واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے ما لوں سے اور اپنی جانوں سے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-12-11, 07:23 AM  
اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے ما لوں سے اور اپنی جانوں سے
عبدالہادی احمد عبدالہادی احمد آف لائن ہے 27-12-11, 07:23 AM

میں نے آج ہی یہ مضمون لکھا ہے اس میں آپ کےدونوں سوالوں کا جواب بھی موجود ہے۔تاہم اس کے نتیجے میں کچھ سوال اور بھی پیدا ہوں گے۔ میں چاہتا ہوں آپ بھی اور دیگر بھائی بہن بھی ان کا جواب ضرور لکھیں:




امت مسلمہ جرمِ ضعیفی میں مبتلا ہے۔ اس سے بڑا جرم اور ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ قوم جو خود کو پیغمبر آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرتی ہے، غیرت اور حمیت سے عاری ہو جائے۔ وہ شخص مسلمان ہو ہی نہیں سکتا کہ جو کفار کی غلامی پر راضی ہو، طاقت ور کی کاسہ لیسی کرے اورخود کو طاقت اور مزاحمت کی صلاحیت سے یکسر محروم کر دے۔ وہ شخص جسے کفر کی طاقت کے آگے سجدہ ریز ہونے میں ذرا باک نہ ہو، مسلمان تو کیا، انسان کہلانے کا مستحق بھی نہیں۔ قوموں کی بزدلی اورکمزوری کا صرف یہی نتیجہ بر آمدنہیں ہوتا کہ ان کو طاقت کے سامنے سجدہ ریز ہوناپڑتا ہے، بلکہ طاقت ور قومیں انہیں اپنے سامنے جھکانے کے بعد اپنے گھٹیا ترین مقاصد کے لیے استعمال بھی کرتی ہیں۔ پاکستان کی افوج کا سپہ سالارجب امریکہ کے آگے جھک گیا، تودس برس تک ساری فوج کوبھی امریکہ اورصلیب کے آگے سر جھکائے رکھنا پڑا۔ اکیلامشرف ہی بش کے آگے سجدہ ر یزنہیں ہو گیا، ساری پاکستانی فوج ہی امریکی مقاصد کے لیے استعمال ہونے لگی۔ ملک اور فوج کے سارے وسائل بھی امریکہ کو خدمات مہیا کرتے رہے۔ وہ فوج جو اللہ کے دین کی محافظ تھی، اللہ تعالیٰ کے آگے سر جھکانے والوں کا خون بہانے اور اسامہؒ بن لادن جیسے اللہ کے مجاہد بندوں کا تعاقب کرنے میں مصروف ہو گئی۔
آخر اس بات کا جواز کیا تھا کہ پاکستان کے ہوائی اڈوں سے صلیبی طیارے اڑکرافغانستان اوراس کے ملحقہ علاقوں میں مسلمانوں پر بم اور میزائل برساتے رہیں۔ اس جنگ میں شرکت سے ہم نے امریکہ اورعالم کفر کو خوش کرنے کی کوشش میں کیااپنے رب کو ناراض نہیں کرلیا؟ اورکیااللہ کے غضب کو للکار کر بھی امن وسکون اور خوش حالی سے رہنا ممکن ہے؟ ان جرائم پر پاکستانی عوام کی مجرمانہ خاموشی اورحکومت اور فوج کی جانب سے ظالموں کی نصرت وحمایت کو برقرار رکھنے کی وجہ سے پاکستان پرعمومی مصیبتیں اور آفات آرہی ہیں۔ جہاد کو دہشت گردی کہنے میں نام نہاد مسلمان حکومتیں اور اسلامی ممالک کے ذرائع ابلاغ ہی پیش پیش نہ رہے، مسلمان دانش وراور نام نہاد علمائے امت بھی امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے لگے۔ خصوصاً جب نائن الیون کے بعدہزاروں مسلمان جہاد میں حصہ لینے کے جرم میں قتل کردیے گئے یاگوانتا نامو بے اور دیگر امریکی جیلوں میں ڈال دیے گئے، اس وقت خوف سے کلیجے منہ کو آنے لگے۔ امریکہ دندناتا ہوا افغانستان اور پھرعراق میں جا گھسا تو مسلمان قوم کی بے بسی دیکھی نہ جاتی تھی، بڑے بڑے شیخ الاسلام اور علم وفضل کے دریااپنی خانقاہوں میں سمٹ گئے، یاخوف سے گھروں میں دبک گئے۔ ہم نے چیچنیا کے شہر گروزنی اورکوسوو میں سروں پر سامان لادے بچوں کی انگلیاں پکڑے آنکھوں میں آنسو لیے پناہ کی تلاش میں مسلمان عورتوں کوبھاگتے دیکھااورچپکے بیٹھے رہے۔ کشمیر میں نوجوانوں کی لاشوں پر سینے پیٹتی مائیں دیکھیں اور ٹس سے مس نہ ہوئے۔ کابل، قندھار، بغداد، فلوجہ، بصرہ، بیروت اور غزہ میں خون کے دریا بہتے یوں دیکھتے رہے جیسے تماش بین فلمیں دیکھتے ہیں۔ ہمارا رویہ ایسا تھا جیسے مرغیوں کے ڈربے سے ذبح کرنے کے لیے چندمرغیاں نکال لی جاتی ہیں تو زندہ بچ جانے والی مرغیاں اطمینان کا سانس لیتی ہیں کہ چلو اپنی جان بچ گئی۔ ہم نے معلومات کے تبادلے کے طور پر اور کبھی دہشت گردی کی جنگ میں شرکت کے نام پراپنے بھائیوں اور بہنوں کو پکڑ پکڑ کر امریکی قاتلوں کے سپرد کیا۔ ملک کے تمام وسائل امریکہ کے حوالے کیے رکھے اور اس کی خوش نودی کے لیے اپنے لوگوں کا قتل عام تک کر گزرے۔ پاکستان اس وقت جس بدامنی، غربت ومہنگائی، قتل وغارت، چوری، ڈاکے، لوٹ مار، کرپشن، گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ، ڈرون حملوں، صلیبی قبضے، امریکی غلامی، بھارتی ثقافت اور ہندوکلچرکے غلبے کا سامنا کر رہا ہے کیا ہم نہیں سمجھتے کہ یہ ہماری ہی بد اعمالیوں کا شاخسانہ ہے؟ برس ہا برس سے ہم ظالم وجابر حکمرانوں کے تسلط، بے کردار لیڈروں کی سیاسی وفکری غلامی، ڈینگی وائرس، زلزلوں، طوفانی بارشوں، سیلابوں اورخشک سالی سمیت مختلف مصائب کے گرداب میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں، کیا ہمیں کبھی خیال آتا ہے کہ یہ اللہ کے غیظ وغضب کو للکارنے کا نتیجہ ہو سکتاہے!
پاکستانی عوام اللہ تعالیٰ کے مختلف عذابوں کو دیکھ کر صرف آنکھیں موندلینے پر اکتفا کیے ہوئے ہیں۔ اگروہ ان جرائم کا ذمے دارصرف حکمرانوں کو سمجھ ر ہے ہیں اورخود کوبے گناہ خیال کرتے ہیں۔ اگر وہ نہیں سمجھتے کہ ظلم کرنا بھی ظلم ہے اور ظلم ہوتے دیکھ کر خاموشی اختیار کرنا بھی ظلم ہے۔ یا اگران کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ ویسے ہی ان سے راضی ہوکر انہیں معاف کردے گاتوان کی یہ سوچ سراسر غلط ہے۔ اللہ تعالی کا ایک قانون اور نظام ہے جس میں کبھی ردوبدل نہیں ہوسکتا۔ اللہ کی سنت کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ اہل پاکستان کا پہلا جرم توپاکستان کے مقصدِ قیام سے انحراف ہے۔ ہم نے اللہ سے وعدہ کیا تھاکہ اس خطے میں اللہ کے دین کوسربلند اورشریعتِ مطہرہ کونافذ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ضروری تھا کہ ہم بحیثیت امت مضبوط تر ہوتے، فروعی اختلافات ختم کرتے اور حق کے قیام اور جہاد کے اجرا ءکی ہرتدبیر کرتے۔ مسلمان کی حیثیت سے ہم میں سے ہر ایک پر فرض تھا کہ یہ ملک جو اللہ کے دین کے نفاذ کے لیے حاصل کیا گیا تھااس میں اللہ کے دین کو عملاً نافذکرنے کے لیے اپنی جان لڑا دے۔ اگراسلام کے دشمن بزور طاقت اسلام کے نفاذکو روکتے، تواس مقصد عظیم کے لیے ہم جہاد کرتے، ان کے خلاف قوت استعمال کرتے۔ بدر و احد اوراحزاب وحنین میں اللہ کے رسول ﷺنے تنفیذِ دین میں رکاوٹ بننے والوں کے خلاف جہاد کر کے اس کا عملی نمونہ پیش فرمایاہے۔
دراصل پاکستان تو ہم نے بنا لیا، مگر حقیقی پاکستان بنانے کے لیے ضروری تھاکہ اسے قرآن کی تجربہ گاہ بنایا جاتا۔ وہ لوگ جو اس ملک کے اختیار و اقتدار پر فائز ہوئے ان کا قرآن سے کوئی تعلق نہ تھا۔ حضرت قائداعظمؒ نے قرآن کو پاکستان کی منزل قرار دیا تھا۔مسلمانانِ پشاور کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےآپ نے فرمایاتھا:
"اسلامی حکومت کا یہ امتیاز پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ اس میں اطاعت اور فرامین کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذا ت ہے جس کے لیے تعمیل کا مرکز قرآنِ مجیدکے احکام اور اصول ہیں قرآنِ کریم کے احکام ہی سیاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدود متعین کرتے ہیں۔’اسلامی حکومت‘ دوسرے الفاظ میں قرآنی اصول اور احکام کی حکمرانی ہے۔ " تاہم قائد کے جانشینوں نے قرآن کو پسِ پشت ڈال دیا۔ ہماری موجودہ حالت دراصل قرآن سے دوری کا شاخسانہ ہے۔ قرآن سے دوری کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ہم اسلام کی اصل قوت یعنی جذبہ جہاداور شوق شہادت سے نا آشنا ہو گئے۔ مغرب ومشرق میں ہمارے سب دشمن ہماری اسی طاقت سے خوف زدہ ہیں، ورنہ عسکری اعتبار سے تو ان کو اسلام اور مسلمانوں پر واضح برتری حاصل ہے۔ اپنے اس غلبے کو قائم رکھنے کے لیے انہوں نے دس برس پہلے مسلمانوں کے خلاف جو جنگ چھیڑی اس میں اس بات کا پورا اہتمام کیا کہ مسلمانوں کا جذبہ جہاد بیدار نہ ہونے پائے۔ اس کام پر وہ آج بھی کھربوں ڈالر کا سرمایہ خرچ کرتے ہیں جوہتھیاروں، افواج اور دیگر سامانِ جنگ کے علاوہ عالم گیر سطح پرپروپیگنڈے پر صرف ہوتا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں اربوں ڈالر تقسیم ہوتے ہیں تا کہ اسلامی جہاد کو دہشت گردی ثابت کیا جا سکے۔ اس سرمائے کا ایک بڑا حصہ مسلمانوں کے درمیان ایسے افراد کی’ خدمت‘ پر صرف ہوتا ہے جو جہاداور جذبہ جہادکے خلاف مغربی دلائل کو اسلامی رنگ میں پیش کر تے ہیں۔ یہ لوگ جہاد کے معجزانہ اثرات کی نفی کے لیے’منطق‘ پر مبنی مواد ا کٹھا کر کے مسلما نوں کو یہ با ور کروا تے ہیں کہ مغرب اورامریکہ کی ہر بات کو من و عن تسلیم کر ناہی حکمت کا تقاضاہے، اسی میں ہما ری بھلا ئی ہے اورامریکہ سے لڑنا دیوار سے سر ٹکرانے کے مترادف ہے۔ اہل مغرب کے بینکوں سے نکلنے والی رقوم سے پاکستان میں ان گنت این جی اوز، چینلز اور اخبارات وجراید چلتے ہیں۔ مغرب کی تجوریوں سے ڈالر اور پائونڈ وصول کر نے والے دانش فروش سکالرزاور علمائے سوکی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کوبھی اس مد میں بھاری وسائل بطور امداد حاصل ہیں، نوجوان نسل کومتاثر کرنے والی یونیورسٹیوں اور دانش گاہوں کوبھی ان کے تصرف میں دے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چینل کو دیکھیں وہاں پر مخلوط نوجوان نسل کے ساتھ مذاکرے کے پرگرام میں اسلام کی نئی تشریح کے ساتھ روشن خیالی کا پیغام دیا جا رہا ہو گا۔ کہیں جاوید غامدی، ڈاکٹر خالد ظہیر اور خورشید ندیم جہادکی مغرب کے لیے قابلِ قبول تشریح پیش کرتے نظر آتے ہیں تو کہیں پیپلز پارٹی اور اے این پی کے سیاسی قائدین جہاد کے خلاف وعظ و ارشاد فرماتے دکھائی دیتے ہیں۔ حسن نثار، نذیرناجی اورہودبھائی جیسے مفکرین تو جذبہ جہاد کو انتہا پسندی اور مسلمانوں کے زوال و تباہی کااصل سبب ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاکستان کی بزدل قیادت نے جہا د کا نام تک لینا چھوڑ دیاہے۔ کشمیری مجاہدین اور ان کی جد وجہد سے منہ موڑ لیاگیا ہے۔ بڑی بے شرمی سے جہاد کو دہشت گردی اور مجاہدین کو دہشت گرد کہا جاتا ہے۔ اسلام واہل اسلام سے دشمنی اور امریکہ وعالم کفرکی غلامی کی راہ اس لیے اختیار کی گئی، تاکہ ان پرکہیں جہاد کی حمایت کا الزام نہ لگ جائے، امریکہ کہیں ان کا تورہ بورا ہی نہ بنا ڈالے۔ تورا بورہ بننے سے تو وہ بچ گئے مگراس کے بدلے پاکستان کوبے پناہ قدرتی آفات ومصائب کا سامنا کر نا پڑا جواللہ کی سرکشی اختیارکرنے کا لازمی نتیجہ ہوتاہے۔ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں امریکا، اقوام متحدہ اوریورپی یونین کے اسلام دشمن قوانین جاری ہو گئے اور پاکستان پر یہودونصاریٰ کی بالادستی قبول کرلی گئی۔ حکومت کے ارکان و اعیان خاموشی سے مسلمانوں کو ملیامیٹ ہوتا دیکھ کرخوش ہوتے اور ڈالروں کے منتظر رہتے ہیں۔ بلکہ ان میں ایسے بھی ہیں جوجہاد کو پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ امریکی نقطہ نظر کی ترجمانی کرنے والے پاکستانی نژاد مفکرین میں حسین حقانی پیش پیش ہیں۔ ا مریکہ میں مو جود ا سلا می گروہ جیسے" اسلا مک سو سا ئٹی آف نا رتھ امریکہ "کو نسل آن امیریکن اسلا مک ریلیشنز اور مسلم ا سٹوڈنٹ ایسو سی ایشن حسین حقانی کی مسلم دشمن تنظیم کے خاص نشانے پر ہے۔ حسین حقانی نے "جیوش انسٹی ٹیوٹ آف سیکو ر ٹی "کے پلیٹ فارم پر تقریر کر تے ہو ئے پا کستان اور پا کستا نیوں کا خوب مذاق اڑا یا اورپاک ا مریکہ تعلقات میں باعث اضطراب پہلوئوں کی نشان دہی کر تے ہو ئے کہا کہ" پاکستان اور سعودی عرب ا مریکہ کے سب سے بڑے مشکل دو ا تحادی ہیں"۔ پا کستان اور ا مریکہ کے تعلقات کو مشکل بنانے والے با عث اضطراب اور خطرناک پہلوئوں کی نشان دہی کرتے ہوئے حقانی نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیا روں کے پھیلا ئوکے رحجان اورپا کستان کے اسلا می عسکری تحریک کے مر کز کے طور پرکر دار کی دہائی دی ہے۔ پا کستان کو اسلا می عسکری تحریک کا مرکزقرا ر د یتے ہو ئے حسین حقانی نے کہا" پا کستان مستقبل میں ا مریکہ اور مغربی دنیا کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ رہے گا۔" مولانا سید ابو ا علیٰ مو دودیؒ کی ”الجہاد فی الاسلام“ حسین حقانی کے نزدیک"عا لمی جہا دی کوششوں کے لیے ایک ا بلنے والی پلیٹ"ہے۔ پاک فوج کے خلاف ز ہر ا فشا نی کر تے ہو ئے کہتے ہیں: "پا کستان کی فوج ا سٹریٹجک و جو ہ کی بنا پر وقتاًفوقتاً اسلامی عسکریت پسندوں کے ساتھ اتحاد کر تی ر ہتی ہے اور مسجد اور فوج کے درمیان یہ اتحاد ہی تھا جس نے طالبان کو جنم دیا۔" حسین حقانی کشمیر کے مسئلے کو عسکری قیادت کی چال کہتے ہیں: "جس کے ذریعے وہ پا کستان پر حکمرا نی کر نا چا ہتی ہے۔"
افسوس اہلِ پاکستان نے حق کی قدر کرنے کا حق ادا نہیں کیا۔ پاکستانیوں نے قرآن کی پکار کا کماحقہ جواب نہیں دیا۔ جہاد جو ہماری اصل قوت اور دنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ اوردفاع کا سامان ہے، ہم نے اس سے منہ موڑ لیا۔ جہاد تر ک کرنے کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ہم نے ساری دنیا میں پرچم الٰہی کو لہرانے کے لیے اپنی صلاحیتیں استعمال نہ کیں، اسی لیے ہماری وحدت تتر بتر ہوہو گئی اور ہمارے دشمن بھوکے کتوں کی طرح ہمارے اوپر جھپٹ پڑے۔ آج وہ ہمیں بھنبھوڑ رہے ہیں، نوچ رہے ہیں اور ہم نہ صرف ان سے بچتے پھر رہے ہیں بلکہ ان کی خوشی کے لیے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی گردنیں کاٹ کر ان کے قدموں میں ڈال رہے ہیں۔ پورے عالم اسلام کا یہی حال ہے۔ ہم سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں، ایک سو ستر کروڑ کی تعداد میں ہوتے بھی تنہا ہیں۔۔۔ ستاون ممالک ہوتے ہوئے بھی ہمیں اکیلا ہونے کی شکایت ہے۔ہمارا مرض لا علاج ہے، ہمارے دکھ کا کوئی مداوا ہو بھی نہیں سکتاجب تک ہم قرآن کی طرف رجوع نہیں کریں گے۔ اگر مومن کا نور مبین کھو جائے اور وہ ظلمات میں ٹھوکریں کھا رہا ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ کھوئے ہوئے نور کو ڈھونڈے اور اس سے اپنے ماحول کو روشن کرے اور پھر اس نور کو چار دانگ عالم میں پھیلا دے۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ تمام عالم کو روشن کرنے کی صلاحیت صرف ہمارے پاس ہے۔ وہ نور ہم نے چھپا کر کیوں رکھا ہوا ہے جو اس لق ودق اندھیرے میں ہمیں بھی منور کر سکتا ہے اور کل عالم میں بھی روشنی پھیلا سکتا ہے۔
مومن کو نوید دی گئی ہے کہ اس کو وہ سب ملے گا جس کے لیے وہ کوشش اور جدوجہد کرے گا۔ اگر پسینہ بہائے گاتو اس کا اجر پائے گا اورحق کی شہادت دیتے ہوئے اپنا گرم خون نچھاور کرے گا، تواس کے اجرِعظیم سے بھی محروم نہیں رہے گا۔ مسلمانوں کے امراضِ قلب وروح کا علاج صرف اور صرف جہاد میں مضمر ہے۔ جہادہی ہماری داخلی وخارجی سلامتی کا ضامن ہے۔ جہادہی ہمارااصل ایٹم بم ہے اورموثرترین deterrent ہے، یقین نہیں آتا تو افغانستان میں مٹھی بھر طالبان کو جہاد لڑتے دیکھ لیں۔ امریکہ وہاں جہاد کی طاقت سے عاجز آ چکا ہے۔ اس سے پہلے جہاد سوویت یونین کے پر خچے اڑاچکا ہے۔ جہاد ہے تو یہ امت ہے جہاد نہیں تو نہ امت ہے نہ اس کا وقاراور شرف ہے، نہ اس کے لیے امن و سلامتی کی کوئی ضمانت ہی ممکن ہے۔"جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے(سورئہ عنکبوت 69)۔"سورئہ صف میں عذابِ الیم سے نجات دلانے کے لیے ایک تجارت کی نشان دہی کی گئی ہے:
" اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بتائوں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذاب الیم سے بچا دے؟ ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول پر، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے ما لوں سے اور اپنی جانوں سے یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمھیں عطا فرمائے گا۔ یہ ہے بڑی کامیابی اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو وہ بھی تمہیں دے گا، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہو جانے والی فتح۔ اے نبی، اہل ایمان کو اس کی بشارت دے دو۔" (الصف:13-10 )

عبدالہادی احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1003
Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (15-01-12), rana ammar mazhar (07-01-12), فیصل ناصر (27-12-11), ھارون اعظم (30-12-11), نبیل خان (08-01-12), محمدمبشرعلی (31-12-11), مرزا عامر (27-12-11), ایکسٹو (30-12-11), حیدر (11-01-12), رضی (31-12-11), سحر (27-12-11), طاھر (29-12-11), عبداللہ آدم (28-12-11)
پرانا 10-01-12, 10:27 PM   #46
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
عبدالہادی احمد بھائی !

میری طرف سے تیز زبان کے استعمال پر معذرت قبول فرمائیں، مجھے آپ کے بیک گراؤنڈ کا کچھ علم تھا تبھی مراسلہ پڑھ کر قابو نہ ہو سکا !!!

میں دو دن تک ریگولر ہو جاؤں گا، ان شاء اللہ . جب تک فاروق صاحب کے ارشادات سے محظوظ ہوں جو طالبان کو ایک مراسلے میں درست کہہ کر دوسرے میں غلط کہہ رہے ہیں...



فتنہ کون کر رہا ہے؟؟ امریکی افغانستان میں، ہندو کشمیر میں اور اسرائیلی فلسطین میں

فتنے کو ختم کرنے واسطے کون لڑ رہا ہے؟؟ طالبان ، حماس، وگیرہ وغیرہ

اللہ سے میرے حق میں دعا بھی فرما دیا کریں.

والسلام
کچھ برادران کو ساری دنیا کی پڑی ہے ۔ لیکن خود پاکستان کی نہیں۔ پاکستان میں‌ درندگی کون کررہا ہے ؟

کراچی سے خیبر تک بم کون پھاڑ رہا ہے؟ طالبان
معصوم بچوں کو خود کش حملہ آور کون بنا رہا ہے ۔ طالبان۔

ساری دنیا کے درد کا بہانہ بنا کر ، پاکستان فوج کے خلاف کون ابھار رہا ہے طالبان؟

جب عراقی پاکستان میں‌طالبان کے خلاف لڑنے آئیں، جب افغان ، طالبان کو اکھاڑ پھینکیں۔ جب فلسطینی پاکستان کے معصوم بچوں‌کو بچانے آئیں تب ہم بات کریں گے فلسطین کی عراق کی افغانستان کی۔

ابھی بات کرتے ہیں پاکستانی کی پاک فوج کے خلاف "جہاد فی سبیل اللہ "‌کی۔

جو طالبان پاکستانی جوانوں‌کو مسلح‌ کر کے پاک فوج اور وحدت پاکستان کے خلاف کھڑا کر رہے ہیں۔ میں ان پر لعنت بھیجتا ہوں۔ آپ ایسے لوگوں‌پر لعنت بھیجتے ہیں تو اس مراسلے کا شکریہ ادا کیجئے۔ پھر باقی بات کیجئے۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (11-01-12), حیدر Rehan (17-01-12)
پرانا 11-01-12, 10:31 AM   #47
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
پاکستان فوج کے خلاف باقاعدہ "جہاد" کی تحریک کافی عرصہ سے پاکستان میں‌چل رہی ہے۔ جہاد کے لئے مسلمان فوج کے خلا ف مسلمانوں‌ کو کھڑا کرنے کا کام کرنے والوں کے اندر قیامت کی جواب دہی کا احساس مر چکا ہے ۔ عبدالہادی احمد صاحب بذات خود پاکستان فوج کے خلاف جہاد میں‌ شامل ہیں۔


عبد الہادی احمد کی فرسٹ کلاس قسم کی پاکستانی فوج اور پاکستان کے خلاف برین واشنگ ہوچکی ہے۔ یہ دھاگہ گواہ ہے کہ اب یہ اس پراپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں ۔۔ مجھے یہ کہنے میں‌ کوئی باک نہیں ۔ اس لئے کہ ان کی تحاریر ان کے منشور اور مقصد کی گواہ ہیں۔

والسلام۔
عبدالہادی احمد صاحب کے بارے میں:
۔۔۔۔اگر میری معلومات ناقص نہیں ۔ ۔ ۔یا میں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں تو۔۔ ۔ پاکستان کے صف اول کے مشہور اخبار میں باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔ اگر میری معلومات درست ہیں تو یہ کوئی ڈھکی چھپی شخصیت نہیں ہیں۔
اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان پر پاکستانی افواج کے خلاف پروپیگنڈہ کا الزام لگایا جا رہا ہے (اگر یہ وہی کالم نویس ہیں)تو خود ان کے اخبار پر ایجنسیوں اور بالخصوص آئی ایس آئی کی پشت پناہی کا الزام لگتا رہتا ہے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (11-01-12)
پرانا 13-01-12, 07:42 AM   #48
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
پاکستان فوج کے خلاف باقاعدہ "جہاد" کی تحریک کافی عرصہ سے پاکستان میں‌چل رہی ہے۔ جہاد کے لئے مسلمان فوج کے خلا ف مسلمانوں‌ کو کھڑا کرنے کا کام کرنے والوں کے اندر قیامت کی جواب دہی کا احساس مر چکا ہے ۔ عبدالہادی احمد صاحب بذات خود پاکستان فوج کے خلاف جہاد میں‌ شامل ہیں۔

یہ پاکستانی ملک و قوم سے ٍ غداری ہے کہ پاک فوج کے خلاف کھڑا ہوا جائے ؟؟؟؟ عملا جہاد فی سبیل اللہ میں‌حصہ لیا جائے اور پاکستان کے ٹکڑے کر دئے جائیں؟؟؟؟؟

عبد الہادی احمد کی فرسٹ کلاس قسم کی پاکستانی فوج اور پاکستان کے خلاف برین واشنگ ہوچکی ہے۔ یہ دھاگہ گواہ ہے کہ اب یہ اس پراپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں ۔۔ مجھے یہ کہنے میں‌ کوئی باک نہیں ۔ اس لئے کہ ان کی تحاریر ان کے منشور اور مقصد کی گواہ ہیں۔

والسلام۔



میں نے پاک فوج کو کبھی ناپاک فوج نہیں کہا،کوئی پاکستانی ایسا کر ہی نہیں سکتا۔میرے بارے میں ایسا جھوٹ وہی بول سکتا ہے جسےاس بات کا یقین نہ ہو کہ اس نے مر کر جواب دہی کے لیے اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے۔
میں نے صرف امریکہ اور یہود کو اپنا اور ساری امت کا دشمن کہا ہے۔اگر کوئی امریکہ کو دشمن نہیں سمجھتا،تو اس کی یہ سوچ قابل مواخذہ ہے۔میں سمجھتا ہوں گزشتہ بیس برس میں امریکہ کے ہاتھوں بیس لاکھ مسلمان قتل اور تلف ہو چکے ہیں،جن میں 35ہزار پاکستانی بھی شامل ہیں۔اس لیے ہم کہتے ہیں کہ امریکہ ہمارا بد ترین دشمن ہے۔اس نے لاکھوں مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگے ہیں۔لیکن امریکہ کی اس قتل وغارت گری کے باوجود کچھ لوگ اسے مشرف اور کرزئی کی طرح اسلام اور مسلمانوں کا دشمن نہیں سمجھتے۔۔۔تو ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کے گھٹیا مفادات امریکہ سے وابستہ ہیں اورکچھ وہ ہیں جن کو جھوٹےعالمی پروپیگنڈے نے اسیر بنا رکھا ہے۔اوراگر کوئی شخص کہتا ہےکہ وہ امریکہ سے کوئی مفاد بھی حاصل نہیں کرتااورمنفی پروپیگنڈے کا شکار بھی نہیں،پھر بھی امریکہ کا یا ر ہے،تو ایسا شخص اسلام اور مسلمانوں کا بدترین دشمن ہی ہو سکتا ہے۔ وہ اپنے انجام کے بارے میں خود ہی سوچ لے۔فاروق سرور صاحب کے بارے میں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ
چہ دلاور ست دُزدے کہ بکف چراغ دارد

Last edited by عبدالہادی احمد; 13-01-12 at 07:49 AM.
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (13-01-12), skjatala (13-01-12), حیدر (13-01-12), حیدر Rehan (17-01-12), رضی (14-01-12), سحر (13-01-12)
پرانا 13-01-12, 06:04 PM   #49
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default مشرف اور کرزئی کے معاملے میں آپ کا "کربلا" کیوں زندہ نہیں ہو رہا ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبدالہادی احمد مراسلہ دیکھیں
میں نے پاک فوج کو کبھی ناپاک فوج نہیں کہا،کوئی پاکستانی ایسا کر ہی نہیں سکتا۔میرے بارے میں ایسا جھوٹ وہی بول سکتا ہے جسےاس بات کا یقین نہ ہو کہ اس نے مر کر جواب دہی کے لیے اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے۔
میں نے صرف امریکہ اور یہود کو اپنا اور ساری امت کا دشمن کہا ہے۔اگر کوئی امریکہ کو دشمن نہیں سمجھتا،تو اس کی یہ سوچ قابل مواخذہ ہے۔میں سمجھتا ہوں گزشتہ بیس برس میں امریکہ کے ہاتھوں بیس لاکھ مسلمان قتل اور تلف ہو چکے ہیں،جن میں 35ہزار پاکستانی بھی شامل ہیں۔اس لیے ہم کہتے ہیں کہ امریکہ ہمارا بد ترین دشمن ہے۔اس نے لاکھوں مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگے ہیں۔لیکن امریکہ کی اس قتل وغارت گری کے باوجود کچھ لوگ اسے مشرف اور کرزئی کی طرح اسلام اور مسلمانوں کا دشمن نہیں سمجھتے۔۔۔تو ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کے گھٹیا مفادات امریکہ سے وابستہ ہیں اورکچھ وہ ہیں جن کو جھوٹےعالمی پروپیگنڈے نے اسیر بنا رکھا ہے۔اوراگر کوئی شخص کہتا ہےکہ وہ امریکہ سے کوئی مفاد بھی حاصل نہیں کرتا اورمنفی پروپیگنڈے کا شکار بھی نہیں،پھر بھی امریکہ کا یا ر ہے، تو ایسا شخص اسلام اور مسلمانوں کا بدترین دشمن ہی ہو سکتا ہے۔ وہ اپنے انجام کے بارے میں خود ہی سوچ لے۔ فاروق سرور صاحب کے بارے میں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ
چہ دلاور ست دُزدے کہ بکف چراغ دارد
لیکن امریکہ کی اس قتل وغارت گری کے باوجود کچھ لوگ اسے مشرف اور کرزئی کی طرح اسلام اور مسلمانوں کا دشمن نہیں سمجھتے۔

مشرف اور کرزئی کے معاملے میں آپ کا "کربلا" کیوں زندہ نہیں ہو رہا ؟؟؟

کیا آپ کا "کربلا" زندہ نہیں رہا ؟؟؟


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
فتنے کو ختم کرنے واسطے، پمپرڈ نیٹو افواج سے پہلے، ریگولر مسلم کرزئی کو کب ماریں گے ؟؟؟
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں

تیس برس میں پمپرڈ نیٹو افواج کو اسلامی جہاد میں مارنے سے پہلے کتنے مسلم افعان سیکورٹی فوجیوں کو مارنا پڑتا ہے، جو نیٹو افواج کی حفاظت کرتے ہیں ؟؟؟
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-01-12, 10:56 AM   #50
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
لیکن امریکہ کی اس قتل وغارت گری کے باوجود کچھ لوگ اسے مشرف اور کرزئی کی طرح اسلام اور مسلمانوں کا دشمن نہیں سمجھتے۔

مشرف اور کرزئی کے معاملے میں آپ کا "کربلا" کیوں زندہ نہیں ہو رہا ؟؟؟

کیا آپ کا "کربلا" زندہ نہیں رہا ؟؟؟

میرے لیے یہ اسلوبِ گفتگو ناقابلِ فہم ہے۔
آپ کہنا کیا چاہتے ہیں،کیا مجھے سمجھانے کی زحمت فرمائیں گے؟
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (14-01-12)
پرانا 14-01-12, 11:27 AM   #51
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
عبدالہادی احمد صاحب کے بارے میں:
۔۔۔۔اگر میری معلومات ناقص نہیں ۔ ۔ ۔یا میں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں تو۔۔ ۔ پاکستان کے صف اول کے مشہور اخبار میں باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔ اگر میری معلومات درست ہیں تو یہ کوئی ڈھکی چھپی شخصیت نہیں ہیں۔
اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان پر پاکستانی افواج کے خلاف پروپیگنڈہ کا الزام لگایا جا رہا ہے (اگر یہ وہی کالم نویس ہیں)تو خود ان کے اخبار پر ایجنسیوں اور بالخصوص آئی ایس آئی کی پشت پناہی کا الزام لگتا رہتا ہے۔
الحمد للہ ،مجھے ایک بڑے اخبار کا کالم نگار اور دو بین الاقوامی جراید کا مدیر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔تاہم میرے لیے اہم یہ ہے کہ آپ نام کے بجائے میری بات کا وزن محسوس فرمائیں !!
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (14-01-12), فیصل ناصر (15-01-12), ہادی (15-01-12), کنعان (17-01-12), حیدر (14-01-12)
پرانا 14-01-12, 01:52 PM   #52
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبدالہادی احمد مراسلہ دیکھیں
الحمد للہ ،مجھے ایک بڑے اخبار کا کالم نگار اور دو بین الاقوامی جراید کا مدیر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔تاہم میرے لیے اہم یہ ہے کہ آپ نام کے بجائے میری بات کا وزن محسوس فرمائیں !!
نہیں ۔۔۔ میرے لیے بھی نام کا وزن کوئی اہمیت کا حامل نہیں۔ اسی لیے پہلے کبھی تذکرہ نہیں کیا
اس جانب اب اس لیے اشارہ کیا کہ "افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ، زہریلی سو" وغیرہ جیسی باتیں ہو رہی تھیں۔ تب میں نے مناسب سمجھا کہ ناواقف لوگوں کو آگاہ کر دوں۔ کیوں کہ آج کل پاک نیٹ پر "پروپیگنڈا" قسم کے لوگ بہت آتے ہیں جن کے اپنے نظریات ہوتے ہیں اور وہ نہ صرف اپنے نظریات کی ترویج کرتے ہیں بلکہ یہاں سے ریکروٹنگ بھی کرتے ہیں۔ چناچہ آپ کو اُن "زیر زمین" قسم کے لوگوں سے الگ کرنا مقصود تھا۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (14-01-12), کنعان (17-01-12), حیدر Rehan (17-01-12), عبدالہادی احمد (14-01-12)
پرانا 14-01-12, 06:04 PM   #53
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default قتلِ حسین اصل میں مَرگِ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبدالہادی احمد مراسلہ دیکھیں
میرے لیے یہ اسلوبِ گفتگو ناقابلِ فہم ہے۔
آپ کہنا کیا چاہتے ہیں،کیا مجھے سمجھانے کی زحمت فرمائیں گے؟

قتلِ حسین اصل میں مَرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد


مشرف اور کرزئی کی دیوار گرائے بغیر آپ امریکیوں کا کیا بگاڑ سکتے ہیں ؟؟؟
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-01-12, 06:15 PM   #54
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں

قتلِ حسین اصل میں مَرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد


مشرف اور کرزئی کی دیوار گرائے بغیر آپ امریکیوں کا کیا بگاڑ سکتے ہیں ؟؟؟
آپ آؤٹ ڈیٹڈ ہیں۔ مشرف کا دور گزر چُکا
اب زرداری کا دور ہے۔
ایک زرداری سب پہ بھاری
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (14-01-12), نبیل خان (15-01-12)
پرانا 14-01-12, 06:23 PM   #55
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بے شک بے شک، ووٹ آپ شریف، زرداری کو دیتے ہیں اور باتیں جہاد کی کرتے ہیں !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
آپ آؤٹ ڈیٹڈ ہیں۔ مشرف کا دور گزر چُکا
اب زرداری کا دور ہے۔
ایک زرداری سب پہ بھاری
بے شک بے شک، ووٹ آپ شریف، زرداری کو دیتے ہیں اور باتیں جہاد کی کرتے ہیں !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-01-12, 01:32 AM   #56
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبدالہادی احمد مراسلہ دیکھیں
سوال بہت سادہ ہےلیکن جواب خاصا مشکل۔۔۔۔
میں کوشش کرتا ہوں کہ ذیل کی مثال سے اپنے موقف کی وضاحت کر سکوں۔
فرض کیا ایک شہر ہے جس میں کوئی جامع مسجد نہیں،وہاںجمعہ کی نماز ادا نہیں کی جاتی۔۔۔۔یا مسجدتو ہے،مگر خطبہ دینے والے خطیب صاحب نہیں،اس لیے نماز جمعہ ادا نہیں کی جاتی، تو کیا وہاں نماز جمعہ ساقط ہو جائے گی؟نہیں ہر گز نہیں۔ اس شہر کےتمام نمازی یہ نہیں کہ سکتے کہ امام، خطیب یا مسجد نہ ہونے سےہم پر جمعہ فرض نہیں رہا،ان سب پر اس اجتماعی فریضے کی ادائیگی کے لیے مسجد اور امام و خطیب کا انتظام کرنا فرض ہے،وہ یہ نہیں کریں گے تو سب گناہ گار ہوں گے۔یہی معاملہ جہاد کا ہے۔جہاد بھی پوری امت کا اجتماعی فریضہ ہے،ہر ملک کواجتماعی طور پر اس فرض کو ادا کرنا ہو گا ،ورنہ سب گناہ گار ہو ں گے۔
اس مثال کا یہاں فٹ کیا جانا بنتا نہیں ہے لیکن اسی مثال کو لے لیں تب بھی امام کی غیر موجودگی میں کوئی بھی اہل آدمی کی اقتدا میں جمعہ اد کیا جا سکتا ہے، اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو سب گناہگار ہوں گے.

