واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > عمرہ و حج



عمرہ و حج عمرہ و حج


حج کی اِقسام

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-11-07, 06:49 AM   #1
حج کی اِقسام
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 15-11-07, 06:49 AM

حج کی اِقسام (قِسمیں ) مختصر
حج کی تین اِقسام ہیں ، اور اُن کے مطابق طریقوں پر حج اَدا کیا جا سکتا ہے ، اِن تینوں میں کُچھ تھوڑا سا فرق ہے اور کُچھ اَحکامات کا فرق ہے ، یہ فرق یہاں بہت مُختصراً بیان کر رہا ہوں۔
::::: حج تمتع:::::
:::::تمتع کے معنی ٰ ہیں فائدہ اُٹھانا ::: اِس حج میں چونکہ حاجی عُمرہ اور حج کے درمیان حالتِ اَحرام کی پابندیوں سے آزاد رہتا ہے اِس لئیے اِس کو تمتع کہا جاتا ہے ۔
::::: حج کے مہینوں میں کِسی وقت بھی حج کے اِرادے سے عُمرہ ، جِسے ،"طوافِ قُدُوم "بھی کہا جاتا ، کر کے حلال ہوا جاتا ہے یعنی حالتِ اَحرام سے آزاد ہوا جاتا ہے ، اور پھر آٹھ ذی الحج تک عام معمولات کے مُطابق بغیر اَحرام کی پابندیوں کے رہا جاتا ہے ، آٹھ ذی الحج کو دوبارہ حج کے اِرادے سے حالت اَحرام میں داخل ہو ا جائے گا اور مِنیٰ کی طرف روانہ ہوا جائے گا ، اور مناسکِ حج ادا کیئے جائیں گے ، دس ذی الحج کو پتھر مارنے کے بعد اَحرام کی تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں اور سوائے بیوی کے ہر چیز حلال ہو جاتی ہے ، "طوافِ افاضہ " کرنے کے بعد یہ ایک پابندی بھی ختم ہو جاتی ہے ،
لیکن اگر دس ذی الحج کو مغرب سے پہلے "طوافِ افاضہ" نہ کیا گیا تو اَحرام کی تمام پابندیاں پھر سے لاگو ہو جائیں گی اور عام لباس اُتار کر اَحرام کا لباس پہننا پڑے گا ۔ اِس کا بیان " دس ذی الحج میں کیے جانے والے کام " میں ہے ۔
::::: حج قران:::::
::::: قِران ::: کا معنی ہے ، ایک چیز کو دوسرے کے ساتھ رکھنا ، اور حج کے اِس طریقے کو قِران اِس لیے کہا جاتا ہے کہ اِس طریقے پر حج کرنے والا عپمرہ اور حج کرتے ہوئے اپنی قُربانی کا جانور ساتھ رکھتا ہے :::لہذا ، حجِ قِران کرنے والا قُربانی کا جانور ساتھ لائے گا او ر عُمرہ یعنی طوافِ قُدُوم کرنے کے بعد حلال نہیں ہو گا ، بلکہ اپنے مناسک ادا کرنے تک حالتِ اَحرام میں رہے گا ، تمتع اور قِران میں اُوپر بیان کئیے گئے دو ہی فرق ہیں ، اِن کے عِلاوہ سب مناسک اور کام ایک جیسے ہیں ۔
::::: حج ِ اِفراد:::::
::::: اِفراد ::: اِفراد کا مفہوم ہے اکیلا کرنا ، یعنی حج کو عمرے سے الگ کرنا :::حجِ اِفراد کرنے والا چاہے تو طوافِ قُدُوم کر سکتا ہے جِس میں صفا اور مروہ کی سعی نہیں ہوتی ، اگر کوئی چاہے تو سعی بھی کر سکتا ہے ، یہ سعی اُس کے لئیے طوافِ افاضہ کی سعی کا متبادل ہو سکتی ہے ، اگر اِفراد کرنے والا طوافِ قُدُوم نہیں کرتا تو اُسے حج کا تلبیہ کہتے ہوئے حالتِ اَحرام میں داخل ہو کر آٹھ ذی الحج کو سیدھا مِنیٰ جانا ہوتا ہے اور پھر طوافِ اِفاضہ کرنے تک تمتع اور قِران کرنے والوں کی طرح باقی مناسک ا دا کئیے جاتے ہیں ، سوائے قُربانی اور طوافِ وداع کے : حجِ اِفراد کرنے والا یہ دونوں کام نہیں کرے گا ۔
::::::یہ بات بہت اچھی طرح سے سمجھ کر یاد رکھنے کی ہے کہ حجِ افراد صِرف مکہ والوں کے لئیے ہے ، عام طور پر یہ ہی کہا جاتا ہے کہ اہل ِ میقات بھی یہ حج کر سکتے ہیں ، بلکہ اللہ کے کُچھ بندے ، میقات کا لحاظ بھی نہیں کرتے اور ہر کِسی کو حجِ افراد کرنے کا فتویٰ دیتے ہیں ، اللہ جانے اِس قِسم کی بات کرنے والے میقات اور حرم کی حدود کا فرق بُھول جاتے ہیں یا اپنے اپنے مذہب کی پابندی اُنہیں اِس قِسم کے فتوے دینے پر مجبور کرتی ہے ، یہ الفاظ پڑہنے والے بھی شاید اِس بات کو سُن کر حیران ہوں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے ، آئیے ، دیکھئیے اور سمجھئیے کہ یہ کیسے ہے ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورت بقرہ آیت ١٩٦میں فرمایا
("وَ اَتِمُّواْ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّہِ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ وَلاَ تَحْلِقُواْ رُؤُوسَکُمْ حَتَّی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہُ فَمَن کَانَ مِنکُم مَّرِیْضاً اَوْ بِہِ اَذًی مِّن رَّاسِہِ فَفِدْیَۃٌ مِّن صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ فَاِذَا اَمِنتُمْ فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاثَۃِ اَیَّامٍ فِیْ الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ذَلِکَ لِمَن لَّمْ یَکُنْ اَہْلُہُ حَاضِرِیْ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَاتَّقُواْ اللّہَ وَاعْلَمُواْ اَنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَاب)( اور حج اور عُمرہ اللہ کے لئیے پورا کرو ، اور اگر تُم روک لئیے جاؤ تو جو قُربانی مُیسر ہو وہ کر دو ، اور جب تک قُربانی اپنی جگہ پر نہ پہنچ جائے اُس وقت تک سر نہ مُنڈواؤ ، البتہ تم میں سے اگر کوئی بیمار ہو یا اُس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو اُس پر فدیہ ہے ، چاہے تو روزے رکھے چاہے تو صدقہ کرے اور چاہے تو قُربانی کرے ، اور جب تم امن کی حالت میں آ جاؤ ، تو پھر تم میں سے جو عُمرہ سے حج تک کے وقت کا فائدہ اُٹھائے ، تو جو اُسے مُیسر ہو وہ قُربانی کرے ، اور اگر قُربانی کرنے کی توفیق نہ ہو تو تین روزے حج ( کے دِنوں ) میں رکھو اور سات ( اُس وقت ) جب ( اپنے گھروں ) میں واپس پہنچو ، ( اِس طرح ) یہ دس پورے ہوئے ، یہ سب ( کُچھ کرنا ) اُس کے لئیے ہے جِس کے گھر والے مسجدِِ حرام کے حاضرین میں سے نہیں ) ، اللہ تعالیٰ کے اِس فرمان کے ذریعے صاف صاف سمجھ آ رہا ہے کہ ، عُمرہ اور حج دونوں مکمل کرنا ہیں پھر قربانی کرنا ہے اور قُربانی نہ کر پانے کی صُورت میں روزے رکھنے ہیں ، اور یہ سب حُکم اُس کے لئیے ہیں جو مسجدِ حرام کا حاضر نہیں ، اور جو مسجدِ حرام کا حاضر ہے اُسے یہ سب کُچھ کرنے کا حُکم نہیں ، یعنی وہ بغیر عُمرہ اور قُربانی کے صِرف حج کر سکتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ کے اِس حُکم کا یہ ہی معنیٰ اور مفہوم ہے ، اگر ایسا نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ آنے والے صحابہ کو بار بار حُکم دے کر اُن کے اَحرام نہیں کھلواتے ، اور یہ نہیں کہتے کہ جِس کے ساتھ قُربانی کا جانور نہیں وہ اپنے اَحرام کو عُمرہ کا اَحرام بنائے اور حلال ہو جائے ، اور یہ نہیں فرماتے کہ ( عُمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے ) اور اپنے مُبارک ہاتھوں کی اُنگلیاں ایک دوسری میں ڈال کر نہ دِکھاتے کہ عُمرہ اِس طرح حج میں داخل ہو گیا ہے ، اور جب صحابہ نے پوچھا کہ ::: کیا یہ صِرف ہمارے لئیے ہے ؟ تو یہ نہ فرماتے ( نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے ہے ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے ہے ، ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے ہے ) اتنی وضاحت کے بعد کیا بچتا ہے جو حق کو چھپانے کا سبب بنتا ہے ؟
یہاں طوالت کے ڈر سے بات کو مختصر کر رہا ہوں ورنہ ایک ایک حدیث کو حرفاً حرفاً نقل کرتا ، فی الوقت اِنشاءَ اللہ ، اتنا کہنا ہی کافی ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس حُکم اور اِس وضاحت کو بہت سے صحابہ نے روایت کیا ہے ، اور حدیث کی شاید ہی کوئی کتاب اِس کے بغیر ہو ، اگر کوئی صِرف صحیح البُخاری ، کتاب الحج ، احادیث ، ١٥٥٩ تا ١٥٦١ اور حدیث ١٥٦٤ ، ١٥٦٥ ، ١٥٦٧ ، ١٥٦٨ ، ١٥٧٠ ، ١٥٧٢ ، اور صحیح مُسلم ، کتاب الحج ،احادیث ١٢١١ ، ١٢١٣ ، ١٢١٦ ، ١٢١٧ ، ١٢١٨ ہی دیکھ لے تو اُس کی پریشانی دور ہو جائے گی اِنشاءَ اللہ۔

کتاب "" حج اور عُمرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر "" سے ماخوذ ۔
والسلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ
طلبگارِ دُعاء ، عادِل سُہیل ظفر ۔

Last edited by عبداللہ حیدر; 03-11-10 at 01:46 AM.. وجہ: فونٹ سائز کی درستگی

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 738
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
یاسر عمران مرزا (03-11-10), منتظمین (18-11-07), ضِرار Derar (06-11-10), طارق راحیل (28-11-08)
پرانا 15-11-07, 04:58 PM   #2
Senior Member
 
The Great's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 20
مراسلات: 5,772
کمائي: 82,790
شکریہ: 2
2,019 مراسلہ میں 3,246 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: حج کی اِقسام

واہ بہت اچھی شیرنگ ھے۔۔۔۔۔
The Great آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-11-07, 10:11 PM   #3
محسن
 
مسٹر رائٹ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 36
مراسلات: 1,489
کمائي: 10,968
شکریہ: 280
495 مراسلہ میں 1,060 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: حج کی اِقسام

محترم عادل صاحب، حج کی تین اقسام پہلی دفعہ نظر سے گزر رہی ہیں۔
کچھ نہ سمجھ آنے والی بات ہے، کوئی اور صاحب اس مسئلے پر بحث کرنا چاہیں گے یا معاملے کو مزید قرآن حدیث سے واضع کرنا چاہیں گے ؟؟
مسٹر رائٹ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-11-07, 11:43 PM   #4
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Oct 2007
مراسلات: 29
کمائي: 119
شکریہ: 10
9 مراسلہ میں 17 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: حج کی اِقسام

واہ بہت اچھی شیرنگ ھے جناب
aliali آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 16-11-07, 04:47 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: حج کی اِقسام

السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہ
حج کی یہ تین اِقسام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی عربوں میں معروف تھیں ، اور رسول اللہ صٌی اللہ علیہ وسلم کے حجۃ الوادع پر جاتے ہوئے تک تینوں پر عمل تھا ، مکہ پہنچ کر اِفراد کو صرف اہل مکہ کے لیئ خاص کر دَیا گیا ، اَس کا ذِکر کر چکا ہوں ،
رہا معاملہ حج کی تین قِسموں کے ثبوت کا ، تو قُران میں سورت البقرۃ کی آیت 176 میں حج کی اِن تینوں اِقسام کا ذِکر ہے ، اور حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث مُلاحظہ فرمائیے ((( ہم لوگ حجۃ الوادع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے ، تو ہم میں سے ایسے بھی تھے جِنہوں نے عمرے کا اِحرام کیا (یعنی تمتع ، عمرے کے بعد آٹھ ذی الحج تک احرام سے آزاد ہو کر رہنا ) ، اور ہم میں ایسے بھی تھے جِنہوں نے حج اور عمرہ کا احرام کیا ( یعنی قِران ، عمرہ اور حج ایک ہی احرام سے کرنا ) اور ہم میں ایسے بھی تھے جِنہوں نے حج کا احرام کیا (یعنی اِفراد) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام کیا ، پس جس جس نے صرف حج کا ، اور جس جس نے حج اور عمرہ کا (اکھٹے ) ااحرام کیا تھا وہ دس ذی الحج تک حلال ( احرام کی پابندیوں سے آزاد) نہ ہوئے )) صحیح البخاری ، کتاب الحج ،
حج کی تین اقسام ہمیشہ سے کسی اختلاف کے بغیر جانی پہچانی جاتی ہیں ،
اُمید ہے یہ جواب کافی ہو گا ،
السلام علیکم و رحمۃُ اللہ ۔

Last edited by عادل سہیل; 16-11-07 at 06:14 AM.
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
مسٹر رائٹ (18-11-07), ضِرار Derar (06-11-10), طارق راحیل (28-11-08)
پرانا 18-11-07, 11:14 AM   #6
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: حج کی اِقسام

حج کی یہ تینوں اقسام معروف ہیں اور تمام حج کی کتابوں‌میں‌مل جاتی ہیں۔ صرف فرق یہ ہے کہ پاکستان سے آنے والے حاجی صرف ایک ہی قسم کا حج کرتے ہیں جس سے وہی معروف ہو گیا ہے۔

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-11-08, 08:32 PM   #7
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
کمائي: 31,889
شکریہ: 4,003
1,212 مراسلہ میں 2,417 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: حج کی اِقسام

معلومات بہت اچھی دی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طارق راحیل آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-11-08, 11:44 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb جواب: حج کی اِقسام

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طارق راحیل مراسلہ دیکھیں
معلومات بہت اچھی دی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھائی طارق ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 03-11-10, 09:39 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا، بھتیجے عبداللہ حیدر کہ آپ نے اس مضمون کے رنگ ڈھنگ خوش نما کر دیے ،
اور جزاک اللہ خیرا بھائی پاکستانی ، """ حج اکبر """ والے تھریڈ میں اس کا لنک دینے پر ،
اس کے علاوہ حج کے بارے میں کئی ان شاء اللہ فإئدہ مند مضامین """ یہاں """ موجود ہیں ۔ و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
ضِرار Derar (06-11-10)
جواب

Tags
color, پاکستان, پاکستانی, قرآن, قران, لوگ, لنک, نظر, مکہ, مکمل, موقع, اکبر, اللہ, بھائی, جواب, حدیث, خوش, عبداللہ, صاف, صحیح, صحابہ, صدقہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:10 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger