| علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 351
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سیدنا خاتم الانبیاء علیہ السلام کی طرف منسوب معجزات
شق القمر امام بخاری نے اپنی کتاب التفسیر کے اندر ایک عنوان لکھا ہے اقتربت الساعت کے نام سے اسپرباب کا لفظ نہیں لکھا ہے البت اسکو ۸۲۸ کا نمبر دیا ہے اسکے ذیل میں شروع کی چار حدیثوں میں چاند کے دوٹکڑے ہونے کا ذکر لایا ہے اسکے ذیل میں شروع کی چار حدیثوں میں چاند کے دوٹکڑے ہونے کا ذکر لایا ہے پہلی حدیث میں ہے کہ انشق القمر علی عھد رسول ﷺ فرقتین فرقۃ فوق الجبل وفرقۃ دونہ فقال رسول اﷲ اشھدو ا یعنی رسول اﷲ کے زمانہ میں چاند دوحصوں میں چیر ہوگیا تھا ایک حصہ جبل کے اوپر اور ایک حصہ اسکے علاوہ پھر رسول اﷲ نے فرمایا کو دیکہو، دوسری حدیث میں ہے کہ انشق القمر ونحن مع النبی ﷺ فصارفرقتن فقال لنا اشہد وا اشہد وا یعنی راوی کہتا ہے کہ ہم رسول اﷲ کے ساتھ تھے تو چاند دو ٹکڑے ہوگیا پھر رسول اﷲ نے فرمایا کہ دیکھو دیکھو، تیسری حدیث میں ہے کہ انشق القمر فی زمان النبی ﷺ یعنی نبی علیہ السلام کے زمانہ میں چاند ٹکڑے ہواتھا جناب قارئین! ان حدیثوں پر جو ٹیکنیکل اعتراضات ہیں ان سب کو چھوڑ تے ہوئے صرف انکے خلاف قرآن ہونے پر مختصر گفتگو کرتے ہیں مزید بس۔ سورۃ حمٓ السجدہ میں فرمایا ہے کہ وزیناالسماء الدنیا بمصابیح وحفظا ذالک تقدیر العزیزالعلیم(۱۲-۱۴) یعنی دنیا والے آسمان کو ہمنے مصابیح سے مزین کیا ہے اور اسکے ان روشن کرہ جات کی جوٹریفک ہے اس سے بھی اور یہ محافظ بھی ہے کسی بھی چیز کو آپس میں ٹکرانے اور ٹوٹنے نہیں دیتی جوان کروں کے اندر ایکسیڈنٹ نہ ہونے پائے نیچے گرنے نہ پائے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آسمانوں سے دودارستاروں اور سماوی پتھروں یعنی شھاب ثاقب کی بارش ہوتی ہے اگر یہ نیچے زمینپر گرجائیں تو بڑی تباھی اور ھلاکت کاباعث بنجائیں لیکن اﷲ نے خلاؤں میں ہوا کی گرینڈر مشینوں کا انتظام کیا ہوا ہے جو اوپر کے کروں کی کوئی بھی چیز یا انکا حصہ نیچے زمیں پر نہیں آسکتا راستہ میں تحلیل ہوجاتا ہے اور سورۃ حجرمیں فرمایا کہ ولقد جعلنا فی السماء بروجا وزیناھا للناظرین۔ وحفظنا ھامن کل شیطان رجیم(۴۱/ ۱۶-۱۷) یعنی آسمان میں ہمنے ایسے بروج (مورچے) فٹ کئے ہوئے ہیں جنسے ایک طرف تو دیکھنے والوں کیلئے آسمان مزین لگتاہے دوسری طرف ان مورچوں یعنی بروج سے آسمان کی حفاظت مقصود ہوتی ہے تخریبی قوتوں سے۔ جناب قارئین! جن حدیث ساز اماموں نے چاند کے دوٹکڑے کرکے ایک کو مکہ کے پہاڑوں پر اتاراہے دوسرے ٹکڑے کو کھایا ہے انہوں نے یا تو امت مسلمہ کو جاہل سمجھ کریہ حدیث بنائی ہے یا خود جاھل تھے اس بات سے کو زمین کے مقابلہ میں چاند والے کرہ کا عرض وطول کتنا ہے اور شمس وقمر کیلئے جو اﷲ نے فرمایا ہے کہ وھوالذی خلق اللیل والنھاروالشمس، والقمر کل فی فلک یسبحون (۳۳-۲۱) یعنی سورج اور چاند کھکشان کے مدارمیں چکر کاٹ رہے ہیں، امام لوگوں کو خبر نہیں کہ کتنا اور کس قسم کا علم تھا حقیقت یہ ہے کہ مدار میں کروں کے چکروں کا جو حساب ہے اس میں اگر توازن کے لحاظ سے کوئی ایک کرہ بھی ذرہ برابر بھی اپنے روٹ سے گرکر مکہ کی پہاڑیوں پر معجزہ دکھانے کیلئے آجائے تو اﷲ کی قرآن کی یہ آیت جھوٹی بنجائیگی کہ وسع کرسیہ السماوات والارض والایؤدۃ حفظھماوھوالعلی العظیم (۲۵۵-۲) یعنی اﷲ کا کنٹرول اور اقتدار آسمانوں اور زمیں پرمحیط ہے انکی حفاظت اﷲ کو ہرگز نہیں تھکاتی وہ بلند وبالا ہے اور کسی کرہ کے اوپر نیچے ہونے سے ہماری دنیا تباہ ہوجاتی، مطلب کہ امام مافیاان معجزوں والی روایت سازی میں ایک طرف جناب رسول اﷲ کی غلط قسم کی تعرفیں کرکے ہمیں بیوقوف بناتے ہیں دوسری طرف اﷲ کے سارے نظام کائنات کو ایک قسم کا بچوں کا کھیل کرکے پیش کرتے ہیں جس کے لئے اﷲ پاک باربار چئلنج کرتا ہے کہ فارجع البصرھل تری من فطور(۳-۶۷) بار بار آنکھیں لوٹا کردیکھ میرے سماوی طبقوں کے طبقاتی زینت والی سینٹنگ کو کیا انکی تخلیق میں کوئی تفاوت تجھے نظر آتاہے، محترم قارئین! ان حدیث سازوں نے ایک طرف کروڑوں کلومیٹروں سے بھی زیادہ وسیع وعریض کرہ چاندکو معجزہ سازی کی حدیث بنانے والوں نے ایک طرف اپنی جگہ سے ہٹایا ہے دوسری طرف اسکو کاٹ کر دوٹکڑے کرنے کا انکے پاس کوئی آرہ مشین والا لمبا چوڑا کرٹ بھی تھا جو اس سے انہیوں نے چاند کو چیرا بھی ہے، جبکہ خود جنوں کا بیان ہے کہ وانا المسنا السماء فوجدنا ھا ملئت حرسا شدید اوشھبا(۷-۷۲) کہ ہمنے آسمان کا معائنہ کیا ہے جواب وہ پہرے دینے والوں سے بڑے پئمانے پر بھرا ہواہے، اور وہاں جانے والوں پر شھاب ثاقب سے گولہ باری ہوتی ہے، اب ان حدیث سازوں سے کون پوچھے کہ پہلے بتاؤ کو آسمان پر تم پہنچے کیسے پھر چاند والے کرہ جو کڑوڑوں میل لمبے چوڑے فاصلہ پر محیط ہے اسکو تمنے کاٹاکیسے؟ اس دوران اﷲ کے حفاظتی انتظامات کہاں گم ہوگئے تھے ، انکی شق قمر والی حدیثوں سے خود جناب رسول اﷲ علیہ السلام کے علمیت کی ہلکاپن ثابت ہوتی ہے اور جناب رسول اﷲ علیہ السلام کی شخصیت باعث تصنحیک ہوجاتی ہے کیونکہ حدیثوں کی عبارتوں سے چاند کی ناپ تول توجیسے کہ حلوے کے پلیٹ کے برابر محسوس ہوتی ہے، ان حدیث ساز اماموں نے جناب رسول اﷲکے نام کی ایسی حدیثیں بنا کر دنیا والوں کے سامنے ایک طرح سے توہیں رسالت کی ہے تو ہیں رسول کی ہے، توہیں رسالت اسطرح کہ نفس معجزہ قرآن کے اصول ہدایت کے خلاف ہے اصول ہدایت کیا ہیں یہ بات قرآن نے اسطرح سمجھائی ہے کہ ان الذین لایؤمنون بآیات اﷲ لایھدیھم اﷲ ولھم عذاب الیم(۱۰۴-۱۶) یعنی ہدایت صرف ان لوگوں کو ملے گی جو اﷲ کی آیات پر ایمان لاتے ہونگے، اگر معجزات سے کسی کو ہدایت ملتی ہوتی تو اﷲ کی آیات پر ایمان لاتے ہونگے، اگر معجزات سے کسی کو ہدایت ملتی ہوتی تو اﷲ عزوجل اپنے رسول کو یوں نہ فرماتے کہ انک لاتھدی من احببت ولٰکن اﷲ یھدی من یشاء وھواعلم بالمھتدین (۵۶-۲۸) یعنی آپ جسکو چاہیں اسکو ہدایت نہیں دے سکتے لیکن ہدایت صرف ان لوگوں کو ملے گی جنکو اﷲ کا قانون مشیت پاس کریگا کیوں کہ اﷲ کو ایسے لوگوں کا حال معلوم جن کے دلوں میں ہدایت حاصل کرنے کاخلوص اور جستجو ہے، یہ دلوں سے تعلق رکھنے والی بات ہے اے رسول اس اندر کی چاہت کو صرف اﷲ جانتا ہے، دیکھا جناب قارئین! اس ماجرا سے یہ ثابت ہواکہ ہدایت معجزوں سے نہیں ملاکرتی، امام بخاری نے جو یہ جھوٹی چار حدیثٰن سورۃ قمر کے تفسیر میں اپنے کتاب کے اندر لائی ہیں تو قمر کے تفسیر کے لئے ان حدیثوں میں تو قمر کے ٹکڑے کرنے کی بات آئی کیا یہ ایسی حدیثیں بھی قرآن کا کوئی تفسیر بن سکتی ہیں، علم حدیث کو قمر کا تفسیر کرنا تھا تو والقمر قدرناو منازل حتی عاد کالعرجون القدیم جیسا تفسیر کرتا، علم حدیث کو قمر کا تفسیر کرنا تھا تو یسئلونک عن الاھلہ قل ھی مواقیت للنا والحج کی طرح کا تفسیر کرکے دکھاتا جو کہ اس بات کو میں نے اپنی کتاب کیا علم حدیث قرآن کا تفسیر کرسکتا ہے؟ میں بھی لایا ہے سو یہ موضوع چونکہ معجزات سے متعلق ہے تو گذارش یہ ہے کہ اﷲ جل شانہ اگر لوگوں کو زورسے طاقت سے غلبہ سے اپنی الوہیاتی قوت سے جبرسے کسی کوہدایت دینے کا قائل ہوتا یا اسے روا سمجھتا تو یہ ہرگز نہ فرماتا کہ أنلز مکموھا وانتم لھا کارھوں(۲۷-۱۱) یعنی تم تو ھدایت لینے سے کراہت کرتے رہو اور ہم تمہیں وہ زور سے چمٹاتے رہیں، میرے خیال میں خالص عقل رکھنے والوں کے لئے معجزوں سے متعلق گذارشات کافی آچکی ہیں رہتاہے یہ سوال کہ پھر سورۃ قمر میں فرمان ربی کہ اقتربت الساعۃ وانشق القمر کی معنی کیا ہے تو جناب عالیٰ جیسے کہ عربوں کی حکومت کے جھنڈے کانشان اسکے کپڑے میں چاند پرنٹ کیا ہوتا تھا تو اﷲ جل شانہ انہیں وارننگ دے رہاہے کہ وہ انقلاب کی گھڑی بہت قریب ہے ابھی تمہارا سیاسی شان وشوکت والا چاند کے نشان کا جھنڈا گلی گلی میں روندا جائے گا وقت ہے سنبھل جاؤ! یہ ہے اسکی معنی، جناب قارئین! میں اخیر میں معجزہ سازی کا اصل پسمنظر خدمت میں عرض کردوں کہ اسلامی انقلاب کی دشمن حدیث ساز امام مافیا جوکہ یھود مجوس اور نصاری ٰ کے اتحاد ثلاثہ کی معجوں مرکب تھی انہوں نے یہ تو سمجھا ہوا تھا کہ جب قرآن کا محافظ اﷲ ہے اسوجہ سے قرآن کے متن اورٹئکسٹ کو تو دنیا سے ختم نہیں کرسکتے اسلئے کیوں نہ دنیا بھر میں سیاسی انقلابات کے اس مرکزی کتاب کی مفھوم کو سیاسی دہاروں سے موڑ کراسے رہبانی راہوں کا چھومنتر والا دعا تعویذ کا کتاب بنا دیں تاکہ کوئی اس کتاب کے ذریعے دنیا کے لٹیروں کے تخت گرانے اور تاج اچھالنے کا کام نہ لے سکے جس کام کیلئے یہ کتاب اﷲ نے انسانوں کی طرف نازل کی ہے، شق قمر کو معجزہ بنانے والوں کا رد یہیں تک ختم کرتے ہیں۔ لڑائیوں میں رسول اﷲ کو ملائکوں کی مدد جناب قارئین! اس سلسلہ میں علم الحدیث کی عجیب عجیب روایات ذخیرہ کتب میں موجود ہیں جو میدان جنگ سے واپسی پر جبریل خود آکر رسول اﷲ سے کہتے ہیں کہ آپنے تو جنگی لباس بدل کرہتھیار رکھدئے ہیں لیکن ہم ملائک تو ابھی تک ہتھیار بند چوکس کھڑے ہیں وغیرہ وغیرہ یا اصحابوں کے ناموں کے روایات کہ کوئی کہے کہ میں نے ملائک کو ایسے لباس میں دیکھا مین نے ملائک ایسے گھوڑے پر دیکھا، ان سب روایتوں کو اسلئے مسلم امت کے علمی ذخیروں میں جگہ ملی ہے جوانہوں نے اس مسئلہ میں قرآن کو غور سے نہیں پڑہا، سورۃ آل عمران میں ہے کہ اذتقول للمؤمنین الن یکفیکم ان یمد کم ربکم بثلثۃ اٰلاف من الملائکۃ منزلیں(۱۲۴-۳) یعنی اے رسول جب میدان احد کی جنگ میں آپ اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑہانے کیلئے فرمارہے تھے کہ کیا تمہارے لئے یہ کافی نہیں کہ اﷲ تمہاری مدد فرمائے تین ھزار ملائکوں کے ساتھ (یعنی کہ جتنی اب تمہاری تعداد ہے) ہاں اگر تم موجودہ تعداد سے بڑہ کر اگر مثال کے طور پر پانچ ہزار ہوتے تو اﷲ ملائکوں کو بھی بڑہا کر پانچ ہزار کردیتا، جناب قارئین! ملائکوں کو سمجھنا کہ یہ کس قسم کی امدادی ٹیم ہے یہ اگلی آیت (۱۲۶) پر غورکرنے سے سمجھ میں آتی ہے فرمان ہے کہ وماجعلہ اﷲ الابشریٰ لکم ولتطمئن قلوبکم بہ وماالنصر الامن عنداﷲ العزیزالحکیم(۱۲۶-۳) یعنی یہ ملائکوں کے نام سے جو حقیقت ہے وہ صرف ایک قسم کی خوشخبری ہے تمہارے لئے تمہارے اطمینان قلوب کیلئے اصلی مدد تو اﷲ کے قوانین جنگ پر عمل کرنے سے ملتی ہے جو اﷲ غالب اور حکمت والا ہے، محترم قارئین! دیکھا آپنے اس آیت میں ملائکہ کی تشریح تعارف ، مفھوم اﷲ ملائکوں کی ڈیوٹی اطمینان قلوب اور فتح کایقین اور خوشخبری دلانا قرار دیا ہے جسے ایک ملائک ایک سپاھی کے ساتھ رہکر اسے فیڈ کرتا رہتا ہے، ملائک خود لڑتا نہیں ہے دوسری دلیل یہ ہے کہ جب سپاہیوں کی تعداد تین ھزار ہے تو ملائکوں کی تعداد بھی تین ہزار بتائی جاتی ہے اسکی معنی کہ ہر سپاہی اطمینان قلب سے ہوگا اور فتح کی خوشخبری سے سرشار ہوگا تو اسکے لڑنے کے ڈہنگ میں ایک قسم کی حوصلہ مندی اور عزم ہوگا اور فتح حاصل کرنے کایقین بھی اسکے ذہنی اطمینان سے ہوگا تو انکے لڑنے کے اطوار کچھ نرالے ہوجائینگے اس حقیقت کو سمجھنے کیلئے بدرکے میدان جنگ میں لشکر والوں سے خطاب کو سمجھیں اذتستغیثوں ربکم فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملائکۃ مردفین، ۸/۹ یعنی جب تم لڑائی میں مدد کے لئے اپنے رب سے مدد طلب کررہے تھے تو اﷲ نے تمہاری درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تمہاری مدد کررہاہوں ایک ھزار ملائکوں سے جو آپکے مردفین ہونگے اور جداگھوڑوں پر یا پیدل ہتھیار لیکر لڑنے والے نہیں ہونگے ،ان کا کام صرف ذہنی تثبیت دینا ہے ردیف کی معنی ہے مکمل طور پر ہموزن ساتھ کا ساتھی ایک ہی سواری پر ایک ساتھ سوار ہونے والا شعریا بیت کے دومصرعوں کو آپس میں ردیف کہاجاتا ہے اور اشعار کے مصرعوں والے ردیف کیلئے شرط ہے کہ دوسرے مصرعہ کا برابر کا ھموزن ہو، اس بات کا مطلب یہ ہواکہ قرآن نے جنگ بدر کے لڑنے والے سپاہ کی تعداد بھی بتایا کہ مسلم فوج ایک ہزار آدمیوں پر مشتمل تھی اسلئے انہیں فرمایا کہ انی ممدکم بالف من الملائکہ مردفین یعنی میں آپکے تعداد ایک ھزار کے موافق ملائک ہمرکاب مدد میں دے رہاہوں پھر اگلی آیت میں ملائکوں کی تشریح اور تفھیم بتلائی کہ وماجعلہاﷲ الابشری ولتطمئن بہ قلوبکم وماالنصر الامن عنداﷲ (۱۰-۸) یعنی اصل مدد تو اﷲ کی دی ہوئی ہوتی ہے لیکن اطمینان قلب اور ساتھ ملنے کی خوشخبری یہ ملائکوں کی مدد ہے۔ یہاں یہ بھی ذہن میں رہے کہ ملائکوں کی کل تفھیم صرف یہی نہیں ہے (ملائکوں کو کلی طور پر سمجھنے کیلئے جناب ازہر عباس صاحب کے مضامیں پڑہیں جو رسالہ صوت الحق میں چھپ چکے ہیں) میں نے ابھی عرض کیا کہ جنگ بدر میں مسلم سپاہیوں کی تعداد ایک ہزار تھی ساتھ ساتھ اس انکشاف کاثبوت میں نے اسی آیت قرآن سے بھی دے دیا، رہی بات علم حدیث کی روایات نے توبدری سپاہیوں کی تعداد ۳۱۳ بتائی ہے تو انکی یہ تعداد بتانی یہی تو میرے مؤقف کا دلیل ہے کہ یہ حدیث ساز امام جناب رسول اﷲ، اصحاب رسول، اور اسلام کے دشمن تھے، اسیلئے تو وہ اپنی معموں کی تعلیم میں اصحاب رسول کو گالی دی رہے ہیں، علماء اسلام اور امت مسلمہ کی خدمت میں مجھ ناچیز کی انتہائی مؤدبانہ ، درخواست ہے کہ وہ دشمنوں کو پہچاننے کیلئے آنکھوں پر قرآن کی عینک سے کام لیا کریں آپکو پتہ نہیں کہ علم الاعداد میں ۳۱۳ کا عدد کمینوں اور بدخصلت لوگوں کیلئے مقرر کردہ ہے تعویذ لکھنے والے مولوی شاید تعویذوں کے کام آنیوالی علم الاعداد کی کتابوں میں اس حقیقت کو پاسکینگے، جسطرح ۷۸۶ کا عدد مسلم امت کو بیوقوف بنانے کیلئے بسم اﷲ الرحمان الرحیم کا ابجد کے حساب سے فگر بتایا ہوا ہے جوکہ یہ بھی ایک بڑا مغالطہ اور فریب ہے اصل میں ۷۸۶ کا عدد دشمنان اصحاب رسول کے اپنے مخصوص نعرے کا عدد ہے جسکے الفاظ آپکو عزیراحمد صدیقی کی کتابوں میں ملینگے، بسم اﷲ کیعدد ۷۸۶ نہیں ہے، نزول ملائکہ کے مضمون سے متعلق جو خاص بات عرض کرنی ہے کہ نزول ملائکہ کا ماملہ یہ جناب نبی علیہ السلام کا معجزہ نہیں ہے، ملائکوں کا نزول دوسرے عام انسانوں پر بھی ہوتا رہتا ہے ہر دور میں ہوتا رہیگا جیسا کہ فرمان ہے کہ ان الذین قالو اربنا اﷲ ثم استقاموا تتنزل علیھم الملائکۃ الاتخافو اولاتحزنوا وابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدوں (۳۰-۴۱) یعنی جن لوگوں نے نعرہ لگایا کہ ہمارا نظریہ معیشیت اﷲ والا نظریہ سواء للسائلیں ہوگا(۱۰-۴۱) پھر اس پر ڈٹ گئے تو ایسے لوگوں پر نزول ملائکہ ہوگا جو انہیں خوف اور غم سے بے باک رکھینگے اور انکیو جنۃ کی خوشخبری دینگے جسکا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے، نزول ملائکہ کے معجزہ سے متعلق مضمون کو یہاں ختم کرتے ہیں۔ جناب عیسیٰ علیہ السلام بن باپ کے پیدا نہیں ہوئے مریم نے شادی کی تھی یہودی لوگوں نے جناب مریم علیھا السلام پر طرح طرح کے الزامات لگائے انکی عصمت وعفت پر رقیق حملے کئے کہ لقد جئت شیئا فریا (۲۷-۱۹) یعنی آپنے ہیکل کے قانون کی خلاف ورزی کرکے شادی کی جو کہ یہ عمل اور سوچ تیری گھڑی ہوئی اپنی من مانی تھی، تیری ماں اور باپ تو قوانین ہیکل کی عقیدتمندرہے ہیں انہوں نے قوانین ہیکل کی کبھی بغاوت نہیں کی، یھودیوں میں ہیکل کے قوانین کے مطابق جو لڑکے اور کڑکیاں خانقاہی مرکز میں مذہب کی خدمت کرنے کیلئے وقف کردئے جاتے تھے اسکے مطابق پہلے لڑکیوں کو بطور نن کر کے اسوقت تک رکھا جاتا تھا جب تک اسے ماہواری نہ آئے، ماہواری آنے کے بعدانہیں رخصت کردیا جاتا تھا، کچھ ، عرصہ کے بعد قانون میں تبدیلی لائی گئی کہ عورت ماہواری آنے کے بعد بھی ہیکل میں راہبانہ زندگی گذار سکتی ہے لیکن پھر وہ شادی نہیں کریگی، کچھ عرصہ کے بعدپہر قانون میں ترمیم کی گئی کہ ننین اور راہبائیں شادی کرسکیں گی لیکن صرف ہیکل کے پادریوں اور راہبوں سے، باہر کے لوگوں سے انکی شادی کرنے پربندش ہوگی، بہرحال جنابہ مریم علیہ السلام نے ہیکل مین پادریوں اور راہبوں کی بداخلاقی اور لاقانونیت کا خود مشاہدہ کیا ہوا تھا تو اسے ہیکل کی اندرونی زندگی سے نفرت آگئی اور وہاں خانقاہی ماحول کی ابتر ہوں پر غصہ میں تنھا پسندی سے رہنے لگی وہاں قرآن بتاتا ہے فارسلنا الیھا روحنا فتمثل لھا بشراسویا، قالت انی اعوذ بالرحمان ان کنت تقیاقال انما انارسول ربک لاھب لک غلاما زکیا قالت انی یکون لی غلام ولم یمسسنی بشرولم اک بغیاہ قال کذالک قال ربک ھو علیّ ھین ولنجعلہ اٰیۃ للناس ورحمۃ منا وکان امرا مقضیا۔ (۱۷تا۲۱-۱۹) یعنی ہمنے اپنے(امرربی والے) روح کو (خواب میں) مریم علیھا السلام کی طرف بھیجا جو اسکے سامنے ایک سید ہے اور درست انسان کی تمثیل میں پیش ہوا، اور اسے دیکھ کر مریم نے خواب میں بھی پارسائی کے اصول سے اسے کہاکہ اگر تجھے کوئی اﷲ کا خوف ہے تو ہٹ جا میں اپنے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں، تو اس فرشتہ نے کہاکہ میں تیرے رب کی طرف سے تیری طرف فرستادہ ہوں اس خوشخبری کے ساتھ کہ وہ تجھے ایک پاکباز لڑکا عطا کریگا، مریم نے کہاکہ مجھے لڑکا کیسے ہوگا جبکہ مجھے کسی انسان نے چھواتک نہیں ہے اور نہ ہی میں قوانین الاہی کی باغیہ ہوں تو اس فرشتہ نے کہاکہ تجھے بیٹا ملنا ایسے ہی ہوگا جیسا دنیا کا دستورہے تو شادی کریگی پھر اولاد ہوگی کذالککی معنی یہی ہے، فرشتہ نے مریم کو کہاکہ تیرے رب کا کہنا ہے تجھے بیٹادینا یہ میرے لئے تو آسان مسئلہ ہے، ہمنے تو تیرے بیٹے کو دنیا جہان والوں کیلئے ایک مثالی نشانی بنا نی ہے یہ ہمارا طئے شدہ فیصلہ ہے، جناب قارئین! اسکے بعد مریم شادی کرتی ہے اور اسے بیٹا پیدا ہوتا ہے۔ جسکانام بھی اﷲ کا تجویز کردی عیسیٰ مسیح ہوتا ہے انہوں نے مریم اور عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف جو تہمتوں کا ایک طوفان چلایا ہواتھا عجب لگتاہے عیسائیوں اور مسلمانوں پر کہ انہوں نے بھی انکے جواب میں جو صفائی پیش کی ہے کہ مریم نے شادی نہیں کی تھی اور عیسیٰ بن باپ کے پیدا ہوا تھا اس جواب سے تو گویا انہوں نے یھودیوں کے الزام کو سچا کردیا اس جواب میں یہودیوں کے الزام کو تو انہوں سچا قرار دیا، جناب قارئین! تاریخ کا یہ بڑا المیہ ہے جو یہودیوں نے بڑی فنکاری سے نصرانیت اور اسلام میں انہیں علم وحی کے اصولوں سے ہٹانے کے لئے توحید کی جگہ شرک اور توہم پرستی کی لائنوں پر انہیں لگادیا ہے، اسکا تفصیل کچھ وسیع وعریض ہے جسکا موقعہ محل یہ نہیں ہے، انسانوں کی تخلیق سے متعلق اﷲ نے قانون بتائے ہیں کہ یا ایھاالناس انا خلقنا کم من ذکرو انثی۔۔۔۔(۱۳-۴۹) یعنی اے انسانو! ہمنے آپکو پئدا کیا ہے مذکر اور مؤنث کے امتزاج سے، اب اس قانون میں کسی بھی جگہ پر کوئی استثنیٰ نہیں ہے صرف انسان کے ابتدائی پیدائش کیلئے بتایا ہے کہ یا ایھالناس اتقواربکم الذی خلقکم من نفس واحدہ (۱-۴) یعنی اے انسانو! آپکو ایک جرثومہ حیات ایک جیوت سے پئداکیاہے اور فرمایا ہے کہ فطرت اﷲ التی فطرالناس علیھا لاتبدیل لخلق اﷲ (۳۰-۳۰) یعنی اﷲ کے قانون تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں آنی، اس کیلئے مزید فرمایا کہ ذالک الدین القیم یہ قانون نہایت ہی مضبوط ہے اسکے اندر کسی عیسیٰ وغیرہ کی کوئی استشنا نہیں ہوگی، انجیل والے لوگ اتناتو قبول کرتے ہیں کہ مریم کی شادی بھی ہوئی ہے اور اسے اسکے شوہر سے عیسیٰ کے سوادوسری بھی اولاد ہوئی ہے صرف عیسیٰ علیہ السلام اکیلے اﷲ کے روح سے پیدا ہوئے ہیں اسکے باوجود عیسیٰ کو انجیل کے تقریبا سب راویوں نے اسے یوسف درکھان کا بیٹا مانا ہے اور مریم کی یوسف سے شادی کرنے کا ذکر بھی انجیل میں موجود ہے مسلم امت والے تو عیسائیوں جتنا بھی مریم کی شادی کو نہیں مانتے جبکہ خود قرآن میں اﷲ نے مریم کی والدہ کی دعا مریم اور اس کی اولاد کیلئے بھی بتائی ہے کہ وہ کہتی ہے کہ اے میرے اﷲ انی اعیذ ھا بک وذریتھا من الشیطان الرجیم(۳۶-۳) یعنی مریم کو اور اسکی اولاد کو میں تیری پناہ میں دیتی ہوں مسلمانوں نے تو صدیوں سے قرآن کو سمجھ کر پڑہنا چھوڑ دیا ہے قرآن مسلم امت کے نزدیک اہل مجوس کی گھڑی ہوئی روایات اور علم حدیث کا قیدی ہے، مسلمانوں نے جیسے کہ قسم اٹھاکھاہے کہ وہ اﷲ کے حکم کی روشنی میں ولقد صرفنا فی ھذا القرآن لیذکروا(۴۱-۱۷) تصریف آیات کی رہنمائی میں قرآن کو نہیں پڑہینگے ان کا عقیدہ ہے کو قرآن علم حدیث کے بغیر سمجھ میں نہیں آتا۔ اس وجہ سے وہ مریم کو بغیر شوہر کے بیٹادئے بیٹھے ہیں جبکہ اﷲ نے اپنے قانون کیلئے اعلان بھی کیا کہ میرا قانون تخلیق تبدیل ہونے ولانہیں ہے، یہی قانون ذالک دین القیم ہے(۳۰-۳۰) اور میرا اٹل فیصلہ ہے کو مایبدل القول لدیّ(۲۹-۵۰) میرے فیصلے بدلانہیں کرتے، اس مضمون کو یہاں ختم کرتے ہیں، جناب عیسیٰ علیہ السلام کا جھولے میں کلام کرنے کا مفھوم اس مغالطے کی بنیاد اصل میں لفظ مھدکی معنی سے ہواہے جبکہ مہدکی معنی صرف جھولے کے ساتھ جڑی ہوئی اور مخصوص نہیں ہے لفظ مھدمعنی کے لحاظ سے اصل میں آرام و آسائش کے بچھونے کیلئے مخصوص رہا ہے، پھر چونکہ چھوٹے بچوں کے آرام اور آسائش والابچھونا جملہ معاشروں میں قدر مشترک چیزہے اور پھر اس آسائش میں جھولے کی بھی ایک اہمیت ہے تو اسکانام بچھونے کے ساتھ میں مھد شمارکیا جاتا ہے لیکن اس تفصیل کا خلاصہ ہوا آدمی کی شروع والی زندگی اور اسکا بچپنا، سوجناب عیسیٰ عکیہ السلام کی ایک خصوصیت نمایان رہی ہے کہ وہ اپنی چھوٹی عمر میں انقلابی کی گفتگو کرنے کے ماہر رہے ہیں پکی باتیں نپی تلی باتیں کیا کرتے تھے سواس بات کی خصوصیت اور اہمیت کے پیش نظر اﷲ نے بھی عیسیٰ کی اس خوبی اور ذہانت کو اسکے لئے اپنی نعمتوں میں سے شمار کیا کہ یکلم الناس فی المھدوکہلاومن الصالحین(۴۶-۴) اسلئے اسکی والدہ مریم کو اسکے پیدا ہونے سے پہلے جو بشارت دیتے ہیں یہ لفظ مھدکا دوسرے مقام پر بھی یہ بات فرمائی یا عیسیٰ ابن مریم اذکر نعمتی علیک وعلی والدتک اذ ایدتک بروح القدس تکلم الناس فی المھدوکھلا اذعلمتک الکتاب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل(۱۱۰-۵)یعنی اے عیسیٰ ابن مریم یادکر میری تعمتوں کو تیرے اوپر اور تیری والدہ کے اوپر جب تائید دلائی تجھکو میں نے روح القدس(انجیل ) کے ذریعے سے جوتوباتیں کرتا تھا جوانی میں اور بڑی عمر میں بھی جب سکھایا مین نے تجھے کتاب اور حکمت جو کہ تورات اور انجیل تھے جناب قارئین! اس آیت (۱۱۰-۵) کے مفھوم پر غورفرمائیں بلکہ ساتھ میں آیت(۴۶-۳)میں بھی کہ اﷲ عزوجل عیسیٰ علیہ السلام کے دور نبوت اور تحریک نبوت کو دوحصوں میں تقسیم فرمارہے ہیں ایک زمانہ ہے اسکی نبوت کے شروعاتی دور کا جسمیں وہ اپنی انقلابی پارٹی والوں کی توریت اور انجیل کے ذریعے ذہن سازی کرتے ہیں پھر وقت کی حکومت عیسیٰ کی تیار کردہ باغی ٹیم کے جملہ ارکان کو گرفتار کرکے تختہ دار پر لٹکاتی ہے، انہیں ان سب گوریلے باغیوں کا استاد عیسیٰ ہوتا ہے اور اس استاد کے ساتھ روح القدس کا کنیکشن ہوتاہے جسکی رہنمائی سے وہ گرفتار شدہ ٹیم میں سے بھاگ جاتا ہے، اس واقعہ کے بعد عیسیٰ اصحاب کہف کی طرح کچھ عرصہ انڈرگراؤنڈ ہو جاتا ہے پھر اپنے ظہور ثانی کیلئے ماحول کو اپنی تائید میں سمجھتا ہے تو پھر سے دوبارہ کام شروع کردیتا ہے اس دوسرے پیرڈ کو قرآن حکیم نے’’ کھلا‘‘سے تعبیر فرمایا ہے محترم قارئین! جناب عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کو بھی نہایت بے دردی سے بگاڑا اور مسخ کیا گیا ہے، اس ماجرا کا تفصیل بہت لمبا چوڑا ہے بس ایسے سمجھیں جیسے کہ قرآن کا ان انقلاب دشمنوں نے آپریشن کیا ہے کہ صبرکی جو معنی قرآن نے بتائی ہے جم کر استقامت سے لڑنا(۶۵-۸) تو انجیل کی تحریف کرنے والونکے مسلم کہلانے والے شاگردوں نے اسکی معنے مشہور کردی کہ گھروں میں جاکر چٹائیوں کی طرح زمیں سے چمٹ کے رہنا، عیسوی تعلیم کی مسخ شدہ مثال بھی اسی سے ملتی ہے کہ عیسیٰ نے فرمایا ہے کہ کوئی تمہیں منہ پر ایک طرف سے طمانچہ مارے تو اسے پھر تم دوسرا رخسار بھی پیش کروکہ عالی جناب دوسرا طرف آپسے رہ گیا ہے ادہر سے بھی مارتے جائیں، سو جو سورۃ مریم میں آیا ہے کہ مریم پر جب مذہبی پنڈتوں نے بوچھاڑ کی تو فاشارت الیہ قالو اکیف نکلم من کان فی المھد صبیا۔ (۲۹-۱۹) یعنی مریم نے اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کرکے کہاکو اسکے ساتھ مناظرہ کروبحث کرو تو وہ کہنے لگے کہ یہ تو جھولے میں جہولنے والے بچوں کی طرح ہے، جناب قارئین! جب وہاں موجود جوان عیسیٰ نے دیکھا کہ یہ عباؤں قباؤں والی جبہ پوش مافیا اپنی پیری اور شیخی کے گھمنڈ میں مجھ سے بات تک کرنا گوارا نہیں کررہے تویہ کل کا بچہ انکے حساب سے جھولے میں جہولونے والا بچہ بڑے آب وتاب سے بولنے شروع ہوگیا کیونکہ یہ کلمۃ اﷲ تو تھا ہی سہی بس عیسیٰ کا بولنا کیا تھا وہ تو ایک طوفان تھا اسنے ان خناس قسم کے پوپ پالوں سے آنکھوں میں آنکہیں ملاتے ہوئے رعد کی طرح گجگوڑ کی اور جیسے کہ یالہ باری شروع ہوگئی کہ انی عبداﷲ اٰتانی لکتاب واجعلنی نبیا وجعلنی مبارکا این ماکنت واوصانی بالصلوۃ والزکوۃ ما دمت حیا۔ (۳۱-۱۹) سنو مھد والے انقلابی کی بات، میں جھولے کی زندگی میں اﷲ کا فرمانبردار بندہ ہوں مجھے کتاب بھی مل چکی ہے سنومیں مھد والاعیسیٰ بیٹا مریم کا نبی بھی بن چکا ہوں، میں جس جگہ بہی ہونگا وہان جم کراپنی مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے مضبوطی کے ساتھ کام کرونگا، اور استحصالی لٹیروں کے خلاف کلمۃ اﷲ انجیل کی روشنی میں ایسی ڈیوٹی سرانجام دونگا جو ہرفرد رعیت کو سامان پرورش مل سکے یہ میری مشن تاحیات رواں دواں رہے گی خلاصہ عرضداشت یہ ہے مھدکی عمر کا مفھوم جوانی کی عمر ہے جس میں شعور کامل اور عملی جذبہ قوت ذہن اورجسم پایہ تکمیل تک پہنچی ہوئی ہوتی ہے اس عرصہ میں عیسیٰ نے جوباغی ٹیم انقلاب کیلئے تیارکی ہے اور اپنی مردہ قوم کو جینے کا ڈہنگ سکھا یا ہے (۱۱۰-۵) یہ اسکی مھد والی زندگی کا ابتدائی دور ہے پھر اس بغاوت کو کچلنے کیلئے جو بنی اسرائیل انکے خلاف اٹھے ہیں انہیں تختہ دار پر لٹکانے کیلئے اور میں نے انکے اس منصوبے کو ناکام بنایا(۱۱۰-۵) اس دوران عیسیٰ روپوش ہوکر انڈرگراؤنڈ ہوجاتے ہیں اس عرصہ روپوشی کے بعد دوبارہ آکر انقلاب کو کامیاب بناتے ہیں اسپر جب اسکی اپنی قوم مطالبہ کرتی ہے کہ انزل علینا مائدۃ من السماء یعنی ہماری معیشیت کے جاگیرداری نظام سے ہماری جان چھڑاؤ جو کمائے وہی کھائے آزاد معیشت مساوی معاشی نظام کا عیسیٰ سے مطالبہ کرتے ہیں تو یہ زمانہ عیسیٰ کے اقتدار اور حکمرانی کاکھلا والا دور ہے جیسے قرآن نے عیسوی دور کے ابتدائی مرحلہ مھد کے بعد والی دور کو’’ کھلا‘‘سے تعبیر فرمایا ہے اور عیسی علیہ السلام کی حکمرانی کا ثبوت قرآن نے وکنت علیھم شھید مادمت فیھم(۱۱۷-۵) یعنی میں انکے اوپر شاھد تھا جبتک میں انکے اندر زندہ رہا، بہر حال نظام مملکت کا مطالبہ کرنا یہ وقت کے حکمران سے کیا جاتا ہے مسجد کے ملاسے ایساکوئی مطالبہ نہیں کیا جاتا ہے ۔ جناب عیسیٰ علیہ السلام کا اندہوں کوڑہیوں کو شفا دینا مردوں کو زندہ کرنا مٹی کے پرندوں کو اڑانا۔ ورسولالی بنی اسرائیل انی قد جئتکم باٰیۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کھیءۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طعراباذن وابرئی الاکمہ والارض واحی الموتی باذن اﷲ وانبأکم بماتأکلون وتدخرون فی بیوتکم ان فی ذالک لآیۃ لکم ان کنتم مؤمنین(۴۹۔۳) خلاصہ یعنی اے مریم تیراوہ بیٹابنی اسرائیل کی قوم کو ایک پیغام پہنچانے والابھی ہوگا کہ میں تمہارے پاس رب کی طرف سے ایک حیات بخش پیغام لے آیاہوں وہ ایسا قانون ہے جواسکے ساتھ جو اسکی رہنمائی میں اگر پرندہ بناکر اسے میں پھونک دوں تووہ اڑنے والا پرندہ بنجائے، اور وہ قانون اتنا تو اکسیر ہے جو اس سے نابیناؤں کو بینا کردوں اور کوڑ کے مریضوں کو شفایاب کردوں مردوں کو زندہ کردوں، اور اس قانون سے میں تمہیں یہ بھی بتا سکوں گا کہ تم ذخائررزق سے کتنا کچھ خرج کررہے ہواور کتنا کچھ اپنی تحویل میں ذخیرہ کررہے ہو، میرے اس قانون مین تمہاری بقا اور استحکام کی بڑی نشانیاں ہیں۔ محترم قارئین! اس آیت کریمہ کے محاوراتی لفظوں اور اصطلاحوں کو انقلاب دشمن لوگوں نے انکی غیر محاوراتی اصلی معنوں کوکرامات اور معجزات میں لے جاکر گھسیٹاہے، قرآن حکیم نے جب اپنی نگار شات کی تفھیم کیلئے سمجھایابھی ہے کہ انہ لحق مثل ماانکم تنطقون (۲۳-۵۱) یعنی اس کتاب کی تمثیلات اسطرح کی سچ ہیں جسطرح کہ تم اپنے آپس میں محاورات کے ذریعے افھام وتفھیم کرتے ہو، دیکھا کہ مٹی سے پرندہ بنا کر اسے پھونک سے زندہ کرکے اڑانا یہ قانون انجیل کی تفھیم کی کیسی تو لاجواب تمثیل ہے کہ تم یھودی جو آج رسو ادربدر خاک بسر ہوجو کوئی تمہیں اپنے پاس بھی قریب ہونے نہیں دیتا آؤ یہ قانون علم وحی تمہیں مٹی سے اٹھا کر آسمان کی فضاؤں کو تمہارے قدموں تلے کردے گا، تم علم وحی علم تورات سے ہٹکر اندہے ہوچکے ہو اسلئے پھر قریب آؤ میں تمہیں انجیل میں بتائے ہوئے علم وحی سے جوکہ وہ فارمولے اصل میں توریت کے ہی ہیں انکے ذریعے تم نابیناؤں کو اندہوں کو نور دیدوں بینائی دیدوں محترم قارئین! پھر قرآن نے فرمایا کہ میں تمہیں کوڑھ کی مرض سے بھی نجات دلادوں، سب جانتے ہیں کہ کوڑہی مریضوں کا پوراجسم کہیں کھال کالی کہیں گوری کہیں کھال کی کوئی ٹکڑی گلی ہوئی ہے کہیں سلامت ہے پورا جسم پوری کھال متفرق داغوں سے کالے سفید پیوندوں میں بٹاہوا ہوتا ہے قرآن نے تمہارے اجتماعی قومی وجود کو قومی اور ملی جسم کو برص اور کوڑھ کے مریض سے تشبیھ دیتے ہوئے فرمایا کہ آؤ میں تمہیں اس کلاسفکیشن میں بٹی ہوئی نفرتوں والی زندگی سے نجات دلا کریک جان ویک قالب کردوں علم وحی کے ذریعے ملے ہوئے نظام سواء للسائلین (۱۰-۴۱) میں اتنی تو مقناطیسیت ہے اور اسکا ایسا تو مربوط نظام معیشیت ہے جو اسکے سسٹم سے فوراً پتہ لگ جاتا ہے کہ کہاں کتنا خرچ ہوا کہاں کتنا اسٹور ہوا، علم وحی کا معیشت کے حوالوں سے سارا نظام کمپیوٹر ائزڈ ہے جہاں کہیں بھی کوئی غبن ہوگا حساب کرنے والی مشینیں لال بتی سے سیٹیں بجانا شروع کردینگے کہ چیک کرو چوری ہورہی ہے سوآو تمہیں میں جاگیرداری اور سرمایادارانہ لوٹ کھسوٹ سے نجات دلاکر آسمان تک لے جاکر ترقی کی منزلیں طئے کراؤں جناب عالی! یہ ہے ان معجزات والے غلط ترجموں کا اصل خلاصہ اور ترجمہ جسکو عالمی سرمایہ داروں کے کرایہ کے دانشور انقلاب کے دشمن جوحق سچ کو بیچ کر اپنے پیٹ بھر رہے ہیں، اس بر صغیر کی دہرتی نے بھی ایک لاجواب نقاد کبیرا بھائی پیدا کیا جو کہتا تھا کہ چلتی کو کہیں گاڑی رنگی کو کہیں نارنگی بنے دودھ کو کھویا، دیکھ کبیرا رویا، جناب قارئین! اگر جناب عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں کہ انبأکم بماتأکلون وتدخرون فی بیوتکم (۴۹-۳) مجھے اﷲ کیطرف سے جو نظام حکومت اور نظام معیشیت زمین پر رائج کرنے کیلئے ملاہے اس میں اتنا تو مربوط سسٹم ہے جو مجھے خبر لگ جاتی ہے کہ کسنے کتنا کھا یا کسنے کتنا بچایا، تو عیسیٰ کی اس بات کو مولوی لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو معجزہ ہوا، اور جب یہی بات مختلف دہاتوں سے بناہوا کمپیوٹر بتاتا ہے کو اسٹور سے کتنا مال نکلاہے کتنا باقی ہے تو اسپر مولوی لوگ بتاتے ہیں کہ یہ تو سائنس ہے میرے خیال میں کبیر ا اسپر بھی روتا ہوگا کہ دین ملافی سبیل اﷲ فساد۔ پرندے اور جناب ابراہیم علیہ السلام واذقال ابراھیم رب ارنی کیف تحی الموتیٰ قال اولم تومن قال بلیٰ ولٰکن لیطمئن قلبی قال فخذاربعۃ من الطیر فصرھن الیک ثم اجعل علی کل جبل منھن جزئاثم دعھن یاتینک سعیا واعلم ان اﷲ عزیزحکیم۔(۲۶۰-۲) جب کہا ابراہیم نے کہ اے میرے رب دکھاؤ مجھے کس طرح حیاتی دیتے ہو مردہ کو، کہا(رب نے کہ) کیا تم نے ایمان نہیں لایا؟ کہا کہ ہاں (ایمان لایا ہوں) لیکن (طریقہ کار سے متعلق) اطمینان چاہتا ہوں، اپنے قلب کی خاطر، کہا کہ پھر چار پرندے لے لو بعد میں انکو اپنے ساتھ مانوس کرو، (جب وہ تیرے ساتھ تیرے مخصوص حرکتوں اور آوازوں سے) مانوس ہوجائیں پھر النمیں کے ہر ایک حصہ کو اتنے جبلوں پر سیٹ کردے پھر آپ انہیں اپنے (مخصوص آواز سے) پکار انکو وہ دوڑتے ہوئے ائینگے آپکے پاس جان لے کہ اﷲ غالب اور حکمت والا ہے۔ جناب قارئین! اس آیت کا مزید مفھوم یہ ہے کہ آپنے پڑہا ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام کو اﷲ نے ذات انسان کیلئے، بین الاقوامی بین الانسانی آفاقی کائناتی عھدہ کا امام لیڈر اور نبی بناکر مبعوث فرمایا ا س سرٹیفکیٹ کے ساتھ کہ انی جاعلک للناس اماما، (۱۲۴-۲) میں تجھے ذات انسان کا قائد بنا رہاہوں اب جناب ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کی جاجربادشاہت نے جو لوٹ مار کے نظام سے انسانوں کو ہر قسم کی غلامیوں میں جکڑاہوا تھا تو ایسے غلاموں کے سماج سے باغی ورکر اور انقلابی پیدا کرنے کا مسئلا درپیش تھا جو جاگیرداریت کی ماری ہوئی مردہ قوم کو پھر سے زندہ کرنا تھا اب ابراہیم کے سامنے احیاء اموات یعنی مردہ قوم کو حیاتی دلانے پر تو مکمل یقین تھا کہ اس کوملے ہوئے علم میں بالکل ایسی جان ہے کہ اس سے ذہنوں کو جلاء ملیگی آیت مذکورہ میں صرف طریقہ کار معلوم کیا ہے سوال کیا ہے میں اس مردہ قوم سے جان نثار قسم سرویچ ساتھی جو بناؤں تو اسکا طریقہ کار کیا ہونا چاہیئے، اور اﷲ کے سوال کے جواب میں کہاکہ بھروسہ اور ایمان تومیں رکھتا ہوں لیکن طریقہ کار کاتعین معلوم کرنا ہے اور بس، جناب قارئین! یہی فارمولا اﷲ عزوجل نے جناب رسول اﷲ کو دوسرے الفاظوں میں تھوڑے فرق کے ساتھ سمجھایا ہے کہ واخفض جناحک لمن اتبعک من المؤمنین (۲۶-۲۵) جو مؤمن لوگ تیرے تابعدار بنیں انکے لئے پر بچھائیں اپنے مہربانی کے، انکو تو اضع سے پیش آئیں، اگر غور کیا جائے تو جناب رسول اﷲ کو پربچھانے کاجو حکم کیا جا رہاہے تو یہ ایک قسم کا محاورہ ہے سوبالکل اسطرح جو جناب ابراہیم علیہ السلام کو چارپرندے لیکر انہیں مانوس کرکے پھر انکی انسیت کے امتحان لینے کی بھی بات سمجھائی ہے یہ سب محاورے ہیں سب انقلاب کارا مٹیریل تیار کرنے کی باتیں ہیں، میں یہاں قرآن فھمی کیلئے امام انقلاب عبیداﷲ سندہی کا ایک قول پیش کرنا مناسب سمجھتاہوں قرآن حکیم کو وہ کوگ زیادہ سمجھہ ستکے ہیں جو قرآن ملنے سے پہلے ظالم مترفین کے سیاسی شکنجوں میں جکڑے ہوئے تھے انکے بچے عورتیں غلامی کا ایندہن بنی ہوئی تھیں پھر ایسی دوزخ کی جیوت سے جان چھڑانے والے قرآنی فارمولوں سے وہ لوگ جب میدان جنگ میں آزادی کے حصول کے لئے لڑے اور اپنے پیارون کی لاشیں میدان جنگ میں زخمی حالتوں میں بھی اٹھائیں، ایسے لوگ جب قرآن پڑہینگے تو انکی فھم انکے مقابلے میں اونچا پرواز کریگی انکے مقابلہ میں جو لوگ پرتکلف آرام دہ پرتعیش مخدو مانہ زندگی گذارنے والے ہونگے، سندہی صاحب کے فکرکی بات ہوئی ہے تو قرآن فھمی کیلئے انکا ایک قول اور بھی خدمت میں پیش کروں، فارس کے اماموں نے جو اپنی گھڑی ہوئی روایات سے سیکڑوں قرآن کی آیات منسوخ بتائی ہیں جبکہ سندہی صاحب قرآن کی ایک آیت بھی منسوخ نہیں مانتا تھا، اس موضوع پر جب مولانا صاحب نے بحث کیا ہے کہ جو وصیت کیلئے حکم قرآن ہے کہ وارثوں میں مال تقسیم کرنے سے پہلے وصیت کا مال علیحدہ کرکے پھر بقیہ مال حصص کے مطابق تقسیم کیا جائے اور قرآن نے مرنے سے پہلے وصیت کا بھی حکم دیا ہے تو حدیث سازوں نے حکم وصیت کو منسوخ بتایا ہے جب ورثاکے حصص کا تفصیل قرآن نے دیا ہے تو اسکی وجہ سے وصیت والا حکم منسوخ ہوگیا سو امام سندہی نے وصیت کو منسوخ بنانے والوں کو کہا ہے کہ اس حکم قرآن کی حکمت کو میں زیادہ سمجھتا ہوں کہ وصیت کی حکمت کیا ہے اسلئے کہ میری والدہ غیر مسلم ہے اسلئے قرآن کے حکم وصیت کی اہمیت کو جتنا میں سمجھتاہوں اتنا دوسرے تنگ نظر لوگ نہیں سمجھ سکینگے اور جو موروثی مسلم ہوں گے، بہر حال جناب ابراہیم علیہ السلام کے سوال کہ رب ارنی کیف تحی الموتی کے جواب میں یہ فرمانا کہ خذاربعۃ من الطیر چار پرندے لو اس حکم میں واقعی پرندے نہیں لینے بلکہ یہ استعارہ اور محاورہ ہے کہ چار آزادی پسند جوان چار ایسے آدمی جو پہلی غلامانہ زندگی سے نفرت کرنے والے اور آزادی کے حصول کا جذبہ رکھنے والے ہوں انہین اپنے فکرو نظریہ سے ایسے مانوس بناؤ جسطرح کہ پرنددوں کو شکاری لوگ اپنے ساتھ مانوس بناتے ہیں سدہا سدہا کر اپنے ساتھ رہنے کیلئے انہیں عادی بناتے ہیں اسطرح آپ بھی انقلاب کیلئے جو ورکر اور ساتھی بنائین نمرود کی رشوتوں پر آپ سے بیوفائی نہ کریں، جناب قارئین! اس آیت کے تفسیر کیلئے امام بخاری نے اپنی کتاب میں آیت کا تفسیر کرنے کیلئے جو حدیث لائی ہے کہ عن ابی ھریرہ قال قال رسول اﷲ ﷺ نحن احق بالشک من ابراھیم اذقال رب ارنی کیف تحی الموتی قال اولم تؤمن قال بلی ولٰکن لیطمئن قلبی، (کتاب التفسیرسورۃ البقرہ بخاری) یعنی رسول اﷲ نے فرمایا کہ ہم تو شک کرنے میں زیادہ حقدار ہیں ابراھیم علیہ السلام کے مقابلہ میں جب ابراہیم نے اﷲ سے عرض کی کہ مجھے مردوں کو زندہ کرنے کی کیفیت بتاؤ تو اﷲ نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ ہمارے کہنے پر بھروسہ نہیں رکھتے تو ابراہیم نے کہا کہ بھروسہ تو رکھتا ہوں لیکن اطمئنان قلب کے لئے سوال کیا ہے محترم قارئین! اس حدیث پر غورفرمائیں کہ حدیث سازوں نے دوبڑے الزام لگائے ہیں جناب محمد الرسول اﷲ کے نام پر علم وحی پر شک دکھا رہے ہیں شک ثابت کررہے ہیں، جبکہ یہ شک والی تھمت آیت کے الفاظ میں نہیں ہے، آیت کے اندر اﷲ کا سوال ہے کہ اے ابراہیم مردہ قوم کے زندہ کرنے والے فارمولے جو کہ صحف ابراہیم میں موجود ہیں کیا یہ اپنی تاثیر میں تیرے خیال میں اعتماد کرنے کے لائق نہیں ہیں کیا؟ تو ابراہم کا جواب ہے اعتماد بھروسہ کی بات نہیں ہے سوال فارمولوں پر عمل کی کیفیت سے متعلق ہے تاکہ بتائی ہوئی کیفیت پر عمل کر کے میں رزلٹ سے متعلق اطمینان قلب حاصل کرسکوں، حدیث کے اندر جناب رسول اﷲ کی طرف سے ابراہیم علیہ السلام پر اﷲ کے دئے ہوئے کلام پر شک کرنے کے یقین کے بعد دوسرا حملہ یہ ہے کہ اب تو ابراہیم سے بھی بڑہ کر شک کرنے کا ہم کو بھی حق پہنچتا ہے، محترم قارئین! خبر نہیں کہ آپ امام بخاری کے اور اسکے استاد الاستاد امام زہری کے اتنے بڑے حملے کو سمجھ سکے یا نہیں کہ رسول اﷲ نے اﷲ کے کلام پر ابراہیم کی بے اعتمادی بتانے کے بعد اپنی طرف سے بھی علم وحی پر ابراہیم کی طرح شک کرنے کا استحقاق محفوظ کرلیا ہے ۔ جناب قارئین! یہ ہے علم الحدیث جس کے لئے بتایا جاتا ہے کہ یہ قرآن کا تفسیر کرتا ہے، اب کوئی بتائے کہ ہم اتنی بڑی گستاخی پر جناب ابراہیم علیہ السلام جناب محمد الرسول اﷲکے مرتبوں اور شان کے خلاف اور قرآن حکیم کے اندر تحریف معنوی پر کس کے ہاں جا کر فریاد کریں، ہے کوئی اسلام کا اﷲ کے نبیوں کا قرآن کا وارث!!؟ جسکے پاس امام بخاری امام زہری کی اس حدیث اور اس جیسی اورگستاخانہ حدیثوں پر فریاد پیش کریں۔ ایک بستی کا سو سال اجڑجانے کے بعد زندہ ہونا اوکالذی مرعلی قریۃ وھی خاویہ علی عروشھا قال انی یحی ھٰذہ اللہ بعد موتھا فاماتہ اللہ ماۃ عام ثم بعثناہ قال کم لبثت قال لبثت یوما او بعض یوم قال بل لبثت مأۃ عام فانظر الیٰ طعامک وشرابک لم بتسہ وانظر الی حمارک ولنجعلک اٰیۃ للناس وانظر الی الطعام کیف ننشزھا ثم نکسوھا لحما فلما تبین لہ قال اعلم ان اللہ علی کل شی قدیر (۹۵۲- ۲) یعنی مثال اس شخص کا جو گزرا ایک قومی علائقہ اور مرکز سے جس کی عمارات گر کر ملیا میٹ ہو چکی تھیں تو اسنے سوچا کہ کس طرح ان بربا دشدہ بستیوں کو انکے تباہ ہونے کے بعد نیا جیون مل سکتاہے‘‘ پھر اللہ نے اسکو سؤ سال تک موت کی حالت میں رکھا اسکے بعد اسے اٹھایا، اور پوچھا کہ تم کتنی مدت اس حال میں رہے تو اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس کا کچھ حصہ ہے تو اللہ نے اسے کہا کہ نہیں بلکہ تونے سوسال اس حالت میں یا اس کا کچھ حصہ گذاری ہے، اسکے باوجود دیکھو کہ تمہارا کھانا اور پانی بھی اسی حال میں ہے جو خراب نہیں ہوا اسی طرح تیرا گدہا بھی صحیح سلامت کھڑا ہے یہ سب اسلئے کیا گیا کہ تم لوگوں کے لئے علامت بنجاؤ، اور غور کروکہ ماں کے پیٹ میں، ہم کسطرح ہڈیوں کو نشوز دیتے ہیں (خون سے) پھر انکو گوشت پہناتے ہیں (جس سے ایک بچہ تیار ہوجاتاہے) پھر جب اسکے ذہن پر یہ پراسیس کھل گیا تو اقرار کیا کہ واقعی (یہ مردہ قوم بھی زندہ ہوسکتی ہے) اللہ ہر شئ پر قدرت رکھتا ہے۔ محترم قارئین! ہمارے علماء کرام نے چونکہ قرآن فھمی کیلئے قرآن سے تو مدد لی ہی کہاں ہے۔ ان حضرات نے فارس کے امامی دانشوروں کی روایات سے سارا کچھ لیا ہے اور ان حضرات نے قرآن فھمی میں جان بوجھ کر رکاوٹیں ڈالی ہیں پڑہنے والوں کو بڑی کوشش کرکے قرآن کی دعوت فکر سے اھداف قرآنی سے ہٹایا ہے، پھسلایاہے، اس کے کچھ مثالیں آپ میری کتاب کیا علم حدیث کے قرآن کا تفسیر ہوسکتاہے؟ میں پڑہسکتے ہو، سوا ن لوگوں نے اس آیت (۲۵۹- ۲) کو بھی ایک معجزہ کے طور پر مشہور کیا ہے۔ اصل میں اس واقعے کے اندر مسئلہ حیات اور ممات کے سمجھانے کیلئے ایک تمثیلی قصہ قرآن نے بیان فرمایا ہے، وہ اس طرح کہ بادشاہ (نمرود) جو جناب ابراہیم علیہ السلام سے مخاطب تھا جسے جناب ابراہیم نے فرمایا کہ (اے بادشاہ تیری حیثیت تو کچھ بھی نہیں ) میرا رب تو موت و حیاتی کا مالک ہے، سو یہ بات بادشاہ بے عقل سمجھ ہی نہ سکا اسنے کہا کہ کسی کو موت دینا اور کسی کو حیاتی بخشنا تو میں بھی کر سکتاہوں، بیوقوف بادشاہ ابراہیم کے قول کو سمجھ ہی نہیں رہا تھا، اصل میں ابراہیم اسے کہ رہا تھا کہ تو جس قوم پر بادشاہی کر رہا ہے اس قوم کو تونے جابرانہ ظالمانہ طریقوں سے غلام بناکر موت تو دیا ہے، لیکن اب قوانین الٰہی جو مردوں کو حیاتی اور جلا بخشتے ہیں انکی باری آرہی ہے، اَب ان قوانین حیات بخش کو اللہ نے میرے ہاتھوں تیرے خلاف اس قوم کے احیاء کیلئے عمل میں لاکر تیرا تخت الٹنے کا پروگرام بنایا ہے‘‘ سو جو اس مباحثہ میں سوال تھا قوموں کی اجتماعی موت و حیات کو سمجھنے کا، اس آیت ۲۵۷ کے بعد اگلی آیت ۲۵۹ کے اندر مردہ قوم کو حیات بخشنے کے تفصیلی پراسیس کی طرف اللہ نے ایک تمثیل کے ذریعے اشارہ دیاہے یہ تمثیل تو اوکالذی مرعلی قریۃ وھی خاویۃ علی عروشھا سے ہے یعنی اس مثال سے یہ احیاء اموات کا مسئلہ سمجھو! جو ایک شخص نے ایک برباد بستی پر گذرتے وقت کہا تھا کہ یہ قوم دوبارہ کیسے آباد ہوسکتی ہے، پھر قرآن نے تو اس شخص کو ایک سو سال موت دینے کا قصہ بتاکر پھر زندہ کرکے بعد میں ماں کے پیٹ کے اندر نطفہ سے علقہ پھر مضغہ پر عظام اسکے بعد ہڈیوں پر گوشت والے پراسیس کی طرف اشارہ فرماکر ان اللہ علی کل شیء قدیرسے سب کچھ سمجھادیا ہے بہر حال اس آیت کو مفسرین حضرات نے ظاہری الفاظ سو سال کے موت کو معجزہ سے تعبیر کیا ہے جبکہ ہم قرآن اور رسول اللہ کے پیروکاروں کو حکم ہے کہ تم لوگ ہر مسئلہ کو عقل کے پئمانوں میں سمجھا کرو اور سمجھایا کرو، (۱۰۸- ۱۲) تو اس واقعہ کو عقل کی روشنی میں سمجھنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ یہ سوسال کیلئے مرجانا پھر زندہ ہونا یہ موت موقت ایک قسم کا خواب ہے جو کوئی بھی نیند میں خواب میں اتنا دورانیہ دیکھ سکتاہے کہ کچھ قومیں اور معاشرے بداعمالیوں میں جاگریں انکے مصلحیں انہیں راہ راست پر لانے کی جدوجہد کریں وہ اسمیں ناکام جائیں پھر ایسی قوم پر باہر کی قوموں کی جنگیں پڑیں پھر یہ غلام بنجائیں تو اس قسم کے واقعات کو ایک سؤ سال کا عرصہ گذرسکتاہے، اور یہ ایک سوسال کی تاریخ کی کہانی سرگذشت یا فلم چند گھنٹوں کے نیند میں بذریعے خواب دکھائی جاسکتی ہے، ویسے بھی اس واقعے کو بائیبل نے جناب حذقی ایل علیہ السلام کے خواب کی صورت میں پیش کیا ہے جس خواب کا خلاصہ قرآن حکیم نے چند سطروں میں بیان کر دیا ہے خلاصہ اس بات کا ہے کہ یہ خواب کا واقعہ ہے، رہا یہ سوال کہ اﷲ نے پھر اس خواب کو خواب کیوں نہین کہا موت کیوں کہا، سو اسکا جواب یہ ہے کہ اﷲ نے موت اور نیند دونوں کے اندر روحوں کو اپنے قبضہ میں لے لینے کی بات کی ہے فرق انمیں کا یہ بتا یا ہے کہ نیند والے کا روح جبکہ اسے وفات دینا مقصد اور پروگرام میں نہیں ہوتا تو اسے واپس کرتا ہوں اور جسے موت دے دینا مقصود ہوتا ہے تو اسکا روح اسے واپس نہیں کرتا۔ فرمان ہے کہ اﷲ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا فیمسک التی قضی علیھا الموت ویرسل الاخری الی اجل مسمی ان فی ذالک لایاٰت لقوم یتفکروں(۴۲-۳۹) آیت کا خلاصہ اوپر آچکا ہے یعنی موت اور نیند برابر کی چیزیں ہیں پھر بھی آیت ۲۵۹ کے سوسال موت کی بات سے خواب مراد ہے جسکو اسکا تفصیل اس سے بڑھ کرجزئیات جاننا مقصود ہوتو توریت میں حذقی ایل علیہ السلام کا خواب کا قصہ پڑہے اور جہاں تک کسی مردہ قوم کوزندہ کرنے کا قصہ سمجھنے سے دلچسپی ہو تو پھر اسی آیت بعد آیت(۲۶۰-۲) پڑھ لے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام اﷲ عزوجل سے مردہ قوموں کے حیات کیلئے پارٹی سازی۔ ورکر سازی اور تزمیل کیلئے اﷲ سے رہنمائی حاصل کرتا ہے، یہ اوربات ہے کہ قرآن دشمن حدیث ساز امام مافیانے اس تعلیم کو بھی معجزوں میں سے شمار کردیا ہے لیکن اسپر بھی میرا مضمون اسی کتاب میں ایک بار نظر سے نکالیں ویسے آجکل سوسال کی کہانیں چند گھنٹوں کی فلم میں بھی سموکر دکھائی جاتی ہیں، پھر تو معجزوں کے پرستارلوگوں کو کئمیرا بنانے والوں ٹی وی بنانے والوں وائرلیس، موبائیل، فیکس، ای میل اور کمپیوٹر بنانے والوں کو سائنسی عقلی ایجادات کے سواء انکو غیر عقلی خرق عبادت معجزات قرار دینا چاہیئے۔ اور آیت کے اندر سو سال کے موت کو ایک خواب کی طرح کادورانیہ سوسال کا ہے۔ ورنہ تو یہ یوما اوبعض یوم یعنی کچھہ گھنٹوں کا وقفہ ہے جیسے کہ خواب دیکھنے والے کا کھانا پینے کاپانی وہ ابھی باسی نہیں بناتھا، اور اسکی سواری کا جانور گدہا بھی اسطرح صحیح و سلامت تھا تو یہ سوسال کا موت ایک خواب ہی ہوسکتا ہے اور کچھ بھی نہیں۔ جناب ابراہیم علیہ السلام پر آگ کاٹھنڈہا ہوجانا قالوا حرقوہ وانصروا اٰلھتکم ان کنتم فاعلین قلنا یانارکونی برداوسلاماعلی ابراھیم وارادوبہ فجعلناھم الاخسرین(۷۰-۲۱) کہا ان لوگوں نے (ابراہیم کو) جلاکر اسکے ساتھ اپنے معبودوں کی مد کرو اگر تم کوئی کام کرسکتے ہو، ہم نے (انکے مقابلہ میں) کہا کہ اے آگ تو ابراھیم پر سلامتی کے ساتھہ ٹہنڈہی ہوجا، اور ان بت پرستوں نے ابراہیم کے خلاف جو منصوبے بنانے چاہے تھے ہمنے انہیں ناکام بنادیا۔ محترم قارئین! اس آیت (۷۰-۲۱) کو کرامتوں اور معجزوں کی معناؤں میں لانے والوں نے اس واقعہ کو پورے قرآن کے اندر مختلف تفھیمات سے جو اﷲ نے بیان فرمایا ہے جو کہ تصریف آیات کا ہنر تفھیم قرآن کیلئے سمجھایا ہواہے اسکیلئے دورکے مثالوں کی طرف بعد میں چلینگے پہلے آیت (۷۰-۲۱) جو کہ ساتھ والی اگلی آیت ہے خود ا س میں ہے قلنا یا نارکونی بردا وسلاما علی ابراھیم کی معنی اور مفھوم کو نہایت اچھی طرح سے سمجھایا گیا ہے، یہ آیت مکمل تفسیر ہے اپنی پچھلی آیت کا جو مفھوم میں سمجھایا ہے کہ ہمنے ابراہیم کے خلاف بھڑکائے جانے والے جذبات اور سازشی اسکیموں کو ناکام بنانے کے منصوبے بنائے اور اسمیں ہم کا میاب ہوئے، جناب قارئین! یہی آیت سمجھارہی ہے کہ ہماری تدبیروں نے دشمنوں کی بھڑکائی ہوئی آگ کو ٹھنڈ ہا کردیا، ٹھنڈہا کرنا کیا تھا جناب اﷲ کی تدبیر ایسی تھی جیسے کہ دشمنوں کے غبارے سے ہوا نکل گئی، انکے منصوبے خاک میں ملگئے انکی بھڑکائی ہوئی آگ ٹھنڈہی ہوگئی، محترم قارئین! یہ سب ہمارے ماحول کے اندر استعمال ہونے محاورے ہیں۔ استعارے ہیں، لکڑیوں کو جلا کر ابراہیم کو آگ میں نہیں ڈالا گیا تھا۔ لکڑیوں کی آگ حدیثیں بنانے والوں کی جلائی ہوئی ہے قرآن نے ابراہیم کے مخالفوں کی دلوں میں جو غصہ تھا گرمی تھی اسے آگ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اسیطرح لفظ نار کا استعمال بطور محاورہ اور استعارہ کے سورۃ بقرہ میں آیا ہے کہ اولائک مایأکلون فی بطونھم الاالنار (۱۷۴-۲) اس آیت میں حق سچ کو چھپانے والوں کیلئے اﷲ نے فرمایا ہے کہ یہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ کھارہے ہیں تو اس آیت میں بھی لفظ نارکا استعمال محاورے کی معنی میں آیا ہے اصلی معنی میں نہیں آیا دوسرے مقام پر آیا ہے کو قال انا خیرمنہ خلقتنی من نارو خلقتہ من طین یعنی آدم سے بھتر ہوں اسلئے کہ مجھے آپنے آگ سے پئدا کیا ہے اور آدم کو مٹی سے تواس جگہ بھی نار کا لفظ یانار آگ کی اصلی معنی میں نہیں آیا، کلما اوقدوانارا للحرب اطفأاﷲ(۲۴-۵) جب بھی انہوں نے جنگ کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی تو اﷲ نے اسکو بھیج دیا، تو ان ان مقامات اور ان سے بھی کئی اور مقامات پر لفظ نار اپنی اصل معنی میں استعمال نہیں ہوا بلکہ محاوہ کی معنی میں استعمال ہواہے۔ اسیطرح آیت (۷۰-۲۰) مین بھی نار کا لفظ اصلی معنی میں استعمال نہیں ہوا۔ قوم ثمود کو غریبوں کے مویشیوں کو پانی نہ دینے پر عذاب قوم ثمود کی طرف جناب صالح علیہ السلام کو اﷲعزوجل نے نبی اور رسول بنا کر بھیجا تھا وہی جنگ جو جملہ انبیاء کی جنگ ہوتی رہی ہے اپنے اپنے دور کے استحصالی لٹیروں کے خلاف، اس قصہ میں بھی معاملہ نظریاتی جنگ کا ہے اس لڑائی کو مفسرین کی طرف سے معجزہ نام دیا گیا ہے، صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے واقعہ کے نام سے، جبکہ یہ نسبت اور نام بھی غلط ہے جو کہ قارئین کو یہ بات اس مضمون سے سمجھ میں آجائینگی۔ جناب قارئین! جناب صالح علیہ السلام کی اپنی قوم کے لٹیروں سے اصل جنگ تو نظریاتی ہے کہ دولت کا سرچشمہ جو دہرتی ہے زمین ہے یہ کسی کی جاگیر اور ذاتی ملکیت نہیں ہوسکتی اﷲ کا قانون ہے کہ والارض وضعھا للانام ۱۰-۵۵ زمین کی وضعیت اور جڑاء یہ تو لوگوں کیلئے ہے دہرتی کسی کی ذاتی پراپرٹی نہیں ہوسکتی جسکے لئے فرمان ہے کو ﷲ میراث السماوات والارض آسمانوں کی املاک اور زمین کی املاک ان سب کا وارث اﷲ ہے(۱۸۰۔۳) وﷲ ملک السماوات والارض واﷲعلی کل شیء قدیر(۱۸۹۔۳) زمین اور آسمانوں کی بادشاہت اﷲ کیلئے ہے جو ہرچیز پر قادر ہے ولقد کتبنا فی الزبور ان الارض یرثھا عبادی الصالحون (۱۰۵۔۲۱) ہمنے اپنی کتب انبیاء میں یہ قانون لکھت میں دیاہوا ہے کہ زمین کے وارث وہ لوگ بنینگے جو اسکی اصلاح کرنے والے ہونگے۔ جناب قارئین! اب آئیں اور ملاخظہ فرمائیں جناب صالح علیہ السلام اور اسکے مخالفین قوم ثمود کے پیٹ بھرے لوگوں کے اختلاف اور جھگڑے کا، قال الملا الذین استکبر وامن قومہ للذین استضعفوالمن آمن منھم اتعلمون ان صالحا مرسل من ربہ قالوا انا بما ارسل بہ مومنون قال الذین استکبروا انا بالذی اٰمنتم بہ کافرون(۷۵۔۷۶۔۷) یعنی قوم ثمود کے پیٹ بھرے امیروں نے جنہوں نے تکبر کیا تھا ثمود قوم والوں میں سے ان لوگوں کو کہا جن کو کمزور بنا یا گیا تھا انمیں کو جنہوں نے ایمان لایا تھا کہ کیا تمہیں یقین ہے کہ صالح اﷲ کا بھیجا ہوا رسول ہے؟ تو ان کمزور اور غریبوں نے کہاکہ وہ رسول تو ہیں ہی لیکن یہ بات بھی سن لو کہ انابما ارسل بہ مؤمنون ہم اسکودئے ہوئے رسالت کے فکری پئکیج پر ایمان بھی لائے ہوئے ہیں۔ تو جواب میں امیروں نے غریب اور کمزورمؤ منوں کو کہا کہ تمنے جس چیز پر ایمان لایا ہے اسکے ہم انکار کرنے والے ہیں کا فرہیں۔ آگے انکی اس جنگ کی تفصیل بڑی لمبی ہے، اس جنگ اور لڑائی کی ایک نظر یاتی تفریق یہ تھی کہ جناب صالح علیہ السلام نے جو علم وحی کے نظریات پر مشتمل منشور پر جو غریبوں کی پارٹی بنائی تھی انکا معاشی نظام سواء للسائلین(۱۰۔۴۱) پر مساوات والاتھا جسمیں زمین والارض وضعھا للانام (۱۰۔ ۹۵۵ ) قومی ملکیت میں تھی اور اس معاشرہ مین گذرسفر کا ذریعہ بڑے پئمانے پر مویشیوں پر تھا، اور مویشیوں میں سے زیادہ تعداد مین قسم اونٹوں کی تھی، قوم ثمود جغرافیائی لحاظ سے حجاز سے شام کی طرف جانے والے راستہ پر ایک لمبی چوڑی وادی مین واقع تھی یہ لوگ اپنے مکانات ماربل کے مٹیریل سے بنانے میں مشہور تھے اور ماہر تھے (۹۔۸۹)۔ جناب قارئین! جیسے کہ عرض کیا گیا کہ جناب صالح علیہ السلام اپنے مؤمنین ساتھیوں کی تنظیم بنا کر اپنے علم وحی والے منشور کے مطابق اپنے دور کے امیروں کے مقابلہ میں جس معاشرہ کو قائم کرکے میدان عمل میں امیروں سے برسر جنگ تھے تو وادی کے اندربارشی پانی چشموں تلابوں میں جمع کرکے دیگر ضرورت کے ساتھ مویشیوں کو وہاں ان تالابوں سے پانی پلانے پربڑی لے دے رہتی تھی امیرلوگ بضد رہتے تھے کہ تالابوں سے صرف ہمارے ڈہورڈہنگر پانی پئیں۔ اور کسی کے نہیں۔ جناب صالح علیہ السلام نے چونکہ اپنی پارٹی والونکی مشترکہ معیشت کا نظام قائم کیا ہواتھا اور پانی کے ذخائر پر وہ اپنا بھی برابر کا استحقاق سمجھتے تھے سو امیر لوگوں سے کئی اور محاذوں کے ساتھ ساتھ پانی کے مسئلے پر بھی جنگ رہتی تھی۔ سو معاشرہ کے امیر لوگوں کو ہروقت لڑائی جھگڑے کی نیت رہتی تھی جناب صالح علیہ السلام کی ہروقت اپیل یہ ہوتی تھی کہ یا قوم اعبدو اﷲ مالکم من الٰہ غیرہ یعنی اے میری قوم اﷲ کے قوانین کی تعمیل کرو، اسکے سواء کوئی اتھارٹی نہیں جسکی اطاعت کی جائے۔ سو اگر تمہیں ضد ہے کہ تم اﷲ کے قانون کے عوض اپنی من مانی چلاؤگے تواب آؤ ! مقابلہ ہی سہی اگر تم اﷲ کے قوانین کے مقابلہ میں اپنی دولت شاہی چلانا چاہتے ہو اور مجھے تم چئلنج کررہے ہو کہ ماانت الابشرمثلنا فات باٰیۃ ان کنت من الصادقین۔ (۵۴۔۲۶) آیا ہے تو کوئی علامت نشانی معجزہ دکھاؤ! جواب میں جناب صالح علیہ السلام نے کہاکہ اچھا جس بات پر تم راضی اسپر ہم بھی راضی اس لئے معجزہ دکھا نے کیلئے دور نہیں جاتے، میں نے اعلان کیا ہواہے کہ آسمانوں اور زمین کی ساری ملکیت اﷲ کی ہے تم لوگ پانی کے تالابوں سے پانی پینے نہیں دیتے چراگاہوں سے چارہ کھا نے نہیں دیتے سوسن لوکہ آئندہ جو ناقۃ اﷲ ہے یعنی اونٹنیوں کے وہ ریوڑجو میری حزب اﷲ نے انہیں ذاتی ملکیتوں کے بجاء علم وحی کے حکم کے مطابق جملہ غریبوں محنت کشوں کی اجتماعی ملکیت قراردیا ہواہے انکے ان تالابوں سے پانی پینے پر تم ہم سے ہرروز لڑتے ہو۔ سوسن لو ھٰذا ناقۃ اﷲ آیۃ بس اور کوئی معجزہ کیاکریگا، یہی اونٹنیوں کے ریوڑہیںیہی آیت اﷲ ہے یہی سب کچھ ہے،اب ایسا کرتے ہیں کہ ایک ایگریمنٹ کرتے ہیں کہ لھاشرب ولکم شرب یوم معلوم (۵۵۔۲۶) یعنی باری باری کرتے ہیں ایک مقرر وقت میں تمہارے مویشی پانی پیئینگے اسوقت ہمارا اﷲ کیلئے سب کیلئے عوامی پراپرٹی والا مویشیوں اونٹنیوں کا ریوڑ نہیں آئیگا اور جب ہمارے اونٹنیوں کے ریوڑکی باری آئیگی تو تمہارے ڈہور ڈہنگر نہیں آئینگے۔ اس معاھدہ پر تمہارا تفاق رہے اگر تمنے عمل نہیں کیا تو تم پر اﷲ کا عذاب آئیگا۔ پھر ہوا یہ کہ ایک باری کے موقعہ پر فنا دوا صاحبھم فتعاطی فعقر(۲۹۔۵۴) یعنی اپنے ایک انقلاب دشمن ساتھی کو بلاکر اونٹنیوں کے پاؤں کاٹ دیئے اور انہیں ہلاک بھی کیا۔ جناب قارئین! یہ واقعہ بھی ایسا ہے جیسے کہ اﷲ عزوجل نے جناب نوح علیہ السلام کو بتایا تھا کہ کشتی بناؤ میں ایک طوفانی سیلاب لاؤ نگا تو اپنے مؤمنون کو اور ضروری مویشیوں کو کشتی میں سوار کرنا تیرے مخالفوں کی پوری پوری خبرلی جائیگی۔ اسطرح جناب صالح علیہ السلام سے ایگریمنٹ توڑنے والوں کو ایک زلزلہ کے ذریعہ سے تباہ کردیا، جناب قارئین! اس قصہ میں اونٹنی کو معجزاتی اونٹنی کے طور پر مشہور کیا گیا ہے اور جناب موسی علیہ السلام کی طرف منسوب جبل طورسینامیں ساٹھ فوٹ کا ایک شگاف ہے اسکیلئے مشہور کیا گیا ہے کہ اس شگاف سے صالح علیہ السلام کی اونٹنی نکلی تھی۔ وہاں سے چند قدموں کے فاصلہ پر پتھر پر اونٹنی کے پاؤں کا نشان ہے کہاجاتا ہے کہ یہ حضرت صالح کی اونٹنی کے پاؤں کا نشان ہے۔ جناب قارئین! تھوڑا سا غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جملہ ناقۃ اﷲ کی معنی اﷲ کی اونٹنی اسکی توخاص معنی خاص اونٹنی کے ساتھ مخصوص بنانا یہ بہت بڑی غلطی ہے جب آپنے قرآن میں پڑہا کہ ﷲ میراث السماوات والارض آسمانوں اور زمین کی جملہ اشیاء اﷲ کی میراث ہیں تو پھر صرف ایک ناقہ ہی کیوں اﷲ کی ہوبتایا جائے کہ کونسی چیز اﷲ کی نہیں ہے۔ بہر حال اس بحث میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جناب صالح علیہ السلام کے مخالف امیروں نے اپنی اپنی املاک پر تیری میری کے ٹھپے لگائے ہوئے تھے اور جو لوگ جناب صالح علیہ السلام کے نظریانی انقلاب کے ممبر تھے انکا مال مویشی سب مشترک عوامی پراپرٹی تھا علم وحی کے نظر یہ کا اصول ہے کہ جو چیز بھی اﷲ کی ہے وہ سب کی ہے تو ناقۃ اﷲ کی معنی کہ عوام کی اونٹنییں یہاں کوئی سوال کر سکتا ہے کہ ناقہ کا لفظ ہر جگہ مفرد اور واحد کے صیغہ میں استعمال ہواہے اگر عوام کے سارے مویشی مراد ہوتے تو پھر جمع کا صیغہ استعمال کیا جاتا ، اس سوال کا جواب ہے کہ تاقہ اﷲ اسم النوع ہے، نوع کے ذیل میں اسکے لاتعداد افراد سماسکتے ہیں پھر کوئی یہ بھی سوال کر سکتا ہے کہ پھر ناقہ ہی کا نوع کیوں؟ مویشی تو اور بھی اقسام کے ہیں اسکا جواب یہ ہے کو قوم ثمود کے ہاں اکثریت اونٹوں اونٹنیوں کی تھی اسلئے نام صرف اکثریت والوں کا لیا گیا ہے مراد اسمیں سارے مویشی آجاتے ہیں مویشیوں سے جو فائدہ دودھ گوشت سواری کا لیا جاتا ہے وہ سب اونٹنیوں سے مل جاتا ہے۔ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
رانا صاحب اور انتظامیہ سے ایک گزارش کرنا چاہوںگا کہ احادیثکی طرح معجزات کے موضوع پر بھی ایک سیریز شروع کر دی جائے اور قرآن میں موجود ایک ایک معجزانہ واقعے پر گفتگو کے لئے اگر علیحدہ دھاگا اور باحثین کو موضوع پر گفتگو کا پابند بناتے ہوئے اگر انتظامیہ ان دھاگوںکی ’خصوصی نگہداشت‘کر سکتی ہو تو منکرین و قائلین معجزات کے نظریات بہتر طور پر لوگوں کے سامنے پیش کئے جا سکیںگے۔ رانا صاحب نے بہت محنت سے درج بالا مضمون یا کتابچہ ٹائپ کیا ہوگا۔ لیکن اس کی افادیت تب ہوگی جب عام اہل سنت کا نظریہ بھی سامنے ہو، تاکہ لوگ اپنے لئے درست عقیدہ کو چن سکیں۔ موجودہ موضوع میںاتنے سارے معجزات پر یکجا گفتگو کرنا اور اتنی ساری باتوں کا جواب دینا بہت مشکل بھی ہے اور افہام و تفہیم کے نقطہ نظر سے وقت اور ریسورسز کا ضیاع بھی۔
اگر انتظامیہ یا رانا صاحب دلچسپی رکھتے ہوںتو اوپر درج کئے گئے معجزات میںسے کوئی بھی ایک چن کر نیا دھاگا بنا کر دعوت دی جا سکتی ہے۔ میںدین کا ایک ادنیٰسا طالب علم ہونے کی حیثیت سے اہل سنت والجماعت کا متفقہ موقف بیان کرنے کی کوشش کروںگا، ان شاءاللہ والعزیز۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65] |
|
|
|
| شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (15-01-12) |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
پہلے اس پر بات کر لیں :: http://pak.net/%D8%B9%D9%84%D9%88%D9...61/#post490592 |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| قرآن, نقطۂ نظر, معجزات |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|