| عمرہ و حج عمرہ و حج |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 394
|
||||
| 3 قاری/قارئین نے شبنم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
لیکن حج صرف امت محمدیا پر فرض ہوا یا نہیں ۔۔اس کے لئے اللہ کے فرمان قرآن حکیم کا حوالہ
قران حکیم میں اللہ تعالی دو طرح سے انسانوں کو پکارتے ہیں۔ ایک پکار ہے تمام انسانوںکے لئے یعنی سب کے لئے اور ایک پکار ہے صرف ایمان لانے والوں کے لئے جو کہ امت محمدیہ ہیں۔ مثالیں: امت محمدیہ یعنی ایمان والوں کو خطاب کرنے کا طریقہ : 2:153 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد چاہا کرو، یقیناً اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ (ہوتا) ہے سب لوگوں ۔۔۔ امت محمدیہ سمیت، تمام انسانوںسے مخاطب ہونے کا طریقہ: اللہ تعالی جب سب سے مخاطب ہیں تو صرف ایمان والوں کی قید نہیںلگا رہے۔۔ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُواْ اللّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا اے سب لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتداء) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا، اور ڈرو اس اللہ سے جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور قرابتوں (میں بھی تقوٰی اختیار کرو)، بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے اب بغور دیکھئے کہ حج کی منادی صرف --- ایمان لے آنے والوں کے لئے ہے ۔۔۔۔۔ ئا پھر ۔۔۔۔ سب انسانوں کے لئے؟/؟؟؟ ------ اللہ کے فتوے یعنی اللہ کے قانون کو ماننا ہے ۔۔۔ یا کسی انسان کی نفسا نفسی کو؟؟؟ سب لوگوں میںمنادی کردو کہ حج کے لئے آئیں۔ صرف امت محمدیہ کی قید نہیں ۔ یعنی اقوام عالم کا اجتماع۔ 22:27 وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ اور تم لوگوں میں حج کا بلند آواز سے اعلان کرو وہ تمہارے پاس پیدل اور تمام دبلے اونٹوں پر (سوار) حاضر ہو جائیں گے جو دور دراز کے راستوں سے آتے ہیں امن عام ہے --- حج --- سب کے لئے: 3:97 فِيهِ آيَاتٌ بَيِّـنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا وَلِلّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ الله غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ اس میں کھلی نشانیاں ہیں (ان میں سے ایک) ابراہیم (علیہ السلام) کی جائے قیام ہے، اور جو اس میں داخل ہوگیا امان پا گیا، اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، اور جو (اس کا) منکر ہو تو بیشک اللہ سب جہانوں سے بے نیاز ہے والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#3 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,725
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم فاروق بھائی صاحب
جیسا کہ مجھے سمجھ آ ہی ھے کہ آپ نے جو آگے والی قرآنی آیت کے ساتھ حج پر جو وضاحت پیش کی ھے اس سے آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ اقتباس:
محترم جیسے آپ نے ایک تھوڑی پیش کی ویسے میں بھی آپ کو ایک تھیوڑی پیش کرتا ہوں، گفتگو نہ زیادہ لمبی نہ بحث کی شکل میں بس ایک ہی مراسلہ میں کوشش ہو گی کہ اصل مقصد بیان کر دوں، میرے پاس بہت سی قرآنی آیت ہیں مگر آپکی بات پر میں یہ کچھ آیات کا سہارہ لے رہا ہوں، سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 190 سے 196 تک، آیت نمبر 190 اور سے جو اللہ سبحان تعالی کا کلام شروع ہوتا ھے یہاں سے شروع کریں اور 196 تک جا کر یہ مکمل ہوتا ھے جس میں حج و عمرہ، پر ساری بات واضع ہو جاتی ھے حج اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، آسمانی کتابوں اور فرشتوں پر ایمان لانے والوں کے لئے۔ وَقَاتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ إِنَّ اللّهَ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ اور اللہ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں (ہاں) مگر حد سے نہ بڑھو، بیشک ﷲ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا سورۃ البقرۃ 2، آیت 190 اب ظاہر سی بات ھے کہ اللہ کی راہ میں جنگ کون کرتے ہیں اور کن سے کرتے ہیں وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلاَ تُقَاتِلُوهُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ فَإِن قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ كَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ اور (دورانِ جنگ) ان (کافروں) کو جہاں بھی پاؤ مار ڈالو اور انہیں وہاں سے باہر نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا اور فتنہ انگیزی تو قتل سے بھی زیادہ سخت (جرم) ہے اور ان سے مسجدِ حرام (خانہ کعبہ) کے پاس جنگ نہ کرو جب تک وہ خود تم سے وہاں جنگ نہ کریں، پھر اگر وہ تم سے قتال کریں تو انہیں قتل کر ڈالو، (ایسے) کافروں کی یہی سزا ہے سورۃ البقرۃ 2، آیت 191 اوپر کی آیت کا بھی بغور مطالعہ فرمائیں سارے حکم کن کو کس پر دئے گئے ہیں اور خاص مسجد الحرم کے حوالہ سے بھی کیا فرمایا جا رہا ھے۔ اللہ سبحان تعالی کا یہ کلام آگے بڑھتا ہوا آیت نمبر 196 تک پہنچتا ھے اس میں بھی اب دیکھتے ہیں وَأَتِمُّواْ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّهِ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ وَلاَ تَحْلِقُواْ رُؤُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضاً أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ فَإِذَا أَمِنتُمْ فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ذَلِكَ لِمَن لَّمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَاتَّقُواْ اللّهَ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ اور حج اور عمرہ (کے مناسک) اللہ کے لئے مکمل کرو، پھر اگر تم (راستے میں) روک لئے جاؤ تو جو قربانی بھی میسر آئے (کرنے کے لئے بھیج دو) اور اپنے سروں کو اس وقت تک نہ منڈواؤ جب تک قربانی (کا جانور) اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے، پھر تم میں سے جو کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہو (اس وجہ سے قبل از وقت سر منڈوالے) تو (اس کے) بدلے میں روزے (رکھے) یا صدقہ (دے) یا قربانی (کرے)، پھر جب تم اطمینان کی حالت میں ہو تو جو کوئی عمرہ کو حج کے ساتھ ملانے کا فائدہ اٹھائے تو جو بھی قربانی میّسر آئے (کر دے)، پھر جسے یہ بھی میّسر نہ ہو وہ تین دن کے روزے (زمانۂ) حج میں رکھے اور سات جب تم حج سے واپس لوٹو، یہ پورے دس (روزے) ہوئے، یہ (رعایت) اس کے لئے ہے جس کے اہل و عیال مسجدِ حرام کے پاس نہ رہتے ہوں (یعنی جو مکہ کا رہنے والا نہ ہو)، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے سورۃ البقرۃ 2 ، آیت 196 حکم صاف واضع ھے کہ حج و عمرہ یا اللہ کے گھر جان کن کے لئے ھے جب اوپر کی آیات بھی ساتھ ملائیں تو پھر اے لوگو میں اقوام عالم نہیں بنتی اے لوگو میں وہی اے لوگو ہیں جن سے خطاب شروع کیا جا رہا ھے۔ بھائی یہ تو گرامر کا بھی اصول ھے کہ جب گفتگو شروع کی جاتی ھے تو پھر اس میں بار بار وہی باتیں نہیں دہرائی جاتیں کہ جسے آپ یہ سمجھ بیٹھے کہ "اے لوگو" سے مراد ساری دنیا ھے۔ حج و عمرہ یا مسجد حرم کا قیام کن کے لئے ھے اس آیات سے سمجھا جا سکتا ھے۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | shafresha (29-08-10), فیصل ناصر (29-08-10), فاروق سرورخان (29-08-10), مرزا عامر (29-08-10), طلحہ (29-08-10), عبدالقدوس (29-08-10), عبداللہ آدم (29-08-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
بہت شکریہ کنعان۔
اسلام بھی سب لوگوں کے لئے ہے اور حج بھی۔ منادی عام ہے۔ جو چاہے آ سکتا ہے۔ اللہ تعالی نے ایمان والوں کی قید نہیں رکھی، اس کے اعلان میں ۔ اب جو مانے گا وہی آئے گا۔ اسی ماننے کو ایمان لانا کہتے ہیں۔۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
مشرکین کے مسجد حرام میں داخلے پر پابندی کیوں لگائی پھر؟؟؟
کیا وہ لوگوں سے باہر ہیں؟؟؟ اور کیا کسی مشرک کو حجۃ الودوع میں شامل کیا گیا؟؟؟ ثبوت درکار ہے. |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
دلوں کے حال تو اللہ ہی جانتا ہے۔ کہ کون مشرک آیا اور کون منافق۔ مجھے تو آج بھی بہت سے مشرک اور منافق مسلمانوںمیں ملتے ہیں۔ اشارہ کسی کی طرف نہیں۔
میرا ذاتی تجربہ: میرے ایک نئے نئے جاننے والے نے مجھے بلایا کہ آج ہمارے پاس "درس"ہے ۔ آپ بھی آئیے۔ وہاں پہنچا تو ایک 20 یا 21 سال کا "لڑکا"درس دے رہا تھا ۔ جو ان صاحب کا پیر تھا۔ یہ صاحبزادے ، ایک ہی سانس میں اتنی باتیں کہہ گئے کہ ۔۔۔۔ میرا پیمانیہ صبر لبریز ہوگیا۔ ان باتوںمیں سے ایک بھی یہاں کبھی بھی ڈسکس نہیں ہوئی۔ ان میں عورتوںکی بہترین قسم کی رسی سے باندھ کر ڈنڈے سے پٹائی کا شوہر حضرات کو حق سے لے کر رسول اللہ صلعم کی پرستش اور ان کی قبر کی پرستش تک۔ اس محفل کا طریقہ یہ تھا کہ پیر صاحب کے دونوںطرف لوگ بیٹھے تھے لیکن سامنے نہیں بیٹھے تھے ۔ نہ صاحب خانہ وہاں کسی کو بیٹھنے دے رہے تھے۔ جب درس تمام ہوا تو پیر صاحب نے حکم دیا کہ دروازہ کھول دو تاکہ رسول اللہ سب کے پاس آسکیں۔ دروازہ کھولا گیا تو اس کمرے میں ایک بڑی سی رسول اکرم کی قبر کی تصویر ، جو کہ ایک کپڑے پر تھی ایک سٹینڈ سے لٹکائی گئی تھی، موجود تھی۔ پیر صاحب نے رسول اللہ کی آمد کا اعلان کیا اور کھڑے ہوگئے۔سب لوگ بھی کھڑے ہوگئے۔ اس پر پیر صاحب نے لہک لہک کر گانا شروع کیا۔ نعت نہیں کہوں گا ۔ یہ سورۃالفاتحہ کا عربی، اردو ملا جلا ترجمہ تھا اور اس میں اللہ تعالی کے نام کو مہارت سے رسول اللہ کے نام سے تبدیل کیا گیا تھا۔ ساری نظم تو مجھے یاد نہیں ۔ لیکن پہلا جملہ کچھ ایسا تھا ۔۔۔۔ کل الحمد لل رحمت للعالمین ۔۔۔ یہ میرے کانوں کا دھوکہ نہ تھا۔ پھر اس کا ترجمہ تھا ۔۔۔۔۔ ساری تعریف اس رحمت للعالمین کے لئے ہے۔ ان صاحب کا نام تھا حاجی محمد خان۔ میںنے اخلاقی جراء ت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو روک دیا اور خود مائیک سنبھال کر ابھی قرآں مجید کی عربی میں دو چار آیات ہی پڑھی تھیں کہ ان بیس بائیس لوگوںنے اور خواتین نے بھی منکر الرسول ، منکر الحدیث۔ شاتم الرسول کے نعرے لگانے شروع کردئے۔ حاجی محمد خان صاحب نے جن کا تعلقہ ہندوستان سے تھا۔ مجھ سے دست بستہ ۔۔ جی دست بستہ عرض کی کہ اگر مجھ کو درس قرآن سے اختلاف ہے تو میں وہاں سے جاسکتا ہوں۔ ایسے کتنے مشرکین ہیں جو محمد پوجا مین مصروف ہیں اور حاجی بھی ہیں۔ جب آج ایسا ہے تو کس زمانے میں کیا کیا ہوتا رہا ۔ اس کا مجھ جیسا عاصی کیا کہہ سکتا ہے۔ کم از کم اتنا تو ہے کہ جو کچھ میرا ایمان ہے اس کے آپ گواہ تو ہیں کہ میں اللہ کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہیں کرتا۔ اور رسول اللہ کے آخری نبی ہونے پر ایمان رکھتا ہوں۔ رہ گئی خلاف قران اور موافق القرآن کی بحث تو بھائی یہ بحثیں پچھلے 1200 سال سے ہو رہی ہیں۔ ہم سب نے (آُپ سمیت) اور کچھ کیا یا نا کیا۔ ان بحثوں کو سب کے سامنے تو رکھا۔ بھائی دلوںکے حال اللہ ہی جانتا ہے۔ اس لئے یہ فیصلہ ہم نہیںکرسکتے کہ کون حج پر جائے اور کون نہیں ؟ یہ فیصلہ صرف اللہ تعالی کے ہاتھ ہے۔ والسلام |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (29-08-10) |
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
کیا اتنا بھی درست نہیں ہیں کہ اسلام کے سبھی فرائض مسلمانوں ہی پر لاگو ہوتے ہیں................
اور حج کوئی ritual نہیں بلکہ اسلام کا فرض ہے............. تو یہ کیوں کر لاگو ہو سکتا ہے دوسروں پر................ آپ نے آیت والا جواب نہیں دیا...............ایت بھی لگا دیں.....................انما المشرکون نجس والی...............تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے............ یا پھر قرآن سے فرار؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہیں،, ہے۔, فرض, وقت, وسلم, نام, مکہ, اللہ, امیر, تعلیم, ثابت, جلد, حکم, حدیث, حضرات, خود, دنیا, سال, شخص, شریف, علماء, عالم, عجیب, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|