واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


تعزیرات پاکستان دفعہ 295C۔ ۔ قانون توہین رسالت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 29-11-10, 10:02 AM  
تعزیرات پاکستان دفعہ 295C۔ ۔ قانون توہین رسالت
حیدر حیدر آف لائن ہے 29-11-10, 10:02 AM
درجہ بندی: (1 votes - 5.00 average)

پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 295B سے لے کر 298Cتک دین سے متعلق جرائم کو بیان کرتے ہیں۔ اس میں سے دفعہ 295-C توہین رسالت سے متعلق قانون کو بیان کرتی ہے۔

اس قانون کا بیک گراؤنڈ
آئین کے آرٹیکل 2 کے مطابق ریاست کا مذہب "اسلام" ہے
آئین کے آرٹیکل 32 کے مطابق یہ ریاست کی زمہ داری ہے کہ وہ اسلامی طرز حیات کو لاگو کرے اور پروان چڑھائے۔

اس قانون کے پیچھے ایک مسلم وکیل اسمائیل قریشی کی تنہا جدو جہد ہے۔ اُن کے مطابق 1984 میں جب مغرب اور روس کی طرف سے اسلام پر تابڑ توڑ حملے ہو رہے تھے اور اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف رکیک جملے کسے جا رہے تھے ایسے میں مغرب میں پیغمبر اسلام کے خلاف ایک تحریر شائع ہوئی۔ پاکستان کی کسی کمیونسٹ پارٹی نے اس کو ترجمہ کر کے پمفلٹ کی صورت میں تقسیم کرنا شروع کر دیا ۔حتیٰ کہ اس تحریر کو سرکاری اداروں میں بھی بانٹا گیا۔
چونکہ وہ انگلینڈ اور امریکہ سمیت دنیا کے اکثر قوانین سے بخوبی واقف تھے ۔اور وہ جانتے تھے کہ نام نہاد سیکولر ریاستوں مثلاً انگلینڈ اور امریکہ میں بھی توہین مسیح کے نام سے ایک قانون موجود ہے جو ایسا کرنے والوں کے خلاف روبہ عمل میں آتا ہے۔
چناچہ انہوں نے اس قانون کے لیے پاکستانی عدالت سے رجوع کیا۔ ایک طویل قانونی جنگ کے بعد پاکستان کی شرعی عدالت نے1990میں اس قانون کو اسلام کے عین مطابق قرار دیا۔ اور 1991 میں اس دفعہ کو پاکستان کے قانون تعزیرات میں شامل کر دیا گیا۔

قانون کے خلاف چارہ جوئی
1996 میں ایک عیسائی بشپ کی جانب سے اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل درج کروائی گئی۔کیونکہ سپریم کورٹ شرعی کورٹ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ لیکن پھر خود مدعی کی طرف سے اس کیس کی پیروی نہ ہونے کے باعث 2009 میں اس کیس کو خارج کر دیا گیا۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ مدعی بشپ کی اس دوران میں فوتگی واقع ہو گئی تھی۔تاہم اُس کے کسی پیروکار یا لواحقین نے بھی اس کیس کی پیروی نہیں کی۔

قانون کے الفاظ
اس قانون کے الفاظ یہ ہیں
" Use of derogatory remarks, etc; in respect of the Holy Prophet. Whoever by words, either spoken or written or by visible representation, or by any imputation, innuendo, or insinuation, directly or indirectly, defiles the sacred name of the Holy Prophet Mohammed (PBUH) shall be punished with death, or imprisonment for life, and shall also be liable to fine. "

مشکل الفاظ:
derogatory : ۔expressive of low opinion،injurious،Negative information،insulting ،cause to seem less serious،express a negative opinion of،lessen the authority, dignity, or reputation of

imputation :a statement attributing something dishonest ،according to the Advanced Oxford Learner's Dictionary, "an indirect remark about somebody or something, usually suggesting something bad, mean or rude،

insinuation:an indirect (and usually malicious) implication

یعنی پیغمبر اسلام کے خلاف تضحیک آمیز جملے (see derogatory) استعمال کرنا، خواہ الفاظ میں، خواہ بول کر، خواہ تحریری، خواہ ظاہری شباہت/پیشکش،یا انکے بارے میں غیر ایماندارنہ براہ راست یا بالواسطہ سٹیٹمنٹ دینا جس سے انکے بارے میں بُرا، خود غرض یا سخت تاثر پیدا ہو، یا انکو نقصان دینے والا تاثر ہو، یا انکے مقدس نام کے بارے میں شکوک و شبہات و تضحیک پیدا کرنا ، ان سب کی سزا عمر قید یا موت اور ساتھ میں جرمانہ بھی ہوگا۔




اب ایسے میں۔۔۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اس قانون میں ایسا کیا مسئلہ ہے جس پر کسی ترمیم یا بہتری کی ضرورت ہے؟
جتنے مسلمان ہمارے ماہر قوانین ہیں ، کم از کم اُتنے ہی مسلمان ہم بھی ہیں۔ جتنی رسول سے محبت انکو ہے، اُتنی ہی ہم کو بھی ہے۔ چناچہ دیکھ لیں کہ مندرجہ بالا میں سے کون کون سے بات نکالی جا سکتی ہے اور پیغمبر کے بارے میں برداشت کی جا سکتی ہے؟

Last edited by shafresha; 29-11-10 at 10:33 PM.. وجہ: ایک حرف کی تصیح!

 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 3955
Reply With Quote
20 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rabab (18-01-11), shafresha (29-11-10), فرخ ظفر (07-12-10), پاکستان دوست (02-12-10), پاکستانی (07-01-11), ھارون اعظم (29-11-10), نورالدین (29-11-10), مرزا عامر (29-11-10), آبی ٹوکول (01-12-10), ام حازم (08-01-11), احمد بلال (02-12-10), رفیع انجم (07-01-11), رضی (02-12-10), شریف (01-12-10), عامرشہزاد (30-11-10), عادل سہیل (07-12-10), عبدالقدوس (29-11-10), عبداللہ آدم (29-11-10), عبداللہ حیدر (29-11-10), غلام خان (31-12-10)
پرانا 01-06-11, 01:10 PM   #151
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2
کمائي: 183
شکریہ: 0
2 مراسلہ میں 6 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default گستاخ رسول واجب القتل

تحفظ ناموس رسالت

تحفظ ناموس رسالت
مصنف: ڈاکٹر محمد طاہر القادری
ناشر : منہاج القرآن پبلیکیشنز لاہور

زیر نظر کتاب ڈاکٹر طاہر القادری کی وفاقی شرعی عدالت پاکستان میں بعنوان "گستاخ رسول کی سزا موت بصور حد ہے" نومبر 1985 میں دئیے گئے ان دلائل پر مشتمل ہے جن کی سماعت عدالت نے مسلسل تین دن تک جاری رکھی۔ اور ان دلائل کی روشنی میں
295-C
تشکیل دیا جس کی بعد ازاں پارلیمنٹ نے منظوری دے دی

اس کتاب میں مندرجہ ذیل حوالہ جات سے ثابت کیا گیا ہے

کتابیات
القرآن الکریم
تفسیر خازن
تفسیر روح البیان
تفسیر کبیر
تفسیر ابن کثیر
تفسیر کشاف
زاد المسیر لابن جوزی
تفسیر قرطبی الجامع الاحکام القرآن
احکام القرآن للجصاص
تفسیر مظہری
تفسیر ابی سعود
المختصر فی تفسیر القرآن
صحیح بخاری
صحیح مسلم
جامع ترمذی
سنن ابی داود
سنن نسائی
سنن ابن ماجہ
مشکوۃ المصابیح
المستدرک علی الصحیحین فی الحدیث
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی
شرح الشفاء
الصارم المسلول علی شاتم الرسول
نسیم الریاض
البحر الرائق
جواھر البحار فی فضائل النبی المختار
زرقانی علی المواھب
البدایہ و النہایہ
رد المختار
شرح روض الطالب من اسنی المطالب
خلاصۃ الفتاوی
فتاوی بزازیہ
تنقیح الفتاوی الحامدیہ
مجموعہ رسائل ابن عابدین
فتح القدیر
فتاوی خیریہ
تاریخ الخلفاء


”وہ لوگ جو الله اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کو قتل کر دیا جائے گا یا ان کو پھانسی (صلیب چڑھانا) دے دی جائے گی اور ان کے ہاتھ اور پاوٴں (متبادل سمتوں سے) کاٹ دئیے جائیں گے۔ یا انہیں وہاں سے (اس جگہ سے) نکال دیا جائے گا۔ پس دنیا میں بھی ان کے لئے ذلت ہے اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔“ (المائدہ:۳۳)
”وہ لوگ جو الله اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں۔ الله تعالیٰ کی ان پر لعنت ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور ان کے لئے الله تعالیٰ نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔“ (الاحزاب:۵۷)
آیت نمبر:۳
”اے ایمان والو! اپنی آواز میں اپنے نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور بات کرتے ہوئے تم نہ چیخو۔ ان کے پاس جیسے بعضے تم میں سے آپس میں چیختے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع کر دئیے جائیں اور تمہیں خبر (شعور) بھی نہ ہو۔“
(الحجرات:۲)
”عبدالله بن محمد سے سفیان بن عیینہ سے اور عمر سے (ان تمام حوالوں سے) حضرت جبار نے روایت کی ہے کہ نبی کریم ا نے فرمایا کہ کون کعب بن اشرف کو قتل کرے گا۔ کیونکہ پیغمبرا کو بہت ستایا ہے۔ محمد بن مسیلمہ نے دریافت کیا۔ اے الله کے پیغمبر کیا آپ پسند فرمائیں گے کہ میں اسے قتل کروں؟ تو آپ نے فرمایا ہاں اور انہوں نے اسے مار ڈالا۔“ (صحیح مسلم کتاب الجہاد ۲۱۵۸)

ابن خطل حضور نبی کریم صلے اللہ علیہ والہ وسلم کا گستاخ تھا
حدیث ملاحظہ کریں
”حضرت انس بن مالک نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے دن حضورا مکہ میں داخل ہوئے اور وہ اپنے سرپر خود پہنے ہوئے تھے جب انہوں نے اسے اتارا۔ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ ابن خطل غلاف کعبہ سے چمٹ رہا ہے۔ نبی کریم ا نے فرمایا اس کو قتل کر دو اور مالک نے بیان کیا کہ اس دن حضورا احرام کی حالت میں نہیں تھے اور الله بہتر جانتا ہے۔“ (صحیح بخاری ج۵ باب۵۸۲ ص۴۰۵،۴۰۶

کعبۃ اللہ میں قتل کی ممانعت ہے لیکن یہ گستاخ کعبہ کے غلاف کے ساتھ چھپ گیا اس پر حضور نبی کریم نے فرمایا کہ وہاں بھی قتل کردو

مختلف ملکوں میں سزائوں کا تصور

افغانستان :افغانستان جوکہ ایک اسلامی ریاست ہے۔ توہین رسالت کے قانون کو شریعت کی روشنی میں قتل یا پھانسی کی سزادیتی ہے۔

آسٹریلیا:قانون ناموس رسالت کے معاملے میں کچھ ریاستوں اور علاقوں میں جرم ہے اور کچھ میں نہیں ہے۔ ناموس رسالت کے سلسلے میں توہین رسالت کے مجرم کو آخری دفعہ ۱۹۱۹ء میں وکٹوریہ میں پھانسی دی گئی۔

کینیڈا :کینیڈا کے کریمنل کوڈ کے مطابق اہانت رسول ایک جرم ہے۔ لیکن کینیڈین حکومت ان شقوں کو چارٹر آف رائٹس اینڈ فریڈم کے حوالے سے دیکھتی ہے۔ ۱۹۳۵ء میں کینیڈا میں قانون رسالت کے مجرم کو پھانسی دے دی گئی۔

سعودی عرب :سعودی عرب کا ریاستی مذہب اسلام ہے۔ملک کے قوانین ایک خوبصورت آمیزہ ہیں۔ شریعت کے اور اعلیٰ مذہبی سکالرز کے فتویٰ کی روشنی میں فیصلے کئے جاتے ہیں جو مختلف سزاؤں کی شکل یاموت کی شکل میں ہوسکتے ہیں۔

شیخ السلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب
الصارم المسلول علی شاتم الرسول
جس میں گستاخی رسول کی سزا پر تفصیلا بحث موجود ہے

is baray mei mazeed baibal se kuch saboot mily hein. Is bat p Shak nhe k mojoda bible ilhami kitan nhe ha balky man ghrht kitab ha mgr us mei se kuch is mutaliq material mojod ha

بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور کی چھپی ہوئی بائبل کی چند آیات بھی ہم یہاں لکھتے ہیں، تورات یا بائبل کا یہ باب ” استثنا“ ہے۔ صفحہ 183 ہے، ملاحظہ ہوں آیات :

”شریعت کی جو بات وہ تجھ کو سکھلائیں اور جیسا فیصلہ تجھ کو بتلائیں اسی کے مطابق کرنا اور جو کچھ فتویٰ وہ دیں اس سے داہنے یا بائیں نہ مڑنا، اور اگر کوئی شخص گستاخی سے پیش آئے کہ اس کاہن کی بات جو خداوند تیرے خدا کے حضور خدمت کے لیے کھڑا رہتا ہے یا اس قاضی کا کہا نہ سنے تو وہ شخص مار ڈالا جائے اور تو اسرائیل میں سے ایسی برائی کو دور کر دینا اور سب لوگ سن کر ڈر جائیں اور پھر گستاخی سے پیش نہیں آئیں گے۔“

یاد رہے ! بائبل میں بنو اسرائیل کے انبیاءکو کاہن بھی کہا گیا ہے جیسے عزیز علیہ السلام ۔ ۔
کاہن یعنی عزیرعلیہ السلام .... ثابت ہوا کہ انبیاءکی توہین کا جرم جیسا کہ قرآن نے بتلایا پہلی قوموں میں بھی قتل ہے۔ نیز بائبل واضح کر رہی ہے کہ گستاخ رسول کو قتل کرنے کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ قتل کی سزا کے ڈر سے کوئی گستاخ توہین نبی کا ارتکاب نہیں کرے گا۔

توہین رسالت کرنے والوں کے بارے میں قرآن کا دو ٹوک اور واضح فیصلہ یوں بھی موجود ہے :

”ان پر ہر جانب سے لعنتیں برسیں گی یہ جہاں ملیں گے پکڑے جائیں گے اور قتل ہو کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں گے۔“ (الاحزاب : 61

اللہ کا ارشاد گرامی ہے :

”بلاشبہ تیرا دشمن ہی ابتر ہے۔ “ (الکوثر :3)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ابتر کا معنی کاٹ ڈالنا، قطع کر دینا ہے۔ جب تلوار خوب تیز اور کاٹنے والی ہو تو اسے ” سیف بتار“ کہتے ہیں۔ یہ حصر و توکید کا صیغہ ہے۔
چنانچہ اللہ کی طرف سے اس لفظ کا جو تقاضا ہے وہ یہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کرنے اور توہین کرنے والوں کو ابتر کی حالت سے دو چار کرنا لازمی ہے اور اس کی صورت جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اور اسلاف سے ثابت ہے وہ یہی ہے کہ شاتم مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل ہونا چاہیے .... وہ قتل ہو گا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دشمنی اور توہین کی جڑ ختم ہو جائے گی۔

یہاں یہ بات بتانا بھی ضروری سمجھتا ہوں جو کہ کتان تحفظ ناموس رسالت میں درج ہے

ڈاکٹر طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں کہ آیا :

کوئی عدالت یا حکومت اس سزا کو معاف نہیں کرسکتی ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
آخری بات یہ ہے کہ کیا کوئی عدالت یا حکومت اس کو معاف کرسکتی ہے ؟
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قتل بطور حد لازم ہے اور حد کوئی ساقط نہیں کرستا حد کی تعریف ہی یہ ہے کہ اس میں انسان کوئی تغیر و تبدل نہیں کرسکتا بلکہ یہ اللہ پاک کی طرف سے مقرر ہوتی ہے اور عدالت اور حکومت پر اسکا اجراء لازم ہوتا ہے جبکہ اس کو ساقط کرنا کسی کہ اختیار میں نہیں ۔
یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اسے کوئی معاف نہین کرسکتا جس طرح دیگر افراد کے حقوق وہی معاف کرسکتے ہیں ۔


گستاخ رسول کی توبہ کا سوال ہوسکتا ہے تو اس بارے میں بھی ذہن صاف ہونا چاہیے کہ گستاخ رسول کی توبہ قبول نہیں ہے ۔ جس طرح اوپر درج کیا کہ بندوں کے حقوق بندے ہی معاف کرتے ہیں

امام خیر الدین رملی حنفی فتاوٰی بزازیہ میں رقمطراز ہیں ۔
شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بہر طور حدا قتل کرنا ضروری ہے ۔اس کی توبہ بالکل قبول نہیں کی جائے گی خواہ یہ توبہ گرفت کے بعد ہو یا پھر وہ اپنے طور پر تائب ہوجائے کیونکہ ایسا شخص زندیق کی طرح ہوتا ہے جسکی توبہ قابل توجہ ہی نہیں اور یہ بات ذہن نشین رہے کہ اس میں کسی مسلمان کے اختلاف کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اس جرم کا تعلق حقوق العباد سے ہے یہ صرف توبہ سے ساقط نہیں ہوسکتا جس طرح دیگر حقوق چوری اور زنا وغیرہ توبہ سے ساقط نہیں ہوتے اور جس طرح حد تہمت توبہ سے ساقط نہیں ہوتی یہی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ،امام اعطم ،اہل کوفہ اور امام مالک کا مذہب ہے ۔(تنبیہ الولاۃ والحکام 32


اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو
امید ہے کہ آپ کو میری یہ کوشش پسند آئی ہوگی ۔

اللہ حافظ
محمدرضی الرحمن طاہر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے محمدرضی الرحمن طاہر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (02-06-11), کنعان (02-06-11), آبی ٹوکول (01-06-11), احمد نذیر (01-06-11), سام (01-06-11)
پرانا 02-06-11, 08:01 AM   #152
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

2:136 قُولُواْ آمَنَّا بِاللّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ وَالأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
تم کہہ دو: ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف اتاری گئی اور اس پر (بھی) جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب (علیھم السلام) اور ان کی اولاد کی طرف اتاری گئی اور ان (کتابوں) پر بھی جو موسیٰ اور عیسیٰ (علیھم السلام) کو عطا کی گئیں اور (اسی طرح) جو دوسرے انبیاء (علیھم السلام) کو ان کے رب کی طرف سے عطا کی گئیں، ہم ان میں سے کسی ایک میں بھی فرق نہیں کرتے، اور ہم اسی (معبودِ واحد) کے فرماں بردار ہیں

سورۃ البقرۃ‌کی آیت نمبر 136 مسلمانوں کو حکم دیتی ہے کہ سب کو بتا دو کہ ہم کسی نبی کے احترام ، شان اور عزت میں‌ فرق نہیں‌کرتے ۔ اور ان انبیاء‌کو ان کے رب کی طرف سے عطا شدہ کتب پر ایمان رکھتے ہیں۔

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کا قانون ، اسلام کے باقی انبیاء کی حرمت، عزت، شان و احترام کے لئے کوئی قانون کیوں‌نہیں‌رکھتا؟؟؟؟ صرف اس لئے کہ دوسرے ادیان کے لوگ ان نبیوں‌ کا احترام کرتے ہیں اور پاکستانی ان دوسرے ادیان کے افراد سے نفرت کرتے ہیں؟؟؟

کیا بڑی بات ہوتی کہ طاہر القادری ، تھوڑی سی نظر اپنے مذہبی تعصب سے ہٹ‌کر ادھر بھی ڈال لیتے؟؟؟
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (02-06-11)
پرانا 02-06-11, 01:16 PM   #153
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,725
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کا قانون ، اسلام کے باقی انبیاء کی حرمت، عزت، شان و احترام کے لئے کوئی قانون کیوں‌نہیں‌رکھتا؟؟؟؟ صرف اس لئے کہ دوسرے ادیان کے لوگ ان نبیوں‌ کا احترام کرتے ہیں اور پاکستانی ان دوسرے ادیان کے افراد سے نفرت کرتے ہیں؟؟؟
السلام علیکم!

اس لئے کہ پاکستان میں مسلمان دوسرے انبیاء علیہ السلام سے بھی محبت کرتے ہیں اور کسی کی معاذ اللہ بے حرمتی کا سوچ بھی نہیں سکتے، اور عیسائی، عیسی علیہ السلام کو تو کچھ نہیں کہیں گے اس لئے اس قانون کی ضرورت نہیں شائد۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-06-11, 03:00 PM   #154
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2
کمائي: 183
شکریہ: 0
2 مراسلہ میں 6 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ڈاکٹر محمد طاہر القادری مذہبی تعصب نہیں رکھتے بلکہ ان کا بین الاقوامی مذہبی رواداری میں جو کردار ہے کسی دوسرے عالم دین کا نہیں شاید آپ کے علم میں یہ بات نہیں آئی کہ منہاج القرآن کی مساجد کے دروازے عیسائیوں کیلئے کھلے ہیں وہ وہاں اپنی عبادت کرسکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں تک آپ نے بات کی
یہ کہ انبیاء کا احترام ہمارے ایمان کا حصہ ہے
اس کیلئے قانون سازی کی ضرورت اسلئے نہیں کہ جو انبیاء کا احترام نہ کرے وہ مسلمان نہیں
یہ کہ ناموس رسالت پہ قانون سازی اسلئے کی گئی کہ منافق اور غیر مذہب والے احتیاط سے کام لیں
جیسا کہ یورپین ممالک میں ہے کہ وہاں حضرت عیسی سلام اللہ علیھا کی ناموس کی حفاظت کے قوانین موجود ہیں لیکن اگر کوئی قانون نہیں ہے تو وہ ناموس رسالت محمدی کا
افسوس ہم لوگ یہ بحث کرکے اپنا ایمان کمزور کررہے ہیں اگر کوئی یہ سوال اٹھائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلے تم مثبت قانون سازی کرو
اسی بات کا مشورہ پوری دنیا کو ایک مراسلے کی صورت میں پاکستانی سکالر ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے دیا کہ اگر دنیا کو تہذیبی تصادم سے بچانا ہے تو تمام مذاہب کے احترام کے لئے عالمی سطح پر مثبت قانون سازی کی جائے تاکہ پھر ڈنمارک میں کوئی نبی کریم صلے اللہ علیہ والہ وسلم کی گستاخی کا مرتکب نہ ہوا
ایسا کوئی واقعہ سننے میں نہیں آیا کہ کسی مسلمان نے حضرت عیسی سلام اللہ کی تکذیب کی ہو
خدا کیلئے ایسی بحث سے پر ہیز کریں ۔
محمدرضی الرحمن طاہر آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدرضی الرحمن طاہر کا شکریہ ادا کیا گیا
آبی ٹوکول (04-06-11)
پرانا 02-06-11, 03:58 PM   #155
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کنعان، آپ سب کی توجیہات اپنی جگہ۔ لیکن یہ معمولی اور لایعنی توجیہہات ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ غیر مسلموں پر توہین رسالت کے مقدمات قائم کرتے ہیں وہ دو طرح‌کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ایک وہ جو ڈنمارک کے تذکرے کرتے ہیں اور کچھ نہین کرسکتے اور نا ہی کچھ کرتے ہیں‌ہیں۔ دوسری طرف معصوم لوگوں‌کو چھوٹی چھوٹی باتوں‌پر منتقمانہ کاروائی کے طور پر "توہین رسالت " کا مجرم قرار دیا جاتا ہے۔

یہ ضروری ہے کہ تمام انبیاء‌کرام کی توہین کا قانون موجود ہو تاکہ اگر کوئی مسلمان ایسی حرکت کرے تو اس کو قرا ر واقعی سزا دلوانے کے لئے "غیر مسلم"‌بھی عدالت میں‌جاسکے۔ یہ کہہ کر چپ کرادینا کہ "غیر مسلم "‌ کو ایسے قانون کی ضرورت نہیں ظلم ہے۔ مسلمان عام طور پر منتقامانہ کاروائی کے طور پر جھوٹے الزامات عائید کرتے ہیں۔ یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں‌ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ دوسری طرف "غیر مسلموں"‌ کو بھی اسی تیر و تفنگ سے لیس کیاجائے جس سے "مسلم متعصب " افراد لیس ہیں۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (04-06-11)
جواب

Tags
color, death, holy, کورٹ, پاکستان, پاکستانی, قید, موت, محبت, مسلمان, معلوم, امریکہ, اسلام, اسلامی, بول, تحریر, ترمیم, حیات, خلاف, دنیا, سپریم, شروع, عیسائی, عدالت, غور


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پاکستان کی خاتون صدر قاسم شاہ خبریں 11 31-10-10 06:16 AM
پختونستان عدنان دانی گانے 0 17-08-10 10:12 AM
پشتونستان سے خیبر پختونخواہ تک ھارون اعظم سیاست 15 12-04-10 01:34 PM
لندن کانفرنس سے پاکستان کی توقعات راجہ اکرام خبریں 1 01-02-10 05:25 PM
پاکستان پر حملہ منہ توڑ جواب محمد کاشف حبیب خبریں 1 29-07-08 09:01 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:13 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger