| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 13 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (15-01-12), rana ammar mazhar (07-01-12), فیصل ناصر (27-12-11), ھارون اعظم (30-12-11), نبیل خان (08-01-12), محمدمبشرعلی (31-12-11), مرزا عامر (27-12-11), ایکسٹو (30-12-11), حیدر (11-01-12), رضی (31-12-11), سحر (27-12-11), طاھر (29-12-11), عبداللہ آدم (28-12-11) |
|
|
#46 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
کراچی سے خیبر تک بم کون پھاڑ رہا ہے؟ طالبان معصوم بچوں کو خود کش حملہ آور کون بنا رہا ہے ۔ طالبان۔ ساری دنیا کے درد کا بہانہ بنا کر ، پاکستان فوج کے خلاف کون ابھار رہا ہے طالبان؟ جب عراقی پاکستان میںطالبان کے خلاف لڑنے آئیں، جب افغان ، طالبان کو اکھاڑ پھینکیں۔ جب فلسطینی پاکستان کے معصوم بچوںکو بچانے آئیں تب ہم بات کریں گے فلسطین کی عراق کی افغانستان کی۔ ابھی بات کرتے ہیں پاکستانی کی پاک فوج کے خلاف "جہاد فی سبیل اللہ "کی۔ جو طالبان پاکستانی جوانوںکو مسلح کر کے پاک فوج اور وحدت پاکستان کے خلاف کھڑا کر رہے ہیں۔ میں ان پر لعنت بھیجتا ہوں۔ آپ ایسے لوگوںپر لعنت بھیجتے ہیں تو اس مراسلے کا شکریہ ادا کیجئے۔ پھر باقی بات کیجئے۔ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (11-01-12), حیدر Rehan (17-01-12) |
|
|
#47 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
۔۔۔۔اگر میری معلومات ناقص نہیں ۔ ۔ ۔یا میں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں تو۔۔ ۔ پاکستان کے صف اول کے مشہور اخبار میں باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔ اگر میری معلومات درست ہیں تو یہ کوئی ڈھکی چھپی شخصیت نہیں ہیں۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان پر پاکستانی افواج کے خلاف پروپیگنڈہ کا الزام لگایا جا رہا ہے (اگر یہ وہی کالم نویس ہیں)تو خود ان کے اخبار پر ایجنسیوں اور بالخصوص آئی ایس آئی کی پشت پناہی کا الزام لگتا رہتا ہے۔ |
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (11-01-12) |
|
|
#48 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میں نے پاک فوج کو کبھی ناپاک فوج نہیں کہا،کوئی پاکستانی ایسا کر ہی نہیں سکتا۔میرے بارے میں ایسا جھوٹ وہی بول سکتا ہے جسےاس بات کا یقین نہ ہو کہ اس نے مر کر جواب دہی کے لیے اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے۔ میں نے صرف امریکہ اور یہود کو اپنا اور ساری امت کا دشمن کہا ہے۔اگر کوئی امریکہ کو دشمن نہیں سمجھتا،تو اس کی یہ سوچ قابل مواخذہ ہے۔میں سمجھتا ہوں گزشتہ بیس برس میں امریکہ کے ہاتھوں بیس لاکھ مسلمان قتل اور تلف ہو چکے ہیں،جن میں 35ہزار پاکستانی بھی شامل ہیں۔اس لیے ہم کہتے ہیں کہ امریکہ ہمارا بد ترین دشمن ہے۔اس نے لاکھوں مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگے ہیں۔لیکن امریکہ کی اس قتل وغارت گری کے باوجود کچھ لوگ اسے مشرف اور کرزئی کی طرح اسلام اور مسلمانوں کا دشمن نہیں سمجھتے۔۔۔تو ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کے گھٹیا مفادات امریکہ سے وابستہ ہیں اورکچھ وہ ہیں جن کو جھوٹےعالمی پروپیگنڈے نے اسیر بنا رکھا ہے۔اوراگر کوئی شخص کہتا ہےکہ وہ امریکہ سے کوئی مفاد بھی حاصل نہیں کرتااورمنفی پروپیگنڈے کا شکار بھی نہیں،پھر بھی امریکہ کا یا ر ہے،تو ایسا شخص اسلام اور مسلمانوں کا بدترین دشمن ہی ہو سکتا ہے۔ وہ اپنے انجام کے بارے میں خود ہی سوچ لے۔فاروق سرور صاحب کے بارے میں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ چہ دلاور ست دُزدے کہ بکف چراغ دارد Last edited by عبدالہادی احمد; 13-01-12 at 07:49 AM. |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-01-12), skjatala (13-01-12), حیدر (13-01-12), حیدر Rehan (17-01-12), رضی (14-01-12), سحر (13-01-12) |
|
|
#49 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مشرف اور کرزئی کے معاملے میں آپ کا "کربلا" کیوں زندہ نہیں ہو رہا ؟؟؟ کیا آپ کا "کربلا" زندہ نہیں رہا ؟؟؟ اقتباس:
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" |
||
|
|
|
|
|
#50 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میرے لیے یہ اسلوبِ گفتگو ناقابلِ فہم ہے۔ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں،کیا مجھے سمجھانے کی زحمت فرمائیں گے؟ |
|
|
|
|
| عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (14-01-12) |
|
|
#51 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (14-01-12), فیصل ناصر (15-01-12), ہادی (15-01-12), کنعان (17-01-12), حیدر (14-01-12) |
|
|
#52 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس جانب اب اس لیے اشارہ کیا کہ "افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ، زہریلی سو" وغیرہ جیسی باتیں ہو رہی تھیں۔ تب میں نے مناسب سمجھا کہ ناواقف لوگوں کو آگاہ کر دوں۔ کیوں کہ آج کل پاک نیٹ پر "پروپیگنڈا" قسم کے لوگ بہت آتے ہیں جن کے اپنے نظریات ہوتے ہیں اور وہ نہ صرف اپنے نظریات کی ترویج کرتے ہیں بلکہ یہاں سے ریکروٹنگ بھی کرتے ہیں۔ چناچہ آپ کو اُن "زیر زمین" قسم کے لوگوں سے الگ کرنا مقصود تھا۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#53 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#54 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (14-01-12), نبیل خان (15-01-12) |
|
|
#55 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#56 | ||||
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اقتباس:
مزید یہ کہ اگر ایک ہی فرد ہے تو اس پر بھی ظہر کی نماز فرض ہو گی جو مقدار میں نماز جمعہ سے زیادہ ہے، وہ ظہر نہیں پڑھے گا تو گناہگار ہو گا.!!! جب جہاد ایک اجتماعی فریضہ ہے اور جب ملک سیکولر اور نیشنلزم پر چلنے والے ہیں تو ان سے دوسرے اجتماعی فرائض کی طرح اس فریضہ کی توقع رکھنا بھی عبث ہے. . . .امت دوسرے اجتماعی فرائض حکمران اور ملکوں کے انوالومنٹ کے بغیر خود سے انتظام کر کے ادا کر رہی ہے تو اس کے لیے بھی ملکوں یا راجواڑوں اور حکمرانوں کی شرط نہیں ہے !!! اقتباس:
؛؛ کسی فرد کا تنہا جہاد بھی یقینا جہاد شمار نہ ہو گا؛؛ وہ مظلوم لوگ جو فلپائن سے لیکر الجزائر تک ظلم کا شکار ہیں، درندگی اور بہیمیت کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں، اگر حکمران ہی قائم ہوتا اور وہ بھی ایسا جو جہاد کے لیے تیار ہوتا تو خود ان کو کیا ضرورت تھی کہ جہاد کریں ؟؟؟ اللہ کے بندو وہ تو جہاد کر ہی اس لیے رہے ہیں کہ ایک اسلامی حکمرانی اور اسلامی حکمران نہیں ہے اور ہم ان پر حکمران ہی کی شرط کو لاگو کر رہے ہیں !!! گویا جس مقصد کے لیے جہاد ہو رہا ہے ، وہ مقصد پہلے حاصل ہو اور جہاد پھر بعد میں کیا جائے گا . . . . بے تکی سی بات ہے. تاریخ اسلام "خطیب" کی عدم موجودگی میں "جمعہ" ادا کرنے کی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے جن میں حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ کے اسلامی سلطنت کی حدود سے باہر اپنا معسکر بنا کر مشرکین کی مالی ناکہ بندی سے لیکر امام شامل اور عمر المختار اور مہدی السوڈانی اور سید احمد شہید و شاہ اسماعیل شہید سب شامل ہیں. . . .. . کیا خیال ہے ان کو ہم ان لوگوں میں شمار کریں گے جو اکیلے ہی جمعہ پڑھنے والے تھے؟؟ یا ان کا جہاد صحیح معنوں میں جہاد فی سبیل اللہ تھا؟؟ اقتباس:
اقتباس:
ماں باپ کی اجازت فرض عین، یا نفیر عام کی صورت میں موقوف ہوتی ہے اور دفاعی طور پر اللہ کے دین کے دشمن سے مرنا فرض عین ہوتا کوئی مرضی کی چیز نہیں. باقی یہ فتنہ و فساد کی راہیں کھلنا کم از کم میری سمجھ سے بالا تر ہے اور میں شیخ عبداللہ عزام شہید کے ان الفاط پر ہی اکتفا کروں گا کہ اگر ایک خاندان کا ہونہار نوجوان کسی یورپین ملک میں فرار ہو جاے اور کچھ عرصے بعد یہ پتہ چلے کہ وہ وہاں فلانی دگری میں تعلیم حاصل کر رہا ہے تو والدیں کا سار غصہ کافور ہو جاتا ہے اور اس کی قابلیت کے گن گائے جاتے ہیں لیکن اگر وہی نوجوان ہمارے پاس میں محاذ جنگ پر آجائے اور بتا کر ائے کہ میں کہاں جا رہا ہوں تو شیطان کمزور ایمان لوگوں کو اس میں فتنہ و فساد کی راہیں دکھانا شروع کر دیتا ہے اور وہ اسے لینے کو یہآں پہنچ جاتے ہیں !!!
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد : "وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة، أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة" |
||||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#57 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اقتباس:
http://pak.net/کفروشرک/کفار-کے-مدد-گ...-میں-41009/ اور سوچیں کہ کون کون ہے جو اج یہ مکروہ کام کر رہا ہے !!! |
|
|
|
|
| عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (15-01-12) |
|
|
#58 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
عبداللہ آدم صاحب آپ نے اتنے سوال اٹھادیے ہیں کہ ان کاجواب ایک دن اور ایک مجلس میں دینا مشکل ہے۔ یہ کام فرصت کے وقت کے لیے اٹھا رکھتا ہوں،سردست اتنا سن اورسمجھ لیے کہ ہم(میں اور آپ) جہاد فی سبیل اللہ کے جواز اور عدم جواز کے بارے میں فتویٰ نہیں دے سکتے،یہ کام علماء کا ہے۔علماءمیں بھی دو رکعت کے امام نہیں،علماء سے وہ اصحاب علم وفضل مراد ہیں جو قرآن وسنت،فقہ اور ماضی کے نظائر سے استنباط کرنے کے اہل ہیں۔جن کواسلام کے فلسفہ جہاد کی شد بد ہے،صرف ایسے لوگ ہی اس اہم معاملےکے بارے میں فیصلہ دینے کے مجاز ہیں۔(اللہ کی لاکھ رحمتیں ہوں شیخ عبداللہ عزام پر کہ وہ یہ فتوی دینے کے صحیح معنوں میں اہل تھے ) اگر ہم عالم اسلام کے موجودہ حالات میں غور وفکر کریں تومعلوم ہوتا ہے کہ آج امت مسلمہ بے شمار مقامات پراپنے وجود کے دفاع کے مرحلے سے گزر رہی ہے،خواہ وہ اسلامی ممالک ہوں یا غیر اسلامی ممالک جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ عالم اسلام پر سرسری نگاہ ڈالنے سے ہی افغانستان، کشمیر، عراق، چیچنیا، فسطین اور سوڈان کے حالات اس حقیقت کی عکاسی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دشمنان اسلام ملت اسلامیہ کے ممالک پر حملہ آور ہیں اور اپنے ممالک سے باہر خلیج ، وسطی اور جنوبی ایشیا وغیرہ میں ساری امت کا مال لوٹنے اور ان کو قتل کرنے کے لیےجنگیں لڑ رہے ہیں۔ان مقامات پردفاعی جہاد کے لیے کسی فتوے کی ضرورت نہیں۔تاہم طے شدہ اسلوب یہ ہے کہ پہلے اُس خطے کے لوگوں پر جہاد فرض ہوتاہے،پھر ساتھ والوں پر۔تاہم اس جہاد میں عملی شرکت کے علاوہ جتنے طریقے تعاون کے ہو سکتے ہیں،وہ پوری دنیا کے مسلمانوں پر واجب ہیں۔ امت کا اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے اپنے (مسلم اکثریت کے)ملکوں پراسلام حکمران نہیں اور یہاں اسلام کے مطابق فیصلے کرنے والے مسلمان حکومت نہیں کرتےاسی لیے دنیا بھر میں جہاد کا قیام نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے اپنے ملکوں میں اسلامی نظام نہ ہونے سےہماری زندگی مغربی اقدار اور قوانین کے ماتحت گزر رہی ہے۔ مثلا ہم سب سودی نظام کو نہ چاہتےہوئے بھی اپنا نظام بنائے ہوئے ہیں جو اللہ اور رسول کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ ہم سب کفریہ قوانین کو اپنے اوپر مسلط کرنے میں ممد و معاون بنے ہوئے ہیں اور انہیں اپنانے پر مجبور بنا دیے گئے ہیں۔ اس لیے ان حالات میں جہاد کسی بیرونی حملے کے بغیر ہی فرض(اور فرض بھی فرض عین)ہو جاتا ہے۔اس لیے کہ جہاد کا اصل مقصد اعلائے کلمۃ اللہ ہے۔ دینِ حق کی سر بلندی اور مملکت اسلامیہ کا قیام تو ایسا مقصد ہے جو کسی حال میں ساقط نہیں ہو تا۔اس مقصد کے حصول کے لیےدفاعی جہاد ہی کفایت نہیں کرتا،جارحانہ اور اختیاری جہاد کرنا بھی ضروری ہے اور فرض ہےجس کے لیے شرط صرف یہی ہے کہ ممکنہ وسیلہ یا وسائل روبہ کار لائے جائیں گے۔ظاہر ہے یہ اجتماعیت اور مطلوبہ قوت کے بغیر ممکن نہیں۔مکہ میں تیرہ برس تک"کفو ایدیکم" کہ کرمسلمانوں کو جہاد سے باز رکھا گیا۔مدینے جانے کے بعد بھی مرحلہ وار جہاد فرض ہوا۔پہلے سورئہ حج کی آیت 39 میں"اُذن للذین یقاتلون"کہ کر اور پھر سورئہ بقرہ کی آیت 190 میں"قاتلوا فی سبیل اللہ" کہ کر۔یعنی پہلے بدر و احد و احزاب کی شکل میں جہادِ دفاع آیا اور پھر مکہ اور حنین کی شکل میں جہاد اختیاری۔ حالات وواقعات کے مطابق ہی وسیلے یا وسائل کا تعین ہوتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کےمعاملات کا گہرا شعور رکھنے والےارباب تدبیر اور ارباب اختیار ہی وسیلے یا وسائل کی مطلوبہ مقدار کا فیصلہ کر سکتے ہیں کہ مسلمان کب دفاعی جنگ لڑیں گے اور کب ان پر فرض ہو گا کہ اپنے اختیار سے کفر کو چیلنج اور مبارزت پیش کریں۔ظاہر ہے جارحانہ جہاد کا موقع آئے گا تو اس جہاد میں پوری امت کی شرکت ضروری ہو گی۔مسلمان جب تک یہ اختیاری اور جارحانہ جہاد شروع نہیں کریں گےوہ زیادہ سے زیادہ کفر کے استبداد سے اپنے علاقے آزاد کرنے کے ہی قابل ہوں گے،وہ ان کے جابرانہ عزائم کو کچلنے اور کائنات میں اعلائے کلمۃ اللہ کے قابل نہ ہوں گے۔اسلامی ممالک کا نظام کفر کا ماتحت ہی رہے گا۔ جب تک اللہ کی کائنات پر اللہ کے کلمے کی سر بلندی کا جنون ہمارے سروںمیں نہیں سمائے گا،اس وقت تک ہم کفر کی طاقتوں کے حملوں کا انتظار ہی کرتے رہیں گے، دنیا بھر میں ہم صرف دفاعی جہاد کی پوزیشن میں ہوں گے۔ہماری موجودہ حالت اس کے سوا کیا ہے کہ ایک سو ستر کروڑ میں سے بمشکل دس بیس ہزار لوگ جہاد میں مصروف ہیں اور وہ بھی جہادِ دفاع میں۔ اسی لیے میں نے گزارش کی تھی کہ اب ایسی تحریک اٹھنی چاہیے کہ اسلام اور مسلمانوں کواعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہادِ اختیاری شروع کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ساری امت اپنی ساری افواج کےساتھ اس میں حصہ لے،اگر حکمران اور جرنیل اس کے لیے آمادہ نہ ہوں تو امت کا اجتماعی ضمیر بروئے کار آئے۔۔۔۔شیخ عزام جیسے علماء فتوی دیں ،ساری امت لبیک اللہم لبیک کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہو۔نفیر عام کے فتوے جاری ہوں،عام لام بندی کےاعلانات سامنے آئیں۔اگر ستاون مسلمان ممالک کی پچاس لاکھ مسلمان افواج جہاد نہیں کرتیں تواسی کروڑ نوجوان مسلمانوں کی فوج میدان میں اترےاور مسلح تربیت حاصل کرے ۔۔۔ دفاعی جہاد تو ہم دو سو برس سے کرتے آ رہے ہیں۔ اوردو سو برس کے بعد بھی حال یہ ہے کہ ہم سلالہ کی چوٹی پر اپنی بکھری ہوئی لاشیں چن رہے ہیں۔۔۔ کب تک ہمارا مقدر افغانستان اور سلالہ بنے رہیں گے؟ Last edited by عبدالہادی احمد; 15-01-12 at 07:41 AM. |
|
|
|
|
| عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (15-01-12) |
|
|
#59 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (15-01-12) |
|
|
#60 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
جزاک اللہ !میں بھی چند الفاط میں دو باتیں کہنا چاہوں گا::
پہلی یہ کہ ایسا جہاد، جس کی منظر کشی اپ نے اوپر کی ہے اور یہ ہر درد مند کےدل کی آواز بھی ہے، توحید کا مکمل تصور اذھان و قلوب میں راسخ کیے بنا یہ صورت نہیں بن سکتی، بگیر کسی بھی لاگ لپٹ کے توحید کا ہمہ گیر تصور، اور شرک کی ہر جہت سے دوری اور بیزار. . . . پھر ہی اس توحید کے قیام کے لیے لڑنے والے اور وہ انسپائریشن پیدا ہو پائے گی جو اس مقصد کے لیے لڑنے والوں کا مطلوبہ معیا ہوا کرتی ہے !!! دوسری بات یہ کہ آپ ہی کو دوش نہیں، اچھے اچھے سمجھداروں نے افغانستان اور سلالہ کو انٹر مکس کرنا شروع کیا ہوا ہے. . . . . افغانستان عباد التوحید اور عباد الطواغیت کی جنگ کا مرکز ہے اور سلالہ کے مقتول ایک ہی صف میں لڑنے والے وہ پیادے تھے جو بقول ایک پاکستان کے، امریکیوں سے مسلمانوں کو بچانے کے لیے نہیں، بلکہ مسلمانوں سے امریکیوں کو محفوظ کرنے واسطے "فرض" ادا کر رہے تھے. . . اور اسی دوران فرینڈلی فائرنگ کا نشانہ بنے. . . . لشکر اسلام میں وہ بہرحال نہ تھے !!! نحن نحکم بالظواہر واللہ یتولی السرائر اس لیے ہمارے مذہبی سیکٹر کو بھی میرا خیال ہے اس سراب سے نکل انا چاہیے جس میں محض ناموں کی مماثلت سے قومی اور وطنی شعارات اور اداروں کو اسلام اور اہل اسلام سے موسوم کیا جاتا ہے . . . . والسلام |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| میں خوش ہوں اور زندگی سےلطف اٹھاتا ہوں ۔۔۔ بازو اور ٹانگوں کے بغیر نک وجےچک | موجو | عمومی بحث | 7 | 02-01-12 08:56 AM |
| ہم غیروں سے نہیں اپنے ہی میرجعفروں اور میرصادقوں سے مارے جاتے ہیں، جسٹس رمدے | گلاب خان | خبریں | 4 | 11-06-11 01:45 AM |
| میدانی علاقوں میں گرمی کا زور، پہاڑی علاقوں ہلکی بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی | گلاب خان | خبریں | 0 | 10-03-11 06:01 AM |
| ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال | جاویداسد | خبریں | 1 | 20-12-10 06:51 PM |
| ::: محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: | ابو کاشان | خبریں | 0 | 23-12-07 11:01 PM |