مزید یہ کہ اگر ایک ہی فرد ہے تو اس پر بھی ظہر کی نماز فرض ہو گی جو مقدار میں نماز جمعہ سے زیادہ ہے، وہ ظہر نہیں پڑھے گا تو گناہگار ہو گا.!!!

جب جہاد ایک اجتماعی فریضہ ہے اور جب ملک سیکولر اور نیشنلزم پر چلنے والے ہیں تو ان سے دوسرے اجتماعی فرائض کی طرح اس فریضہ کی توقع رکھنا بھی عبث ہے. . . .امت دوسرے اجتماعی فرائض حکمران اور ملکوں کے انوالومنٹ کے بغیر خود سے انتظام کر کے ادا کر رہی ہے تو اس کے لیے بھی ملکوں یا راجواڑوں اور حکمرانوں کی شرط نہیں ہے !!!




اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبدالہادی احمد مراسلہ دیکھیں
لیکن جس طرح کسی شہر میں ایک نمازی اٹھ کر کہے کہ میں تنہا ہی نماز جمعہ ادا کرتا ہوں تواس کےتنہا یہ کام کرنے سے نمازِ جمعہ کی ادائیگی نہیں ہو گی۔۔۔۔اسی طرح کسی فرد کا تنہا جہاد بھی یقینا جہاد شمار نہ ہو گا۔
میرے پچھلے مراسلے میں ایک آیت تھی کہ ؛؛تجھے اپنے سوا کسی کا مکلف نہیں کیا گیا ہے؛؛ اس سے اس بات کی حقیقت کھل جاتی ہے کہ ::
؛؛ کسی فرد کا تنہا جہاد بھی یقینا جہاد شمار نہ ہو گا؛؛

وہ مظلوم لوگ جو فلپائن سے لیکر الجزائر تک ظلم کا شکار ہیں، درندگی اور بہیمیت کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں، اگر حکمران ہی قائم ہوتا اور وہ بھی ایسا جو جہاد کے لیے تیار ہوتا تو خود ان کو کیا ضرورت تھی کہ جہاد کریں ؟؟؟ اللہ کے بندو وہ تو جہاد کر ہی اس لیے رہے ہیں کہ ایک اسلامی حکمرانی اور اسلامی حکمران نہیں ہے اور ہم ان پر حکمران ہی کی شرط کو لاگو کر رہے ہیں !!!
گویا جس مقصد کے لیے جہاد ہو رہا ہے ، وہ مقصد پہلے حاصل ہو اور جہاد پھر بعد میں کیا جائے گا . . . . بے تکی سی بات ہے.

تاریخ اسلام "خطیب" کی عدم موجودگی میں "جمعہ" ادا کرنے کی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے جن میں حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ کے اسلامی سلطنت کی حدود سے باہر اپنا معسکر بنا کر مشرکین کی مالی ناکہ بندی سے لیکر امام شامل اور عمر المختار اور مہدی السوڈانی اور سید احمد شہید و شاہ اسماعیل شہید سب شامل ہیں. . . .. . کیا خیال ہے ان کو ہم ان لوگوں میں شمار کریں گے جو اکیلے ہی جمعہ پڑھنے والے تھے؟؟ یا ان کا جہاد صحیح معنوں میں جہاد فی سبیل اللہ تھا؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبدالہادی احمد مراسلہ دیکھیں
اسی لیے میں کہتا ہوں جہاد پوری امت پر فرض ہو چکا ہے۔لیکن اس فریضے کی ا دائیگی بھی مطلوبہ شرائط سے مشروط ہے ۔
براہ کرم ان شرائط کا بیان فرمادیں جو دفاعی جہاد کے لیے درکار ہیں اور ان کے بغیر جہاد نہیں ہو سکتا.

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبدالہادی احمد مراسلہ دیکھیں
ماں باپ چاہیں تو شرعی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئےاپنے بیٹوں کووہاں جانے کی اجازت دے سکتے ہیں،لیکن میں نہیں سمجھتاکہ ان جگہوں میں جہاد کی شمولیت کے لیے ماں باپ کی اجازت کی بھی ضرورت نہیں۔اس طرح نوجوانوں کو بے لگام کر دینے سےفساد اور فتنے کی راہیں کھلیں گی ۔ماں باپ کی اجازت جن وجوہ سےموقوف ہو تی ہے،ابھی وہ ہمارے ہاں نہیں پائی جاتیں۔
واللہ اعلم بالصواب۔
ماں باپ کی اجازت تب ضروری ہے جب یہ ایک آپشنل کام ہو، اور ہمارے دشمن نے اسے آپشنل رہنے نہیں دیاہے . . . . . اگر بھائی یا بہن مر رہے ہوں تو دوائی لینے کے لیے بندہ ابا جی سے پوچھ کے تو نہیں جاتا یا روکنے سے رک تو نہیں جاتا؟؟

ماں باپ کی اجازت فرض عین، یا نفیر عام کی صورت میں موقوف ہوتی ہے اور دفاعی طور پر اللہ کے دین کے دشمن سے مرنا فرض عین ہوتا کوئی مرضی کی چیز نہیں.

باقی یہ فتنہ و فساد کی راہیں کھلنا کم از کم میری سمجھ سے بالا تر ہے اور میں شیخ عبداللہ عزام شہید کے ان الفاط پر ہی اکتفا کروں گا کہ اگر ایک خاندان کا ہونہار نوجوان کسی یورپین ملک میں فرار ہو جاے اور کچھ عرصے بعد یہ پتہ چلے کہ وہ وہاں فلانی دگری میں تعلیم حاصل کر رہا ہے تو والدیں کا سار غصہ کافور ہو جاتا ہے اور اس کی قابلیت کے گن گائے جاتے ہیں لیکن اگر وہی نوجوان ہمارے پاس میں محاذ جنگ پر آجائے اور بتا کر ائے کہ میں کہاں جا رہا ہوں تو شیطان کمزور ایمان لوگوں کو اس میں فتنہ و فساد کی راہیں دکھانا شروع کر دیتا ہے اور وہ اسے لینے کو یہآں پہنچ جاتے ہیں !!!
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (15-01-12), نبیل خان (15-01-12), حیدر Rehan (17-01-12), سحر (15-01-12)
پرانا 15-01-12, 01:40 AM   #57
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں

تیس برس میں پمپرڈ نیٹو افواج کو اسلامی جہاد میں مارنے سے پہلے کتنے مسلم افعان سیکورٹی فوجیوں کو مارنا پڑتا ہے، جو نیٹو افواج کی حفاظت کرتے ہیں ؟؟؟
آپ یہ مضمون ملاحظہ فرمائیں::

http://pak.net/کفروشرک/کفار-کے-مدد-گ...-میں-41009/

اور سوچیں کہ کون کون ہے جو اج یہ مکروہ کام کر رہا ہے !!!
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (15-01-12)
پرانا 15-01-12, 07:18 AM   #58
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
اس مثال کا یہاں فٹ کیا جانا بنتا نہیں ہے لیکن اسی مثال کو لے لیں تب بھی امام کی غیر موجودگی میں کوئی بھی اہل آدمی کی اقتدا میں جمعہ اد کیا جا سکتا ہے، اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو سب گناہگار ہوں گے.

مزید یہ کہ اگر ایک ہی فرد ہے تو اس پر بھی ظہر کی نماز فرض ہو گی جو مقدار میں نماز جمعہ سے زیادہ ہے، وہ ظہر نہیں پڑھے گا تو گناہگار ہو گا.!!!

جب جہاد ایک اجتماعی فریضہ ہے اور جب ملک سیکولر اور نیشنلزم پر چلنے والے ہیں تو ان سے دوسرے اجتماعی فرائض کی طرح اس فریضہ کی توقع رکھنا بھی عبث ہے. . . .امت دوسرے اجتماعی فرائض حکمران اور ملکوں کے انوالومنٹ کے بغیر خود سے انتظام کر کے ادا کر رہی ہے تو اس کے لیے بھی ملکوں یا راجواڑوں اور حکمرانوں کی شرط نہیں ہے !!!
میرے پچھلے مراسلے میں ایک آیت تھی کہ ؛؛تجھے اپنے سوا کسی کا مکلف نہیں کیا گیا ہے؛؛ اس سے اس بات کی حقیقت کھل جاتی ہے کہ ::
؛؛ کسی فرد کا تنہا جہاد بھی یقینا جہاد شمار نہ ہو گا؛؛
وہ مظلوم لوگ جو فلپائن سے لیکر الجزائر تک ظلم کا شکار ہیں، درندگی اور بہیمیت کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں، اگر حکمران ہی قائم ہوتا اور وہ بھی ایسا جو جہاد کے لیے تیار ہوتا تو خود ان کو کیا ضرورت تھی کہ جہاد کریں ؟؟؟ اللہ کے بندو وہ تو جہاد کر ہی اس لیے رہے ہیں کہ ایک اسلامی حکمرانی اور اسلامی حکمران نہیں ہے اور ہم ان پر حکمران ہی کی شرط کو لاگو کر رہے ہیں !!!
گویا جس مقصد کے لیے جہاد ہو رہا ہے ، وہ مقصد پہلے حاصل ہو اور جہاد پھر بعد میں کیا جائے گا . . . . بے تکی سی بات ہے.

تاریخ اسلام "خطیب" کی عدم موجودگی میں "جمعہ" ادا کرنے کی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے جن میں حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ کے اسلامی سلطنت کی حدود سے باہر اپنا معسکر بنا کر مشرکین کی مالی ناکہ بندی سے لیکر امام شامل اور عمر المختار اور مہدی السوڈانی اور سید احمد شہید و شاہ اسماعیل شہید سب شامل ہیں. . . .. . کیا خیال ہے ان کو ہم ان لوگوں میں شمار کریں گے جو اکیلے ہی جمعہ پڑھنے والے تھے؟؟ یا ان کا جہاد صحیح معنوں میں جہاد فی سبیل اللہ تھا؟؟



براہ کرم ان شرائط کا بیان فرمادیں جو دفاعی جہاد کے لیے درکار ہیں اور ان کے بغیر جہاد نہیں ہو سکتا.



ماں باپ کی اجازت تب ضروری ہے جب یہ ایک آپشنل کام ہو، اور ہمارے دشمن نے اسے آپشنل رہنے نہیں دیاہے . . . . . اگر بھائی یا بہن مر رہے ہوں تو دوائی لینے کے لیے بندہ ابا جی سے پوچھ کے تو نہیں جاتا یا روکنے سے رک تو نہیں جاتا؟؟
ماں باپ کی اجازت فرض عین، یا نفیر عام کی صورت میں موقوف ہوتی ہے اور دفاعی طور پر اللہ کے دین کے دشمن سے مرنا فرض عین ہوتا کوئی مرضی کی چیز نہیں.
باقی یہ فتنہ و فساد کی راہیں کھلنا کم از کم میری سمجھ سے بالا تر ہے اور میں شیخ عبداللہ عزام شہید کے ان الفاط پر ہی اکتفا کروں گا کہ اگر ایک خاندان کا ہونہار نوجوان کسی یورپین ملک میں فرار ہو جاے اور کچھ عرصے بعد یہ پتہ چلے کہ وہ وہاں فلانی دگری میں تعلیم حاصل کر رہا ہے تو والدیں کا سار غصہ کافور ہو جاتا ہے اور اس کی قابلیت کے گن گائے جاتے ہیں لیکن اگر وہی نوجوان ہمارے پاس میں محاذ جنگ پر آجائے اور بتا کر ائے کہ میں کہاں جا رہا ہوں تو شیطان کمزور ایمان لوگوں کو اس میں فتنہ و فساد کی راہیں دکھانا شروع کر دیتا ہے اور وہ اسے لینے کو یہآں پہنچ جاتے ہیں !!!



عبداللہ آدم صاحب
آپ نے اتنے سوال اٹھادیے ہیں کہ ان کاجواب ایک دن اور ایک مجلس میں دینا مشکل ہے۔
یہ کام فرصت کے وقت کے لیے اٹھا رکھتا ہوں،سردست اتنا سن اورسمجھ لیے کہ ہم(میں اور آپ) جہاد فی سبیل اللہ کے جواز اور عدم جواز کے بارے میں فتویٰ نہیں دے سکتے،یہ کام علماء کا ہے۔علماءمیں بھی دو رکعت کے امام نہیں،علماء سے وہ اصحاب علم وفضل مراد ہیں جو قرآن وسنت،فقہ اور ماضی کے نظائر سے استنباط کرنے کے اہل ہیں۔جن کواسلام کے فلسفہ جہاد کی شد بد ہے،صرف ایسے لوگ ہی اس اہم معاملےکے بارے میں فیصلہ دینے کے مجاز ہیں۔(اللہ کی لاکھ رحمتیں ہوں شیخ عبداللہ عزام پر کہ وہ یہ فتوی دینے کے صحیح معنوں میں اہل تھے )

اگر ہم عالم اسلام کے موجودہ حالات میں غور وفکر کریں تومعلوم ہوتا ہے کہ آج امت مسلمہ بے شمار مقامات پراپنے وجود کے دفاع کے مرحلے سے گزر رہی ہے،خواہ وہ اسلامی ممالک ہوں یا غیر اسلامی ممالک جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ عالم اسلام پر سرسری نگاہ ڈالنے سے ہی افغانستان، کشمیر، عراق، چیچنیا، فسطین اور سوڈان کے حالات اس حقیقت کی عکاسی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دشمنان اسلام ملت اسلامیہ کے ممالک پر حملہ آور ہیں اور اپنے ممالک سے باہر خلیج ، وسطی اور جنوبی ایشیا وغیرہ میں ساری امت کا مال لوٹنے اور ان کو قتل کرنے کے لیےجنگیں لڑ رہے ہیں۔ان مقامات پردفاعی جہاد کے لیے کسی فتوے کی ضرورت نہیں۔تاہم طے شدہ اسلوب یہ ہے کہ پہلے اُس خطے کے لوگوں پر جہاد فرض ہوتاہے،پھر ساتھ والوں پر۔تاہم اس جہاد میں عملی شرکت کے علاوہ جتنے طریقے تعاون کے ہو سکتے ہیں،وہ پوری دنیا کے مسلمانوں پر واجب ہیں۔
امت کا اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے اپنے (مسلم اکثریت کے)ملکوں پراسلام حکمران نہیں اور یہاں اسلام کے مطابق فیصلے کرنے والے مسلمان حکومت نہیں کرتےاسی لیے دنیا بھر میں جہاد کا قیام نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے اپنے ملکوں میں اسلامی نظام نہ ہونے سےہماری زندگی مغربی اقدار اور قوانین کے ماتحت گزر رہی ہے۔ مثلا ہم سب سودی نظام کو نہ چاہتےہوئے بھی اپنا نظام بنائے ہوئے ہیں جو اللہ اور رسول کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ ہم سب کفریہ قوانین کو اپنے اوپر مسلط کرنے میں ممد و معاون بنے ہوئے ہیں اور انہیں اپنانے پر مجبور بنا دیے گئے ہیں۔ اس لیے ان حالات میں جہاد کسی بیرونی حملے کے بغیر ہی فرض(اور فرض بھی فرض عین)ہو جاتا ہے۔اس لیے کہ جہاد کا اصل مقصد اعلائے کلمۃ اللہ ہے۔ دینِ حق کی سر بلندی اور مملکت اسلامیہ کا قیام تو ایسا مقصد ہے جو کسی حال میں ساقط نہیں ہو تا۔اس مقصد کے حصول کے لیےدفاعی جہاد ہی کفایت نہیں کرتا،جارحانہ اور اختیاری جہاد کرنا بھی ضروری ہے اور فرض ہےجس کے لیے شرط صرف یہی ہے کہ ممکنہ وسیلہ یا وسائل روبہ کار لائے جائیں گے۔ظاہر ہے یہ اجتماعیت اور مطلوبہ قوت کے بغیر ممکن نہیں۔مکہ میں تیرہ برس تک"کفو ایدیکم" کہ کرمسلمانوں کو جہاد سے باز رکھا گیا۔مدینے جانے کے بعد بھی مرحلہ وار جہاد فرض ہوا۔پہلے سورئہ حج کی آیت 39 میں"اُذن للذین یقاتلون"کہ کر اور پھر سورئہ بقرہ کی آیت 190 میں"قاتلوا فی سبیل اللہ" کہ کر۔یعنی پہلے بدر و احد و احزاب کی شکل میں جہادِ دفاع آیا اور پھر مکہ اور حنین کی شکل میں جہاد اختیاری۔ حالات وواقعات کے مطابق ہی وسیلے یا وسائل کا تعین ہوتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کےمعاملات کا گہرا شعور رکھنے والےارباب تدبیر اور ارباب اختیار ہی وسیلے یا وسائل کی مطلوبہ مقدار کا فیصلہ کر سکتے ہیں کہ مسلمان کب دفاعی جنگ لڑیں گے اور کب ان پر فرض ہو گا کہ اپنے اختیار سے کفر کو چیلنج اور مبارزت پیش کریں۔ظاہر ہے جارحانہ جہاد کا موقع آئے گا تو اس جہاد میں پوری امت کی شرکت ضروری ہو گی۔مسلمان جب تک یہ اختیاری اور جارحانہ جہاد شروع نہیں کریں گےوہ زیادہ سے زیادہ کفر کے استبداد سے اپنے علاقے آزاد کرنے کے ہی قابل ہوں گے،وہ ان کے جابرانہ عزائم کو کچلنے اور کائنات میں اعلائے کلمۃ اللہ کے قابل نہ ہوں گے۔اسلامی ممالک کا نظام کفر کا ماتحت ہی رہے گا۔ جب تک اللہ کی کائنات پر اللہ کے کلمے کی سر بلندی کا جنون ہمارے سروںمیں نہیں سمائے گا،اس وقت تک ہم کفر کی طاقتوں کے حملوں کا انتظار ہی کرتے رہیں گے، دنیا بھر میں ہم صرف دفاعی جہاد کی پوزیشن میں ہوں گے۔ہماری موجودہ حالت اس کے سوا کیا ہے کہ ایک سو ستر کروڑ میں سے بمشکل دس بیس ہزار لوگ جہاد میں مصروف ہیں اور وہ بھی جہادِ دفاع میں۔
اسی لیے میں نے گزارش کی تھی کہ اب ایسی تحریک اٹھنی چاہیے کہ اسلام اور مسلمانوں کواعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہادِ اختیاری شروع کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ساری امت اپنی ساری افواج کےساتھ اس میں حصہ لے،اگر حکمران اور جرنیل اس کے لیے آمادہ نہ ہوں تو امت کا اجتماعی ضمیر بروئے کار آئے۔۔۔۔شیخ عزام جیسے علماء فتوی دیں ،ساری امت لبیک اللہم لبیک کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہو۔نفیر عام کے فتوے جاری ہوں،عام لام بندی کےاعلانات سامنے آئیں۔اگر ستاون مسلمان ممالک کی پچاس لاکھ مسلمان افواج جہاد نہیں کرتیں تواسی کروڑ نوجوان مسلمانوں کی فوج میدان میں اترےاور مسلح تربیت حاصل کرے ۔۔۔ دفاعی جہاد تو ہم دو سو برس سے کرتے آ رہے ہیں۔ اوردو سو برس کے بعد بھی حال یہ ہے کہ ہم سلالہ کی چوٹی پر اپنی بکھری ہوئی لاشیں چن رہے ہیں۔۔۔ کب تک ہمارا مقدر افغانستان اور سلالہ بنے رہیں گے؟

Last edited by عبدالہادی احمد; 15-01-12 at 07:41 AM.
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 15-01-12, 10:46 AM   #59
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں

قتلِ حسین اصل میں مَرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد


مشرف اور کرزئی کی دیوار گرائے بغیر آپ امریکیوں کا کیا بگاڑ سکتے ہیں ؟؟؟
مشرف اور کرزئی دیوار کہاں ہیں،
وہ تو چور دروازہ ہیں
اگر دیوار بھی ہیں تو ریت کی دیوار ہیں
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (15-01-12)
پرانا 15-01-12, 12:42 PM   #60
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ !میں بھی چند الفاط میں دو باتیں کہنا چاہوں گا::

پہلی یہ کہ ایسا جہاد، جس کی منظر کشی اپ نے اوپر کی ہے اور یہ ہر درد مند کےدل کی آواز بھی ہے، توحید کا مکمل تصور اذھان و قلوب میں راسخ کیے بنا یہ صورت نہیں بن سکتی، بگیر کسی بھی لاگ لپٹ کے توحید کا ہمہ گیر تصور، اور شرک کی ہر جہت سے دوری اور بیزار. . . . پھر ہی اس توحید کے قیام کے لیے لڑنے والے اور وہ انسپائریشن پیدا ہو پائے گی جو اس مقصد کے لیے لڑنے والوں کا مطلوبہ معیا ہوا کرتی ہے !!!

دوسری بات یہ کہ آپ ہی کو دوش نہیں، اچھے اچھے سمجھداروں نے افغانستان اور سلالہ کو انٹر مکس کرنا شروع کیا ہوا ہے. . . . . افغانستان عباد التوحید اور عباد الطواغیت کی جنگ کا مرکز ہے اور سلالہ کے مقتول ایک ہی صف میں لڑنے والے وہ پیادے تھے جو بقول ایک پاکستان کے، امریکیوں سے مسلمانوں کو بچانے کے لیے نہیں، بلکہ مسلمانوں سے امریکیوں کو محفوظ کرنے واسطے "فرض" ادا کر رہے تھے. . . اور اسی دوران فرینڈلی فائرنگ کا نشانہ بنے. . . . لشکر اسلام میں وہ بہرحال نہ تھے !!!
نحن نحکم بالظواہر واللہ یتولی السرائر
اس لیے ہمارے مذہبی سیکٹر کو بھی میرا خیال ہے اس سراب سے نکل انا چاہیے جس میں محض ناموں کی مماثلت سے قومی اور وطنی شعارات اور اداروں کو اسلام اور اہل اسلام سے موسوم کیا جاتا ہے . . . .

والسلام
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (15-01-12), سحر (15-01-12), عبدالہادی احمد (15-01-12)
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
میں خوش ہوں اور زندگی سےلطف اٹھاتا ہوں ۔۔۔ بازو اور ٹانگوں کے بغیر نک وجےچک موجو عمومی بحث 7 02-01-12 08:56 AM
ہم غیروں سے نہیں اپنے ہی میرجعفروں اور میرصادقوں سے مارے جاتے ہیں، جسٹس رمدے گلاب خان خبریں 4 11-06-11 01:45 AM
میدانی علاقوں میں گرمی کا زور، پہاڑی علاقوں ہلکی بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی گلاب خان خبریں 0 10-03-11 06:01 AM
ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال جاویداسد خبریں 1 20-12-10 06:51 PM
:::‌ محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: ابو کاشان خبریں 0 23-12-07 11:01 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:15 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger