واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


کیا بے وضو قرآن کو چھواجاسکتا ہے؟؟؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-03-11, 04:13 PM   #1
کیا بے وضو قرآن کو چھواجاسکتا ہے؟؟؟
محمد عاصم محمد عاصم آف لائن ہے 02-03-11, 04:13 PM

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بچپن میں ہمیں ایک بات کی نصحت کی جاتی تھی کہ قرآن مجید کو بغیر وضو ہاتھ نہ لگانا اس سے بہت گناہ ہوتا ہے مگر جب میں نے قدرے بڑے ہوکر اس بات کی تحقیق کی کہ کیا واقعی بغیر وضو قرآن مجید کو ہاتھ لگانا منع ہے تو میں حیران رہ گیا کہ ایسا حکم قرآن و صحیح حدیث میں کہیں بھی نہیں ہے
::یہ بھی ممکن ہے کہ مجھے ایسا حکم نہ ملا ہو اگر کسی بھائی کے علم میں ہوتو وہ رہنمائی فرمائے جزاک اللہ::اس کی تحقیق پیش کرنے سے پہلے یہ بتانا چاہوں کہ ایسی اور بھی بہت سی باتیں اور عقائد ہیں جو بنادی گئیں ہیں مگر ان کی اصل قرآن اور صحیح حدیث میں بالکل بھی نہیں ہے، ان عقائد میں نمازوں کی رکات بھی شامل ہیں مگر آج میں آپ کے سامنے اس بات کی تحقیق پیش کرونگا کہ کیا قرآن مجید کو بے وضو ہاتھ لگانا منع ہے کہ نہیں؟؟؟

اس پر جو سب سے بڑی دلیل دی جاتی ہے وہ قرآن کی یہ آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ

اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ 77۝ۙفِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ 78۝
ۙلَّا يَمَسُّهٗٓ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ 79۝ۭ

بیشک یہ قرآن ہے بڑا ہی عزت (و عظمت) والا، جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے
،جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔ سورۃ الواقعہ:۷۷۔۷۸۔۷۹

تفسیر تیسیر القرآن
مطہرون سے مراد کون؟ اس کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکیزہ لوگوں سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی یہ کتاب قرآن کریم لوح محفوظ میں ثبت ہے اور وہاں سے پاکیزہ فرشتے ہی اسے لا کر رسول اللہ تک پہنچاتے ہیں۔ کسی شیطان کی وہاں تک دسترس نہیں ہوسکتی جو اسے لا کر کسی کاہن کے دل پر نازل کر دے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے مضامین و مطالب تک رسائی صرف ان لوگوں کی ہوسکتی ہے جن کے خیالات پاکیزہ ہوں۔ کفر و شرک کے تعصبات سے پاک ہوں۔ عقل صحیح اور قلب سلیم رکھتے ہوں۔ جن لوگوں کے خیالات ہی گندے ہوں۔ قرآن کے بلند پایہ مضامین و مطالب تک ان کی رسائی ہو ہی نہیں سکتی۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کو صرف پاکیزہ لوگ ہی چھو سکتے ہیں یا چھونا چاہئے۔ مشرک اور ناپاک لوگوں کو ہاتھ نہ لگانا چاہئے۔ اسی آیت سے بعض علماء نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ بے وضو لوگوں کو قرآن کو ہاتھ نہ لگانا چاہیے۔ لیکن راجح تر بات یہی ہے کہ بے وضو بھی قرآن کو چھو سکتا اور اس سے تلاوت کرسکتا ہے۔ صرف جنبی اور حیض و نفاس والی عورت قرآن کو چھو نہیں سکتے۔ جب تک پاک نہ ہوں۔ البتہ حیض و نفاس والی عورت زبانی قرآن پڑھ بھی سکتی ہے اور پڑھا بھی سکتی ہے۔

اب اس آیت کے کئی مطالب سامنے آئے ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ کوئی انسان اس کتاب کو ہاتھ نہ لگائے مگر جو پاک ہو، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بغیر وضو انسان پلید، ناپاک ہوجاتا ہے؟ اگر تو ایسا ہی ہے پھر تو وضو لازم ہوا اور اگر ایسا نہیں ہے تو وضو کی شرط لگانا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ یہ دین میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سے مسائل کو جنم دیتا ہے مثلاً دیکھنے میں اکثر یہ آیا ہے کہ لوگ اکثر اس وجہ سے قرآن کی تلاوت کرنے سے رُک جاتے ہیں کہ وہ بے وضو ہیں اور اس طرح وہ قرآن سے دور ہوتے جا رہے ہیں بلکہ قرآن سے دور ہوچکے ہیں، میرے ساتھ خود کئی دفعہ ایسا ہوا کہ ہم کسی مسئلے پر بات چیت کر رہے ہوتے تو قرآن مجید کے حوالے کے لیے قرآن کی ضرورت پیش آئی اور ہم صرف اسی وجہ سے قرآن کو ہاتھ میں نہیں پکڑ رہے تھے کہ ہمارا وضو نہیں تھا اور وہ موقعہ محل بھی ایسا تھا کہ فوراً وضو بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، اب اس مسئلے میں دین میں اضافہ کس مقصد کے لیے کیا گیا تھا اس کا مجھے علم نہیں مگر اس کی وجہ سے لوگ قرآن سے ضرور دور ہو چکے ہیں، وضو بعض لوگوں پر اتنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم نماز نہیں پڑھتے کہ وضو کرنا پڑتا ہے ۔اور سردیوں میں تو بڑے بڑوں کی نماز رہ جاتی ہے صرف سردی میں وضو کی تکلیف سے بچنے کے لیے۔ شاید وہ جہنم کی گرمی کی شدت کو نہیں جانتے۔
اصل میں ناپاک وہ انسان ہوتا ہے جو مرد یا عورت جنبی ہو یا عورت حیض و نفاس سے ہو مگر بے وضو کو بھی ناپاک سمجھنا کسی بھی طور ٹھیک نہیں ہے۔
اب عمر رضی اللہ عنہ کا اثر پیش کرتا ہوں۔
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ فِي قَوْمٍ وَهُمْ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ وَهُوَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَلَسْتَ عَلَی وُضُوئٍ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مَنْ أَفْتَاکَ بِهَذَا أَمُسَيْلِمَةُ

محمد بن سيرین سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں میں بیٹھے اور لوگ قرآن پڑھ رہے تھے پس گئے حاجت کو اور پھر آکر قرآن پڑھنے لگے ایک شخص نے کہا آپ کلام اللہ پڑھتے ہیں بغیر وضوکے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تجھ سے کس نے کہا کہ یہ منع ہے کیا مسیلمہ نے کہا؟
موطاامام مالک:جلد نمبر 1:باب:کلا م اللہ بے وضو پڑھنے کی اجازت
عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یعنی ایسا حکم تو قرآن و حدیث میں کہیں نہیں ہے کہیں مسیلمہ کذاب نے تو ایسا حکم نہیں دے دیا؟؟؟اور آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہ مسیلمہ کذاب وہ شخص ہے جس نے نبیﷺ کی وفات کے بعد نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔
اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو قرآن و سنت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com

Last edited by محمد عاصم; 02-03-11 at 04:56 PM..

 
محمد عاصم's Avatar
محمد عاصم
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1493
Reply With Quote
15 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
asakpke (04-03-11), shafirajput (02-03-11), skjatala (30-05-11), پاکستانی (24-08-11), ھارون اعظم (03-03-11), یاسر عمران مرزا (30-05-11), مرزا عامر (04-03-11), مسلم بھائی (04-03-11), آبی ٹوکول (03-03-11), احمد بلال (04-03-11), ارشد کمبوہ (02-03-11), حیدر Rehan (03-03-11), سحر بٹ (01-06-11), شمشاد احمد (04-03-11), عبداللہ ناصر (07-06-11)
پرانا 02-03-11, 06:36 PM   #2
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,994
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ
جسے بغیر پاکو ں کے اور کوئی نہیں چھوتا
نہیں چھوتے اسے مگر وہ جو پاک صاف ہیں۔
تفسیر ابن کسیر

۔ ابن مسعود کی قرأت میں (مایمسہ) ہے ابو العالیہ کہتے ہیں یہاں پاک سے مراد صاف فرمایا آیت (وما تنزلت بہ الشیاطین) یعنی اسے نہ تو شیطان لے کر اترا ہیں نہ ان کے یہ لائق نہ ان کی یہ مجال بلکہ وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ ہیں۔ یہی قول اس آیت کی تفسیر میں دل کو زیادہ لگتا ہے ۔ اور اقوال بھی اس کے مطابق ہو سکتے ہیں۔ فراء نے کہا ہے اس کا ذائقہ اور اس کا لطف صرف باایمان لوگوں کو ہی میسر آتا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد جنابت اور حدث سے پاک ہونا ہے گو یہ خبر ہے لیکن مراد اس سے انشاء ہے۔ اور قرآن سے مراد یہاں پر مصحف ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان ناپاکی کی حالت میں قرآن کو ہاتھ نہ لگائے ایک حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن ساتھ لے کر حربی کافروں کے ملک میں جانے سے منع فرمایا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اسے دشمن کچھ نقصان پہنچائے (مسلم) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمان حضرت عمرو بن حرم کو لکھ کر دیا تھا اس میں یہ بھی تھا کہ قرآن کو نہ چھوئے مگر پاک ۔ (موطا مالک ) مراسیل ابو داؤد میں ہے زہری فرماتے ہیں میں نے خود اس کتاب کو دیکھا ہے اور اس میں یہ جملہ پڑھا ہے کو اس روایت کی بہت سی سندیں ہیں لیکن ہر ایک قابل غور ہے واللہ اعلم ۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے علاقے میں قرآن مجید لے کر جانے سے منع فرمایا تھا
صحیح بخاری

بھائی عاصم مزید یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ایمان لانے کا واقعہ بھی پڑھ لیں خصوصی طور پر جب وہ اپنی بہن کے گھر پہنچے تھے ۔۔۔ اس وقت ان کی بہن نے انہیں کیا فرمایا تھا ؟ قرآن کو ھاتھ لگانے سے متعلق ؟


قرآن چھونے کے لیے طہارت شرط ہے۔ ظاہری نجاست سے ہاتھ کا پاک ہونا باوضو ہونا اور جنابت نہ ہونا، یہ سب طہارت میں شامل ہے، جمہور کی دلیل وہ حدیث ہے جو مضبوط روایات کے ساتھ حضور -صلی اللہ علیہ وسلم- سے منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن حزم رضی اللہ عنہ کو خط لکھا جس میں یہ تھا: أنہ کتب لعمر بن حزم: لا یمسّ القرآن إلاَّ طاہر (احکام القرآن للمفتی محمد شفیع) کہ اس قرآن کو پاک (باوضو) ہی چھوسکتا ہے۔ نیز وہ حدیث بھی دلیل ہے جس میں عمر کے اسلام لانے کا واقعہ مذکور ہے اس میں ہے: فقال لأختہ أعطوني الکتاب الذي کنتم تقروٴون فقالت إنک رجس وإنہ لا یمسہ إلا المطھرون فقم فاغتسل أو توضأ فتوضأ فأخذ الکتاب فقرأہ (أحکام القرآن للجصاص) کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن سے قرآن مانگا۔ بہن نے کہا کہ تم ناپاک ہو، قرآن کو تو پاک لوگ ہی چھوسکتے ہیں، لہٰذا جاوٴ غسل کرو یا وضو کرو! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وضو کیا پھر قرآن لے کر پڑھا۔ نیز حضرت سعد سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو بے وضو قرآن چھونے سے منع کیا، حضرت ابن عمر سے بھی اسی کے مثل منقول ہے۔ (احکام القرآن للجصاص) ان احادیث اور آثار کی وجہ سے اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ بے پاکی (بلاوضو) کے قرآن چھونا جائز نہیں۔

دارلعلوم دیوبند


والسلام
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
asakpke (04-03-11), dxbgraphics (03-03-11), کنعان (03-03-11), محمد عاصم (02-03-11), مرزا عامر (03-03-11), آبی ٹوکول (02-03-11), اویسی (07-06-11), ارشد کمبوہ (02-03-11), شمشاد احمد (04-03-11), عروج (03-03-11)
پرانا 02-03-11, 07:30 PM   #3
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,638
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آپ نے بھی مطھرون کا ترجمہ پاک کا ہی کیا ہے اور زیادہ تر آپ کی تحریر میں ہے کہ
اقتباس:
بعض کہتے ہیں مراد جنابت اور حدث سے پاک ہونا ہے گو یہ خبر ہے لیکن مراد اس سے انشاء ہے۔ اور قرآن سے مراد یہاں پر مصحف ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان ناپاکی کی حالت میں قرآن کو ہاتھ نہ لگائے
میں بھی اس بات سے متفق ہوں کہ ناپاکی کی حالت میں قرآن مجید چھوا نہیں جاسکتا جیسا کہ میری تحریر سے یہ بات واضح ہے، اب آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا بےوضو شخص ناپاک ہوتا ہے؟؟؟
اقتباس:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے علاقے میں قرآن مجید لے کر جانے سے منع فرمایا تھا
صحیح بخاری
جی بالکل ایسا منع کیا گیا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ قرآن مجید کو کوئی کافر شہید یا قرآن مجید کی کوئی بے حرمتی نہ کرسکے۔
اقتباس:
بھائی عاصم مزید یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ایمان لانے کا واقعہ بھی پڑھ لیں خصوصی طور پر جب وہ اپنی بہن کے گھر پہنچے تھے ۔۔۔ اس وقت ان کی بہن نے انہیں کیا فرمایا تھا ؟ قرآن کو ھاتھ لگانے سے متعلق ؟
جی بھائی ان کی بہن نے یہی کہا تھا کہ آپ ناپاک ہیں اس قرآن مجید کو ابھی ہاتھ نہ لگائیں مگر یہ الفاظ وہاں نہیں ہیں جیسا کہ آپ نے لکھا ہے کہ
اقتباس:
وضو کرو! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وضو کیا پھر قرآن لے کر پڑھا۔
اب یہ آپ پر ہے کہ آپ مجھے ان الفاظ کا حدیث کے عربی متن سے ثبوت دیں شکریہ۔
میں مزید اس پر یہ کہوں گا کہ آپ کی بہن نے جو منع کیا تھا ان کا مقصد یہ بھی ہوسکتا تھا کہ
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ
اے ایمان والو! بیشک مشرک بالکل ہی ناپاک ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔التوبہ : ۲۸
میری ساری کتابیں اس وقت سکول میں پڑی ہوئیں ہیں اس لیے میں پورا واقعہ یاد نا ہونے کی وجہ سے پیش نہیں کر سکا اگر آپ کے پاس یہ پورا واقعہ ہے تو پیش کریں اور ساتھ عربی متن ضرور دیں۔جزاک اللہ
اقتباس:
حضرت سعد سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو بے وضو قرآن چھونے سے منع کیا، حضرت ابن عمر سے بھی اسی کے مثل منقول ہے۔ (احکام القرآن للجصاص) ان احادیث اور آثار کی وجہ سے اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ بے پاکی (بلاوضو) کے قرآن چھونا جائز نہیں۔
آپ کا آخری اقتباس مختاجِ دلیل ہے بھائی اوپر میں نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اثر پیش کیا ہے اس میں بات بالکل واضح ہے اب آپ کہہ رہیں کہ ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا قول اس بات کے خلاف پیش کر رہے ہیں، بہرحال آپ ان باتوں کی دلیل حوالہ کے ساتھ دیں۔
جزاک اللہ
اور میرا یہ موقف یہ ہے کہ ایک مسلم بےوضو پاک ہوتا ہے اور وضو کے بغیر ناپاک اور پلید ہر گز ہرگز بھی نہیں ہے۔

Last edited by محمد عاصم; 02-03-11 at 10:01 PM.
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
sahj (03-03-11), فیصل ناصر (03-03-11), مرزا عامر (03-03-11), مسلم بھائی (04-03-11), ارشد کمبوہ (04-03-11), شمشاد احمد (04-03-11), عبداللہ ناصر (07-06-11)
پرانا 03-03-11, 07:45 AM   #4
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,994
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم

بھائی عاصم آپ کے مراسلے میں سے کچھ بھی کوٹ کئیے بغیر اپنا موقف صرف اور صرف قرآن کی آیت اسکے ترجمہ اور تفسیر ابن کثیر اور ایک عدد دیوبند فتوے کے ساتھ پیش کیا تھا ۔ میرے الفاظ صرف
اقتباس:
بھائی عاصم مزید یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ایمان لانے کا واقعہ بھی پڑھ لیں خصوصی طور پر جب وہ اپنی بہن کے گھر پہنچے تھے ۔۔۔ اس وقت ان کی بہن نے انہیں کیا فرمایا تھا ؟ قرآن کو ھاتھ لگانے سے متعلق ؟
یہ تھے۔

بخاری کی جو حدیث
اقتباس:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے علاقے میں قرآن مجید لے کر جانے سے منع فرمایا تھا
صحیح بخاری
پیش کی یہ تفسیر ابن کثیر میں موجود مسلم کی حدیث
اقتباس:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن ساتھ لے کر حربی کافروں کے ملک میں جانے سے منع فرمایا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اسے دشمن کچھ نقصان پہنچائے (مسلم)
کے اثبات میں اپنی طرف سے پیش کی اور غور کریں کہ تفسیر ابن کثیر کی عبارت میں ہی موجود ھے کہ قرآن کو بے وضو ہاتھ نہیں لگانا چاھئے
اقتباس:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمان حضرت عمرو بن حرم کو لکھ کر دیا تھا اس میں یہ بھی تھا کہ قرآن کو نہ چھوئے مگر پاک ۔ (موطا مالک ) مراسیل ابو داؤد میں ہے زہری فرماتے ہیں میں نے خود اس کتاب کو دیکھا ہے اور اس میں یہ جملہ پڑھا ہے کو اس روایت کی بہت سی سندیں ہیں لیکن ہر ایک قابل غور ہے واللہ اعلم ۔
امید ھے آپ سمجھنے کی کوشش کریں گے

باقی جب آپ خود مانتے ہیں کہ
اقتباس:
میں بھی اس بات سے متفق ہوں کہ ناپاکی کی حالت میں قرآن مجید چھوا نہیں جاسکتا جیسا کہ میری تحریر سے یہ بات واضح ہے، اب آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا بےوضو شخص ناپاک ہوتا ہے؟؟؟
اس اقتباس میں آپ نے جو سوال کیا ھے بھائی اسکا جواب ھے نہیں ۔

بھائی عاصم موطا امام مالک میں سے جو حدیث آپ نے اپنے لیڈنگ مراسلے میں لکھی ھے
اقتباس:
موطاامام مالک:جلد نمبر 1:باب:کلا م اللہ بے وضو پڑھنے کی اجازت
اس باب اور حدیث سے پہلے کی حدیث اور باب بھی شاید آپ نے دیکھا ھو ؟ اگر نہیں دیکھا ھو تو دیکھ لیجئے گا نقل میں پیش کر دیتا ھوں۔

باب: کتاب القرآن
قرآن چھونے کے واسطے باوضو ھونا ضروری ھے

عن عبداللہ بن ابی بکر بن حزم ان فی الکتاب الزی کتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعمرو بن حزم ان لا یمس القرآن الا طاھر

عبداللہ بن ابی بکر بن حزم سے روایت ھے کہ جو کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھی تھی عمرو بن حزم کے واسطے اس میں یہ بھی تھا کہ قرآن نہ چھوئے مگر جو شخص باوضو ھو ۔

اب آخری بات بھائی عاصم کہ دونوں قسم کی احادیث موطا امام مالک میں ہی موجود ہیں ، اسلئیے میری سمجھ میں تو یہی آتا ھے کہ افضل ترین یہی ھے کہ کسی حال میں بھی کتاب قرآن کو بغیر وضو کے نہ چھوا جائے ، ادب و احترام قرآن ہم پر زیادہ ضروری ھے

اقتباس:
مسئلہ قرآن مجيد اور پاروں کے پورے کاغذ کا چھونا مکروہ تحريمى ہے خواہ اس موقع کو چھوئے جس ميں آيت لکھى ہے يا اس موقع کو جو سادہ ہے اور اگر پورا قرآن نہ ہو بلکہ کسى کاغذ يا کپڑے يا جھلى وغيرہ پر قرآن کى ايک پورى آيت لکھى ہوئى ہو باقى حصہ سادہ ہو تو سادہ جگہ کا چھونا جائز ہے جبکہ آيت پر ہاتھ نہ لگے۔
بہشتی زیور
حدث اصغر يعنى بے وضو ہونے کى حالت کے احکام




یہ تھریڈ بھی دیکھ لیں
باوضو قرآن کی تلاوت

اور یہاں بھی اک مضمون ھے

والسلام
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (04-03-11), آبی ٹوکول (04-03-11), ارشد کمبوہ (04-03-11), شمشاد احمد (04-03-11)
پرانا 03-03-11, 07:54 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تنقید برائے اصلاح اچھی لگی۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (04-03-11), مرزا عامر (04-03-11), عبداللہ ناصر (07-06-11)
پرانا 03-03-11, 07:57 AM   #6
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,638
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
باب: کتاب القرآن
قرآن چھونے کے واسطے باوضو ھونا ضروری ھے
عن عبداللہ بن ابی بکر بن حزم ان فی الکتاب الزی کتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعمرو بن حزم ان لا یمس القرآن الا طاھر
بھائی بات پھر وہیں آرہی ہے کہ طاہر کے کیا معنی ہیں کیا اس کا معنی یہ ہے کہ وضو والا؟؟؟
جب کہ طاہر کا معنی پاک ہے اور آپ بھی مانتے ہیں کہ بےوضو مسلم پاک ہوتا ہے تو اس حدیث میں بھی یہی بات ہے کہ کوئی جنبی یا حیض و نفاس والی عورت اس کو نہ پکڑے۔
خیر باقی باتیں بعد میں ان شاءاللہ، ابھی میں لاہور جانے لگا ہوں۔
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (03-03-11), مسلم بھائی (04-03-11), ارشد کمبوہ (04-03-11), شمشاد احمد (04-03-11), عبداللہ ناصر (07-06-11)
پرانا 03-03-11, 08:47 AM   #7
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,048
کمائي: 22,680
شکریہ: 873
1,314 مراسلہ میں 2,842 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ویری گڈ ۔ ۔ ۔ بہت اچھے
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
مہتاب کا شکریہ ادا کیا گیا
شمشاد احمد (04-03-11)
پرانا 03-03-11, 05:10 PM   #8
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یعنی ایسا حکم تو قرآن و حدیث میں کہیں نہیں ہے کہیں مسیلمہ کذاب نے تو ایسا حکم نہیں دے دیا؟؟؟
اور آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہ مسیلمہ کذاب وہ شخص ہے جس نے نبیﷺ کی وفات کے بعد نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔
اسلام علیکم بھائی سب سے پہلے تو آپکی توجہ آپ کی ایک تاریخی اور بہت بڑی غلطی کی طرف مبذول کروانا چاہوں گا کہ آپ نے جو یہ لکھا کہ ۔ ۔ ۔
یہ مسیلمہ کذاب وہ تھا کہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کہ بعد نبوت کا اعلان کیا تھا ۔ ۔ ۔
ہمیں نہیں معلوم کہ آپ نے یہ کیسے کہہ دیا ؟؟؟؟
جبکہ تاریخ و سیرت کا ادنٰی سا طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ مسیلمہ کذاب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کہ بعد نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ میں ہی نبوت کا دعوٰی کردیا تھا اور یہ بات تو اتنی مشھور اور تواتر سے ثابت ہے کہ ہمارے پاکستان میں نصاب کی کتب میں بھی پڑھنے کو مل جاتی ہے سو ریکارڈ کی درستگی فرما لیجیئے کہ ۔ ۔ ۔

طحاوی باب "استباۃ المرتد" میں حضرت عبداللہ بن مسعود کا ایک تاریخی فیصلہ رقم ہے جو کہ مرتدین اور شاتمین رسول دونوں حدود کا جامع ہے ۔ ہوا یوں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیروان مسیلمہ کذاب کو ارتداد کے جرم میں گرفتار کرکے پیش کیا گیا جنھوں نے توبہ کرتے ہوئے معافی کی درخواست کی ۔ ان میں سے ایک شخص عبداللہ ابن النواحہ کو آپ رضی اللہ عنہ نے باوجود توبہ کے سزائے موت دی لوگوں نے اعتراض کیا کے ایک ہی جرم میں دو مختلف سزاؤں کا کیا جواز ؟؟؟؟؟
جس پر حضرت عبداللہ ابن مسعود جو کہ فقہ حنفی کے امام المنتہٰی ہیں نے جواب دیا کہ ابن النواحہ وہ آدمی ہے جو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حجرو بن وثال کے ساتھ مسیلمہ کا سفیر بن کر حاضر ہوا تھا ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟؟؟ اس پر ان دونوں نے کہا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے (جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں صریح گستاخی تھی) جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر سفارت کاروں کا قتل جائز ہوتا تو میں تم دونوں کو قتل کردیتا لہذا اب چونکہ یہ گرفتار ہوکر آیا ہے لہذا اسے اسی جرم کی سزا دی گئی ہے ۔ ۔


اس حدیث (اثر صحابی) سے جہاں یہ ثابت ہوا ہے شاتم رسول کی سزا موت ہے وہیں یہ بھی ثابت ہوا کہ مسیلمہ نے دعوٰی نبوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کیا تھا اس کے علاوہ بھی بے شمار تاریخی شواہد موجود ہیں کہ مسیلمہ نے اپنے قاصد اور خطوط آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجے اور جوابا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی طرف خط بھیجا وغیرہ ۔ ۔ ۔


اقتباس:
بچپن میں ہمیں ایک بات کی نصحت کی جاتی تھی کہ قرآن مجید کو بغیر وضو ہاتھ نہ لگانا اس سے بہت گناہ ہوتا ہے مگر جب میں نے قدرے بڑے ہوکر اس بات کی تحقیق کی کہ کیا واقعی بغیر وضو قرآن مجید کو ہاتھ لگانا منع ہے تو میں حیران رہ گیا کہ ایسا حکم قرآن و صحیح حدیث میں کہیں بھی نہیں ہے[/SIZE][SIZE=5][COLOR=#ff0000][SIZE=5][COLOR=#ff0000]::یہ بھی ممکن ہے کہ مجھے ایسا حکم نہ ملا ہو اگر کسی بھائی کے علم میں ہوتو وہ رہنمائی فرمائے جزاک اللہ ۔۔۔۔۔
جہان تک معاملہ ہے آپکی پیش کردہ اس تحقیق کا تو یہ خود آپ ہی کے الفاظ سے ثابت ہے کہ آپ کو خود بھی اپنی اس تحقیق پر اعتماد نہیں اس لیے آپ نے دیگر احباب سے علمی امداد کی استعانت فرمائی ہے تو اولا عرض ہے کہ میں اس قسم کے فقہی مذاہب میں اختلاف پر عموما بحث نہیں کیا کرتا سردست اتنا عرض کردیتا ہوں کہ اس موضوع پر جو آپ نے تحقیق فرمائی ہے وہ ائمہ متقدمین میں سے داؤد ابن ظاہری کا مذہب ہے جبکہ موجودہ دور میں فرقہ غیر مقلدین کا مذہب ہے۔ جبکہ امت کے اس چھوٹے سے گروہ کے علاوہ باقی تمام امت کا جو جمہور مذہب ہے وہ یہی ہے کہ قرآن کو بلا وضو چھونا جائز نہیں بلکہ صاحب تفسیر مظہری نے تو اس پر اجماع نقل فرمایا ہے اور جمہور کی دلیل وہی آیت ہے کہ جس کو آپ نے بھی نقل فرمایا ہے کہ ۔ ۔ ۔۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:

لایمسہ الا المطہرون“ (واقعہ:۷۹)

یعنی اس کو وہی چھوتے ہیں جو پاک بنائے گئے ہیں۔ اس آیت کریمہ کا مطلب مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ مصحف قرآن کو بغیر طہارت کے چھونا جائز نہیں۔ چنانچہ تفسیر مظہری میں ہے:

”فالمعنی لایمس القرآن الا المطہرون من الاحداث فیکون بمعنی النہی والمراد بالقرآن المصحف“(۱۰:۱۸۱)

یعنی قرآن کو نہیں چھوتے ․․․مراد یہ کہ قرآن کو نہ چھوئیں․․․ مگر وہی لوگ جو پاک ہوں اور قرآن سے مراد یہی لکھی ہوئی کتاب ہے۔حدیث میں ہے:

”لایمس القرآن الا طاہر“ (نصب الرایة‘۱:۲۸)”

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قرآن کو پاک لوگ ہی چھوئیں“۔
دوسری حدیث میں ہے:

”عن عبد الرحمن بن یزید قال: کنا مع سلمان فخرج فقضی حاجتہ ثم جاء‘ فقلت: یا ابا عبد اللہ! لو توضأت لعلنا نسالک عن آیات قال انی لست امسہ انہ لایمسہ الا المطہرون فقرأ علینا ما شئنا انتہی“۔و صححہ الدار قطنی (نصب الرایة‘۱:۲۸۴)

یعنی حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ ہم حضرت سلمان کے ساتھ تھے کہ وہ قضائے حاجت کے لئے گئے اور پھر جب آئے تو میں نے کہا :اے ابو عبد اللہ! اگر آپ وضوکر لیتے تو ہم آپ سے چند آیات کے بارے میں پوچھتے تو آپ نے فرمایا کہ: میں․․․․اس حالت میں․․․ قرآن کو چھوؤں گا نہیں‘ اس لئے کہ قرآن کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں پھر ہمارے سامنے ہماری مطلوبہ آیات کی تلاوت کی۔

قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہاء کرام کا اس بات پر اجماع واتفاق ہے کہ ناپاکی کی حالت میں قرآن کریم کو چھونا جائز نہیں ہے۔

چنانچہ تفسیر مظہری میں ہے:

”وقد انعقد الاجماع علی انہ لایجوز مس المصحف للجنب والحائض ولا للنفساء ولا لمحدث“۔ (۱۰:۱۸۱)

حائضہ عورت قرآن کریم کی تلاوت نہیں کرسکتی ہے :

چنانچہ حدیث میں ہے:

”قال لاتقرأ الحائض ولا الجنب شیئا من القرآن“۔ (ترمذی:۱:۳۴)
یعنی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: حائضہ اور جنبی عورت قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں۔

تفسیر مظہری میں ہے:

”ولما ورد لایمسہ الا المطہرون‘ فالفاظ القرآن اولی واحری ان لایجری الا علی لسان المطہرین والحائض والنفساء کالخبث“۔ (۱۰:۱۸۲)

لہذا جمہور امت اور ائمہ اسلاف اس بات پر متحد ومتفق ہیں کہ حائضہ عورت قرآن کریم کی تلاوت نہیں کرسکتی۔ چنانچہ معارف السنن میں ہے:

”ذہب الجمہور وابوحنیفہ رحمہ اللہ والشافعی رحمہ اللہ واحمد رحمہ اللہ اکثر العلماء والائمة الی منع الحائض والجنب عن قراء ة القرآن قلیلہا وکثیرہا“ ۔(۱:۴۴۵)


لہذا قرآن کریم کا حیض کی حالت میں بغیر کپڑے کے چھونا اور اس کا پڑھنا پڑھانا از روئے قرآن وحدیث ناجائز ہے‘ البتہ حائضہ معلمہ ایک ایک کلمہ الگ الگ کرکے یا ہجے کرکے قرآن پڑھا سکتی ہے۔ چنانچہ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

”اذا حاضت المعلمة فینبغی لہا ان تعلم الصبیان کلمة کلمة‘ وتقطع بین کلمتین ولایکرہ لہا التہجی بالقرآن کذا فی المحیط“ ۔ (۱:۳۸)

فتاویٰ شامی میں ہے:

”لانہ جوز للحائض المعلمة تعلیمہ کلمة کلمة“۔ (۱:۱۸۲

سو ہمیں آپ کی حیرت پر حیرت ہوئی کہ آپ سے جمہور فقہاء کا یہ مسلک کس طرح سے مسطور رہا کہ آپ نے یہ فرما دیا کہ ۔۔۔ تو میں حیران رہ گیا کہ ایسا حکم قرآن و صحیح حدیث میں کہیں بھی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ میرے بھائی یہ جمہور کا مسلک ہے اور اسکے ساتھ ساتھ ایک فروعی اختلافی مسئلہ ہے اس پر اگر آپکو تحقیق کے نام پر کچھ پیش ہی کرنا ہے تو برائے مہربانی تحقیق پیش کیجیئے نہ کے اپنا قلت مطالعہ ۔ ۔ ۔ باقی سردست آپ کی تحریر میں ایک بھی دلیل نہیں کہ جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ بغیر وضو کے قرآن کو چھونا جائز ہے لہزا سردست آپ کے سامنے فقط جمہور کا مسلک مختصرا پیش کیا ہے آپ کے پیش کردہ مراسلہ کی کسی بھی دلیل کو ہم نے نہیں چھوا تک نہیں کیونکہ وہاں پر ایسی کوئی دلیل ہے ہی نہیں تھی ۔ ۔ ۔ ۔ والسلام
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا

Last edited by آبی ٹوکول; 03-03-11 at 06:33 PM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
asakpke (04-03-11), sahj (03-03-11), فاروق سرورخان (31-05-11), کنعان (04-03-11), مہتاب (03-03-11), مرزا عامر (04-03-11), اویسی (07-06-11), ارشد کمبوہ (04-03-11), شمشاد احمد (04-03-11)
پرانا 03-03-11, 06:52 PM   #9
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,048
کمائي: 22,680
شکریہ: 873
1,314 مراسلہ میں 2,842 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
باقی سردست آپ کی تحریر میں ایک بھی دلیل نہیں کہ جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ بغیر وضو کے قرآن کو چھونا جائز ہے لہزا سردست آپ کے سامنے فقط جمہور کا مسلک مختصرا پیش کیا ہے آپ کے پیش کردہ مراسلہ کی کسی بھی دلیل کو ہم نے نہیں چھوا تک نہیں کیونکہ وہاں پر ایسی کوئی دلیل ہے ہی نہیں تھی ۔ ۔ ۔ ۔
آپ کا بہت بہت شکریہ !
اللہ رب العزت آپ کو جزائے خیر سے نوازے

فی الحال تو میں تو اسلام آباد جا رہا ہوں

والسلام
__________________
اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور اسکی طرف وسیلہ ڈھونڈو (جس کی بدولت تمہیں اس کا قُرب حاصل ہو ) اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ (المائدہ 35)
ندامت میں جھکے ہوئے سر سے اطاعت میں جھُکا ہوا سر بہتر ہے
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (31-05-11), کنعان (04-03-11), آبی ٹوکول (03-03-11), اویسی (07-06-11), ارشد کمبوہ (04-03-11), شمشاد احمد (04-03-11)
پرانا 03-03-11, 10:53 PM   #10
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,638
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آبی صاحب ابھی ابھی میں لاہور سے گھر پہنچا ہوں، آپ کا مراسلہ مکمل نہیں پڑھا مکمل پڑھ کر ہی کوئی جواب دونگا، ان شاءاللہ
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
مسلم بھائی (04-03-11), آبی ٹوکول (03-03-11), ارشد کمبوہ (04-03-11), شمشاد احمد (04-03-11), عبداللہ ناصر (07-06-11)
پرانا 04-03-11, 12:36 AM   #11
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,638
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اسلام علیکم بھائی سب سے پہلے تو آپکی توجہ آپ کی ایک تاریخی اور بہت بڑی غلطی کی طرف مبذول کروانا چاہوں گا کہ آپ نے جو یہ لکھا کہ ۔ ۔ ۔
یہ مسیلمہ کذاب وہ تھا کہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کہ بعد نبوت کا اعلان کیا تھا ۔ ۔ ۔
ہمیں نہیں معلوم کہ آپ نے یہ کیسے کہہ دیا ؟؟؟؟
جبکہ تاریخ و سیرت کا ادنٰی سا طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ مسیلمہ کذاب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کہ بعد نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ میں ہی نبوت کا دعوٰی کردیا تھا اور یہ بات تو اتنی مشھور اور تواتر سے ثابت ہے کہ ہمارے پاکستان میں نصاب کی کتب میں بھی پڑھنے کو مل جاتی ہے سو ریکارڈ کی درستگی فرما لیجیئے
والسلام بھائی میں حیران ہوں کہ آپ نے بات کہاں سے شروع کی ہے!!! خیر کوئی بات نہیں ہے جیسے آپ نے مناسب سمجھا ویسا کیا تو بھائی عرض ہے کہ میں جیسا احادیث میں پڑھا تھا ویسا ہی لکھا تھا کہ مسیلمہ کذاب نے نبوت کا باقائدہ اعلان آپﷺ کی وفات کے بعد ہی کیا تھا جیسا کہ ایک حدیث میں نبی ﷺ نے خود پشین گوئی فرمائی تھی۔۔۔۔۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ مُسَيْلِمَةُ الْکَذَّابُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَقُولُ إِنْ جَعَلَ لِي مُحَمَّدٌ الْأَمْرَ مِنْ بَعْدِهِ تَبِعْتُهُ وَقَدِمَهَا فِي بَشَرٍ کَثِيرٍ مِنْ قَوْمِهِ فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِطْعَةُ جَرِيدٍ حَتَّی وَقَفَ عَلَی مُسَيْلِمَةَ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ لَوْ سَأَلْتَنِي هَذِهِ الْقِطْعَةَ مَا أَعْطَيْتُکَهَا وَلَنْ تَعْدُوَ أَمْرَ اللَّهِ فِيکَ وَلَئِنْ أَدْبَرْتَ ليَعْقِرَنَّکَ اللَّهُ وَإِنِّي لَأَرَاکَ الَّذِي أُرِيتُ فِيکَ مَا رَأَيْتُ فَأَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَأَهَمَّنِي شَأْنُهُمَا فَأُوحِيَ إِلَيَّ فِي الْمَنَامِ أَنْ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا فَأَوَّلْتُهُمَا کَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ بَعْدِي فَکَانَ أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيَّ وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةَ الْکَذَّابَ صَاحِبَ الْيَمَامَةِ

ابوالیمان شعیب عبد اللہ بن ابی حسین نافع بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مسیلمہ کذاب نے آ کر عرض کیا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بعد مجھے خلافت عطا کر دیں تو میں ان کا تابع ہو جاتا ہوں اور وہ اپنی قوم کے بہت لوگوں کو اپنے ساتھ لایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف چلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس بھی تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک لکڑی کا ٹکڑا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسیلمہ کذاب کے پاس معہ اصحاب جا کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا اگر تو مجھ سے بقدر اس لکڑی کے ٹکڑے کے طلب کرے تو میں تجھ کو نہ دوں گا اور اللہ تعالیٰ کا جو حکم تیرے بارے میں ہو چکا ہے تو اس سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ اور اگر تو کچھ روز زندہ رہا تو اللہ تجھ کو ہلاک کر دے اور یقینا میں تجھ کو وہی شخص سمجھتا ہوں جس کی نسبت میں نے خواب میں دیکھا ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میں سو رہا تھا تو میں نے اپنے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن دیکھے تو مجھے فکر ہوئی اور خواب میں وحی آئی کہ آپ ان کو پھونک دیجئے، میں نے ان کو پھونک دیا تو وہ اڑگئے میں نے اس کی تعبیر ان دو کذابوں سے لی جو
میرے بعد ظاہر ہوں گے پس ان میں سے ایک عنسی اور دوسرا یمامہ کا رہنے والا مسیلمہ کذاب تھا۔

صحیح بخاری:جلد۲:موضوع کتاب:انبیاء علیہم السلام کا بیان:باب:اسلام میں نبوت کی علامتوں کا بیان
عمرو بن علی افلاس، معاذ بن ہشام اپنے والد سے وہ قتادہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا ہم نہیں سمجھتے کہ عرب کے تمام قبائل میں انصار سے زیادہ عزت والا کوئی قیامت کے دن ہو قتادہ کہتے ہیں کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ احد کے دن ستر آدمی انصار کے شہید ہوئے اور اتنے ہی بیرمعونہ کے دن اور اتنے ہی جنگ یمامہ کے دن اور بیرمعونہ کا واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہوا تھا اور یمامہ کا واقعہ
خلافت صدیقی میں ہوا جس دن مسیلمہ کذاب سے مقابلہ ہوا۔

صحیح بخاری:جلد۲:موضوع کتاب:غزوات کا بیان:باب: شہدا احد کا بیان
میں نے احادیث پیش کی ہیں کوئی اپنی عقل پیش نہیں کی اگر پھر بھی آپ مجھ پر کوئی اور الزام لگانا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی۔
اقتباس:
جہان تک معاملہ ہے آپکی پیش کردہ اس تحقیق کا تو یہ خود آپ ہی کے الفاظ سے ثابت ہے کہ آپ کو خود بھی اپنی اس تحقیق پر اعتماد نہیں اس لیے آپ نے دیگر احباب سے علمی امداد کی استعانت فرمائی ہے
میں نے جو رہنمائی مانگی تھی وہ قرآن و صحیح حدیث کے حوالے سے تھی مگر افسوس کہ آپ نے قرآن و حدیث میں سے کوئی بھی دلیل اس کے خلاف پیش نہیں کی ہے لہذا میں ابھی بھی اس بات پر مطمئین ہوں کہ ایک مسلم قرآن مجید کو بےوضو چھو سکتا ہے کیونکہ ایک مسلم بےوضو بھی پاک و طیب ہی ہوتا ہے نہ کہ پلید و ناپاک، اور جو آپ نے مختلف علماء کے اقوال پیش کیے ہیں ان میں بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ اس قرآن کو وہی چھوے جو پاک، طاہر ہو۔
اقتباس:
لایمسہ الا المطہرون“ (واقعہ:۷۹)
یعنی اس کو وہی چھوتے ہیں جو پاک بنائے گئے ہیں۔ اس آیت کریمہ کا مطلب مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ مصحف قرآن کو بغیر طہارت کے چھونا جائز نہیں۔ چنانچہ تفسیر مظہری میں ہے:
”فالمعنی لایمس القرآن الا المطہرون من الاحداث فیکون بمعنی النہی والمراد بالقرآن المصحف“(۱۰:۱۸۱)
یعنی قرآن کو نہیں چھوتے ․․․مراد یہ کہ قرآن کو نہ چھوئیں․․․ مگر وہی لوگ جو پاک ہوں اور قرآن سے مراد یہی لکھی ہوئی کتاب ہے۔حدیث میں ہے:
”لایمس القرآن الا طاہر“ (نصب الرایة‘۱:۲۸)”
حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قرآن کو پاک لوگ ہی چھوئیں“۔

اب ان میں کہاں لکھا ہے کہ وضو کر کے چھوے؟؟؟
اور جو آپ نے ایک کوئی واقعہ لکھا ہے اور نام اس کو حدیث کا دیا ہے اس کی سمجھ نہیں آئی کہ یہ واقعہ حدیث کی طرح بن گیا ہے؟؟؟
اقتباس:
دوسری حدیث میں ہے:
”عن عبد الرحمن بن یزید قال: کنا مع سلمان فخرج فقضی حاجتہ ثم جاء‘ فقلت: یا ابا عبد اللہ! لو توضأت لعلنا نسالک عن آیات قال انی لست امسہ انہ لایمسہ الا المطہرون فقرأ علینا ما شئنا انتہی“۔و صححہ الدار قطنی (نصب الرایة‘۱:۲۸۴)
یعنی حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ ہم حضرت سلمان کے ساتھ تھے کہ وہ قضائے حاجت کے لئے گئے اور پھر جب آئے تو میں نے کہا :اے ابو عبد اللہ! اگر آپ وضوکر لیتے تو ہم آپ سے چند آیات کے بارے میں پوچھتے تو آپ نے فرمایا کہ: میں․․․․اس حالت میں․․․ قرآن کو چھوؤں گا نہیں‘ اس لئے کہ قرآن کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں پھر ہمارے سامنے ہماری مطلوبہ آیات کی تلاوت کی۔
اب معاملہ آ رہا ہے پاک طاہر کا اب دیکھتیں ہیں کہ پاک و طاہر احادیث میں کس کو کہا گیا ہے یعنی کہ باوضو کو پاک کہا گیا ہے اور بے وضو کو ناپاک؟؟؟
ایک حدیث پیشِ خدمت ہے کہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَائَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا إِنَّمَا ذَلِکِ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِحَيْضٍ فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُکِ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْکِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي قَالَ وَقَالَ أَبِي ثُمَّ تَوَضَّئِي لِکُلِّ صَلَاةٍ حَتَّی يَجِيئَ ذَلِکَ الْوَقْتُ
محمد، ابومعاویہ، ہشام بن عروہ، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا انے فرمایا کہ فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا، یا رسول اللہ ﷺمیں ایک ایسی عورت ہوں کہ (اکثر) مستحاضہ رہتی ہوں اور ایک عر صے تک پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں، یہ تو ایک رگ کا خون ہے اور حیض نہیں ہے، جب تمہارے حیض کا زمانہ آجائے، تو نماز چھوڑ دو اور جب گذر جائے تو خون اپنے (جسم سے) دھو ڈالو، اس کے بعد نماز پڑھو، ہشام کہتے ہیں (اس حدیث میں اس کے بعد) میرے والد نے (یہ بھی) کہا کہ پھر ہر نماز کے لئے وضو کیا کرو، یہاں تک کہ پھر (حیض کا) وقت آجائے، تو پھر نماز ترک کر دینا۔
صحیح بخاری:جلد۱:موضوع کتاب:وضو کا بیان:باب:خون دھونے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْکُرُ إِلَّا الْحَجَّ فَلَمَّا جِئْنَا سَرِفَ طَمِثْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْکِي فَقَالَ مَا يُبْکِيکِ قُلْتُ لَوَدِدْتُ وَاللَّهِ أَنِّي لَمْ أَحُجَّ الْعَامَ قَالَ لَعَلَّکِ نُفِسْتِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ ذَلِکِ شَيْئٌ کَتَبَهُ اللَّهُ عَلَی بَنَاتِ آدَمَ فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّی تَطْهُرِي
ابونعیم، عبدالعزیز بن ابی سلمہ، عبدالرحمن بن قاسم، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نکلے، ہم صرف حج کا ارادہ رکھتے تھے، جب مقام سرف میں پہنچے تو مجھے حیض آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے میں رور ہی تھی آپ نے فرمایا کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا، یہ چاہتی ہوں کہ کاش میں نے اس سال حج کا ارادہ نہ کیا ہوتا، آپ نے فرمایا شاید تمہیں نفاس آگیا؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں! آپ نے فرمایا یہ تو ایک ایسی چیز ہے، جو اللہ تعالی نے آدم کی تمام بیٹیوں (کی قسمت) میں لکھ دی ہے، اس میں رونا کیا، جو کام حاجی کرتے ہیں تم بھی کرتی رہنا، صرف کعبہ کا طواف نہ کرنا، جب تک کہ پاک نہ ہو جاؤ۔
صحیح بخاری:جلد۱:موضوع کتاب:حیض کا بیان:باب:حائضہ عورت طواف کعبہ کے علاوہ (باقی) تمام مناسک حج کے ادا کر سکتی ہے۔
ان دونوں احادیث سے واضح ہوا کہ طاہر خائضہ یعنی ناپاک کے مقابلے پر آیا ہے نہ کہ بےوضو کے مقابلے پر، تو اس سے یہی بات واضح ہوئی کہ جہاں احادیث میں یا قرآن کی آیت میں طاہر کا لفظ آیا ہے اس سے یہ مراد نہیں لی جاسکتی کہ وضو کیا جائے، جو حدیث آپ نے پیش کی ہے اس سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے کہ کوئی بھی مسلم جنابت یا نفاس کی حالت میں قرآن کو نہ پکڑے بلکہ جب تک پاک نہ ہو جائے۔
ابھی رات کے۱:۳۵ منٹ بج رہے ہیں اور سفر کی تھکاوٹ بھی ہے باقی کل لکھونگا ان شاءاللہ
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (04-03-11), مرزا عامر (04-03-11), مسلم بھائی (04-03-11), آبی ٹوکول (04-03-11), ارشد کمبوہ (04-03-11), شمشاد احمد (04-03-11), عبداللہ ناصر (07-06-11)
پرانا 04-03-11, 04:19 AM   #12
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آبی بھائی آپ نے کون کون سی کتابوں کے حوالے دے دیے بہر حال ایک بات میری طرف سے بھی
لایمسہ الا المطہرون“ (واقعہ:۷۹)
یہ آیت مکی ہے جبکہ وضو کا حکم مدینہ میں آیا تھا ۔ لہٰذا اس آیت کو وضو کے ساتھ شرط نہیں کیا جا سکتا تاہم ہمیں صحیح احادیث کی کتاب میں سے بھی کوئی ایسی حدیث نہیں ملتی جس میں بغیر وضو قران پڑھنے کی ممانعت ہو ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (04-03-11), فاروق سرورخان (31-05-11), محمد عاصم (04-03-11), آبی ٹوکول (04-03-11), ارشد کمبوہ (04-03-11), شمشاد احمد (04-03-11), عبداللہ ناصر (07-06-11)
پرانا 04-03-11, 09:01 AM   #13
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,048
کمائي: 22,680
شکریہ: 873
1,314 مراسلہ میں 2,842 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایک مسئلہ کلئر فرمادیں ۔ نماز کیلئے پاک ہونا شرط ہے ، اگر بندہ بغیر وضو ہی پاک ہے تو ایسے ہی نماز پڑھی جا سکتی ہے ؟؟؟ اگر نہیں تو اس کے لئے وضو کیوں ضروری ہے جبکہ بندہ پہلے ہی پاک ہے ؟؟
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا
asakpke (04-03-11), فاروق سرورخان (31-05-11), کنعان (04-03-11), اویسی (07-06-11), ارشد کمبوہ (04-03-11), شمشاد احمد (04-03-11)
پرانا 04-03-11, 10:40 AM   #14
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,638
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مہتاب مراسلہ دیکھیں
ایک مسئلہ کلئر فرمادیں ۔ نماز کیلئے پاک ہونا شرط ہے ، اگر بندہ بغیر وضو ہی پاک ہے تو ایسے ہی نماز پڑھی جا سکتی ہے ؟؟؟ اگر نہیں تو اس کے لئے وضو کیوں ضروری ہے جبکہ بندہ پہلے ہی پاک ہے ؟؟
مہتاب صاحب شاید آپ کی نظر سے قرآن کی آیت اور کوئی حدیث نہیں گزری جس میں وضو کا واضح حکم ہو تو لو جناب میں پیش کر دیتا ہوں۔
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰي سَفَرٍ اَوْ جَاۗءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَاۗىِٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاۗءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۗءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ ۭ مَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّلٰكِنْ يُّرِيْدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Č۝
اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اُٹھو تو اپنے منہ کو اور اپنے ہاتھوں کہنیوں سمیت دھو لو ۔ اپنے سروں کو مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرلو ہاں اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم سے کوئی حاجت ضروری فارغ ہو کر آیا ہو، یا تم عورتوں سے ملے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو، اسے اپنے چہروں پر اور ہاتھوں پر مل لو اللہ تعالٰی تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ اس کا ارادہ تمہیں پاک کرنے کا اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دینے کا ہے تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو۔ المائدہ:آیت ۶
اب اس آیت میں وضو اور پاک، طاہر کا بھی معاملہ حل ہو گیا ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ أَحَدِکُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّی يَتَوَضَّأَ
محمد بن رافع، عبدالرزاق بن ہمام، معمر بن راشد، ہمام بن منبہ سے روایت ہے کہ انہوں نے چند وہ احادیث ذکر کیں جو ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیں ان میں سے بعض احادیث کو ذکر کیا ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کی نماز قبول نہیں کی جاتی جب وہ بے وضو ہو جائے یہاں تک کہ وہ وضو کر لے۔
صحیح مسلم:جلد۱:
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (25-03-11), مرزا عامر (04-03-11), مسلم بھائی (04-03-11), ارشد کمبوہ (04-03-11), عبداللہ ناصر (07-06-11)
پرانا 04-03-11, 11:24 AM   #15
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,725
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمد عاصم مراسلہ دیکھیں

میں بھی اس بات سے متفق ہوں کہ ناپاکی کی حالت میں قرآن مجید چھوا نہیں جاسکتا جیسا کہ میری تحریر سے یہ بات واضح ہے، اب آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا بےوضو شخص ناپاک ہوتا ہے؟؟؟

اور میرا یہ موقف یہ ہے کہ ایک مسلم بےوضو پاک ہوتا ہے اور وضو کے بغیر ناپاک اور پلید ہر گز ہرگز بھی نہیں ہے۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مہتاب مراسلہ دیکھیں
ایک مسئلہ کلئر فرمادیں ۔ نماز کیلئے پاک ہونا شرط ہے ، اگر بندہ بغیر وضو ہی پاک ہے تو ایسے ہی نماز پڑھی جا سکتی ہے ؟؟؟ اگر نہیں تو اس کے لئے وضو کیوں ضروری ہے جبکہ بندہ پہلے ہی پاک ہے ؟؟
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمد عاصم مراسلہ دیکھیں
مہتاب صاحب شاید آپ کی نظر سے قرآن کی آیت اور کوئی حدیث نہیں گزری جس میں وضو کا واضح حکم ہو تو لو جناب میں پیش کر دیتا ہوں۔
السلام علیکم!

مہتاب بھائی کے سوال کا جواب ابھی بھی باقی ھے۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (22-12-11), اویسی (07-06-11), ارشد کمبوہ (04-03-11)
جواب

Tags
color, کلام, پاک, قرآن, لوگ, ممکن, مجید, مسائل, اللہ, انسان, بھائی, بچپن, جلد, حکم, حدیث, دعا, شخص, عورت, عقل, علم, علماء, عزت, عظمت, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پردہ پوشی کیا ضروری ہے؟؟؟ گلاب خان عمومی بحث 6 03-03-11 01:44 PM
بھوشن کمار اپادھے ، پولیس کمشنر شعلہ پور، اسلام کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ فاروق سرورخان اسلام اور عصر حاضر 6 22-10-10 11:11 PM
عدم کارکردگی پر پورٹ آف سنگاپورکو گودارپورٹ سے نکال سکتے ہیں بابر غوری جاویداسد خبریں 5 05-10-10 06:07 AM
تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو The Great شعر و شاعری 4 15-09-09 09:44 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:09 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger