ہے جو عرضۂ اَخیرہ میں پڑھی گئی۔ واحد یہ ایک میں سات تھیں یا ایک تھی ؟؟؟ جیسا کہ تین میں ایک، ایک میں تین ؟؟؟ ابو بکر وعمر، عثمان، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور تمام مہاجرین وانصار کی قراء ت ایک ہی تھی۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ قراء اتِ عشرہ متواترہ کے دس اَئمہ نے بھی اسے مُدَّکِرٍ ہی پڑھا ہے۔ لیکن اور جگہ اختلاف گھڑ لیا !!! ’قراء تِ عامہ‘ ایک ہی ہے لیکن اپنی اَصل کے اعتبار سے یہ کئی ایک روایات پر مبنی ہے۔ جیسا کہ تین میں ایک، ایک میں تین ؟؟؟ اور جگہ جگہ اختلاف گھڑ لیا !!! ثانیا: یہ کہ غامدی صاحب کے اِس قول سے استدلال کے مطابق تو تمام مہاجرین وانصار کی ایک ہی قراء ت (یعنی روایتِ حفص) ہونی چاہیے تھی !!! ابو بکر وعمر، عثمان، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور تمام مہاجرین وانصار کی قراء ت ایک ہی تھی۔ پس اہل سنت کے نزدیک ’قراء تِ عامہ‘ سے مراد بھی معروف و متواترقراء ات ہی ہیں ۔ جیسا کہ تین میں ایک، ایک میں تین ؟؟؟ اور اگر فی الواقع ایسا ہی ہے تو پھر لوگوں میں قراء ت کے حوالے سے اختلاف ہی کیوں رونما ہوا تھا ایک شخص قراء ت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ترجیح دے رہا تھا تو دوسرا قراء ت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں جب مختلف قراءات سے متعلق فتنہ و فساد رونما ہونے لگا تو باقی تمام مصاحف کو تلف کرنے کا حکم دے کر اس فتنہ کا دروازہ بند کر دیاگیا۔ ’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی ایک غزوہ سے واپسی ہوئی تو وہ واپسی پر وہ اپنے گھر میں داخل نہیں ہوئے تاآنکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو ئے ،اور عرض کیا: اے امیر المؤمنین ! لوگوں کی خبر لیجئے۔ انہوں نے پوچھا کیا بات ہے؟ کہا میں لڑ ائی کے سلسلے میں آرمینیا گیا ہوا تھا وہاں پہنچا تومعلوم ہوا کہ اہل شام اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قراء ت پڑھتے ہیں جسے اہلِ عراق نے نہیں سنا ہوا تھا اور اہلِ عراق عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراء ت میں پڑھتے ہیں جسے اہل شام نے نہیں سنا اس اِختلاف کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو کافر قرار دے رہے ہیں ۔‘‘ جامعہ لاہور الاسلامیہ کے ’’اہل رشد‘‘ نے فتنہ کا بند دروازہ پھر کھول دیا اور اس اِختلاف کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو کافر قرار دے رہے ہیں ۔!!! حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی شاید خود اس خطرے سے آگاہ تھے۔انہیں اس بات کی اِطلاع ملی تھی کہ خود مدینہ طیبہ کے اَندر ایسے واقعات پیش آئے کہ جب مختلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے شاگرد اکٹھے ہوئے تو اِختلاف کی سی ایک کیفیت پیدا ہو رہی تھی۔ دوبارہ قرآن مجید میں قراء توں کا اختلاف قرآن مجید میں قراء توں کا اختلاف اِس سے ثابت ہوتاہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین قراء ات کے اختلافات موجود تھے اور انہوں نے اپنے اپنے اختیارات اپنا رکھے تھے اور قراء تِ عامہ صرف روایتِ حفص کو ہی نہیں بلکہ دیگر متواتر قراء ات کو بھی شامل تھی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کوشش ناکام ؟؟؟ اس سلسلہ میں ہم علامہ زرکشی رحمہ اللہ کے ان اَقوال کو پیش کرتے ہیں جو متعدد قراء ات قرآنیہ سے متعلق ان کا مؤقف واضح کرنے اور ناقابل تردید دلائل کے ساتھ پنجہ آزمائی کر کے ثابت شدہ قراء ات کا اِنکار کرنے والوں کے لیے کافی ہوں گے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کوشش ناکام ؟؟؟ إن القراء ات توقیفیۃ ولیست اختیاریۃ۔ ’’قراء ات توقیفی ہیں نہ کہ کسی کی اپنی اختیار کردہ ہیں ۔‘‘ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کوشش ناکام ؟؟؟ ’’قراء عشرہ کی قراء ت کی حجیت پر اِجماع منعقد ہو چکا ہے، یہ قراء ت، سنت متبعہ (یعنی توقیفی) ہیں اور ان میں اجتہاد کی گنجائش موجود ہے۔‘‘ ’’یہ سبعہ حروف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑے مشہور و معروف ہیں ۔ ائمہ نے سبعہ حروف کو ضبط کیا ہے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی انہیں مصاحف میں ثابت رکھا۔‘‘ 7سے بڑھ کر ۱۰ کیسے ؟؟؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی انہیں مصاحف میں ثابت رکھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کتنی قراءات میں "مصاحف" لکھوایا تھا ؟؟؟ نبی کریم ﷺ نے کتنی قراءات میں لکھوایا تھا مکی دور میں اور مدنی دور میں ؟؟؟ کون کون سے کاتب ؓ نے کس کس روایات قراءات میں قرآن لکھا تھا ؟؟؟ __________________ كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" |
||
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (23-11-11) |
|
|
#11 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مجھے بتائیں کہ چار روایات، ۴ کے بعد باقی کتنی ہیں ؟؟؟ 07 – 04 = 03 ؟؟؟ 10 – 04 = 06 ؟؟؟ 16 – 04 = 10 ؟؟؟ 20 – 04 = 16 ؟؟؟ مجھے بتائیں کہ چار روایات میں کروڑوں مصاحف کے طبع ہونے کا ثبوت ہے، تو پھر اس کے بعد باقی کتنے "روایات قراءات قرآن" ہیں ؟؟؟ موجودہ 4 روایات قرآن كو آج ساري دنيا ديكھ سكتي ہے۔۔۔۔ تو پھر اس کے بعد باقی کی روایات "قرآن" كو كوئي نہيں ديكھ سكتا ؟؟؟ گویا آپ کو تسلیم ہے کہ واقعی عرضہ اخیرہ میں ایک ہی قراءت رائج ہونے والی بات غلط ہے۔ اقتباس:
محترم، جن سولہ نسخوں کی آپ بات کر رہے ہیں وہ ریسرچ ورک ہے۔ اور پہلے ہی سے کتب احادیثمیںموجود ہیں۔ اقتباس:
|
|||
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فورم, فن, کتابوں, پاک, قواعد, قرآن, مکمل, مجید, آج, ایمان, اللہ, امتحان, اسکیم, استاد, جھوٹ, جواب, حدیث, خدا, دوست, دعا, زہری, عقل, غامدی, صحابہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| لاتوں كے بھوت باتوں سے نہيں مانتے | شمشاد احمد | گپ شپ | 5 | 19-10-11 04:15 PM |
| لذت آشنائی- گذشتہ مکمل - زندگی کی پنہاں حقیقتوں اور لذتوں سےآشکار ہوں | گوہر | اپکے کالم | 2 | 29-12-10 09:44 AM |
| باتوں باتوں میں بچھڑنے کا اشارہ کر کے | احمدنواز | شعر و شاعری | 23 | 12-11-09 03:14 PM |
| ::::::: عید اور نعمتوں کا شکر ::::::: اللہ کی نعمتوں پر شکر اس طرح تو نہیں کیا جاتا ::::::: | عادل سہیل | اسلام اور معاشرہ | 1 | 15-09-09 11:16 AM |
| باتوں باتوں میں بچھڑنے کا اشارہ کرکے | aliali | شعر و شاعری | 5 | 05-12-07 02:22 PM |