واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


قصہ آدم ؑ قرآن کریم کی نظر میں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-01-12, 03:11 PM   #1
قصہ آدم ؑ قرآن کریم کی نظر میں
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آن لائن ہے 21-01-12, 03:11 PM



























Urwa-tul-Wusqa Translation and Tafseer of Quran by Abdul Karim Asari

حضرت آدم علیہ السلام -- اول البشر یا مطلق بشر؟ تحقیقی جائزہ!


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
یاد رہے کہ اس دھاگے کا موضوع فقط حضرت آدمؑ کی شخصیت ہے۔ ان کی اولاد ، نسل انسانی کا ارتقاء، حضرت آدم کی خلافت ، حضرت حوا کی شخصیت یا ان کا حضرت آدم کے پہلو سے تخلیق کیا جانا سمیت دیگر تمام متعلقہ و غیر متعلقہ مباحث ہمارے اس دھاگے کی حدود سے باہر کی چیزیں ہیں، لہٰذا ازراہ کرم جو صاحب بھی اپنے خیالات پیش کرنا چاہیں ، فقط موضوع کی حدود کا خیال رکھیں۔ ورنہ ان کی پوسٹ انتظامیہ کو رپورٹ کر دی جائے گی۔
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 533
Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (26-01-12)
پرانا 21-01-12, 03:25 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default آدم علیہ السلام ساٹھ گز کے تھے تو ان کے گھوڑے اور کھوتے کا کیا قد تھا ؟؟؟

حضرت آدم علیہ السلام کی قد و قامت کا مسئلہ

آدم علیہ السلام ساٹھ گز کے تھے تو ان کے گھوڑے اور کھوتے کا کیا قد تھا ؟؟؟

43 - انبیاء علیہم السلام کا بیان : (585)
فرمان الٰہی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں دنیا میں (اپنا) ایک خلیفہ بنانے والا ہوں کا بیان ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا لما علیھا حافظ یعنی مگر اس کا حفاظت کرنے والا ہے فی کبد کے معنی سخت پیدائش ریاشا کے معنی مال دوسرے لوگوں نے کہا ہے ریاش اور ریش ایک ہی ہیں یعنی ظاہری لباس ماتمنون کے معنی ہیں کہ تم منی عورتوں کے رحم میں ڈالتے ہو اور مجاہد نے کہا کہ آیت کریمہ بے شک وہ اس کے واپس کر دینے پر قادر ہے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ نطفہ کو پھر احلیل ذکر میں واپس کر دے جو چیز بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہے وہ جفت ہے آسمان بھی جفت ہے اور یکتا تو اللہ تعالیٰ ہے فی احسن تقویم کے معنی ہیں عمدہ پیدائش میں اسفل سافلین سے مومن مستثنیٰ ہے خسرو کے معنی گمراہی پھر اس سے اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو مستثنیٰ کیا لازب کے معنی چپکنے والی ننشئکم یعنی جس صورت میں ہم چاہیں پیدا کر دیں نسبح بحمدک یعنی تیری عظمت بیان کرتے ہیں ابوالعالیہ نے کہا کہ فتلقی آدم من ربہ کلمات میں کلمات سے مراد ربنا ظلمنا انفسنا ہے فازلھما کے معنی ہیں کہ انہیں بہکا دیا یتسنہ کے معنی خراب ہو جاتا ہے اسن کے معنی متغیر مسنون کے معنی بھی متغیر حماء حماۃ کی جمع ہے سڑی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں یخصفان یعنی جنت کے پتوں کو جوڑنے لگے یعنی ایک پتہ کو دوسرے پتہ پر جوڑنے لگے سواتھما یعنی ان کی شرمگاہیں متاع الی حین یہاں حین سے مراد قیامت کے دن تک ہے اہل عرب کے نزدیک حین کے معنی ایک ساعت سے لے کر لا تعداد وقت کے آتے ہیں قبیلہ کے معنی اس کی وہ جماعت جس سے وہ خود ہے۔

حدثنا عبد الله بن محمد حدثنا عبد الرزاق عن معمر عن همام عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلی الله عليه وسلم قال خلق الله آدم وطوله ستون ذراعا ثم قال اذهب فسلم علی أولئک من الملائکة فاستمع ما يحيونک تحيتک وتحية ذريتک فقال السلام عليکم فقالوا السلام عليک ورحمة الله فزادوه ورحمة الله فکل من يدخل الجنة علی صورة آدم فلم يزل الخلق ينقص حتی الآن

صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 563 حدیث قدسی مکررات 3 متفق علیہ 3 بدون مکرر
عبداللہ بن محمد عبدالرزاق معمر ہمام حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان (کے قد) کی لمبائی ساٹھ گز تھی پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا جاؤ اور فرشتوں کو سلام کرو اور جو کچھ وہ جواب دیں اسے غور سے سنو! وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا حضرت آدم نے فرشتوں کے پاس جا کر کہا السلام علیکم انہوں نے کہا السلام علیک ورحمۃ اللہ انہوں نے لفظ و رحمۃ اللہ زیادہ کیا پس جو شخص بھی جنت میں داخل ہوگا وہ آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوگا (آدم علیہ السلام ساٹھ گز کے تھے لیکن اب تک مسلسل آدمیوں کا قد کم ہوتا رہا) ۔

Narrated Abu Huraira:
The Prophet said, "Allah created Adam, making him 60 cubits tall. When He created him, He said to him, "Go and greet that group of angels, and listen to their reply, for it will be your greeting (salutation) and the greeting (salutations of your offspring." So, Adam said (to the angels), As-Salamu Alaikum (i.e. Peace be upon you). The angels said, "As-salamu Alaika wa Rahmatu-l-lahi" (i.e. Peace and Allah's Mercy be upon you). Thus the angels added to Adam's salutation the expression, 'Wa Rahmatu-l-lahi,' Any person who will enter Paradise will resemble Adam (in appearance and figure). People have been decreasing in stature since Adam's creation.
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (26-01-12)
پرانا 21-01-12, 03:42 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default حضرت آدم کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا ان کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا تھا :: ان کی لمبائی ساٹھ گز تھی ؟؟؟


حضرت آدم کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا ان کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا تھا :: ان کی لمبائی ساٹھ گز تھی ؟؟؟

ساٹھ ہاتھ یا ساٹھ گز


59 - اجازت لینے کا بیان : (73)
سلام کی ابتداء کا بیان
حدثنا يحيی بن جعفر حدثنا عبد الرزاق عن معمر عن همام عن أبي هريرة عن النبي صلی الله عليه وسلم قال خلق الله آدم علی صورته طوله ستون ذراعا فلما خلقه قال اذهب فسلم علی أولئک النفر من الملائکة جلوس فاستمع ما يحيونک فإنها تحيتک وتحية ذريتک فقال السلام عليکم فقالوا السلام عليک ورحمة الله فزادوه ورحمة الله فکل من يدخل الجنة علی صورة آدم فلم يزل الخلق ينقص بعد حتی الآن
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1166 حدیث قدسی مکررات 3 متفق علیہ 3 بدون مکرر
یحیی بن جعفر عبدالرزاق معمر ہمام حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان کی اپنی صورت میں پیدا کیا ان کی لمبائی ساٹھ گز تھی جب اللہ نے ان کو پیدا کیا تو کہا کہ جاؤ اور ملائکہ کی اس جماعت کو جو بیٹھی ہے سلام کرو اور سنو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا چنانچہ انہوں نے کہا السلام علیکم فرشتوں نے کہا السلام علیکم و رحمۃ اللہ ان فرشتوں نے لفظ رحمۃ اللہ زیادہ کیا ہر وہ شخص جو جنت میں داخل ہوگا وہ آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوگا اس وقت سے اب تک آدمیوں کے قد میں کمی ہو رہی ہے۔
Narrated Abu Huraira:
The Prophet said, "Allah created Adam in his complete shape and form (directly), sixty cubits (about 30 meters) in height. When He created him, He said (to him), "Go and greet that group of angels sitting there, and listen what they will say in reply to you, for that will be your greeting and the greeting of your offspring." Adam (went and) said, 'As-Salamu alaikum (Peace be upon you).' They replied, 'AsSalamu-'Alaika wa Rahmatullah (Peace and Allah's Mercy be on you) So they increased 'Wa Rahmatullah' The Prophet added 'So whoever will enter Paradise, will be of the shape and form of Adam. Since then the creation of Adam's (offspring) (i.e. stature of human beings is being diminished continuously) to the present time."

54 - جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت کا بیان : (105)
جنت میں کچھ ایسی قوموں کے داخل ہونے کے بیان میں کہ جن کے دل پرندوں کی طرح ہوں گے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آدَمَ عَلَی صُورَتِهِ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمَّا خَلَقَهُ قَالَ اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَی أُولَئِکَ النَّفَرِ وَهُمْ نَفَرٌ مِنْ الْمَلَائِکَةِ جُلُوسٌ فَاسْتَمِعْ مَا يُجِيبُونَکَ فَإِنَّهَا تَحِيَّتُکَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِکَ قَالَ فَذَهَبَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ فَقَالُوا السَّلَامُ عَلَيْکَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَ فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَ فَکُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَی صُورَةِ آدَمَ وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمْ يَزَلْ الْخَلْقُ يَنْقُصُ بَعْدَهُ حَتَّی الْآنَ
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2663 حدیث مرفوع مکررات 3 متفق علیہ 3 بدون مکرر
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ عزوجل نے حضرت آدم کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا ان کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا تھا پھر جب اللہ عزوجل حضرت آدم کو پیدا فرما چکا تو فرمایا جاؤ اور فرشتوں کی اس جماعت کو سلام کرو اور وہاں بہت سے فرشتے بیٹھے ہیں پھر تم سننا کہ وہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں کیونکہ وہ فرشتے تمہیں جو جواب دیں گے وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا آپ نے فرمایا حضرت آدم گئے اور فرمایا السَّلَامُ عَلَيْکُمْ فرشتوں نے جواب میں کہا السَّلَامُ عَلَيْکَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ آپ نے فرمایا فرشتوں نے جواب میں وَرَحْمَةُ اللَّهِ کا اضافہ کردیا تو ہر آدمی کہ جو جنت میں داخل ہوگا وہ حضرت آدم کی صورت پر ہوگا اور اس کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا ہوگا پھر حضرت آدم کے بعد جتنے لوگ بھی پیدا ہوئے ان کے قد چھوٹے ہوتے رہے یہاں تک کہ یہ زمانہ آگیا۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, created Adam in His own image with His length of sixty cubits, and as He created him He told him to greet that group, and that was a party of angels sitting there, and listen to the response that they give him, for it would form his greeting and that of his offspring. He then went away and said: Peace be upon you! They (the angels) said: May there be peace upon you and the Mercy of Allah, and they made an addition of" Mercy of Allah". So he who would get into Paradise would get in the form of Adarn, his length being sixty cubits, then the people who followed him continued to diminish in size up to this day.
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (26-01-12)
پرانا 21-01-12, 09:29 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default حضرت آدم علیہ السلام کہاں ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا
سورہ النساء : 1
لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا۔
خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا
(الزمر: 6)
اس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اس نے اس سے اس کی بیوی بنائی
ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا لِیَسْکُنَ اِلَیْہَا
الاعراف، آیت ۱۸۹
اور وہی (اللہ) ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا فرمایا اور اسی میں سے اس کا جوڑ بنایا تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے

Chromosome 8 (human) - Wikipedia, the free encyclopedia

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا (4:1)

اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتداء) ایک جاندار سیل خلیہ سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑ X y پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا، اور ڈرو اس اللہ سے جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور قرابتوں (میں بھی تقوٰی اختیار کرو)، بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے

QXP Shabbir Ahemd** The noble goal of the development of human personality can be easier achieved in a benevolent society (9:111), ( 16:71 ), (43:32), (59:9). In this situation the individual and the society complement each other (14:34). At the outset, it is imperative for you, O Mankind, to know that all of you, men and women, have a common origin. Your Lord began the creation of life at the unicellular level. There was one life cell that divided into two, male and female (6:99). Evolution took place, as has been alluded to in this Book ( 16:8 ), (20:50), (21:30), (22:45), (30:20), ( 31:28 ), (51:49). Eventually, numerous men and women came into existence on the earth. Since all of you have this common origin, you must consider all mankind as one community (10:19), (57:25). Your first step in that direction is to strengthen your family relations. Be careful of your duty to Allah in Whose Name you expect rights from one another. Allah ever Watches over you.

خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ ۚ يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ ۚ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ ۖ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ ( 39:6 )
اس نے تم سب کو ایک حیاتیاتی خلیہ سے پیدا فرمایا پھر اس سے اسی جیسا جوڑ بنایا پھر اس نے تمہارے لئے آٹھ جاندار خلیے Chromosome 8 human مہیا کئے، وہ تمہاری ماؤں کے رحموں میں ایک تخلیقی مرحلہ سے اگلے تخلیقی مرحلہ میں ترتیب کے ساتھ تمہاری تشکیل کرتا ہے (اس عمل کو) تین قِسم کے تاریک پردوں میں (مکمل فرماتا ہے)، یہی تمہارا پروردگار ہے جو سب قدرت و سلطنت کا مالک ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر (تخلیق کے یہ مخفی حقائق جان لینے کے بعد بھی) تم کہاں بہکے پھرتے ہو

He has created you all out of one living entity (from a single life cell) - and fashioned similarly its mate, male and female. (6:99). and He provided for you eight genes, in pairs
. He creates you in the bellies of your mothers, creation after creation, in threefold depths of darkness (the abdominal wall, the uterine wall and the embryonic sac). Such is Allah, your Lord! Unto Him belongs the Kingdom. There is no god but He. How, then, can you sway like errant winds!

هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا ۖ فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ ۖ فَلَمَّا أَثْقَلَتْ دَعَوَا اللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ (7:189)

اور وہی (اللہ) ہے جس نے تم کو ایک جاندار سیل خلیہ سے پیدا فرمایا اور اسی میں سے اس کا جوڑ بنایا تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے، پھر جب مرد نے اس (عورت) کو ڈھانپ لیا تو وہ خفیف بوجھ کے ساتھ حاملہ ہوگئی، پھر وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی رہی، پھر جب وہ گراں بار ہوئی تو دونوں نے اپنے رب اللہ سے دعا کی کہ اگر تو ہمیں اچھا تندرست بچہ عطا فرما دے تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہوں گے

QXP Shabbir Ahemd** (The Message encompasses life in its totality.) Recall that Allah created life from a single life cell, then made male and female cells, and then shaped you into human beings, males and females. He designed it such that man might incline with love towards the woman. When he gets intimate with her, she carries a light load that she can hardly notice. As she grows heavy with the child, they both implore Allah, their Lord, "If you indeed grant us a healthy baby, we shall certainly be among the grateful."



Microbiology and Human Genetics within the Quran




حضرت آدم علیہ السلام کہاں ؟؟؟

wa 'anzala lakum minal 'an-ami thama-niyata 'azwaj;
and He provided for you eight genes, in pairs
The verb "anzala" means; to cause to descend; to provide. The collective noun "an'am" is used for living creatures. Here it refers to the life bearing Genes. The phrase "thama-niyata 'azwaj" means "eight-in-pairs". This is the reference to the Two Strands of DNA that are held together between the "Base Pair (bp)". Each strand has the GENETIC CODE (ATGC - Adenine, Thymine, Guanine and Cytosine). They makeup the bases of DNA. The instructions in a gene tells the cell how to make a specific protein. Each gene's code combines these As, Ts, Gs and Cs in various ways to spell out the 3-letter "words" that specify which amino acid is needed at every step in making a protein. The final structural arrangement of DNA looks like an immensely long ladder with two sides, twisted into a helix, or coil joined weakly in the middle by the "rungs". It is called the "double helix". Briefly, the two pairs of Genetic Codes (ATGC) are strategically provided within the wombs of our mothers to make the body parts.
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (26-01-12)
پرانا 22-01-12, 12:03 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فیصل بھائی پوچھتے تھے کہ میں‌نے کیوں‌سگنیچر میں‌منکرین حدیث‌کو کافر بنایا ہوا ہے۔ اگر وہ یہ دھاگا پڑھ رہے ہوں‌تو ذرا اوپر رانا صاحب کا پیش کردہ مضمون ضرور مکمل مطالعہ فرما لیں تاکہ انہیں‌اندازہ ہو جائے کہ منکرین حدیث‌کو میں‌نہیں، بلکہ پوری دنیا کے تمام مسلمانوں کے اکثر علمائے کرام نے کیوں قادیانیوں کی طرح کافر قرار دیا ہے۔ یہ حضرات نام تو اللہ ، فرشتے، رسول، کتب پر ایمان کا لیتے ہیں۔ لیکن ان کا ایمان وہ نہیں، جو عام مسلمانوں کا ہوتا ہے۔ درج بالا مضمون میں‌ ہی صرف یہ ملاحظہ کر لیجئے کہ ملائکہ یعنی فرشتوں اور ابلیس وغیرہ کو شخصیات کے بجائے قوتیں‌قرار دیا گیا ہے۔ اور مشہور منکر حدیث‌پرویز کے نزدیک جہاں اللہ کا ذکر آئے وہاں‌اللہ کا قانون مراد لے لینا چاہئے، اللہ و رسول کا ذکر آئے تو اس سے نظام ربوبیت مراد ہوتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ پورے قرآن کو تحریف معنوی سے ان لوگوں نے چیستاں بنا کر رکھ دیا ہے۔ نہ ان کی تحریفات کی کوئی حد ہے، نا ان میں‌غیرت وحمیت، شرم یا خوف خدا کی کوئی رمق ہے، کہ جس کی انہیں‌عار دلائی جا سکے ۔ دین و شریعت کو تو انہوں نے کھلونا بنا کر رکھ دیا ہے جب جہاں‌چاہتے ہیں‌، حسب خواہش قرآن کو مولڈ کر کے جیسا مطلب چاہتے ہیں ، پیدا کر دکھاتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ ان کے نصیب میں‌ہدایت ہے تو انہیں‌ہدایت دے دے، ورنہ انہیں‌ہلاک و تباہ و برباد کر دے ۔



















__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (22-01-12), حیدر Rehan (23-01-12)
پرانا 22-01-12, 12:06 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

















شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (22-01-12), کنعان (22-01-12), حیدر Rehan (23-01-12)
پرانا 22-01-12, 12:07 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حضرت آدم علیہ السلام -- اول البشر یا مطلق بشر؟ تحقیقی جائزہ!
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (22-01-12), حیدر Rehan (23-01-12)
پرانا 22-01-12, 03:02 AM   #8
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,725
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں

حضرت آدم علیہ السلام کہاں ؟؟؟

خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَأَنزَلَ لَكُم مِّنْ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِن بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ
( 39:6 )
اس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اس نے اس سے اس کی بیوی بنائی اور تمہارے لیے آٹھ نر اور مادہ چارپایوں کے پیدا کیے وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ایک کیفیت کے بعد دوسری کیفیت پر تین اندھیروں میں بناتا ہے یہی الله تمہارا رب ہے اسی کی بادشاہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں پھرے جا رہے ہو

----------------------------
تفاسیر

٦۔١ یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے، جن کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا تھا اور اپنی طرف سے اس میں روح پھونکی تھی۔

٦۔٢ یعنی حضرت حوا کو حضرت آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے پیدا فرمایا اور یہ بھی اس کا کمال قدرت ہے کیونکہ حضرت حوا کے علاوہ کسی بھی عورت کی تخلیق، کسی آدمی کی پسلی سے نہیں ہوئی۔ یوں یہ تخلیق امر عادی کے خلاف اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔

٦۔٣ یہ وہی چار قسم کے جانوروں کا بیان ہے بھیڑ، بکری، اونٹ، گائے، جو نر اور مادہ مل کر آٹھ ہو جاتے ہیں جن کا ذکر سورہ انعام میں گزر چکا ہے۔

٦۔٤ یعنی رحم مادر میں مختلف اطوار گزارتا ہے، پہلے، نطفہ، پھر عَلَقَۃَ پھر مُضْغَۃَ پھر ہڈیوں کا ڈھانچہ، جس کے اوپر گوشت کا لباس۔ ان کے تمام مراحل سے گزرنے کے بعد انسان کامل تیار ہوتا ہے۔

٦۔٥ ایک ماں کے پیٹ کا اندھیرا اور دوسرا رحم مادر کا اندھیرا اور تیسرا اس جھلی یا پردہ جس کے اندر بچہ لپٹا ہوتا ہے۔

٦۔٦ یا کیوں تم حق سے باطل کی طرف اور ہدایت سے گمراہی کی طرف پھر رہے ہو؟
(6)

--------------------------------------------------

ف ٢ یعنی آدم علیہ السلام اور ان کا جوڑا حضرت حواء۔

ف٣ یعنی تمہارے نفع اٹھانے کے لیے چوپایوں میں آٹھ نر و مادہ پیدا کیے۔ اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری جن کا ذکر سورہ "انعام" میں گزر چکا۔

ف٤ یعنی بتدریج پیدا کیا۔ مثلاً نطفہ سے علقہ بنایا، علقہ سے مضغہ بنایا، پھر ہڈیاں بنائیں، اور ان پر گوشت منڈھا، پھر روح پھونکی۔

ف ٥ ایک پیٹ اور دوسرا رحم، تیسری جھلی جس کے اندر بچہ ہوتا ہے۔ وہ جھلی بچہ کے ساتھ نکلتی ہے۔

ف ٦ یعنی جب خالق، رب، مالک اور ملک وہ ہی ہے تو معبود اس کے سوا کون ہو سکتا ہے۔ خدائے واحد کے لیے ان صفات کا اقرار کرنے کے بعد دوسرے کی بندگی کیسی۔ مطلب کے اتنا قریب پہنچ کر کدھر پھرے جاتے ہو۔

(کنگ فہد قرآن کمپلکس(
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (22-01-12), مرزا عامر (30-01-12), حیدر Rehan (23-01-12)
پرانا 22-01-12, 02:25 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اگر یہ احادیث قرآن کی تفسیر ہیں تو کون سی آیت کی تفسیر ہیں ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
پورے قرآن کو تحریف معنوی سے ان لوگوں نے چیستاں بنا کر رکھ دیا ہے۔ نہ ان کی تحریفات کی کوئی حد ہے، نا ان میں‌غیرت وحمیت، شرم یا خوف خدا کی کوئی رمق ہے، کہ جس کی انہیں‌عار دلائی جا سکے ۔ دین و شریعت کو تو انہوں نے کھلونا بنا کر رکھ دیا ہے جب جہاں ‌چاہتے ہیں‌، حسب خواہش قرآن کو مولڈ کر کے جیسا مطلب چاہتے ہیں ، پیدا کر دکھاتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ ان کے نصیب میں‌ہدایت ہے تو انہیں‌ہدایت دے دے، ورنہ انہیں ‌ہلاک و تباہ و برباد کر دے ۔
اگر یہ احادیث قرآن کی تفسیر ہیں تو کون سی آیت کی تفسیر ہیں ؟؟؟

کیا حضرت حوا علیہ السلام، حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا کی گئی ہیں ؟؟؟

2 - پاکی کا بیان : ( 298 )
اس لڑ کے کے پیشاب کے بیان میں جو کھانا نہیں کھاتا
حدثنا حوثرة بن محمد ومحمد بن سعيد بن يزيد بن إبراهيم قالا حدثنا معاذ بن هشام أنبأنا أبي عن قتادة عن أبي حرب بن أبي الأسود الديلي عن أبيه عن علي أن النبي صلی الله عليه وسلم قال في بول الرضيع ينضح بول الغلام ويغسل بول الجارية قال أبو الحسن بن سلمة حدثنا أحمد بن موسی بن معقل حدثنا أبو اليمان المصري قال سألت الشافعي عن حديث النبي صلی الله عليه وسلم يرش من بول الغلام ويغسل من بول الجارية والماان جميعا واحد قال لأن بول الغلام من الما والطين وبول الجارية من اللحم والدم ثم قال لي فهمت أو قال لقنت قال قلت لا قال إن الله تعالی لما خلق آدم خلقت حوا من ضلعه القصير فصار بول الغلام من الما والطين وصار بول الجارية من اللحم والدم قال قال لي فهمت قلت نعم قال لي نفعک الله به
سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 525 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 13
حوثرة بن محمد و محمد بن سعید بن یزید بن ابراہیم، معاذ بن ہشام، ہشام، قتادة، ابوحرب بن ابی الاسود دیلی، ابواسود دیلی، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دودھ پیتے بچے کے بول کے متعلق کہ لڑکے کے پیشاب پر پانی بہا دیا جائے اور لڑکی کے پیشاب کو اچھی طرح دھویا جائے۔ ابوالیمان مصری کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس مذکورہ فرمان کا مطلب پوچھا کہ دونوں پیشاب ہیں (پھر فرق کیوں ہے ؟) فرمایا اس لئے کہ لڑکے کا پیشاب پانی اور مٹی سے ہے اور لڑکی کا پیشاب گوشت اور خون سے ہے پھر پوچھا کہ سمجھے ؟ میں نے عرض کیا نہیں فرمایا اللہ تعالیٰ جب آدم علیہ السلام کو پیدا کر چکے تو حوا کو ان کی چھوٹی پسلی سے پیدا کیا اس لئے لڑکے کا پیشاب پانی اور مٹی سے (جس سے آدم پیدا کئے گئے) اور لڑکی کا پیشاب گوشت اور خون سے ہے کہتے ہیں کہ امام شافعی نے مجھے سے پوچھا سمجھ گئے ؟ میں نے عرض کیا جی ، فرمایا اللہ اس بات سے تمھیں نفع دے ۔

100 - باری مقرر کرنے کا بیان : (43)
عورت کی کجی کو سخت روی سے دور نہیں کیا جاسکتا
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " استوصوا بالنساء خيرا فإنهن خلقن من ضلع وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه فإن ذهبت تقيمه كسرته وإن تركته لم يزل أعوج فاستوصوا بالنساء "
مشکوۃ شریف:جلد سوم:حدیث نمبر 440
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " عورتوں کے حق میں بھلائی کی وصیت قبول کرو، اس لئے کہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں جو ٹیڑھی ہے اور سب سے زیادہ ٹیڑھا پن اس پسلی میں ہے جو اوپر کی ہے لہٰذا اگر تم پسلی کو سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اس کو توڑ دو گے اور اگر پسلی کو اپنے حال پر چھوڑ دو تو وہ ہمیشہ ٹیڑھی رہے گی اس لئے عورتوں کے حق میں بھلائی کی وصیت قبول کرو" (بخاری و مسلم)

تشریح :
اس ارشاد گرامی نے عورتوں کی خلقت و طبیعت کے بارے میں دو بنیادی نکتے بیان کئے ہیں اول تو یہ کہ عورتوں کی اصل و بنیاد حضرت حوا ہیں جو حضرت آدم علیہ السلام کی اوپر کی پسلی سے پیدا ہوئی ہیں جو بہت زیادہ ٹیڑھی ہوتی ہے لہٰذا عورتوں کی اصل خلقت ہی میں ٹیڑھا پن ہے جسے کوئی درست نہیں کر سکتا ۔ دوم یہ کہ جس طرح پسلی کا حال ہے کہ اگر کوئی اسے سیدھا کرنا چاہے تو سیدھی نہیں ہو گی بلکہ ٹوٹ جائے گی اور اگر اس کو اسی حالت پر چھوڑ دیا جائے تو ہمیشہ ٹیڑھی رہے گی ٹھیک اسی طرح عورتوں کا حال ہے کہ ان کی اصل خلقت ہی میں چونکہ اعمال و اخلاق کی کجی ہے اس لئے اگر مرد چاہیں کہ ان کی جی کو درست کر دیں تو وہ اس میں کامیاب نہیں ہوں گے بلکہ اس کو توڑ ڈالیں گے (توڑنے سے مراد طلاق دینا ہے جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہو گا) ۔ لہٰذا عورتوں سے فائدہ اٹھانا اور ان کا کار آمد رہنا اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ ان کو ان کے خلقی ٹیڑھے پن پر چھوڑے رکھا جائے پس حدیث کا حاصل یہ ہوا کہ عورتوں کی اصلاح و درستگی کا م، عاملہ بہت پیچیدہ اور نازک ہے ان کی غلطیوں اور کو تاہیوں پر سخت روی اور غیظ و غضب کی بجائے ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہئے اور اس بنیادی نکتہ کو ملحوظ رکھنا چاہئے کہ ان کے ٹیڑھے پن کو درست کرنے کے لئے اگر سختی سے کام لیا جائے گا ۔ اس کا انجام ان کی توڑ پھوڑ یعنی طلاق کی صورت میں ظاہر ہوگا جو ان عورتوں ہی کے لئے تباہی کا باعث نہی ہوگا بلکہ خود اپنی زندگی کے لئے بھی نقصان دہ اور اضطراب انگیز ہو گا ۔ اس لئے اپنی عورتوں کے ساتھ نرم معاملہ رکھو اور ان کے ٹیڑھے پن پر صبر کرو اور یہ طریقہ چھوڑ دو کہ وہ سب باتوں میں تمہاری مرضی اور تمہاری خواہش کے مطابق عمل کریں گی لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ان کا ٹیڑھا پن اگر روز مرہ کی گھریلو زندگی اور معاشرتی امور سے گزر کر گناہ و معصیت کی حدود میں پہنچ جائے تب بھی اس پر صبر کیا جائے بلکہ ان کے ٹیڑھے پن پر صبر کرنا اور اس سے چشم پوشی کرنا اس وقت تک مناسب ہو گا ۔ جب تک کوئی گناہ لازم نہ آئے ۔ اگر گناہ لازم آئے تو پھر تغافل اور چشم پوشی بالکل مناسب نہیں ہو گی ۔

100 - باری مقرر کرنے کا بیان : (43)
عورت کی کجی کو سخت روی سے دور نہیں کیا جاسکتا
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " إن المرأة خلقت من ضلع لن تستقيم لك على طريقة فإن استمتعت بها استمتعت بها وبها عوج وإن ذهبت تقيمها كسرتها وكسرها طلاقها " . رواه مسلم
مشکوۃ شریف:جلد سوم:حدیث نمبر 441
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " عورت کی اصل اور بنیاد یعنی اس کی ماں حوا چونکہ (حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا کی گئی ہے ۔ اس لئے تمہارے لئے کسی ایک راہ پر ہرگز سیدھی نہیں ہوگی۔ لہٰذا اگر تم اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو اس کے ٹیڑھے پن ہی کی حالت میں اس سے ٹیڑھے پن ہی کی حالت میں فائدہ اٹھاؤ اور اگر تم اس کو سیدھا کرنا چاہو گے تو اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا کہ تم اسے توڑ ڈالو گے اور اس کا توڑنا طلاق دینا ہے" (مسلم)

تشریح :
" ہرگز سیدھی نہیں ہو گی" کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم یہ چاہو کہ کوئی عورت کسی ایک حالت پر ہمیشہ قائم رہے تو یہ ناممکن ہے کیونکہ اس کی خلقت ہی میں چونکہ کجی ہے اسی لئے اس کی حالت بدلتی سدلتی رہے گی کبھی شکر گزاری کی راہ چھوڑ کر ناشکری کا راستہ اختیار کرے گی کبھی طاعت و فرمانبرداری کے راستہ پر چلتے چلتے نافرمانی کی راہ پر پڑھ جائے گی کبھی قناعت کو بالائے طاق رکھ کر طمع و حرص کے جال میں پھنس جائے گی غرضیکہ اسی طرح اس کے مزاج و عمل میں دوسرے تغیرات پیدا ہوتے رہیں گے۔

Genesis Chapter 2

21 And the LORD God caused a deep sleep to fall upon the man, and he slept; and He took one of his ribs, and closed up the place with flesh instead thereof.

ایک غیر قرآنی عیسائی عقیدے کا بیان

"...a rib..." (Genesis 2:21–24) - Hebrew tsela` or sela can mean side, chamber, rib, or beam. The traditional reading of "rib" has been questioned recently by feminist theologians who suggest it should instead be rendered as "side," supporting the idea that woman is man's equal and not his subordinate.[9] Such a reading shares elements in common with Aristophanes' story of the origin of love and the separation of the sexes in Plato's Symposium.[10]

Adam and Eve - Wikipedia, the free encyclopedia
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-01-12, 02:58 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اللہ شکاری بھائی کے علاوہ سارے فرقوں کے مترجم کو ‌ہلاک و تباہ و برباد کر دے۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
پورے قرآن کو تحریف معنوی سے ان لوگوں نے چیستاں بنا کر رکھ دیا ہے۔ نہ ان کی تحریفات کی کوئی حد ہے، نا ان میں‌غیرت وحمیت، شرم یا خوف خدا کی کوئی رمق ہے، کہ جس کی انہیں‌ عار دلائی جا سکے ۔ دین و شریعت کو تو انہوں نے کھلونا بنا کر رکھ دیا ہے جب جہاں ‌چاہتے ہیں‌، حسب خواہش قرآن کو مولڈ کر کے جیسا مطلب چاہتے ہیں ، پیدا کر دکھاتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ ان کے نصیب میں ‌ہدایت ہے تو انہیں‌ہدایت دے دے، ورنہ انہیں ‌ہلاک و تباہ و برباد کر دے ۔

اللہ شکاری بھائی کے علاوہ سارے فرقوں کے مترجم کو ‌ہلاک و تباہ و برباد کر دے، جنہوں نے نفس واحدة کا ترجمہ آدم کی بجائے حیاتیاتی خلیہ کیا !!!

Tahir ul Qadri

[39:6] اس نے تم سب کو ایک حیاتیاتی خلیہ سے پیدا فرمایا پھر اس سے اسی جیسا جوڑ بنایا پھر اس نے تمہارے لئے آٹھ جاندار جانور مہیا کئے، وہ تمہاری ماؤں کے رحموں میں ایک تخلیقی مرحلہ سے اگلے تخلیقی مرحلہ میں ترتیب کے ساتھ تمہاری تشکیل کرتا ہے (اس عمل کو) تین قِسم کے تاریک پردوں میں (مکمل فرماتا ہے)، یہی تمہارا پروردگار ہے جو سب قدرت و سلطنت کا مالک ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر (تخلیق کے یہ مخفی حقائق جان لینے کے بعد بھی) تم کہاں بہکے پھرتے ہو

Asad He has created you [all] out of one living entity, and out of it fashioned its mate; [See 4:1 and the corresponding note.] and he has bestowed upon you four kinds of cattle of either sex; [Lit., "eight [in] pairs", i.e., the male and the female of four kinds of cattle (sheep, goats, camels and bovine cattle). For an explanation of my rendering, see note on 6:143-144, where the same kinds of domesticated cattle are spoken of in connection with certain meaningless, superstitious taboos of pre-Islamic times, whereas here they are mentioned as "bestowed upon you" by God, and therefore lawful. Beyond this, the mention of cattle in this context is meant to remind man that it is God who provides his sustenance and therefore, man is utterly dependent on Him.] [and] He creates you in your mothers' wombs, one act of creation after another, in threefold depths of darkness. [Lit., "by creation after creation, in three darknesses": an allusion to the successive stages of embryonic development, repeatedly spoken of in the Quran (cf. 22:5 and 23:12-14), and to the darkness of the womb, the membrane enveloping the embryo, and its pre-natal blindness.] Thus is God, your Sustainer: unto Him belongs all dominion: there is no deity save Him: how, then, can you lose sight of the truth? [Lit., "how, then, are you turned away?" - i.e., from the truth.]

QXP Shabbir Ahemd** He has created you all out of one living entity (from a single life cell) - and fashioned similarly its mate, male and female. (6:99). And He has bestowed upon you cattle of eight kinds in pairs. (Sheep, goat, camel, cow - male and female, the common permissible livestock (6:144-146).) He creates you in the bellies of your mothers, creation after creation, in threefold depths of darkness (the abdominal wall, the uterine wall and the embryonic sac). Such is Allah, your Lord! Unto Him belongs the Kingdom. There is no god but He. How, then, can you sway like errant winds!

http://www.openburhan.net/ob.php?sid=39&vid=6
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 23-01-12, 02:34 PM   #11
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت مشکل موضوع ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جوان ، بوڑھا ہوجائے سمجھتے سمجھتے۔۔۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (23-01-12)
پرانا 23-01-12, 06:15 PM   #12
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رانا عمار صاحب ایک بات کی وضاحت چاہتا ہوں ۔ آپ نے جو کتاب یا کتابچہ پیسٹ کیا ہے اس میں ارتقا کی بات آئی ہے ۔ کیا مصنف یہ کہنا چاہ رہا ہے ۔ کہ انسان پہلے بندر تھا ۔ کیا مصنف قران سے ڈارون کی تھیوری کو ثابت کرنا چاہ رہا ہے ۔ آپ نے جو کتابچہ پیسٹ کیا ہے اس کے پہلے نمبر میں ہی یہ بات آئی ہے ۔ پڑھیئے ۔
1 انسان اول کی پیدائش کا مسئلہ
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (23-01-12), کنعان (24-01-12), شکاری (23-01-12)
پرانا 23-01-12, 06:42 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default سب سے پہلے ارتقاء کا نظریہ ابن خلدون نے اپنی کتاب تاریخ ابن خلدون میں لکھا ہے۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
رانا عمار صاحب ایک بات کی وضاحت چاہتا ہوں ۔ آپ نے جو کتاب یا کتابچہ پیسٹ کیا ہے اس میں ارتقا کی بات آئی ہے ۔ کیا مصنف یہ کہنا چاہ رہا ہے ۔ کہ انسان پہلے بندر تھا ۔ کیا مصنف قران سے ڈارون کی تھیوری کو ثابت کرنا چاہ رہا ہے ۔ آپ نے جو کتابچہ پیسٹ کیا ہے اس کے پہلے نمبر میں ہی یہ بات آئی ہے ۔ پڑھیئے ۔
1 انسان اول کی پیدائش کا مسئلہ

نہیں بلکہ بندر پہلے انسان تھا، کیا اس لیے رجم کرتا ہے ؟؟؟

43 - انبیاء علیہم السلام کا بیان : (585)
دور جاہلیت میں قسامت کا بیان۔

حدثنا نعيم بن حماد حدثنا هشيم عن حصين عن عمرو بن ميمون قال رأيت في الجاهلية قردة اجتمع عليها قردة قد زنت فرجموها فرجمتها معهم

صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1050 حدیث مقطوع مکررات 1
نعیم بن حماد ہشیم حصین عمرو بن میمون سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بندر کو جس نے زنا کیا تھا دیکھا کہ بہت سے بندر اس کے پاس جمع ہو گئے اور ان سب نے اسے سنگسار کردیا میں نے بھی ان کے ساتھ اسے سنگسار کیا۔

Narrated 'Amr bin Maimun:
During the pre-lslamic period of ignorance I saw a she-monkey surrounded by a number of monkeys. They were all stoning it, because it had committed illegal sexual intercourse. I too, stoned it along with them.

سب سے پہلے، ڈارون کی تھیوری سے پہلے ارتقاء کا نظریہ ابن خلدون نے اپنی کتاب تاریخ ابن خلدون میں لکھا ہے۔

Last edited by rana ammar mazhar; 23-01-12 at 06:53 PM.
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 23-01-12, 08:48 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ان
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
رانا عمار صاحب ایک بات کی وضاحت چاہتا ہوں ۔ آپ نے جو کتاب یا کتابچہ پیسٹ کیا ہے اس میں ارتقا کی بات آئی ہے ۔ کیا مصنف یہ کہنا چاہ رہا ہے ۔ کہ انسان پہلے بندر تھا ۔ کیا مصنف قران سے ڈارون کی تھیوری کو ثابت کرنا چاہ رہا ہے ۔ آپ نے جو کتابچہ پیسٹ کیا ہے اس کے پہلے نمبر میں ہی یہ بات آئی ہے ۔ پڑھیئے ۔
1 انسان اول کی پیدائش کا مسئلہ
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
[COLOR="Blue"][B]
نہیں بلکہ بندر پہلے انسان تھا، کیا اس لیے رجم کرتا ہے ؟؟؟
رانا صاحب،
سوال تو بہت اہم ہے۔ ازراہ کرم قرآن کی روشنی میں‌جواب عنایت فرما دیں۔ احادیث‌سے الزامی جواب پیش کرنے کا فائدہ نہیں۔ ہمارا موقت جاننا ہو یا اگر آپ کو بندروں کو سنگسار کرنے پر اعتراض ہو تو وہ علیحدہ دھاگے میں ڈسکس کر لیتے ہیں۔ فی الوقت تو مرزا صاحب کے سوال کا جواب عنایت فرمائیے کہ کیا انسان نباتاتی اور پھر نیم حیوانی، حیوانی راستوں سے ہوتا ہوا انسان بنا ہے یا براہ راست انسان ہی پیدا کیا گیا ہے؟
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (23-01-12), مرزا عامر (29-01-12), حیدر Rehan (26-01-12)
پرانا 23-01-12, 09:37 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default حیات نباتاتی اور پھر نیم حیوانی، حیوانی راستوں سے ہوتی ہوئی انسان أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ تک آئی ہے !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
ان
رانا صاحب،
سوال تو بہت اہم ہے۔ ازراہ کرم قرآن کی روشنی میں‌جواب عنایت فرما دیں۔ احادیث‌سے الزامی جواب پیش کرنے کا فائدہ نہیں۔ ہمارا موقت جاننا ہو یا اگر آپ کو بندروں کو سنگسار کرنے پر اعتراض ہو تو وہ علیحدہ دھاگے میں ڈسکس کر لیتے ہیں۔ فی الوقت تو مرزا صاحب کے سوال کا جواب عنایت فرمائیے کہ کیا انسان نباتاتی اور پھر نیم حیوانی، حیوانی راستوں سے ہوتا ہوا انسان بنا ہے یا براہ راست انسان ہی پیدا کیا گیا ہے؟

ارتقاء کا نظریہ ابن خلدون نے اپنی کتاب مقدمہ تاریخ ابن خلدون میں لکھا ہے کہ حیات نباتاتی اور پھر نیم حیوانی، حیوانی راستوں سے ہوتی ہوئی انسان أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ تک آئی ہے !!!

لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (95:4)
کہ ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے
We have indeed created man in the best of moulds,‎

ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ (95:5)
پھر (رفتہ رفتہ) اس (کی حالت) کو (بدل کر) پست سے پست کر دیا
Then do We abase him (to be) the lowest of the low,-‎
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (29-01-12)
جواب

Tags
قرآن کریم, قصہ, نظر, آدم ؑ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:08 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger