| علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 2402
|
||||
| 3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا (2-76) ہم نے پیدا کیا انسان کو ملے جلے نطفے سے،، اب اس آیت کریمہ کے ساتھ تصریف آیات کی ہدایت کے مطابق إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى (13-49) کو ملا کر غور کریں سورۃ حجرات میں فرمایا کہ مذکر اور مؤنث کے میلاپ سے ہم نے انسان کو بنایا اور یہاں سورۃ الدہر میں فرمایا کہ ہم ملے جلے نطفہ کے مکسچر سے انسان کی تخلیق کرتے ہیں، اب کوئی بتائے کہ اگر بی بی مریم کے رحم میں مردانہ تخم کا نطفہ نہ ملایا گیا ہو تا تو اس آیت کریمہ میں جو تخلیق انسان کیلئے امشاج کا عمل بتایا گیا ہے اس کے مردانہ نطفے کے ساتھ خلط ملط ہونے کے بغیر تخلیق انسانی نا مکمل رہ جاتی ہے نیز اس طرح سے تو اللہ کے قانون تخلیق میں تبدیلی بھی آجاتی ہے (13-49) جو کہ محال ہے (30-30) اب اس آیت کریمہ ( من نطفۃ امشاخ) (2-76) سے ثابت ہو گیا ہے کہ بی بی مریم نے شادی کی ہے اور جناب عیسیٰ علیہ السلام بن باپ کے پئدا نہیں ہوئے، اور ماں باپ دونوں کے نطفوں سے جو امشاج کا خلط ملط والا پراسیس ہے وہ عمل میں آیا ہے جب ہی تووہ پیدا ہوئے ہیں جس طرح سارے انسانوں کی بات قرآن نے بتائی،، اگر مافیائی امامی علوم والوں کے بقول جناب عیسیٰ علیہ السلام بن باپ کے پیدا ہوئے ہوتے تو یقینا اللہ عزو جل اس قانون تخلیق کہ من نطفة امشاج کے جملہ کے بعد الاعیسیٰ کی استشنیٰ ضرور لگاتے اور آیت یا ایھاالناس انا خلقنا کم من ذکرو انثیٰ کے اعلان کے ساتھ اسکے فوراْ بعد بھی الاعیسیٰ کی استثنیٰ ضرور لگاتے اسلئے کہ قرآن کسی بھی اہم بات کو کبھی بھی نہیں بھولے۔ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ اللہ پاک نے پھر جناب عیسیٰ علیہ السلام کے تذکروں میں تقریبا ہر موقعہ پر اسکی کہانی میں طفولیت والی عمر کے مہد کا ذکر اور صبی لفظ سے تعارف، ابن مریم کی کنیت سے تعارف، پھر کہولت والی عمر میں لوگون سے کلام کا ذکر اور رفع کا یہ ایسا تو تعارف کرایا ہے جس سے بجا طور پر لوگوں کو اسکی غیر فطری پیدائش اور بچپنے میں نبوت کے ملنے پھر آسمان پر اٹھائے جانے پھر وہاں سے نیچے آنے کے جملہ قصوں کو سہارے مل جاتے ہین تو اللہ پاک نے انکو یہ مواقع کیوں دئے؟۔ محترم قارئین! قرآن حکیم کی تعبیرات پر اصل میں امامی علوم اور اسرائیلی اکاذیب نے بڑے ظلم ڈھائے ہیں ورنہ اوپر کے سوال میں پوچھے گئے عیسیٰ علیہ السلام کے تذکرہ سے متعلق محاورہ جاتی الفاظ یا مہد، صبی، کہولت اورانی رافعک الی یہ سب ایسے تو الفاظ ہیں جو اصل میں انکے اندر گہرائی سے اگر غور کیا جائے تو حقیقت میں انکی معانی سمجھنے کے بعد عیسیٰ کے ابن اللہ، اللہ کے بیٹے ہونے کی نفی ہوتی ہے عیسیٰ کے خود خدا ہونے کی نفی ہوتی ہے جبکہ قرآن حکیم کا یہ مقصود اور غرض بھی بہت ہی بڑی ضرورت والا ہے کہ عیسیٰ کو جسے لوگ اسکی مان پر گالیان دین کہ یہ ناجائز تعلقات سے پیدا ہوا ہے اسکے رد میں خاص عیسیٰ کیلئے یہ کہنا کہ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ (45-3) مطلب کہ یہودیوں نے عداوت اور بغض میں جو تصورات عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف پھیلائے اور عیسائیوں نے جاہلانہ عقیدت میں آکر اسے ابن اللہ اور آسمان پر رہنے والا قرار دیا پھر مسلم امت نے قرآن سے ہٹ کر جو اسرئیلیات اور فارسی امامیات کے مکسچر کو اپنا مذہب بنایا تو ان سب کے لئے جناب عیسیٰ کا تعارف اسطرح کا لازم ہوا جو آپ قرآن میں دیکھتے ہیں کہ جس آدمی کی پیدائش اور آدمیوں کی پیدائش کی طرح ہو، پھر اسپر عام آدمیوں کی طرح مہد کا دور آئے اسکے بعد وہ کہولت کی عہد کو پہنچے وہ اللہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ نَحْنُ خَلَقْنَاكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ أَفَرَأَيْتُم مَّا تُمْنُونَ أَأَنتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ (57-تا 59-56) ان آیات کریمہ پر غور فرمائیں کہ اللہ عزوجل منکرین بعث بعد الموت کو خطاب فرماتے ہوئے اپنے قانون تخلیق کی وضاحت فرمارہا ہے کہ کیا تم لوگ یہ حقیقت نہیں دیکھ رہے ہو کہ جب تم (مؤنث میں) نطفہ ڈالتے ہو، پھر اسکی تخلیقی تکمیل تم کرتے ہو یا ہم؟ جناب قارئین! اللہ نے ان آیات کریمہ میں جو تخلیق انسان کیلئے مرد کے نطفہ کو عورت کے رحم میں پہنچانا لازمی قرار دیا تو کوئی بتائے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کی پئدائش کے وقت اللہ کے اس دائمی اور ابدی قانون تخلیق کے منسوخ ہونے یا عیسی کی تخلیق کے ملتوی ہونے یا مرفوع ہونے یا مستثنی ہونے کا ان لوگوں کے پاس کیا دلیل ہے؟ جو لوگ یہودیوں کے اتباع میں جناب عیسیٰ علیہ السلام کو بن باپ کے پئدا ہونے کی گالی دے رہے ہیں اور بی بی مریم کو بغیر نکاح والے شوہر سے بیٹا جننے کی گالی دے رہے ہیں، اگر یہ توہم پرست پجاری ذہنیت والے مسلم لوگ بن باپ کے کسی کے پئدا ہونے کو کرامت اور معجزہ قرار دیتے ہیں تو پھر مذکورہ آیات میں عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی استثنی بھی تو دکھائیں، کیونکہ قرآن تو نہایت مفصل کتاب ہے۔ (1-11) سو اللہ سے ایسی اہم استثنیٰ اور وضاحت کیونکر رہ گئی۔ أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ (36 تا 38-75) ان آیات کریمہ میں بھی انسان کے قانون تخلیق کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ کیا انسان نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ اسے ایسے ہی بے مقصد چھوڑدیا جائے گا، (اسے خبر نہیں ہے کہ اسکی اصلیت تو یہ تھی کہ) وہ ایک ایسا نطفہ تھا جو (رحم مادر میں ڈالا گیا) پھر اسے لوتھڑے کے مرحلہ میں لاکر درست کیا گیا۔ ہم درس نظامی کے دستار بند علامہ اور مولویوں سے با ادب سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ اس آیت کریمہ میں بتائے ہوئے تخلیقی قانون میں پئدائش عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی استثنیٰ دکھ اسکتے ہیں؟ کہ اسکی پیدائش اس آیت کریمہ میں بتائے ہوئے قانون سے ماورا ہے۔ وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ ( 12 تا 14: 23) جناب قارئین! ان اٰیات مکرمہ میں بھی تخلیق انسان کے قانون کی تفصیل بتائی گئی ہے اور آیت تیرہ میں بتایا گیا ہے کہ ہم نے اس انسان کو اسکی ابتدائی آفرینش میں ایسا تو نطفہ بنایا جو ایک محفوظ جگہ میں (رحم مادر میں) قرار پذیر ہوا، کیا کوئی فاضل درس نظامی مولوی صاحب اس آیت کریمہ میں بتائے ہوئے تخلیق انسان کے قانون سے جناب عیسیٰ علیہ السلام کی پئدائش کو بغیر نطفہ نرینہ کے ثابت کرکے ایسا کہیں ثبوت دکھا سکتا ہے؟ یا اس قانون سے تخلیق عیسیٰ کی اسثنی دکھا سکتا ہے۔ جو لوگ بزعم خویش مفسر قراٰن اور خبر نہیں کن کن علمی القاب کے دعویدار ہیں انکا یہ فرمان ہے کہ بی بی مریم کو جو عیسیٰ علیہ السلام کا حمل ہوا ہے وہ اسے جبریل کی پھونک سے ہوا ہے۔ جناب قارئین! مجھے تو ان نام نہاد اماموں اور علاموں کی عبارتیں نقل کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے اوپر آپ نے ایک حوالہ تو بیضاوی کا پڑھا، اب دوسرا حوالہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا اسکی کتاب تاویل الاحادیث فی رموز قصص الانبیاء،، اردو ترجمہ مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی، شایع کردہ شاہ ولی اللہ اکیڈمی حیدرآباد سندھ کا ملاحظہ فرمائیں کتاب کے صفحہ نمبر 140 پر لکھتے ہیں کہ پھر حضرت مریم کو اس جگہ روحانی قوتوں کے ساری و جاری ہونے کے زمانے میں ماہواری کے دن آئے جب ان سے پاک ہوئیں تو لوگوں سے دور ایک الگ مکان میں غسل کرنے کے لئے گئیں اور پردہ ڈال کر کپڑے اتارے اللہ تعالیٰ نے انکی طرف ایک کامل خلقت جوان کی صورت میں جبریل کو بھیجا جو جوانی اور خوبصورتی سے بھرا ہوا تھا حضرت مریم نے ان کو دیکھا اور خود بھی جوان اور قوی مزاج والی تھیں، ان کو اپنے نفس پر فساد کا ڈر لاحق ہوا اور دل سے اللہ کے حضور میں دعا کی کہ انکی عصمت پر کوئی حرف نہ آئے پھر انکو ایک عجیب حالت پیش آئی طبیعت میں قوائے نسلیہ کا ہیجان ہوا اور اس سے وہ لذت کی کیفیت پیدا ہوئی جو جماع کے وقت ہوتی ہے، جیسے کبھی کسی کو دیکھنے سے انزال ہو جاتا ہے۔ جناب قارئین اس صفحہ کی آخری سطر ہے کہ حضرت جبریل نے جب انکو اس حال میں دیکھا، تو ان کے ستر میں پھونک ماری، اس پھونک سے ان میں تاثر ہوا اور ان کو انزال ہوگیا حضرت مریم کے نطفہ میں مرد کے نطفے جیسی قوت تھی اس لیے وہ حاملہ ہوگئیں، (اقتباس کو یہان تک ختم کرتے ہیں) اب پڑھنے والے اپنی سوچ، غور و فکر سے کام لیتے ہوئے اوپر قرآن حکیم سے قانون تخلیق کے کئی سارے قواعد جو مکمل حوالہ جات سے میں عرض کر چکا ہوں ان پر بھی غور فرمائیں بشمول شاہ ولی کی خرافات کے اور فارس کے اماموں کی فلاسفی پر بھی غور فرمائیں اپنا منہ اپنا طمانچہ یا اپنا سر اپنا جوتا،، کوئی بتائے کہ میں شاہ ولی اللہ کو جاہل کیسے لکھوں یہ فارس کافر ستادہ علامہ اتنا بھی نہیں جانتا کہ نفخ روح یعنی پھونک انسان کے اندر مونہ کی طرف سے پھونکی جاتی ہے اس نے جو لکھا ہے کہ جبریل نے بی بی مریم کو ستر کی جانب سے پھونکی، ستر کی جانب سے تو عورت کی رحم (بچہ دانی) ہوتی ہے اور رحم کا مونہ نیچے ہوتا ہے اور رحم محل ہے نطفہ کاہے روح لطیف ہے اور نطفہ غلیظ ہے نطفہ کا محل رحم اسلئے ہے کہ وہاں عورت اور مرد کے نطفہ کا امشاج والا پراسیس روبعمل ہو کر ہی بچہ وجود پائے گا، انسان کے حیوانی پہلو کے لئے نر و مادہ کے نطفہ کا امتزاج ضروری ہے، شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنے فلسفہ میں گویا کہ الگ سے نرینہ نطفے کا انکار لکھا ہے جو کہ اللہ کے قانون تخلیق (13-49) کے خلاف ہے۔ بی بی مریم کے قول فاشارت الیہ کے بعد یہودی مولویوں کو عیسیٰ علیہ السلام کا جواب قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا (30-19) حقیقت میں جن یہودیوں نے بی بی مریم پر زنا کی تہمت لگائی تھی تو وہ بھی گالی دیتے وقت عیسٰی کو بن باپ کے بے پدر نہیں کہہ رہے تھے، انکی تہمت اور گالی جب گالی بنتی ہے اور جب تہمت بنتی ہے جب عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت انا خلقنا کم من ذکرو انثیٰ کے پراسیس کے مطابق ہوئی ہوتی۔ اگر ولادت عیسیٰ لم یمسسی بشر کے باوجود ہوئی ہے یعنی مریم کو شادی کرنے کے سواء بغیر کسی مرد سے میلاپ کے اسے بچہ پیدا ہوا تھا، تو پھر یہودیوں کی گالی بی بی صاحبہ کے کھاتے میں نہیں ہوسکتی۔ اور یہودیوں کا بی بی صاحبہ کو گالی دیتے وقت یہ کہنا کہ وما کانت امک بغیا یعنی تیری ماں تو ایسی غیر قانونی نکاح اور شادی کرنے والی باغیہ نہیں تھی، اس جملہ میں بھی گالی دینے والے یہودی لوگ بی بی مریم کو علانیہ کہہ رہے تھے کہ تجھے یہ بیٹا بن باپ کے پیدا نہیں ہوا، یعنی یہودی لوگ گالی دیتے وقت یہ یقین رکھتے تھے کہ مریم نے ضرور شادی کی ہے اور وہ عیسیٰ کے باپ سے پیدا ہونے کا تو یقین رکھتے تھے لیکن وہ اسے اپنے ہاں مروج قوانین شادی بیاہ کے خلاف تصور کرتے تھے جبکہ جو میلاپ بی بی مریم کا اپنے شوہر سے اپنے مذکر انسان خاوند سے ہوا تھا وہ اللہ کے قانون کے عین مطابق اور موافق ہو ا تھا۔ میں نے جو یہاں یہ عرض کیا ہے کہ بی بی صاحبہ نے اپنے شوہر سے اللہ کے قانون ازدواجیت کے مطابق شادی کی ہے اسکا ثبوت تو وہیں اسی موقعہ پر گالی دینے والے یہودی ملاؤں کی بکواس کا جواب بی بی صاحبہ نے فاشارت الیہ سے خود اپنے فرزند جو اس وقت تک وہ نبی بھی بن چکا تھا اس سے دلایا اور وہ جواب یہ تھا کہ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا (30-19) یعنی خود کو بڑا پھنے خان کہنے والے فریسیو! بک بک مت کرو میری مان کا نکاح میرے والد سے جائز اور اللہ کے قانون کے مطابق ہوا ہے، میری ماں کو تمہارے خود ساختہ خلاف علم وحی کے جھوٹے قوانین سے ٹکر کھانے اور انکو رد کرنے کے جرم میں اسے بغیرجائز نکاح کرنے والی کہنے والو! شرم کرو حیا کرو کہ تم یہ خرافات کس کے سامنے بک رہے ہو تمہیں پتہ نہیں ہے کہ مجھے اللہ نے نبوت عطا فرما کر صاحب کتاب بھی بنا دیا ہے، اب جائز و ناجائز حلال و حرام کیلئے تمہاری فتوے بازی کے دن بیت گئے، تمہاری یہ مجال کہ میرے سامنے تم میری ماں کے نکاح و شادی کو غلط ٹھرا رہے ہو!! میری ماں کی شادی و نکاح پر تمہارے ہیکل اور چرچ کی فتوائوں کو میں ردی کی ٹوکری کے لائق قرار دیتے ہوئے اعلان کرتا ہوں کہ میں صاحب شریعت نبی بننے کے بعد اللہ کی جانب سے ماٗمور ہوں کہ وبرا بوالدتی (۳۳-19) میں اپنی والدہ سے اسکے شان و مرتبت کے مطابق اسکے ساتھ شاندار سلوک کی تقاضاؤوں کو قائم رکھوں ۔ میری مقدس اور پارسا ماں کو لقد جئت شیئا فریا، کا بہتان لگانے والے مکار فریسیو! تمہاری پارسائی کی پگڑیوں کو علم وحی نے تار تار کرکے دنیا والوں کو بتادیا ہے کہ تم خانقاسیت کے جبہ پوش خلق خدا پر جبر کرنے والے تخت شاہی کے بدبخت قسم کے ایجنٹ اور دلال ہو، اور تمہارے مقابلہ میں اللہ نے مجھے یہ اعزاز دیا ہے کہ وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا (32-19) نہ مجھے جابر بنایا ہے نہ ہی تم جیسا بدبخت!! اللہ نے یہ اعزاز صرف اکیلے مجھ کو نہیں دیا، لیکن تمہاری بکواسوں کو تمہارے منہ پر مارنے کیلئے میری ماں کی پارسائی ثابت کرنے کیلئے مہبط وحی سے بھی اعلان کرایا اور زبان وحی سے شاہدی دلائی کہ وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ (12-66) یعنی عمران کی بیٹی مریم نے اپنی عصمت کو نکاح اور شادی کے ذریعے محفوظ رکھا پھر اسے جو اپنے شوہر سے حمل ہوا تو ہمنے اس حمل والے بچے میں اپنا روح پھونکا، تو اے بدبخت فریسیو! تم لوگ میری ماں کےا س نکاح اور شادی کو اپنے خود ساختہ قوانین کے خلاف قرار دے رہے ہو! حیا کرو! مریم تو وہ بے باک اور نڈر جرتمند عورت ہے جسنے صدقت بکلمات ربھا و کتبہ تمہارے فرسودہ قوانین ازدواجیت، جن میں عورتوں کی تذلیل اور تحقعر ہوتی تھی، تمہارے قوانین میں عورتوں کو بے بس اور بے اختیار بنایا ہوا تھا، جو جسطرح مرد لوگ عورتوں کی قسمت کے فیصلے کیا کریں تو ان سے کوئی پوچھنے والا ہی نہ ہو۔ سو مریم نے تمہاری قوانین پر اجاری داری کو پاش پاش کرکے جو اپنی پسند اور اختیار سے شادی کی تھی اسکیلئے اسکا میں اللہ گواہ ہوں کہ اسنے صدقت بکلمات ربھا و کتبہ اسنے اللہ کے فیصلوں اور قوانین کی اپنے عمل سے تصدیق کرکے تمہاری احبار ورہبانیت والی مسندوں کو اکھاڑ پھینکاہے، سو مریم پر بہتان لگانے والے مکار عبا و قبا پوشو! سن لو کہ مریم کانت من القانتین، مریم میرے قوانین کی اطاعت کرنے والے فرمانبرداروں میں سے تھی۔ اس مقام پر زبان وحی نے مریم کیلئے صیغہ جمع مؤنث یعنی وکانت من القانتات استعمال کرنے کے بجاء وکانت من القانتین جمع مذکر کا اسلئے استعمال فرمایاہے اس ترکیب سے اللہ عزوجل فریسی یہودیوں مولویوں کو بتارہا ہے کہ عورت مریم بھی اپنی پارسائی میں مردوں کے برابر ہے کم نہیں ہے، مجھے مسلم امت کے علماء کی عقلوں پر افسوس ہوتا ہے کہ وہ لوگ یہودی علماء کے مریم پر بہتان کا جواب، جو مریم جب اپنے بیٹے رسول اور نبی سے دلا رہی ہے تو عیسیٰ علیہ السلام کی جواب والی عبارت کہ میں نبی ہوں اور قانون کی کتاب (انجیل) مجھے دے گئی ہے، اسکی تطبیق پر کیوں غور نہیں کرتے؟ یہ جواب تو صاف صاف یہودی مولویوں کی تہمت طرازی کا رد ہے، جسمیں وہ مریم کی شادی کے قانونی جواز کو چئلنج کر رہے تھے، یہودیوں کے موقف میں اس وقت عیسیٰ کے بن باپ کے پیدا ہونے کا شائبہ تک نہیں تھا،، ان یہودی ملاؤں کو صرف یہ حسرت تھی کہ مریم نے ان پنڈتوں میں سے کسی کے ساتھ شادی کرنے کے بجاء درکھان کے ساتھ شادی کیوں کی،، ان کی اس بدباطنی کو تو اللہ پاک آیت کریمہ (44-3) میں ننگا کر چکا ہے کہ جب شروع میں مریم نے ہیکل میں تعلیم و تربیت کیلئے داخلہ لیا تو یہودی مولویوں کی مریم کا حسن دیکھ کر بانچھیں بکھر کر بالٹی بنگئیں تھیں انہیں میں کا ہر ایک سیکسی بھیڑیا کہہ رہا تھا کہ ایھم یکفل مریم یعنی کفالت کیلئے مریم کس کے حصے میں آئے؟ قرآن نے فرمایا کہ انکے اس جھگڑنے کی نوبت قرعہ اندازی پر جا پہنچی تھی (44-3) یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ اس رسہ کشی میں جناب ذکریا علیہ السلام شریک و شامل نہیں تھے وہ اللہ کے نبی تھے قرآن حکیم نے فرمایا کہ مریم کی ماں کی طرف سے بیٹی کی اللہ کے دین کیلئے اس قربانی کو ہمنے قبول کیا اور مریم کی پرورش اور تربیت ایسی کی جو وَأَنبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا (3:37) ہم نے مریم کی کفالت اپنے نبی زکریا کی نگرانی میں کرائی اور وہ نگرانی بھی ایسی جو جسطرح نرم و نازک پودا جب اپنی کونپلیں نکالتا ہے اور مالی اسے نا موافق ہوائوں اور موسموں کی خزائوں سے بچانے کے کئی حیلے کرتا ہے اس طرح زکریا بھی مریم کو ان پودوں کی طرح ہیکل کے باسیوں کی ہوس کاریوں سے بچانے والا تھا۔ Birth and Death of Jesus Christ Isa از قلم: عزیز اللہ بوہیو اقتباس:
کرسمس، چند شبھات کا ازالہ Last edited by کنعان; 20-01-12 at 09:44 PM. وجہ: Re.organised |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
غرض و غایت
