| علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1493
|
||||
| 15 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | asakpke (04-03-11), shafirajput (02-03-11), skjatala (30-05-11), پاکستانی (24-08-11), ھارون اعظم (03-03-11), یاسر عمران مرزا (30-05-11), مرزا عامر (04-03-11), مسلم بھائی (04-03-11), آبی ٹوکول (03-03-11), احمد بلال (04-03-11), ارشد کمبوہ (02-03-11), حیدر Rehan (03-03-11), سحر بٹ (01-06-11), شمشاد احمد (04-03-11), عبداللہ ناصر (07-06-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ
جسے بغیر پاکو ں کے اور کوئی نہیں چھوتا نہیں چھوتے اسے مگر وہ جو پاک صاف ہیں۔ تفسیر ابن کسیر ۔ ابن مسعود کی قرأت میں (مایمسہ) ہے ابو العالیہ کہتے ہیں یہاں پاک سے مراد صاف فرمایا آیت (وما تنزلت بہ الشیاطین) یعنی اسے نہ تو شیطان لے کر اترا ہیں نہ ان کے یہ لائق نہ ان کی یہ مجال بلکہ وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ ہیں۔ یہی قول اس آیت کی تفسیر میں دل کو زیادہ لگتا ہے ۔ اور اقوال بھی اس کے مطابق ہو سکتے ہیں۔ فراء نے کہا ہے اس کا ذائقہ اور اس کا لطف صرف باایمان لوگوں کو ہی میسر آتا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد جنابت اور حدث سے پاک ہونا ہے گو یہ خبر ہے لیکن مراد اس سے انشاء ہے۔ اور قرآن سے مراد یہاں پر مصحف ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان ناپاکی کی حالت میں قرآن کو ہاتھ نہ لگائے ایک حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن ساتھ لے کر حربی کافروں کے ملک میں جانے سے منع فرمایا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اسے دشمن کچھ نقصان پہنچائے (مسلم) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمان حضرت عمرو بن حرم کو لکھ کر دیا تھا اس میں یہ بھی تھا کہ قرآن کو نہ چھوئے مگر پاک ۔ (موطا مالک ) مراسیل ابو داؤد میں ہے زہری فرماتے ہیں میں نے خود اس کتاب کو دیکھا ہے اور اس میں یہ جملہ پڑھا ہے کو اس روایت کی بہت سی سندیں ہیں لیکن ہر ایک قابل غور ہے واللہ اعلم ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے علاقے میں قرآن مجید لے کر جانے سے منع فرمایا تھا صحیح بخاری بھائی عاصم مزید یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ایمان لانے کا واقعہ بھی پڑھ لیں خصوصی طور پر جب وہ اپنی بہن کے گھر پہنچے تھے ۔۔۔ اس وقت ان کی بہن نے انہیں کیا فرمایا تھا ؟ قرآن کو ھاتھ لگانے سے متعلق ؟ قرآن چھونے کے لیے طہارت شرط ہے۔ ظاہری نجاست سے ہاتھ کا پاک ہونا باوضو ہونا اور جنابت نہ ہونا، یہ سب طہارت میں شامل ہے، جمہور کی دلیل وہ حدیث ہے جو مضبوط روایات کے ساتھ حضور -صلی اللہ علیہ وسلم- سے منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن حزم رضی اللہ عنہ کو خط لکھا جس میں یہ تھا: أنہ کتب لعمر بن حزم: لا یمسّ القرآن إلاَّ طاہر (احکام القرآن للمفتی محمد شفیع) کہ اس قرآن کو پاک (باوضو) ہی چھوسکتا ہے۔ نیز وہ حدیث بھی دلیل ہے جس میں عمر کے اسلام لانے کا واقعہ مذکور ہے اس میں ہے: فقال لأختہ أعطوني الکتاب الذي کنتم تقروٴون فقالت إنک رجس وإنہ لا یمسہ إلا المطھرون فقم فاغتسل أو توضأ فتوضأ فأخذ الکتاب فقرأہ (أحکام القرآن للجصاص) کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن سے قرآن مانگا۔ بہن نے کہا کہ تم ناپاک ہو، قرآن کو تو پاک لوگ ہی چھوسکتے ہیں، لہٰذا جاوٴ غسل کرو یا وضو کرو! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وضو کیا پھر قرآن لے کر پڑھا۔ نیز حضرت سعد سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو بے وضو قرآن چھونے سے منع کیا، حضرت ابن عمر سے بھی اسی کے مثل منقول ہے۔ (احکام القرآن للجصاص) ان احادیث اور آثار کی وجہ سے اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ بے پاکی (بلاوضو) کے قرآن چھونا جائز نہیں۔ دارلعلوم دیوبند والسلام
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | asakpke (04-03-11), dxbgraphics (03-03-11), کنعان (03-03-11), محمد عاصم (02-03-11), مرزا عامر (03-03-11), آبی ٹوکول (02-03-11), اویسی (07-06-11), ارشد کمبوہ (02-03-11), شمشاد احمد (04-03-11), عروج (03-03-11) |
|
|
#3 | |||||
|
Senior Member
![]() |
آپ نے بھی مطھرون کا ترجمہ پاک کا ہی کیا ہے اور زیادہ تر آپ کی تحریر میں ہے کہ
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
میں مزید اس پر یہ کہوں گا کہ آپ کی بہن نے جو منع کیا تھا ان کا مقصد یہ بھی ہوسکتا تھا کہ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ اے ایمان والو! بیشک مشرک بالکل ہی ناپاک ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔التوبہ : ۲۸ میری ساری کتابیں اس وقت سکول میں پڑی ہوئیں ہیں اس لیے میں پورا واقعہ یاد نا ہونے کی وجہ سے پیش نہیں کر سکا اگر آپ کے پاس یہ پورا واقعہ ہے تو پیش کریں اور ساتھ عربی متن ضرور دیں۔جزاک اللہ اقتباس:
جزاک اللہ اور میرا یہ موقف یہ ہے کہ ایک مسلم بےوضو پاک ہوتا ہے اور وضو کے بغیر ناپاک اور پلید ہر گز ہرگز بھی نہیں ہے۔ Last edited by محمد عاصم; 02-03-11 at 10:01 PM. |
|||||
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | sahj (03-03-11), فیصل ناصر (03-03-11), مرزا عامر (03-03-11), مسلم بھائی (04-03-11), ارشد کمبوہ (04-03-11), شمشاد احمد (04-03-11), عبداللہ ناصر (07-06-11) |
|
|
#4 | |||||||
|
Senior Member
![]() |
السلام علیکم
بھائی عاصم آپ کے مراسلے میں سے کچھ بھی کوٹ کئیے بغیر اپنا موقف صرف اور صرف قرآن کی آیت اسکے ترجمہ اور تفسیر ابن کثیر اور ایک عدد دیوبند فتوے کے ساتھ پیش کیا تھا ۔ میرے الفاظ صرف اقتباس:
بخاری کی جو حدیث اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
باقی جب آپ خود مانتے ہیں کہ اقتباس:
بھائی عاصم موطا امام مالک میں سے جو حدیث آپ نے اپنے لیڈنگ مراسلے میں لکھی ھے اقتباس:
باب: کتاب القرآن قرآن چھونے کے واسطے باوضو ھونا ضروری ھے عن عبداللہ بن ابی بکر بن حزم ان فی الکتاب الزی کتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعمرو بن حزم ان لا یمس القرآن الا طاھر عبداللہ بن ابی بکر بن حزم سے روایت ھے کہ جو کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھی تھی عمرو بن حزم کے واسطے اس میں یہ بھی تھا کہ قرآن نہ چھوئے مگر جو شخص باوضو ھو ۔ اب آخری بات بھائی عاصم کہ دونوں قسم کی احادیث موطا امام مالک میں ہی موجود ہیں ، اسلئیے میری سمجھ میں تو یہی آتا ھے کہ افضل ترین یہی ھے کہ کسی حال میں بھی کتاب قرآن کو بغیر وضو کے نہ چھوا جائے ، ادب و احترام قرآن ہم پر زیادہ ضروری ھے اقتباس:
حدث اصغر يعنى بے وضو ہونے کى حالت کے احکام یہ تھریڈ بھی دیکھ لیں باوضو قرآن کی تلاوت اور یہاں بھی اک مضمون ھے والسلام |
|||||||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تنقید برائے اصلاح اچھی لگی۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
جب کہ طاہر کا معنی پاک ہے اور آپ بھی مانتے ہیں کہ بےوضو مسلم پاک ہوتا ہے تو اس حدیث میں بھی یہی بات ہے کہ کوئی جنبی یا حیض و نفاس والی عورت اس کو نہ پکڑے۔ خیر باقی باتیں بعد میں ان شاءاللہ، ابھی میں لاہور جانے لگا ہوں۔ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | مرزا عامر (03-03-11), مسلم بھائی (04-03-11), ارشد کمبوہ (04-03-11), شمشاد احمد (04-03-11), عبداللہ ناصر (07-06-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
ویری گڈ ۔ ۔ ۔ بہت اچھے
|
|
|
|
| مہتاب کا شکریہ ادا کیا گیا | شمشاد احمد (04-03-11) |
|
|
#8 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
یہ مسیلمہ کذاب وہ تھا کہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کہ بعد نبوت کا اعلان کیا تھا ۔ ۔ ۔ ہمیں نہیں معلوم کہ آپ نے یہ کیسے کہہ دیا ؟؟؟؟ جبکہ تاریخ و سیرت کا ادنٰی سا طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ مسیلمہ کذاب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کہ بعد نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ میں ہی نبوت کا دعوٰی کردیا تھا اور یہ بات تو اتنی مشھور اور تواتر سے ثابت ہے کہ ہمارے پاکستان میں نصاب کی کتب میں بھی پڑھنے کو مل جاتی ہے سو ریکارڈ کی درستگی فرما لیجیئے کہ ۔ ۔ ۔ طحاوی باب "استباۃ المرتد" میں حضرت عبداللہ بن مسعود کا ایک تاریخی فیصلہ رقم ہے جو کہ مرتدین اور شاتمین رسول دونوں حدود کا جامع ہے ۔ ہوا یوں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیروان مسیلمہ کذاب کو ارتداد کے جرم میں گرفتار کرکے پیش کیا گیا جنھوں نے توبہ کرتے ہوئے معافی کی درخواست کی ۔ ان میں سے ایک شخص عبداللہ ابن النواحہ کو آپ رضی اللہ عنہ نے باوجود توبہ کے سزائے موت دی لوگوں نے اعتراض کیا کے ایک ہی جرم میں دو مختلف سزاؤں کا کیا جواز ؟؟؟؟؟ جس پر حضرت عبداللہ ابن مسعود جو کہ فقہ حنفی کے امام المنتہٰی ہیں نے جواب دیا کہ ابن النواحہ وہ آدمی ہے جو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حجرو بن وثال کے ساتھ مسیلمہ کا سفیر بن کر حاضر ہوا تھا ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟؟؟ اس پر ان دونوں نے کہا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے (جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں صریح گستاخی تھی) جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر سفارت کاروں کا قتل جائز ہوتا تو میں تم دونوں کو قتل کردیتا لہذا اب چونکہ یہ گرفتار ہوکر آیا ہے لہذا اسے اسی جرم کی سزا دی گئی ہے ۔ ۔ اس حدیث (اثر صحابی) سے جہاں یہ ثابت ہوا ہے شاتم رسول کی سزا موت ہے وہیں یہ بھی ثابت ہوا کہ مسیلمہ نے دعوٰی نبوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کیا تھا اس کے علاوہ بھی بے شمار تاریخی شواہد موجود ہیں کہ مسیلمہ نے اپنے قاصد اور خطوط آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجے اور جوابا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی طرف خط بھیجا وغیرہ ۔ ۔ ۔ اقتباس:
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”لایمسہ الا المطہرون“ (واقعہ:۷۹) یعنی اس کو وہی چھوتے ہیں جو پاک بنائے گئے ہیں۔ اس آیت کریمہ کا مطلب مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ مصحف قرآن کو بغیر طہارت کے چھونا جائز نہیں۔ چنانچہ تفسیر مظہری میں ہے: ”فالمعنی لایمس القرآن الا المطہرون من الاحداث فیکون بمعنی النہی والمراد بالقرآن المصحف“(۱۰:۱۸۱) یعنی قرآن کو نہیں چھوتے ․․․مراد یہ کہ قرآن کو نہ چھوئیں․․․ مگر وہی لوگ جو پاک ہوں اور قرآن سے مراد یہی لکھی ہوئی کتاب ہے۔حدیث میں ہے: ”لایمس القرآن الا طاہر“ (نصب الرایة‘۱:۲۸)” حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قرآن کو پاک لوگ ہی چھوئیں“۔ دوسری حدیث میں ہے: ”عن عبد الرحمن بن یزید قال: کنا مع سلمان فخرج فقضی حاجتہ ثم جاء‘ فقلت: یا ابا عبد اللہ! لو توضأت لعلنا نسالک عن آیات قال انی لست امسہ انہ لایمسہ الا المطہرون فقرأ علینا ما شئنا انتہی“۔و صححہ الدار قطنی (نصب الرایة‘۱:۲۸۴) یعنی حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ ہم حضرت سلمان کے ساتھ تھے کہ وہ قضائے حاجت کے لئے گئے اور پھر جب آئے تو میں نے کہا :اے ابو عبد اللہ! اگر آپ وضوکر لیتے تو ہم آپ سے چند آیات کے بارے میں پوچھتے تو آپ نے فرمایا کہ: میں․․․․اس حالت میں․․․ قرآن کو چھوؤں گا نہیں‘ اس لئے کہ قرآن کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں پھر ہمارے سامنے ہماری مطلوبہ آیات کی تلاوت کی۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہاء کرام کا اس بات پر اجماع واتفاق ہے کہ ناپاکی کی حالت میں قرآن کریم کو چھونا جائز نہیں ہے۔ چنانچہ تفسیر مظہری میں ہے: ”وقد انعقد الاجماع علی انہ لایجوز مس المصحف للجنب والحائض ولا للنفساء ولا لمحدث“۔ (۱۰:۱۸۱) حائضہ عورت قرآن کریم کی تلاوت نہیں کرسکتی ہے : چنانچہ حدیث میں ہے: ”قال لاتقرأ الحائض ولا الجنب شیئا من القرآن“۔ (ترمذی:۱:۳۴) یعنی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: حائضہ اور جنبی عورت قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں۔ تفسیر مظہری میں ہے: ”ولما ورد لایمسہ الا المطہرون‘ فالفاظ القرآن اولی واحری ان لایجری الا علی لسان المطہرین والحائض والنفساء کالخبث“۔ (۱۰:۱۸۲) لہذا جمہور امت اور ائمہ اسلاف اس بات پر متحد ومتفق ہیں کہ حائضہ عورت قرآن کریم کی تلاوت نہیں کرسکتی۔ چنانچہ معارف السنن میں ہے: ”ذہب الجمہور وابوحنیفہ رحمہ اللہ والشافعی رحمہ اللہ واحمد رحمہ اللہ اکثر العلماء والائمة الی منع الحائض والجنب عن قراء ة القرآن قلیلہا وکثیرہا“ ۔(۱:۴۴۵) لہذا قرآن کریم کا حیض کی حالت میں بغیر کپڑے کے چھونا اور اس کا پڑھنا پڑھانا از روئے قرآن وحدیث ناجائز ہے‘ البتہ حائضہ معلمہ ایک ایک کلمہ الگ الگ کرکے یا ہجے کرکے قرآن پڑھا سکتی ہے۔ چنانچہ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ”اذا حاضت المعلمة فینبغی لہا ان تعلم الصبیان کلمة کلمة‘ وتقطع بین کلمتین ولایکرہ لہا التہجی بالقرآن کذا فی المحیط“ ۔ (۱:۳۸) فتاویٰ شامی میں ہے: ”لانہ جوز للحائض المعلمة تعلیمہ کلمة کلمة“۔ (۱:۱۸۲ سو ہمیں آپ کی حیرت پر حیرت ہوئی کہ آپ سے جمہور فقہاء کا یہ مسلک کس طرح سے مسطور رہا کہ آپ نے یہ فرما دیا کہ ۔۔۔ تو میں حیران رہ گیا کہ ایسا حکم قرآن و صحیح حدیث میں کہیں بھی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ میرے بھائی یہ جمہور کا مسلک ہے اور اسکے ساتھ ساتھ ایک فروعی اختلافی مسئلہ ہے اس پر اگر آپکو تحقیق کے نام پر کچھ پیش ہی کرنا ہے تو برائے مہربانی تحقیق پیش کیجیئے نہ کے اپنا قلت مطالعہ ۔ ۔ ۔ باقی سردست آپ کی تحریر میں ایک بھی دلیل نہیں کہ جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ بغیر وضو کے قرآن کو چھونا جائز ہے لہزا سردست آپ کے سامنے فقط جمہور کا مسلک مختصرا پیش کیا ہے آپ کے پیش کردہ مراسلہ کی کسی بھی دلیل کو ہم نے نہیں چھوا تک نہیں کیونکہ وہاں پر ایسی کوئی دلیل ہے ہی نہیں تھی ۔ ۔ ۔ ۔ والسلام
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیکرِ دلرُبا بن کے آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا Last edited by آبی ٹوکول; 03-03-11 at 06:33 PM. |
||
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | asakpke (04-03-11), sahj (03-03-11), فاروق سرورخان (31-05-11), کنعان (04-03-11), مہتاب (03-03-11), مرزا عامر (04-03-11), اویسی (07-06-11), ارشد کمبوہ (04-03-11), شمشاد احمد (04-03-11) |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اللہ رب العزت آپ کو جزائے خیر سے نوازے فی الحال تو میں تو اسلام آباد جا رہا ہوں والسلام
__________________
اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور اسکی طرف وسیلہ ڈھونڈو (جس کی بدولت تمہیں اس کا قُرب حاصل ہو ) اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ (المائدہ 35) ندامت میں جھکے ہوئے سر سے اطاعت میں جھُکا ہوا سر بہتر ہے
|
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (31-05-11), کنعان (04-03-11), آبی ٹوکول (03-03-11), اویسی (07-06-11), ارشد کمبوہ (04-03-11), شمشاد احمد (04-03-11) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
آبی صاحب ابھی ابھی میں لاہور سے گھر پہنچا ہوں، آپ کا مراسلہ مکمل نہیں پڑھا مکمل پڑھ کر ہی کوئی جواب دونگا، ان شاءاللہ
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | مسلم بھائی (04-03-11), آبی ٹوکول (03-03-11), ارشد کمبوہ (04-03-11), شمشاد احمد (04-03-11), عبداللہ ناصر (07-06-11) |
|
|
#11 | ||||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
والسلام بھائی میں حیران ہوں کہ آپ نے بات کہاں سے شروع کی ہے!!! خیر کوئی بات نہیں ہے جیسے آپ نے مناسب سمجھا ویسا کیا تو بھائی عرض ہے کہ میں جیسا احادیث میں پڑھا تھا ویسا ہی لکھا تھا کہ مسیلمہ کذاب نے نبوت کا باقائدہ اعلان آپﷺ کی وفات کے بعد ہی کیا تھا جیسا کہ ایک حدیث میں نبی ﷺ نے خود پشین گوئی فرمائی تھی۔۔۔۔۔ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ مُسَيْلِمَةُ الْکَذَّابُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَقُولُ إِنْ جَعَلَ لِي مُحَمَّدٌ الْأَمْرَ مِنْ بَعْدِهِ تَبِعْتُهُ وَقَدِمَهَا فِي بَشَرٍ کَثِيرٍ مِنْ قَوْمِهِ فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِطْعَةُ جَرِيدٍ حَتَّی وَقَفَ عَلَی مُسَيْلِمَةَ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ لَوْ سَأَلْتَنِي هَذِهِ الْقِطْعَةَ مَا أَعْطَيْتُکَهَا وَلَنْ تَعْدُوَ أَمْرَ اللَّهِ فِيکَ وَلَئِنْ أَدْبَرْتَ ليَعْقِرَنَّکَ اللَّهُ وَإِنِّي لَأَرَاکَ الَّذِي أُرِيتُ فِيکَ مَا رَأَيْتُ فَأَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَأَهَمَّنِي شَأْنُهُمَا فَأُوحِيَ إِلَيَّ فِي الْمَنَامِ أَنْ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا فَأَوَّلْتُهُمَا کَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ بَعْدِي فَکَانَ أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيَّ وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةَ الْکَذَّابَ صَاحِبَ الْيَمَامَةِ ابوالیمان شعیب عبد اللہ بن ابی حسین نافع بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مسیلمہ کذاب نے آ کر عرض کیا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بعد مجھے خلافت عطا کر دیں تو میں ان کا تابع ہو جاتا ہوں اور وہ اپنی قوم کے بہت لوگوں کو اپنے ساتھ لایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف چلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس بھی تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک لکڑی کا ٹکڑا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسیلمہ کذاب کے پاس معہ اصحاب جا کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا اگر تو مجھ سے بقدر اس لکڑی کے ٹکڑے کے طلب کرے تو میں تجھ کو نہ دوں گا اور اللہ تعالیٰ کا جو حکم تیرے بارے میں ہو چکا ہے تو اس سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ اور اگر تو کچھ روز زندہ رہا تو اللہ تجھ کو ہلاک کر دے اور یقینا میں تجھ کو وہی شخص سمجھتا ہوں جس کی نسبت میں نے خواب میں دیکھا ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میں سو رہا تھا تو میں نے اپنے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن دیکھے تو مجھے فکر ہوئی اور خواب میں وحی آئی کہ آپ ان کو پھونک دیجئے، میں نے ان کو پھونک دیا تو وہ اڑگئے میں نے اس کی تعبیر ان دو کذابوں سے لی جو میرے بعد ظاہر ہوں گے پس ان میں سے ایک عنسی اور دوسرا یمامہ کا رہنے والا مسیلمہ کذاب تھا۔ صحیح بخاری:جلد۲:موضوع کتاب:انبیاء علیہم السلام کا بیان:باب:اسلام میں نبوت کی علامتوں کا بیان عمرو بن علی افلاس، معاذ بن ہشام اپنے والد سے وہ قتادہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا ہم نہیں سمجھتے کہ عرب کے تمام قبائل میں انصار سے زیادہ عزت والا کوئی قیامت کے دن ہو قتادہ کہتے ہیں کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ احد کے دن ستر آدمی انصار کے شہید ہوئے اور اتنے ہی بیرمعونہ کے دن اور اتنے ہی جنگ یمامہ کے دن اور بیرمعونہ کا واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہوا تھا اور یمامہ کا واقعہ خلافت صدیقی میں ہوا جس دن مسیلمہ کذاب سے مقابلہ ہوا۔ صحیح بخاری:جلد۲:موضوع کتاب:غزوات کا بیان:باب: شہدا احد کا بیان
میں نے احادیث پیش کی ہیں کوئی اپنی عقل پیش نہیں کی اگر پھر بھی آپ مجھ پر کوئی اور الزام لگانا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی۔ اقتباس:
اقتباس:
اب ان میں کہاں لکھا ہے کہ وضو کر کے چھوے؟؟؟ اور جو آپ نے ایک کوئی واقعہ لکھا ہے اور نام اس کو حدیث کا دیا ہے اس کی سمجھ نہیں آئی کہ یہ واقعہ حدیث کی طرح بن گیا ہے؟؟؟ اقتباس:
ایک حدیث پیشِ خدمت ہے کہ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَائَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا إِنَّمَا ذَلِکِ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِحَيْضٍ فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُکِ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْکِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي قَالَ وَقَالَ أَبِي ثُمَّ تَوَضَّئِي لِکُلِّ صَلَاةٍ حَتَّی يَجِيئَ ذَلِکَ الْوَقْتُ محمد، ابومعاویہ، ہشام بن عروہ، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا انے فرمایا کہ فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا، یا رسول اللہ ﷺمیں ایک ایسی عورت ہوں کہ (اکثر) مستحاضہ رہتی ہوں اور ایک عر صے تک پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں، یہ تو ایک رگ کا خون ہے اور حیض نہیں ہے، جب تمہارے حیض کا زمانہ آجائے، تو نماز چھوڑ دو اور جب گذر جائے تو خون اپنے (جسم سے) دھو ڈالو، اس کے بعد نماز پڑھو، ہشام کہتے ہیں (اس حدیث میں اس کے بعد) میرے والد نے (یہ بھی) کہا کہ پھر ہر نماز کے لئے وضو کیا کرو، یہاں تک کہ پھر (حیض کا) وقت آجائے، تو پھر نماز ترک کر دینا۔ صحیح بخاری:جلد۱:موضوع کتاب:وضو کا بیان:باب:خون دھونے کا بیان حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْکُرُ إِلَّا الْحَجَّ فَلَمَّا جِئْنَا سَرِفَ طَمِثْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْکِي فَقَالَ مَا يُبْکِيکِ قُلْتُ لَوَدِدْتُ وَاللَّهِ أَنِّي لَمْ أَحُجَّ الْعَامَ قَالَ لَعَلَّکِ نُفِسْتِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ ذَلِکِ شَيْئٌ کَتَبَهُ اللَّهُ عَلَی بَنَاتِ آدَمَ فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّی تَطْهُرِي ابونعیم، عبدالعزیز بن ابی سلمہ، عبدالرحمن بن قاسم، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نکلے، ہم صرف حج کا ارادہ رکھتے تھے، جب مقام سرف میں پہنچے تو مجھے حیض آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے میں رور ہی تھی آپ نے فرمایا کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا، یہ چاہتی ہوں کہ کاش میں نے اس سال حج کا ارادہ نہ کیا ہوتا، آپ نے فرمایا شاید تمہیں نفاس آگیا؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں! آپ نے فرمایا یہ تو ایک ایسی چیز ہے، جو اللہ تعالی نے آدم کی تمام بیٹیوں (کی قسمت) میں لکھ دی ہے، اس میں رونا کیا، جو کام حاجی کرتے ہیں تم بھی کرتی رہنا، صرف کعبہ کا طواف نہ کرنا، جب تک کہ پاک نہ ہو جاؤ۔ صحیح بخاری:جلد۱:موضوع کتاب:حیض کا بیان:باب:حائضہ عورت طواف کعبہ کے علاوہ (باقی) تمام مناسک حج کے ادا کر سکتی ہے۔ ان دونوں احادیث سے واضح ہوا کہ طاہر خائضہ یعنی ناپاک کے مقابلے پر آیا ہے نہ کہ بےوضو کے مقابلے پر، تو اس سے یہی بات واضح ہوئی کہ جہاں احادیث میں یا قرآن کی آیت میں طاہر کا لفظ آیا ہے اس سے یہ مراد نہیں لی جاسکتی کہ وضو کیا جائے، جو حدیث آپ نے پیش کی ہے اس سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے کہ کوئی بھی مسلم جنابت یا نفاس کی حالت میں قرآن کو نہ پکڑے بلکہ جب تک پاک نہ ہو جائے۔ ابھی رات کے۱:۳۵ منٹ بج رہے ہیں اور سفر کی تھکاوٹ بھی ہے باقی کل لکھونگا ان شاءاللہ |
||||
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (04-03-11), مرزا عامر (04-03-11), مسلم بھائی (04-03-11), آبی ٹوکول (04-03-11), ارشد کمبوہ (04-03-11), شمشاد احمد (04-03-11), عبداللہ ناصر (07-06-11) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آبی بھائی آپ نے کون کون سی کتابوں کے حوالے دے دیے بہر حال ایک بات میری طرف سے بھی
لایمسہ الا المطہرون“ (واقعہ:۷۹) یہ آیت مکی ہے جبکہ وضو کا حکم مدینہ میں آیا تھا ۔ لہٰذا اس آیت کو وضو کے ساتھ شرط نہیں کیا جا سکتا تاہم ہمیں صحیح احادیث کی کتاب میں سے بھی کوئی ایسی حدیث نہیں ملتی جس میں بغیر وضو قران پڑھنے کی ممانعت ہو ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (04-03-11), فاروق سرورخان (31-05-11), محمد عاصم (04-03-11), آبی ٹوکول (04-03-11), ارشد کمبوہ (04-03-11), شمشاد احمد (04-03-11), عبداللہ ناصر (07-06-11) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
ایک مسئلہ کلئر فرمادیں ۔ نماز کیلئے پاک ہونا شرط ہے ، اگر بندہ بغیر وضو ہی پاک ہے تو ایسے ہی نماز پڑھی جا سکتی ہے ؟؟؟ اگر نہیں تو اس کے لئے وضو کیوں ضروری ہے جبکہ بندہ پہلے ہی پاک ہے ؟؟
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا | asakpke (04-03-11), فاروق سرورخان (31-05-11), کنعان (04-03-11), اویسی (07-06-11), ارشد کمبوہ (04-03-11), شمشاد احمد (04-03-11) |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰي سَفَرٍ اَوْ جَاۗءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَاۗىِٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاۗءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۗءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ ۭ مَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّلٰكِنْ يُّرِيْدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Č اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اُٹھو تو اپنے منہ کو اور اپنے ہاتھوں کہنیوں سمیت دھو لو ۔ اپنے سروں کو مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرلو ہاں اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم سے کوئی حاجت ضروری فارغ ہو کر آیا ہو، یا تم عورتوں سے ملے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو، اسے اپنے چہروں پر اور ہاتھوں پر مل لو اللہ تعالٰی تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ اس کا ارادہ تمہیں پاک کرنے کا اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دینے کا ہے تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو۔ المائدہ:آیت ۶ اب اس آیت میں وضو اور پاک، طاہر کا بھی معاملہ حل ہو گیا ہے۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ أَحَدِکُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّی يَتَوَضَّأَ محمد بن رافع، عبدالرزاق بن ہمام، معمر بن راشد، ہمام بن منبہ سے روایت ہے کہ انہوں نے چند وہ احادیث ذکر کیں جو ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیں ان میں سے بعض احادیث کو ذکر کیا ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کی نماز قبول نہیں کی جاتی جب وہ بے وضو ہو جائے یہاں تک کہ وہ وضو کر لے۔ صحیح مسلم:جلد۱: |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | ننھا بچہ (25-03-11), مرزا عامر (04-03-11), مسلم بھائی (04-03-11), ارشد کمبوہ (04-03-11), عبداللہ ناصر (07-06-11) |
|
|
#15 | |||
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,725
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
مہتاب بھائی کے سوال کا جواب ابھی بھی باقی ھے۔ والسلام |
|||
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, کلام, پاک, قرآن, لوگ, ممکن, مجید, مسائل, اللہ, انسان, بھائی, بچپن, جلد, حکم, حدیث, دعا, شخص, عورت, عقل, علم, علماء, عزت, عظمت, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پردہ پوشی کیا ضروری ہے؟؟؟ | گلاب خان | عمومی بحث | 6 | 03-03-11 01:44 PM |
| بھوشن کمار اپادھے ، پولیس کمشنر شعلہ پور، اسلام کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ | فاروق سرورخان | اسلام اور عصر حاضر | 6 | 22-10-10 11:11 PM |
| عدم کارکردگی پر پورٹ آف سنگاپورکو گودارپورٹ سے نکال سکتے ہیں بابر غوری | جاویداسد | خبریں | 5 | 05-10-10 06:07 AM |
| تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو | The Great | شعر و شاعری | 4 | 15-09-09 09:44 PM |