| عمرہ و حج عمرہ و حج |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1342
|
||||
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (05-06-11), احمد غزنوی (30-11-08), رانا امر (04-05-09), ضِرار Derar (06-11-10), طارق راحیل (28-11-08) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گذشتہ سے پیوستہ
::::: دس ( ١٠ ) ذی الحج میں کرنے کے کام ::::: ::::: فجر کی نماز مزدلفہ میں ادا کرنے کے بعد مشعر الحرام نامی پہاڑ پر کُچھ اُوپر چڑھ کر تکبیر ، تہلیل ، تلبیہ اور دُعا کی جائے گی ، جب سورج نکلنے سے پہلے سُفیدی اچھی طرح پھیل جائے تو پھر وہاں سے منیٰ کی طرف روانہ ہوا جائے گا ۔ صحیح البُخاری/ حدیث ١٦٨٤ ، صحیح مُسلم /حدیث١٢١٨ ::::: مزدلفہ کی طرف روانگی اور مِنیٰ سے مزدلفہ تک کا راستہ بھی اطمینان اور سکون سے طے کیا جائے گا ، سوائے مِنیٰ کے قریب آنے والی ایک جگہ وادی مُحسِّرکے ، اِس جگہ کو جلد از جلد پار کرنا ہوتا ہے اور شیطان کو مارنے کے لئیے پتھر بھی اِسی راستے میں سے چُن لئیے جائیں گے یہ پتھر چنے کے برابر ہونا چاہیئں ، نہ بڑے اور نہ چھوٹے ۔( النسائی/ حدیث ٣٠٥٩ ، ابن ماجہ /حدیث ٣٠٢٩ ، مُسند ابو یعلی /حدیث ٢٤٦٧ ، مُسند احمد/ حدیث ١٨٥١ ، مُستدرک الحاکم /حدیث ١٧١١ ) اِن پتھروں کو دھونا ، اِن کا وضو کروانا اِنہیں کلمہ پڑھ کر پاک کرنا، اور اِسی طرح کے دیگر کام، سب خِلافِ سُنّت ہیں ۔ ::::: بوڑہے ، معذور لوگوں اور عورتوں کے علاوہ سورج نکلنے سے پہلے پتھر مارنا منع ہے ۔ الترمذی /حدیث ٩٦٠ ، الدارمی /حدیث ١٨٨٥ ، ١٨٨٦ مُستدرک الحاکم/ حدیث ١٧٢٣۔ ::::: بوڑہے لوگ یا عورتیں اگر چاہیں تو فجر سے پہلے رات کے کِسی حصے میں مِنیٰ روانہ ہو سکتے ہیں ، اور وہاں پہنچ کر پتھر مار سکتے ہیں ۔ صحیح البُخاری /حدیث ١٦٧٦ تا ١٦٨١ ۔ ::::: مِنیٰ میں داخل ہو کر سب سے پہلے جمرۃ العقبۃ ( بڑا شیطان) کو پتھر مارے جائیں گے ، بڑا شیطان وہ ہے جو مکہ کی طرف سے پہلے آتا ہے ، پتھر مارتے ہوئے ہر پتھر کے ساتھ صِرف '' اللہ اکبر '' کہا جائے گا اور کُچھ نہیں ،پہلا پتھر مارنے کے بعد سے تلبیہ روک دِیا جائے گا ۔صحیح البُخاری /حدیث ١٦٨٥ ، ١٦٨٦ ::::: دس ذی الحج کو صِرف جمرۃ العقبۃ یعنی بڑے شیطان کو پتھر مارنے ہوتے ہیں دوسرے دو جمرات کو نہیں ۔ ::::: پتھر مارنے کے بعد حاجی پر ہر وہ چیز جو حالتِ احرام میں حرام تھی حلال ہو جاتی ہے سوائے بیوی کے ، لہذا وہ اپنے کپڑے تبدیل کر سکتا ہے۔ ابو داؤد /حدیث ١٩٩٧ ، صحیح ابن خزیمہ /حدیث ٢٩٤٠ ۔ ::::: پتھر مارنے کے بعد قُربانی کی جائے گی ، قُربانی کے بعد سر مُنڈوایا جائے گا ، یہ تینوں کام اِس ترتیب سے کرنا سُنّت ہے اور یقیناً بہتر یہی ہے کہ اِس ترتیب کے مُطابق کیئے جائیں لیکن اگر ترتیب برقرار نہ رہے تو بھی کوئی گُناہ نہیں ۔ صحیح البُخاری /حدیث ١٧٢١ ، ١٧٢٢ ، ١٧٢٣ ۔ ::::: اِس دِن مغرب سے پہلے پہلے طوافِ اِفاضہ کیا جائے گا جو شخص مغرب سے پہلے طوافِ اِفاضہ نہ کر سکا تو وہ اپنا لباس بدل کر احرام والا لباس پہنے گا اور پھر سے حالتِ احرام میں داخل ہو جائے گا ، جیسے کہ وہ پتھر مارنے سے پہلے تھا ، اور احرام کی ہر پابندی اُس پر لاگو رہے گی ، جب تک وہ طوافِ اِفاضہ نہیں کرتا ابو داؤد /حدیث ١٩٩٧ ، صحیح ابن خزیمہ /حدیث ٢٩٤٠ ۔ ::::: طوافِ افاضہ میں تمتع کرنے والا کعبہ کا طواف بھی کرے گا اور صفا اور مروہ کی سعی بھی ، قِران اور اِفراد کرنے والے نے اگر طوافِ قُدُوم کے ساتھ صفا اور مروہ کی سعی بھی کی ہو تو پھر طوافِ افاضہ میں کعبہ کا طواف کافی ہے ۔ ::::: حجِ اِفراد کرنے والے پر قُربانی نہیں ہے لیکن اُسے بھی دوسرے حاجیوں کی طرح طوافِ اِفاضہ کرنا ہوتا ہے ۔ ::::: طوافِ افاضہ اِس دِن میں کئیے جانے والا آخری کام ہے ، دِن کا باقی وقت مِنیٰ یا حرم میں اللہ کی عبادت بسر کیا جائے گا ، اگر طوافِ افاضہ اِس دِن میں نہ کیا جاسکے تو بعد میں کِسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے لیکن اُس وقت تک مکمل طور پر حالتِ احرام میں رہنا ہوگا ، جیسا کہ اُوپر بیان کیا گیا ہے ۔ ::::: گیارہ سے تیرہ ذی الحج تک کے کام::::: ::::: ایامِ التشریق::::: گیارہ سے تیرہ ذی الحج کے دِنوں کو ایامِ تشریق کہا جاتا ہے ، اِن دِنوں کو اللہ کی عبادت کرتے ہوئے مِنیٰ میں گُزارنا ہوتا ہے ، دِن کے وقت مِنیٰ سے نکلا جا سکتا ہے ، لیکن رات مِنیٰ میں ہی گزارنی ہو گی ،بغیر کِسی شرعی عُذر کے مِنیٰ کی حدود سے باہر رات گزارنا بالکل غلط ہے ، لہذا اِس چیز کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہئیے کہ آدہی رات سے لے کر فجر تک مِنیٰ کی حدود سے باہر نہ رہا جائے ۔ ::::: اِن دِنوں میں ہر دِن تینوں شیطانوں کو پتھر مارنا ہوں گے پہلے چھوٹے کو ، اِس طرح کہ مِنیٰ سیدہے ہاتھ کی طرف رہے اور مکہ اُلٹے ہاتھ کی طرف پتھر مارنے کے بعد تھوڑا سا دور ہٹ کر قبلہ رُخ ہوکر دُعا کی جائے گی ، پھر اِسی طرح درمیانے اور پھر بڑے شیطان کو پتھر مار کر دُعا کی جائے گی ، پتھر مارتے ہوئے ہر پتھر کے ساتھ صِرف تکبیر کہی جائے گی ، اور ہر شیطان کو صِرف سات پتھر مارے جائیں گے ( صحیح البُخاری /حدیث ١٧٥١ ، ١٧٥٢ ، صحیح مُسلم/ حدیث ١٢١٨ ) اور پتھر ظہر کی نماز کے بعد سے لے کر مغرب کے وقت سے پہلے مارنے ہیں ، اِسکے علاوہ کِسی اور وقت میں پتھر مارنے کی اجازت صِرف بوڑہے ، بیماریا کمزور لوگوں ، عورتوں یا کِوئی شرعی عذر رکھنے والے لوگوں کےلئیے ہے ::::: اگر کوئی شخص مِنیٰ میں دو دِن رکنے کے بعد بارہ ذی الحج کو پتھر مار کر وہاں سے واپس آنا چاہے تو آ سکتا ہے لیکن اگر مغرب سے پہلے مِنیٰ سے خارج نہ ہوا تو پھر اگلے دِن یعنی تیرہ ذی الحج کو زوال ہونے کے بعد پتھر مارنے کے بعد مِنیٰ سے خارج ہو گا ::::: رمی الجمرات ، یعنی پتھر مارنے میں ، اُوپر بیان کی گئی ترتیب اور طریقے کا خیال رکھنا چاہیئے ۔ ::::: مکہ سے واپسی::::: ::::: حج کے تمام مناسک ادا کرنے کے بعد اور اپنے دوسرے سارے کام نمٹانے کے بعد مکہ چھوڑنے سے پہلے سب سے آخری کام طوافِ وداع ہے ، یہ طواف کرنے سے پہلے حج کے اِرادے سے آئے ہوئے کِسی بھی شخص کو مکہ چھوڑنے کی اجازت نہیں ۔سِوائے حیض والی عورت کے ۔ صحیح البُخاری/ حدیث ١٧٥٥ ، ١٧٦١ ، صحیح مُسلم /حدیث ١٣٢٧ ، ١٣٢٨۔ ::::: جدہ یا مکہ کے قریبی شہروں اور بستیوں سے آنے والے اکثر یہ کہتے ہوئے سُنائی دیتے ہیں کہ ہم تو اہلِ میقات ہیں ہمارے لئیے طوافِ وداع ضروری نہیں ، اور کُچھ لوگ اِس غلط فہمی کا شِکار ہوتے ہیں کہ ہم کِسی اور وقت آ کر طوافِ وداع کر سکتے ہیں ، دونوں ہی خیال اور کام سراسر غلط ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکم کی خلاف ورزی ہے ۔ ::::: طوافِ وداع صِرف حج کے اِرادے سے آئے ہوئے لوگوں کے لئیے ہے ، عُمرہ والوں کے لئیے نہیں ، مکہ کے رہنے والوں کے لئیے نہیں ، یا روز گار کے سلسلہ میں مکہ یا مکہ کے قریب آ کر رہنے والوں کے لئیے نہیں ، جیسا کہ عموماً جدہ ، مدینہ طائف وغیرہ میں رہنے والے اپنے وطن واپس یا چُھٹی جاتے ہوئے کرتے ہیں ۔ ::::: ::::: ::::: حج کے تمام تر مناسک مکہ ، مِنیٰ ، عرفات اور مزدلفہ میں ادا کئیے جاتے ہیں ، حج کا کوئی منسک یا کوئی عِبادت یا کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو مدینہ میں ادا کیا جاتا ہو ، حتیٰ کہ مسجدِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا بھی حج سے کوئی واسطہ نہیں ، اگر کوئی شخص مسجدِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہ کرے ، یا مدینہ نہ جائے تو اُس کے حج میں کوئی کمی نہیں ہوتی ۔ رہا مسجدِ نبوی کی زیارت کا معاملہ اور حج کے موقع پر یا ویسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مُبارک کی زیارت کا معاملہ تو وہ ایک الگ موضوع ہے ، جِس کا ذِکر '''زیارتِ مدینہ ''' والی مجلس میں کیا جا چکا ہے ، ::::: ::::: ::::: کُچھ لوگ ہر سال حج کرنے کے لیئے غیر قانونی راستے اور ذریعے اپناتے ہیں ، اور اپنے ولی الامر کی نافرمانی کا گُناہ کمانے کے ساتھ ساتھ طرح طرح کی مُشکلوں میں پڑتے ہیں اور دوسروں کے لیئے بھی مُشکلات کا سبب بنتے ہیں ایسے لوگوں کو یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ہر سال حج کرنا فرض نہیں ، لیکن ولی الامر کی اعاعت فرض ہے ، جب تک وہ اللہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کا حُکم نہ دے ، اور حج کے بارے میںسعودی حکومت ، اُن کے ملک میں رہنے والے ہر شخص کو ہر پانچ سال بعد اجازت دیتی ہے اور ایسا کرنا بالکل ٹھیک ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( قال اللہُ :: اِنَّ عَبداً صَحَّحت ُ لَہ ُ جَسمَہ ُ ، وَ وَسَّعت ُ عَلیہِ فی المَعِیشَۃِ ، یَمضِی عَلیہِ خَمسَۃُ اَعوَامٍ لا یَفِدُ اِلَيَّ لَمَحرُومٌ ) ( اللہ کہتا ہے ::: جِس بندے کو میں نے جسمانی صحت دی ، اور اُس کے رزق کو وسیع کیا ، اور اِس حالت میں اُسکے پانچ سال گذرے ، اور وہ میری طرف نہیں آیا تو یقینا وہ محروم ہے ) صحیح ابن حبان/ حدیث ٣٦٩٥،کتاب الحج/باب فضل الحج و العُمرہ ، سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ /١٦٦٢ ، لہذا ہمیں غیرقانونی اور غیر شرعی راستے پر چلتے ہوئے کِسی گُناہ اور پریشانی میں پڑنے کی بجائے قانونی اور شرعی راستہ اپنانا چاہئیے۔ طوافِ وداع کرنے کے بعد حج کے تمام اعمال مکمل ہو جاتے ہیں اور حج پورا ہو جاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والسلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ طلبگارِ دُعا ، عادل سہیل ظفر ( کتاب ’’’ عُمرہ اور حج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر ‘‘‘ سے ماخوذ ) Last edited by عادل سہیل; 20-11-09 at 02:47 PM. وجہ: ADDTION OF DOWNLOAD LINK |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (05-06-11), گلاب خان (12-07-11), منتظمین (23-11-07), احمد غزنوی (30-11-08), رانا امر (04-05-09), ضِرار Derar (06-11-10), طارق راحیل (28-11-08), عبداللہ حیدر (25-11-07) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 20
مراسلات: 5,772
کمائي: 82,790
شکریہ: 2
2,019 مراسلہ میں 3,246 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واہ کیا اچھی معلومات دی ھے اپ نے جناب
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
بہت شکریہ معلومات مہیا کرنے کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | ضِرار Derar (06-11-10) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکریہ ۔
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کتابوں, لوگ, نماز, نظر, مکہ, مکمل, موت, ممکن, مسجد, آج, آدمی, اکبر, اللہ, انتظامیہ, توحید, جواب, حدیث, حسن, خواتین, دُعا, روزہ, عورت, عبادت, صحیح, صحابہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|