دنیا میں قدرتی عجائبات اس قدر ہیں کہ انسان نہ ان کو سمجھ سکتا ہے ۔ نہ گن سکتا ہے دن کا ہونا۔ رات کا آنا۔ چمکدار سورج کا نکلنا۔ باریک چاند کا دکھائی دینا۔ اور پھر بڑھتے جانا بدر ہونا اور اپنی چاندنی سے اندھیری دنیا کو روشن کرنا۔ پھر گھٹتے جانا اور پہلی طرح باریک ہو کر چھپ جانا کیا عجائبات قدرت نہیں؟ کالی گھٹا کا اٹھنا ، بڑے بڑے پہاڑوں سے بھی بڑے دَل بادلوں کا جمع ہونا۔ ہوا کے جھونکے سے ادھر اُدھر دوڑتے پھرنا۔ بجلی کا چمکنا۔ دل کو ہلانا۔ مینہ کی توقع سے دل خوش کرنا پھر مینہ کا برسنا۔ اولوں کا پڑنا۔ بادلوں کا گرجنا اور بجلی کا چمکنا کیا عجائبات قدرت سے نہیں؟ درختوں کا اگنا۔ ان کے ہرے ہرے پتوں کا نکلنا رنگ برنگ کے پھولوں کا پھولنا۔ دختوں کی شاخوں میں طرح طرح کے میووں کا لٹکنا پھر ان کے مزوں کا مختلف ہونا کیا عجائبات قدرت سے نہیں؟ پرندوں کا ہوا میں اڑنا۔ آسمان و زمین میں معلق رہنا۔ بئے کا عجیب طرح پر گھونسلا بنانا۔ شہد کی مکھی کے کرتب کرنا۔ اس کا نہایت اعلیٰ اصولِ اقلیدس پر چھتا بنانا۔ پہاڑوں پر اور اونچی اونچی جگہوں پر لگانا۔ ہر ایک قسم کے مفید پھولوں سے رس چوس کر لانا مختلف رنگوں کا شہد تیار کرنا کیا عجائبات قدرت سے نہیں؟ گائے بھینس اور لال گائے۔ بکری جن کے پیٹوں میں جنگل کا چارا سڑ کر بھرا ہوتا ہے سفید اور شیریں۔ مزے دار اور قوت بخش دودھ کا نکلنا اس سے ان کے بچوں کی پرورش ہونا اور انسان اور اس کے بچوں کے لئے نہایت عمدہ اور مفید غذا کا ہونا کیا عجائباتِ قدرت سے نہیں؟ خود انسان کا بلکہ تمام حیوانات کا پیدا ہونا۔ انڈے سے مرغی اور مرغی سے انڈے کا پیدا ہونا پھر ان کا دلکش آوازوں سے بولنا اور چہچہانا انسان کا اپنے قوائے عقلی اور دماغی سے ایسے اعلیٰ درجے پر پہنچنا اور اشرف المخلوقات خطاب پانا کیا عجائباتِ قدرت سے نہیں؟ چونکہ یہ باتیں روز مرہ دیکھنے میں آتی ہیں۔ ان کا عجیب بلکہ عجیب تر ہونا انسان کے خیال میں نہیں رہتا اور اس سے ذہول ہو جاتا ہے۔ لیکن جب وہ کسی مذہب پر اعتقاد لاتا ہے۔ یا کسی شخص کو مقدس سمجھتا ہے اور جو عجائبات اس کے ساتھ لگائے گئے ہیں ان سب کو قبول کرتا ہے تب یہ تسلیم ہوتا ہے کہ یہ آدمی نہایت دیندار اور مذہبی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب اسلام میں بھی لوگوں نے بہت سے عجائبات شامل کر دئیے ہیں جو قابل یقین نہیں ہیں کیونکہ ان کی کوئی اصل کتاب و سنت میں نہیں۔ رفتہ رفتہ لوگوں کے خیال میں یہ بات جم گئی کہ عجائبات کے بغیر نہ مذہب چلتا ہے اور نہ لوگ ایسے مذہب کو جس میں یہ فرضی عجائبات نہ ہوں قبول کرتے ہیں۔ مگر یہ سخت غلطی ہے ۔ کوئی مذہب جو سچا ہے اور سچا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس میں کبھی ایسے عجائبات نہیں ہوتے جو فرضی ہوں اور فطرت انسانی کے خلاف ہوں۔ اور کوئی سمجھ دار آدمی ان کو تسلیم نہ کرے۔ بلکہ اصلی اور سچا مذہب ایسے عجائبات خلاف فطرت اور خلاف عقل سے بالکل پاک اور خالی ہوتا ہے اگرچہ بعد کو اس کے ماننے والوں نے عجائبات پرستی کی راہ سے اس میں بہت سے عجائبات شامل کر لئے ہوں۔ مذہب اسلام جو صحیح معنوں میں دین فطرت ہے کی نسبت ہم دلی یقین کرتے ہیں کہ وہ ایسی عجیب کہانیوں اور حیرت انگیز خلاف عقل اور خلاف فطرت باتوں سے بالکل پاک ہے اور اس میں جس قدر حصہ ان فرضی عجائبات کا ہے وہ ان عجائبات پرستوں کا شامل کیا ہوا ہے جو قدرت کے عجائبات کا ذہول کرتے ہیں اور خلاف عقل اور خلاف فطرت عجائبات کو قبول کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان عجائبات پرستوں سے بچائے۔ آمین جنس انسان اول کی پیدائش اس قادر مطلق اللہ نے جس طریقہ سے مناسب سمجھی ہے جس کا علم بجز ذات باری تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں ہے ہمیں تو صرف اور صرف اس کے بتانے سے معلوم ہوا کہ تمام کائنات میں سے جو اللہ ہی کی مخلوق ہے انسان کو احسن تقویم پیدا کیا ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ میں نے انسان اول کو اپنے ہاتھ (قدرت) سے بنایا اور اس میں اپنی تخلیق کی گئی روح پھونک دی اور اس کائنات کی تمام مخلوقات کا سیدو سردار اس کو بنا دیا اور اس جنس انسان اول میں نسل انسانی کی بقا کے لئے توالد و تناسل کا سلسلہ قائم کر دیا اور اعلان فرمایا کہ یہ جنس انسان اول میر ا فعل ہے اور اس کے لئے توالد و تناسل کا سلسلہ میرا قول بھی ہے اور فعل بھی اور میرے فعل اور قول میں تبدیلی کا امکان نہیں لہٰذا نسل انسانی کی پیدائش نطفہ سے جاری ہے اور اسی سے جاری رہے گی۔ جیسا کہ قرآن مجید میں جو اللہ تعالیٰ کا قول ہے سوہ نحل آیت نمبر ۴ میں فرمایا: ’’اس نے انسان کو ایک قطرہ منی سے پیدا کیا پھر وہ ایک جھگڑنے والا اور ابھرنے والا ہو گیا۔‘‘ اس کی مزید وضاحت یوں فرما دی: (سورہ النجم آیت ۴۵،۴۶) ’’اور بلا شبہ اس نے نر و مادہ دونوں قسموں کو پیدا کیا۔ (اس) بوند سے جو ٹپکنے والی ہے۔‘‘ پھر اس کی مزید تشریح سورہ طارق (۵تا ۷) میں فرما دی: ’’پس انسان کو چاہیے وہ دیکھے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ اچھلتے پانی (کی ایک بوند ہی) سے توپیدا کیا گیا ہے۔ جو پانی پیٹھ اور سینہ (کی ہڈیوں) کے درمیان سے نکلتا ہے۔‘‘ لیکن تخلیق کا یہ ضابطہ نسل انسانی کے لئے ہے انسانِ اول کے لئے نہیں۔ یہ اور اس طرح کی دوسری آیات کریمات آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں اور مزید آگے پڑھیں گے پوری نسل انسانی کے لئے اس ضابطہ تخلیق نسل انسانی کا بیان ہے جس سے انسان (مرد و عورت) پیدا ہوئے، پیدا ہو رہے ہیں، پیدا ہوتے رہیں گے۔ جب تک اس نسل انسانی کی بقاء علم الٰہی میں موجود ہے۔ یہ قانون قدرت اس قادر مطلق نے اپنی مرضی سے بنایا اور اپنی مرضی سے اس کا اعلان فرما دیا اور اس میں کسی قسم کی کوئی استثناء نہیں فرمائی۔ قرآن مجید کی ان آیات کریمات کو بار بار پڑھیں اور خوب غور کریں آپ کسی ایک جگہ پر بھی استثنا نہیں پائیں گے۔ زمرہ علماء کو ہمارا اعلان ہے کہ جو عالم ایک قرآنی آیت میں ضابطہ تخلیق نسل انسانی سے ایک اور صرف ایک انسان کے لئے اس کی وضاحت سے جس وضاحت سے اس آیت میں ضابطہ تخلیق نسل انسانی کا ذکر کیا گیا ہے استثناء دکھا دے وہ ایک لاکھ روپے نقد انعام حاصل کرنے کے ساتھ میرے سے توبہ نامہ بھی تحریر کرا لے۔ مذاہب عالم کا مطالعہ کرنے والا یقیناً اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ ہر مذہب کے ماننے والوں نے کسی نہ کسی انسان کو ضرور اس ضابطہ تخلیق انسانی سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ لیکن کسی نے بھی کوئی ثبوت اس کا پیش نہیں کیا اور کہا تو زیادہ سے زیادہ یہ کہا کہ آدم بھی تو بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ حالانکہ آدم و حوا محض تخلیق تھے کسی کی اولاد نہیں تھے۔ بد قسمتی سے گذشتہ قوموں کی نقالی میں قوم مسلم کی اکثرت نے بھی سیدنا مسیحؑ کو اس ضابطہ تخلیق انسانی سے مستثنیٰ قرار دے کر اعلان کر دیا کہ مسیحؑ بغیر باپ کے پیدا ہوئے کسی نے جب ثبوت طلب کیا تو اس کو یوں مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ یہ ایک معجزہ ہے لیکن کسی چیز کا معجزہ ہونا بھی تو بغیر ثبوت کے تسلیم نہیں ہو سکتا۔ جب اس معجزہ کے معجزہ ہونے کی دلیل طلب کی گئی تو جھٹ الزام لگا دیا کہ یہ شخص معجزات کا منکر ہے۔ جب سب قومیں یہ کرتی آ رہی تھیں تو قوم مسلم کی اکثریت کا یہ نظریہ بھی عوام کی سطح تک تو مسلم ہو گیا لیکن علماء امت نے باوجود اس کے کہ امت کی اکثریت کو یہ نظریہ منوا لیا خود اس میں ہمیشہ مشکوک رہے اور اس شک کی بنا پر اس نظریہ کی ایسی ایسی تاویلیں کیں جن کو دیکھ کر پڑھ کر سن کر دل کانپ جاتا ہے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دماغ پگھلنے لگتا ہے اور ایسی حالت طاری ہونے کے ساتھ آدمی گہری سوچ میں ڈوب جاتا ہے۔ معاً خیال پڑتا ہے کہ جب سب اسلاف اسی طرح کہتے چلے آ رہے ہیں تو پھر ان کے خلاف سوچ کر دوزخ کا ایندھن بننا ہے؟ کسی قوم کے اسلاف کبھی غلط ہو سکتے ہیں؟ اگر اسلاف سے اعتماد اُٹھ جائے تو سارا نقشہ ہی بدل کر رہ جائے گا؟ یہی نہیں بلکہ اس پر غیر طعنے دیں گے اور اپنے تالیاں بجائیں گے اور طرح طرح کی پھبتیال کسیں گے۔ اس طرح سوچتے سوچتے ایسا خیال کرنے والا خود ایک دن سلف میں شمار ہونے لگتا ہے۔ لاکھوں میں کوئی ایک ایسا ہوا کہ وہ چونک کر رہ گیا اور پھر ایسا گم سم ہوا کہ گویا گویائی ختم ہو گئی۔ کان شاں شاں کرنے لگے۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ کچھ حالت بدلی تو ہنڈیا کی طرح اندر ہی اندر ابلتا رہا۔ اور انجام کار بخارات کی طرح اڑتے اڑتے ہوا ہو گیا۔ ان لاکھوں میں ایک ایک کر کے ہزاروں بنے اور اسی طرح گھائل ہو گئے۔ کہ زبان گنگ ہوئی تو دوبارہ گویائی نہ پا سکی۔ لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ حق ہے کہ اللہ کسی چیز کا بیج ختم نہیں کرتا جب تک اس دنیا کا نظام قائم ہے اور اللہ تعالیٰ کو اس کا قائم رکھنا منظور ہے۔ کوئی اتنا قوی اور مضبوط بھی جنم لے لیتا ہے جو سارے تھپیڑوں سے گزر جاتا ہے۔ اور زندگی کی رمق پھر بھی باقی رہتی ہے وہ آہستہ آہستہ اُٹھتا ہے۔ قدم سنبھالتا ہے اور پھر قدم قدم آگے بڑھنے لگتا ہے۔ اور انجام کار وہ چل نکلتا ہے۔ اور جب وہ دوبارہ زندگی کی گاڑی پر سوار ہوتا ہے تو اپنی گزشتہ رویداد کو بے خوف و خطر بیان کرنے لگتا ہے کچھ ایسا حال تھا استاذی حافظ عنایت اللہ اثری مرحوم کا، کہ انہوں نے دوبارہ زندگی کی گاڑی پر سوار ہو کر قوم کو بتایا کہ امت وسطیٰ کے علماء کی تاویلات جو انہوں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بے پدری ولادت کو سہارا دینے کے لئے کی ہیں۔ میں نے یہ آواز اُٹھائی ہے کہ جس مقصد کے لئے انہوں نے یہ تاویلیں کی ہیں وہ مقصد بغیر ان تاویلوں کے حاصل ہو سکتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا واضح اور کھلا ارشاد ہے کہ یٰاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی۔ (۴۹:۱۳) پھر اس کی تاکید میں بیسیوں سے بھی متجاوز آیات کریمات سے اس کی وضاحت فرما دی اور اس کی تفسیر میں ہمارے پیغمبر محمد ص نے اس ضابطہ تخلیق انسانی میں مرد اور عورت دونوں کے حصوں کی تقسیم فرما کر اُمت کو سمجھا دیا کہ ہڈی ۔ پٹھے اور ناخن مرد کے نطفہ سے اور گوشت ۔ خون اور بال عورت کے نطفہ سے تیار ہوتے ہیں اور اس کی تشریح میں سینکڑوں احادیث ارشا د فرمائیں۔ اور قرآن کریم نے بھی اعلان فرمایا کہ: اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ۔ (۷۶:۲) ’’بلاشبہ ہم نے انسان کو مخلوط نطفے سے پیدا کیا‘‘ اب ایک طرف اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ص کے یہ ارشادات ہیں جن میں کوئی استثناء بھی موجود نہیں اور دوسری طرف اقوام عالم کی طرح قوم مسلم کی اکثریت کا یہ نظریہ جو نسلاً بعد نسلٍ چلا آ رہا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت بغیر باپ کے ہے ظاہر ہے کہ اللہ اور رسول اللہ ص کی بات تو سچ ہی سچ ہے۔ لیکن قومی نظریہ کو ترک کرنا بھی لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے۔ لہٰذا ہمارے علمائے گرامی قدر نے اس کی تاویل یوں کی ہے کہ جبرئیل نے وہ سب کام کیا جو اولاد کے لئے والد کرتا ہے۔ تب اولا دممکن ہوتی ہے۔ ۱۔ ’’وکانت النفخۃ التی نفخہا فی جیب درعھا فنزلت حتی ولجت فرجہا بمنزلۃ لقاح الاب الام‘‘ (ابن کثیر) ۲۔ ’’ اتا ھا جبریل متمثلا بصورۃ شاب امرد سوی الخلق لتستانس بکلامہ و لعلہ لیھیج شہوتھا متحدر نطفتھا الی رحمھا۔‘‘ (بیضاوی) ۳۔ ’’ و ذکر غیر واحد من السلف انہ نفخ جیب درعھا فنزلت النفخۃ الی فرجھا فحملت من رورھا کما تحمل المرأۃ عند جماع زوجہا۔‘‘ (الجواب الفسیح) ۴۔ ’’ ثم ان مریم حاضت فی ایام سربان قوی الروحانیت فی تلک البقعۃ فلما ظہرت انتبذت الی مکان بعید من الناس لتغسل فاسدلت ستراً و نزعت ثیابھا فارسل اللہ الیھا جبرئیل فی صورۃ شاب سوی الخلق ممتلءًا شباباً و جمالاً فرأتہ مریم وھی شابۃ قفیۃ المزاج فخالفت علی نفسھا الفساد والتجأت الی اللہ بقلبھا لیعصمھا فکانت لھا حالہ عجیبۃ اما الطبیعۃ فحصل لھا ما یحصل عند الجماع من ثوران القوی النسلیۃ کما ان النظر وبما کان سببا للانزال واما النفس فححصل لھا الالتجاء الی اللہ واعتصام بہ حتی ملئت من حالۃ عصمیۃ فائضۃ من الغیب واما الصورۃ الانسانیۃ فکانت علی شرف الظھور لمخالطۃ الروح الامین۔ ولھا قال جبرئیل علیہ السلام (انا رسول ربک لاھب لک غلاماً زکیاً) ابتہجت وانشرحت و آنست ولما رای جبرئیل ھذا حالھا نفخ فی فرجھا فدغدت النفخۃ رحمھا فانزلت وکان فی منیھا قوۃ منی الذکر فحملت والقوی فی الجنین ما کان غالبا علی مریم من الاعتصام باللہ والالتجاء الیہ والابتھاج والانبساط بالھیءۃ الملکیۃ فان حالتھا سرت فی کل قوۃ من نفسھا حتی المصورۃ والمولدۃ والامر ما امر الاطباء لمن اراد ان یذکر و ولدہ ان یتصور فی حالۃ الجماع غلاما والقوی فیہ حکم عالم المثال و خواص الروح من قبل نفخ جبرئیل اذا ھو السبب فی التصور فحصلت فی حبلۃ ملکۃ راسخۃ شبیھۃ بجبرئیل وھذا معنی تائید اللہ بروح القدس۔‘‘ (تاویل الاحادیث ص۷۳) مندرجہ بالا اِن حوالوں کے درج کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کتب تفاسیر میں سے صرف یہی دستیاب ہیں بلکہ عربی کی کوئی ایک تفسیر اٹھائیں۔ ابن جریر ۳۱۰ ھ سے مظہری ۱۲۲۵ ھ تک بیسیوں نہیں سینکڑوں تفسیریں دیکھ لیں سب میں یہ عبارات مع شیء زاہد مل جائیں گی۔ ان عبارات کا اِس جگہ اردو ترجمہ اس لئے نہیں کیا جا رہا کہ ممکن ہے کوئی میرے ترجمہ سے اختلاف کرے اور اس لئے بھی کہ جب دوسرے مفسرین نے جنہوں نے اردو میں تفسیریں لکھی ہیں ان کا ترجمہ کر دیا ہے۔ اور وہ آگے نقل کیا جا رہا ہے لہٰذا وہی ترجمہ ان عبارات کا بھی تصور کر لیا جائے اور اس کی مزید تشریح بھی بزبان اردو عنقریب آپ پڑھیں گے۔ (ملاحظہ فرمائیں اور کان پکڑ کر توبہ کریں ) ۵۔ ’’ پھر مریم میں شہوت سرایت کی اور مریم کے اصل پانی اور جبریل کے وہمی پانی سے جو اس نفخ کی رطوبت میں آیا تھا عیسیٰ علیہ السلام کا جسم بنا کیونکہ جسم حیوانی کے نفخ میں رطوبت ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ارکان اربعہ سے پانی کا رکن ہوتا ہے کہ اِس سے عیسیٰ علیہ السلام کا جسم جبریل کے وہمی پانی سے اور مریم علیہا السلام کے اصلی پانی سے بنا اور عیسیٰ علیہ السلام دو جہت سے بشر کی صورت ہوئے ایک جہت ان کی ماں کی طرف سے تھی اور دوسری جہت جبریل سے تھی کیونکہ وہ بشر کی صورت پر ظاہر ہوئی تھی۔ اور یہ دو جہتیں اس واسطے ہوئیں کہ اس نوع انسانی میں تکوین خلاف عادت نہ واقع ہو۔‘‘ (شخ اکبر، فصوص الحکم) ۶۔ ’’ جس طرح مرد اور عورت دونوں کی منی سے بچہ پیدا ہوتا ہے اسی طرح جبریل علیہ السلام کی رطوبت سے اور مریم رضی اللہ عنہا کی رطوبت سے عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تھے اور یہ جو بے نکاح کام ہوا دوسروں کے نکاح سے اچھا ہے۔‘‘ (تفسیر تبصیر الرحمن) ۷۔ ’’ جس طرح نر اپنی مادہ سے جفتی ہو کر اسے حمل ٹھہراتا ہے اس طرح جبریل علیہ السلام نے مباشرت فرما کر مریم رضی اللہ عنہا کو حمل ٹھہرایا تھا۔ لہٰذا جبریل علیہ السلام عیسیٰ علیہ السلام کے بمنزلہ باپ ٹھہرے۔‘‘ (تحفۃ الودود اور کتاب الروح) ۸۔ ’’ فرشتہ نہایت خوبصورت بے ریش گھنگریالے بال والا نوجوان بن کر آیا اور جس طرح نر مادہ سے مل کر یا جس طرح شوہر بیوی سے ہم بستر ہو کر اسے حمل ٹھہرا دیتا ہے اسی طرح اس نے اسے حمل ٹھہرا دیا۔‘‘ (ابو البرکات بغدادی) ۹۔ ’’ دنیا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آدھے بشر اور آدھے روح تھے۔ کیونکہ حضرت مریم ؑ تو بشر تھیں اور حضرت جبریل روح(فَاَرْسَلْنَا اِلَیْھَا رُوْحَنَا) ہم نے حضرت مریم کے پاس اپنی روح یعنی جبریل کو بھیجااور آپ کی پیدائش حضرت جبریل ؑ کی پھونک سے ہوئی اس لئے دونوں امور آپ میں موجود ہیں۔‘‘ (جاء الحق ص۹۰) ۱۰۔ ’’ شبہ نیست در ایں کہ از قدیم عادت اللہ جاری بر ایں منوال است کہ اولاد از نطفتیں منعقد می شود و متولد می گیر دوبدوں آب منی تولد ولد حسب عادت جاریہ ممکن نیست۔ ما قبل آیت زیر بحث (فَتَمَثَّلَ لَھَا بَشَرًا ثَوِیًّا) نیز مؤید ہمیں مراہم است کہ تامتمثل بشر نزد مریم نبا ید حاملہ نشد۔‘‘ ’’بر فرض تسلیم تاہم تو اند گفت کہ عیسیٰ ولد جبرئیل است واو قدسی می باشد پس بالیقین عیسیٰ غیر جنس است زیرا کہ از وجہ ولادت جز جبریل است و اعتبار ابوت وارد نہ اموت وگرنہ ذو اعتبارین بشری من جہتہ الام و ذو اعتبار قدسی بجہت فرشتہ بودن اب او می باشد تازہم بنص قرآن و زعم مسلماناں ثابت گردید کہ عیسیٰ فی الواقع بشرنیست۔‘‘ (سید علی جائری تفسیر القرآن) ۱۱۔ ’’ پھر حضرت مریم کو اس جگہ روحانی قوتوں کے جاری ساری ہونے کے زمانہ میں ماہواری کے دن آئے۔ جب ان سے پاک ہوئیں تو لوگوں سے ایک الگ مکان میں غسل کرنے کے لئے گئیں اور پردہ ڈال کر کپڑے اتار دئیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک کامل خلقت جوان کی صورت میں جبرئیل کو بھیجا جو جوانی اور خوبصورتی سے بھرا ہوا تھا اور حضرت مریم نے ان کو دیکھا اور خود بھی جوان اور قوی مزاج والی تھیں ان کو اپنے نفس پر فساد کا ڈر لاحق ہوا اور دل سے اللہ کے حضور میں دعا کی کہ ان کی عصمت پر کوئی حرف نہ آئے پھر اس کو ایک عجیب حالت پیش آئی طبیعت میں قوائے نسلیہ کا ہیجان ہوا اور اس سے وہ (لذت کی ) کیفیت پیدا ہوئی جو جماع کے وقت ہوتی ہے جیسے کبھی کسی کو نظر کرنے سے انزال ہو جاتا ہے اور نفس کو اللہ تعالیٰ سے التجاء تھی اور اس کے ساتھ تمسک تھا۔ یہاں تک وہ غائب سے فائض ہونے والی پاک دامنی کی حالت میں مالا مال ہو گئیں۔ صورت انسانیہ کی یہ حالت تھی کہ جبرئیل کے اختلاط سے عنقریب ظاہر ہونے والی تھی۔ جب جبرئیل علیہ السلام نے ان سے یہ کہا میں تو تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں کہ دے جاؤں تجھ کو لڑکا ستھرا تو مریم خوش و خرم اور مانوس ہو گئیں اور حضرت جبرئیل نے جب ان کے حال کو دیکھا تو ان کے ستر میں پھونک لگا دی۔ اس پھونک سے اس میں تاثر ہوا اور وہ منزل ہو گئیں۔ حضرت مریم کے نطفے میں مرد کے نطفے جیسی قوت تھی اس لئے وہ حاملہ ہو گئیں اور جو بات سیدہ مریم میں تھی وہ سب اس بچہ میں آ گئی۔ مثلاً اللہ سے تمسک کرنا اس کی طرف التجاء کرنا اور ملکی ہیئت سے خوش و خرم ہونا۔ کیونکہ حضرت مریم کی حالت اس کے نفس کی ہر قوت مصورہ اور مولودہ تک اس میں سرایت کر گئی تھی اور بات وہ ہے جو اطباء کہتے ہیں کہ جو شخص چاہے کہ اس کے لڑکا پیدا ہو تو وہ جماع کے وقت لڑکے کا تصور پیدا کرے۔ حضرت جبرئیل کی پھونک سے اس لڑکے میں عالم مثال کا حکم اور روح کے خواص آ گئے تھے کیونکہ صورت بننے کا سبب وہی تھا اس سے حضرت مسیح کی جبلت میں جبرئیل کے مشابہ ایک راسخ ملکہ پیدا ہوا اور حضرت مسیحؑ کی روح القدس کے ساتھ تائید کا یہی مقصد ہے۔‘‘ (ماہ نامہ الرحیم ماہ دسمبر ۱۹۸۷ ء اداریہ) حضرت العلام حافظ محمد صاحب گوندلوی رحمۃ اللہ علیہ امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان رقمطراز ہیں: ۱۲۔ ’’عربی زبان میں لفظ ولد کا حقیقی اطلاق جہاں کہیں بھی ہوتا ہے اس کے لئے اصلین کا ہونا ضروری ہے اور ولد کے لئے اگر اس کی ماں کی طرف نسبت ہو تو دوسرا اس کا باپ ہونا چاہیے۔ پس ولد کی ماں ولد کے باپ کے لئے صاحبہ (بیوی) ہو گی نیز ولد کے لئے ضروری ہے کہ اصلین کے مادہ سے منفک ہو کر تیار ہو یعنی ولد کے لئے اصلین کی ضرورت ہے اور مادہ منفک بھی لازم ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ پس لفظ ولد کے معنی ہیں جزء خاص یعنی جس کی جزئیت میں دو شخصوں کو دخل ہو اسی طرح لفظ ابن بھی عربی زبان میں حقیقی طور پر ولد کا مترادف ہے اس کے اطلاق کے لئے بھی یہی شرائط ہیں۔ چونکہ مسیحؑ کو ابن مریم سے قرآن مجید میں تعبیر کیا گیا ہے اس کے لئے بھی اصلین کا ہونا ضروری ہے۔ ایک ان کی ماں مریم دوم جبرئیل علیہ السلام جن کو دوسرے لفظوں میں روح القدس سے تعبیر کرتے ہیں جو حمل مسیحؑ کا باعث ہوئے۔‘‘ (اثبات توحید ص۹) پادری صاحب! ’’سنئے ولد بلا والد نہیں ہو سکتا اور ولد بلا اصلین متصور نہیں اور ولد کے لئے اصلین کے ساتھ انفکاک مادہ بھی ضروری ہے گویا ولد کا لفظ بلحاظ استعمال یہ معنی دیتا ہے کہ دو اصلین کے توسط سے بانفکاک مادہ پیدا ہونے والا۔ جہاں کہیں لفظ ولد کلام عرب میں استعمال کیا گیا ہے۔ وہاں اصلین کے لئے ضروری ہے وہ عرف میں اس کی والدہ ہو گی جو اس کے باپ کی جورو ہو گی ۔۔۔۔۔۔ پس مسیحؑ پر چونکہ ولد مریم کا اطلاق کرتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ اس کی والدہ ہو اور وہ مریم ہے اور دوسرا صل جس کے اتصال کے علاوہ مسیحؑ نہ پیدا ہوا ہم اہل اسلام کے نزدیک جبرئیل ہے جسے دوسری جگہ قرآن مجید میں روح القدس سے تعبیر کیا گیا ہے اور وہ بمنزلہ والد کے ہے کیونکہ نفخ جبرئیل کے قبل اور روح القدس کی قوت کے ظہور سے پہلے مریمؑ سے مسیحؑ ظاہر اور متولد نہ ہوئے۔‘‘ (اثبات توحید ص۴۵) ’’عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت جبرئیل اور مریم کے درمیان واقعہ ہوئی اس لئے وہ آسمان پر اب تک کچھ کھائے پیئے اور پیشاب و پاخانہ اور نیز دیگر بشری ضرورتوں کو پورا کئے بغیر جبرئیل و دیگر فرشتوں کی طرح زندہ ہیں۔‘‘ (اثبات توحیدص ۴۰) یہ تحریریں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں پھر ان کو بڑے محتاط انداز میں نقل کفر کفر نباشد کے تحت درج کیا گیا ہے۔ تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ قرآن کی کون سی وہ آیت ہے جس کی یہ تفسیر کی جا رہی ہے؟ کیا اس کو قرآن مجید کی تفسیر کہا جا سکتا ہے؟ تفصیل کا یہ موقع نہیں مختصراً عرض ہے کہ تفسیری روایات میں جو اسرائیلیات سے مملو ہیں ایک دفعہ کچھ حصہ نقل ہو گیا اور جو لوگ بعد میں آئے وہ ’’نقل را چہ عقل‘‘ کے پیش نظر چاروں طرف سے آنکھیں بند کر کے تقلیداً اپنی تصنیفات میں درج کرتے رہے اور پشت ہا پشت سے یہ خیالات پختہ ہو گئے اور ان سے دین اسلام کو جو سراسر صدق و یقین ہے یہاں تک صدمہ پہنچا کہ جس کے بیان کی دل کو طاقت، زبان کو قوت، دماغ کو وسعت اور قلم کو یارا نہیں ہے جس کو پڑھنے سننے سے ایک محقق اور راستباز انسان کا جگر کباب ہو جاتا ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے۔ من از بیگا نگاں ہر گز نہ نالم کہ بامن ہر چہ کرد آں آشنا کرد قارئین کرام سے درخواست اوپر جو بارہ حوالہ جات تحریر کئے گئے ہیں یہ کن لوگوں کی طرف سے ہیں؟ ظاہر ہے کہ بہت بڑے برے متبحر علمائے کرام کی کتابوں سے لئے گئے ہیں اور جن کو اِس ملکِ عزیز کے تمام گروہ تسلیم کرتے اور مانتے ہیں اگر سب کو نہیں تو اِن میں سے بعض گروہ بعض علماء کو ضرور اپنا قائد و راہنما تسلیم کرتے ہیں اور اِس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ جو کچھ اِن تحریرات میں بیان کیا گیا ہے اُس کو ملک کے تمام گروہ اِس طرح مانتے ہیں اگر نہ مانتے ہوتے تو اُن کی تحریرات کا انکار کرتے اوربَرملا لکھتے کہ یہ تحریرات غلط ہیں لیکن ہم نے آج تک کسی کو اِس طرح کی بات کرتے نہیں دیکھا۔ یہ تحریرات ثابت کرتی ہیں کہ یہ تمام گروہ در اصل جبریل علیہ السلام کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ تسلیم کرتے ہیں لیکن عوام میں یہ مشہور کر رکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے معجزانہ رنگ میں پیدا ہوئے اور اُن کا یہ بیان اُن کے ضمیر کے خلاف ہے۔ ہمارا مؤقف فقط یہ ہے کہ فرشتہ کو انسان کا باپ قرار دینا ظلمِ عظیم ہے اِس ظلم سے وہ باز آ جائیں اِس لئے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اور وفات کا مسئلہ عقائد سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ نظریاتی مسئلہ ہے لیکن اِس کے برعکس فرشتہ کسی انسان کا باپ نہیں ہو سکتا یہ عقیدہ کا مسئلہ ہے اور عقیدہ کی خرابی مخرب ایمان ہے۔ جو لوگ حافظ عنایت اللہ اثری پر یا اُن کے نظریات رکھنے والوں پر برہم ہوتے ہیں ہماری اُن سے درخواست ہے کہ وہ عقل و فکر سے کام لیں اور ہمارا مؤقف سمجھنے کی کوشش کریں اور اُن علماء کرام کے پھندے سے باہر نکلیں جنہوں نے دوغلی پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور مانتے کچھ ہیں اور کہتے کچھ ہیں، جن کی صورتِ حال وہی جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ’’ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور‘‘۔ ایسی تحریرات اور تفسیری روایات کو پڑھ کر ’’حافظ‘‘ کا دل پسیج گیا صحیح معنوں میں وہ ایک کتابی کیڑا تھے ایک ایک تحریر کو پڑھا اور بار بار پڑھا۔ دل تھام کر پڑھا پھر قرآن پر غور و فکر کیا۔ تدبر سے کام لیا تو یقین ہو گیا کہ یہ سب کچھ اس لئے ہو اکہ اللہ تعالیٰ کے اس اَن مٹ اور اَن ٹل قانون سے جو نسل انسانی کی تخلیق کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں بار بار دہرایا ہے اس سے انحراف کیا گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علماء گرامی قدر کی ریل اچانک پٹڑی سے اتر گئی اور پھر دور تک تباہ و برباد کرتی چلی گئی نہ اپنا کچھ رہا اور نہ سواروں کا۔ جس اللہ کی نیک بندی (سیدہ مریمؑ ) کو اللہ نے تمام عالم کی عورتوں سے بلند رتبہ عطا فرمایا تھا جس کی پاکیزگی کی فرشتے بھی قسمیں کھاتے تھے جس کو اسلام میں وہ مقام عطا ہوا جو کسی دوسری عورت کو نہیں ہوا جس کے لئے اسلام میں بحث طے پائی تھی کہ ’’والصحیح ان مریم کانت نبیۃ‘‘ اس کے قصہ کو اس طرح بیان کیا گیا جو مذکورہ حوالوں سے اوپر درج ہے اور جس کے دیکھتے ہی دل کانپ اٹھتا ہے اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ افسوس ! صد افسوس! کہ اب بھی چاروں طرف سے آواز اُٹھتی ہے کہ حافظ عنایت اللہ کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ اس نے مسلمانوں کے متفقہ عقیدہ کے خلاف لکھا؟ میں نے یہ سطریں اس لئے تحریر کی ہیں تاکہ ناظرین دیکھ سکیں کہ حافظ صاحب مرحوم کو مسلمانوں کی اکثریت کے اس نظریہ کے خلاف لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ جس طرح آپ نے ان چند حوالوں کو دیکھ کر محسوس کیا ہو گا کہ جو شخص اپنے سینے میں دل رکھتا ہے وہ ان کی تاب نہ لا کر پکاراُٹھے گا کہ (ھٰذَا بُہْتَانٌ عَظِیْمٌ) بالکل اسی طرح حضرت العلام حافظ عنایت اللہ اثری وزیر آبادی نے جب یہ محسوس کیا کہ یہ اور اس طرح کی دوسری تمام تحریرات کا تعلق دین اسلام سے مطلق نہیں ہے بلکہ یہ اسرائیلیات سے ماخذ ہیں اور خوش اعتقادی کے طور پر اسلام میں داخل کر لی گئی ہیں تو انہوں نے اس نظریہ سے سر پھیر دیا جس سے دو پاکبازوں بلکہ دو نبیوں ۱ کی زندگیوں کو افسانہ بنا کر رکھ دیا گیا تھا۔ وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوْنَ۔ اوہام پرستی پر اصرارِ معجزات Insisted Miracles or Delusional Idolatry بجواب ’’عقل پرستی اور انکار معجزات‘‘ حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب کیلانی ** مؤلف عبدالکریم اثری شائع کردہ انجمن اشاعتِ اسلام ٹھٹھہ عالیہ (رجسٹرڈ) منڈی بہاؤالدین Compiled by: Rana Ammar Mazhar Last edited by کنعان; 20-01-12 at 11:18 PM. وجہ: Re.organised |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
ویسے آپس کی بات ہے، میںبھی نزول عیسیٰ علیہ السلام کا قائل نہیںہوں!!!
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاہد بھائی سلام :
پیدائش عیسیٰ ایک عدد والد سے ! آپ کی رائے کا انتظار رہے گا |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (10-01-12), shafresha (10-01-12), فاروق سرورخان (10-01-12), نبیل خان (10-01-12), حیدر (10-01-12), حیدر Rehan (10-01-12) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,612
شکریہ: 8,509
1,592 مراسلہ میں 3,520 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جناب سلام ہے
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (10-01-12), حیدر (10-01-12) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65] |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (10-01-12), shafresha (10-01-12), skjatala (10-01-12), فاروق سرورخان (10-01-12), کنعان (10-01-12), نبیل خان (10-01-12), حیدر (10-01-12), حسن قادری (10-01-12), عبداللہ آدم (20-01-12), عبداللہ حیدر (10-01-12) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
کیا وجہ ہے کہ حدیث پرستوںکے پاس خلاف قرآن روایات کا قرآن حکیم سے کوئی ثبوت موجود نہیں ؟؟؟ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف Last edited by فاروق سرورخان; 10-01-12 at 12:54 PM. |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 540
کمائي: 7,068
شکریہ: 489
308 مراسلہ میں 689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک کہانی آدم علیہ السلام کے والدین کے متعلق بھی اختراع فرما دیجئے اور وہ بھی قرآنِ کریم کی روشنی میں ۔۔۔
__________________
کعبے کے بَدرُالدّجٰی تم پہ کروڑوں درود ♥ شافع روزِ جزا تم پہ کروڑوں درود
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا ♥ جب نہ خدا ہی چُھپا تم پہ کروڑوں درود صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے مفتی کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (10-01-12), فاروق سرورخان (10-01-12), کنعان (10-01-12), نبیل خان (10-01-12), حیدر (10-01-12), عبداللہ آدم (20-01-12), عبداللہ حیدر (10-01-12) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
ایسا نہی ہے کہ اس مراسلے میں سوچنے کے لیے کچھ نہی ہے اگر جواب دینے کے لیے کچھ نہ بھی ہو تو
![]() راعنا عمار بھائی ایک نکتہ شائد یہ بھی رہ گیاہے سورہ مریم ہی میں ہے کہ جناب عیسی علیہ سلام نے کہا کہ مجھے اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرنے والہ بنایا ہے اور اسی سورہ میں یہ بھی ہے کہ جناب یحی علیہ سلام کی جب ولادت ہوئی تو ان کے لیے فرمایا گیا کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے ۔ حضرت عیسی علیہ سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیکی صرف ماں کے ساتھ حضرت یحیی علیہ سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیکی ماں باپ دونوں کے ساتھ ایسا کیوں ؟؟؟ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (10-01-12), shafresha (10-01-12), نبیل خان (10-01-12), مرزا عامر (11-01-12), احمد نذیر (11-01-12), حیدر (10-01-12), عبداللہ آدم (20-01-12), عبداللہ حیدر (10-01-12) |
| کمائي نے حیدر Rehan کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 10-01-12 | حیدر | حضرت عیسی علیہ سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیکی صرف ماں کے ساتھ point raised. |
150 |
|
|
#11 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
|
||
|
|
|
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اعلانِ عام وَادْعُوْا شُہْدَآ ءَ کُمْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ (البقرہ۲: ۲۳) علماء کرام سے گذارش ہے کہ درج ذیل پندرہ سوالات کے جوابات کتاب و سنت سے استدلالاً نہیں بلکہ صراحتاً حدیث ہونے کی صورت میں بصحت سند دے کر اس کتاب کی اشاعت کو روکنے کا ہم سے اقرار نامہ تحریر کرا لیں تاکر روز روز کی خر خش ختم ہو جائے۔ اور اگر جواب نہ دیں یا ثابت ہو جائے۔ کہ ان کے جوابات درست نہیں ہیں تو صرف اتنی اپیل ہے۔ کہ ایسے نظریات جو یہود اور نصاریٰ کی طرح قوم مسلم میں نسلاً بعد نسلٍ مشہور ہو کر تسلیم کئے گئے ہیں۔ جن کی کوئی اصل اسلام میں موجود نہیں ہے۔ ان پر خواہ مخواہ کفر کے فتوے صادر کر کے حلقہ اسلام کی وسعتوں کو اپنی خواہشات کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ ۱۔ کیا سیدہ مریم علیہا السلام صاحب حال نے یہ بیان فرمایا ہے۔ کہ میں نے اس فرزند کو بغیر نکاح (زوج) کے جنا ہے؟ ۲۔ کیا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی بیان فرمایا ہے۔ کہ میری والدہ نے مجھے بغیر نکاح (زوج) کے جنا ہے؟ ۳۔ کیا قرآن مجید نے کہیں بیان فرمایا ہے۔ کہ مریم صدیقہ نے اپنے فرزند عیسیٰ ؑ کو بغیر نکاح (زوج) کے جنا ہے؟ ۴۔ کیا حضور اکرم ﷺ نے کبھی بیان فرمایا ہے۔ کہ مریم صدیقہؑ نے عیسیٰ ؑ کو نکاح (زوج) کے بغیر جناہے؟ ۵۔ کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے کبھی رسول اکرم ﷺ کے سامنے ذکر کرتے ہوئے عیسیٰ ؑ کو (بے پدر ۔ بلا باپ) فرمایا ہے۔ جس کو سن کر آپ نے تصدیق فرمائی ہے۔ پسند فرمایا ہے۔ یا کم از کم خاموشی اختیار فرمائی ہے؟ ۶۔ ضابطہ پیدائش انسانی کا ذکر قرآن مجید میں بیسیوں جگہ موجود ہے۔ کہیں کسی جگہ بھی سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کو اِس سے مستثنیٰ کیا گیا ہے؟ ۷۔ کیا عیسیٰ ؑ سے قبل انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی ؑ نے بھی عیسیٰ علیہ السلام کا نام لے کر یا بغیر نام لئے کسی نبی علیہ السلام کی ولادت بلا باپ کی پیش گوئی بطور وحی بتائی ہے؟ ۸۔ کیا اب بھی کسی بے نکاحی (بلا خاوند) عورت کا حمل قرآن و حدیث کی دلیل سے قدرتِ الٰہی پر محمول کیا جا سکتا ہے؟ اگر نہیں تو کیوں؟ کیا اب اللہ تعالیٰ قادر نہیں ہے؟ ۹۔ کیا ہر ایک مولود نبی علیہ السلام کا نکاح سے پیدا ہونا شرعاً لازم نہ تھا؟ آپ ﷺ کا ارشاد جو طبرانی میں ہے جس کا معنی ہے کہ ’’میرے سلسلہ نسب میں کوئی بھی ولادت بغیر نکاح کے نہیں ہوئی۔‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ ۱۰۔ اگر بغیر باپ عیسوی ولادت کا خیال بنیادی اور اعتقادی ہے۔ یا ایمانیات میں داخل ہے تو اس کا ثبوت واضح ارشاد باری یا احادیث صحیحہ سے ضروری نہیں ہے؟ کیا عقائد اسلامی کی بنیاد استدلالات پر قائم ہو سکتی ہے؟ ۱۱۔ کیا آپ ﷺ کے زمانہ اقدس میں عقائد اسلامی متعین ہوئے تھے یا نہیں؟ اگر ہو چکے تھے تو آپ ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام کی بے پدری ولادت کو عقائد اسلامی میں شامل فرمایا ہے؟ کہاں اور کیسے؟ ۱۲۔ کتب تفاسیر میں عیسیٰ علیہ السلام کی بے پدری ولادت کا ذکر موجود ہے۔ (صحیح ہے) آپ کسی ایک تفسیر کا نام لے سکتے ہیں۔ کہ جو کچھ اس میں صاحب تفسیر نے بیان کیا ہے وہ سب کا سب صحیح اور درست ہے؟ ۱۳۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت معجزہ تھی تو آپ بتائیں کہ یہ معجزہ کس کا تھا؟ سیدہ مریم کا؟ ذکریا علیہ السلام کا؟ یا کسی اور نبی کا؟ نیز معجزہ کی تعریف کیا ہے؟ جو آپ کے ہاں مسلّم ہے؟ ۱۴۔ ولد والد اور والدہ میں سے ہر ایک دوسرے دو کا ثبوت کامل ہے۔ قرآن مجید میں کہیں ولد کا ذکر ہے۔ والد اور والدہ دونوں کا نہیں ۔ کہیں والد کا ذکر ہے ۔ اور ولد اور والدہ دونوں کا نہیں۔ کہیں ولد اور والد کا ذکر ہے والدہ کا نہیں ہے پھر کہیں والدہ بغیر ولد یا ولد بغیر والدہ کے تسلیم کیا گیا ہے؟ تاکہ اس کا عکس بھی تسلیم کر لیا جائے؟ ۱۵۔ اصول و فروع دونوں مسلم۔ کیا ولادت مسیح کا مسئلہ اصولی ہے یا فرعی؟ کتاب و سنت سے وضاحت کریں؟ نیز اصول و فروع کی تشریح بھی جو آپ کے ہاں مسلم ہے؟ (فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا۔) (۲:۲۴) ’’پھر اگر تم ایسا نہ کر سکو اور حقیقت بھی یہی ہے کہ تم کبھی ایسا نہیں کر سکو گے۔‘‘ تو پھر اثری صاحبؒ مرحوم کے ’’بے کار دلائل ‘‘ کا جواب ’’کار آمد دلائل‘‘ سے دے کر مشکور فرمائیں۔ علامہ عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ ناچیز بندہ کے خاندان سپرا کے ایک بطل جلیل جو نہایت سادہ، نیک سیرت اور پورے خاندان کے لئے ایک طرح سے اللہ کی رحمت تھے۔ وقت کے بہترین خطاط مفسر قرآن بہت سی کتبِ اسلامی کے مصنف اور راقم الحرف کئی رشتہ داریوں میں اُن کے ساتھ منسلک ہے۔ اُن کی زندگی کے آخری ایام تک مل جل کر رہنے کا شرف بھی حاصل ہے۔ میرے نظریات سے اچھی طرح واقف تھے لیکن اِس سلسلہ میں کبھی گفتگو نہیں کرتے تھے۔ بندہ حافظ صاحب مرحوم کا اکثر لٹریچر اُن کو پہنچاتا رہا جس میں عیونِ زمزم اور بحر قلزم جیسی کتب بھی شامل ہیں وہ گجرات آتے تو اکثر نماز حافظ صاحب مرحوم کی اقتداء میں ادا کرتے اور کسی بھی ایسے مسئلہ کے متعلق حافظ صاحبؒ سے بات نہ کی اور جب بھی ملتے نہایت پر تپاک طریقہ سے ملتے۔ جمعیت اہل حدیث کے چند ایک دوستوں نے جن میں ایک علامہ محمد مدنی جامعہ الاثریہ جہلم تھے اُن سے حافظ صاحب کی تحریرات کے رد میں کچھ لکھنے کی ترغیب دی اور اِس معاملہ میں کچھ رقم بھی پیش کی۔ آپ نے اِس سلسلہ میں ایک کتاب بنام ’’عقل پرستی اور انکارِ معجزات‘‘ تحریر کی۔ کتاب طبع ہو کر بازار میں آ گئی تو راقم الحروف کو بھی اُنہوں نے کتاب پیش کی اور ساتھ ہی اس کی پوری روئیداد بھی سنا دی کہ کس نے زور دے کر کہا اور کس نے اخراجات برداشت کئے اور کتنے ادا کئے اور کیا کچھ باقی ہے اِس کتاب کے بل کی ادائیگی میں خادم اُن کے ساتھ رونٹی والی مسجد میں گیا اُس وقت اُس مسجد کے ناظم عظمت اللہ بٹ صاحب تھے جو خادم کے ساتھ نہایت شفقت سے پیش آتے تھے اور آتے ہیں۔ اُنہوں نے خوب آؤ بھگت کی اور ہمارا موقف سننے کے بعد جماعت کا رجسٹر حسابات لے کر کیلانی صاحب کو دکھایا کہ یہ رقم جماعت سے علامہ مدنی صاحب نے وصول کر لی ہوئی ہے اور چونکہ اُس وقت مدنی صاحب زندہ تھے فرمایا اگر ضرورت ہو تو میں اِس رقم کی ادائیگی کی تصدیق کرانے کے لئے جہلم تک جا سکتا ہوں۔ مختصر یہ کہ اِس کتاب ’’عقل پرستی‘‘ میں وہ تحریر فرماتے ہیں کہ یہ کتاب عیونِ زمزم حافظ صاحب نے بے کار دلائل سے بھر دی ہے اور پھر فرمایا کہ: ’’بے کار دلائل سے ہماری مراد ایسے دلائل ہیں جو مسلّمات کا درجہ رکھتے ہیں اور جن کو مسلمان تو درکنار کافر، مشرک اور دہریے بھی تسلیم کرتے ہیں کیونکہ یہ دلائل ضابطہ الٰہی یا قانونِ فطرت سے تعلق رکھتے ہیں اور قرآن و حدیث میں بھی مذکور ہیں مگر سوال یہ ہے کہ آیا ایسے دلائل کسی خرقِ عادت امر میں کوئی فیصلہ کن حیثیت بھی رکھتے ہیں یا نہیں۔‘‘ اِس کے بعد اُنہوں نے ’’عیون زمزم‘‘ سے تقریباً ۷،۸ حوالہ جات تحریر فرمائے ہیں جو درج ذیل ہیں: ۱۔ ’’ہر جاندار کی پیدائش کے لئے اس کے ماں باپ دونوں کا ہونا ضروری ہے۔‘‘ اب اس قانون فطرت یا ضابطۂ الٰہی سے بھلا کس کافر کو انکار ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ اس سے یہ نتیجہ پیش کریں کہ چونکہ ہر جاندار کے لئے اس کے ماں باپ کا ہونا ضروری ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ ں کا باپ ضرور تھا۔ تو معجزات کے قائلین کے نزدیک یہ ثبوت بے کار اور یہ دلیل باطل ہے۔ لیکن افسوس ہے آپ نے ایسے بے کار دلائل کے خواہ مخواہ انبار لگا دئیے ہیں۔ یا مثلاً ۲۔ یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے آپ کو ولد تسلیم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو آدم کی ذریت شمار کیا ہے تو ولد اور ذریت کے لئے زوجین یعنی ماں باپ کا ہونا ضروری ہے۔ جیسا کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ تو اس سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی جیسے والدہ تھی۔ والد بھی ضرور تھا۔ (ع ص) ۳۔ احادیث سے ثابت ہے ۔ مرد کے نطفے سے ہڈیاں اور پٹھے بنتے ہیں۔ اور ماں کے نطفہ سے گوشت۔ پوست اور خون اور چونکہ عیسیٰ ؑ کے بدن میں ہڈیاں اور پٹھے بھی موجود تھے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ آپ کا باپ ضرور تھا۔ (ع۔) ۴۔ حضرت مریم کا اپنا بیان ہے۔ (فرشتہ کے سامنے) کہ ولد کے لئے مس بشرکا ہونا ضروری ہے۔ پھر ولد بھی ہو گیا۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ آپ کا شوہر تھا۔ (ص) ۵۔ احادیث میں حضرت مریم اور حضرت فاطمہ دونوں کو عذرا اور بتول یا بکر کہا گیا ہے پھر چونکہ حضرت فاطمہ کا شوہر تھا (حضرت علیؓ) اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مریم کا بھی شوہر تھا۔ (ص) ۶۔ کسی کنواری کو حمل ہو جانا ہی اس بات کی قوی دلیل ہے کہ اسے مس بشر ہوا ہے خواہ یہ جائز ہو یا ناجائز اور حضرت مریم کے تو صرف حمل ہی نہیں بچہ بھی پیدا ہوا اور فاروقی فتوے کے مطابق کسی کو حضرت مریم کے متعلق حد لگانے کا خیال بھی پیدا نہیں ہوا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مریم کا جائز شوہر تھا۔(ع) ۷۔ احادیث سے ثابت ہے کہ دودھ مرد کے نطفہ سے ہوتا ہے۔ اور یہ بھی احادیث سے ثابت ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حضرت مریم کا دودھ پیا تھا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کا والد ضرور تھا۔ (ع ) ۸۔ اگر ماں باپ میں سے کسی ایک کا یا دونوں کا پتہ نہ بھی ہو تو اس کے والدین ضرور ہوتے ہیں۔ لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام کا باپ یا مریم کا شوہر بھی ضرور ہے۔ اور وہ یوسف نجار تھا۔ (ع) اور آخر میں دوبارہ لکھا ہے کہ یہ سب کے سب ’’قائلین معجزات‘‘ کے لئے کار آمد نہیں اور تعجب کی بات یہ ہے کہ اپنے ’’کار آمد دلائل‘‘ کا ذکر تک نہیں فرمایا: میرے محترم بزرگ جناب عبدالرحمن کیلانی صاحب نے اپنی کتاب ’’عقل پرستی‘‘ میں حافظ صاحب کی پیش کردہ ایک حدیث کے حصہ کو بھی بحثِ موضوع بنایا اور بڑے وثوق سے تحریر کر دیا کہ ’’یہ حدیث کا ٹکڑا حافظ صاحب نے کہاں سے لیا جس پر خواہ مخواہ ابن جریر کا حوالہ دے دیا ہم نے پوری کتاب چھان ماری لیکن اِس میں یہ حوالہ مطلق نہیں ملا۔ یہ ہے اُن کی ذہانت و امانت کا حال۔‘‘ یہ تحریر پڑھنے کے بعد میں نے ابن جریر کے اِس صفحہ کی فوٹو آپ کو رو در رو دی اور عرض کیا کہ آپ نے اِس کو کہاں سے تلاش کیا اور کس طرح تحدّی کے ساتھ حافظ صاحب کو مذاق کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تو حوالہ دیکھ کر فرمانے لگے ’’ میں معذرت خواہ ہوں‘‘ یہی وہ باتیں ہیں جن کی بنا پر بندہ موصوف کو ’’اللہ کا ایک نیک بندہ تصور کرتا ہے۔‘‘ اور نظریات کے اِس فرق کو کوئی اہمیت نہیں دیتا بلکہ عدم تفہیم پر دال کرتا ہے اور ابن جریر کی محولہ عبارت آگے آ رہی ہے آپ بھی ملاحظہ فرما لیں۔ بعد ازیں ناچیز بندہ نے عیونِ زمزم کا تیسرا ایڈیشن شائع کیا تو اُس میں صاف صاف تحریر کیا کہ ’’علامہ کیلانی‘‘ صاحب سے ہماری گذارش ہے کہ وہ اپنے ’’کار آمد دلائل‘‘ کا بھی ذکر فرمائیں اور یاد دہانی بھی کرائی لیکن بعد ازیں اُنہوں نے اپنی وفات تک اِس سلسلہ میں قلم کو حرکت نہ دی۔ اب جب کہ ’’کیلانی صاحب‘‘ کو بھی اِس دارِ فانی سے دارا لآخرت کو منتقل ہوئے ایک عرصہ گذر چکا ہے ’’عیونِ زمزم‘‘ کا یہ چوتھا ایڈیشن طبع ہو کر آپ کے ہاتھوں میں ہے ہم مرکزی جمعیت اہل حدیث کے اُن رفقاء سے مخاطب ہیں جو کیلانی صاحب سے یہ کتاب لکھوا کر اپنا اور جماعت کا نام روشن کرنا چاہتے تھے وہ اُن ’’کار آمد دلائل‘‘ کو نوک قلم پر لائیں تاکہ اُن کے ’’کار آمد دلائل‘‘ کو وہ لوگ بھی پڑھ سکیں جو اب تک ’’بے کار دلائل‘‘ پڑھتے ہیں اور محض اِس لئے منہ چڑھا دیتے ہیں کہ علامہ کیلانی نے فرمایا ہے کہ یہ ’’دلائل بے کار‘‘ ہیں اِس لئے ہم ان کو ماننے کے لئے تیار نہیں اور صاحبِ علم اُن کی یہ بات سنتے ہیں تو ہنس کر رہ جاتے ہیں کہ اگر کتاب و سنت سے دئیے گئے دلائل بے کار ہیں تو پھر ’’کار آمد دلائل‘‘ کہاں سے آئیں گے اور اِس طرح یہ بھی کہ جب وہ کتاب و سنت میں نہیں بلکہ علاوہ از کتاب و سنت ہیں تو وہ ’’کار آمد دلائل‘‘ کیسے ہوں گے؟ قارئین کتاب سے ہماری درخو است ہے کہ وہ خواہ مخواہ انتظار میں نہ رہیں اور ضرور وہ ’’کار آمد دلائل‘‘ کو دیکھنا ہی چاہتے ہیں تو دیکھی ہوئی چیز کو ایک بار پھر دیکھ لیں اور مطمئن رہیں کہ یہی وہ دلائل ہیں جو اِس راہ میں ’’کار آمد دلائل‘‘ کہلاتے ہیں۔ اِس کتاب میں ذرا پیچھے جائیں تو ’’غرض وغایت‘‘ کے عنوان کے تحت ’’حضرت العلام حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث‘‘ کے حوالہ سے چند ایک عبارات درج کی گئی ہیں اُن کو ذرا دھیان سے ایک بار پھر پڑھ لیں اور یہ سمجھ کر پڑھیں کہ ہم ’’کار آمد دلائل‘‘ پڑھ رہے ہیں تو ’’کار آمد دلائل‘‘ کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔ من از بیگا نگاں ہر گز نہ نالم کہ با من ہر چہ کرد آں آشنا کرد ۱ یہاں دو نبیوں سے مراد سیدنا عیسیٰ ؑ اور سیدہ مریم ؑ ہیں۔ اثری |
|
|
|
|
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
در منثور ص۲۸ جلد۳ میں نیز اکلیل فی استنباط التنزیل میں بحوالہ ابن ابی حاتم ابو حرب سے اوربحوالہ ابو الشیخ مستدرک حاکم ص۱۶۴ جلد۳ اور بیہقی عبد الملک بن عمیرؒ سے اور حیوٰۃ الحیوان ص۱۹۲ جلد۱ میں بحوالہ الروض الزاہر شعبیؒ سے مروی ہے کہ حجاج کو یحییٰ بن یعمر کی بابت معلوم ہوا کہ وہ خراسان میں حسنؓ اور حسینؓ کو رسول اللہ:ﷺ کی اولاد ٹھہرا رہا ہے تو اس نے وہاں کے قاضی قتیبہ بن مسلم کو خط لکھا کہ اسے یہاں روانہ کر دو جب وہ آیا تو حجاج نے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تم نے وہاں پر یہ مضمون شروع کر رکھا ہے کہا کہ ہاں ضرور کہا کہ مباہلہ کی آیت کریمہ میں تو اس کا کوئی ثبوت نہیں اور آیت ہے تو اسے پیش کرو یحییٰ نے سورہ انعام کی آیت کریمہ ومن ذریتہ داؤد پڑھ کر استدلال کیا کہ اس میں جس طرح عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو والدہ ماجدہ کی طرف سے ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذریت میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح حسنؓ و حسینؓ اپنی والدہ ماجدہ فاطمہؓ کی طرف سے رسول اللہ:ﷺ کی ذریت میں شمار ہیں۔ |
|
|
|
|
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
محترم شکاری بھائی ! اتنی لمبی تقریر کی بجائے وہ تفسیر جس کی تائید میں سینکڑوںصحیح احادیث ہوں، ان میں سے کچھ صحیح احادیث یہاں لکھ دیں !!! |
|
|
|
|
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
موجودہ موضوع کی مثال لیجئے۔ قرآن کریم نے وضاحت کے ساتھ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی معجزانہ ولادت کو بیان فرمایا ہے: قَالَتْ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ قَالَ كَذَلِكِ اللّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ (آل عمران:47) ترجمہ احمد علی: مریم نے کہا اے میرے رب! مجھے بیٹا کیسے ہو گا حالانکہ مجھے کسی آدمی نے ہاتھ نہیں لگایا فرمایا اسی طرح الله جو چاہے پیدا کرتا ہےجب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے ترجمہ شبیر احمد: مریم نے کہا (ہائے) میرے رب! کہاں سے ہوگامیرے ہاں بچّہ جبکہ نہیں چھُوا ہے مجھے کسی مرد نے۔ جواب دیا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہے۔ جب فیصلہ کرلیتا ہے وہ کسی امر کا تو بس حکم دیتا ہے اسے کہ ہو جا اور وہ ہوجاتا ہے۔ ترجمہ فتح محمد: مریم نے کہا پروردگار میرے ہاں بچہ کیونکر ہوگا کہ کسی انسان نے مجھے ہاتھ تک تو لگایا نہیں فرمایا کہ اللہ اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ حضرت عیسیٰ کے تعلق سے عیسائیوں میں تین عقائد مشہور تھے۔ ابنیت، تثلیث، الوہیت۔ اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ ولادت ہی کی وجہ سے انہیں الٰہ اور اللہ کا بیٹا قرار دیا کرتے تھے۔ (نعوذباللہ) اور تثلیث کے عقیدہ کی جڑ بھی یہی تھی۔ اب کمال تو یہ ہے کہ قرآن نے تثلیث اور الوہیت کے عقیدہ کی جگہ جگہ تردید کی ہے۔ لیکن بن باپ معجزانہ ولادت کا جو عقیدہ تھا، اس کی تردید کہیں نہیں کی گئی۔ بلکہ درج بالا آیت کے علاوہ بھی دیگر آیات سے اس عقیدہ کی پرزور تائید ملتی ہے۔ کیا یہ آسان نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ صرف حضرت عیسٰی علیہ السلام کے والد کا ذکر فرما دیتے کہ وہ تو فلاں کا بیٹا تھا، نہ کہ اللہ کا۔ اس سے تثلیث کے عقیدہ پر بھی کاری ضرب لگتی، عقیدہ الوہیت بھی اپنی موت مر جاتا۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا، کیونکہ ان کی ولادت واقعی معجزانہ طور پر ہوئی تھی۔ اور پھر قرآن جگہ جگہ انہیں عیسیٰ ابن مریم پکارتا رہتا ہے۔ اور یاد رہے کہ عیسیٰ ابن مریم بطور کنیت کے نہیں پکارا گیا، بلکہ بطور نام کے پکارا گیا ہے۔ ۔قرآن کے الفاظ یہ ہیں: اسْمُہُ الْمَسِیحُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ لہٰذا قرآن نے ان کا نام ہی عیسیٰ ابن مریم رکھا ہے اور پورے قرآن میں جگہ جگہ انہیں المسیح ابن مریم ، عیسیٰ ابن مریم پکارا گیا ہے، کہیں ایک جگہ بھی انہیں ان کے باپ کے نام سے نہیں پکارا گیا،اگر عیسائیوں کا حضرت عیسیٰ کی معجزانہ ولادت کا یہ عقیدہ غلط ہوتا، تو کیا یہ انداز بیان ان کے عقیدہ کو تقویت نہیں پہنچاتا؟ جبکہ قرآن ہی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ، الآیۃ انہیں ان کے اصلی باپوں کے نام سے پکارو الله کے ہاں یہی پورا انصاف ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے والد ہوتے ، تو کیا قرآن خود اپنی ہی مخالفت کرتا؟ اور انصاف کے بالمقابل تو ناانصافی ہی ہوتی ہے، کیا آپ نا انصافی کی نسبت اللہ کی ذات کی جانب کرنے کی ہمت کر سکتے ہیں؟ سورہ مریم آیت ۳۲ میں حضرت عیسٰی فرماتے ہیں کہ: وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا اور (مجھے) اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور سرکش وبدبخت نہیں بنایا جبکہ حضرت زکریا علیہ السلام کے فرزند کے متعلق اسی سورہ مریم آیت ۱۴ میں فرمایا گیا: وَبَرًّا بِوَالِدَيْهِ وَلَمْ يَكُن جَبَّارًا عَصِيًّا اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے اور سرکش اور نافرمان نہیں تھے اب ذرا تصور کیجئے کہ عیسائیوں کا پہلے سے عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے والد نہیں تھے بلکہ وہ معجزانہ طور پر پیدا ہوئے اور اسی لئے وہ انہیں اللہ کا بیٹا تسلیم کرنے لگے (نعوذباللہ)۔ اور پھر قرآن کی درج بالا آیات ملاحظہ کیجئے کہ جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صرف ماں کا فرمانبردار بتایا جا رہا ہے، کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بن باپ معجزانہ ولادت کی تردید ہو رہی ہے یا اشارۃ النص سے تائید؟ کیا قرآنی آیت یا اس کا کوئی بھی لفظ سرسری گزر جانے لائق بھی ہوا کرتا ہے؟ وہ لوگ جو بیوتہن کی ضمیر سے ہی خواتین کے لئے گھروں کی ملکیت ثابت کر ڈالتے ہیں، انہیں ان نکات پر جانے کیوں غور کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ پھر احادیث میں اسی عقیدہ کی توثیق ملتی ہے۔ چودہ صدیوں میں امت کے اکثر علمائے کرام اور امت کے کثیر فرقوں میں سے اکثریت کا نظریہ قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی معجزانہ ولادت ہی کا رہا ہے۔ اب آپ یقیناً درج بالا آیت کا ایسا مفہوم پیش فرمائیں گے کہ جس سے یہی ثابت ہوگا کہ اس آیت کا معجزانہ ولادت سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسری جانب احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے جو ہم پیش کرتے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ کون درست مفہوم لے رہا ہے اور کون غلط؟ اس جیسی آیات کی تفہیم میں منکرین حدیث کا طرز عمل ایسا ہے کہ پہلے تو آیات کا من مانا مفہوم کشید کرتے ہیں، اور پھر اس مفہوم ہی کو عین قرآن قرار دے ڈالتے ہیں۔ اور پھر اپنے اس مزعومہ مفہوم کے مخالف تمام احادیث کو ’خلاف قرآن‘ کہہ کر رد کرتے جاتے ہیں۔ جبکہ درست صورت یہ ہے کہ مثلاً ان درج بالا آیات میں آپ کے اور ہمارے درمیان اختلاف ہو گیا ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ قرآن کی ان آیات سے ہرگز معجزانہ ولادت ثابت نہیں ہوتی اور ہم انہی آیات کی روشنی میں معجزانہ ولادت کو درست سمجھتے ہیں۔ تو ایسے اختلاف میں احادیث کو آپ اپنے فہم کے مخالف ہونے کی وجہ سے خلاف قرآن قرار دینے کے بجائے اگر اپنے فہم کو حدیث کے تابع کر کے قرآن کو سمجھیں تو شاید کہ اللہ تعالیٰ دلوں کے قفل کھول دے اور حق بات کی قبولیت کی توفیق عطا فرما دے۔ چلیں مان لیں کہ حدیث قرآن پر قاضی نہیں ہو سکتی، تو بہرحال حدیث آپ کے فہم قرآن پر تو قاضی ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں سیدھا رستہ دکھا دے اور ہم میں سے جو بھی گمراہ ہو چکے ہیں، انہیں ہدایت نصیب فرما اور موت دے تو ایسی حالت میں دینا کہ ہم مومن ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔ |
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (10-01-12), کنعان (11-01-12), احمد نذیر (11-01-12), حیدر Rehan (11-01-12), حسن قادری (10-01-12), عبداللہ آدم (20-01-12), عبداللہ حیدر (10-01-12) |
![]() |
| Tags |
| پرستی, ولادت, معجزات, اوہام, اصرارِ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے رسیوں کی سانپ بننے کی حقیقت اور حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ ! | شریف | گپ شپ | 163 | 14-01-12 09:53 PM |
| بھارت میں حضرت عیسیٰؑ پر فلم بنے گی | جاویداسد | خبریں | 1 | 02-09-10 10:46 PM |
| حضرت عیسیٰ دنیا میں آئے تو مسلمان ہوں گے: قذافی | جاویداسد | خبریں | 5 | 02-09-10 12:18 AM |
| دجال، یاجوج ماجوج، عیسیٰ (علیہ السلام) اور قیامت | باذوق | مطالعہ حدیث | 2 | 15-06-09 04:03 PM |
| قرآن اور ولادت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام | Real_Light | علوم قرآن کریم | 4 | 24-12-08 10:13 PM |