واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


ولادت عیسیٰ کس طرح ؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-01-12, 08:50 PM   #1
ولادت عیسیٰ کس طرح ؟
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آن لائن ہے 09-01-12, 08:50 PM

اس مسئلہ ولادت عیسیٰ میں یعنی انکے نعوذ باللہ بن باپ کے پئدا ہونے کے ڈھکو سلہ کی ایجاد ان لوگوں نے کی ہے جنکے بارے میں رب پاک نے فرمایا کہ یہ لوگ

يُحَرِّفُون َ الْكَلِمَ مِن بَعْدِ مَوَاضِعِهِ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَـذَا فَخُذُوهُ
(41-5)
یعنی یہ لوگ علم وحی میں لفظی تحریفیں ور معنوی ہیر پھیر کرنے والے ہیں۔ اور یہ کیوں کرتے ہیں؟

وہ بھی عرض کیا کہ یہ اسلئے کہ بندوں کو اللہ کے ساتھ ملاکر اور انہیں اللہ کے اختیارات دیکر پھر انکے ناموں سے ایسی باتیں، روایات، حدیثیں منسوب کی جائیں جن سے علم وحی کا رد ثابت ہوتا ہو اور اسکی تنسیخ ثابت ہوتی ہو، اسی وجہ سے تو اللہ عز وجل یوم حساب کے وقت جناب عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھے گا کہ

أَأَنتَ قُلتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـهَيْنِ مِن دُونِ اللّهِ
(116-5)
یعنی کیا آپ نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سواء دوسرا اور تیسرا اللہ قرار دیکر مانو؟

مطلب کہ یہ سب ہیرا پھیرییں اسلئے ہیں کہ علم وحی کے قوانین سے جان چھڑائی جائے‘‘ اب آئیں اصل مسئلہ کی طرف جو یہ ہے کہ

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ‘‘
(13-49)
یعنی اے انسانو! اے لوگو: ہم نے آپکو مرد اور عورت سے پئدا کیا ہے۔ ہمنے آپکو مذکر اور مؤنث کے (میلاپ سے) تخلیق کیا ہے۔۔۔۔۔۔

اب اس جملہ میں تخلیق آدم کا قانون بیان کیا گیاہے۔ انسان کی پئدائش کا محکم اصول بیان کیا گیا ہے‘‘ یہ قانون اور اصول قائدہ کلیہ ہے اسمیں سب انسان شامل ہیں کسی کی بھی استثنی نہیں ہے اور نہ ہی اسمیں کوئی معنوی اشتباہ ہے جو اس قانون کو علمی شبہات سے شمارکیا جاسکے کوئی ماں کا لال کوئی پھنے خان، کوئی خود کو اٹھارہ بیس علموں کا دستار بند عباؤں قباؤں کے یونیفارم والا، جناب عیسیٰ علیہ السلام کے انسان ہونے کی نفی نہیں کرسکتا، عیسیٰ علیہ السلام کے لئے یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ انسان نہیں ہے، سو جب جناب عیسیٰ علیہ السلام کو انسان مانا جائیگا تو اسکی تخلیق اور پئدائش پر اللہ کے قانون تخلیق،

إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى
(13-49)
نراور مادہ سے پئدا ہونے کو ماننا پڑے گا

،، اک نقطے وچ گل مکدی اے‘‘ اور اللہ کے اس دائمی ابدی ازلی جامع قانون میں کبھی بھی کسی کے لئے بھی تبدیلی نہیں آسکتی، اسکے لئے بھی اللہ کا اعلان ہے کہ

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
(30-30)
یعنی غلط سلط قوانین سے مونہ موڑتے ہوئے ہمارے دین حنیف یعنی قانون فطرت جو صدیوں سے یکسانیت کے ساتھ آرہا ہے جس قانون پئدا ئش کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی پھر چاہے اللہ کا نظام زندگی والا قانون ہو یا یہ تخلیق اور پیدائش والا قانون ہو)

ذالک الدین القیم
یہی قانون ہمیشہ رہنے والا مضبوط اور سیدھا قانون ہے

لاتبدیل لخلق اللہ
اس قانون تخلیق میں کبھی کوئی تبدیل نہیں آنی۔


ماں کے نام سے ابن مریم کیوں؟ باپ کے نام سے کیوں نہیں؟
اب اس مئلہ میں بات رہتی ہے قرآن دشمن عالمی سامراج کی تربیت یافتہ امامی علوم کے فاضل لوگوں کے التباسات اور علمی تھڈوں کی کہ جو ان آیات کریمہ سے وہ مغالطے پیدا کرتے ہیں کہ

إِذْ قَالَتِ الْمَلآئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
(45-3)
یعنی جب ملائکہ نے کہا کہ اے مریم اللہ تجھکو خوشخبری دیتا ہے اپنے ایک کلمہ کی (فیصلہ کی) اس بشارت والے کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے جو دنیا اور آخرت میں وجاہت والا اور مقربین میں سے ہوگا۔

اس آیت میں جو عیسیٰ کے پئدا ہونے سے پہلے ہی اسے ابن مریم کہا گیا ہے، اس کو دلیل بناکر امامی علوم کے فاضل صاحبان عیسیٰ کو بن باپ والا ٹھراتے ہیں (نعوذ باللہ)

محترم قارئین!
قرآن حکیم جیسے کہ ولادت جناب عیسیٰ علیہ السلام سے انداز اچھہ سؤ سال بعد میں نازل ہوا ہے اسلئے لوگوں نے بعد ولادت مسیح علیہ السلام سے اپنے اسلوب رواج اور محاوروں میں لقب مسیح اور نام عیسیٰ اور کنیت ابن مریم سے پکارا اور مشہور کیا وہ بھی اس نیپت سے نہیں کہ ابن مریم کہنے سے کوئی یہ ہستی بن باپ اور بے پدر ہے بلکہ اس وجہ سے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کی ماں اسکے والد سے مرتبہ میں بہت ہی برتر ہوگی اور تھی جسے اللہ نے اعزاز دیا کہ ان اللہ اصطفاک علی نساءالعالمین ویسے تو قارئین کو یاد ہوگا کہ جناب مریم علیھا السلام کی والدہ نے جب منت مانی تھی کہ اے اللہ مجھے جو پیٹ میں حمل ہے یہ بیٹا جب تولد پذیر ہوگا تو میں اسے خدمت دین کیلئے وقف کرونگی اور اسے ہیکل (درگاھ اور عبادتگاہ) والوں کے حوالے کرونگی،، پھر جب اسے اس حمل سے لڑکی پیدا ہوئی تو

قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنثَى وَاللّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالأُنثَى
(36-3)
یعنی امراٗۃ عمران نے کہا کہ اے میرے رب میں نے تو لڑکی کو جنا ہے

(آگے فرمان ہے کہ) اللہ زیادہ جانتا ہے اس حقیقت کو جو اسنے بیٹی کو جنم دیا اور اگر جو یہ بیٹا جنتی تو وہ اس بیٹی کے برابر ہر گز نہ ہوسکتا،،

پھر آگے چلکر جو مریم علیھا السلام نے ہیکل کے پادریوں کی جو اسکی جوانی کو پہنچنے کے وقت نظریں خراب دیکھیں، چونکہ تاریخ نے جناب مریم کی زندگی اور مریم کے ساتھ بڑی نا انصافی کی ہے اس حد تک جو خود من گھڑت انجیل میں بھی جناب عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی والدہ سے بے ادبی اور گستاخانہ لہجہ میں بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے

ملاحظہ فرمائیں، انجیل متی (12-48-50)
(میں لکھا ہے کہ) کسی نے اس سے کہا دیکھ تیری ماں اور تیرے بھائی باہر کھڑے ہیں اور تجھ سے باتیں کرنی چاہتے ہیں اس نے خبر دینے والے کے جواب میں کہا کون ہے میری ماں اور کون ہیں میرے بھائی اور اپنے شاگردوں کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا دیکھو میری ماں اور میرے بھائی یہ ہیں۔ کیونکہ جو کوئی میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلے وہی میرا بھائی اور بہن اور ماں ہے۔

ایک جگہ بی بی مریم نے اپنے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام سے کچھ کہنا چاہا تو آپنے اسے جواب میں کہا کہ اے عورت! مجھے تجھ سے کیا کام ہے،،
(یوحنا 4:2)

یاد رہے کہ اللہ کے ہاں جناب بیبی مریم اپنے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کو جننے سے پہلے ہی بڑے مرتبہ پر فائز ہے جو اسے علم وحی سے یہ سرٹیفکیٹ ملا ہوا ہے کہ

وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاء الْعَالَمِينَ
(42-3)
یعنی جب ملائکہ نے کہا اے مریم تحقیق اللہ نے تجھ کو امتیاز بخشا ہے اور تجھے جہانوں کی عورتیں میں سے منتخب فرمایا ہے۔

انا جیل اور عیسائیوں کی تاریخ نے جناب عیسیٰ کو اپنی والدہ سے انداز ادبی والے دکھائے ہیں جواللہ نے عیسیٰ السلام کی زبانی ان من گھڑت اناجیل کے الزامات کی تردید کرائی کہ

وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا
(32-19)
یعنی میں اپنی والدہ سے نیک سلوک کرنے والا ہوں اور اللہ نے مجھے اسکے ساتھ سخت گیری والے طریقہ سے چلنے والا بدبخت نہیں بنایا۔

جناب قارئین!
دیکھو کہ اللہ عزوجل کی کتاب قرآن حکیم کہ وہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت پر سے من گھڑت انا جیل اور کھوٹی تاریخ کے الزامات کس طرح تو کھرچ کھرچ کر صاف کر رہا ہے، میں نے بات شروع کی تھی ہیکل کے بدچلن پادریوں کی جنہوں نے جنابہ مریم کو بری نظروں سے دیکھنا شروع کیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ

ذَلِكَ مِنْ أَنبَاء الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيكَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُون أَقْلاَمَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ
(44-3)
یعنی یہ تاریخ اور غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپکی طرف وحی کر رہے ہیں اور آپ کوئی انکے ہاں موجود نہیں تھے جب وہ اپنے قلم پھینک کر فال نکال رہے تھے)

کہ کون کفالت کرے مریم کی اور اے نبی! نہ ہی انکے اس جھگڑے کے وقت آپ انکے پاس موجودتھے،

ایسے ماحول میں رہ کر بی بی مریم نے جس عفت و پاکدامنی کے ساتھ حالات اور ماحول سے ٹکر کھائی ہے اسی کے پیش نظر تو قرآن نے اسے تمغہ طہارت اور نساء عالمین پر اصطفاءاور انتخاب کا اعزاز بخشا ہے، مریم کے یہی اعزازات ہیں جن کی بناپر اللہ نے مریم کی ماں سے کہا کہ لیس الذکر کالانثی یعنی جو تو اگر بیٹا جنتی تو وہ لڑکا اس لڑکی جیسا مخالف حالات سے ٹکر کھانے والا نہ ہوتا،، تو یہ مریم کا مقام و مرتبہ اسے شادی سے پہلے حاصل ہوچکا تھا اسیوجہ سے اسکے رشتہ دار شوہر یوسف درکھاں کا اتنا مقام اور ناموس شہرت کو نہیں پہنچ پایا تھا جو انکے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ماں کے مقابلہ میں ایک غیر مشہور باپ کی طرف ہوتی،

دنیا میں کئی ایسی عورتیں ہیں جنکی شہرت اپنے شوہروں سے اتنی تو زیادہ ہےجو کئی سارے دنیا والے ایسی عورتوں کے شوہر وں کی پہچان بھی نہیں رکھتے اور نہ ہی انکے اولاد کو بن باپ کے کہتے ہیں، مثال کے طور پر ہندستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی نے بڑی شہرت پائی اور وہ بھی ملک کی نامور وزیر اعظم ہوئی اور اسکو جو اپنے شوہر سے بیٹا راجیو گاندھی پئدا ہوا تھا وہ بھی ملک کا وزیر اعظم بنا تھا، اور راجیو کی ماں کی شہرت راجیو کے باپ فیروز گاندھی سے بدر جہا زیادہ تھی اتنی حد تک جو راجیو بیٹا اندرا تو مشہور ہے راجیو بیٹا فیروز کئی سارے لوگ نہیں جانتے اور نہ ہی راجیوکو کوئی بن باپ کے پکارتا ہے

اسیلئے اللہ پاک نے فرمایا کہ

فَوَرَبِّ السَّمَاء وَالْأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنطِقُونَ
(23-51)
یعنی پھر آسمان اور زمین کے رب کی قسم کہ یہ قرآنی محاورات واستعارات ایسے تو سچ اور برحق ہیں جسطرح تم لوگ اپنی بولیوں میں محاوروں سے کنایوں سے آپس میں باتیں کرتے ہو،،

دنیا والو تم نے مریم کی عظمت پر بڑے ظلم ڈھائے ہیں کچھ شرم کرو! مریم تو اپنے نامور بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کو جننے سے پہلے ایسے مقام و مرتبہ کو پہنچ چکی ہے جو اسکی دہلیز پر اللہ کے ملائک آکر سلوٹ کرتے ہیں

وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاء الْعَالَمِينَ
(42-3)
(ترجمۃ ابھی گذرچکا ہے) کہ عیسیٰ کی نانی کی دعا دنیا بھر کے پادریو! پنڈتو! مولویو! مریم کو بغیر شوہر کے بیٹا جننے والی کہتے وقت کچھ تو حیا کرو!

مریم جب اپنی ماں امراٗۃ عمران کی گود میں جنم لیتی ہے تو اسکی ماں اس وقت اسکیلئے کہتی ہے کہ

وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وِإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
(36-3)
یعنی میں اپنی بچی کا نام مریم رکھتی ہوں اور اے میرے رب! میں اپنی بچی کو تیری پناہ میں دیتی ہوں (نیز جب یہ میری بیٹی جوان ہوکر شادی کریگی اور بچے جنے گی تو ) اسکے بچوں کو بھی میں تیری پناہ میں دیتی ہوں شیطان راندہ رجیم کے شر سے۔

بہرحال ماں کے نام سے پکارے جانے پر کسی کو بن باپ کے پئدا ہونے والا کہنا یہ صرف عیسیٰ اور مریم کے ساتھ ظلم ہے قرآن میں جناب ہارون علیہ السلام بھی اپنے بھائی جناب موسیٰ علیہ السلام کو کہتے ہیں کہ

يَا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلَا بِرَأْسِي
(94-20)
یعنی اے اماں کے بیٹے میری داڑھی اور سر کو نہ پکڑ ۔۔۔۔

یہاں کسی نے موسیٰ وہارون علیھما السلام کو کبھی بھی بن باپ والا نہیں پکارا۔


عیسیٰ علیہ السلام کے باپ کا ذکر علی الانفراد قرآن نے اسلئے نہیں کیا جو ضرورت نہ پڑی


قرآن حکیم کافنی ادبی بلاغت کا اصول ہے کہ وہ کسی چیز لفظ یا مسئلہ کو بغیر ضرورت کے ذکر نہیں کرتا پورے قرآن میں کہیں بھی کوئی جملہ اور لفظ تو کیا ایک حرف بھی زائد اور فضول نہیں ہے ہر حرف اپنی اپنی جگہ پر مقصدیت والا ہے اپنا اپنا مفہوم دینے والا ہے۔

قرآن حکیم میں کئی جگہوں پر صرف ماؤں کے ذکر کی ضرورت پڑی ہے تو وہاں وہاں اللہ نے صرف ماؤں کا ہی ذکر کیا ہے جیسے کہ

يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ
(6-39)
وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ
(32-53)
مَّا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ
( 2-58 )
ایسے مثال قرآن میں کئی سارے ہیں۔ تو اب ان موقعوں پر یہ نہیں کہا جائیگا کہ ان مثالوں میں صرف ماؤں کا ذکرہے تو ایسی سب مائیں شوہر کے بغیر مائیں بنی ہونگی اسلئے کہ قرآن نے شوہروں کا ذکر نہیں کیا،،

دنیا والو! یہ کتاب فتو نتھو کی نہیں ہے

وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَہے
(192-26)
یہ کتاب رب العالمین کی نازل کردہ ہے۔

عیسیٰ علیہ السلام کے باپ کا ذکر قرآن میں

وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى وَإِلْيَاسَ كُلٌّ مِّنَ الصَّالِحِينَ ۝ وَإِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا وَكُلاًّ فضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِينَ ۝ وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ وَاجْتَبَيْنَاهُمْ وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(85 تا 87-6)
خلاصہ اوپر ذکریا اور یحیٰ اور عیسیٰ اور الیاس (علیھم السلام) یہ سب صلحاء میں سے تھے اور اسماعیل اور الیسع اور یونس او رلوط (علیھم السلام) اور ان سب کو ہمنے اقوام عالم پر فضیلت دی اور انکے باپ دادوں میں سے اور انکی نسلوں سے اور انکے بھائیوں سے اور ہم نے ان سب کو منتخب کیا اور ہمنے انکو ہدایت عطا کی سیدھی راہ کی طرف (ترجمہ ختم)

جناب قارئین!
اس کلام ربی پر غور فرمائیں اس میں جملہ انبیاء علیھم السلام کیلئے چار عدد تعارفی اعزازات کا ذکر ہے ایک یہ ہے کہ یہ سارے رسول صالحین تھے رفارمر تھے۔ دوسرا اعزاز کہ ان سب کو اقوام عالم پر فضیلت دی۔ تیسرا اعزاز یہ کہ انکے آباءواجداد اور اولاد اور بھائیوں کو منتخب کیا، چوتھا یہ کہ ان سبکو صراط مستقیم کی طرف ہدایت دی آپ نے غور کیا ہوگا کہ انبیاء علیھم السلام کی اس فہرست میں جناب عیسیٰ علیہ السلام کا بھی ذکر ہے پھر ان جملہ انبیاءکے آباء و اجداد اولاد اور بھائیوں کا بھی ذکر ہے، سواگر امامی روایات والے علوم کے کہے مطابق نعوذ باللہ اگر عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے قانون تخلیق (13-49) کے خلاف پئدا ہوئے ہوتے اور اسکا کوئی باپ دادا نہ ہوتا تو قرآن حکیم ضرور اس اعزازات والی تعارفی فہرست میں آباء کے ذکر کے ساتھ اسکی الا عیسیٰ کے ساتھ استثنی کرتے،،

قرآن حکیم مفصل کتاب ہے، قرآن نے اپنے بیان مسائل اور حقائق میں کبھی کہیں کوئی ابھام نہیں چھوڑا، غور اور تدبر کرنے والے لوگ سوچیں کہ جب لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب لانے کا قرآن حکیم نے ذکر کیا پھر اس عذاب سے جناب لوط علیہ السلام اور اسکے اہل خانہ کی نجات کا ذکر کیا کہ

فَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ ۝ إِلَّا عَجُوزًا فِي الْغَابِرِينَ
(177-017-26)
یعنی ہم نے لوط علیہ السلام اور اسکے جملہ اہل خانہ کو نجات دی، سواء اس پیچھے رہ جانے والی بڑھیا کے،،

قرآن کے اوپر اپنی بنائی ہوئی حدیثوں کو امامی علم روایات کو غالب حاکم اور قاضی بنانے والو! آنکھیں پھاڑ کے اس کتاب کو پڑھو تنخواہیں دینے والوں کی عینکوں کو اتار کر غور و فکر کرو اور دیکھو کہ اس کتاب میں کتنی تو باریکیں ہیں۔

عیسیٰ اور اسکی والدہ کے ساتھ ظلم
جناب موسیٰ علیہ السلام بچپنے میں دریاء سے ملا پھر بھی وہ بن باب والا نہ کہلایا ، جبکہ اسکی ولدیت اس وقت معلوم بھی نہیں تھی موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام بڑے ہوکر دونوں کی کنیت انکی ماں کے نام سے مشہور ہوئی تھی چہ جائیکہ انکا والد بھی عمران نامی اپنے قبیلہ کا بہت نامور سردار تھا جسکا قرآن حکیم نے بھی ذکر کیا ہے۔

ان اللہ اصطفی اٰدم و نوحا واٰل ابراھیم واٰل عمران علی العالمین
(133-3)
اگرچہ قرآن میں عمران کیلئے موسیٰ علیہ السلام کے باپ ہونے کا ذکر نہیں ہے لیکن یہ حقیقت تو مسلمات میں سے ہے موسیٰ اور ھارون علیہا السلام اٰل عمران میں سے تھے جسطرح کہ مریم بھی اٰل عمران میں سے ہے۔

عیسیٰ یا کسی کی بھی پئدائش بن باپ کے نہیں ہوسکتی


قرآن حکیم کی طرف سے تخلیق انسان کیلئے ایک قائدہ اور قانون کی وضاحت

فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ ۝ خُلِقَ مِن مَّاء دَافِقٍ۝ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ
(5تا 7-86)
یعنی لازم ہے کہ انسان غور کرے کہ وہ کن اجزاء سے پیدا کیا گیا ہے، پیدا کیا گیا ہے ایسے پانی سے جو جمپ کی طرح ٹپکا ہے اور وہ نکلتا ہے باپ کی پیٹھ سے اور (ماں کی) سینہ والی ہڈیوں سے۔

محترمہ قارئین!
اس موضوع کیلئے بائلاجی کے علماءسے رجوع کیا جائے وہ نہایت ہی مدلل طریقہ سے آپکو فلسفہ تخلیق سمجھا سکتے ہیں کہ بغیر مرد انسان کے اکیلی عورت بچہ پیدا نہیں کر سکتی، آجکل جو ٹیوب کے ذریعے بچے پئدا کرنے کی سائنس مشہور ہوئی ہے اسمیں بھی مرد اور عورت دونوں کی منی کا ملانا لازم ہے مطلب کہ تخلیق کے عمل میں انسانی جوڑا لازم ہے اسکیلئے فرمایا کہ

وَاللَّهُ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا
(11-35)

امامی علوم کی روایات نے جو مشہور کیا ہے جسکا ایک اقتباس تفسیر بیضاوی سے ہے کہ

اتا ھا جبریل متمثلا بصور شاب امرد سوی الخلق لستانس بکلامہ ولعلہ لیھیج شھوتھا فتحدر نطفتھا الی رحمھا ۔

پھر تفسیر مدارک میں ہے کہ تمثل لھافی صورۃ اٰدمی شاب امرد وطیئی الوجہ، جعد الشعر یعنی فرشتہ جبریل
ایک خوبصورت بے ریش لڑکے کی شکل میں گنگھریالے بالوں والے نوجوان کی شکل میں مریم کے سامنے آیا اسلئے کہ اسکی شہوت کو جنبش آئے جس سے اسکا نطفہ اسکی رحم میں پہنچے جس سے حمل ہو (اللہ کی پناہ ایسی تبرائی روایات سے) جناب یہاں سوال ہے کہ کیا بیبی صاحبہ اسے فرشتہ سمجھتی تھی؟ اگر ہاں تو پھر مریم تو جانتی تھی کہ ملائک ملائک ہوتے ہیں انکی ساتھ شہوت کے ہیجان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: اور اگر اسے ملائک سمجھنے کے بجائے انسان سمجھتی تھی تو یہ سراسر جھوٹ ہے جو مریم کسی نوجوان کو دیکھ کر شہوانی جذبات میں آجائے وہ اس دلیل سے کہ مریم کو اللہ نے طہرک علی نساء العالمین کے خطاب اور اعزاز سے نوازا ہے یعنی مریم اتنی پار ساتھی جو اسنے ایک بار خواب میں بھی اللہ کے ایک ملائک کو کامل الاعضاء انسانی شکل مین دیکھا تو دیکھتے ہی خواب کی حالت میں اسے وارننگ دی کہ خبردار اگر تجھے کوئی خوف خداہے تو مجھ سے ہٹ کر رہو میں آپ کے قرب سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں

فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا ۝ قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَن مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيًّا
(17-18-19)

جناب قارئین!
امامی علوم نے جتنے بھی قصے لکھے ہیں کہ مریم کو اسکے بیٹے عیسیٰ کا حمل جبریل کی پھونک مارنے سے ہوا ہے وہ ٹوٹل امامی جھوٹ اور امامی زٹلیات ہیں ایسی خرافات کا پوسٹ مارٹم حاضر ہے۔

نفخ روح
محترم قارئین!

پیدائش کے وقت انسان کے اندر روح کے پھونکنے کی بات قرآن حکیم نے کل پانچ عدد بار ذکر کی ہے، تین عدد عام جملہ انسانوں یعنی مردوں اور عورتوں کیلئے یکساں ذکر کی ہے اسکا احاطہ یوں سمجھا جائے کہ دنیا کے پہلے انسان پہلی عورت اور پہلے مرد سے لیکر دنیا کے فنا ہونے تک جو آخری مرد یا عورت پئدا ہونگے ان سب کیلئے اس بات کا ذکر تین بار ہوا ہے، چوتھی بار اور پانچویں بار کا ذکر تو جناب جناب عیسیٰ علیہ السلام کے حوالہ سے ہوا ہے ان دو بار میں سے پہلی بار

وَالَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا
(91-21)
یعنی ہمنے مریم کے اندر جب اسنے شادی کی پھونکا اپنے روح میں سے، دوسری بار

وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا
(12-66)
اس آیت کریمہ میں فیھا یعنی ضمیر واحد مؤنث کے بجاء فیہ واحد مذکر لایا گیا ہے اس سے دونوں بار مراد جناب عیسیٰ علیہ السلام ہیں وہ اسطرح کہ جب فیھا والا ضمیر واحد مونث بظاہر بی بی مریم کی طرف مناسب لگتا ہے لیکن بیبی صاحبہ کا اپنا روح تو اسے اسوقت مل چکا تھا جب وہ خود اپنی ماں کے پیٹ میں جنم لے چکی تھیں، اسکو یہ روح جسکا ذکر آیات (91-21) اور (12-66) میں دو مقام پر آیا ہے اسکا تعلق اسکے حمل والے بچہ کے ساتھ ہے پھر سوال ہوسکتا ہے کہ دونوں دفعہ ضمیر واحد مذکر والا لانا چاہیے تھا، اسکا جواب یہ ہے کہ پیٹ کے اندر جو بچہ مذکر ہے اسکیلئے جب روح ڈالنے کی بات واحد مؤنث کے ساتھ کی گئی تو وہ بھی درست ہے کہ روح بچہ عیسی مذکر میں اور وہ اپنی ماں کے پیٹ کے اندر، تو بچہ کے ماں کے پیٹ کے اندر ہونے کی وجہ سے ضمیر واحد مؤنث کا بھی درست استعمال کہا جائیگا اسوقت تک یہ درست ہوگا جب تک وہ اپنی ماں کے پیٹ سے باہر نہیں نکلا،، یہ ایسا استعمال باہر متولد ہونے کے بعد درست نہیں ہوگا۔

تو نفخ روح سے مراد وہ نرینہ نوع کا نطفہ نہیں ہے جس سے مؤنث کو حمل ہوتا ہے اسلئے کہ وہ حمل والا نطفہ تو مؤنث کے اندر اسکے زوج کی طرف سے آتا ہے جبکہ روح اللہ کی طرف سے ملتا ہے جو مونہ کی طرف سے داخل کیا جاتا ہے نیچے کی طرف سے نہیں ۔ اس گذارش کے بعد آیت

والتی احصنت فرجھا فتفجنا فیھا من روحنا
سے مراد یہ ہے کہ جب مریم نے بذریعہ نکاح اور شادی کے اپنے فرج کو محفوظ و مصئون بنایا اور شوہر والی بنگئی پھر زن و شوہر کے نطفہ کے امتزاج کے بعد یہ مرحلہ آیا کہ اسکو حمل اور

فنفخنا فیہ من روحنا
(12-66)
ہم نے مریم کے پیٹ کے اندر جو کچھ تھا اسمیں اپنا روح پھونکا یہاں روح کی معنیٰ یہ نہ سمجھی جائے کہ زن و شوہر کے نطفے جن کے لئے قرآن حکیم نے فرمایا ہے

فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ ۝ خُلِقَ مِن مَّاء دَافِقٍ ۝ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ
(5 تا 7 -86)
یعنی لازم ہے کہ انسان غور کرے کہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے، وہ پیدا کیا گیا ہے اس پانی سے جو اچھل کر آنیوالا ہے مرد کی پیٹھ کی ہڈیوں کی جانب سے اور مؤنث کی سینہ کی ہڈیوں کی جانب سے۔

تخلیق کی اس سائنس کے انکشاف سے یہ فیصلہ قرآن نے ثابت کردیا کہ مؤنث کے پیٹ کا حمل نطفہ سے ہوتا ہے روح سے نہیں ہوتا، روح تو وہ مخصوص عطیہ ہے جو خاص انسان کی خصوصی میرٹ سے تعلق رکھتا ہے جس سے وہ ولقد کرمنا بنی آدم کے مرتبہ کو پہنچا ہے انسانی روح تو ہر مؤمن و کافر کو حاصل ہوتا ہے۔ اور قرآن حکیم میں روح القدس، روح الامین، روحامن امرنا کے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں تو روح القدس اور روحا من امرنا کی معنی علم وحی ہےاور روح الامین کی معنیٰ جبریل سے،

امامی علوم کے مفسرین جو لوگ قرآن کی تفسیر امامی روایات کے تابع کرتے ہیں اور وہ جو کہتے ہیں کہ مریم کے اندر جبریل نے روح کو پھونکا، انکی یہ بات عقل نقل دونوں کے خلاف ہے قرآن حکیم میں تخلیق آدم کے حوالہ سے تین بار مؤمن اور کافر جملہ انسانوں کے لئے اللہ پاک نے فرمایا کہ

فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي ( 72-38 ) (9-32) 29-15)
یعنی ہربار فرمایا کہ انسان میں جب میں نے اپنے روح میں سے پھونکا۔

تو ان آیات کریمہ سےجبریل کیلئے کوئی ایک بھی آدمی نہیں بچتا جسکو وہ آکر روح ڈالے، اور نفخ کا لفظ قرآن حکیم میں کئی بار آیا ہے لیکن کہیں ایک بار بھی جبریل کے ساتھ اسکا استعمال نہیں ہوا،، اور یہ بات بھی سوچنے کی ہے اور امامی علوم کے دستار بند مذہب کے ٹھیکیداروں سے سوال ہے کہ قرآن میں ابھی جو حوالہ جات آپنے ملاحظہ فرمائے کہ جمیع انسانوں میں اللہ پاک اپنے روح میں سے روح پھونکنے کی بات فرما رہا ہے جن جمیع انسانوں میں سارے کافر اور اللہ کے دشمن انبیاء علیھم السلام کے دشمن سب لوگ آجاتے ہیں ان سب میں رب فرماتا ہے میں نے ان میں اپنے روح میں سے روح پھونکا ہے تو مولوی صاحبو! آپ لوگ جناب عیسیٰ علیہ السلام کے کو نسے خیر خواہ ہوئے جو اسیکیلئے آپ اللہ کی طرف سے اسمیں روح پھونکنے کا انکار کرکے اسے جبریل کے حوالے کر رہے ہو؟۔

انسان کے اندر اللہ کے روح سے کیا مراد ہے؟

روح کی مکمل تشریح اور تعریف مستقل طور پر بہت طویل ہوگی اور یہ موضوع بہت لمبا ہوگا اس مضمون میں جو کہ مختصرا مکمل کرنا ہے وہ نہیں سما سکیگا میں اسکا نہایت مختصر خلاصہ پیش کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ روح کی معنی کا حاصل مطلب عقل اور اختیار ہے۔ اسے الوہیاتی توانائی بھی تعبیر کیا گیا اس معنی کے بھی بہت سارے حواشی اور بین السطور ہیں یہ معنی جب سمجھ میں آئے گی جب سجدہ کی معنیٰ جو قرآن نے سکھائی ہے (50-16) اسے سمجھا جائیگا جو یہ ہوئی کہ او امر اور نواہی کی تعمیل اور امپلیمنٹ۔

احصان- الحصون- محصنات

احصان، کسی چیز کی حفاظت کرنا، یہ مصدری صیغہ کا وزن ہے۔

الحصن حفاظتی کوٹ قلعہ جسکا جمع حصون آیا ہے
(2-59)

اور

لَا يُقَاتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِي قُرًى مُّحَصَّنَةٍ
(14-59)
یہ بھی قلعہ بند شہروں کی معنی میں آیا ہے۔

وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُم مِّن بَأْسِكُمْ
(80-21)
یہاں بھی حفاظت کی معنی میں یہ صیغہ استعمال ہوا ہے۔ سورت النور میں جو آیا ہے کہ

وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاء إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا
(33-24)
خلاصہ اور اپنی ماتحت لونڈیوں نوکرانیوں، خاندانی یتیم لڑکیوں کو جو تمہاری زیرسرپرستی میں ہیں اگر وہ ارادہ کریں اپنی حفاظت کیلئے شادی کا تو آپ انپر جبر نہ کریں شادی سے روکنے کیلئے، اس لالچ پر کہ وہ ہمیشہ تمھاری نوکرانی رہ کر تمھارے دنیاوی مفادوں کا مشینی پرزہ بنی رہیں۔

اس مقام پر تحصن کا صیغہ نکاح اور شادی کی معنوں میں آیا ہے سورت النساء میں جو آیا ہے کہ

وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاء إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللّهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاء ذَلِكُمْ أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا
(24-4)
خلاصہ (اگلی آیت کریم سےمحرمات عورتوں کی فہرست بتائی جا رہی ہے حرمت علیکم کے حکم سے سو اس آیت میں)

المحصنات سے مراد وہ عورتیں ہیں جو کسی کے نکاح میں شادی شدہ ہیں انکے ساتھ بھی بغیر طلاق کے اور عدۃ گذرنے کے شادی کرنا حرام ہے سواء ان لونڈیوں کے جو آپ کے معاشرہ میں پہلے رواج کے مطابق موجود ہیں یہ ہے اللہ کا قانون جو آپکے اوپر لاگو ہے۔ ان عورتوں کے علاوہ بقیہ اقسام سب حلال ہیں لیکن ان کے لئے شرط ہے کہ انہیں نکاح کرتے وقت انکا حق مہر ادا کرینگے لیکن یہ نکاح محصنین ہو مسافحین نہ ہو

محصنین کی یہاں معنی ازد واجیت کا وہ رشتہ جسمیں طلب اولاد۔ دائمی رفاقت اور طبائع کی ناموافقت سے اگر کشیدگی پئدا ہو تو جدائی کی صورت میں طلاق اور طلاق کے بعد عدت اور اگر دوران ازدواجیت وفات ہوجائے تو ورثہ کے قوانین کی روشنی میں مقرر کردہ حصہ ملکیت دینا یہ سب محصنین کی معنی میں آتا ہے

ویسے بھی نکاح و شادی بیاہ کا مقصد صرف منی کا ضائع کرنا نہیں ہوتا،

اسیلئے محصنین کے بعد فرمایا غیر مسافحین یعنی نکاح اور شادی کے مقاصد جو اوپر بیان کئے گئے انکے علاوہ عورتوں سے جو میلاپ ہوگا وہ سفح کی معنی میں ہوگا جسکی معنی ہے پانی بہانا، تو یہ زنا کے مفہوم میں بات آئیگی۔

اسکے بعد قرآن نے سفح کو ممنوع قرار دینے کے بعد پھر سے عورتوں کو نکاح میں مہر دینے کی بات کو دوبارہ لایا نئے الفاظ سے کہ

فااستمتعتم بہ منھن فاٰتوھن اجورھن
یعنی آپ جو اپنی بیویوں سے نفع حاصل کرتے ہو (جو وہ آپکا گھریلو کا کاج اور حفاظت کا کام دیتی ہیں) تو انکو انکی اجرت اللہ کی طرف سے فرض سمجھتے ہوئے ادا کرو یہاں بھی قرآن حکیم نے مہر ہی کو اجرت سے تعبیر فرمایا ہے یہ اسلئے نزول قرآن کے زمانہ میں عربی زبان کا اس دور کا یہ انکا محاورہ تھا ورنہ بیوی کوئی نوکرانی نہیں ہوتی جو خاوند کے گھر میں اجرت پر کام کرتی ہو‘‘

اسلئے آگے یہ بھی فرمایا کہ میاں بیوی شادی کے بعد اگر آپس میں خوش اسلوبی سے رہیں اور بیوی اپنے مقرر کردہ مہر میں سے رقم میں کچھ رعایت کرے تو اسمیں بھی کوئی حرج نہیں ہے اسلئے کہ قوانین خداوندی بڑی علمیت اور حکمت پر مشتمل ہیں۔

جناب قارئین!
اسکے بعد والی آیت میں

وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلاً أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ
(25-4)
میں محصنات سے مراد وہ کنواری عورتیں مراد ہیں جو اپنی عصمت عفت و پاکدامنی کی حفاظت کئے ہوئے ہیں۔

اس ساری تگ و دود سے مقصد محصنات کو جو امامی علوم والوں نے بی بی مریم کو خواہ مخوا ہ کنواراپن کی معنی میں بند کیا ہوا ہے اسکی تردید ہے، قارئین کو اسکا پس منظر سمجھانا مقصود ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ بی بی مریم کے حوالہ سے آپ ابھی ابھی پڑھکر آئے کہ دوبار قرآن نے بتایا کہ احصنت فرجھا فنفخنافیہ من روحنا، یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ شادی اور نکاح کے بغیر نفخ روح ہو نہیں سکتا، اور احصنت فرجھا کی معنی بھی شادی ہے اوپر جو ذکر ہوا کہ جمیع انسانوں عورتوں مردوں میں انکے پئدائش کے وقت ہمنے اپنا روح پھونکا ہے (9-32) (29-15) یہ تو ہوا سب کا اپنا روح یہ روح تو بی بی مریم میں اپنا والا پہلے ہی موجود ہے جب ہی تو وہ انسانی پیکر میں زندہ ہے، اب جو بحث ہے وہ ہے حمل والے بچہ کے دوسرے روح کی ہے، جو سواء زوج کے اس کی کوئی صورت ممکن نہیں ہے، یہ ثبوت ہے اس ماجرا کا کہ ہر نوع مخلوق کی مؤنث کو اسی کے نوع مذکر سے ہی ولد پئدا ہو سکتا ہے غیر نوع کے مذکر سے مؤنث کو ولد پیدا نہیں ہو سکتا،، جیسے کہ امامی علوم والوں نے غیر نوع والے فرشتہ جبریل کی پھونک سے عیسی علیہ السلام کا متولد ہونا بنایا ہے۔

رہی یہ بات کہ ان امامی علوم کے دستاربند لوگوں کا یہ کہنا کہ اللہ کو تو طاقت ہے وہ ہر شی پر قادر ہے اگر وہ چاہے تو بن باپ کے کسی کو بیٹا دے سکتا ہے، تو انکی خدمت میں مؤدبانہ عرض ہے کہ فیصلے بدلنے والے آپ جیسے لوگ ہیں ۔

ہماری معلومات میں کئی مثالیں ہیں جن میں کوئی ایک مثال بھی میں یہاں ذکر نہیں کرتا کہ کہ آپکی علمی مراکزسے کئی ایسی فتوائیں جاری ہوئی ہیں جو خود آپکی اپنی پہلی فتوائوں کا رد ہیں ایسے کیوں ہوا؟ کن اسباب سے ہوا؟، اگر دفتر کھلا تو پھر سنبھل کر قدم رکھنا۔ لیکن اللہ عزوجل اپنے بارے میں اعلان فرماتے ہیں کہ

مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ
(29-50)
یعنی میں اللہ اپنے فیصلوں کو، قول کو بدلا نہیں کرتا

مولوی لوگوں کا یہ کہنا کہ عیسی علیہ السلام کی ولادت بغیر باپ کے یہ کرامت اور معجزہ سے شمار کی جائے گی یہ تو ان کا قول اللہ کیلئے گالی ہوجائیگا، وہ اسلئے کہ آیت میں رب پاک نے فرمایا کہ میں اگر اپنے قوانین بدلوں گا تو یہ بندوں پر ثلم ہوجائیگا اور میں ظالم نہیں ہوں اسکے باوجود مولوی لوگ بضد ہیں کہ ولادت عیسیٰ غیر فطری ہوئی ہے،،

مزید یہ کہ قانون تخلیق کے متعلق مستقل طور پر خصوصیت کے ساتھ فرمایا کہ

فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
(30-30)
یعنی اللہ کا قانون پیدائش وہی ہے جسپر لوگ پیدا ہوتے ہوئے آرہے ہیں، لاتبدیل لخلق اللہ، اللہ کے قانون تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں آنی۔

إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللّهِ كَمَثَلِ آدَمَ
قرآن حکیم کی اس علمی تمثیل کہ اللہ کے ہاں عیسیٰ کی تخلیق ایسے ہے جسطرح آدم کی پیدائش ہے۔

اس قرآنی رہنمائی کو بھی قرآن دشمن روایت پرست گروہ نے آدم و عیسیٰ دونوں کی پئدائش کو غیر فطری اور اللہ قانون تخلیق کے مطابق نہیں مانا جو

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى
(13-49)
ہے یعنی ہم نے جمیع انسانوں کو نر و مادہ کے امتزاج سے بنایا،

اس قانون کو امامی علوم کے فرقوں والے باء پاس کرکے جاتے ہیں، میری یہ بات سمجھنے کیلئے امامی علوم کے ایک مغالطے کو سمجھنے اور اور اپنی معلومات کو درست کرنے کی ضرورت ہے، جو مغالطہ یہ ہے کہ علم روایات کے ذریعے یہ ڈھکو سلہ مشہور کیا گیا ہے کہ اٰدم صرف پہلے پیدا ہونے والے شخص کا نام ہے۔ اور ملائکہ کو جو حکم دیا گیا کہ اٰدم کو سجدہ کرو اور وہ آدم جو مسجود ملائک تھا ۔ صرف وہ پہلا والا اکیلا آدمی مسجود ملائک آدم نامی تھااور بس،،

جبکہ قرآنی حقیقت یہ ہے کہ کائنات کے پہلے آدمی سے لیکر قیامت تک آخری پیدا ہونے والے انسان تک سارے کے سارے جملہ لوگ جملہ انسان آدم ہیں، اور یہ سارے آدم مسجود ملائکہ ہیں، اٰدم صرف پہلے اکیلے آدمی کا نام نہیں ہے، آدم جملہ انسانوں کا نوعی نام ہے، اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کا نام آدم رکھے یا رکھتے بھی ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ثبوت یہ ہے کہ اللہ عز وجل نے خود اپنی کتاب قرآن میں جملہ انسانوں کا اجتماعی اور نوعی نام آدم رکھا ہے،، ملاحظہ فرمائین!

وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلآئِكَةِ اسْجُدُواْ لآدَمَ
(11-7)
یعنی ہمنے پہلے آپکو تخلیق کیا، (تخلیقی مراحل کی تکمیل کے بعد) پھر ہمنے آپکی تصویر بنائی پھر روح پھونکی، پھر ہمنے ملائکہ کو کہا کہ اب اٰدم کا حکم مانو، آدم کے حکم کی تعمیل کرو۔

اب ذرا تخلیقی مراحل پر نظر کریں جنکے لئے فرمایا گیا کہ

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ
(14-23)
یعنی اور ہمنے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا پھر ہمنے اسکو مضبوط ٹھیرنے کی جگہ میں نطفہ بناکر رکھا، پھر ہم نے نطفہ کو لوتھڑا بنایا، پھر اس لوتھڑے سے گوشت کا ٹکڑا بنایا پھر اس گوشت کے ٹکڑے میں ہڈیاں بنائیں، پھر ان ہڈیوں کو پہنایا گوشت، (یہاں تک بات ہوئی آیت (11-7) کے جملہ ولقد خلقنا کم کے تفصیل کی،

پھر آگے جو فرمایا کہ ثم صورنا کم اسکی بالفاظ دیگر اس (14-23) کے مقام پر تعبیر فرمائی کہ ثم انشاٗناہ خلقا آخر، میں نے جو آیت (11-7) کے حوالہ سے سجدہ کی معنی کی کہ اٰدم کا حکم مانو،، آدم کے حکم تعمیل کرو،، اس معنی کا حوالہ قرآن سے ملاحظہ فرمائیں!

وَلِلّهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ مِن دَآبَّةٍ وَالْمَلآئِكَةُ وَهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ ۝ يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ،
(49-50-16)
یعنی آسمانوں اور زمین کی جملہ مخلوق جانوروں اور ملائکوں سمیت اللہ کو سجدہ کرتی ہیں اور وہ سجدہ کرنے سے تکبر نہیں کرتیں، اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں جو حاکم ہے اور اسکے جملہ احکام کی تعمیل کرتے ہیں تو سجدہ معنی ثابت ہوئی ’’حکم کو ماننا اور اسپر عمل کرنا ۔

اٰدم فرد واحد کا نام نہیں یہ جمیع انسانوں کا نوعی نام ہے


اب پھر سے آیت کریمہ

وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلآئِكَةِ اسْجُدُواْ لآدَمَ
(11-7)
پر غور فرمائیں کہ اللہ عز وجل نے اس مقام پر دوبارہ جمع کے صیغہ سےجمیع انسانوں سے خطاب فرماتے ہوئے بتایا کہ تمہاری تخلیق اور تصویر سازی کے بعد ہمنے ملائکہ کو کہا کہ اب آدم کو سجدہ کرو!

غور کرنے کی بات یہ ہے کہ آدم کو سجدہ کرنے کے حکم سے پہلے جو خطاب ہے کہ ہمنے آپ جملہ انسانوں کو علی الانفراد پہلے تخلیقی مراحل سے گذارا پھر تم میں سے ہر ایک کی تصویر بنائی پھر نفخ روح بھی ہوا ( 72-38 ) جس سے آپ میں کا ہر ایک شخص ایک مکمل آدم بن گیا اسکے بعد ہمنے ملائکہ کو کہا کہ آدم کو سجدہ کرو! اس سے یہ بات کھل کر ثابت ہوئی کہ آدم کوئی ایک پہلے پیدا ہونے والا فرد واحد نہیں ہے۔

آدم کو ملائکہ کے سجدہ کی تفہیم
جب یہ حقیقت ثابت ہوئی کہ ہر دور میں جب جب کوئی آدمی پیدا ہوتا رہتا ہے اس اس آدمی کو علی الانفراد ملائکہ سجدہ کرتے ہیں اور قیامت تک یہ سجدہ کرنے کا سلسلہ جاری رہیگا،،

اور اس سجدہ کی جب یہ معنی نہیں ہےکہ یہ سجدہ مروج نماز والا سجدہ ہے، سجدہ کی اصل معنی ہے کائنات کو مسخر کرنا، تسخیر کائنات ایک ایسا عمل ہے جسے صرف اور صرف پہلے تو عقلمند ہنر مند ماہرین سائنس دان لوگ عمل میں لاتے ہیں، انکے ایسے اعمال کو ایجادوں سے تعبیر کیا جائےگا پہلے موجد نے اپنی ایجاد کا فارمولا پاس کیا تو اب اس فارمولے کی روشنی میں بعد والے انجنیئر جب جب اسکی نقل بنائینگے تو اس ایجاد شدہ چیزمیں جو مٹیریل کام آئیگا

اگر لوہا ہے تو اسے آگ میں پگھلانے سے اسکی جو آپ شکل بنائینگے تو اسکو آپکے لئے لوہے کا سجدہ کرنا کہا جائیگا،

اگر آگ کے بجاءخراد مشنیوں سے لوہے کے پرزہ جات بنائینگے تو بھی اسے سجدہ سے تعبیر کیا جائے گا،

اسطرح لکڑی، پلاسٹک ہوا، زراعتی پیداوار کی جملہ اشیاء پھر وہ بیج ہوں، اناج ہو، فروٹ ہو کپاس ہو، ایسی سب چیزین ایگری کلچر سائنس میں اگر ہم زمین اور آسمان کے بیچ کو خلا کہیں (جبکہ اس طرح کہنا بھی غلط ہے، کیونکہ سائنس نے بتایا کہ کوئی چیز خالی نہیں ہوتی،نظر میں آنیوالا خلا یہ خالی نہیں ہےیہ مادی، مائع اور گیسز کے اقسام سے بھرا ہوا ہے، ہر اسپیس مختلف الفوائد گیسوں سے بھرا ہوا ہے، ان جملہ بھری ہوئی چیزوں کو ملائکہ کی تشریح کا حصہ بھی کہنا چاہئے،

سجدہ آدم کی اس مختصر تشریح سے یہ ثابت ہوا کہ ملائکہ کا آدم کو سجدہ اسکی ہنری کاریگری عمل اور ایجادوں سے منسلک ہے اگر کوئی انسان، کوئی آدم کوئی آدمی اپنی زندگی کو صرف کھانے پینے، سونے عیاشی کرنے جاگنے، گھومنے اور فضولیات تک محدود بناتا ہے اور ایجادات کے جہان سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا، انسانی تمدن اور اسکے مفادات اور ضروریات کی کفالت کیلئے کچھ نہیں کرتا اور سوچتا، تو وہ حیوان ہے ایسے انسان نما آدمی کو حیوان سمجھنا چاہیے، کیونکہ انسانی مفادات اور ضروریات کیلئے جو کوئی آدمی عمل نہیں کریگا، تو ایسے نکمے بے ہنر آدمی کو کائناتی اشیاء جو کہ ملائکہ کی بڑی مفصل تشریح کے زمرہ میں آتی ہیں وہ سجدہ کیسے کرینگی۔

اسی سجدہ آدم کی تفہیم میں یہ بات لازمی طور پر آگئی کہ قیامت تک پئدا ہونے والے جملہ انسانوں کو مسجود ملائکہ آدم کہاجائیگا، اس کلیہ کے بعد دوسرا، کلیہ کہ اے لوگو ہمنے آپکو کونر اور مادہ کے امتزاج سے پیدا کیا۔ (13-49) اب ان حقائق کے ذیل میں آیۃ کریمہ

إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللّهِ كَمَثَلِ آدَمَ
(59-3)
یعنی عیسیٰ کے پیدا ہونے کی مثال اللہ کے نزدیک ایسے ہے جیسے سارے آدم سب لوگ، سارے انسان،ٹوٹل آدمی ۔

اس آیت کریمہ (59-3) کی تفہیم کے بعد موضوع سے ہٹ کر بھی ایک گذارش کرتا چلوں کہ امامی علوم کی ایجاد کردہ روایات جنکو یہ لوگ احادیث رسول کے نام سے لوگوں کو منواتے ہیں جبکہ جناب رسول خاتم الانبیا علیہ السلام

وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى ۝ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى
(3-4-53)
قانون قرآن کے خلاف کوئی بھی بات نہیں فرماتے تھے،

سو ان امامی علوم کے دستار بند فاضلوں نے یہ حدیث مشہور کی ہوئی ہے کہ پہلا پہلا آدم (مذکر نر) پیدا ہوا تھا اسکے بعد پھر اسکی پسلی سے اسکی بیوی حوا نامی پیدا ہوئی تھی۔

جناب قارئین
ان کی یہ حدیث کئی ساری حدیثون کی طرح بگڑے ہوئے تو رات یعنی عہدنامہ عتیق سے نقل کرکے گھڑی ہوئی ہے،، جبکہ قرآن حکیم میں اللہ پاک فرماتا ہے کہ

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاء
(1-4)
یعنی اے انسانو! ڈرو اپنے پالنھار کے (قانون تخلیق میں تحریف کرنے سے) جس پالنھار اور رب نے آپ لوگوں کو (پہلے پہل) تو پیدا فرمایا نفس مؤنث (بقول انکے حوا سے) اسکے بعد اس مؤنث سے پیدا کیا اسکے زوج (شوہر بقول ان روایات پرستوں کے آدم کو) اور دونوں سے پھیلائے کئی مرد اور عورتیں۔

قارئین! لوگ تخلیق آدم سے متعلق اسرائیلی گھڑاوت کے تابع اس قرآن مخالف حدیث سے قیاس کریں بقیہ جملہ احادیث کو بھی۔

یہاں اخیر میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر قرآن حکیم کے بقول اگر پہلے پہل عورت ہی پیدا ہوئی ہے اور ہم قرآن کو اگر مانیں بھی سہی تو وہ قرآن حکیم کا اعلان کہ ہمنے آپکو نر و مادہ سے پیدا کیا۔ تو اس پہلی پیدا ہونے والی عورت پر یہ قانون تو لاگو نہیں ہوا، سو میں نے خود یہ مسئلہ سمجھنے کیلئے ایک بائلاجی اور زولاجی کے ماہر پروفیسر سے رجوع کیا تو اسنے اپنے سبجیکٹ کے علمی دلائل اور حوالہ جات سے مکمل طرح سے مطمئن کیا اور سمجھایا کہ آج بھی اللہ کا تخلیقی عمل

وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا
( 8-78 )
ہمنے آپکو جوڑا جوڑا کرکے بنایا،

جاری ہے، یعنی کل یوم ھو فی شان
( )
یزید فی الخلق مایشاء
( )
اور اس کلیہ کی روشنی میں حیاتیات کے جرثوموں کے جو انواع ہیں انکی شروعاتی پہلی پراڈکشن مؤنث جرثومہ کی ہوتی ہے جسمیں تخلیق کے دوران ہی ایسی ڈبل پئداواری صلاحیت ہوتی ہے جو اسکی اپنی پیدائش کے ساتھ ساتھ اسکے اندر تولیدی مادہ کا ایسا جرثومہ ہوتا ہے جو وہ بیک وقت مؤنث کے ساتھ اسمیں مذکر کا بیج بھی ہوتا ہے لیکن ان دونوں جرثوموں کےمعرض وجود میں آنے کا ابتدائی ظہور مؤنث کا ہوتا ہے اسکے بعد اسی کی طرح اسمیں پہلے سے قانون تخلیق ربی کے مطابق ودیعت کردہ مذکر جرثومہ والا بیج اپنے پراسس کے مطابق اس مؤنث کے پیٹ سے نکل آتا ہے

اس بات کو اس طرح بھی سمجھا جائے کہ پیدا ہونے کی ترتیب میں تو تقدم و تاخر ہوا لیکن ابتدائی آفر ینش اصل میں عورت کی ہےاور یہ عمل دائمی نہیں ہوتا یہ صرف کسی نوع مخلوق دابۃ الارض اور حشرات الارض کے جرثوموں کی شروعاتی پئدائش کے وقت ہوتا ہے جو انکے جوڑے نر و مادہ کے آجانے کے بعد و خلقنا کم ازواجا کا ظاہری اور مروج سٹم شروع ہوجاتا ہے،

مؤنث کے نطفہ میں کبھی کبھار مذکر طبیعت کے آثار آج بھی غالب آجاتے ہیں جو کئی ساری عورتوں کے جنس تبدیل کرانے کے مثال ڈاکٹری تاریخ میں موجود ہیں جسکو تیسری جنس کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے

لیکن یہ تیسری جنس والے افراد بھی قانون تخلیق یعنی باپ سے پیدا ہونے والے ہوتے ہیں

سو غور کیا جائے کہ جب پولٹری فارم کا چوزہ بھی بغیر نر کے پیدا نہیں ہوتا۔ یہاں میں اپنی کوتاہی کا بھی اقرار کرتا چلوں کہ میں اپنے اس ماہر حیاتیات پروفیسر کی تفہیم اور لیکچر کو اسکے سمجھانے کے مطابق باقائدہ پیش نہیں کر سکا، جسے یہ مسئلہ سمجھنا ہو تو اسے لازم ہے کہ ایسے سائنسی مسائل میرے جیسے اناڑی فاضل درس نظامی مولویوں کے بجاءکسی کنسلٹ ماہر سے جاکر سمجھے۔

قصہ پیدائش عیسیٰ میں چند اہم قرآنی الفاظ کی تفہیم


فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا،
(17-19)
یعنی ہمنے مریم کی طرف اپنے روح کو بھیجا جسنے تمثیل اختیار کی مکمل انسانی شکل کی

اس آیت کریمہ کے دو لفظوں کے مفہوم پر متنازعہ قسم کے بحث ہوتے ہیں ایک روح دوسرا، تمثل، سو روح کی معنی تو اگلی آیت نمبر 19 نے صاف کردی کہ

قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا
(19-19)
یعنی مریم کو خواب میں دکھائی دینے والے ربانی روح نے کہا کہ انا رسول ربک یعنی میں آپکے رب کا فرستادہ ہوں پیغام پہنچانے والا ہوں،

اور سورت آل عمران کی آیت کریمہ

إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
(45-3)
یعنی جب کہا ملائکہ نے کہ اے مریم تحقیق اللہ آپکو بشارت دیتا ہے اپنے ایک کلمہ (فیصلہ) کی جسکا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا،

تو یہ ملائکہ بھی سورت مریم کی آیت (17-19) میں فارسلنا الیھا روحنا،، کے روح کی معنوی تفہیم ہے،

باقی رہا اسی آیت میں کئی مفسرین، ملائکہ اور مریم کی یہ گفتگو بیداری کی صورت میں قرار دیتے ہیں جبکہ لفظ تمثل جو ہے وہ اپنے مصدری خاصیت کے حوالہ سے خواب میں جو صورتحال بنتی ہے یعنی ایک چیز پہلے دندھلی غیر واضح پھر آہستہ آہستہ مکمل انسانی کامل شکل اختیار کرنا یہ خواب میں کسی چیز کو دیکھنے کی مرحلوں والی کیفیت ہے،

عالم بیداری میں ایسے نہیں ہوتا وہاں یکبارگی میں ہر چیز اصل شکل میں سمجھ میں آجاتی ہے،

آگے آیت نمبر (20-19) میں بشارت ملنے کے بعد ملائکہ کو بی بی مریم کے جواب کہ

أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا
(20-19)
پر بھی لوگ غور کرنے کا حق ادا نہیں کرتے جبکہ اس جواب میں بی بی صاحبہ نے صاف صاف بیٹے پیدا ہونے کی دوہی سورتیں بتائی ہیں، ایک مس بشر نکاح سے دوسرا مس بشر (بغیا) بغیر نکاح کے اور ان دونوں صورتوں سے وہ اس وقت تک دور تھی تو ملائک کے جواب میں بچہ جننے کا حل اور پراسیس بتایا گیا، ایک حل جو بتایا کہ کذالک،، یعنی آپکو بیٹا ایسے ہوگا جسطرح جگ جہان کی عورتوں کو ماؤن کو ہوتا ہے رہا مسئلہ شادی اور مس بشر کے ذریعہ سے بیٹا پیدا ہونے کا، سو آپکے رب کا فرمان ہے کہ

هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ
(21-19)
یہ مسئلہ میرے لئے آسان ہے اسلئے نکاح اور شادی کرنے میں آپ جو ہیکل کی رسومات اور قوانین کو رکاوٹ سمجھ رہی ہیں۔ آپ تو ان بوگس قوانین سے ٹکر کھانے والی نڈر اور مقابلہ کرنے والی خاتون ہیں، آپکا حوصلہ بہت بلند ہے، جو ہم شاہدی دیتے ہیں کہ

وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ
(12-66)
مریم عمران کی بیٹی وہ ہمت والی) ہیں جو اسنے (نکاح کے ذریعہ) حفاظت کی اپنی شرمگاہ کی، (پھر جب اسکو حمل ہو ا بیٹے کا) تو اس کے حمل والے بیٹے میں ہم نے اپنا روح داخل کیا (پھونکا) اور مریم کوئی ایسی ویسی نن اور راسبہ نہیں تھی، وہ تو ڈنکے کی چوٹ قوانین (ربوبیت کی تصدیق کیا کرتی تھی، اور قوانین کے کتابوں کی تصدیق کیا کرتی تھی اور وہ ہمارے فرمانبرداروں کی فہرست میں سے تھی۔

محترم قارئین!
بی بی مریم کو اولاد میں سے عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کو اللہ عزوجل نے جناب زکریا علیہ السلام کے بیٹے یحیٰ علیہ السلام کی پئدائش کے ساتھ سورہ آل عمران اور سورہ مریم میں ملاکر بیان کیا ہے۔

اسمیں ایک بہت ہی اہم تعلیم ہے جس تعلیم سے پیدائش عیسیٰ سے متعلق یہودی ملاؤں اور مسلم لٹریچر کے امامی ملاؤں کے مغالطوں کے جوابات ملتے ہیں ان خرافات کے خلاف جو یہودی دشمنوں نے بی بی مریم کو معاذاللہ زنا سے ناجائز طریقہ سے بن باپ کے بیٹا عیسیٰ پیدا ہونے کی گالییں دیں

پھر وہ یہودی دشمنان علم وحی بھیس بدل کر کبھی عیسائی بنکر انجیل کی تعلیمات کو بگاڑا، تو کبھی مسلم امت کے امام بنکر قرآن حکیم کے قوانین کو توڑنے کیلئے جناب رسول خاتمی المرتبت کے نام سے رد قرآن والی حدیثیں انکی طرف منسوب کیں یہ حق سچ کے علم پر ظلم کا سلسلہ عالمی استحصالی عفریتوں کی سرپرستی میں ابھی تک جاری ہے۔

قانون تخلیق کے مطابق عیسیٰ کی پیدائش کا ذکر قرآن میں
جناب زکریا علیہ السلام نے اپنے لئے بیٹے پیدا ہونے کی اللہ سے دعا کی اور بی بی مریم کو بن مانگے اللہ نے بیٹا دینے کی اس کےساتھ بات کی ۔زکریا علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی اور جب بیٹے کے پیدا ہونے کی اسے خوشخبری سنائی گئی تو اسنے تسلی کیلئے جواب میں اپنے بڑھاپے اور بیوی کے بانجھپن کا ذکر کیا کہ ایسے حال میں بیٹا کیسے پئدا ہوگا تو اسکو اسکی اہلیہ کے بانجھپن دور کرنے کے علاج کی طرف رہنمائی کرکے فرمایا کہ

وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ
(90-21)
اللہ کے اس جواب سے یہ رہنمائی ملی کہ زکریا کی بانجھ بیوی ہو یا مریم جس کا ابھی نکاح نہیں ہوا تھا ان دونوں کو بیٹا تو ملے گا لیکن وہ اسباب کے دائمی ابدی اصولوں کے ماتحت ملیگا ذکریاکی بیوی کا علاج ہوگا تو مریم کو قانون تخلیق نر و مادہ کے امتزاج والے (13-49) سسٹم کی روشنی میں شادی کرنی پڑیگی، پھر اس سسٹم کی طرف زکریا اور مریم دونوں کو رہنمائی دینا وہ بھی ایک ہی لفظ سے زکریا نے اپنے ہاں بیٹا ہونے کو مشکل سمجھ کر بیماریوں کے عذر پیش کئے تو جواب ملا کہ کذالک یعنی جس طرح جگ جہان کے لوگ اپنی بیماریوں کا علاج کرواکر تندرست ہوتے ہیں اسطرح آپ بھی اسباب کی طرف توجہ دیں، پھر جب بی بی مریم کو جب بیٹا دینے کی خوشخبری سنائی گئی تو اس نے بھی کہا کہ مجھے بیٹا کیسے ہوگا میں تو غیر شادی شدہ ہوں، تو اسے بھی جواب میں فرمایا گیا کہ کذالک، یعنی آپکو بھی بیٹا اسطرح پیدا ہوگا جسطرح جگ جہان کی عورتیں نکاح کرتی ہیں پھر انکو شوہروں سے انہیں اولاد ہوتی ہے۔

اب امامی علوم کے دستاربند لوگوں نے کذالک والے جواب سے اگر بی بی مریم کے قصہ میں معنی چھومنتر یعنی بغیر شوہر کے جبریل کی پھونک سے بیٹا ہونے کی معنی کی ہے تو کذالک کا لفظ جو زکریا علیہ السلام کے سوال کے جواب میں آیا ہے تو وہان اسکی معنی کیا ہوگی؟

اگر کسی امامی عالم کی آنکھوںمیں پانی نہ ہو اور وہ یہ فرمائے کہ جناب زکریا علیہ السلام کی بیوی کو بھی بغیر اسباب کے صرف دعا سے بیٹا یحی علیہ السلام ملا ہے تو اسکی خدمت میں مؤدبانہ عرض ہے کہ پھر سورت انبیاءمیں اللہ نے جناب زکریا علیہ السلام کی بیوی کیلئے یہ کیوں فرمایا کہ

وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ
(90-21)
یعنی ہمنے زکریا علیہ السلام کی بیوی کے بانجھ پن کا (بذریعہ علاج) اصلاح کر دیا۔

سورۃ اٰل عمران کی آیت 47 میں بی بی مریم کو جب بیٹے کی خوشخبری سنائی گئی اسنے اسے محال سمجھتے ہوئے کہا کہ مجھے جب کسی بنی بشر نے چھوا تک بھی نہیں تو بیٹا کیسے ہوگا جواب میں اللہ نے فرمایا کہ کذالک اللہ یخلق ما یشاء جواب میں اس جملہ کا اضافہ کرکے اللہ نے قانون تخلیق کی طرف اشارہ کیا کہ آپکو بیٹا اس قانون کی تعمیل سے ملیگا، اور وہ قانون تو آپ نے پڑھا کہ مذکر و مؤنث کے جوڑے کے امتزاج سے اولاد پیدا ہوتی ہے (13-49) اس موقعہ پر لفظ کذ الک کے بعد قانون تخلیق کے حوالہ کو ملاکر جواب دینے سےکذالک کی معنی کا بھی تعین ہوگیا، کذالک کی معنی ہوئی قانون تخلیق کے مطابق، یعنی جس طرح اوروں کو اولاد ملتی ہے آپکو بھی اسیطرح ملے گی،

یہی سوال سورت مریم میں جب جناب زکریا علیہ السلام نے کیا کہ میری بیوی بانجھ میں بوڑھا ہمیں کسطرح بیٹا ہوگا؟ تو اسے بھی جن الفاظ میں قانون تخلیق کی طرف متوجہ کیا گیا تو وہ الفاظ یہ تھے یہاں بھی پہلے لفظ کذالک فرمایا گیا اسکے بعد فرمایا کہ

وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِن قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا
(9-19)
یعنی میں نے آپکو جب پیدا کیا تو آپ اس سے پہلے کچھ بھی نہیں تھے تو آپکی پیدائش جس زن وشوہر والے سسٹم سے ہوئی ہے آپکے بیٹے کی پیدا ئش بھی اس طرح ہوگی۔

محترم قارئین
کئی امامی علوم والے مفسرین قرآن میں جناب یحیٰ علیہ اسلام کی پیدائش کا قصہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کی پئدائش کے تفاصیل کے ساتھ ملاکر قدر مشترک والی رہنمائی پر بہت کم ہی لکھتے ہیں، اسلئے اب اس مقام پر بھی جناب زکریا علیہ السلام کو جو جواب دیا گیا ہے کہ آپکو جو بیٹا ہم عطا کر رہے ہیں آپ اسپر کیوں تشویش کرتے ہیں کہ وہ کس طرح ملے گا، کیا آپ اپنی خود کی پیدائش کی طرف توجہ نہیں کرتے؟

جو ہم نے آپکو عدم سے وجود میں لایا ہے اپنے قانون تخلیق سے، یعنی آپکو بیٹا دینے کیلئے بھی وہی قانون لاگو ہوگا، رہا بانجھ پن کا عارضہ اور آپکا بڑھاپا تو واصلحنا لہ زوجہ سے اللہ جل جلالہ نے علاج معالجہ کی بات کردی، جس سے معاملہ کو کراماتی اور معجزاتی بنانے کا دروازہ بند ہوگیا۔

مزید اس جڑوان قصہ میں ایک ہی سورت مریم کی آیت (9-19) میں جب زکریا علیہ السلام اپنے اور اپنی بیوی کے طبعی عارضوں کی وجہ سے کہتے ہیں کہ

أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ
(8-19)
اے میرے رب ہمارے ان حالات میں مجھے لڑکا کیسے ملے گا تو اللہ پاک نے جواب میں فرمایا کہ ھو علی ھین، یہ کام تو میرے لئے آسان ہے پھر اس آسانی کا بھی مفہوم اور طور طریقہ ایک تو اگلے جملہ ھو علی ھین کے بعد قانون تخلیق کا ذکر کیا کہ جس طرح میں نے خود آپکو پئدا کیا (یاد رکھا جائے کہ زکریا علیہ السلام بن باپ کے پئدا نہیں ہوئے تھے) یعنی بشمول زکریا علیہ السلام کے جملہ انسانی کائناتی کھیتی نسلوں کی پئدائش کو قانون تخلیق کے جملہ سے پہلے ھو علی ھین سے یہ اشکال سمجھانا کہ بچہ دینا یہ کونسا مشکل مسئلہ ہے یہ تو میں اپنے قانون سے ہر روز ہر گھڑی سلسلہ توالد کو چلا رہا ہوں رہا معاملہ طبعی عارضوں کا تو اسکیلئے بھی اصلاح کی ہسپتالوں کا سلسلہ قائم ہے

(90-21) میں اس جملہ ھو علی ھین کو بار بار اسلئے دہرارہا ہوں جو یہی جملہ جب بی بی مریم کے بعینیہ اسی سوال کہ انی یکون لی غلام۔ سوال کے الفاظ زکریا علیہ السلام کی جانب بھی یہی ہیں جواب میں پھر جب بی بی مریم کو بھی بعینہ وہی الفاظ بتائے گے جو زکریا کو جواب دیا گیا کہ ھو علی ھین

(21-19) اس جوابی جملہ کی معنی امامی علوم کی مافیا والے لکھتے ہیں کہ اے مریم آپکو بغیر شوہر کے بیٹا دینا میرے لئے آسان ہے یہ کام میرے لئے مشکل نہیں ہے، دنیا کے علم و عقل والوں کو استدعا کرتا ہوں کہ اسی جملہ ھو علی ھین کو قصہ زکریا میں لایا گیا ہے تو وہاں جواب میں قانون تخلیق اور طبعی عارضوں سے علاج کا ذکر کیا گیا ہے اور جب بی بی مریم کے اس جیسے ہی سوال کہ انی یکون لی غلام کا جواب بھی دونوں کو دیتے جانے والے جملہ ھو علی ھین سے دیا جاتا ہے تو بی بی مریم کے جواب میں اسکی معنی کراماتی معجزاتی بغیر شوہر سے نکاح کرنے کے چھو منتر والی کی جاتی ہےاور جبریل کی پھونک کا افسانہ گھڑا جاتا ہے!!

قرآن حکیم کی علمی عدالت امامی علوم کی مافیائی تعبیرات کے سارے ڈھکوسلوں کا رد کرتی ہے، ویسے اگر دنیا والے ہمت کریں اور اپنی علمی درسگاہوں اور فکری اداروں کو

قُلْ هَـذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللّهِ وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(108-12)
جناب رسول علیہ السلام کے اس اعلان کہ میں اور میرے پیروکار بصیرت والے علم و عقل کی باتوں کی دعوت دیا کرینگے اس اعلان کے مطابق مدارس اور یونیورسٹیوں کے نصاب تعلیم کو علم و عقل کے تابع کرکے کراماتی خانقاہی امامی علوم کا صفایا کرکے و ما انا من المشرکین کی تقاضا پر عمل کریں تو ہماری نسلوں کو ذہنی غلامی سے نجات مل سکتی ہے ورنہ دنیا والے لوگ انتظار کریں اس گھڑی کا جب یہ دولتمند مافیا والے اپنے کرائے کے عبا و قبا پوش دانشوروں سے جو ہمیں جاہل بنا رہے ہیں ان سب کیلئے جب انقلاب قیامت کے وقت حکم دیا جائے گا کہ

خُذُوهُ فَغُلُّوهُ ۝ ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ
(31-69)
یعنی انکوپکٹر کر دوزخ میں ڈالو (میں یہاں لفظ صلوہ کی امامی علوم والوں کی صلوۃ بمعنی نماز نہیں کر رہا کہ انکو دوزخ میں نمازین پڑھاؤ)

بہرحال یہ حکم عالمی استحصالی سرمایہ داروں اور انکے دانشوروں کیلئے ہے جو وہ وہاں اپنے لئے جب دوزخ میں ڈالے جانے کا حکم سنیں گے تو کہیں گے کہ افسوس جو

مَا أَغْنَى عَنِّي مَالِيهْ
(28-69)
میری دولت تو مجھے کسی کام نہ آئی۔ اور جو دنیا میں اقتدار والے تھے یا کرایہ کے اہل علم دانشورون کے وہ جھوٹے کراماتی علمی فلسفے جنکے بل بوتے پر وہ علمی دنیا پر چھائے ہوئے تھے میں کہینگے کہ

هَلَكَ عَنِّي سُلْطَانِيهْ
(29-69)
میرے اقتدار کا دبدبہ یا میری علمی دلائل کا غلبہ اور دھاک آج تو خس و خاشاک ہوگئی بربادی ہوگئی۔

جناب یحیٰ علیہ السلام کے قرآنی تعارف کا ایک جملہ: وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا (12-19)
یعنی ہم نے یحیٰ کو بچنے کی عمر میں ایسی ذہانت عطا کی جو وہ لوگوں کے الجھے ہوئے معاملات کے فیصلے کرنے کی صلاحیت والا بن گیا جناب عیسیٰ علیہ السلام کا قرآن سے تعارف( ولادت سے پہلے

إِذْ قَالَتِ الْمَلآئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ ۝ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلاً وَمِنَ الصَّالِحِينَ
(45-3)
تعارفی کلمات یہ ہیں، دنیا میں عیسیٰ کی نبوت و آمد اللہ کے فیصلوں میں سے ایک فیصلہ ہے۔ اسکا نام مسیح عیسیٰ ہوگا، کنیت ابن مریم ہوگی،

تحریف شدہ انجیل اور عیسائی لٹریچر نے جناب عیسیٰ علیہ السلام کی دنیاوی زندگی ایک دربدر اور سوائیوں والی زندگی لکھی ہے۔

انکی تردید میں قرآن نے فرمایا کہ وہ دنیا اور آخرت میں وجیہ اور مقربین میں سے ہوگا اور لوگوں کے ساتھ مہد (جھولے) یعنی بچپنے اور جوانی کی عمر میں مسائل حیات سے متعلق کھری کھری باتیں کریگا، اور صالحین میں سے ہوگا، اس آیت کریمہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے تعارف میں جھولے کی عمر میں لوگوں کے مسائل پر بولنا، اور جناب یحیٰ السلام کی تعارفی خصوصیت کہ وہ بھی صبی یعنی بچپنے میں فیصلوں کو سمجھنےاور کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا یہ مماثلت اسلئے کی گئی کہ مافیائی علموں والے اگر عیسیٰ کے بارے میں مہد جھولے کی عمر کو محاورہ والی عمر کا نوخیز جوان سمجھنے کے بجاءسال چھہ ماہ کا بچہ سمجھتے ہیں تو ہم نے جب یحی کی عمر کیلئے صبی کا لفظ استعمال کیا ہے تو پھر یحیٰ کو عیسیٰ کی طرح کیوں سال ڈیڑھ سال کی عمر والا نبی نہیں کہتے؟

جبکہ جیسا صبی یحیٰ ایسا عیسیٰ ۔ اصل میں صبی تو بجاءلغوی معنی کے محاورے، کے طور پر نوخیز جوانی کیلئے استعمال کیا گیا ہے، اسکی کوئی کراماتی معنی نہیں ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کے تعارف میں مہد جھولے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور وہ یحیٰ کے تعارف میں نہیں ہے وہ بھی اسلئے کہ اللہ کے علم میں تھا کہ آئندہ چلکر عیسیٰ کے مخالف مذہبی ٹھیکیدار عیسیٰ کے بارے میں کہینگے کہ ہمارے مقابلہ میں یہ تو کل کا جھولے میں جھولنے والا بچہ ہے اس کے ساتھ ہم کیوں بات کریں،، اس لئے اللہ نے بھی آپکے محاوروں کی بات کو نقل کیا ہے (63-51) ورنہ عیسیٰ اور یحیٰ کا لفظ صبی سے تعارف تو یکسان ہے، عیسیٰ کا صبی کی عمر میں بولنا معجزہ ٹہرے اور یحیٰ کا نہیں تو یہ ان کا کیسا انصاف ہوا،، اسکے باوجود امامی علوم کے علماء لوگ اٰیت

قَالُوا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَن كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا
(29-19)
میں لفظ کان کی معنی زمانہ حال کی کرتے ہیں جبکہ یہودیوں کے پنڈت پادری لوگ عیسیٰ کے بارے میں یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ یہ موجودہ وقت میں جھولے میں ہے یہ لوگ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم عیسیٰ کے ساتھ کیوں بات کریں جبکہ یہ ہمارے مقابلہ میں کل ہی کی تو بات ہے جو ہمارے سامنے یہ جھولے میں جھولتا تھا ، مطلب کہ اس آیت میں جھولے اور مہد کی بات زمانہ ماضی سے تعلق رکھتی ہے حال سے نہیں سو کان صیغہ پر غور کیا جائے، رہی بات لفظ صبی (بچہ) کی تو اسمین جیسا یحیٰ ویسا عیسیٰ۔

وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا (20-19)
بی بی مریم کا ملائکہ سے بیٹے کے ملنے کی خوشخبری کے بعد یہ استفسار اور سوال کہ مجھے کسی بشر نے بھی نکاح کے ذریعے نہیں چھوا اور نہ ہی میں بدکار ہوں، اس جواب سے معجزہ پسند لوگ لم یمسنی کی معنی ماضی اور مستقبل دونوں زمانوں کی لیتے ہیں جو کہ غلط ہے، یہاں صرف ماضی میں مس بشر کا رد اور انکار ہے، پھر جناب مریم کا یہ کہنا کہ میں کوئی بغیا، آوارہ بدکار عورت نہیں ہوں، اس جواب سے مریم کی طبعی رضا، مقابل پہلو کیلئے یعنی مستقبل میں مس بشر کے لئے جائز فطری نکاح اور شادی والے طریقہ اور سسٹم کو تسلیم کرنے اور قبول کرنے کاعندیہ مل جاتا ہے،، انکار نہیں ملتا۔
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

Last edited by rana ammar mazhar; 20-01-12 at 10:31 PM..

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2402
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
shafresha (09-01-12), فاروق سرورخان (10-01-12), حیدر Rehan (10-01-12)
پرانا 09-01-12, 08:56 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا


إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا
(2-76)

ہم نے پیدا کیا انسان کو ملے جلے نطفے سے،، اب اس آیت کریمہ کے ساتھ تصریف آیات کی ہدایت کے مطابق

إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى
(13-49)

کو ملا کر غور کریں سورۃ حجرات میں فرمایا کہ مذکر اور مؤنث کے میلاپ سے ہم نے انسان کو بنایا اور یہاں سورۃ الدہر میں فرمایا کہ ہم ملے جلے نطفہ کے مکسچر سے انسان کی تخلیق کرتے ہیں،

اب کوئی بتائے کہ اگر بی بی مریم کے رحم میں مردانہ تخم کا نطفہ نہ ملایا گیا ہو تا تو اس آیت کریمہ میں جو تخلیق انسان کیلئے امشاج کا عمل بتایا گیا ہے اس کے مردانہ نطفے کے ساتھ خلط ملط ہونے کے بغیر تخلیق انسانی نا مکمل رہ جاتی ہے نیز اس طرح سے تو اللہ کے قانون تخلیق میں تبدیلی بھی آجاتی ہے (13-49) جو کہ محال ہے (30-30) اب اس آیت کریمہ

( من نطفۃ امشاخ)
(2-76)

سے ثابت ہو گیا ہے کہ بی بی مریم نے شادی کی ہے اور جناب عیسیٰ علیہ السلام بن باپ کے پئدا نہیں ہوئے،

اور ماں باپ دونوں کے نطفوں سے جو امشاج کا خلط ملط والا پراسیس ہے وہ عمل میں آیا ہے جب ہی تووہ پیدا ہوئے ہیں جس طرح سارے انسانوں کی بات قرآن نے بتائی،،

اگر مافیائی امامی علوم والوں کے بقول جناب عیسیٰ علیہ السلام بن باپ کے پیدا ہوئے ہوتے تو یقینا اللہ عزو جل اس قانون تخلیق کہ من نطفة امشاج کے جملہ کے بعد الاعیسیٰ کی استشنیٰ ضرور لگاتے اور آیت

یا ایھاالناس انا خلقنا کم من ذکرو انثیٰ

کے اعلان کے ساتھ اسکے فوراْ بعد بھی الاعیسیٰ کی استثنیٰ ضرور لگاتے اسلئے کہ قرآن کسی بھی اہم بات کو کبھی بھی نہیں بھولے۔

بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ اللہ پاک نے پھر جناب عیسیٰ علیہ السلام کے تذکروں میں تقریبا ہر موقعہ پر اسکی کہانی میں طفولیت والی عمر کے مہد کا ذکر اور صبی لفظ سے تعارف، ابن مریم کی کنیت سے تعارف، پھر کہولت والی عمر میں لوگون سے کلام کا ذکر اور رفع کا یہ ایسا تو تعارف کرایا ہے جس سے بجا طور پر لوگوں کو اسکی غیر فطری پیدائش اور بچپنے میں نبوت کے ملنے پھر آسمان پر اٹھائے جانے پھر وہاں سے نیچے آنے کے جملہ قصوں کو سہارے مل جاتے ہین تو اللہ پاک نے انکو یہ مواقع کیوں دئے؟۔

محترم قارئین!
قرآن حکیم کی تعبیرات پر اصل میں امامی علوم اور اسرائیلی اکاذیب نے بڑے ظلم ڈھائے ہیں ورنہ اوپر کے سوال میں پوچھے گئے عیسیٰ علیہ السلام کے تذکرہ سے متعلق محاورہ جاتی الفاظ یا مہد، صبی، کہولت اورانی رافعک الی یہ سب ایسے تو الفاظ ہیں جو اصل میں انکے اندر گہرائی سے اگر غور کیا جائے تو حقیقت میں انکی معانی سمجھنے کے بعد عیسیٰ کے ابن اللہ، اللہ کے بیٹے ہونے کی نفی ہوتی ہے

عیسیٰ کے خود خدا ہونے کی نفی ہوتی ہے جبکہ قرآن حکیم کا یہ مقصود اور غرض بھی بہت ہی بڑی ضرورت والا ہے کہ عیسیٰ کو جسے لوگ اسکی مان پر گالیان دین کہ یہ ناجائز تعلقات سے پیدا ہوا ہے اسکے رد میں خاص عیسیٰ کیلئے یہ کہنا کہ

وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
(45-3)

مطلب کہ یہودیوں نے عداوت اور بغض میں جو تصورات عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف پھیلائے اور عیسائیوں نے جاہلانہ عقیدت میں آکر اسے ابن اللہ اور آسمان پر رہنے والا قرار دیا پھر مسلم امت نے قرآن سے ہٹ کر جو اسرئیلیات اور فارسی امامیات کے مکسچر کو اپنا مذہب بنایا تو ان سب کے لئے جناب عیسیٰ کا تعارف اسطرح کا لازم ہوا جو آپ قرآن میں دیکھتے ہیں کہ جس آدمی کی پیدائش اور آدمیوں کی پیدائش کی طرح ہو، پھر اسپر عام آدمیوں کی طرح مہد کا دور آئے اسکے بعد وہ کہولت کی عہد کو پہنچے وہ اللہ کیسے ہو سکتا ہے ۔

نَحْنُ خَلَقْنَاكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ أَفَرَأَيْتُم مَّا تُمْنُونَ أَأَنتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ
(57-تا 59-56)
ان آیات کریمہ پر غور فرمائیں کہ اللہ عزوجل منکرین بعث بعد الموت کو خطاب فرماتے ہوئے اپنے قانون تخلیق کی وضاحت فرمارہا ہے کہ کیا تم لوگ یہ حقیقت نہیں دیکھ رہے ہو کہ جب تم (مؤنث میں) نطفہ ڈالتے ہو، پھر اسکی تخلیقی تکمیل تم کرتے ہو یا ہم؟

جناب قارئین!
اللہ نے ان آیات کریمہ میں جو تخلیق انسان کیلئے مرد کے نطفہ کو عورت کے رحم میں پہنچانا لازمی قرار دیا تو کوئی بتائے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کی پئدائش کے وقت اللہ کے اس دائمی اور ابدی قانون تخلیق کے منسوخ ہونے یا عیسی کی تخلیق کے ملتوی ہونے یا مرفوع ہونے یا مستثنی ہونے کا ان لوگوں کے پاس کیا دلیل ہے؟

جو لوگ یہودیوں کے اتباع میں جناب عیسیٰ علیہ السلام کو بن باپ کے پئدا ہونے کی گالی دے رہے ہیں اور بی بی مریم کو بغیر نکاح والے شوہر سے بیٹا جننے کی گالی دے رہے ہیں،

اگر یہ توہم پرست پجاری ذہنیت والے مسلم لوگ بن باپ کے کسی کے پئدا ہونے کو کرامت اور معجزہ قرار دیتے ہیں تو پھر مذکورہ آیات میں عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی استثنی بھی تو دکھائیں، کیونکہ قرآن تو نہایت مفصل کتاب ہے۔ (1-11) سو اللہ سے ایسی اہم استثنیٰ اور وضاحت کیونکر رہ گئی۔

أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ
(36 تا 38-75)

ان آیات کریمہ میں بھی انسان کے قانون تخلیق کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ کیا انسان نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ اسے ایسے ہی بے مقصد چھوڑدیا جائے گا، (اسے خبر نہیں ہے کہ اسکی اصلیت تو یہ تھی کہ) وہ ایک ایسا نطفہ تھا جو (رحم مادر میں ڈالا گیا) پھر اسے لوتھڑے کے مرحلہ میں لاکر درست کیا گیا۔

ہم درس نظامی کے دستار بند علامہ اور مولویوں سے با ادب سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ اس آیت کریمہ میں بتائے ہوئے تخلیقی قانون میں پئدائش عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی استثنیٰ دکھ اسکتے ہیں؟ کہ اسکی پیدائش اس آیت کریمہ میں بتائے ہوئے قانون سے ماورا ہے۔

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ
( 12 تا 14: 23)

جناب قارئین!
ان اٰیات مکرمہ میں بھی تخلیق انسان کے قانون کی تفصیل بتائی گئی ہے اور آیت تیرہ میں بتایا گیا ہے کہ ہم نے اس انسان کو اسکی ابتدائی آفرینش میں ایسا تو نطفہ بنایا جو ایک محفوظ جگہ میں (رحم مادر میں) قرار پذیر ہوا، کیا کوئی فاضل درس نظامی مولوی صاحب اس آیت کریمہ میں بتائے ہوئے تخلیق انسان کے قانون سے جناب عیسیٰ علیہ السلام کی پئدائش کو بغیر نطفہ نرینہ کے ثابت کرکے ایسا کہیں ثبوت دکھا سکتا ہے؟ یا اس قانون سے تخلیق عیسیٰ کی اسثنی دکھا سکتا ہے۔

جو لوگ بزعم خویش مفسر قراٰن اور خبر نہیں کن کن علمی القاب کے دعویدار ہیں انکا یہ فرمان ہے کہ بی بی مریم کو جو عیسیٰ علیہ السلام کا حمل ہوا ہے وہ اسے جبریل کی پھونک سے ہوا ہے۔

جناب قارئین!
مجھے تو ان نام نہاد اماموں اور علاموں کی عبارتیں نقل کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے اوپر آپ نے ایک حوالہ تو بیضاوی کا پڑھا، اب دوسرا حوالہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا اسکی کتاب تاویل الاحادیث فی رموز قصص الانبیاء،، اردو ترجمہ مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی، شایع کردہ شاہ ولی اللہ اکیڈمی حیدرآباد سندھ کا ملاحظہ فرمائیں کتاب کے صفحہ نمبر 140 پر لکھتے ہیں کہ پھر حضرت مریم کو اس جگہ روحانی قوتوں کے ساری و جاری ہونے کے زمانے میں ماہواری کے دن آئے جب ان سے پاک ہوئیں تو لوگوں سے دور ایک الگ مکان میں غسل کرنے کے لئے گئیں اور پردہ ڈال کر کپڑے اتارے اللہ تعالیٰ نے انکی طرف ایک کامل خلقت جوان کی صورت میں جبریل کو بھیجا جو جوانی اور خوبصورتی سے بھرا ہوا تھا حضرت مریم نے ان کو دیکھا اور خود بھی جوان اور قوی مزاج والی تھیں، ان کو اپنے نفس پر فساد کا ڈر لاحق ہوا اور دل سے اللہ کے حضور میں دعا کی کہ انکی عصمت پر کوئی حرف نہ آئے پھر انکو ایک عجیب حالت پیش آئی طبیعت میں قوائے نسلیہ کا ہیجان ہوا اور اس سے وہ لذت کی کیفیت پیدا ہوئی جو جماع کے وقت ہوتی ہے، جیسے کبھی کسی کو دیکھنے سے انزال ہو جاتا ہے۔

جناب قارئین
اس صفحہ کی آخری سطر ہے کہ حضرت جبریل نے جب انکو اس حال میں دیکھا، تو ان کے ستر میں پھونک ماری، اس پھونک سے ان میں تاثر ہوا اور ان کو انزال ہوگیا حضرت مریم کے نطفہ میں مرد کے نطفے جیسی قوت تھی اس لیے وہ حاملہ ہوگئیں، (اقتباس کو یہان تک ختم کرتے ہیں) اب پڑھنے والے اپنی سوچ، غور و فکر سے کام لیتے ہوئے اوپر قرآن حکیم سے قانون تخلیق کے کئی سارے قواعد جو مکمل حوالہ جات سے میں عرض کر چکا ہوں ان پر بھی غور فرمائیں بشمول شاہ ولی کی خرافات کے اور فارس کے اماموں کی فلاسفی پر بھی غور فرمائیں اپنا منہ اپنا طمانچہ یا اپنا سر اپنا جوتا،،

کوئی بتائے کہ میں شاہ ولی اللہ کو جاہل کیسے لکھوں یہ فارس کافر ستادہ علامہ اتنا بھی نہیں جانتا کہ نفخ روح یعنی پھونک انسان کے اندر مونہ کی طرف سے پھونکی جاتی ہے اس نے جو لکھا ہے کہ جبریل نے بی بی مریم کو ستر کی جانب سے پھونکی، ستر کی جانب سے تو عورت کی رحم (بچہ دانی) ہوتی ہے اور رحم کا مونہ نیچے ہوتا ہے اور رحم محل ہے نطفہ کاہے روح لطیف ہے اور نطفہ غلیظ ہے نطفہ کا محل رحم اسلئے ہے کہ وہاں عورت اور مرد کے نطفہ کا امشاج والا پراسیس روبعمل ہو کر ہی بچہ وجود پائے گا، انسان کے حیوانی پہلو کے لئے نر و مادہ کے نطفہ کا امتزاج ضروری ہے، شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنے فلسفہ میں گویا کہ الگ سے نرینہ نطفے کا انکار لکھا ہے جو کہ اللہ کے قانون تخلیق (13-49) کے خلاف ہے۔

بی بی مریم کے قول فاشارت الیہ کے بعد یہودی مولویوں کو عیسیٰ علیہ السلام کا جواب

قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا
(30-19)

حقیقت میں جن یہودیوں نے بی بی مریم پر زنا کی تہمت لگائی تھی تو وہ بھی گالی دیتے وقت عیسٰی کو بن باپ کے بے پدر نہیں کہہ رہے تھے، انکی تہمت اور گالی جب گالی بنتی ہے اور جب تہمت بنتی ہے جب عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت انا خلقنا کم من ذکرو انثیٰ کے پراسیس کے مطابق ہوئی ہوتی۔ اگر ولادت عیسیٰ لم یمسسی بشر کے باوجود ہوئی ہے یعنی مریم کو شادی کرنے کے سواء بغیر کسی مرد سے میلاپ کے اسے بچہ پیدا ہوا تھا، تو پھر یہودیوں کی گالی بی بی صاحبہ کے کھاتے میں نہیں ہوسکتی۔

اور یہودیوں کا بی بی صاحبہ کو گالی دیتے وقت یہ کہنا کہ وما کانت امک بغیا یعنی تیری ماں تو ایسی غیر قانونی نکاح اور شادی کرنے والی باغیہ نہیں تھی، اس جملہ میں بھی گالی دینے والے یہودی لوگ بی بی مریم کو علانیہ کہہ رہے تھے کہ تجھے یہ بیٹا بن باپ کے پیدا نہیں ہوا، یعنی یہودی لوگ گالی دیتے وقت یہ یقین رکھتے تھے کہ مریم نے ضرور شادی کی ہے اور وہ عیسیٰ کے باپ سے پیدا ہونے کا تو یقین رکھتے تھے لیکن وہ اسے اپنے ہاں مروج قوانین شادی بیاہ کے خلاف تصور کرتے تھے جبکہ جو میلاپ بی بی مریم کا اپنے شوہر سے اپنے مذکر انسان خاوند سے ہوا تھا وہ اللہ کے قانون کے عین مطابق اور موافق ہو ا تھا۔

میں نے جو یہاں یہ عرض کیا ہے کہ بی بی صاحبہ نے اپنے شوہر سے اللہ کے قانون ازدواجیت کے مطابق شادی کی ہے اسکا ثبوت تو وہیں اسی موقعہ پر گالی دینے والے یہودی ملاؤں کی بکواس کا جواب بی بی صاحبہ نے فاشارت الیہ سے خود اپنے فرزند جو اس وقت تک وہ نبی بھی بن چکا تھا اس سے دلایا اور وہ جواب یہ تھا کہ

إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا
(30-19)

یعنی خود کو بڑا پھنے خان کہنے والے فریسیو! بک بک مت کرو میری مان کا نکاح میرے والد سے جائز اور اللہ کے قانون کے مطابق ہوا ہے، میری ماں کو تمہارے خود ساختہ خلاف علم وحی کے جھوٹے قوانین سے ٹکر کھانے اور انکو رد کرنے کے جرم میں اسے بغیرجائز نکاح کرنے والی کہنے والو! شرم کرو حیا کرو کہ تم یہ خرافات کس کے سامنے بک رہے ہو تمہیں پتہ نہیں ہے کہ مجھے اللہ نے نبوت عطا فرما کر صاحب کتاب بھی بنا دیا ہے، اب جائز و ناجائز حلال و حرام کیلئے تمہاری فتوے بازی کے دن بیت گئے، تمہاری یہ مجال کہ میرے سامنے تم میری ماں کے نکاح و شادی کو غلط ٹھرا رہے ہو!!

میری ماں کی شادی و نکاح پر تمہارے ہیکل اور چرچ کی فتوائوں کو میں ردی کی ٹوکری کے لائق قرار دیتے ہوئے اعلان کرتا ہوں کہ میں صاحب شریعت نبی بننے کے بعد اللہ کی جانب سے ماٗمور ہوں کہ وبرا بوالدتی (۳۳-19) میں اپنی والدہ سے اسکے شان و مرتبت کے مطابق اسکے ساتھ شاندار سلوک کی تقاضاؤوں کو قائم رکھوں ۔ میری مقدس اور پارسا ماں کو لقد جئت شیئا فریا، کا بہتان لگانے والے مکار فریسیو! تمہاری پارسائی کی پگڑیوں کو علم وحی نے تار تار کرکے دنیا والوں کو بتادیا ہے کہ تم خانقاسیت کے جبہ پوش خلق خدا پر جبر کرنے والے تخت شاہی کے بدبخت قسم کے ایجنٹ اور دلال ہو، اور تمہارے مقابلہ میں اللہ نے مجھے یہ اعزاز دیا ہے کہ

وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا
(32-19)
نہ مجھے جابر بنایا ہے نہ ہی تم جیسا بدبخت!!

اللہ نے یہ اعزاز صرف اکیلے مجھ کو نہیں دیا، لیکن تمہاری بکواسوں کو تمہارے منہ پر مارنے کیلئے میری ماں کی پارسائی ثابت کرنے کیلئے مہبط وحی سے بھی اعلان کرایا اور زبان وحی سے شاہدی دلائی کہ

وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ
(12-66)
یعنی عمران کی بیٹی مریم نے اپنی عصمت کو نکاح اور شادی کے ذریعے محفوظ رکھا پھر اسے جو اپنے شوہر سے حمل ہوا تو ہمنے اس حمل والے بچے میں اپنا روح پھونکا،

تو اے بدبخت فریسیو! تم لوگ میری ماں کےا س نکاح اور شادی کو اپنے خود ساختہ قوانین کے خلاف قرار دے رہے ہو! حیا کرو! مریم تو وہ بے باک اور نڈر جرتمند عورت ہے جسنے صدقت بکلمات ربھا و کتبہ تمہارے فرسودہ قوانین ازدواجیت، جن میں عورتوں کی تذلیل اور تحقعر ہوتی تھی، تمہارے قوانین میں عورتوں کو بے بس اور بے اختیار بنایا ہوا تھا، جو جسطرح مرد لوگ عورتوں کی قسمت کے فیصلے کیا کریں تو ان سے کوئی پوچھنے والا ہی نہ ہو۔

سو مریم نے تمہاری قوانین پر اجاری داری کو پاش پاش کرکے جو اپنی پسند اور اختیار سے شادی کی تھی اسکیلئے اسکا میں اللہ گواہ ہوں کہ اسنے صدقت بکلمات ربھا و کتبہ اسنے اللہ کے فیصلوں اور قوانین کی اپنے عمل سے تصدیق کرکے تمہاری احبار ورہبانیت والی مسندوں کو اکھاڑ پھینکاہے، سو مریم پر بہتان لگانے والے مکار عبا و قبا پوشو! سن لو کہ مریم کانت من القانتین، مریم میرے قوانین کی اطاعت کرنے والے فرمانبرداروں میں سے تھی۔

اس مقام پر زبان وحی نے مریم کیلئے صیغہ جمع مؤنث یعنی وکانت من القانتات استعمال کرنے کے بجاء وکانت من القانتین جمع مذکر کا اسلئے استعمال فرمایاہے اس ترکیب سے اللہ عزوجل فریسی یہودیوں مولویوں کو بتارہا ہے کہ عورت مریم بھی اپنی پارسائی میں مردوں کے برابر ہے کم نہیں ہے، مجھے مسلم امت کے علماء کی عقلوں پر افسوس ہوتا ہے کہ وہ لوگ یہودی علماء کے مریم پر بہتان کا جواب، جو مریم جب اپنے بیٹے رسول اور نبی سے دلا رہی ہے تو عیسیٰ علیہ السلام کی جواب والی عبارت کہ میں نبی ہوں اور قانون کی کتاب (انجیل) مجھے دے گئی ہے، اسکی تطبیق پر کیوں غور نہیں کرتے؟

یہ جواب تو صاف صاف یہودی مولویوں کی تہمت طرازی کا رد ہے، جسمیں وہ مریم کی شادی کے قانونی جواز کو چئلنج کر رہے تھے، یہودیوں کے موقف میں اس وقت عیسیٰ کے بن باپ کے پیدا ہونے کا شائبہ تک نہیں تھا،، ان یہودی ملاؤں کو صرف یہ حسرت تھی کہ مریم نے ان پنڈتوں میں سے کسی کے ساتھ شادی کرنے کے بجاء درکھان کے ساتھ شادی کیوں کی،، ان کی اس بدباطنی کو تو اللہ پاک آیت کریمہ (44-3) میں ننگا کر چکا ہے کہ جب شروع میں مریم نے ہیکل میں تعلیم و تربیت کیلئے داخلہ لیا تو یہودی مولویوں کی مریم کا حسن دیکھ کر بانچھیں بکھر کر بالٹی بنگئیں تھیں انہیں میں کا ہر ایک سیکسی بھیڑیا کہہ رہا تھا کہ ایھم یکفل مریم یعنی کفالت کیلئے مریم کس کے حصے میں آئے؟

قرآن نے فرمایا کہ انکے اس جھگڑنے کی نوبت قرعہ اندازی پر جا پہنچی تھی (44-3) یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ اس رسہ کشی میں جناب ذکریا علیہ السلام شریک و شامل نہیں تھے وہ اللہ کے نبی تھے قرآن حکیم نے فرمایا کہ مریم کی ماں کی طرف سے بیٹی کی اللہ کے دین کیلئے اس قربانی کو ہمنے قبول کیا اور مریم کی پرورش اور تربیت ایسی کی جو

وَأَنبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا
(3:37)

ہم نے مریم کی کفالت اپنے نبی زکریا کی نگرانی میں کرائی اور وہ نگرانی بھی ایسی جو جسطرح نرم و نازک پودا جب اپنی کونپلیں نکالتا ہے اور مالی اسے نا موافق ہوائوں اور موسموں کی خزائوں سے بچانے کے کئی حیلے کرتا ہے اس طرح زکریا بھی مریم کو ان پودوں کی طرح ہیکل کے باسیوں کی ہوس کاریوں سے بچانے والا تھا۔


Birth and Death of Jesus Christ Isa

از قلم: عزیز اللہ بوہیو


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
مسلمان کا ایمان ہے کہ اللہ تعالی کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جب کہ اللہ کی بیوی ہی نہیں ‌ہے

6:01 بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنَّى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
وہی آسمانوں اور زمینوں کا مُوجِد ہے، بھلا اس کی اولاد کیونکر ہو سکتی ہے حالانکہ اس کی بیوی (ہی) نہیں ہے، اور اسی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے

لہذا یہ کہنا کہ مسلمان حضرت عیسی علیہ السلام کے عید میلاد النبی کو مبارک قرار دینے یا اس پر سلام بھیجنے سے کافر ہوجائے گا۔ ایک بے کار کی بات ہے ۔۔۔ دنیا چاہے کچھ سوچتی رہے یا کسی بھی بات پر ایمان رکھے مسلمان کا ایمان اللہ تعالی کے واحد ہونے پر ہے ۔ اس لئے حضرت عیسی کا عید میلاد النبی کو مبارک قرار دینا عین قرآن کے صریح‌ بیان کے مطابق ہے
والسلام

کرسمس، چند شبھات کا ازالہ

Last edited by کنعان; 20-01-12 at 09:44 PM. وجہ: Re.organised
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
shafresha (09-01-12), فاروق سرورخان (10-01-12), حیدر Rehan (10-01-12)
پرانا 09-01-12, 09:16 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default عیسیٰ علیہ السلام کا جسم جبریل کے وہمی پانی سے اور مریم علیہا السلام کے اصلی پانی سے بنا

غرض و غایت
دنیا میں قدرتی عجائبات اس قدر ہیں کہ انسان نہ ان کو سمجھ سکتا ہے ۔ نہ گن سکتا ہے دن کا ہونا۔ رات کا آنا۔ چمکدار سورج کا نکلنا۔ باریک چاند کا دکھائی دینا۔ اور پھر بڑھتے جانا بدر ہونا اور اپنی چاندنی سے اندھیری دنیا کو روشن کرنا۔ پھر گھٹتے جانا اور پہلی طرح باریک ہو کر چھپ جانا کیا عجائبات قدرت نہیں؟

کالی گھٹا کا اٹھنا ، بڑے بڑے پہاڑوں سے بھی بڑے دَل بادلوں کا جمع ہونا۔ ہوا کے جھونکے سے ادھر اُدھر دوڑتے پھرنا۔ بجلی کا چمکنا۔ دل کو ہلانا۔ مینہ کی توقع سے دل خوش کرنا پھر مینہ کا برسنا۔ اولوں کا پڑنا۔ بادلوں کا گرجنا اور بجلی کا چمکنا کیا عجائبات قدرت سے نہیں؟

درختوں کا اگنا۔ ان کے ہرے ہرے پتوں کا نکلنا رنگ برنگ کے پھولوں کا پھولنا۔ دختوں کی شاخوں میں طرح طرح کے میووں کا لٹکنا پھر ان کے مزوں کا مختلف ہونا کیا عجائبات قدرت سے نہیں؟

پرندوں کا ہوا میں اڑنا۔ آسمان و زمین میں معلق رہنا۔ بئے کا عجیب طرح پر گھونسلا بنانا۔

شہد کی مکھی کے کرتب کرنا۔ اس کا نہایت اعلیٰ اصولِ اقلیدس پر چھتا بنانا۔ پہاڑوں پر اور اونچی اونچی جگہوں پر لگانا۔ ہر ایک قسم کے مفید پھولوں سے رس چوس کر لانا مختلف رنگوں کا شہد تیار کرنا کیا عجائبات قدرت سے نہیں؟

گائے بھینس اور لال گائے۔ بکری جن کے پیٹوں میں جنگل کا چارا سڑ کر بھرا ہوتا ہے سفید اور شیریں۔ مزے دار اور قوت بخش دودھ کا نکلنا اس سے ان کے بچوں کی پرورش ہونا اور انسان اور اس کے بچوں کے لئے نہایت عمدہ اور مفید غذا کا ہونا کیا عجائباتِ قدرت سے نہیں؟

خود انسان کا بلکہ تمام حیوانات کا پیدا ہونا۔ انڈے سے مرغی اور مرغی سے انڈے کا پیدا ہونا پھر ان کا دلکش آوازوں سے بولنا اور چہچہانا انسان کا اپنے قوائے عقلی اور دماغی سے ایسے اعلیٰ درجے پر پہنچنا اور اشرف المخلوقات خطاب پانا کیا عجائباتِ قدرت سے نہیں؟

چونکہ یہ باتیں روز مرہ دیکھنے میں آتی ہیں۔ ان کا عجیب بلکہ عجیب تر ہونا انسان کے خیال میں نہیں رہتا اور اس سے ذہول ہو جاتا ہے۔ لیکن جب وہ کسی مذہب پر اعتقاد لاتا ہے۔ یا کسی شخص کو مقدس سمجھتا ہے اور جو عجائبات اس کے ساتھ لگائے گئے ہیں ان سب کو قبول کرتا ہے تب یہ تسلیم ہوتا ہے کہ یہ آدمی نہایت دیندار اور مذہبی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مذہب اسلام میں بھی لوگوں نے بہت سے عجائبات شامل کر دئیے ہیں جو قابل یقین نہیں ہیں کیونکہ ان کی کوئی اصل کتاب و سنت میں نہیں۔ رفتہ رفتہ لوگوں کے خیال میں یہ بات جم گئی کہ عجائبات کے بغیر نہ مذہب چلتا ہے اور نہ لوگ ایسے مذہب کو جس میں یہ فرضی عجائبات نہ ہوں قبول کرتے ہیں۔

مگر یہ سخت غلطی ہے ۔ کوئی مذہب جو سچا ہے اور سچا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس میں کبھی ایسے عجائبات نہیں ہوتے جو فرضی ہوں اور فطرت انسانی کے خلاف ہوں۔ اور کوئی سمجھ دار آدمی ان کو تسلیم نہ کرے۔ بلکہ اصلی اور سچا مذہب ایسے عجائبات خلاف فطرت اور خلاف عقل سے بالکل پاک اور خالی ہوتا ہے اگرچہ بعد کو اس کے ماننے والوں نے عجائبات پرستی کی راہ سے اس میں بہت سے عجائبات شامل کر لئے ہوں۔

مذہب اسلام جو صحیح معنوں میں دین فطرت ہے کی نسبت ہم دلی یقین کرتے ہیں کہ وہ ایسی عجیب کہانیوں اور حیرت انگیز خلاف عقل اور خلاف فطرت باتوں سے بالکل پاک ہے اور اس میں جس قدر حصہ ان فرضی عجائبات کا ہے وہ ان عجائبات پرستوں کا شامل کیا ہوا ہے جو قدرت کے عجائبات کا ذہول کرتے ہیں اور خلاف عقل اور خلاف فطرت عجائبات کو قبول کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان عجائبات پرستوں سے بچائے۔ آمین

جنس انسان اول کی پیدائش اس قادر مطلق اللہ نے جس طریقہ سے مناسب سمجھی ہے جس کا علم بجز ذات باری تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں ہے ہمیں تو صرف اور صرف اس کے بتانے سے معلوم ہوا کہ تمام کائنات میں سے جو اللہ ہی کی مخلوق ہے انسان کو احسن تقویم پیدا کیا ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ میں نے انسان اول کو اپنے ہاتھ (قدرت) سے بنایا اور اس میں اپنی تخلیق کی گئی روح پھونک دی اور اس کائنات کی تمام مخلوقات کا سیدو سردار اس کو بنا دیا اور اس جنس انسان اول میں نسل انسانی کی بقا کے لئے توالد و تناسل کا سلسلہ قائم کر دیا اور اعلان فرمایا کہ یہ جنس انسان اول میر ا فعل ہے اور اس کے لئے توالد و تناسل کا سلسلہ میرا قول بھی ہے اور فعل بھی اور میرے فعل اور قول میں تبدیلی کا امکان نہیں لہٰذا نسل انسانی کی پیدائش نطفہ سے جاری ہے اور اسی سے جاری رہے گی۔

جیسا کہ قرآن مجید میں جو اللہ تعالیٰ کا قول ہے سوہ نحل آیت نمبر ۴ میں فرمایا:

’’اس نے انسان کو ایک قطرہ منی سے پیدا کیا پھر وہ ایک جھگڑنے والا اور ابھرنے والا ہو گیا۔‘‘

اس کی مزید وضاحت یوں فرما دی:
(سورہ النجم آیت ۴۵،۴۶)

’’اور بلا شبہ اس نے نر و مادہ دونوں قسموں کو پیدا کیا۔ (اس) بوند سے جو ٹپکنے والی ہے۔‘‘

پھر اس کی مزید تشریح سورہ طارق (۵تا ۷) میں فرما دی:

’’پس انسان کو چاہیے وہ دیکھے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ اچھلتے پانی (کی ایک بوند ہی) سے توپیدا کیا گیا ہے۔ جو پانی پیٹھ اور سینہ (کی ہڈیوں) کے درمیان سے نکلتا ہے۔‘‘

لیکن تخلیق کا یہ ضابطہ نسل انسانی کے لئے ہے انسانِ اول کے لئے نہیں۔

یہ اور اس طرح کی دوسری آیات کریمات آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں اور مزید آگے پڑھیں گے پوری نسل انسانی کے لئے اس ضابطہ تخلیق نسل انسانی کا بیان ہے جس سے انسان (مرد و عورت) پیدا ہوئے، پیدا ہو رہے ہیں، پیدا ہوتے رہیں گے۔ جب تک اس نسل انسانی کی بقاء علم الٰہی میں موجود ہے۔

یہ قانون قدرت اس قادر مطلق نے اپنی مرضی سے بنایا اور اپنی مرضی سے اس کا اعلان فرما دیا اور اس میں کسی قسم کی کوئی استثناء نہیں فرمائی۔ قرآن مجید کی ان آیات کریمات کو بار بار پڑھیں اور خوب غور کریں آپ کسی ایک جگہ پر بھی استثنا نہیں پائیں گے۔

زمرہ علماء کو ہمارا اعلان ہے کہ جو عالم ایک قرآنی آیت میں ضابطہ تخلیق نسل انسانی سے ایک اور صرف ایک انسان کے لئے اس کی وضاحت سے جس وضاحت سے اس آیت میں ضابطہ تخلیق نسل انسانی کا ذکر کیا گیا ہے استثناء دکھا دے وہ ایک لاکھ روپے نقد انعام حاصل کرنے کے ساتھ میرے سے توبہ نامہ بھی تحریر کرا لے۔

مذاہب عالم کا مطالعہ کرنے والا یقیناً اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ ہر مذہب کے ماننے والوں نے کسی نہ کسی انسان کو ضرور اس ضابطہ تخلیق انسانی سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ لیکن کسی نے بھی کوئی ثبوت اس کا پیش نہیں کیا اور کہا تو زیادہ سے زیادہ یہ کہا کہ آدم بھی تو بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تھے۔

حالانکہ آدم و حوا محض تخلیق تھے کسی کی اولاد نہیں تھے۔

بد قسمتی سے گذشتہ قوموں کی نقالی میں قوم مسلم کی اکثرت نے بھی سیدنا مسیحؑ کو اس ضابطہ تخلیق انسانی سے مستثنیٰ قرار دے کر اعلان کر دیا کہ مسیحؑ بغیر باپ کے پیدا ہوئے کسی نے جب ثبوت طلب کیا تو اس کو یوں مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ یہ ایک معجزہ ہے لیکن کسی چیز کا معجزہ ہونا بھی تو بغیر ثبوت کے تسلیم نہیں ہو سکتا۔ جب اس معجزہ کے معجزہ ہونے کی دلیل طلب کی گئی تو جھٹ الزام لگا دیا کہ یہ شخص معجزات کا منکر ہے۔

جب سب قومیں یہ کرتی آ رہی تھیں تو قوم مسلم کی اکثریت کا یہ نظریہ بھی عوام کی سطح تک تو مسلم ہو گیا لیکن علماء امت نے باوجود اس کے کہ امت کی اکثریت کو یہ نظریہ منوا لیا خود اس میں ہمیشہ مشکوک رہے اور اس شک کی بنا پر اس نظریہ کی ایسی ایسی تاویلیں کیں جن کو دیکھ کر پڑھ کر سن کر دل کانپ جاتا ہے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دماغ پگھلنے لگتا ہے اور ایسی حالت طاری ہونے کے ساتھ آدمی گہری سوچ میں ڈوب جاتا ہے۔ معاً خیال پڑتا ہے کہ جب سب اسلاف اسی طرح کہتے چلے آ رہے ہیں تو پھر ان کے خلاف سوچ کر دوزخ کا ایندھن بننا ہے؟
کسی قوم کے اسلاف کبھی غلط ہو سکتے ہیں؟
اگر اسلاف سے اعتماد اُٹھ جائے تو سارا نقشہ ہی بدل کر رہ جائے گا؟

یہی نہیں بلکہ اس پر غیر طعنے دیں گے اور اپنے تالیاں بجائیں گے اور طرح طرح کی پھبتیال کسیں گے۔ اس طرح سوچتے سوچتے ایسا خیال کرنے والا خود ایک دن سلف میں شمار ہونے لگتا ہے۔

لاکھوں میں کوئی ایک ایسا ہوا کہ وہ چونک کر رہ گیا اور پھر ایسا گم سم ہوا کہ گویا گویائی ختم ہو گئی۔ کان شاں شاں کرنے لگے۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ کچھ حالت بدلی تو ہنڈیا کی طرح اندر ہی اندر ابلتا رہا۔ اور انجام کار بخارات کی طرح اڑتے اڑتے ہوا ہو گیا۔

ان لاکھوں میں ایک ایک کر کے ہزاروں بنے اور اسی طرح گھائل ہو گئے۔ کہ زبان گنگ ہوئی تو دوبارہ گویائی نہ پا سکی۔ لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ حق ہے کہ اللہ کسی چیز کا بیج ختم نہیں کرتا جب تک اس دنیا کا نظام قائم ہے اور اللہ تعالیٰ کو اس کا قائم رکھنا منظور ہے۔ کوئی اتنا قوی اور مضبوط بھی جنم لے لیتا ہے جو سارے تھپیڑوں سے گزر جاتا ہے۔ اور زندگی کی رمق پھر بھی باقی رہتی ہے وہ آہستہ آہستہ اُٹھتا ہے۔ قدم سنبھالتا ہے اور پھر قدم قدم آگے بڑھنے لگتا ہے۔ اور انجام کار وہ چل نکلتا ہے۔ اور جب وہ دوبارہ زندگی کی گاڑی پر سوار ہوتا ہے تو اپنی گزشتہ رویداد کو بے خوف و خطر بیان کرنے لگتا ہے

کچھ ایسا حال تھا استاذی حافظ عنایت اللہ اثری مرحوم کا، کہ انہوں نے دوبارہ زندگی کی گاڑی پر سوار ہو کر قوم کو بتایا کہ امت وسطیٰ کے علماء کی تاویلات جو انہوں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بے پدری ولادت کو سہارا دینے کے لئے کی ہیں۔ میں نے یہ آواز اُٹھائی ہے کہ جس مقصد کے لئے انہوں نے یہ تاویلیں کی ہیں وہ مقصد بغیر ان تاویلوں کے حاصل ہو سکتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا واضح اور کھلا ارشاد ہے کہ

یٰاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی۔
(۴۹:۱۳)

پھر اس کی تاکید میں بیسیوں سے بھی متجاوز آیات کریمات سے اس کی وضاحت فرما دی اور اس کی تفسیر میں ہمارے پیغمبر محمد ص نے اس ضابطہ تخلیق انسانی میں مرد اور عورت دونوں کے حصوں کی تقسیم فرما کر اُمت کو سمجھا دیا کہ ہڈی ۔ پٹھے اور ناخن مرد کے نطفہ سے اور گوشت ۔ خون اور بال عورت کے نطفہ سے تیار ہوتے ہیں اور اس کی تشریح میں سینکڑوں احادیث ارشا د فرمائیں۔ اور قرآن کریم نے بھی اعلان فرمایا کہ:

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ۔
(۷۶:۲)
’’بلاشبہ ہم نے انسان کو مخلوط نطفے سے پیدا کیا‘‘

اب ایک طرف اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ص کے یہ ارشادات ہیں جن میں کوئی استثناء بھی موجود نہیں اور دوسری طرف اقوام عالم کی طرح قوم مسلم کی اکثریت کا یہ نظریہ جو نسلاً بعد نسلٍ چلا آ رہا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت بغیر باپ کے ہے ظاہر ہے کہ اللہ اور رسول اللہ ص کی بات تو سچ ہی سچ ہے۔ لیکن قومی نظریہ کو ترک کرنا بھی لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے۔ لہٰذا ہمارے علمائے گرامی قدر نے اس کی تاویل یوں کی ہے کہ جبرئیل نے وہ سب کام کیا جو اولاد کے لئے والد کرتا ہے۔ تب اولا دممکن ہوتی ہے۔

۱۔ ’’وکانت النفخۃ التی نفخہا فی جیب درعھا فنزلت حتی ولجت فرجہا بمنزلۃ لقاح الاب الام‘‘
(ابن کثیر)

۲۔ ’’ اتا ھا جبریل متمثلا بصورۃ شاب امرد سوی الخلق لتستانس بکلامہ و لعلہ لیھیج شہوتھا متحدر نطفتھا الی رحمھا۔‘‘
(بیضاوی)

۳۔ ’’ و ذکر غیر واحد من السلف انہ نفخ جیب درعھا فنزلت النفخۃ الی فرجھا فحملت من رورھا کما تحمل المرأۃ عند جماع زوجہا۔‘‘
(الجواب الفسیح)

۴۔ ’’ ثم ان مریم حاضت فی ایام سربان قوی الروحانیت فی تلک البقعۃ فلما ظہرت انتبذت الی مکان بعید من الناس لتغسل فاسدلت ستراً و نزعت ثیابھا فارسل اللہ الیھا جبرئیل فی صورۃ شاب سوی الخلق ممتلءًا شباباً و جمالاً فرأتہ مریم وھی شابۃ قفیۃ المزاج فخالفت علی نفسھا الفساد والتجأت الی اللہ بقلبھا لیعصمھا فکانت لھا حالہ عجیبۃ اما الطبیعۃ فحصل لھا ما یحصل عند الجماع من ثوران القوی النسلیۃ کما ان النظر وبما کان سببا للانزال واما النفس فححصل لھا الالتجاء الی اللہ واعتصام بہ حتی ملئت من حالۃ عصمیۃ فائضۃ من الغیب واما الصورۃ الانسانیۃ فکانت علی شرف الظھور لمخالطۃ الروح الامین۔ ولھا قال جبرئیل علیہ السلام (انا رسول ربک لاھب لک غلاماً زکیاً) ابتہجت وانشرحت و آنست ولما رای جبرئیل ھذا حالھا نفخ فی فرجھا فدغدت النفخۃ رحمھا فانزلت وکان فی منیھا قوۃ منی الذکر فحملت والقوی فی الجنین ما کان غالبا علی مریم من الاعتصام باللہ والالتجاء الیہ والابتھاج والانبساط بالھیءۃ الملکیۃ فان حالتھا سرت فی کل قوۃ من نفسھا حتی المصورۃ والمولدۃ والامر ما امر الاطباء لمن اراد ان یذکر و ولدہ ان یتصور فی حالۃ الجماع غلاما والقوی فیہ حکم عالم المثال و خواص الروح من قبل نفخ جبرئیل اذا ھو السبب فی التصور فحصلت فی حبلۃ ملکۃ راسخۃ شبیھۃ بجبرئیل وھذا معنی تائید اللہ بروح القدس۔‘‘
(تاویل الاحادیث ص۷۳)

مندرجہ بالا اِن حوالوں کے درج کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کتب تفاسیر میں سے صرف یہی دستیاب ہیں بلکہ عربی کی کوئی ایک تفسیر اٹھائیں۔ ابن جریر ۳۱۰ ؁ ھ سے مظہری ۱۲۲۵ ؁ھ تک بیسیوں نہیں سینکڑوں تفسیریں دیکھ لیں سب میں یہ عبارات مع شیء زاہد مل جائیں گی۔ ان عبارات کا اِس جگہ اردو ترجمہ اس لئے نہیں کیا جا رہا کہ ممکن ہے کوئی میرے ترجمہ سے اختلاف کرے اور اس لئے بھی کہ جب دوسرے مفسرین نے جنہوں نے اردو میں تفسیریں لکھی ہیں ان کا ترجمہ کر دیا ہے۔ اور وہ آگے نقل کیا جا رہا ہے لہٰذا وہی ترجمہ ان عبارات کا بھی تصور کر لیا جائے اور اس کی مزید تشریح بھی بزبان اردو عنقریب آپ پڑھیں گے۔
(ملاحظہ فرمائیں اور کان پکڑ کر توبہ کریں
)

۵۔ ’’ پھر مریم میں شہوت سرایت کی اور مریم کے اصل پانی اور جبریل کے وہمی پانی سے جو اس نفخ کی رطوبت میں آیا تھا عیسیٰ علیہ السلام کا جسم بنا کیونکہ جسم حیوانی کے نفخ میں رطوبت ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ارکان اربعہ سے پانی کا رکن ہوتا ہے کہ اِس سے عیسیٰ علیہ السلام کا جسم جبریل کے وہمی پانی سے اور مریم علیہا السلام کے اصلی پانی سے بنا اور عیسیٰ علیہ السلام دو جہت سے بشر کی صورت ہوئے ایک جہت ان کی ماں کی طرف سے تھی اور دوسری جہت جبریل سے تھی کیونکہ وہ بشر کی صورت پر ظاہر ہوئی تھی۔ اور یہ دو جہتیں اس واسطے ہوئیں کہ اس نوع انسانی میں تکوین خلاف عادت نہ واقع ہو۔‘‘
(شخ اکبر، فصوص الحکم)

۶۔ ’’ جس طرح مرد اور عورت دونوں کی منی سے بچہ پیدا ہوتا ہے اسی طرح جبریل علیہ السلام کی رطوبت سے اور مریم رضی اللہ عنہا کی رطوبت سے عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تھے اور یہ جو بے نکاح کام ہوا دوسروں کے نکاح سے اچھا ہے۔‘‘
(تفسیر تبصیر الرحمن)

۷۔ ’’ جس طرح نر اپنی مادہ سے جفتی ہو کر اسے حمل ٹھہراتا ہے اس طرح جبریل علیہ السلام نے مباشرت فرما کر مریم رضی اللہ عنہا کو حمل ٹھہرایا تھا۔ لہٰذا جبریل علیہ السلام عیسیٰ علیہ السلام کے بمنزلہ باپ ٹھہرے۔‘‘
(تحفۃ الودود اور کتاب الروح)

۸۔ ’’ فرشتہ نہایت خوبصورت بے ریش گھنگریالے بال والا نوجوان بن کر آیا اور جس طرح نر مادہ سے مل کر یا جس طرح شوہر بیوی سے ہم بستر ہو کر اسے حمل ٹھہرا دیتا ہے اسی طرح اس نے اسے حمل ٹھہرا دیا۔‘‘
(ابو البرکات بغدادی)

۹۔ ’’ دنیا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آدھے بشر اور آدھے روح تھے۔ کیونکہ حضرت مریم ؑ تو بشر تھیں اور حضرت جبریل روح(فَاَرْسَلْنَا اِلَیْھَا رُوْحَنَا) ہم نے حضرت مریم کے پاس اپنی روح یعنی جبریل کو بھیجااور آپ کی پیدائش حضرت جبریل ؑ کی پھونک سے ہوئی اس لئے دونوں امور آپ میں موجود ہیں۔‘‘
(جاء الحق ص۹۰)

۱۰۔ ’’ شبہ نیست در ایں کہ از قدیم عادت اللہ جاری بر ایں منوال است کہ اولاد از نطفتیں منعقد می شود و متولد می گیر دوبدوں آب منی تولد ولد حسب عادت جاریہ ممکن نیست۔ ما قبل آیت زیر بحث (فَتَمَثَّلَ لَھَا بَشَرًا ثَوِیًّا) نیز مؤید ہمیں مراہم است کہ تامتمثل بشر نزد مریم نبا ید حاملہ نشد۔‘‘

’’بر فرض تسلیم تاہم تو اند گفت کہ عیسیٰ ولد جبرئیل است واو قدسی می باشد پس بالیقین عیسیٰ غیر جنس است زیرا کہ از وجہ ولادت جز جبریل است و اعتبار ابوت وارد نہ اموت وگرنہ ذو اعتبارین بشری من جہتہ الام و ذو اعتبار قدسی بجہت فرشتہ بودن اب او می باشد تازہم بنص قرآن و زعم مسلماناں ثابت گردید کہ عیسیٰ فی الواقع بشرنیست۔‘‘
(سید علی جائری تفسیر القرآن)

۱۱۔ ’’ پھر حضرت مریم کو اس جگہ روحانی قوتوں کے جاری ساری ہونے کے زمانہ میں ماہواری کے دن آئے۔ جب ان سے پاک ہوئیں تو لوگوں سے ایک الگ مکان میں غسل کرنے کے لئے گئیں اور پردہ ڈال کر کپڑے اتار دئیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک کامل خلقت جوان کی صورت میں جبرئیل کو بھیجا جو جوانی اور خوبصورتی سے بھرا ہوا تھا اور حضرت مریم نے ان کو دیکھا اور خود بھی جوان اور قوی مزاج والی تھیں ان کو اپنے نفس پر فساد کا ڈر لاحق ہوا اور دل سے اللہ کے حضور میں دعا کی کہ ان کی عصمت پر کوئی حرف نہ آئے پھر اس کو ایک عجیب حالت پیش آئی طبیعت میں قوائے نسلیہ کا ہیجان ہوا اور اس سے وہ (لذت کی ) کیفیت پیدا ہوئی جو جماع کے وقت ہوتی ہے جیسے کبھی کسی کو نظر کرنے سے انزال ہو جاتا ہے اور نفس کو اللہ تعالیٰ سے التجاء تھی اور اس کے ساتھ تمسک تھا۔ یہاں تک وہ غائب سے فائض ہونے والی پاک دامنی کی حالت میں مالا مال ہو گئیں۔

صورت انسانیہ کی یہ حالت تھی کہ جبرئیل کے اختلاط سے عنقریب ظاہر ہونے والی تھی۔

جب جبرئیل علیہ السلام نے ان سے یہ کہا میں تو تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں کہ دے جاؤں تجھ کو لڑکا ستھرا تو مریم خوش و خرم اور مانوس ہو گئیں اور حضرت جبرئیل نے جب ان کے حال کو دیکھا تو ان کے ستر میں پھونک لگا دی۔ اس پھونک سے اس میں تاثر ہوا اور وہ منزل ہو گئیں۔ حضرت مریم کے نطفے میں مرد کے نطفے جیسی قوت تھی اس لئے وہ حاملہ ہو گئیں اور جو بات سیدہ مریم میں تھی وہ سب اس بچہ میں آ گئی۔ مثلاً اللہ سے تمسک کرنا اس کی طرف التجاء کرنا اور ملکی ہیئت سے خوش و خرم ہونا۔

کیونکہ حضرت مریم کی حالت اس کے نفس کی ہر قوت مصورہ اور مولودہ تک اس میں سرایت کر گئی تھی اور بات وہ ہے جو اطباء کہتے ہیں کہ جو شخص چاہے کہ اس کے لڑکا پیدا ہو تو وہ جماع کے وقت لڑکے کا تصور پیدا کرے۔
حضرت جبرئیل کی پھونک سے اس لڑکے میں عالم مثال کا حکم اور روح کے خواص آ گئے تھے کیونکہ صورت بننے کا سبب وہی تھا اس سے حضرت مسیح کی جبلت میں جبرئیل کے مشابہ ایک راسخ ملکہ پیدا ہوا اور حضرت مسیحؑ کی روح القدس کے ساتھ تائید کا یہی مقصد ہے۔‘‘
(ماہ نامہ الرحیم ماہ دسمبر ۱۹۸۷ ؁ء اداریہ)

حضرت العلام حافظ محمد صاحب گوندلوی رحمۃ اللہ علیہ امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان رقمطراز ہیں:

۱۲۔ ’’عربی زبان میں لفظ ولد کا حقیقی اطلاق جہاں کہیں بھی ہوتا ہے اس کے لئے اصلین کا ہونا ضروری ہے اور ولد کے لئے اگر اس کی ماں کی طرف نسبت ہو تو دوسرا اس کا باپ ہونا چاہیے۔ پس ولد کی ماں ولد کے باپ کے لئے صاحبہ (بیوی) ہو گی نیز ولد کے لئے ضروری ہے کہ اصلین کے مادہ سے منفک ہو کر تیار ہو یعنی ولد کے لئے اصلین کی ضرورت ہے اور مادہ منفک بھی لازم ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ پس لفظ ولد کے معنی ہیں جزء خاص یعنی جس کی جزئیت میں دو شخصوں کو دخل ہو اسی طرح لفظ ابن بھی عربی زبان میں حقیقی طور پر ولد کا مترادف ہے اس کے اطلاق کے لئے بھی یہی شرائط ہیں۔ چونکہ مسیحؑ کو ابن مریم سے قرآن مجید میں تعبیر کیا گیا ہے اس کے لئے بھی اصلین کا ہونا ضروری ہے۔ ایک ان کی ماں مریم دوم جبرئیل علیہ السلام جن کو دوسرے لفظوں میں روح القدس سے تعبیر کرتے ہیں جو حمل مسیحؑ کا باعث ہوئے۔‘‘
(اثبات توحید ص۹)

پادری صاحب! ’’سنئے ولد بلا والد نہیں ہو سکتا اور ولد بلا اصلین متصور نہیں اور ولد کے لئے اصلین کے ساتھ انفکاک مادہ بھی ضروری ہے گویا ولد کا لفظ بلحاظ استعمال یہ معنی دیتا ہے کہ دو اصلین کے توسط سے بانفکاک مادہ پیدا ہونے والا۔ جہاں کہیں لفظ ولد کلام عرب میں استعمال کیا گیا ہے۔ وہاں اصلین کے لئے ضروری ہے وہ عرف میں اس کی والدہ ہو گی جو اس کے باپ کی جورو ہو گی ۔۔۔۔۔۔ پس مسیحؑ پر چونکہ ولد مریم کا اطلاق کرتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ اس کی والدہ ہو اور وہ مریم ہے اور دوسرا صل جس کے اتصال کے علاوہ مسیحؑ نہ پیدا ہوا ہم اہل اسلام کے نزدیک جبرئیل ہے جسے دوسری جگہ قرآن مجید میں روح القدس سے تعبیر کیا گیا ہے اور وہ بمنزلہ والد کے ہے کیونکہ نفخ جبرئیل کے قبل اور روح القدس کی قوت کے ظہور سے پہلے مریمؑ سے مسیحؑ ظاہر اور متولد نہ ہوئے۔‘‘
(اثبات توحید ص۴۵)

’’عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت جبرئیل اور مریم کے درمیان واقعہ ہوئی اس لئے وہ آسمان پر اب تک کچھ کھائے پیئے اور پیشاب و پاخانہ اور نیز دیگر بشری ضرورتوں کو پورا کئے بغیر جبرئیل و دیگر فرشتوں کی طرح زندہ ہیں۔‘‘
(اثبات توحیدص ۴۰)

یہ تحریریں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں پھر ان کو بڑے محتاط انداز میں نقل کفر کفر نباشد کے تحت درج کیا گیا ہے۔ تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ قرآن کی کون سی وہ آیت ہے جس کی یہ تفسیر کی جا رہی ہے؟

کیا اس کو قرآن مجید کی تفسیر کہا جا سکتا ہے؟ تفصیل کا یہ موقع نہیں مختصراً عرض ہے کہ تفسیری روایات میں جو اسرائیلیات سے مملو ہیں ایک دفعہ کچھ حصہ نقل ہو گیا اور جو لوگ بعد میں آئے وہ ’’نقل را چہ عقل‘‘ کے پیش نظر چاروں طرف سے آنکھیں بند کر کے تقلیداً اپنی تصنیفات میں درج کرتے رہے اور پشت ہا پشت سے یہ خیالات پختہ ہو گئے اور ان سے دین اسلام کو جو سراسر صدق و یقین ہے یہاں تک صدمہ پہنچا کہ جس کے بیان کی دل کو طاقت، زبان کو قوت، دماغ کو وسعت اور قلم کو یارا نہیں ہے جس کو پڑھنے سننے سے ایک محقق اور راستباز انسان کا جگر کباب ہو جاتا ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے۔ ؂

من از بیگا نگاں ہر گز نہ نالم
کہ بامن ہر چہ کرد آں آشنا کرد

قارئین کرام سے درخواست
اوپر جو بارہ حوالہ جات تحریر کئے گئے ہیں یہ کن لوگوں کی طرف سے ہیں؟

ظاہر ہے کہ بہت بڑے برے متبحر علمائے کرام کی کتابوں سے لئے گئے ہیں اور جن کو اِس ملکِ عزیز کے تمام گروہ تسلیم کرتے اور مانتے ہیں اگر سب کو نہیں تو اِن میں سے بعض گروہ بعض علماء کو ضرور اپنا قائد و راہنما تسلیم کرتے ہیں اور اِس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ جو کچھ اِن تحریرات میں بیان کیا گیا ہے اُس کو ملک کے تمام گروہ اِس طرح مانتے ہیں اگر نہ مانتے ہوتے تو اُن کی تحریرات کا انکار کرتے اوربَرملا لکھتے کہ یہ تحریرات غلط ہیں لیکن ہم نے آج تک کسی کو اِس طرح کی بات کرتے نہیں دیکھا۔ یہ تحریرات ثابت کرتی ہیں کہ یہ تمام گروہ در اصل جبریل علیہ السلام کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ تسلیم کرتے ہیں لیکن عوام میں یہ مشہور کر رکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے معجزانہ رنگ میں پیدا ہوئے اور اُن کا یہ بیان اُن کے ضمیر کے خلاف ہے۔

ہمارا مؤقف فقط یہ ہے کہ فرشتہ کو انسان کا باپ قرار دینا ظلمِ عظیم ہے اِس ظلم سے وہ باز آ جائیں اِس لئے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اور وفات کا مسئلہ عقائد سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ نظریاتی مسئلہ ہے لیکن اِس کے برعکس فرشتہ کسی انسان کا باپ نہیں ہو سکتا یہ عقیدہ کا مسئلہ ہے اور عقیدہ کی خرابی مخرب ایمان ہے۔

جو لوگ حافظ عنایت اللہ اثری پر یا اُن کے نظریات رکھنے والوں پر برہم ہوتے ہیں ہماری اُن سے درخواست ہے کہ وہ عقل و فکر سے کام لیں اور ہمارا مؤقف سمجھنے کی کوشش کریں اور اُن علماء کرام کے پھندے سے باہر نکلیں جنہوں نے دوغلی پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور مانتے کچھ ہیں اور کہتے کچھ ہیں، جن کی صورتِ حال وہی جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ’’ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور‘‘۔

ایسی تحریرات اور تفسیری روایات کو پڑھ کر ’’حافظ‘‘ کا دل پسیج گیا صحیح معنوں میں وہ ایک کتابی کیڑا تھے ایک ایک تحریر کو پڑھا اور بار بار پڑھا۔ دل تھام کر پڑھا پھر قرآن پر غور و فکر کیا۔ تدبر سے کام لیا تو یقین ہو گیا کہ یہ سب کچھ اس لئے ہو اکہ اللہ تعالیٰ کے اس اَن مٹ اور اَن ٹل قانون سے جو نسل انسانی کی تخلیق کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں بار بار دہرایا ہے اس سے انحراف کیا گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علماء گرامی قدر کی ریل اچانک پٹڑی سے اتر گئی اور پھر دور تک تباہ و برباد کرتی چلی گئی نہ اپنا کچھ رہا اور نہ سواروں کا۔

جس اللہ کی نیک بندی (سیدہ مریمؑ ) کو اللہ نے تمام عالم کی عورتوں سے بلند رتبہ عطا فرمایا تھا جس کی پاکیزگی کی فرشتے بھی قسمیں کھاتے تھے جس کو اسلام میں وہ مقام عطا ہوا جو کسی دوسری عورت کو نہیں ہوا جس کے لئے اسلام میں بحث طے پائی تھی کہ ’’والصحیح ان مریم کانت نبیۃ‘‘ اس کے قصہ کو اس طرح بیان کیا گیا جو مذکورہ حوالوں سے اوپر درج ہے اور جس کے دیکھتے ہی دل کانپ اٹھتا ہے اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔

افسوس ! صد افسوس! کہ اب بھی چاروں طرف سے آواز اُٹھتی ہے کہ حافظ عنایت اللہ کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ اس نے مسلمانوں کے متفقہ عقیدہ کے خلاف لکھا؟

میں نے یہ سطریں اس لئے تحریر کی ہیں تاکہ ناظرین دیکھ سکیں کہ حافظ صاحب مرحوم کو مسلمانوں کی اکثریت کے اس نظریہ کے خلاف لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

جس طرح آپ نے ان چند حوالوں کو دیکھ کر محسوس کیا ہو گا کہ جو شخص اپنے سینے میں دل رکھتا ہے وہ ان کی تاب نہ لا کر پکاراُٹھے گا کہ (ھٰذَا بُہْتَانٌ عَظِیْمٌ) بالکل اسی طرح حضرت العلام حافظ عنایت اللہ اثری وزیر آبادی نے جب یہ محسوس کیا کہ یہ اور اس طرح کی دوسری تمام تحریرات کا تعلق دین اسلام سے مطلق نہیں ہے بلکہ یہ اسرائیلیات سے ماخذ ہیں اور خوش اعتقادی کے طور پر اسلام میں داخل کر لی گئی ہیں تو انہوں نے اس نظریہ سے سر پھیر دیا جس سے دو پاکبازوں بلکہ دو نبیوں ۱؂ کی زندگیوں کو افسانہ بنا کر رکھ دیا گیا تھا۔

وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوْنَ۔


اوہام پرستی پر اصرارِ معجزات
Insisted Miracles or Delusional Idolatry
بجواب
’’عقل پرستی اور انکار معجزات‘‘ حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب کیلانی

** مؤلف عبدالکریم اثری

شائع کردہ
انجمن اشاعتِ اسلام ٹھٹھہ عالیہ (رجسٹرڈ) منڈی بہاؤالدین

Compiled by: Rana Ammar Mazhar

Last edited by کنعان; 20-01-12 at 11:18 PM. وجہ: Re.organised
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
shafresha (09-01-12), فاروق سرورخان (10-01-12), حیدر Rehan (10-01-12)
پرانا 09-01-12, 11:52 PM   #4
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,787
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ویسے آپس کی بات ہے، میں‌بھی نزول عیسیٰ علیہ السلام کا قائل نہیں‌ہوں!!!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (10-01-12), فاروق سرورخان (10-01-12), مرزا عامر (10-01-12), حیدر (10-01-12)
پرانا 10-01-12, 12:12 AM   #5
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاہد بھائی سلام :
پیدائش عیسیٰ ایک عدد والد سے !
آپ کی رائے کا انتظار رہے گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (10-01-12), shafresha (10-01-12), فاروق سرورخان (10-01-12), نبیل خان (10-01-12), حیدر (10-01-12), حیدر Rehan (10-01-12)
پرانا 10-01-12, 12:40 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,612
شکریہ: 8,509
1,592 مراسلہ میں 3,520 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جناب سلام ہے
نبیل خان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (10-01-12), حیدر (10-01-12)
پرانا 10-01-12, 09:21 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (10-01-12), shafresha (10-01-12), skjatala (10-01-12), فاروق سرورخان (10-01-12), کنعان (10-01-12), نبیل خان (10-01-12), حیدر (10-01-12), حسن قادری (10-01-12), عبداللہ آدم (20-01-12), عبداللہ حیدر (10-01-12)
پرانا 10-01-12, 12:45 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
حالانکہ اصولی طور پر رویہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ قرآن کی تفسیر کے لئے پہلے صحیح‌احادیث‌مبارکہ کی جانب رجوع کیا جاتا اور پھر قرآن و احادیث‌کی روشنی میں‌ کسی آیت کا مفہوم متعین کیا جاتا۔
ایک عدد ایسی خلاف قرآن حدیث پیش کیجئے جو کسی خلیفہ کی عدالت میں پیش کی گئی ہو مع دو عدد گواہان کے اور پھر ان خلفاء راشدین نے ان احادیث کو کتاب کی صورت میں لکھوایا ہو۔ حدیث کی صحت کا معیار ۔۔۔ قرآن ہے ۔ لیکن قرآن کی صحت کا معیار ۔۔۔ کوئی خلاف قرآن سنی سنائی ، ٍغیر ثابت شدہ روایات نہیں ۔

کیا وجہ ہے کہ حدیث پرستوں‌کے پاس خلاف قرآن روایات کا قرآن حکیم سے کوئی ثبوت موجود نہیں ؟؟؟

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

Last edited by فاروق سرورخان; 10-01-12 at 12:54 PM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (10-01-12), shafresha (10-01-12), حیدر (10-01-12), حیدر Rehan (10-01-12)
پرانا 10-01-12, 12:55 PM   #9
Senior Member
 
مفتی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 540
کمائي: 7,068
شکریہ: 489
308 مراسلہ میں 689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک کہانی آدم علیہ السلام کے والدین کے متعلق بھی اختراع فرما دیجئے اور وہ بھی قرآنِ کریم کی روشنی میں ۔۔۔
__________________
کعبے کے بَدرُالدّجٰی تم پہ کروڑوں درود ♥ شافع روزِ جزا تم پہ کروڑوں درود
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا ♥ جب نہ خدا ہی چُھپا تم پہ کروڑوں درود

صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم
مفتی آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے مفتی کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (10-01-12), فاروق سرورخان (10-01-12), کنعان (10-01-12), نبیل خان (10-01-12), حیدر (10-01-12), عبداللہ آدم (20-01-12), عبداللہ حیدر (10-01-12)
پرانا 10-01-12, 02:44 PM   #10
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایسا نہی ہے کہ اس مراسلے میں سوچنے کے لیے کچھ نہی ہے اگر جواب دینے کے لیے کچھ نہ بھی ہو تو


راعنا عمار بھائی
ایک نکتہ شائد یہ بھی رہ گیاہے

سورہ مریم ہی میں ہے کہ
جناب عیسی علیہ سلام نے کہا کہ مجھے اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرنے والہ بنایا ہے
اور
اسی سورہ میں یہ بھی ہے کہ جناب یحی علیہ سلام کی جب ولادت ہوئی تو ان کے لیے فرمایا گیا کہ
وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے ۔


حضرت عیسی علیہ سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیکی صرف ماں کے ساتھ
حضرت یحیی علیہ سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیکی ماں باپ دونوں کے ساتھ

ایسا کیوں ؟؟؟
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (10-01-12), shafresha (10-01-12), نبیل خان (10-01-12), مرزا عامر (11-01-12), احمد نذیر (11-01-12), حیدر (10-01-12), عبداللہ آدم (20-01-12), عبداللہ حیدر (10-01-12)
کمائي نے حیدر Rehan کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
10-01-12 حیدر حضرت عیسی علیہ سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیکی صرف ماں کے ساتھ point raised. 150
پرانا 10-01-12, 06:27 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default شاید آپ نے پورا پڑھا نہیں ہے ؟؟؟ حالانکہ آدم و حوا محض تخلیق تھے کسی کی اولاد نہیں تھے۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مفتی مراسلہ دیکھیں
ایک کہانی آدم علیہ السلام کے والدین کے متعلق بھی اختراع فرما دیجئے اور وہ بھی قرآنِ کریم کی روشنی میں ۔۔۔
شاید آپ نے پورا پڑھا نہیں ہے ؟؟؟ حالانکہ آدم و حوا محض تخلیق تھے کسی کی اولاد نہیں تھے۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
غرض و غایت----------------------------
یہ قانون قدرت اس قادر مطلق نے اپنی مرضی سے بنایا اور اپنی مرضی سے اس کا اعلان فرما دیا اور اس میں کسی قسم کی کوئی استثناء نہیں فرمائی۔ قرآن مجید کی ان آیات کریمات کو بار بار پڑھیں اور خوب غور کریں آپ کسی ایک جگہ پر بھی استثنا نہیں پائیں گے۔ زمرہ علماء کو ہمارا اعلان ہے کہ جو عالم ایک قرآنی آیت میں ضابطہ تخلیق نسل انسانی سے ایک اور صرف ایک انسان کے لئے اس کی وضاحت سے جس وضاحت سے اس آیت میں ضابطہ تخلیق نسل انسانی کا ذکر کیا گیا ہے استثناء دکھا دے وہ ایک لاکھ روپے نقد انعام حاصل کرنے کے ساتھ میرے سے توبہ نامہ بھی تحریر کرا لے۔ مذاہب عالم کا مطالعہ کرنے والا یقیناًاس نتیجہ پر پہنچے گا کہ ہر مذہب کے ماننے والوں نے کسی نہ کسی انسان کو ضرور اس ضابطہ تخلیق انسانی سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ لیکن کسی نے بھی کوئی ثبوت اس کا پیش نہیں کیا اور کہا تو زیادہ سے زیادہ یہ کہا کہ آدم بھی تو بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ حالانکہ آدم و حوا محض تخلیق تھے کسی کی اولاد نہیں تھے۔
----------------------------
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-01-12, 06:31 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default عیونِ زمزم فی میلاد عیسیٰ ابن مریم

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
شاہد بھائی سلام :
پیدائش عیسیٰ ایک عدد والد سے !
آپ کی رائے کا انتظار رہے گا

اعلانِ عام

وَادْعُوْا شُہْدَآ ءَ کُمْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ (البقرہ۲: ۲۳)
علماء کرام سے گذارش ہے کہ درج ذیل پندرہ سوالات کے جوابات کتاب و سنت سے استدلالاً نہیں بلکہ صراحتاً حدیث ہونے کی صورت میں بصحت سند دے کر اس کتاب کی اشاعت کو روکنے کا ہم سے اقرار نامہ تحریر کرا لیں تاکر روز روز کی خر خش ختم ہو جائے۔
اور اگر جواب نہ دیں یا ثابت ہو جائے۔ کہ ان کے جوابات درست نہیں ہیں تو صرف اتنی اپیل ہے۔ کہ ایسے نظریات جو یہود اور نصاریٰ کی طرح قوم مسلم میں نسلاً بعد نسلٍ مشہور ہو کر تسلیم کئے گئے ہیں۔ جن کی کوئی اصل اسلام میں موجود نہیں ہے۔ ان پر خواہ مخواہ کفر کے فتوے صادر کر کے حلقہ اسلام کی وسعتوں کو اپنی خواہشات کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔
۱۔ کیا سیدہ مریم علیہا السلام صاحب حال نے یہ بیان فرمایا ہے۔ کہ میں نے اس فرزند کو
بغیر نکاح (زوج) کے جنا ہے؟
۲۔ کیا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی بیان فرمایا ہے۔ کہ میری والدہ نے مجھے بغیر نکاح
(زوج) کے جنا ہے؟
۳۔ کیا قرآن مجید نے کہیں بیان فرمایا ہے۔ کہ مریم صدیقہ نے اپنے فرزند عیسیٰ ؑ کو بغیر نکاح
(زوج) کے جنا ہے؟
۴۔ کیا حضور اکرم ﷺ نے کبھی بیان فرمایا ہے۔ کہ مریم صدیقہؑ نے عیسیٰ ؑ کو نکاح (زوج)
کے بغیر جناہے؟
۵۔ کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے کبھی رسول اکرم ﷺ کے سامنے ذکر کرتے ہوئے
عیسیٰ ؑ کو (بے پدر ۔ بلا باپ) فرمایا ہے۔ جس کو سن کر آپ نے تصدیق فرمائی ہے۔
پسند فرمایا ہے۔ یا کم از کم خاموشی اختیار فرمائی ہے؟
۶۔ ضابطہ پیدائش انسانی کا ذکر قرآن مجید میں بیسیوں جگہ موجود ہے۔ کہیں کسی جگہ بھی سیّدنا
عیسیٰ علیہ السلام کو اِس سے مستثنیٰ کیا گیا ہے؟
۷۔ کیا عیسیٰ ؑ سے قبل انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی ؑ نے بھی عیسیٰ علیہ السلام کا نام لے
کر یا بغیر نام لئے کسی نبی علیہ السلام کی ولادت بلا باپ کی پیش گوئی بطور وحی بتائی ہے؟
۸۔ کیا اب بھی کسی بے نکاحی (بلا خاوند) عورت کا حمل قرآن و حدیث کی دلیل سے
قدرتِ الٰہی پر محمول کیا جا سکتا ہے؟ اگر نہیں تو کیوں؟ کیا اب اللہ تعالیٰ قادر نہیں ہے؟
۹۔ کیا ہر ایک مولود نبی علیہ السلام کا نکاح سے پیدا ہونا شرعاً لازم نہ تھا؟ آپ ﷺ کا
ارشاد جو طبرانی میں ہے جس کا معنی ہے کہ ’’میرے سلسلہ نسب میں کوئی بھی ولادت
بغیر نکاح کے نہیں ہوئی۔‘‘ کا کیا مطلب ہے؟
۱۰۔ اگر بغیر باپ عیسوی ولادت کا خیال بنیادی اور اعتقادی ہے۔ یا ایمانیات میں داخل
ہے تو اس کا ثبوت واضح ارشاد باری یا احادیث صحیحہ سے ضروری نہیں ہے؟ کیا عقائد
اسلامی کی بنیاد استدلالات پر قائم ہو سکتی ہے؟
۱۱۔ کیا آپ ﷺ کے زمانہ اقدس میں عقائد اسلامی متعین ہوئے تھے یا نہیں؟ اگر ہو چکے
تھے تو آپ ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام کی بے پدری ولادت کو عقائد اسلامی میں شامل
فرمایا ہے؟ کہاں اور کیسے؟
۱۲۔ کتب تفاسیر میں عیسیٰ علیہ السلام کی بے پدری ولادت کا ذکر موجود ہے۔ (صحیح ہے)
آپ کسی ایک تفسیر کا نام لے سکتے ہیں۔ کہ جو کچھ اس میں صاحب تفسیر نے بیان کیا
ہے وہ سب کا سب صحیح اور درست ہے؟
۱۳۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت معجزہ تھی تو آپ بتائیں کہ یہ معجزہ کس کا تھا؟ سیدہ مریم کا؟
ذکریا علیہ السلام کا؟ یا کسی اور نبی کا؟ نیز معجزہ کی تعریف کیا ہے؟ جو آپ کے ہاں مسلّم ہے؟
۱۴۔ ولد والد اور والدہ میں سے ہر ایک دوسرے دو کا ثبوت کامل ہے۔ قرآن مجید میں کہیں ولد کا
ذکر ہے۔ والد اور والدہ دونوں کا نہیں ۔ کہیں والد کا ذکر ہے ۔ اور ولد اور والدہ دونوں کا
نہیں۔ کہیں ولد اور والد کا ذکر ہے والدہ کا نہیں ہے پھر کہیں والدہ بغیر ولد یا ولد بغیر والدہ
کے تسلیم کیا گیا ہے؟ تاکہ اس کا عکس بھی تسلیم کر لیا جائے؟
۱۵۔ اصول و فروع دونوں مسلم۔ کیا ولادت مسیح کا مسئلہ اصولی ہے یا فرعی؟ کتاب و سنت سے وضاحت کریں؟ نیز اصول و فروع کی تشریح بھی جو آپ کے ہاں مسلم ہے؟
(فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا۔) (۲:۲۴)
’’پھر اگر تم ایسا نہ کر سکو اور حقیقت بھی یہی ہے کہ تم کبھی ایسا نہیں کر سکو گے۔‘‘
تو پھر اثری صاحبؒ مرحوم کے ’’بے کار دلائل ‘‘ کا جواب ’’کار آمد دلائل‘‘ سے دے کر مشکور فرمائیں۔

علامہ عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ


ناچیز بندہ کے خاندان سپرا کے ایک بطل جلیل جو نہایت سادہ، نیک سیرت اور پورے خاندان کے لئے ایک طرح سے اللہ کی رحمت تھے۔ وقت کے بہترین خطاط مفسر قرآن بہت سی کتبِ اسلامی کے مصنف اور راقم الحرف کئی رشتہ داریوں میں اُن کے ساتھ منسلک ہے۔ اُن کی زندگی کے آخری ایام تک مل جل کر رہنے کا شرف بھی حاصل ہے۔ میرے نظریات سے اچھی طرح واقف تھے لیکن اِس سلسلہ میں کبھی گفتگو نہیں کرتے تھے۔ بندہ حافظ صاحب مرحوم کا اکثر لٹریچر اُن کو پہنچاتا رہا جس میں عیونِ زمزم اور بحر قلزم جیسی کتب بھی شامل ہیں وہ گجرات آتے تو اکثر نماز حافظ صاحب مرحوم کی اقتداء میں ادا کرتے اور کسی بھی ایسے مسئلہ کے متعلق حافظ صاحبؒ سے بات نہ کی اور جب بھی ملتے نہایت پر تپاک طریقہ سے ملتے۔
جمعیت اہل حدیث کے چند ایک دوستوں نے جن میں ایک علامہ محمد مدنی جامعہ الاثریہ جہلم تھے اُن سے حافظ صاحب کی تحریرات کے رد میں کچھ لکھنے کی ترغیب دی اور اِس معاملہ میں کچھ رقم بھی پیش کی۔ آپ نے اِس سلسلہ میں ایک کتاب بنام ’’عقل پرستی اور انکارِ معجزات‘‘ تحریر کی۔ کتاب طبع ہو کر بازار میں آ گئی تو راقم الحروف کو بھی اُنہوں نے کتاب پیش کی اور ساتھ ہی اس کی پوری روئیداد بھی سنا دی کہ کس نے زور دے کر کہا اور کس نے اخراجات برداشت کئے اور کتنے ادا کئے اور کیا کچھ باقی ہے اِس کتاب کے بل کی ادائیگی میں خادم اُن کے ساتھ رونٹی والی مسجد میں گیا اُس وقت اُس مسجد کے ناظم عظمت اللہ بٹ صاحب تھے جو خادم کے ساتھ نہایت شفقت سے پیش آتے تھے اور آتے ہیں۔ اُنہوں نے خوب آؤ بھگت کی اور ہمارا موقف سننے کے بعد جماعت کا رجسٹر حسابات لے کر کیلانی صاحب کو دکھایا کہ یہ رقم جماعت سے علامہ مدنی صاحب نے وصول کر لی ہوئی ہے اور چونکہ اُس وقت مدنی صاحب زندہ تھے فرمایا اگر ضرورت ہو تو میں اِس رقم کی ادائیگی کی تصدیق کرانے کے لئے جہلم تک جا سکتا ہوں۔
مختصر یہ کہ اِس کتاب ’’عقل پرستی‘‘ میں وہ تحریر فرماتے ہیں کہ یہ کتاب عیونِ زمزم حافظ صاحب نے بے کار دلائل سے بھر دی ہے اور پھر فرمایا کہ:
’’بے کار دلائل سے ہماری مراد ایسے دلائل ہیں جو مسلّمات کا درجہ رکھتے ہیں اور جن کو مسلمان تو درکنار کافر، مشرک اور دہریے بھی تسلیم کرتے ہیں کیونکہ یہ دلائل ضابطہ الٰہی یا قانونِ فطرت سے تعلق رکھتے ہیں اور قرآن و حدیث میں بھی مذکور ہیں مگر سوال یہ ہے کہ آیا ایسے دلائل کسی خرقِ عادت امر میں کوئی فیصلہ کن حیثیت بھی رکھتے ہیں یا نہیں۔‘‘
اِس کے بعد اُنہوں نے ’’عیون زمزم‘‘ سے تقریباً ۷،۸ حوالہ جات تحریر فرمائے ہیں جو درج ذیل ہیں:
۱۔ ’’ہر جاندار کی پیدائش کے لئے اس کے ماں باپ دونوں کا ہونا ضروری ہے۔‘‘ اب اس قانون فطرت یا ضابطۂ الٰہی سے بھلا کس کافر کو انکار ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ اس سے یہ نتیجہ پیش کریں کہ چونکہ ہر جاندار کے لئے اس کے ماں باپ کا ہونا ضروری ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ ں کا باپ ضرور تھا۔ تو معجزات کے قائلین کے نزدیک یہ ثبوت بے کار اور یہ دلیل باطل ہے۔ لیکن افسوس ہے آپ نے ایسے بے کار دلائل کے خواہ مخواہ انبار لگا دئیے ہیں۔ یا مثلاً
۲۔ یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے آپ کو ولد تسلیم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو آدم کی ذریت شمار کیا ہے تو ولد اور ذریت کے لئے زوجین یعنی ماں باپ کا ہونا ضروری ہے۔ جیسا کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ تو اس سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی جیسے والدہ تھی۔ والد بھی ضرور تھا۔ (ع ص)
۳۔ احادیث سے ثابت ہے ۔ مرد کے نطفے سے ہڈیاں اور پٹھے بنتے ہیں۔ اور ماں کے نطفہ سے گوشت۔ پوست اور خون اور چونکہ عیسیٰ ؑ کے بدن میں ہڈیاں اور پٹھے بھی موجود تھے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ آپ کا باپ ضرور تھا۔ (ع۔)
۴۔ حضرت مریم کا اپنا بیان ہے۔ (فرشتہ کے سامنے) کہ ولد کے لئے مس بشرکا ہونا ضروری ہے۔ پھر ولد بھی ہو گیا۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ آپ کا شوہر تھا۔ (ص)
۵۔ احادیث میں حضرت مریم اور حضرت فاطمہ دونوں کو عذرا اور بتول یا بکر کہا گیا ہے پھر چونکہ حضرت فاطمہ کا شوہر تھا (حضرت علیؓ) اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مریم کا بھی شوہر تھا۔ (ص)
۶۔ کسی کنواری کو حمل ہو جانا ہی اس بات کی قوی دلیل ہے کہ اسے مس بشر ہوا ہے خواہ یہ جائز ہو یا ناجائز اور حضرت مریم کے تو صرف حمل ہی نہیں بچہ بھی پیدا ہوا اور فاروقی فتوے کے مطابق کسی کو حضرت مریم کے متعلق حد لگانے کا خیال بھی پیدا نہیں ہوا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مریم کا جائز شوہر تھا۔(ع)
۷۔ احادیث سے ثابت ہے کہ دودھ مرد کے نطفہ سے ہوتا ہے۔ اور یہ بھی احادیث سے ثابت ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حضرت مریم کا دودھ پیا تھا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کا والد ضرور تھا۔ (ع )
۸۔ اگر ماں باپ میں سے کسی ایک کا یا دونوں کا پتہ نہ بھی ہو تو اس کے والدین ضرور ہوتے ہیں۔ لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام کا باپ یا مریم کا شوہر بھی ضرور ہے۔ اور وہ یوسف نجار تھا۔ (ع)
اور آخر میں دوبارہ لکھا ہے کہ یہ سب کے سب ’’قائلین معجزات‘‘ کے لئے کار آمد نہیں اور تعجب کی بات یہ ہے کہ اپنے ’’کار آمد دلائل‘‘ کا ذکر تک نہیں فرمایا:
میرے محترم بزرگ جناب عبدالرحمن کیلانی صاحب نے اپنی کتاب ’’عقل پرستی‘‘ میں حافظ صاحب کی پیش کردہ ایک حدیث کے حصہ کو بھی بحثِ موضوع بنایا اور بڑے وثوق سے تحریر کر دیا کہ ’’یہ حدیث کا ٹکڑا حافظ صاحب نے کہاں سے لیا جس پر خواہ مخواہ ابن جریر کا حوالہ دے دیا ہم نے پوری کتاب چھان ماری لیکن اِس میں یہ حوالہ مطلق نہیں ملا۔ یہ ہے اُن کی ذہانت و امانت کا حال۔‘‘
یہ تحریر پڑھنے کے بعد میں نے ابن جریر کے اِس صفحہ کی فوٹو آپ کو رو در رو دی اور عرض کیا کہ آپ نے اِس کو کہاں سے تلاش کیا اور کس طرح تحدّی کے ساتھ حافظ صاحب کو مذاق کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تو حوالہ دیکھ کر فرمانے لگے ’’ میں معذرت خواہ ہوں‘‘ یہی وہ باتیں ہیں جن کی بنا پر بندہ موصوف کو ’’اللہ کا ایک نیک بندہ تصور کرتا ہے۔‘‘ اور نظریات کے اِس فرق کو کوئی اہمیت نہیں دیتا بلکہ عدم تفہیم پر دال کرتا ہے اور ابن جریر کی محولہ عبارت آگے آ رہی ہے آپ بھی ملاحظہ فرما لیں۔
بعد ازیں ناچیز بندہ نے عیونِ زمزم کا تیسرا ایڈیشن شائع کیا تو اُس میں صاف صاف تحریر کیا کہ ’’علامہ کیلانی‘‘ صاحب سے ہماری گذارش ہے کہ وہ اپنے ’’کار آمد دلائل‘‘ کا بھی ذکر فرمائیں اور یاد دہانی بھی کرائی لیکن بعد ازیں اُنہوں نے اپنی وفات تک اِس سلسلہ میں قلم کو حرکت نہ دی۔
اب جب کہ ’’کیلانی صاحب‘‘ کو بھی اِس دارِ فانی سے دارا لآخرت کو منتقل ہوئے ایک عرصہ گذر چکا ہے ’’عیونِ زمزم‘‘ کا یہ چوتھا ایڈیشن طبع ہو کر آپ کے ہاتھوں میں ہے ہم مرکزی جمعیت اہل حدیث کے اُن رفقاء سے مخاطب ہیں جو کیلانی صاحب سے یہ کتاب لکھوا کر اپنا اور جماعت کا نام روشن کرنا چاہتے تھے وہ اُن ’’کار آمد دلائل‘‘ کو نوک قلم پر لائیں تاکہ اُن کے ’’کار آمد دلائل‘‘ کو وہ لوگ بھی پڑھ سکیں جو اب تک ’’بے کار دلائل‘‘ پڑھتے ہیں اور محض اِس لئے منہ چڑھا دیتے ہیں کہ علامہ کیلانی نے فرمایا ہے کہ یہ ’’دلائل بے کار‘‘ ہیں اِس لئے ہم ان کو ماننے کے لئے تیار نہیں اور صاحبِ علم اُن کی یہ بات سنتے ہیں تو ہنس کر رہ جاتے ہیں کہ اگر کتاب و سنت سے دئیے گئے دلائل بے کار ہیں تو پھر ’’کار آمد دلائل‘‘ کہاں سے آئیں گے اور اِس طرح یہ بھی کہ جب وہ کتاب و سنت میں نہیں بلکہ علاوہ از کتاب و سنت ہیں تو وہ ’’کار آمد دلائل‘‘ کیسے ہوں گے؟
قارئین کتاب سے ہماری درخو است ہے کہ وہ خواہ مخواہ انتظار میں نہ رہیں اور ضرور وہ ’’کار آمد دلائل‘‘ کو دیکھنا ہی چاہتے ہیں تو دیکھی ہوئی چیز کو ایک بار پھر دیکھ لیں اور مطمئن رہیں کہ یہی وہ دلائل ہیں جو اِس راہ میں ’’کار آمد دلائل‘‘ کہلاتے ہیں۔ اِس کتاب میں ذرا پیچھے جائیں تو ’’غرض وغایت‘‘ کے عنوان کے تحت ’’حضرت العلام حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث‘‘ کے حوالہ سے چند ایک عبارات درج کی گئی ہیں اُن کو ذرا دھیان سے ایک بار پھر پڑھ لیں اور یہ سمجھ کر پڑھیں کہ ہم ’’کار آمد دلائل‘‘ پڑھ رہے ہیں تو ’’کار آمد دلائل‘‘ کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔ ؂

من از بیگا نگاں ہر گز نہ نالم
کہ با من ہر چہ کرد آں آشنا کرد

۱؂ یہاں دو نبیوں سے مراد سیدنا عیسیٰ ؑ اور سیدہ مریم ؑ ہیں۔ اثری
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-01-12, 06:45 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default یحییٰ بن یعمر حسنؓ اور حسینؓ کو رسول اللہ:ﷺ کی اولاد ٹھہرا رہا ہے !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
ایسا نہی ہے کہ اس مراسلے میں سوچنے کے لیے کچھ نہی ہے اگر جواب دینے کے لیے کچھ نہ بھی ہو تو
رانا عمار بھائی
ایک نکتہ شائد یہ بھی رہ گیاہے
سورہ مریم ہی میں ہے کہ
جناب عیسی علیہ سلام نے کہا کہ مجھے اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرنے والہ بنایا ہے
اور
اسی سورہ میں یہ بھی ہے کہ جناب یحی علیہ سلام کی جب ولادت ہوئی تو ان کے لیے فرمایا گیا کہ
وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے ۔
حضرت عیسی علیہ سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیکی صرف ماں کے ساتھ
حضرت یحیی علیہ سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیکی ماں باپ دونوں کے ساتھ
ایسا کیوں ؟؟؟

در منثور ص۲۸ جلد۳ میں نیز اکلیل فی استنباط التنزیل میں بحوالہ ابن ابی حاتم ابو حرب سے اوربحوالہ ابو الشیخ مستدرک حاکم ص۱۶۴ جلد۳ اور بیہقی عبد الملک بن عمیرؒ سے اور حیوٰۃ الحیوان ص۱۹۲ جلد۱ میں بحوالہ الروض الزاہر شعبیؒ سے مروی ہے کہ حجاج کو یحییٰ بن یعمر کی بابت معلوم ہوا کہ وہ خراسان میں حسنؓ اور حسینؓ کو رسول اللہ:ﷺ کی اولاد ٹھہرا رہا ہے تو اس نے وہاں کے قاضی قتیبہ بن مسلم کو خط لکھا کہ اسے یہاں روانہ کر دو جب وہ آیا تو حجاج نے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تم نے وہاں پر یہ مضمون شروع کر رکھا ہے کہا کہ ہاں ضرور کہا کہ مباہلہ کی آیت کریمہ میں تو اس کا کوئی ثبوت نہیں اور آیت ہے تو اسے پیش کرو یحییٰ نے سورہ انعام کی آیت کریمہ ومن ذریتہ داؤد پڑھ کر استدلال کیا کہ اس میں جس طرح عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو والدہ ماجدہ کی طرف سے ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذریت میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح حسنؓ و حسینؓ اپنی والدہ ماجدہ فاطمہؓ کی طرف سے رسول اللہ:ﷺ کی ذریت میں شمار ہیں۔
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-01-12, 07:05 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اتنی لمبی تقریر کی بجائے کچھ صحیح‌ احادیث یہاں لکھ دیں !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
حضرت عیسٰی علیہ السلام کا بن باپ کے معجزانہ طریقے سے پیدا ہونا قرآنی آیات اور کئی صحیح‌ احادیث‌مبارکہ سے ثابت ہے۔ لیکن اس طرز کے کسی بھی موضوع پر افہام و تفہیم کی خاطر بات چیت ہمیشہ ناکام ہی ٹھہرے گی، اور اس کی وجہ ہمارے بھائیوں کا رویہ ہے کہ قرآن کی کسی آیت کا خود ساختہ مفہوم پہلے متعین کرتے ہیں، اور پھر اسی مفہوم کو قرآن قرار دے کر تمام احادیث‌کو ’خلاف قرآن‘ کہہ کر رد کرتے جاتے ہیں۔ حالانکہ اصولی طور پر رویہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ قرآن کی تفسیر کے لئے پہلے صحیح‌احادیث‌مبارکہ کی جانب رجوع کیا جاتا اور پھر قرآن و احادیث‌کی روشنی میں‌ کسی آیت کا مفہوم متعین کیا جاتا۔
یہ ایسے ہی ہے کہ کوئی قرآن کی صرف ایک آیت لے کر کسی حکم کو ثابت کر ڈالے اور اس مضمون سے متعلقہ دیگر آیات کو نظر انداز کر دے۔ اسے قرآن سے بھی صرف گمراہی ہی ملے گی۔ کیونکہ شرعی مسائل کے حل کے لئے اس موضوع کے تعلق سے تمام شرعی فرامین پر نظر ہونی ضروری ہے۔ کسی بھی شرعی مسئلے میں‌ کسی بھی شخص کے لئے کوئی رائے قائم کرنے سے قبل سب سے پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ ہمارے لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین شرعی حجت ہیں یا نہیں۔ ایک بار یہ طے ہو جائے اس کے بعد ہی آپ کسی مسئلے پر کوئی رائے قائم کرنے کے اہل ہو سکتے ہیں۔
طرفہ تماشہ تو یہ ہے کہ جب انہی احباب سے کہا جائے کہ جی نماز کا مکمل طریقہ صرف قرآن سے ثابت کر دیجئے تو پھر انہیں ‌امت کا تعامل اور حرمین شریفین کا مرکز ہدایت ہونا یاد آ جاتا ہے۔ اور جب دیگر شرعی مسائل کی بات ہو تو نہ تو چودہ صدیوں کا تعامل ہی نظر آتا ہے اور نہ حرمین شریفین کے فتاویٰ ‌ہی کی کوئی اہمیت رہتی ہے۔ اسے کہتے ہیں ‌میٹھا میٹھا ہپ ہپ۔ احادیث‌کا مکمل انکار بھی نہیں‌کرتے کہ جانے کب کہاں‌ ضرورت پڑ جائے تو موقف کی تائید میں ‌پیش کی جا سکیں ‌اور مکمل قبول بھی نہیں‌کرتے کہ پھر قرآن کی تفسیر جس ذہنی عیاشی سے کی جا رہی ہے وہ ممکن نہیں ‌رہتی اور اسلام کو دور جدید کے حساب سے ماڈرنائز کرنا ممکن نہیں‌ رہتا۔ اغیار کی فکری غلامی میں ‌مبتلا ان حضرات کو اسلام کی ہر وہ شے دریا برد کرنے لائق نظر آتی ہے جس پر اہل مغرب ہنستے ہوں ‌اور انگلیاں‌ اٹھاتے ہوں۔ دفاع اسلام کی جرإءت کا فقدان ، انہیں ‌آسان رستے کی طرف لے جاتا ہے کہ جہاں‌ مبادیات اسلام کا انکار ہی کر ڈالتے ہیں‌۔
آخر کوئی اس سوال کا جواب کیوں‌نہیں ‌دیتا کہ ہم قرآنی آیات کی وہی تفسیر کیوں ‌مانیں‌ جو یہ منکرین حدیث‌کرتے ہیں؟ جبکہ ان کا زہد و تقویٰ ، اہل مغرب سے مرعوبیت ہم سب کے سامنے ہے اور ہم وہ تفسیر کیوں ‌نہ مانیں‌جس کی تائید میں‌سینکڑوں‌صحیح‌ احادیث‌ہوں، حرمین شریفین کے فتاویٰ ہوں اور امت کے علمائے کرام کی اکثریت کا اتفاق ہو؟ اور جس کے لئے ہم ہر نماز میں‌دعا کرتے ہوں‌کہ یا اللہ! ہمیں‌ سیدھا رستہ دکھا، ان لوگوں کا رستہ جن پر تو نے انعام و اکرام کیا ۔ کیا نبی (صلی اللہ علیہ وسلم)، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین، تبع تابعین رحمہم اللہ، فقہائے امت اور محدثین کرام رحمہم اللہ اجمعین، کا رستہ چلنے میں ہمیں تو خوب اطمینان ہے کہ ان شاءاللہ یہی رستہ انعمت علیھم کا ہے۔

محترم شکاری بھائی ! اتنی لمبی تقریر کی بجائے وہ تفسیر ‌جس کی تائید میں ‌سینکڑوں‌صحیح‌ احادیث ‌ہوں، ان میں سے کچھ صحیح‌ احادیث یہاں لکھ دیں !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-01-12, 08:12 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
ایک عدد ایسی خلاف قرآن حدیث پیش کیجئے جو کسی خلیفہ کی عدالت میں پیش کی گئی ہو مع دو عدد گواہان کے اور پھر ان خلفاء راشدین نے ان احادیث کو کتاب کی صورت میں لکھوایا ہو۔ حدیث کی صحت کا معیار ۔۔۔ قرآن ہے ۔ لیکن قرآن کی صحت کا معیار ۔۔۔ کوئی خلاف قرآن سنی سنائی ، غیر ثابت شدہ روایات نہیں ۔

کیا وجہ ہے کہ حدیث پرستوں‌کے پاس خلاف قرآن روایات کا قرآن حکیم سے کوئی ثبوت موجود نہیں ؟؟؟
اب آپ درست بات تک پہنچے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ قرآن فہمی کے لئے حدیث‌ پیش کی جائے تو اس کے لئے تو بڑی کڑی شرائط ہیں‌آپ کی نظر میں۔ لیکن اسی قرآن فہمی کے لئے آپ اپنی عقل سے کوئی مفہوم متعین کر دیں‌تو بس امت آپ کے پیش کردہ مفہوم ہی کو عین قرآن سمجھ کر آمنا و صدقنا کہہ دیا کرے؟ یا اس پر بھی کچھ شرائط لاگو ہوتی ہیں؟

موجودہ موضوع کی مثال لیجئے۔ قرآن کریم نے وضاحت کے ساتھ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی معجزانہ ولادت کو بیان فرمایا ہے:

قَالَتْ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ قَالَ كَذَلِكِ اللّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ
(آل عمران:‌47)

ترجمہ احمد علی: مریم نے کہا اے میرے رب! مجھے بیٹا کیسے ہو گا حالانکہ مجھے کسی آدمی نے ہاتھ نہیں لگایا فرمایا اسی طرح الله جو چاہے پیدا کرتا ہےجب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے

ترجمہ شبیر احمد: مریم نے کہا (ہائے) میرے رب! کہاں سے ہوگامیرے ہاں بچّہ جبکہ نہیں چھُوا ہے مجھے کسی مرد نے۔ جواب دیا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہے۔ جب فیصلہ کرلیتا ہے وہ کسی امر کا تو بس حکم دیتا ہے اسے کہ ہو جا اور وہ ہوجاتا ہے۔

ترجمہ فتح محمد: مریم نے کہا پروردگار میرے ہاں بچہ کیونکر ہوگا کہ کسی انسان نے مجھے ہاتھ تک تو لگایا نہیں فرمایا کہ اللہ اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے۔

یاد رہے کہ حضرت عیسیٰ کے تعلق سے عیسائیوں میں تین عقائد مشہور تھے۔ ابنیت، تثلیث، الوہیت۔ اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ ولادت ہی کی وجہ سے انہیں الٰہ اور اللہ کا بیٹا قرار دیا کرتے تھے۔ (نعوذباللہ) اور تثلیث کے عقیدہ کی جڑ بھی یہی تھی۔ اب کمال تو یہ ہے کہ قرآن نے تثلیث اور الوہیت کے عقیدہ کی جگہ جگہ تردید کی ہے۔ لیکن بن باپ معجزانہ ولادت کا جو عقیدہ تھا، اس کی تردید کہیں نہیں کی گئی۔ بلکہ درج بالا آیت کے علاوہ بھی دیگر آیات سے اس عقیدہ کی پرزور تائید ملتی ہے۔ کیا یہ آسان نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ صرف حضرت عیسٰی علیہ السلام کے والد کا ذکر فرما دیتے کہ وہ تو فلاں کا بیٹا تھا، نہ کہ اللہ کا۔ اس سے تثلیث کے عقیدہ پر بھی کاری ضرب لگتی، عقیدہ الوہیت بھی اپنی موت مر جاتا۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا، کیونکہ ان کی ولادت واقعی معجزانہ طور پر ہوئی تھی۔ اور پھر قرآن جگہ جگہ انہیں عیسیٰ ابن مریم پکارتا رہتا ہے۔ اور یاد رہے کہ عیسیٰ ابن مریم بطور کنیت کے نہیں پکارا گیا، بلکہ بطور نام کے پکارا گیا ہے۔ ۔قرآن کے الفاظ یہ ہیں:
اسْمُہُ الْمَسِیحُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ
لہٰذا قرآن نے ان کا نام ہی عیسیٰ ابن مریم رکھا ہے اور پورے قرآن میں جگہ جگہ انہیں المسیح ابن مریم ، عیسیٰ ابن مریم پکارا گیا ہے، کہیں ایک جگہ بھی انہیں ان کے باپ کے نام سے نہیں پکارا گیا،اگر عیسائیوں کا حضرت عیسیٰ کی معجزانہ ولادت کا یہ عقیدہ غلط ہوتا، تو کیا یہ انداز بیان ان کے عقیدہ کو تقویت نہیں پہنچاتا؟ جبکہ قرآن ہی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ، الآیۃ
انہیں ان کے اصلی باپوں کے نام سے پکارو الله کے ہاں یہی پورا انصاف ہے۔

اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے والد ہوتے ، تو کیا قرآن خود اپنی ہی مخالفت کرتا؟ اور انصاف کے بالمقابل تو ناانصافی ہی ہوتی ہے، کیا آپ نا انصافی کی نسبت اللہ کی ذات کی جانب کرنے کی ہمت کر سکتے ہیں؟

سورہ مریم آیت ۳۲ میں حضرت عیسٰی فرماتے ہیں کہ:
وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا
اور (مجھے) اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور سرکش وبدبخت نہیں بنایا

جبکہ حضرت زکریا علیہ السلام کے فرزند کے متعلق اسی سورہ مریم آیت ۱۴ میں فرمایا گیا:
وَبَرًّا بِوَالِدَيْهِ وَلَمْ يَكُن جَبَّارًا عَصِيًّا
اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے اور سرکش اور نافرمان نہیں تھے

اب ذرا تصور کیجئے کہ عیسائیوں کا پہلے سے عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے والد نہیں تھے بلکہ وہ معجزانہ طور پر پیدا ہوئے اور اسی لئے وہ انہیں اللہ کا بیٹا تسلیم کرنے لگے (نعوذباللہ)۔ اور پھر قرآن کی درج بالا آیات ملاحظہ کیجئے کہ جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صرف ماں کا فرمانبردار بتایا جا رہا ہے، کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بن باپ معجزانہ ولادت کی تردید ہو رہی ہے یا اشارۃ النص سے تائید؟ کیا قرآنی آیت یا اس کا کوئی بھی لفظ سرسری گزر جانے لائق بھی ہوا کرتا ہے؟ وہ لوگ جو بیوتہن کی ضمیر سے ہی خواتین کے لئے گھروں کی ملکیت ثابت کر ڈالتے ہیں، انہیں ان نکات پر جانے کیوں غور کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔

پھر احادیث میں اسی عقیدہ کی توثیق ملتی ہے۔ چودہ صدیوں میں امت کے اکثر علمائے کرام اور امت کے کثیر فرقوں میں سے اکثریت کا نظریہ قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی معجزانہ ولادت ہی کا رہا ہے۔

اب آپ یقیناً درج بالا آیت کا ایسا مفہوم پیش فرمائیں گے کہ جس سے یہی ثابت ہوگا کہ اس آیت کا معجزانہ ولادت سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسری جانب احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے جو ہم پیش کرتے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ کون درست مفہوم لے رہا ہے اور کون غلط؟

اس جیسی آیات کی تفہیم میں منکرین حدیث کا طرز عمل ایسا ہے کہ پہلے تو آیات کا من مانا مفہوم کشید کرتے ہیں، اور پھر اس مفہوم ہی کو عین قرآن قرار دے ڈالتے ہیں۔ اور پھر اپنے اس مزعومہ مفہوم کے مخالف تمام احادیث کو ’خلاف قرآن‘ کہہ کر رد کرتے جاتے ہیں۔ جبکہ درست صورت یہ ہے کہ مثلاً ان درج بالا آیات میں آپ کے اور ہمارے درمیان اختلاف ہو گیا ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ قرآن کی ان آیات سے ہرگز معجزانہ ولادت ثابت نہیں ہوتی اور ہم انہی آیات کی روشنی میں معجزانہ ولادت کو درست سمجھتے ہیں۔ تو ایسے اختلاف میں احادیث کو آپ اپنے فہم کے مخالف ہونے کی وجہ سے خلاف قرآن قرار دینے کے بجائے اگر اپنے فہم کو حدیث کے تابع کر کے قرآن کو سمجھیں تو شاید کہ اللہ تعالیٰ دلوں کے قفل کھول دے اور حق بات کی قبولیت کی توفیق عطا فرما دے۔ چلیں مان لیں کہ حدیث قرآن پر قاضی نہیں ہو سکتی، تو بہرحال حدیث آپ کے فہم قرآن پر تو قاضی ہو سکتی ہے یا نہیں؟

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں سیدھا رستہ دکھا دے اور ہم میں سے جو بھی گمراہ ہو چکے ہیں، انہیں ہدایت نصیب فرما اور موت دے تو ایسی حالت میں دینا کہ ہم مومن ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (10-01-12), کنعان (11-01-12), احمد نذیر (11-01-12), حیدر Rehan (11-01-12), حسن قادری (10-01-12), عبداللہ آدم (20-01-12), عبداللہ حیدر (10-01-12)
جواب

Tags
پرستی, ولادت, معجزات, اوہام, اصرارِ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے رسیوں کی سانپ بننے کی حقیقت اور حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ ! شریف گپ شپ 163 14-01-12 09:53 PM
بھارت میں حضرت عیسیٰؑ پر فلم بنے گی جاویداسد خبریں 1 02-09-10 10:46 PM
حضرت عیسیٰ دنیا میں آئے تو مسلمان ہوں گے: قذافی جاویداسد خبریں 5 02-09-10 12:18 AM
دجال، یاجوج ماجوج، عیسیٰ (علیہ السلام) اور قیامت باذوق مطالعہ حدیث 2 15-06-09 04:03 PM
قرآن اور ولادت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام Real_Light علوم قرآن کریم 4 24-12-08 10:13 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:09 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger