واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > عمرہ و حج



عمرہ و حج عمرہ و حج


عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-11-09, 04:34 PM   #1
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
sahj sahj آف لائن ہے 21-11-09, 04:34 PM

عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام

اللہ تعالی نے ذی الحجہ کی ابتدائی دس راتوں کی عظمت وشان ظاہر کرتے ہوئے سورۃ الفجر میں اس کی قسم ذکر فرمائی ہے:


والفجر وليالٍ عشر ۔


ترجمہ:قسم ہے صبح کی اور دس راتوں کی۔



جامع ترمذی شریف میں حدیث مبارک ہے:


عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ : مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِى الْحِجَّةِ يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ مِنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍ وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ.


ترجمہ: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا: ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں کی جانے والی عبادت اللہ تعالی کی بارگاہ میں دوسرے دنوں میں کی جانے والی عبادت سے زیادہ محبوب وپسندیدہ ہے، اس میں ایک دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر اجر وثواب رکھتاہے اور اس کی ایک رات کا قیام سال بھر کی شب بیداری کے برابر اجر رکھتا ہے۔


(جامع ترمذی شریف ،ابواب الصوم ،باب ماجاء فی العمل فی ایام العشر، ج1،ص158،حدیث نمبر: 763)



الغنیۃ لطالبی طریق الحق میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت مذکور ہے :


عن عائشة رضی الله عنها ،عن النبی صلی الله عليه وسلم أنه قال : من أحياليلة من ليالی عشرذی الحجة فکأنما عبدالله عبادة من حج واعتمرطول سنته ، ومن صام فيها يوما فکأنما عبدالله سائر سنته ۔
ترجمہ: جو عشرۂ ذی الحجہ کی کسی رات کو عبادت کے ذریعہ زندہ کرے گویا وہ اس سال حج اور سال بھرعمرہ کرنے والے کے برابر عبادت کرنے والا قرار پائیگا اورجوشخص اس عشرہ میں کسی دن روزہ رکھے توگویا اس نے سال بھر اللہ تعالی کی عبادت کی۔
(الغنیۃ لطالبی طریق الحق،ج2،ص25)



حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اذا دخل عشر ذی الحجة فجدوا فی الطاعة،فانها أيام فضلها الله تعالی وجعل حرمة ليلها کحرمة نهارها۔
ترجمہ:جب عشرۂ ذی الحجہ شروع ہوجائے تو عبادت واطاعت میں اہتمام کروکیونکہ یہ وہ ایام ہیں جنہیں اللہ تعالی نے فضیلت وبرتری عطافرمائی ہے اور اس کی رات کو بھی دن کی طرح عظمت و تقدس والی بنایا ہے ۔
(الغنیۃ لطالبی طریق الحق،ج2،ص25)



حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عشرہ ذی الحجہ کا ہر دن، ثواب میں ایک ہزار دن کے برابر ہے اور عرفہ کا دن دس ہزار دنوں کے برابر شان و فضیلت رکھتا ہے ۔
(الترغیب والترہیب،ج2،ص200)


وعن أنس بن مالک رضی الله عنه قال : کان يقال فی ايام العشر بکل يوم الف يوم ويوم عرفة عشرة آلاف يوم ۔رواه البيهقی والأصبهانی۔



(1) ان مبارک دنوں میں چونکہ حج کے اعمال انجام دئے جاتے ہیں، حجاج کرام احرام کی حالت میں ہوتے ہیں، ان سے ایک قسم کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے بطور خاص قربانی کرنے والوں کے لیے مستحب ہے کہ یکم ذی الحجہ سے قربانی کا جانور ذبح کرنے تک ناخن تراشنے اور بال کتروانے سے اجتناب کریں-


حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان ایام میں ناخن تراشنے اور بال کتروانے سے منع فرمایا چنانچہ صحیح مسلم شریف ج2، ص160 میں حدیث پاک ہے:


عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِىِّ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا أُهِلَّ هِلاَلُ ذِى الْحِجَّةِ فَلاَ يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلاَ مِنْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا حَتَّى يُضَحِّىَ.


ترجمہ: حضرت ابن اکیمہ لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے سنا ،فرماتے ہیں: میں نے حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے سنا: آپ نے فرمایا: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے پاس ذبح کرنے کے لئے جانور ہو وہ جب ماہ ذی الحجہ کا چاند دیکھے اپنے بال نہ نکالے اور نہ ناخن تراشے یہاں تک کہ قربانی کرلے۔



(2) نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہویں کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد اہل اسلام خواتین وحضرات تکبیر تشریق کا اہتمام کریں۔



(3) ذی الحجہ کے ابتدائی دنوں میں روزہ کا اہتمام کریں ،کم از کم نویں ذی الحجہ عرفہ کا روزہ رکھیں جو بڑی فضیلت کا حامل ہے۔



(4) صاحبان نصاب، قربانی کا لازمی طور پراہتمام کریں۔



(5) جو قربانی نہ دے سکتے ہوں وہ بھی اگرعید کے دن ناخن تراشنے اور زائد بال کتروانے کا اہتمام کریں تو ان کے لئے مکمل قربانی کا اجر وثواب ہے۔


(سنن ابوداود، سنن نسائی
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 167
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
مجیب انڑ (17-08-10), سحر (25-11-09)
جواب

Tags
color, magenta, فرض, پاک, نماز, مکمل, اسلام, حدیث, خواتین, روزہ, سال, عائشہ, عبادت, عبدالله, عشرہ, عشرۂ, عظمت, عصر, صبح, صحیح, صدیقہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:10 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger