| علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 2239
|
||||
| 17 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | sahj (14-10-10), shafresha (13-10-10), sjk (05-11-10), فیصل ناصر (14-10-10), فاروق سرورخان (17-10-10), کنعان (24-10-10), کاشف اکرم وارثی (27-09-11), پاکستانی (24-10-10), محمد عاصم (20-10-10), مرزا عامر (17-10-10), حیدر (18-10-10), حیدر Rehan (09-11-11), شمشاد احمد (22-10-10), ضِرار Derar (14-10-10), عبداللہ آدم (18-10-10), عبداللہ حیدر (14-10-10), غلام خان (21-10-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
عادلصاھب پر اللہ میاں کو کیا ضررورت تھی کہ اپنے حکم منسوخ کرے |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (04-10-11), shafresha (14-10-10), فاروق سرورخان (17-10-10), نورالدین (02-11-10), مرزا عامر (17-10-10), ابن آدم (18-10-10), حیدر (18-10-10), غلام خان (21-10-10) |
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ خیرا، ضرار بھائی، الحمد للہ ، لگتا ہے بھائی شاھد صدیقی کی نصیحت کا کچھ اثر ہوا ہے ، بقول آپ کے """ واہ جی واہ" ، بڑا اچھا سوال کیا ہے ، ضرار بھائی اس کا جواب اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے (((((مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ::: ہم جِس آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں یا اُسے ترک کر دیتے ہیں تو اُس سے زیادہ خیر والی یا اُسی کے جیسی دوسری آیت لاتے ہیں، کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ ہر ایک چیز پر قادر ہے ))))) اللہ تعالیٰ کی بے عیب حکمت اور اپنی مخلوق بالخصوص ایمان والے بندوں ہر شفقت کی بنا پر اللہ تعالیٰ ایک حکم کو منسوخ فرما کر دوسرا ایسا حکم دیتا ہے جو زیادہ خیر والا ہوتا ہے ، زیادہ خیر والا اس طرح کہ وہ نیا حکم اجر میں زیادہ ہوتا ہے اور بسا اوقات منسوخ شدہ حکم کی نسبت عمل کرنے میں آسان ہوتا ہے ، اور بسا اوقات منسوخ شدہ حکم کی نسبت زیادہ پر مشقت ہوتا ہے ، لیکن اجر و ثواب میں زیادہ ہوتا ہے ، اللہ کے ہاں زیادہ محبوب ہوتا ہے اس لیے زیادہ خیر والا ہوتا ہے ، خیال رہے کہ خیر میں زیادہ یا کم ہونے کا فرمان اللہ کا ہی ہے ، کسی اور کا نہیں ، اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ اللہ کا سارا ہی کلام خیر والا ہے اس کا حکم اللہ نے برقرار رکھا ہو یا منسوخ فرما دیا ہو ، منسوخ کی دوسری صورت یہ بیان فرمائی کہ نیا حکم پہلے منسوخ حکم کے جیسا ہوتا ہے ، یعنی عمل میں پہلے والے منسوخ حکم جیسا ہی پر مشقت ہوتا ہے لیکن اجر میں زیادہ ہو ، امید ہے ان شاء اللہ آپ کے سوال کا جواب ان معلومات میں مل جائے گا ، اگر کچھ واضح نہ ہوتو ضرور پوچھیے گا اور اگر کوئی لفظ مشکل لگا ہو تو اس کے لیے معذرت خواہ ہوں گو کہ میری کوشش یہی ہوتی ہے ادبی قواعد وغیرہ اور عبارت کی خوبصورتی یا بھاری پن کی طرف توجہ کیے بغیر آسان الفاظ میں لکھوں ، پھر بھی اگر سمجھنے میں کوئی مشکل ہو تو ضرور بتایے گا ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafresha (18-10-10), فاروق سرورخان (17-10-10), محمد عاصم (20-10-10), مرزا عامر (17-10-10), ابن آدم (18-10-10), حیدر (18-10-10), ضِرار Derar (16-10-10), عبداللہ آدم (18-10-10), غلام خان (21-10-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
شلکریہ جناب جی آپ کیا میرے کو ڈھیٹ جانتے ہو میرے کو سب کی اچھی بات سمجھ آتی ہے اور میں مان بھی لیتا ہون بس تھوڑی دیر لگتی ہے |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (03-10-11), rana ammar mazhar (25-02-12), shafresha (18-10-10), فاروق سرورخان (17-10-10), محمد عاصم (20-10-10), مرزا عامر (17-10-10), ابن آدم (18-10-10), حیدر (18-10-10), عبداللہ آدم (18-10-10), غلام خان (21-10-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
قرآن حکیم، ایک بہت ہی بڑے۔ اللہ اکبر۔۔ کا پیغام ہے۔ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ قران حکیم تمام زمانوں کے لئے ہے۔ لہذا اس کی ہر آیت ایک مطلق اصول ہے نا کہ ایک محدود اصول۔ یہ اصول زمان و مکان کی قید سے آزاد ہیں۔ لہذا ان کی تنسیخکا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
اللہ تعالی نے اپنی جن آیات کی تنسیخکی وہ قرآن حکیم کی آیات نہیں۔ بلکہ وہ آیات ہیں جن کو سابقہ نبیوںپر نازل کیا گیا اور شیطان نے ان کی تلاوت میں خلل ڈالا۔ اس کے لئے آپ یہ مراسلہ ملاحظہ فرمائیے اگر کہیں ہوتا یہ غیر اللہ کی طرف سے تو ضرور پاتے یہ اس میں --اخْتِلاَفًا كَثِيرًا والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (25-02-12), shafresha (18-10-10), ماسٹر مقسود (31-10-10), مرزا عامر (17-10-10), حیدر (18-10-10), حیدر Rehan (09-11-11), غلام خان (21-10-10) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علی من اتبع الھدیٰ ،
جناب فاروق خان صاحب ، ان شاء دس بارہ دن بعد آپ کے تھریڈ کا مطالعہ بھی کروں گا ، اور ان شاء اللہ اس کا بھر پور علمی جواب بھی پیش کروں گا۔ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafresha (18-10-10), فاروق سرورخان (18-10-10), محمد عاصم (20-10-10), مرزا عامر (18-10-10), ابن آدم (18-10-10), حیدر (18-10-10), ضِرار Derar (18-10-10), غلام خان (21-10-10) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,103
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے اس بحث میں کودنا تو نہیں چاہیے تھا، کیونکہ یہ ’’محترم عادل سہیل اور محترم فاروق سرور خان ‘‘ کے درمیان ’’خالص علمی‘‘ بحث ہے۔ اصل میں اس وقت میں دونوں کی تائید کرنا چاہتا ہوں۔ فاروق بھائی کی: کہ قرآن کی ہرآیت اصول ہے اور عادل بھائی کی کہ ناسخ ومنسوخ موجود ہیں۔چونکہ اسلام کے احکام تدریجی ہیں:جیسے شراب کودرجہ بدرجہ اسلامی معاشرے سے ختم کیا گیا۔جو خرابی یا عادت معاشرے میں صدیوں سے رائج ہو اس کو بیک جنبش قلم ختم کرنا مشکل ہوتا ہے۔یا لوگوں کی عام عادات سے مطابقت نہ رکھنے والے کام کو رائج کرنا بھی اسی طرح مشکل ہوتا ہے۔اسی لیے ایسے احکام کو رفتہ رفتہ نافذ کیا گیا۔ قرآن میں اس سارے عمل کو برقرار رکھنے کی حکمت یہ ہے اگر کسی زمانے میں ان احکام کو نافذ کرنا ہو تو اسی طرح تدریجی طریقے سے کیا جائے گا۔اگر کوئی آدمی اسلام قبول کرے تو اس پر سارے کے سارے احکام یکایک تو نافذ نہیں کیے جاسکتے ۔آہستہ آہستہ اسے سابقہ ماحول سے نکال کرنئے ماحول سے مانوس کرنا پڑتا ہے۔
ناسخ ومنسوخ کے سلسلے میں ایک بات ضروری ہے کہ قرآن کے احکام کو منسوخ صرف قرآن ہی کرسکتا ہے۔اس سے کم درجہ کی کسی اور چیز سے اس کو منسوخ کرنا قرآن کی حاکمیت کی نفی کرتا ہے۔
__________________
عابد |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (25-02-12), shafresha (18-10-10), فیصل ناصر (24-10-10), فاروق سرورخان (18-10-10), ھارون اعظم (11-11-11), حیدر (19-10-10) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
سب سے پہلے تو معذرت خواہ ہوں کہ آپ کا یہ مراسلہ جو خان صاحب سے خطاب ہے اِس کے جواب میں کچھ گذارشات پیش کرنا چاہتا ہوں، جزاک اللہ خیرا ، بدر بھائی ، قران کریم میں سے ناسخ اور منسوخ کے بارے میں ایک اچھی مثال پیش کی آپ نے ، ایسی کٕئی مثالیں ہیں ان شاء اللہ ان کا ذکر بھی ہو گا ، خان صاحب کی آسانی کے لیے میں وہ آیات مبارکہ یہاں نقل کر رہا ہوں جن کے بارے میں ٓپ نے سوال کیا ہے ، آپ کا ذکر کردہ واثت کے بارے میں وصیت کرنے کے مسٕئلے میں منسوخ شدہ آیت سورت البقرہ کی آیت رقم 180 ((((( كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ))))) ہے ، اور ناسخ آیت ، سورت النساء کی آیت رقم 11 (((((( يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ))))) ، اور آیت 12 (((((وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَىٰ بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ وَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ )))))ہے ، اللہ پاک کے ان احکامات کی مزید تاکید میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے حکم فرمایا ((((( إِنَّ اللَّهَ قد أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ ألا لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ ::: یقینا اللہ نے ہر حق دار کو اس کا حق (مقرر کر کے )دے دیا ہے (لہذا)خبردار( رہو کہ اب)وارث کے لیے وصیت نہیں ہوسکتی ))))) سنن النسائی /کتاب الوصایا /باب5 ، سنن ابن ماجہ /کتاب الوصایا/باب 6,سنن الترمذی /کتاب الوصایا/باب 5،حدیث صحیح ہے ، اور اس حکم پر مشتمل احادیث دیگر کتب میں بھی میسر ہیں ، اور بدر بھائی آپ نے جو کسی سننے والے کو کسی غلط وصیت تبدیل کرنے کی اجازت کی بات کی ہے وہ میں نہیں سمجھ سکا کہ آپ نے کس آیت کے بارے میں کہا ہے ، جی ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ کے مطابق یہ مسئلہ بیان ہوتا ہے کہ شرعی وصیت کی حدود سے خارج ہونے والی وصیت تبدیل کی جائے گی ، اس معاملے میں مزید تفصیلات بھی ہیں ، لیکن فی الحال اپنے وقت کی کمی کے سبب اور کسی جدید علوم کے مطابق قدیم احکام کے نئے مفاہیم کے لیے اپنی بات کو روکتا ہوں ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
برادر من بدر، سلام۔
عادل بھائی کا آیات پیش کرنے کا شکریہ ۔ کیا آپ انہی آیات کے بارے میںجاننا چاہتے تھے؟ کیا آپ کوئی ریفرنس بھی فراہم کرسکتے ہیں کہ یہ آیات ایک دوسرے کی تنسیخکرتی ہیں یا یہ آپ کا اپنا خیال ہے یا پھر سنی سنائی ہے۔ جب تک کوئی شخصیہ دعوی نا کرے کہ ایک آیت ، دوسر ی آیت کی تنسیخکرتی ہے ۔ اور کونسی آیت دوسر آیت کی تنسیخکرتی ہے اور کیوں تو اس وقت تک کچھ کہنا بے کار ہے تو آپ میں سے کوئی وثوق کے ساتھ اور دلائیل کے ساتھ کہے کہ کونسی آیت منسوخہوگئی ہے تو پھر غور کرتے ہیں۔ والسلام۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | حیدر (19-10-10), حیدر Rehan (09-11-11) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
کچھ لوگ درج ذیل آیت کی مدد سے یہ دلیل لاتے ہیں کہ قرآن کی ایات ایک دوسرے کو منسوخ کرتی ہیں ۔۔۔ نعوذ باللہ۔
2:106 مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ جو منسوخ کرتے ہیں ہم کوئی آیت یا بھلا دیتے ہیں تو بھیج دیتے ہیں اس سے بہتر یا اسکے برابر کیا تجھکو معلوم نہیں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اب غور سے دیکھئے کہ بتایا جارہا ہے کہ --- منسوخ شدہ آیت سے بہتر یا اس کے جیسی ، برابر اور اسی حکم کی آیت۔ بھیج دی جاتی ہے ۔۔۔۔ یہ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ قرآن حکیم آخری کتاب ہے ۔ اللہ تعالی اس سے پہلے بھی آیات نازل فرماتا رہا ہے۔ ایسے لوگ ان دیگر آیات کو پیش نہیں کرتے جہاں اللہ تعالی اپنی آیات کی تنسیخ کی تفصیل عطا فرماتے ہیں۔ نوٹ کیجئے اپنی آیات کی تنسیخ کہا گیا ہے ۔۔۔ یہاں یہ نہیںکہا گیا کہ ۔۔۔ قران میں نازل شدہ، نبی اکرم پر وحی شدہ آیات کی تنسیخ کی جاتی رہی ۔۔۔۔۔۔ سبحان اللہ۔۔ اللہ تعالی اپنی کوئی آیت کیوں منسوخ کرتے ہیں یا اس کو تبدیل فرماتے ہیں؟ اسکی وجہ دیکھئے۔ [AYAH]22:52[/AYAH] [ARABIC]وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ [/ARABIC] اور نہیں بھیجا ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نہ کوئی نبی مگر (ایسا ہوتا رہا) کہ جب اس نے تلاوت کی تو خلل اندز ہوا شیطان اُس کی تلاوت میں۔ پھر تنسیخکرتا رہا اللہ اس خلل اندازی کو جو شیطان کرتا رہا پھر پختہ کردیتا رہا اللہ اپنی آیات کو اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ تو وجہ صاف صاف ظاہر ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور پیشتر ، شیطان آیات میں خلل ڈالتا رہا لہذا ضروری پایا کہ ---- [ARABIC]مَا يُلْقِي الشَّيْطَان[/ARABIC] ---- کی تنسیخ کی جائے اور اس کو تبدیل فرمایا جائے ۔ یہ کام قرآن ہی میں ممکن تھا۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو انسان کونسی آیت پر ایمان رکھتا ؟ سابقہ آیات میں سے کچھ ایسی تھیں کہ جب سابقہ نبیوں نے اس کی تلاوت کی تو اس میں شیطان خلل اندازی کرتا رہا۔۔۔۔۔ اس وجہ سے اللہ تعالی ان سابقہ نازل شدہ آیات کی تنسیخ کرتا رہا اور قرآن حکیم کی شکل میں اللہ تعالی اپنے آخری رسول پر یہ سابقہ آیات کی تنسیخ کرنے والی یا اس سے بہتر اسی حکم کی آیات نازل فرماتا رہا۔۔ قرآن حکیم میںنا کوئی ایت ناسخہے اور نا ہی کوئی آیت منسوخ۔ آج کی تاریخ میںدنیا کا کوئی بھی انسان ایسی کوئی بھی آیت سامنے نہیں لاسکتا۔ انشاء اللہ ۔ البتہ سابقہ لوگوں نے کیا سمجھا اس پر آپ دفتر پر دفتر لکھ سکتے ہیں۔ اصل چیلنج آج ہم سب کو یہ ہے کہ ہم خود قرآن سے ایک عدد ایسی آیت سامنے لاسکین جو قرآن کی دوسری آیت کی تنسیخ کرتی ہو۔ اور اس کی عقلی توجہیہ پیش کرسکیں۔۔۔۔ اللہ تعالی کے کلام میں نظریاتی اور حکم کا اختلاف ہوہی نہیں سکتا۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ غیر مسلم جو لگے رہتے ہیں کہ قرآن حکیم میں کوئی صریح اور واضح اختلاف ڈھونڈھ سکیں تو آج اچھل اچھل کر اونچا اونچا بول رہے ہوتے۔۔۔۔ ۔ میں گواہی دیتا ہوںکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔۔۔ میںگواہی دیتا ہوں کہ قرآن حکیم اللہ تعالی کا فرمان ہے جو ان بزرگ نبی اکرم صلعم پر نازل ہوا اور آج تک مجھے اس کتاب میں کوئی ناسخیا کوئی منسوخ یا کوئی واضح اختلاف باوجود کوشش کے نہیں ملا ۔ ستائس تراجم کی پروف ریڈنگ مکمل کرچکا ہوں اور جناب مودودی صاحب کے ترجمے کی پروف ریڈنگ قرآن کے عربی متن کے ساتھ ساتھ کررہا ہوں۔ وہ آیات جن میں پچاس ہزار اور ایک ہزار سال سے لوگوں کے ذہن میں شکوک پیدا ہوسکتے تھے وہ بھی آج جدید ترین معلومات کی روشنی میں ثابت ہوگیا ہے کہ وہاں بھی کوئی فرق نہیں ۔ بلکہ کوئی بھی فرق نہیں۔ بس فرق ہے تو ہماری عقل میں کہ ہم اللہ تعالی کے بیان کو سمجھ نہیں پاتے۔ اور پھر اپنی سی ہوائیاں چھوڑنے لگتے ہیں۔ سبحان اللہ۔ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 24-10-10 at 12:09 AM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
سابقہ علماء کی بات چھوڑئے۔ اپنی بات کیجئے۔ کیا آپ کے پاس کوئی ناسخ یا منسوخہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ان علماء سے بحث کی جائے تو آپ ان کو لے آئیے۔ پھر ان سے بات کریں گے۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ اپنے نکات پیش کریں تو بلا تکلف کیجئے۔ آپ اللہ تعالی اور قرآن حکیم کی توہین کررہے ہیں۔ کہ آپ کے اپنے پاس کوئی دلیل نہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے خود اپنے فرمان کے خلاف فرمان جاری کئے ہیں۔ آپ کا دعوی کہ اللہ تعالی کے فرمان خود اللہ تعالی کے فرمان کی تنسیخ کرتے ہیں باطل ہیں اور یہ آپ کی اپنی سمجھ کی سطح کی بہترین علامت ہیں ۔۔۔۔ لہذا آپ سے استدعا ہے کہ آپ اپنے دلائیل سے ثابت کیجئے کہ آپ کو خود اللہ تعالی کے فرمان میں خرابیاں نظر آتی ہیں۔ ۔۔ ۔نعوذباللہ۔۔۔۔ اللہ تعالی کا فرمان آپ کے دعوے کے مطابق خود اپنی تردید اور تنسیخ کرتا ہے۔ آپ دلیل لائیے ۔ اگر آپ سچے ہیں۔۔ الحمد للہ ، اللہ تعالی کو جھوٹا ثابت کرنے کے آپ کے دعووں کو اللہ کا یہ بندہ سب کے سامنے اللہ تعالی کی مدد اور مشیت سے غلط ثابت کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ انشاء اللہ ۔ اللہ تعالی حق ہے، سچ ہے۔ اس کے فرمان میں کوئی ریب نہیں۔ کوئی شک نہیں۔ کوئی جھوٹ نہیں۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالی کا فرمان خود اپنے فرمان کی تردید اور تنسیخنہیں کرتا۔۔ سابقہ انبیاء کے ساتھ تلاوت میں ایسا ہوا کہ شیطان نے خلل اندازی کی ، اس شیطان کی خلل شدہ تلاوت کی تنسیخ کرکے قرآن حکیم میں درست آیات اللہ تعالی نے نازل فرمائیں۔ یہ معلومات بھی آپ کو اللہ کے فرمان ہی سے ملتی ہے۔ اس معلومات سے و شخص اللہ کو جھوٹا قرار دینے کی ناکام کوشش کرے وہ اللہ تعالی کی توہین کا مرتکب ہورہا ہے۔ والسلام |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جبکہ نیلے رنگ میں پیش کی گئی عبارت میرے لیئے ایک نئی معلومات ہے۔ اگر یہ بات سچ ہے تو فاروق صاحب اللہ آپ کو اس کی جزا دے۔ ایک بات بھائیوں کو کیوں سمجھ نہیں آتی اکثر کہانیاں سنایا کرتے ہیں کہ قران کے بعد سب سے اہم کتاب احادیث کی ہیں ( شکر ہے قران سے پہلے نہیں کہتے) تو جب کتب حدیث قران کے بعد آتی ہیں تو قران کی کسی آیت کو کیسے منسوخ کر سکتی ہیں۔ آیات ملاحظہ ہوں سورۃ یونس 15 تا 17 اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ اس (قرآن) کے سوا کوئی اور قرآن لے آئیے یا اسے بدل دیجئے، (اے نبیِ مکرّم!) فرما دیں: مجھے حق نہیں کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں، میں تو فقط جو میری طرف وحی کی جاتی ہے (اس کی) پیروی کرتا ہوں، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بیشک میں بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوںo فرما دیجئے: اگر اللہ چاہتا تو نہ ہی میں اس (قرآن) کو تمہارے اوپر تلاوت کرتا اور نہ وہ (خود) تمہیں اس سے باخبر فرماتا، بیشک میں اس (قرآن کے اترنے) سے قبل (بھی) تمہارے اندر عمر (کا ایک حصہ) بسر کرچکا ہوں، سو کیا تم عقل نہیں رکھتےo پس اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلا دے۔ بیشک مجرم لوگ فلاح نہیں پائیں گےo اور سورۃ بنی اسرائیل آیات 73 تا 75 اور کفار تو یہی چاہتے تھے کہ آپ کو اس سے پھیر دیں جس کی ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے تاکہ آپ اس (وحی) کے سوا ہم پر کچھ اور (باتوں) کو منسوب کر دیں اور تب آپ کو اپنا دوست بنا لیںo اور اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ بنایا ہوتا تو تب بھی آپ ان کی طرف بہت ہی معمولی سے جھکاؤ کے قریب جاتے۔o اس وقت ہم آپ کو دوگنا مزہ زندگی میں اور دوگنا موت میں چکھاتے پھر آپ اپنے لئے (بھی) ہم پر کوئی مدد گار نہ پاتےo اگر دل کی آنکھ سے مندر جہ بالا آیات کا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے۔ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قران کی کسی آیت کو تبدیل کرنے یا منسوخ کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ صرف اس وحی کی پیروی کرنے کا حکم تھا جو اللہ کی طرف سے آئی اسے قران کریم کہا جاتا ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لیا ہے۔ تو کوئی ایسی کتابیں جس کی حفاظت کی کوئی گارنٹی نہیں ور جو اہنی اصل شکل میں بھی موجود نہیں اللہ کے کلام کو کیسے منسوخ کر سکتی ہے ؟؟
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (25-02-12), shafresha (25-10-10), فیصل ناصر (11-11-11), فاروق سرورخان (25-10-10), حیدر (24-10-10), حیدر Rehan (09-11-11) |
|
|
#13 | |||
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,725
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
مرزا بھائی آپ نے عادل بھائی کی طرف سے پیش کی گئی قرآن مجید کی آیات کے جواب میں جو آیات پیش کی ہیں اور جو آپ نے ان پر اپنا خلاصہ بیان کیا ھے وہ کسی بھی طرح عادل بھائی کی طرف سے پیش کی گئی قرآنی آیات سے مطابق نہیں۔ اگر میں آپ کے خلاصہ پر لکھوں تو بہت وقت چاہئے اور وہ بہت طویل ہو جائے گا اس لئے میں نے عادل بھائی کی طرف سے پیش کی گئی آیات آپ کے مراسلہ میں کوٹ کر دی ہیں انہیں ایک مرتبہ پھر پڑھیں اور پھر اس کے جواب میں آپ اپنی تفسیر و تشریح یا خلاصہ پیش فرمائیں تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو۔ انتظار رہے گا والسلام
__________________
|
|||
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
کنعان،
آپ نے جو یہ تو فرمایا کہ مرزا عامر کی پیش کردہ آیات ، عادل سہیل صاحب کے مراسلے کے مطابق نہیں ہیں تو یہ بالکل درست ہے۔ مرزا عامر نے دراصل ، عادل سہیل کے مراسلے کی قرآن حکیم کی آیات کی مدد سے مخالفت کی ہے۔ جناب مرزا عامر کی پیش کردہ آیات اس موضوع سے نا صرف مطابقت رکھتی ہیں بلکہ یہ بھی ثابت کرتی ہیں کہ قرآن کی کسی آیت کو منسوخ کرنا قرآن سے ثابت نہیں اور نا ہی رسول اکرم کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے منسوخکریں۔ لہذا کسی بھی بعد کی کتاب سے قرآن حکیم کی کسی آیت کو منسوخ کرنا یا کرنے کی کوشش کرنا کس طور قابل قبول ہوسکتا ہے۔ والسلام |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,725
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
چلیں آپکی تشریح اور مرزا صاحب کی تشریح سے ایک مرتبہ پھر پڑھیں اور بتائیں۔ ہم جِس آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں یا اُسے ترک کر دیتے ہیں تو اُس سے زیادہ خیر والی یا اُسی کے جیسی دوسری آیت لاتے ہیں، ---------------- اور جب ہم (اپنی) کسی آیت کو کسی دوسری آیت سے بدل دیتے ہیں ---------------- اللہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے اور اللہ کے پاس ہی اصل بنیادی کتاب ہے ------------------- اس میں اللہ سبحان تعالی کی طرف سے فرمایا جا رہا ھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی فرمان نہیں ھے اور آپ اور مرزا بھائی نے قرآن مجید کی آیات بدلنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ رہے ہیں۔ کوشش کریں اور ان آیات کی آپ تفسیر بیان کریں کہ کیا ھے۔ انتظار رہے گا۔ والسلام |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (25-02-12), shafresha (25-10-10), فاروق سرورخان (25-10-10), مرزا عامر (26-10-10), حیدر Rehan (09-11-11) |
![]() |
| Tags |
| color, green, کلام, گذارش, پاک, قواعد, قران, اللہ, اسلامی, تلاش, ترک, جیسی, جواب, حل, خصوصی, درخواست, عقیدے, عقائد, علوم, علم, علمی, غور, غلط, صحابہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا | عروج | شاعر مشرق علامہ اقبال | 9 | 15-05-11 01:07 PM |
| سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے | گلاب خان | خبریں | 0 | 09-12-10 05:22 AM |
| اسلام آباد +سوات(مانیٹرنگ ڈیسک ) سوات میں پاکستانی فوج نے مقامی طالبان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے علاقے میں آپریشن شروع کر | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 13-11-07 09:06 AM |