رمی جمار کیا ہے ؟
کنکریاں مارنا ، صفاومروہ کی سعی کرنا ، یہ عمل ذکر اللہ کو قائم رکھنے کے لئے ہیں ـ جیسا کہ ترمذی میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے ـ کنکریاں مارنا شیطان کو رجم کرنا ہے ـ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی پیروی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مناسک حج ادا کرچکے تو جمرہ عقبہ پر آپ کے سامنے شیطان آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سات کنکریاں ماریں جس سے وہ زمین میں دھنسنے لگا ـ پھر جمرہ ثانیہ پر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں بھی سات کنکریاں ماریں جس سے وہ زمین میں دھنسنے لگا ـ پھر جمرہ ثالثہ پر آپ کے سامنے آیا تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات کنکریاں ماریں جس سے وہ زمین میں دھنسنے لگا ـ یہ اسی واقعہ کی یادگار ہیں ـ
کنکریاں مارنے سے مہلک ترین گناہوں میں سے ایک گناہ معاف ہوتاہے نیز کنکریاں مارنے والے کے لیے قیامت کے روز وہ کنکریاں باعث روشنی ہوں گی ـ جو کنکریاں باری تعالیٰ کے دربار میں درجہ قبولیت کو پہنچتی ہیں ، وہ وہاں سے اٹھ جاتی ہیں اگر یہ بات نہ ہوتی تو پہاڑوں کے ڈھیر لگ جاتے ( مشکوٰة مجمع الزوائد) اب ہر سہ جمرات کی تفصیل علیٰحدہ علیٰحدہ لکھی جاتی ہے ـ
جمرہ اولیٰ
یہ پہلا منارہ ہے جس کو پہلا شیطان کہا جاتا ہے ـ یہ مسجد خیف کی طرف بازار میں ہے ـ گیارہ تاریخ کو اسی سے کنکریاں مارنی شروع کریں ، کنکریاں مارتے وقت قبلہ شریف کو بائیں طرف اور منیٰ دائیں ہاتھ کرنا چاہیے ـ اﷲ اکبر کہہ کر ایک ایک کنکری پیچھے بتلائے طریقے سے پھینکیں ـ جب ساتوں کنکریاں مار چکیں تو قبلہ کی طرف چند قدم بڑھ جائیں اور قبلہ رخ ہو کر دونوں ہاتھ اٹھا کر تسبیح ، تحمیدہ تہلیل وتکبیر پکاریں اور خوب دعائیں مانگیں ـ سنت طریقہ یہ ہے کہ اتنی دیر تک یہاں دعا مانگیں اور ذکراذکار کریں جتنی دیر سورہ بقرہ کی تلاوت میں لگتی ہے اتنا نہ ہو سکے تو جو کچھ ہو سکے اس کو غنیمت جانیں ـ
جمرہ وسطٰی
یہ درمیانی منارہ ہے جس طرح جمرہ اولٰی کو کنکریاں ماریں تھیں اسی طرح اس کو بھی ماریں اور چند قدم بائیں طرف ہٹ کر نشیب میں قبلہ رو کھڑے ہو کر مثل سابق کے دعائیں مانگیں اور بقدر تلاوت سورہ بقرہ کے حمد وثنائے الٰہی میں مشغول رہیں ـ (بخاری )
جمرہ عقبٰی
یہ منارہ بیت اﷲ کی جانب ہے اس کو بڑے شیطان کے نام سے پکارا جاتا ہے ـ اس کو بھی اسی طرح کنکریاں ماریں ـ ہاں اس کو کنکریاں مار کر یہاں ٹھہرنا نہیں چاہیے اور نہ یہاں ذکرواذکار اور دعائیں ہونی چاہیں ـ (بخاری )
یہ تیرہ ذی الحجہ کے زوال کا پروگرام ہے یعنی 13 کی زوال تک منٰی میں رہ کر روزانہ وقت مقررہ پر رمی جمار کرنا چاہیے یا ضرورت مندوں مثلاً اونٹ چرانے والوں اور آب زمزم کے خادموں اور ضروری کام کان کرنے والوں کے لئے اجازت ہے کہ گیارہ تاریخ کو ہی گیارہ کے ساتھ بارہ تاریخ کی بھی اکٹھی چورہ کنکریاں مار کر چلے جائیں ، پھر تیرہ کو تیرہ کی کنکریاں مار کر منٰی سے رخصت ہونا چاہیے اگر کوئی بارہ ہی کو 13 کی بھی مار کر منٰی سے رخصت ہو جائے تو درجہ جواز میں ہے مگر بہتر نہیں ہے ـ دوران قیام منٰی میں نماز جماعت مسحد خیف میں ادا کرنی چاہیے ـ یہاں نماز جمع نہیں کر سکتے ہاں قصر کر سکتے ہیں ـ
جمروں کے پاس والی مسجدوں کی داخلی اور ان کا طواف کرنا بدعت ہے ، منٰی سے تیرھویں تاریخ کو زوال کے بعد تینوں شیطانوں کو کنکریان مار کر مکہ شریف کو واپسی ہے ، کنکریاں مارتے ہوئے سیدھے وادی محصب کو چلے جائیں یہ مکہ شریف کے قریب ایک گھاٹی ہے جو ایک سنگریزہ زمین ہے حصیب البطح اور بطحاء اور خیف بنی کنانہ بھی اسی کے نام ہیں ، یہاں اتر کر نماز ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء ادا کریں اور سو رہیں ـ صبح سویرے مکہ شریف میں 14 کی فجر کے بعد داخل ہوں ـ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا اگر کوئی اس وادی میں نہ ٹھہرے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے ، مگر سنت سے محرومی رہے گی یہاں ٹھہرنا ارکان حج میں سے نہیں ہے لیکن ہماری کوشش ہمیشہ یہ ہونی چاہیے جہاں تک ہو سکے سنت ترک نہ ہو ـ
(صحیح بخاری :ج، 3 ص،81)