واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > عمرہ و حج



عمرہ و حج عمرہ و حج


عمرہ اور حج کا طریقہ صحیح سُنـت کے مطابق

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-11-07, 10:19 AM   #1
عمرہ اور حج کا طریقہ صحیح سُنـت کے مطابق
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 23-11-07, 10:19 AM

::::: مکہ اور مسجد ِ حرام میں داخلے کے آداب :::::
::::: اگر آسانی سے کیا جا سکتا ہو تو مکہ میں داخلہ کے لئیے غُسل کرنا بہتر ہے ۔ صحیح البُخاری /حدیث ١٥٧٣ ۔
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ العلیا ( جِس طرف باب معلیٰ ہے) کی طرف سے داخل ہوتے اور ثنیہ سُفلیٰ سے خارج ہوتے ( صحیح البُخاری /حدیث ١٥٧٥) اگر ایسا کیا جا سکتا ہو تو کرنا چاہیئے اگر نہیں تو کِسی بھی طرف سے داخل ہوا جا سکتا ہے اور کِسی بھی طرف سے نکلا جا سکتا ہے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کی اجازت دِی ہے ، اِمام ا لالبانی نے کہا یہ حدیث الفاکھی نے روایت کی ہے اور حسن ہے ۔
::::: انس رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ ( سُنّت یہ ہے کہ جب مسجدِ میں داخل ہوا جائے تو پہلے دائیں پاؤں داخل کیا جائے اور خارج ہوتے وقت بائیں پاؤں پہلے نکالاجائے) مسجد الحرام اور مسجدِنبوی میں آتے جاتے ہوئے بھی اِس بات کا خیال رکھا جانا چاہیئے ، مستدرک الحاکم/ حدیث ٧٩١ ،سلسلہ احادیث الصحیحہ /حدیث ٢٤٧٨ ۔
::::: اِسکے ساتھ مسجد میں داخل اور مسجد سے خارج ہوتے وقت کی دُعا ؤں میں سے کوئی دُعا کرنا بھی نہیں بھولنا چاہیئے
::::: حرم میں داخل ہو کر جب کعبہ نظر آئے تو ہاتھ اُٹھا کر دُعا کی جا سکتی ہے کیونکہ عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہُ سے ایسا کرنا ثابت ہے ( سُنن البہیقی ، مُصنف ابن ابی شیبہ ) اور اِس موقع پر عُمر رضی اللہ عنہ ُ سے یہ دُعا کرنا ثابت ہے ( اللَّھُمَ انت َ السَّلام ، و مِنکَ السَّلام فَحیِّنَا بالسَّلامِ) لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس موقع پر کوئی خاص دُعا کرنا ثابت نہیں ، لہذا دُعاکرنے والا جو دُعا بھی کرنا چاہے کر سکتا ہے ، لیکن اپنی طرف سے بنائی ہوئی ، مختلف کتابوں میں لکھی ہو ئی دُعائیں کرنے کی بجائے بہتر یہی ہے کہ خلیفہء راشد عُمر رضی اللہ عنہُ کی سُنّت کو اپنایا جائے ۔::::: اِسکے بعد عُمرہ کا آغاز کیا جائے گا ۔
::::: عُمرہ ، طوافِ قُدُوم کرنے کا طریقہ:::::
::::: حج کے اِرادے سے آنے والے کےلئیے یہ عُمرہ طوافِ قُدُوم کہلاتا ہے ، اور اگر کوئی صِرف عُمرہ کر رہا ہو تو بھی اُسکی ادائیگی کا طریقہ ایک جیسا ہی ہے ، حجِ قِران والا چاہے تو اپنے طوافِ قُدُوم کو صِرف کعبہ کے طواف پر روک سکتا ہے ، اور صفا ، مروہ کی سعی طوافِ اِفاضہ کے ساتھ کر سکتا ہے ۔
::::: مسجد الحرام میں داخل ہونے کے بعد حجرِ اسود کی طرف جایا جائے گا اور مندرجہ ذیل ترتیب اور طریقے سے عُمرہ کی ادائیگی مکمل کی جائے گی :::
::::: طو افِ کعبہ :::::
::::: طواف ِکعبہ کے لیئے اپنے دائیں کندہے کو ننگا کیا جائے گا ، کعبہ کے طواف کے عِلاوہ کندہے کو ننگا رکھنا بدعت ہے ۔
::::: حجرِ اسود کے سامنے کھڑا ہو کر تکبیر کہی جائے گی یعنی '' اللہ ُ اکبر '' ( صحیح البُخاری /حدیث ١٦١٣ ) تکبیر ایک دفعہ کہی جائے گی تین دفعہ نہیں جیسا کہ عام طور پر لوگ کہتے ہیں اگر کوئی اِس تکبیر سے پہلے '' بِسمِ اللہ '' بھی کہے تو جائز ہے کیونکہ ایسا کرنا عبداللہ بن عمر سے ثابت ہے (مناسک الحج و العمرہ ، ا لالبانی )
::::: اِسکے بعد حجرِ اسود کو چھوا جائے گا ، اُسے چُوما جائے گا اور اُس پر سجدہ کیا جائے گا ، جِس ہاتھ سے حجر کو چھوا جائے حجر کی بجائے صِرف اُس ہاتھ کو چومنا بھی درست ہے ، یہ سب کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے ثابت ہیں ، صحیح البُخاری/حدیث ١٦١٠ ،١٦١١ ، اِرواءَ الغلیل / حدیث ١١١٢۔
::::: حجرِاسود اوراُسکو چھونے کی بڑی فضیلت ہے (الترمذی حدیث ٩٥٩ ،٨٧٧ ، صحیح ابنِ خزیمہ/ حدیث ٢٧٣٦ ، ٢٧٣٣ ،٢٧٣٦ ، مُستدرک الحاکم ١٦٨٠ ) لیکن یہ بات اِس سے زیادہ اہم ہے کہ یہ سب کام سُنّت کے درجے میں ہیں اور کِسی مُسلمان کو اذیت پُہنچانا حرام ہے لہذا اِس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ حجرِ اسود کو چھونے اور چومنے وغیرہ کی سُنّت پر عمل کرتے ہوئے کِسی حرام کام کا شکار نہ ہو جائیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں کو تکلیف دینے سے باز رہنے کا حُکم دِیا ہے ( مسنداحمد /حدیث١٩٠ ) ۔
::::: اگر طواف کرنے والا کِسی چیز پر سوار ہو تو حجرِ اسود کو کِسی چھڑی وغیرہ سے چھو کر اُس چھڑی وغیرہ کو چوم سکتا ہے ۔ صحیح البُخاری /حدیث١٦٠٧ ، صحیح مُسلم /حدیث ١٢٧٥
::::: اگر لوگوں کو تکلیف دئیے بغیر حجرِ اسود کو ہاتھ سے چُھونا ممکن نہ ہو تو اُسکی طرف اشارہ کیا جائے گا ( صحیح البُخاری/ حدیث ١٦١٢ ، ١٦١٣) ہاتھ کو چوما نہیں جائے گا ، یہ خلافِ سُنّت ہے یعنی بدعت ہے ۔
::::: اِسکے بعد کعبہ کے گرد سات چکر لگائیں جائیں گے حجرِ اسود سے حجرِ اسود تک ایک چکر ، ہر چکر کے آغاز میں حجرِ اسود کو چُھوا جائے گا ، اُوپر بیان کی گئی باتوں کو اچھی طرح سے یاد رکھ کرایسا کیا جانا چاہیئے ۔
::::: کِسی کو تکلیف دئیے بغیر اگر ممکن ہو تو طواف کے ہر چکر میں رکنِ یمانی ( رکن یمانی کعبہ کا وہ کونہ ہے جو طواف ختم ہونے میں رکنِ حجرِ اسود سے پہلے آتا ہے ) اِسکا اِستلام بھی کیا جائے گا ، یعنی اُسے چھویا جائے گا ، لیکن اُسکو چھو کر ہاتھ چومنا ، یا نہ چھونے کی صُورت میں اُسکی طرف اشارہ ، یا اِشارہ کر کے ہاتھ چُومنا خِلافِ سُنّت ، یعنی بدعت ہے ۔
::::: طواف کرتے ہوئے کعبہ کے جو دو کونے حجرِ اسود کے بعد آتے ہیں اُنہیں رُکنین شامین یعنی دو شامی کونے کہا جاتا ہے ، اِنہیں نہیںچھویا جایا گا کیونکہ رسول اللہ اِن دونوں کونوں کو نہیں چھویا ،( صحیح البُخاری /حدیث ١٦٠٩ ) ۔
::::: رکن یمانی اور رکنِ حجر کے درمیان یہ دُعا کی جائے گی ( ربنا اتنا فی الدُنیا حَسَنَۃً و فی الآخرۃِ حَسَنَۃً وقِنَا عذاب النار) صحیح ابو داؤد /حدیث ١٦٥٣
::::: اِسکے عِلاوہ کعبہ کے طواف میں کوئی دُعا یا ذِکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ، لوگوں نے ہر چکر کے لئیے اور ہر کونے کے لئیے اور میزابِ رحمت کے لئیے جو دُعائیں مقرر کر رکھی ہیں اُن کی سُنّت میں کوئی اصل نہیں لہذا کِسی مُقام کے لئیے کِسی دُعا کوخاص نہیں کرنا چاہیئے ،
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے( گھر ( یعنی اللہ کے گھر) کا طواف نماز ہے لیکن اِس میں اللہ نے بولنا حلال کر دِیا ہے لہذا جو بولے تو خیر کے عِلاوہ کُچھ نہ بولے ) اور دوسری روایت میں ہے ( لہذا اِس ( یعنی طواف ) میں بولنے میں کمی رکھو ) سُنن الترمذی /حدیث ٩٦٠ ، سُنن النسائی /٢٩٢٢ صحیح ابن خزیمہ/ حدیث ٢٧٣٩ ،مستدرک الحاکم / ٣٠٥٦ ، ٣٠٥٨ ، اِرواءَ الغلیل/حدیث ٢١ ۔
::::: لہذا کوئی بھی دُعا مانگی جا سکتی ہے اور کِسی بھی زُبان میں مانگی جا سکتی ہے ، اللہ تعالیٰ ہر زُبان کو جاننے والا ہے اگر ہاتھ میں کِتابیں تھام کر اُن میں لکھے ہوئے الفاظ کو کِسی سمجھ کے بغیر دُہرایا جائے اور وہ بھی غلط تلفظ میں تو دِل کی حاضری کیا ہو گی ؟ اور جِس عبادت میں دِل حاضر نہیں دماغ اور زبان کا آپس میں کوئی واسطہ نہیں اُس کا کیا فائدہ اور اثر ؟ پڑہنے والے کو پتہ ہی نہیں کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے کِس سے کیا کہہ رہا ہے کیا مانگ رہا ہے ، سُنّت کے خلاف اور دِل و دماغ کی غیر حاضری سے کی گئی لاکھوں عبادتوں سے بہتر وہ ایک عبادت ہے جو سُنّت کے مُطابق اور دِل و دماغ کی حاضری کے ساتھ کی جائے ۔
::::: کعبہ کے طواف میں پہلے تین چکروں میں '' رمل '' کیا جایا گا ( صحیح البُخاری/ حدیث ١٦٠٢ ، ١٦٠٣ ، ١٦٠٤ ) '' رمل '' کا مطلب ہے ، کِسی چاق و چوبند آدمی کی طرح کندہے ہلا ہلا کر ہلکی رفتار سے دوڑنا ، اِس کیفیت کو سعی بھی کہتے ہیں یعنی وہ کیفیت جو ہلکے ہلکے بھاگنے اور جلدی جلدی چلنے کے درمیان کی کیفیت ہو ۔
::::: طوافِ کعبہ کے بعد ، اور صفا و مروہ کی سعی کے درمیان کئیے جانے والے کام :::::
::::: کعبہ کا طواف مکمل کرنے کے بعد ، اپنے کندہے کو ڈہانپا جائے گا ، پھر ملتزم کے ساتھ سینہ ، چہرہ اور ہتھیلیاں اور کہنی تک بازو لگا کر کُچھ دیر کھڑا رہا جائے گا ۔ ( سلسہ احادیث الصحیحہ/ حدیث ٢١٣٨ ) ملتزم کعبہ کے اُس حصہ کو کہا جاتا ہے جو حجرِ اسود اور دروازے کے درمیان ہے ۔( منسک ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ )
::::: اِسکے بعد مُقام ابراہیم کے دو نفل ادا کئیے جائیں گے ، اِس طرح کہ مُقامِ ابراہیم نمازی اور کعبہ کے درمیان میں آئے اور اِس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ کِسی کو اپنے سامنے سے نہ گزرنے دِیا جائے ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دِیا ہے (صحیح البُخاری،صحیح مُسلم) اور یہ حُکم ہر نماز اور ہر جگہ کے لئیے عام ہے ، اِس حُکم میں سے مسجد الحرام یا مسجدِ نبوی یا کِسی اور جگہ کو نکالنے کی کوئی دلیل نہیں ، اگر وہاں رش ہو جو یقیناً ہوتا ہے تو پھر مقامِ ابراہیم کے نفل حرم میں کہیں بھی کِسی چیز کی آڑ میں پڑہے جائیں ، یاد رہے کہ آڑ لئیے بغیر نماز پڑہنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے(صحیح ابن خزیمہ) اور یہ حُکم ہر جگہ کےلئیے ہے ۔
::::: اِس کے بعد زمزم کی طرف جا کر اور زمزم پیا جائے اور سر پر ڈالا جائے ۔
::::: پھر حجرِ اسود کی طرف واپس آ کر تکبیر کہی جائے گی اور اُس کا استلام کیا جائے گا یعنی اُسے چھویا جائے گا ۔
::::: صفا و مروہ کی سعی :::::
::::: طواف کعبہ ، مقامِ ابراہیم کے دو نفل ، زمزم پینے اور سر پر ڈالنے ، اور حجرِ اسود کے استلام کے ساتھ تکبیر کہنے کے بعد صفا کی طرف جانا ہے اور صفا کی طرف جاتے ہوئے جب صفا کے قریب پہنچیں تویہ آیت پڑہی جائے گی ( اِنَّ الصَّفا والمروۃَ مِن شعائرِ اللَّہ فَمَن حجَّ البَیتَ او اعتمَرَ فلاجُناحَ عَلیہِ ان یَطوَّفَ بِِہِمَا ، و مَن تطوعَ خیراً فاِنَّ اللَّہَ شاکرٌعلیم ) ( بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میںسے ہیں ، لہذا جو گھر کا حج کرے یا عُمرہ کرے اور اِن دونوں کا طواف کرے تو اُس پرکوئی گناہ نہیں اور جو اپنی خوشی سے اچھائی کرتا ہے تو اللہ قدر کرنے والا اور سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے ) سورت بقرہ آیت /١٥٨ ، اور یہ کہے ( نَبداَ بِمَا بَداَ اللَّہُ بِہِ ) ( ہم بھی اُسی سے شروع کرتے ہیں جِس سے اللہ نے شروع کیا ) ابو داؤد، النسائی،الترمذی، و غیرھُم۔
::::: پھر صفا پر چڑھا جائے گا یہاں تک کہ کعبہ دیکھا جائے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کعبہ کی طرف رُخ کر کے اللہ کی توحید بیان کی جائے ، اور اُسکی بڑائی بیان کی جائے ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ، تین دفعہ تکبیر کہی جائے اور کہا جائے ( لا اِلہَ اِلَّا اللَّہَ وحدَہُ لا شریکَ لہُ لہُ المُلکُ ولہُ الحمدُ یُحی و یُمیتُ و ھُوَعلیٰ کُلِّ شي ٍ قدیرٌ) ( اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں وہ اکیلا ہے اُسکا کوئی شریک نہیں، اُسکی تعریف ہے اور اُسکی بادشاہی ہے ، زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قُدرت رکھتا ہے ) اور تین دفعہ کہا جائے ( لا اِلہَ اِلَّا اللَّہَ وحدَہُ لاشریکَ لہُ انجز َوعدَہُ ونَصرَعبدَہُ وھزمَ الاحزاب وحدَہُ ) ( اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں وہ اکیلا ہے اُسکا کوئی شریک نہیں،اُس نے اپنا وعدہ پورا کیا ، اور اپنے بندے کی مدد کی ، اور سب گروہوں کو اکیلے ہی شکست دِی ) اور اِس تکبیر ، تہلیل اور حمد کے درمیان کوئی دُعا بھی کی جا سکتی ہے ۔
::::: اِسکے بعد صفا سے اُترتے ہوئے، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا آغاز کیا جائے گا ۔
::::: صفا سے مروہ کی طرف جاتے ہوئے تھوڑے ہی فاصلے کے بعد وہ جگہ آتی ہے جہاں سے سعی کرتے ہوئے گزرنے کا حُکم ہے ، یہ جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چھوٹی چھوٹی کنکریوں والی ایک وادی کی شکل میں ہوتی تھی اور اِس کو بطح کہا جاتا تھا آج کل اِس جگہ کو دور سے دیکھ کر جانا جا سکتا ہے ، کیونکہ حرم کی انتظامیہ نے اِس جگہ کے آغاز اور اختتام پر سبز روشیناں لگا رکھی ہیں اور فرش پر بھی بھورے رنگ کا پتھر لگا ہوا ہے ۔
::::: سعی کرنے کا طریقہ طوافِ کعبہ میں بیان کیا جا چُکا ہے ، سعی کرنے میں مرد اور عورت کے لئیے کو ئی فرق نہیں ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے( بطح کو پا ر نہیں کیا جائے گا ، سوائے شدت کے ) ابو داؤد /حدیث ٢٩٨٧ ، النسائی حدیث ٢٩٨٠ ، لیکن اِس بات کا یقیناً خیال کیا جائے گا کہ عورت اِس طرح حرکت نہ کرے جِس سے اُسکی بے پردگی ہو ، جیسا کہ اب دیکھنے میں آتا ہے ، حاجی خواتین یوں بھی اپنے آپکو پردے کی پابندیوں سے کافی حد تک آزاد رکھتی ہیں ، اور سونے پر سُہاگہ کہ لوگوں نے اِس جگہ کو سعی کی صُورت میں پار کرنے کی بجائے دوڑ لگا کر پار کرنا سعی بنا لیا ہے جبکہ یہ سراسر غلط ہے ۔
::::: سعی کی جگہ سے نکلنے کے بعد اپنی عام چال پر چلتے ہوئے مروہ کی طرف آئیے اور جِس طرح صفا پر چڑھا گیا ، اور جو کچھ وہاں کیا گیا وہ سب کام کیئے جائیں گے ، اِس طرح یہاں تک ایک چکر مکمل ہو گا ۔
::::: پھرجِس طرح مروہ سے صفا کی طرف آئے تھے اُسی طرح صفا کی طرف جایا جائے گا ، اِسطرح دو چکر ہوں گے
::::: اِن چکروں کی بیان کردہ کیفیت کے مُطابق باقی پانچ چکر پورے کئیے جائیں گے ۔
::::: سات چکر پورے ہونے پر اپنے سر کے بال کٹوائے جائیں گے یا سر مُنڈوایا جائے گا ، سر کے بال مُنڈوانے یا کٹوانے کے بعد عُمرہ مکمل ہو جاتا ہے اور حالتِ احرام ختم ہو جاتی ہے ۔
::::: صِرف عُمرہ یا حج ِ تمتع کرنے والا اِسکے بعد احرام کی کِسی پابندی میں نہیں رہتا ۔
::::: حج تمتع کرنے والا آٹھ ذی الحج تک حلال رہے گا ، اور آٹھ ذی الحج جِسے یومِ ترویہ کہا جاتاہے ، کو دوبارہ حالت احرام میں آئے گا اور حج کا تلبیہ کہے گا ۔
حج کی اقسام کا ذِکر ایک الگ مضمون کی سورت میں نشر کیا جا چکا ہے ،
::::: حج قِران : حجِ قِران کرنے والا قُربانی کا جانور ساتھ لائے گا او ر عُمرہ یعنی طوافِ قُدُوم کرنے کے بعد حلال نہیں ہو گا بلکہ اپنے مناسک ادا کرنے تک حالتِ احرام میں رہے گا ، تمتع اور قِران میں اُوپر بیان کئیے گئے دو ہی فرق ہیں ، اِنکے عِلاوہ سب مناسک اور کام ایک جیسے ہیں ۔
::::: حجِ اِفراد کرنے والا چاہے تو طوافِ قُدُوم کر سکتا ہے جِس میں صفا اور مروہ کی سعی نہیں ہوتی ، اگر کوئی چاہے تو سعی بھی کر سکتا ہے ، یہ سعی اُسکے لئیے طوافِ افاضہ کی سعی کا متبادل ہو سکتی ہے ، اگر اِفراد کرنے والا طوافِ قُدُوم نہیں کرتا تو اُسے حج کا تلبیہ کہتے ہوئے حالتِ احرام میں داخل ہو کر آٹھ ذی الحج کو سیدھا مِنیٰ جاناہوتاہے اور پھر طوافِ اِفاضہ کرنے تک تمتع اور قِران کرنے والوں کی طرح باقی مناسک ا دا کئیے جاتے ہیں ، سوائے قُربانی اور طوافِ وداع کے :: حجِ اِفراد کرنے والا یہ دونوں کام نہیں کرے گا ۔
::::: آٹھ ( ٨ ) ذی الحج میں کیے جانےوالے کام :::::
::::: جِس طرح عُمرہ کے لئیے احرام میں داخل ہو ا گیا تھا اُسی طرح حج کی نیت سے حالتِ احرام میں داخل ہو ا جائے گا ، حج کے لئیے آنے والے لوگ مکہ یا اُسکے اِرد گرد جہاں بھی ٹھہرے ہوں وہیں سے حالتِ احرام میں داخل ہوں گے ، حتی کہ مکہ والے بھی مکہ سے ہی احرام میں داخل ہوں گے ، مکہ سے نکل کر کِسی بھی اور جگہ جانے کی ضرورت نہیں۔صحیح البُخاری/حدیث١٥٢٤،صحیح مُسلم/ حدیث١١٨١ ، ١١٨٣ ۔
::::: حالتِ احرام میں داخل ہو کر ظہر تک منیٰ پہنچا جائے گا ، اور ظہرعصر مغرب عِشاءَ اور نو ذی الحج کی فجر منیٰ میں ہی ادا کرنا ہے ، اِن میں سے جو نمازیں قصر کی جا سکتی ہیں وہ قصر کرکے ادا کی جائیں گی ۔
::::: نمازوں کے علاوہ وقت کو بھی اللہ کے ذِکر میں ، اور تلبیہ کہتے ہوئے گزارا جائے گا ( صحیح مُسلم/ حدیث ١٢١٨ )فالتو باتیں کرتے ہوئے ، کوئی کھیل کھیلتے ہوئے یا آتے جاتے لوگوں کو دیکھتے ہوئے نہیں ، مِنیٰ میں قیام کے دوران با جماعت نماز کی ادائیگی کا خا ص اہتمام کیا جائے ، اگر آسانی سے مُیسر ہو تو مسجد خیف میں جا کر جماعت کے ساتھ نماز ادا کی جائے ۔
::::: نو ( ٩ ) ذی الحج میں کئیے جانے والے کام :::::
::::: نمازِ فجر ادا کر کے سورج نکلنے کے بعد مِنیٰ سے عرفات کی طرف روانہ ہوا جائے گا ، اِس سے پہلے مِنیٰ سے نکلنا درست نہیں ، اور مِنیٰ سے عرفات جاتے ہوئے ، تلبیہ ، تکبیر اور تہلیل کُچھ بھی پڑھا جا سکتاہے ۔ صحیح البُخاری /حدیث ١٦٥٩ ، ١٦٦٣
::::: منیٰ کے قریب نمرہ میں رکا جائے گا ، نمرہ عرفات کے قریب دائیں طرف ایک جگہ ہے ، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک بستی آباد تھی( منسک ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ )
::::: زوال کے بعد نمرہ سے نکل کر عُرنہ پہنچ کر اِمام کا خطبہ سننے کے بعد ظہر اور عصر ایک اذان اور الگ الگ اقامت کہہ کر ، جمع اور قصر کر کے پڑہی جائیں گی ، عُرنہ وہ جگہ ہے جو مشعرِ حرام اور عرفات کے درمیان اور عرفات کی حدود کے بالکل قریب ہے جہاں آج کل ایک مسجد ہے جِسکا اگلا حصہ عُرنہ میں اور پچھلا حصہ عرفہ میں ہے ، اکثر لوگ اِس مسجد کے اگلے حصے میں بیٹھ کر اپنا قیامِ عرفات مکمل کرتے ہیں جب کہ وہ عرفات سے باہر ہوتے ہیں آجکل تو سعودی حکومت کی طرف سے اِن تمام مقامات کی حدود کی بڑی واضح نشاندہی کی جاتی ہے ، اور لوگوں کو سمجھایا جاتا ہے لیکن افسوس کہ لوگ صِرف اپنی ضِد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اپنا حج خراب کر لیتے ہیں ، اِمام ابن تیمیہ کا کہنا ہے کہ ، رش یا کِسی اور جائز سبب کی وجہ سے اگر کوئی نماز سے پہلے ہی عرفات میں داخل ہو جائے تو کوئی حرج نہیں ، اِنشاءَ اللہ ۔
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات کے تقریباً درمیان میں واقع جبلِ رحمت نامی پہاڑ کے قریب چٹانوں کے پاس قیام کیا اور قبلہ رُخ ہو کر دُعا کرتے رہے ۔ (صحیح مُسلم ١٢١٨ ) اِس پہاڑ پر چڑہنا اور اِس کے اُوپر جا کر دُعائیں کرنا یا نماز پڑہنا سب کام خِلافِ سُنّت ہیں ، یعنی بدعت ہیں ۔
::::: عرفات میں داخل ہو کر کِسی بھی جگہ قیام کیا جا سکتا ہے ۔صحیح مُسلم/ حدیث١٢١٨، النسائی/ حدیث٣٠١٥ ۔
::::: حج کرنے والا اِس دِن روزہ نہیں رکھے گا ۔ النسائی/حدیث ٣٠٠٤ ، ابو داؤد /حدیث ٢٤١٩ ، الترمذی / ٧٧٣
::::: مغرب تک اللہ تعالیٰ کے ذِکر اور اُس سے دُعا میں مشغول رہنا ہو گا ، سورج غروب ہو جانے کے بعد عرفات سے نکلنا ہو تاہے اگر کوئی مغرب سے پہلے عرفات کی حدود سے نکل گیا تو اُ سکا قیام پورا نہیں ہو گا اور اِسی طرح عرفات کی حدود سے باہر رہنے سے قیامِ عرفات نہیں ہوتا اور قیام نہ ہونے سے حج نہیں ہوتا ۔ ابو داؤد /حدیث ١٩٤٩ ،النسائی /حدیث ٣٠١٦ ، الترمذی/ حدیث ٨٨٩ ۔
::::: سورج غروب ہونے کے بعد عرفات سے نکل کر بڑے اطمینان اور سکون سے مزدلفہ کی طرف روانہ ہوا جائے گا جلد بازی کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ۔ صحیح البُخاری/حدیث ١٦٧١
::::: مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عِشاءَ ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ جمع اور قصر کر کے پڑہی جائیں گی جیسا کہ ظہر اور عصر پڑہی گئی تِھیں ۔ صحیح البُخاری /حدیث ١٦٧٢
::::: یاد رہے کہ قصر کرتے ہوئے بھی مغرب کی تین رکعت ہی پڑہی جائیں گی ، اِن میں کمی نہیں کی جاسکتی ، اِسکے بعد کوئی اور نماز نہیں پڑہی جائے گی ، نہ کوئی نفل اور نہ ہی کوئی سُنّت بلکہ اِس رات میں اور اِس مقام پر سُنّت یہ ہے کہ مغرب اور عِشاءَ کو جمع اور قصر کر کے ادا کرنے کے بعد سویا جائے ۔ صحیح البُخاری /حدیث ١٦٧٢ ، ١٦٧٣ ، ١٦٧٥ ۔
( کتاب ’’’ عُمرہ اور حج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر ‘‘‘ سے ماخوذ )

Last edited by عادل سہیل; 20-11-09 at 02:51 PM.. وجہ: re formating

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1342
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (05-06-11), احمد غزنوی (30-11-08), رانا امر (04-05-09), ضِرار Derar (06-11-10), طارق راحیل (28-11-08)
پرانا 23-11-07, 10:23 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb جواب: عمرہ اور حج کا طریقہ صحیح سُنـت کے مطابق

گذشتہ سے پیوستہ

::::: دس ( ١٠ ) ذی الحج میں کرنے کے کام :::::
::::: فجر کی نماز مزدلفہ میں ادا کرنے کے بعد مشعر الحرام نامی پہاڑ پر کُچھ اُوپر چڑھ کر تکبیر ، تہلیل ، تلبیہ اور دُعا کی جائے گی ، جب سورج نکلنے سے پہلے سُفیدی اچھی طرح پھیل جائے تو پھر وہاں سے منیٰ کی طرف روانہ ہوا جائے گا ۔ صحیح البُخاری/ حدیث ١٦٨٤ ، صحیح مُسلم /حدیث١٢١٨
::::: مزدلفہ کی طرف روانگی اور مِنیٰ سے مزدلفہ تک کا راستہ بھی اطمینان اور سکون سے طے کیا جائے گا ، سوائے مِنیٰ کے قریب آنے والی ایک جگہ وادی مُحسِّرکے ، اِس جگہ کو جلد از جلد پار کرنا ہوتا ہے اور شیطان کو مارنے کے لئیے پتھر بھی اِسی راستے میں سے چُن لئیے جائیں گے یہ پتھر چنے کے برابر ہونا چاہیئں ، نہ بڑے اور نہ چھوٹے ۔( النسائی/ حدیث ٣٠٥٩ ، ابن ماجہ /حدیث ٣٠٢٩ ، مُسند ابو یعلی /حدیث ٢٤٦٧ ، مُسند احمد/ حدیث ١٨٥١ ، مُستدرک الحاکم /حدیث ١٧١١ ) اِن پتھروں کو دھونا ، اِن کا وضو کروانا اِنہیں کلمہ پڑھ کر پاک کرنا، اور اِسی طرح کے دیگر کام، سب خِلافِ سُنّت ہیں ۔
::::: بوڑہے ، معذور لوگوں اور عورتوں کے علاوہ سورج نکلنے سے پہلے پتھر مارنا منع ہے ۔ الترمذی /حدیث ٩٦٠ ، الدارمی /حدیث ١٨٨٥ ، ١٨٨٦ مُستدرک الحاکم/ حدیث ١٧٢٣۔
::::: بوڑہے لوگ یا عورتیں اگر چاہیں تو فجر سے پہلے رات کے کِسی حصے میں مِنیٰ روانہ ہو سکتے ہیں ، اور وہاں پہنچ کر پتھر مار سکتے ہیں ۔ صحیح البُخاری /حدیث ١٦٧٦ تا ١٦٨١ ۔
::::: مِنیٰ میں داخل ہو کر سب سے پہلے جمرۃ العقبۃ ( بڑا شیطان) کو پتھر مارے جائیں گے ، بڑا شیطان وہ ہے جو مکہ کی طرف سے پہلے آتا ہے ، پتھر مارتے ہوئے ہر پتھر کے ساتھ صِرف '' اللہ اکبر '' کہا جائے گا اور کُچھ نہیں ،پہلا پتھر مارنے کے بعد سے تلبیہ روک دِیا جائے گا ۔صحیح البُخاری /حدیث ١٦٨٥ ، ١٦٨٦
::::: دس ذی الحج کو صِرف جمرۃ العقبۃ یعنی بڑے شیطان کو پتھر مارنے ہوتے ہیں دوسرے دو جمرات کو نہیں ۔
::::: پتھر مارنے کے بعد حاجی پر ہر وہ چیز جو حالتِ احرام میں حرام تھی حلال ہو جاتی ہے سوائے بیوی کے ، لہذا وہ اپنے کپڑے تبدیل کر سکتا ہے۔ ابو داؤد /حدیث ١٩٩٧ ، صحیح ابن خزیمہ /حدیث ٢٩٤٠ ۔
::::: پتھر مارنے کے بعد قُربانی کی جائے گی ، قُربانی کے بعد سر مُنڈوایا جائے گا ، یہ تینوں کام اِس ترتیب سے کرنا سُنّت ہے اور یقیناً بہتر یہی ہے کہ اِس ترتیب کے مُطابق کیئے جائیں لیکن اگر ترتیب برقرار نہ رہے تو بھی کوئی گُناہ نہیں ۔ صحیح البُخاری /حدیث ١٧٢١ ، ١٧٢٢ ، ١٧٢٣ ۔
::::: اِس دِن مغرب سے پہلے پہلے طوافِ اِفاضہ کیا جائے گا جو شخص مغرب سے پہلے طوافِ اِفاضہ نہ کر سکا تو وہ اپنا لباس بدل کر احرام والا لباس پہنے گا اور پھر سے حالتِ احرام میں داخل ہو جائے گا ، جیسے کہ وہ پتھر مارنے سے پہلے تھا ، اور احرام کی ہر پابندی اُس پر لاگو رہے گی ، جب تک وہ طوافِ اِفاضہ نہیں کرتا ابو داؤد /حدیث ١٩٩٧ ، صحیح ابن خزیمہ /حدیث ٢٩٤٠ ۔
::::: طوافِ افاضہ میں تمتع کرنے والا کعبہ کا طواف بھی کرے گا اور صفا اور مروہ کی سعی بھی ، قِران اور اِفراد کرنے والے نے اگر طوافِ قُدُوم کے ساتھ صفا اور مروہ کی سعی بھی کی ہو تو پھر طوافِ افاضہ میں کعبہ کا طواف کافی ہے ۔
::::: حجِ اِفراد کرنے والے پر قُربانی نہیں ہے لیکن اُسے بھی دوسرے حاجیوں کی طرح طوافِ اِفاضہ کرنا ہوتا ہے ۔
::::: طوافِ افاضہ اِس دِن میں کئیے جانے والا آخری کام ہے ، دِن کا باقی وقت مِنیٰ یا حرم میں اللہ کی عبادت بسر کیا جائے گا ، اگر طوافِ افاضہ اِس دِن میں نہ کیا جاسکے تو بعد میں کِسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے لیکن اُس وقت تک مکمل طور پر حالتِ احرام میں رہنا ہوگا ، جیسا کہ اُوپر بیان کیا گیا ہے ۔
::::: گیارہ سے تیرہ ذی الحج تک کے کام:::::
::::: ایامِ التشریق::::: گیارہ سے تیرہ ذی الحج کے دِنوں کو ایامِ تشریق کہا جاتا ہے ، اِن دِنوں کو اللہ کی عبادت کرتے ہوئے مِنیٰ میں گُزارنا ہوتا ہے ، دِن کے وقت مِنیٰ سے نکلا جا سکتا ہے ، لیکن رات مِنیٰ میں ہی گزارنی ہو گی ،بغیر کِسی شرعی عُذر کے مِنیٰ کی حدود سے باہر رات گزارنا بالکل غلط ہے ، لہذا اِس چیز کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہئیے کہ آدہی رات سے لے کر فجر تک مِنیٰ کی حدود سے باہر نہ رہا جائے ۔
::::: اِن دِنوں میں ہر دِن تینوں شیطانوں کو پتھر مارنا ہوں گے پہلے چھوٹے کو ، اِس طرح کہ مِنیٰ سیدہے ہاتھ کی طرف رہے اور مکہ اُلٹے ہاتھ کی طرف پتھر مارنے کے بعد تھوڑا سا دور ہٹ کر قبلہ رُخ ہوکر دُعا کی جائے گی ، پھر اِسی طرح درمیانے اور پھر بڑے شیطان کو پتھر مار کر دُعا کی جائے گی ، پتھر مارتے ہوئے ہر پتھر کے ساتھ صِرف تکبیر کہی جائے گی ، اور ہر شیطان کو صِرف سات پتھر مارے جائیں گے ( صحیح البُخاری /حدیث ١٧٥١ ، ١٧٥٢ ، صحیح مُسلم/ حدیث ١٢١٨ ) اور پتھر ظہر کی نماز کے بعد سے لے کر مغرب کے وقت سے پہلے مارنے ہیں ، اِسکے علاوہ کِسی اور وقت میں پتھر مارنے کی اجازت صِرف بوڑہے ، بیماریا کمزور لوگوں ، عورتوں یا کِوئی شرعی عذر رکھنے والے لوگوں کےلئیے ہے
::::: اگر کوئی شخص مِنیٰ میں دو دِن رکنے کے بعد بارہ ذی الحج کو پتھر مار کر وہاں سے واپس آنا چاہے تو آ سکتا ہے لیکن اگر مغرب سے پہلے مِنیٰ سے خارج نہ ہوا تو پھر اگلے دِن یعنی تیرہ ذی الحج کو زوال ہونے کے بعد پتھر مارنے کے بعد مِنیٰ سے خارج ہو گا
::::: رمی الجمرات ، یعنی پتھر مارنے میں ، اُوپر بیان کی گئی ترتیب اور طریقے کا خیال رکھنا چاہیئے ۔
::::: مکہ سے واپسی:::::
::::: حج کے تمام مناسک ادا کرنے کے بعد اور اپنے دوسرے سارے کام نمٹانے کے بعد مکہ چھوڑنے سے پہلے سب سے آخری کام طوافِ وداع ہے ، یہ طواف کرنے سے پہلے حج کے اِرادے سے آئے ہوئے کِسی بھی شخص کو مکہ چھوڑنے کی اجازت نہیں ۔سِوائے حیض والی عورت کے ۔ صحیح البُخاری/ حدیث ١٧٥٥ ، ١٧٦١ ، صحیح مُسلم /حدیث ١٣٢٧ ، ١٣٢٨۔
::::: جدہ یا مکہ کے قریبی شہروں اور بستیوں سے آنے والے اکثر یہ کہتے ہوئے سُنائی دیتے ہیں کہ ہم تو اہلِ میقات ہیں ہمارے لئیے طوافِ وداع ضروری نہیں ، اور کُچھ لوگ اِس غلط فہمی کا شِکار ہوتے ہیں کہ ہم کِسی اور وقت آ کر طوافِ وداع کر سکتے ہیں ، دونوں ہی خیال اور کام سراسر غلط ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکم کی خلاف ورزی ہے ۔
::::: طوافِ وداع صِرف حج کے اِرادے سے آئے ہوئے لوگوں کے لئیے ہے ، عُمرہ والوں کے لئیے نہیں ، مکہ کے رہنے والوں کے لئیے نہیں ، یا روز گار کے سلسلہ میں مکہ یا مکہ کے قریب آ کر رہنے والوں کے لئیے نہیں ، جیسا کہ عموماً جدہ ، مدینہ طائف وغیرہ میں رہنے والے اپنے وطن واپس یا چُھٹی جاتے ہوئے کرتے ہیں ۔
::::: ::::: ::::: حج کے تمام تر مناسک مکہ ، مِنیٰ ، عرفات اور مزدلفہ میں ادا کئیے جاتے ہیں ، حج کا کوئی منسک یا کوئی عِبادت یا کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو مدینہ میں ادا کیا جاتا ہو ، حتیٰ کہ مسجدِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا بھی حج سے کوئی واسطہ نہیں ، اگر کوئی شخص مسجدِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہ کرے ، یا مدینہ نہ جائے تو اُس کے حج میں کوئی کمی نہیں ہوتی ۔ رہا مسجدِ نبوی کی زیارت کا معاملہ اور حج کے موقع پر یا ویسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مُبارک کی زیارت کا معاملہ تو وہ ایک الگ موضوع ہے ، جِس کا ذِکر '''زیارتِ مدینہ ''' والی مجلس میں کیا جا چکا ہے ،
::::: ::::: ::::: کُچھ لوگ ہر سال حج کرنے کے لیئے غیر قانونی راستے اور ذریعے اپناتے ہیں ، اور اپنے ولی الامر کی نافرمانی کا گُناہ کمانے کے ساتھ ساتھ طرح طرح کی مُشکلوں میں پڑتے ہیں اور دوسروں کے لیئے بھی مُشکلات کا سبب بنتے ہیں ایسے لوگوں کو یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ہر سال حج کرنا فرض نہیں ، لیکن ولی الامر کی اعاعت فرض ہے ، جب تک وہ اللہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کا حُکم نہ دے ، اور حج کے بارے میںسعودی حکومت ، اُن کے ملک میں رہنے والے ہر شخص کو ہر پانچ سال بعد اجازت دیتی ہے اور ایسا کرنا بالکل ٹھیک ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( قال اللہُ :: اِنَّ عَبداً صَحَّحت ُ لَہ ُ جَسمَہ ُ ، وَ وَسَّعت ُ عَلیہِ فی المَعِیشَۃِ ، یَمضِی عَلیہِ خَمسَۃُ اَعوَامٍ لا یَفِدُ اِلَيَّ لَمَحرُومٌ ) ( اللہ کہتا ہے ::: جِس بندے کو میں نے جسمانی صحت دی ، اور اُس کے رزق کو وسیع کیا ، اور اِس حالت میں اُسکے پانچ سال گذرے ، اور وہ میری طرف نہیں آیا تو یقینا وہ محروم ہے ) صحیح ابن حبان/ حدیث ٣٦٩٥،کتاب الحج/باب فضل الحج و العُمرہ ، سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ /١٦٦٢ ،
لہذا ہمیں غیرقانونی اور غیر شرعی راستے پر چلتے ہوئے کِسی گُناہ اور پریشانی میں پڑنے کی بجائے قانونی اور شرعی راستہ اپنانا چاہئیے۔
طوافِ وداع کرنے کے بعد حج کے تمام اعمال مکمل ہو جاتے ہیں اور حج پورا ہو جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
والسلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ
طلبگارِ دُعا ، عادل سہیل ظفر
( کتاب ’’’ عُمرہ اور حج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر ‘‘‘ سے ماخوذ )

Last edited by عادل سہیل; 20-11-09 at 02:47 PM. وجہ: ADDTION OF DOWNLOAD LINK
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (05-06-11), گلاب خان (12-07-11), منتظمین (23-11-07), احمد غزنوی (30-11-08), رانا امر (04-05-09), ضِرار Derar (06-11-10), طارق راحیل (28-11-08), عبداللہ حیدر (25-11-07)
پرانا 23-11-07, 03:47 PM   #3
Senior Member
 
The Great's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 20
مراسلات: 5,772
کمائي: 82,790
شکریہ: 2
2,019 مراسلہ میں 3,246 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: عمرہ اور حج کا طریقہ صحیح سُنـت کے مطابق

واہ کیا اچھی معلومات دی ھے اپ نے جناب
The Great آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-11-08, 09:04 PM   #4
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
کمائي: 31,889
شکریہ: 4,003
1,212 مراسلہ میں 2,417 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: عمرہ اور حج کا طریقہ صحیح سُنـت کے مطابق

بہت شکریہ معلومات مہیا کرنے کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
طارق راحیل آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-11-08, 11:11 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb جواب: عمرہ اور حج کا طریقہ صحیح سُنـت کے مطابق

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طارق راحیل مراسلہ دیکھیں
بہت شکریہ معلومات مہیا کرنے کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھائی طارق راحیل ، پسندیدگی کا شکریہ ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
ضِرار Derar (06-11-10)
پرانا 04-12-08, 08:36 PM   #6
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
کمائي: 31,889
شکریہ: 4,003
1,212 مراسلہ میں 2,417 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: عمرہ اور حج کا طریقہ صحیح سُنـت کے مطابق

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکریہ ۔
طارق راحیل آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 29-10-10, 08:56 PM   #7
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,486
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم، ایام حج قریب آ رہے ہیں۔ اسے سرورق پر لگانا چاہیے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (29-10-10)
پرانا 06-11-10, 06:29 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
Talking

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم، ایام حج قریب آ رہے ہیں۔ اسے سرورق پر لگانا چاہیے۔
ھج کے بعد لگانا
جناب آپ کو اپنے چاچے کے آرٹیکلز کی فکر ہے
ضِرار Derar آف لائن ہے   Reply With Quote
ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین (06-11-10)
پرانا 06-11-10, 06:39 PM   #9
Senior Member
 
اخترحسین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: karachi
مراسلات: 1,529
کمائي: 37,057
شکریہ: 4,903
809 مراسلہ میں 1,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں اخترحسین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ضِرار Derar مراسلہ دیکھیں
ھج کے بعد لگانا
جناب آپ کو اپنے چاچے کے آرٹیکلز کی فکر ہے
آھو درار پائی ٹھیک آکھیا تسی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اخترحسین آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کتابوں, لوگ, نماز, نظر, مکہ, مکمل, موت, ممکن, مسجد, آج, آدمی, اکبر, اللہ, انتظامیہ, توحید, جواب, حدیث, حسن, خواتین, دُعا, روزہ, عورت, عبادت, صحیح, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:11 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger