واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے ما لوں سے اور اپنی جانوں سے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-12-11, 07:23 AM  
اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے ما لوں سے اور اپنی جانوں سے
عبدالہادی احمد عبدالہادی احمد آف لائن ہے 27-12-11, 07:23 AM

میں نے آج ہی یہ مضمون لکھا ہے اس میں آپ کےدونوں سوالوں کا جواب بھی موجود ہے۔تاہم اس کے نتیجے میں کچھ سوال اور بھی پیدا ہوں گے۔ میں چاہتا ہوں آپ بھی اور دیگر بھائی بہن بھی ان کا جواب ضرور لکھیں:




امت مسلمہ جرمِ ضعیفی میں مبتلا ہے۔ اس سے بڑا جرم اور ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ قوم جو خود کو پیغمبر آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرتی ہے، غیرت اور حمیت سے عاری ہو جائے۔ وہ شخص مسلمان ہو ہی نہیں سکتا کہ جو کفار کی غلامی پر راضی ہو، طاقت ور کی کاسہ لیسی کرے اورخود کو طاقت اور مزاحمت کی صلاحیت سے یکسر محروم کر دے۔ وہ شخص جسے کفر کی طاقت کے آگے سجدہ ریز ہونے میں ذرا باک نہ ہو، مسلمان تو کیا، انسان کہلانے کا مستحق بھی نہیں۔ قوموں کی بزدلی اورکمزوری کا صرف یہی نتیجہ بر آمدنہیں ہوتا کہ ان کو طاقت کے سامنے سجدہ ریز ہوناپڑتا ہے، بلکہ طاقت ور قومیں انہیں اپنے سامنے جھکانے کے بعد اپنے گھٹیا ترین مقاصد کے لیے استعمال بھی کرتی ہیں۔ پاکستان کی افوج کا سپہ سالارجب امریکہ کے آگے جھک گیا، تودس برس تک ساری فوج کوبھی امریکہ اورصلیب کے آگے سر جھکائے رکھنا پڑا۔ اکیلامشرف ہی بش کے آگے سجدہ ر یزنہیں ہو گیا، ساری پاکستانی فوج ہی امریکی مقاصد کے لیے استعمال ہونے لگی۔ ملک اور فوج کے سارے وسائل بھی امریکہ کو خدمات مہیا کرتے رہے۔ وہ فوج جو اللہ کے دین کی محافظ تھی، اللہ تعالیٰ کے آگے سر جھکانے والوں کا خون بہانے اور اسامہؒ بن لادن جیسے اللہ کے مجاہد بندوں کا تعاقب کرنے میں مصروف ہو گئی۔
آخر اس بات کا جواز کیا تھا کہ پاکستان کے ہوائی اڈوں سے صلیبی طیارے اڑکرافغانستان اوراس کے ملحقہ علاقوں میں مسلمانوں پر بم اور میزائل برساتے رہیں۔ اس جنگ میں شرکت سے ہم نے امریکہ اورعالم کفر کو خوش کرنے کی کوشش میں کیااپنے رب کو ناراض نہیں کرلیا؟ اورکیااللہ کے غضب کو للکار کر بھی امن وسکون اور خوش حالی سے رہنا ممکن ہے؟ ان جرائم پر پاکستانی عوام کی مجرمانہ خاموشی اورحکومت اور فوج کی جانب سے ظالموں کی نصرت وحمایت کو برقرار رکھنے کی وجہ سے پاکستان پرعمومی مصیبتیں اور آفات آرہی ہیں۔ جہاد کو دہشت گردی کہنے میں نام نہاد مسلمان حکومتیں اور اسلامی ممالک کے ذرائع ابلاغ ہی پیش پیش نہ رہے، مسلمان دانش وراور نام نہاد علمائے امت بھی امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے لگے۔ خصوصاً جب نائن الیون کے بعدہزاروں مسلمان جہاد میں حصہ لینے کے جرم میں قتل کردیے گئے یاگوانتا نامو بے اور دیگر امریکی جیلوں میں ڈال دیے گئے، اس وقت خوف سے کلیجے منہ کو آنے لگے۔ امریکہ دندناتا ہوا افغانستان اور پھرعراق میں جا گھسا تو مسلمان قوم کی بے بسی دیکھی نہ جاتی تھی، بڑے بڑے شیخ الاسلام اور علم وفضل کے دریااپنی خانقاہوں میں سمٹ گئے، یاخوف سے گھروں میں دبک گئے۔ ہم نے چیچنیا کے شہر گروزنی اورکوسوو میں سروں پر سامان لادے بچوں کی انگلیاں پکڑے آنکھوں میں آنسو لیے پناہ کی تلاش میں مسلمان عورتوں کوبھاگتے دیکھااورچپکے بیٹھے رہے۔ کشمیر میں نوجوانوں کی لاشوں پر سینے پیٹتی مائیں دیکھیں اور ٹس سے مس نہ ہوئے۔ کابل، قندھار، بغداد، فلوجہ، بصرہ، بیروت اور غزہ میں خون کے دریا بہتے یوں دیکھتے رہے جیسے تماش بین فلمیں دیکھتے ہیں۔ ہمارا رویہ ایسا تھا جیسے مرغیوں کے ڈربے سے ذبح کرنے کے لیے چندمرغیاں نکال لی جاتی ہیں تو زندہ بچ جانے والی مرغیاں اطمینان کا سانس لیتی ہیں کہ چلو اپنی جان بچ گئی۔ ہم نے معلومات کے تبادلے کے طور پر اور کبھی دہشت گردی کی جنگ میں شرکت کے نام پراپنے بھائیوں اور بہنوں کو پکڑ پکڑ کر امریکی قاتلوں کے سپرد کیا۔ ملک کے تمام وسائل امریکہ کے حوالے کیے رکھے اور اس کی خوش نودی کے لیے اپنے لوگوں کا قتل عام تک کر گزرے۔ پاکستان اس وقت جس بدامنی، غربت ومہنگائی، قتل وغارت، چوری، ڈاکے، لوٹ مار، کرپشن، گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ، ڈرون حملوں، صلیبی قبضے، امریکی غلامی، بھارتی ثقافت اور ہندوکلچرکے غلبے کا سامنا کر رہا ہے کیا ہم نہیں سمجھتے کہ یہ ہماری ہی بد اعمالیوں کا شاخسانہ ہے؟ برس ہا برس سے ہم ظالم وجابر حکمرانوں کے تسلط، بے کردار لیڈروں کی سیاسی وفکری غلامی، ڈینگی وائرس، زلزلوں، طوفانی بارشوں، سیلابوں اورخشک سالی سمیت مختلف مصائب کے گرداب میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں، کیا ہمیں کبھی خیال آتا ہے کہ یہ اللہ کے غیظ وغضب کو للکارنے کا نتیجہ ہو سکتاہے!
پاکستانی عوام اللہ تعالیٰ کے مختلف عذابوں کو دیکھ کر صرف آنکھیں موندلینے پر اکتفا کیے ہوئے ہیں۔ اگروہ ان جرائم کا ذمے دارصرف حکمرانوں کو سمجھ ر ہے ہیں اورخود کوبے گناہ خیال کرتے ہیں۔ اگر وہ نہیں سمجھتے کہ ظلم کرنا بھی ظلم ہے اور ظلم ہوتے دیکھ کر خاموشی اختیار کرنا بھی ظلم ہے۔ یا اگران کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ ویسے ہی ان سے راضی ہوکر انہیں معاف کردے گاتوان کی یہ سوچ سراسر غلط ہے۔ اللہ تعالی کا ایک قانون اور نظام ہے جس میں کبھی ردوبدل نہیں ہوسکتا۔ اللہ کی سنت کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ اہل پاکستان کا پہلا جرم توپاکستان کے مقصدِ قیام سے انحراف ہے۔ ہم نے اللہ سے وعدہ کیا تھاکہ اس خطے میں اللہ کے دین کوسربلند اورشریعتِ مطہرہ کونافذ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ضروری تھا کہ ہم بحیثیت امت مضبوط تر ہوتے، فروعی اختلافات ختم کرتے اور حق کے قیام اور جہاد کے اجرا ءکی ہرتدبیر کرتے۔ مسلمان کی حیثیت سے ہم میں سے ہر ایک پر فرض تھا کہ یہ ملک جو اللہ کے دین کے نفاذ کے لیے حاصل کیا گیا تھااس میں اللہ کے دین کو عملاً نافذکرنے کے لیے اپنی جان لڑا دے۔ اگراسلام کے دشمن بزور طاقت اسلام کے نفاذکو روکتے، تواس مقصد عظیم کے لیے ہم جہاد کرتے، ان کے خلاف قوت استعمال کرتے۔ بدر و احد اوراحزاب وحنین میں اللہ کے رسول ﷺنے تنفیذِ دین میں رکاوٹ بننے والوں کے خلاف جہاد کر کے اس کا عملی نمونہ پیش فرمایاہے۔
دراصل پاکستان تو ہم نے بنا لیا، مگر حقیقی پاکستان بنانے کے لیے ضروری تھاکہ اسے قرآن کی تجربہ گاہ بنایا جاتا۔ وہ لوگ جو اس ملک کے اختیار و اقتدار پر فائز ہوئے ان کا قرآن سے کوئی تعلق نہ تھا۔ حضرت قائداعظمؒ نے قرآن کو پاکستان کی منزل قرار دیا تھا۔مسلمانانِ پشاور کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےآپ نے فرمایاتھا:
"اسلامی حکومت کا یہ امتیاز پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ اس میں اطاعت اور فرامین کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذا ت ہے جس کے لیے تعمیل کا مرکز قرآنِ مجیدکے احکام اور اصول ہیں قرآنِ کریم کے احکام ہی سیاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدود متعین کرتے ہیں۔’اسلامی حکومت‘ دوسرے الفاظ میں قرآنی اصول اور احکام کی حکمرانی ہے۔ " تاہم قائد کے جانشینوں نے قرآن کو پسِ پشت ڈال دیا۔ ہماری موجودہ حالت دراصل قرآن سے دوری کا شاخسانہ ہے۔ قرآن سے دوری کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ہم اسلام کی اصل قوت یعنی جذبہ جہاداور شوق شہادت سے نا آشنا ہو گئے۔ مغرب ومشرق میں ہمارے سب دشمن ہماری اسی طاقت سے خوف زدہ ہیں، ورنہ عسکری اعتبار سے تو ان کو اسلام اور مسلمانوں پر واضح برتری حاصل ہے۔ اپنے اس غلبے کو قائم رکھنے کے لیے انہوں نے دس برس پہلے مسلمانوں کے خلاف جو جنگ چھیڑی اس میں اس بات کا پورا اہتمام کیا کہ مسلمانوں کا جذبہ جہاد بیدار نہ ہونے پائے۔ اس کام پر وہ آج بھی کھربوں ڈالر کا سرمایہ خرچ کرتے ہیں جوہتھیاروں، افواج اور دیگر سامانِ جنگ کے علاوہ عالم گیر سطح پرپروپیگنڈے پر صرف ہوتا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں اربوں ڈالر تقسیم ہوتے ہیں تا کہ اسلامی جہاد کو دہشت گردی ثابت کیا جا سکے۔ اس سرمائے کا ایک بڑا حصہ مسلمانوں کے درمیان ایسے افراد کی’ خدمت‘ پر صرف ہوتا ہے جو جہاداور جذبہ جہادکے خلاف مغربی دلائل کو اسلامی رنگ میں پیش کر تے ہیں۔ یہ لوگ جہاد کے معجزانہ اثرات کی نفی کے لیے’منطق‘ پر مبنی مواد ا کٹھا کر کے مسلما نوں کو یہ با ور کروا تے ہیں کہ مغرب اورامریکہ کی ہر بات کو من و عن تسلیم کر ناہی حکمت کا تقاضاہے، اسی میں ہما ری بھلا ئی ہے اورامریکہ سے لڑنا دیوار سے سر ٹکرانے کے مترادف ہے۔ اہل مغرب کے بینکوں سے نکلنے والی رقوم سے پاکستان میں ان گنت این جی اوز، چینلز اور اخبارات وجراید چلتے ہیں۔ مغرب کی تجوریوں سے ڈالر اور پائونڈ وصول کر نے والے دانش فروش سکالرزاور علمائے سوکی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کوبھی اس مد میں بھاری وسائل بطور امداد حاصل ہیں، نوجوان نسل کومتاثر کرنے والی یونیورسٹیوں اور دانش گاہوں کوبھی ان کے تصرف میں دے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چینل کو دیکھیں وہاں پر مخلوط نوجوان نسل کے ساتھ مذاکرے کے پرگرام میں اسلام کی نئی تشریح کے ساتھ روشن خیالی کا پیغام دیا جا رہا ہو گا۔ کہیں جاوید غامدی، ڈاکٹر خالد ظہیر اور خورشید ندیم جہادکی مغرب کے لیے قابلِ قبول تشریح پیش کرتے نظر آتے ہیں تو کہیں پیپلز پارٹی اور اے این پی کے سیاسی قائدین جہاد کے خلاف وعظ و ارشاد فرماتے دکھائی دیتے ہیں۔ حسن نثار، نذیرناجی اورہودبھائی جیسے مفکرین تو جذبہ جہاد کو انتہا پسندی اور مسلمانوں کے زوال و تباہی کااصل سبب ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاکستان کی بزدل قیادت نے جہا د کا نام تک لینا چھوڑ دیاہے۔ کشمیری مجاہدین اور ان کی جد وجہد سے منہ موڑ لیاگیا ہے۔ بڑی بے شرمی سے جہاد کو دہشت گردی اور مجاہدین کو دہشت گرد کہا جاتا ہے۔ اسلام واہل اسلام سے دشمنی اور امریکہ وعالم کفرکی غلامی کی راہ اس لیے اختیار کی گئی، تاکہ ان پرکہیں جہاد کی حمایت کا الزام نہ لگ جائے، امریکہ کہیں ان کا تورہ بورا ہی نہ بنا ڈالے۔ تورا بورہ بننے سے تو وہ بچ گئے مگراس کے بدلے پاکستان کوبے پناہ قدرتی آفات ومصائب کا سامنا کر نا پڑا جواللہ کی سرکشی اختیارکرنے کا لازمی نتیجہ ہوتاہے۔ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں امریکا، اقوام متحدہ اوریورپی یونین کے اسلام دشمن قوانین جاری ہو گئے اور پاکستان پر یہودونصاریٰ کی بالادستی قبول کرلی گئی۔ حکومت کے ارکان و اعیان خاموشی سے مسلمانوں کو ملیامیٹ ہوتا دیکھ کرخوش ہوتے اور ڈالروں کے منتظر رہتے ہیں۔ بلکہ ان میں ایسے بھی ہیں جوجہاد کو پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ امریکی نقطہ نظر کی ترجمانی کرنے والے پاکستانی نژاد مفکرین میں حسین حقانی پیش پیش ہیں۔ ا مریکہ میں مو جود ا سلا می گروہ جیسے" اسلا مک سو سا ئٹی آف نا رتھ امریکہ "کو نسل آن امیریکن اسلا مک ریلیشنز اور مسلم ا سٹوڈنٹ ایسو سی ایشن حسین حقانی کی مسلم دشمن تنظیم کے خاص نشانے پر ہے۔ حسین حقانی نے "جیوش انسٹی ٹیوٹ آف سیکو ر ٹی "کے پلیٹ فارم پر تقریر کر تے ہو ئے پا کستان اور پا کستا نیوں کا خوب مذاق اڑا یا اورپاک ا مریکہ تعلقات میں باعث اضطراب پہلوئوں کی نشان دہی کر تے ہو ئے کہا کہ" پاکستان اور سعودی عرب ا مریکہ کے سب سے بڑے مشکل دو ا تحادی ہیں"۔ پا کستان اور ا مریکہ کے تعلقات کو مشکل بنانے والے با عث اضطراب اور خطرناک پہلوئوں کی نشان دہی کرتے ہوئے حقانی نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیا روں کے پھیلا ئوکے رحجان اورپا کستان کے اسلا می عسکری تحریک کے مر کز کے طور پرکر دار کی دہائی دی ہے۔ پا کستان کو اسلا می عسکری تحریک کا مرکزقرا ر د یتے ہو ئے حسین حقانی نے کہا" پا کستان مستقبل میں ا مریکہ اور مغربی دنیا کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ رہے گا۔" مولانا سید ابو ا علیٰ مو دودیؒ کی ”الجہاد فی الاسلام“ حسین حقانی کے نزدیک"عا لمی جہا دی کوششوں کے لیے ایک ا بلنے والی پلیٹ"ہے۔ پاک فوج کے خلاف ز ہر ا فشا نی کر تے ہو ئے کہتے ہیں: "پا کستان کی فوج ا سٹریٹجک و جو ہ کی بنا پر وقتاًفوقتاً اسلامی عسکریت پسندوں کے ساتھ اتحاد کر تی ر ہتی ہے اور مسجد اور فوج کے درمیان یہ اتحاد ہی تھا جس نے طالبان کو جنم دیا۔" حسین حقانی کشمیر کے مسئلے کو عسکری قیادت کی چال کہتے ہیں: "جس کے ذریعے وہ پا کستان پر حکمرا نی کر نا چا ہتی ہے۔"
افسوس اہلِ پاکستان نے حق کی قدر کرنے کا حق ادا نہیں کیا۔ پاکستانیوں نے قرآن کی پکار کا کماحقہ جواب نہیں دیا۔ جہاد جو ہماری اصل قوت اور دنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ اوردفاع کا سامان ہے، ہم نے اس سے منہ موڑ لیا۔ جہاد تر ک کرنے کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ہم نے ساری دنیا میں پرچم الٰہی کو لہرانے کے لیے اپنی صلاحیتیں استعمال نہ کیں، اسی لیے ہماری وحدت تتر بتر ہوہو گئی اور ہمارے دشمن بھوکے کتوں کی طرح ہمارے اوپر جھپٹ پڑے۔ آج وہ ہمیں بھنبھوڑ رہے ہیں، نوچ رہے ہیں اور ہم نہ صرف ان سے بچتے پھر رہے ہیں بلکہ ان کی خوشی کے لیے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی گردنیں کاٹ کر ان کے قدموں میں ڈال رہے ہیں۔ پورے عالم اسلام کا یہی حال ہے۔ ہم سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں، ایک سو ستر کروڑ کی تعداد میں ہوتے بھی تنہا ہیں۔۔۔ ستاون ممالک ہوتے ہوئے بھی ہمیں اکیلا ہونے کی شکایت ہے۔ہمارا مرض لا علاج ہے، ہمارے دکھ کا کوئی مداوا ہو بھی نہیں سکتاجب تک ہم قرآن کی طرف رجوع نہیں کریں گے۔ اگر مومن کا نور مبین کھو جائے اور وہ ظلمات میں ٹھوکریں کھا رہا ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ کھوئے ہوئے نور کو ڈھونڈے اور اس سے اپنے ماحول کو روشن کرے اور پھر اس نور کو چار دانگ عالم میں پھیلا دے۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ تمام عالم کو روشن کرنے کی صلاحیت صرف ہمارے پاس ہے۔ وہ نور ہم نے چھپا کر کیوں رکھا ہوا ہے جو اس لق ودق اندھیرے میں ہمیں بھی منور کر سکتا ہے اور کل عالم میں بھی روشنی پھیلا سکتا ہے۔
مومن کو نوید دی گئی ہے کہ اس کو وہ سب ملے گا جس کے لیے وہ کوشش اور جدوجہد کرے گا۔ اگر پسینہ بہائے گاتو اس کا اجر پائے گا اورحق کی شہادت دیتے ہوئے اپنا گرم خون نچھاور کرے گا، تواس کے اجرِعظیم سے بھی محروم نہیں رہے گا۔ مسلمانوں کے امراضِ قلب وروح کا علاج صرف اور صرف جہاد میں مضمر ہے۔ جہادہی ہماری داخلی وخارجی سلامتی کا ضامن ہے۔ جہادہی ہمارااصل ایٹم بم ہے اورموثرترین deterrent ہے، یقین نہیں آتا تو افغانستان میں مٹھی بھر طالبان کو جہاد لڑتے دیکھ لیں۔ امریکہ وہاں جہاد کی طاقت سے عاجز آ چکا ہے۔ اس سے پہلے جہاد سوویت یونین کے پر خچے اڑاچکا ہے۔ جہاد ہے تو یہ امت ہے جہاد نہیں تو نہ امت ہے نہ اس کا وقاراور شرف ہے، نہ اس کے لیے امن و سلامتی کی کوئی ضمانت ہی ممکن ہے۔"جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے(سورئہ عنکبوت 69)۔"سورئہ صف میں عذابِ الیم سے نجات دلانے کے لیے ایک تجارت کی نشان دہی کی گئی ہے:
" اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بتائوں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذاب الیم سے بچا دے؟ ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول پر، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے ما لوں سے اور اپنی جانوں سے یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمھیں عطا فرمائے گا۔ یہ ہے بڑی کامیابی اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو وہ بھی تمہیں دے گا، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہو جانے والی فتح۔ اے نبی، اہل ایمان کو اس کی بشارت دے دو۔" (الصف:13-10 )

عبدالہادی احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1003
Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (15-01-12), rana ammar mazhar (07-01-12), فیصل ناصر (27-12-11), ھارون اعظم (30-12-11), نبیل خان (08-01-12), محمدمبشرعلی (31-12-11), مرزا عامر (27-12-11), ایکسٹو (30-12-11), حیدر (11-01-12), رضی (31-12-11), سحر (27-12-11), طاھر (29-12-11), عبداللہ آدم (28-12-11)
پرانا 15-01-12, 06:20 PM   #61
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ریت کی دیوار کے پار چور دروازہ سے داخل ہونے والوں سے جہاد کا کیا حکم ہے ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبدالہادی احمد مراسلہ دیکھیں
مشرف اور کرزئی دیوار کہاں ہیں،
وہ تو چور دروازہ ہیں
اگر دیوار بھی ہیں تو ریت کی دیوار ہیں

ریت کی دیوار کے پار چور دروازہ سے داخل ہونے والوں سے جہاد کا کیا حکم ہے ؟؟؟

43 - انبیاء علیہم السلام کا بیان : (585)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل کا بیان۔

حدثنا محمد بن بشار حدثنا غندر حدثنا شعبة عن الحکم سمعت أبا وائل قال لما بعث علي عمارا والحسن إلی الکوفة ليستنفرهم خطب عمار فقال إني لأعلم أنها زوجته في الدنيا والآخرة ولکن الله ابتلاکم لتتبعوه أو إياها

صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 977 حدیث مرفوع مکررات 6
محمد بن بشار غندر شعبہ حکم حضرت ابووائل سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت علی نے عمار اور حسن کو کوفہ روانہ کیا تاکہ وہاں کے لوگوں کو جہاد کے لئے آمادہ کریں تو عمار نے خطبہ پڑھ کر بیان کیا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ یقینا حضرت عائشہ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا و آخرت میں بیوی ہیں لیکن خدا نے تمہاری آزمائش کی ہے کہ تم علی کا اتباع کرتے ہو یا عائشہ کی پیروی۔

Narrated Abu Wail:
When 'Ali sent 'Ammar and Al-Hasan to (the people of) Kufa to urge them to fight, 'Ammar addressed them saying, "I know that she (i.e. 'Aisha) is the wife of the Prophet in this world and in the Hereafter (world to come), but Allah has put you to test, whether you will follow Him (i.e. Allah) or her."
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (17-01-12)
پرانا 15-01-12, 07:26 PM   #62
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
جزاک اللہ !میں بھی چند الفاط میں دو باتیں کہنا چاہوں گا::

پہلی یہ کہ ایسا جہاد، جس کی منظر کشی اپ نے اوپر کی ہے اور یہ ہر درد مند کےدل کی آواز بھی ہے، توحید کا مکمل تصور اذھان و قلوب میں راسخ کیے بنا یہ صورت نہیں بن سکتی، بگیر کسی بھی لاگ لپٹ کے توحید کا ہمہ گیر تصور، اور شرک کی ہر جہت سے دوری اور بیزار. . . . پھر ہی اس توحید کے قیام کے لیے لڑنے والے اور وہ انسپائریشن پیدا ہو پائے گی جو اس مقصد کے لیے لڑنے والوں کا مطلوبہ معیا ہوا کرتی ہے !!!

دوسری بات یہ کہ آپ ہی کو دوش نہیں، اچھے اچھے سمجھداروں نے افغانستان اور سلالہ کو انٹر مکس کرنا شروع کیا ہوا ہے. . . . . افغانستان عباد التوحید اور عباد الطواغیت کی جنگ کا مرکز ہے اور سلالہ کے مقتول ایک ہی صف میں لڑنے والے وہ پیادے تھے جو بقول ایک پاکستان کے، امریکیوں سے مسلمانوں کو بچانے کے لیے نہیں، بلکہ مسلمانوں سے امریکیوں کو محفوظ کرنے واسطے "فرض" ادا کر رہے تھے. . . اور اسی دوران فرینڈلی فائرنگ کا نشانہ بنے. . . . لشکر اسلام میں وہ بہرحال نہ تھے !!!
نحن نحکم بالظواہر واللہ یتولی السرائر
اس لیے ہمارے مذہبی سیکٹر کو بھی میرا خیال ہے اس سراب سے نکل انا چاہیے جس میں محض ناموں کی مماثلت سے قومی اور وطنی شعارات اور اداروں کو اسلام اور اہل اسلام سے موسوم کیا جاتا ہے . . . .

والسلام
میں بھی وہی بات کہتا ہوں جو آپ کہ رہے ہیں،سچی بات یہ ہے کہ ہمارا( میرا ،آپ کا ،سحر بی بی کا اور پاک نیٹ کے ننانوے فی صد بھائی بہنوں کا)درد بھی ایک ہے اور غم بھی مشترک ہے۔میں آپ کی تشخیص سے بھی متفق ہوں،مگر میرا اور آپ (عبداللہ آدم)کا فرق ڈاکٹر اور تیمار دار کا ہے۔آپ جن لوگوں کے لاعلاج ہونے کے بارے میں فیصلہ صادر فرما چکے ہیں،میں تیماردار کے رشتے سے ان کے روبہ صحت ہونے کی امید رکھتا ہوں اور ابھی تک یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیےشیطان کے بندے بن چکے ہیں۔
میرے خیال میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسلامی دنیابالعموم اور پاکستان بالخصوص قیادت کے بحران میں مبتلا ہے۔قیادت کا یہ بحران دور ہو جائے(اور ضرور دور ہو گا،ان شاء اللہ)تویہی مایوسی امید اور یقین میں بدل جائے گی۔اگر آج یہ صدر، وزیر اعظم ،چندبزدل لیڈراور چندسو یا زیادہ سے زیادہ چند ہزار امریکی غلام راستے سے ہٹ جائیں اور ایک سچی مجاہد قیادت بروئے کار آ جائے تو آج ہی معجزہ رونما ہو سکتا ہے۔میں سمجھتا ہوں اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کی قوم گم کردہ راہ ضرور ہے، لیکن اس کا مقدر ہمیشہ کے لیےبگڑنہیں گیا۔۔۔معجزہ کسی بھی وقت رونما ہوسکتا ہے۔بس اس قوم میں یہ شعور جگانے کی ضرورت ہے کہ یہ بھیڑ بکریوں کا بے بس ریوڑ نہیں ،شیروں کا ایسا غول ہےجو اپنی خصلت بھول گیا ہے۔اس پر خون آشام بھیڑیے مسلط ہو گئے ہیں جنہوں نے ان کی سدھ بدھ بھلا رکھی ہے۔ کیا ہمارامسئلہ یہ نہیں کہ ہماری عظیم الشان مجاہد قوم کو یہ یقین دلا یا جا رہا ہے کہ تم امریکہ کے غلام بننے کے لیے دنیا میں آئے ہو،تم بھول جائو کہ تم دنیا کی طاقت ور قوموں کا مقابلہ کر سکتے ہو۔۔۔تم بھول جائو کہ تمہارے اندر مری ہوئی غیرت دوبارہ زندہ ہو سکتی ہے۔۔۔۔تم کبھی یہ خیال بھی دل میں نہ لاناکہ تم جہاد کرسکتے ہو۔تم شیر نہیں ہو،مسکین بھیڑیں ہو،تمہارا مقدر یہ ہے کہ دنیا بھرکے سفاک بھیڑیے تمہاری شہ رگ کا لہو پیتے رہیں۔
میں نہیں سمجھتا کہ یہ مٹھی بھر لوگ جو اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں اورپاکستان کی پانچ لاکھ بہادر فوج کویہ باور کرا رہے ہیں کہ غلامی تمہارا مقدر ہے،ان کو اس بات کی مزید اجازت ملنی چاہیے کہ وہ ان شاہیں بچوں کو خاک بازی کاسبق پڑھاتے رہیں۔قوم جاگ اٹھے تو ان شیطانوں کا زوال اب زیادہ دورنہیں۔میرے بھائی ایک لمحے میں صورت حال تبدیل ہو سکتی ہے۔ جس دن اس قوم کو اپنا بھولا ہوا راستہ مل گیا اوریہ بھیڑیوں اور گیدڑوں کے نرغے سے نکل آئی،پاکستان صحیح معنوں میں اپنی حقیقی منزل کے راستے پر گامزن ہو جائے گا۔ پھرآپ دیکھیں گےکلمہ لا الہ الا اللہ پر بننے والا یہ ملک کیسے ساری دنیا کے لیے ایک نمونہ اور ماڈل بن جاتا ہے۔۔۔۔ان شاء اللہ۔
(عبداللہ آدم صاحب آپ اپنا لکھا ہوا دوبارہ پڑھ لیا کریں۔ بعض اوقات پروف کی غلطی سے عبارت کچھ کی کچھ ہو جاتی ہے)
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (15-01-12), ہادی (18-01-12), عبداللہ آدم (15-01-12)
پرانا 15-01-12, 11:03 PM   #63
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آہ ہ ہ ہ ہ ہ کیا کریں جی ہم بھی، دس سال تو صرف یہی ہو گئے ہیں اس نان سٹاپ غیر مشروط غلامی کو. . . .

اوپر سے اس سے بڑی ذمہ داری اہل علم کی ہے کہ انہوں نے صحیح معنوں میں حق بات پہنچائی نہیں، بس لیپا پوتیاں جاری رکھیں اور اج بھی یہی کچھ جاری ہے.

رہ گئی یہ عظیم المرتبت اور جلیل اقدر قوم تو جناب جیسی قوم ویسے اس پر حکمران، اور حکمران تو یہ قوم خود اپنے پر لا کر بٹھاتی ہے. . .
معذرت کے ساتھ میں اس قوم کی عظیم الشانی اور مجاھد ہونے پر بالکل بھی یقین نہیں رکھتا،
یہ قوم مجاھد ہوتی تو اس کے بیچوں بیچ دس سال نیٹو سپلائی بلا روک ٹوک جاری نہ رہتی.
یہ قوم معظیم الشان ہوتی تو ...............
چھوریں رہنے ہی دیں ساروں نے مجھ پر پل پڑنا ہے اب. . . .

بس دعا کریں کہ یہ قوم اپنے حقیقی مسائل
حقیقی مقصد وجود اور
حقیقی دوستی و دشمنی کی غایت کو پا لے تو اس کے گھر میں کسی کے لیے بھی کوئی تھوڑ نہیں ہے. ورنہ حآلات تیزی سے ہمیں ادھر تو لے جا ہی رہے ہیں جہاں داستاں تک بھی داستانوں مین نہیں رہ جاتی !!!

والسلام
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), سحر (16-01-12)
پرانا 16-01-12, 10:59 AM   #64
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عبداللہ آدم کی گفتگو سے جو مایوسی مترشح ہے اس کا جواب سیدھا سادہ ہے کہ اگر ہماری قوم بالکل ہی ختم ہے تو
1: یا تو ان کو حق کی تبلیغ کرتے کرتے مر جاؤ۔
2:اگر اس سے بہتر اپشن کوئی نظر آتا ہے تو اُدھر ہجرت کر جاؤ۔
3:یا صرف یہ کہتے کہتے مر جاؤ کہ یہ قوم گندی ہے، یہ قوم گندی ہے۔

چونکہ دوسرا آپشن دستیاب نہیں ہے (گھر، مال اولاد، ماں، باپ، زبان کی محبت کی وجہ سے .ورنہ جو لوگ افغانستان کو پاکستان سے بہتر تسلیم کرتے ہیں اور پاکستان کو مُردہ سمجھتے ہیں ان کو تو ضرور بالضرور اُدھر ہجرت کر جانی چاہیے۔اور اس میں مانع ہے ہی کیا؟)

اس لیے بات رہ جاتی ہے صرف پہلے اور تیسرے آپشن پر۔

پہلے آپشن میں مجبوری ہوتی ہے "تبلیغ بذریعہ حکمت" کی۔ اگر ہم کسی کو کہیں کہ تم تو ہو ہی مُردار، بے غیرت، جاہل، وغیرہ۔ تو ایسی تبلیغ کا انجام سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ اس کا انجام اظہر من الشمس ہوتا ہے۔
دین میں حکمت کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن افسوس ہم کبھی کبھی حکمت چھوڑ کر محض دین پکڑ لیتے ہیں۔ نتیجہ محض نفرتوں، عداوتوں اور خونریزیوں پر منتج ہوتا ہے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), ہادی (18-01-12), نبیل خان (17-01-12), حیدر Rehan (17-01-12)
پرانا 16-01-12, 11:17 AM   #65
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

صرف ایک آپشن باقی ہے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), حیدر Rehan (17-01-12)
پرانا 17-01-12, 02:23 PM   #66
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
عبداللہ آدم کی گفتگو سے جو مایوسی مترشح ہے اس کا جواب سیدھا سادہ ہے کہ اگر ہماری قوم بالکل ہی ختم ہے تو
1: یا تو ان کو حق کی تبلیغ کرتے کرتے مر جاؤ۔
2:اگر اس سے بہتر اپشن کوئی نظر آتا ہے تو اُدھر ہجرت کر جاؤ۔
3:یا صرف یہ کہتے کہتے مر جاؤ کہ یہ قوم گندی ہے، یہ قوم گندی ہے۔

چونکہ دوسرا آپشن دستیاب نہیں ہے (گھر، مال اولاد، ماں، باپ، زبان کی محبت کی وجہ سے .ورنہ جو لوگ افغانستان کو پاکستان سے بہتر تسلیم کرتے ہیں اور پاکستان کو مُردہ سمجھتے ہیں ان کو تو ضرور بالضرور اُدھر ہجرت کر جانی چاہیے۔اور اس میں مانع ہے ہی کیا؟)

اس لیے بات رہ جاتی ہے صرف پہلے اور تیسرے آپشن پر۔

پہلے آپشن میں مجبوری ہوتی ہے "تبلیغ بذریعہ حکمت" کی۔ اگر ہم کسی کو کہیں کہ تم تو ہو ہی مُردار، بے غیرت، جاہل، وغیرہ۔ تو ایسی تبلیغ کا انجام سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ اس کا انجام اظہر من الشمس ہوتا ہے۔
دین میں حکمت کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن افسوس ہم کبھی کبھی حکمت چھوڑ کر محض دین پکڑ لیتے ہیں۔ نتیجہ محض نفرتوں، عداوتوں اور خونریزیوں پر منتج ہوتا ہے۔

حیدر صاحب
حکمت چھوڑنے سے دین بھی چھوٹ جاتا ہے،اس لیے کہ حکمت دین ہے اور دین حکمت ہے۔
قرآن میں حکمت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے چار اجزائے ترکیبی میں سے ایک اہم جزو قرار دیا گیا ہے۔سورئہ بقرہ میں اسی بات کو دعائے خلیلّ کی صورت میں یوں بیان کیا گیا:رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُزَكِّيْهِمْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ( اور اے رب ، ان لوگوں میں خود ان ہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو ، جو انھیں تیری آیات سنائے ، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے، تُو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔ البقرۃ:129 )
یہی بات تین مزید آیات( سورئہ بقرہ آیت نمبر151،سورئہ آل عمران آیت نمبر164 اور سورئہ جمعہ آیت نمبر 2 میں ان ہی الفاظ میں کہی گئی ہے۔)
حکمت کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خیر کثیر سے تعبیر فرمایا ہے:
یؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَآءُ وَ مَنْ يُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِيَ خَيْرًا كَثِيْرًا و مَا يَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ ("جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے، اور جس کو حکمت ملی ، اُسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی۔اِن باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں ،جو دانش مند ہیں"۔سورئہ بقرہ:269)
اے اللہ تُو ہمیں حکمت عطا فرما ! آمین
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (17-01-12), حیدر Rehan (17-01-12)
پرانا 17-01-12, 03:22 PM   #67
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اوکے،

پھر بتائیں کہ حکمت سے بات آج کر کون رہا ہے؟؟ مداہنت سے کس کا لہجہ لتھڑا ہوا نہیں ہے؟؟

کون ہے جو قولوا قولا سدیدا پر عمل پیرا ہے؟؟

جنہیں اس نظام کے درست ہونے کی ہی خوش فہمی ہے ان کو تو رہنے دیں فی الحال کتنے ہیں جو اس نظام کو غلط مانتے ہیں ، اورپھر اس سے ہم آغوشی کے مجرم نہیں ہیں؟؟

معاف کیجئے گا صاحبان جو آپ لوگوں کو مایوسی لگ رہی ہے وہ صرف حقائق کا ایک پرتو تھا، حقائق اس سے کہیں تلخ ہیں.

پھر حکمت دعوت کا اسلوب تشکیل دیتی ہے خود حقائق ہی سے نظریں چرانا حکمت نہیں ہے، ایک کافر کو تبلیغ کرتے ہوئے منہ پر کافر کہنا یقینا حکمت سے عاری ہونے کی نشانی ہے لیکن اس کو کافر سمجھا ہی نہ جائے تو انسان کو اپنی فکر کرنے کی شاید زیادہ ضرورت ہے. . . . !!!

اس قوم ہی نہیں اس امت کا المیہ ہے کہ ہم مرض کی تشخیص ہی میں حکمتوں اور مصلحتوں کے نام پر مداھنتوں اور آنکھیں بند کرنے والی پالیسیاں اپنا لیتے ہیں، نتیجتا جب ہم مرض کے علاج سے فارغ ہونے کو ہوتے ہیں تو وہی مرض کسی اور شکل میں کہیں اور ظاپر ہو جاتا ہے.......

اپ دیکھ لیں، توحید ہی کے مسئلے کو کہیں فرقہ وارانہ نام دے کر اور کہیں مملکت اور ملکوں کے چکر میں کس قدر ڈائیلیوٹ کر دیا گیا ہے کہ ٹھیٹھ توحید کی بات یا تو انتہا پسندی لگتی ہے یا پھر فرقہ واریت. ...

حکمت دعوت کیا ہے؟؟""صورتحال اور افراد کی رعایت رکھتے ہوئے درست ٹون میں پیغام حق کچھ بھی چھپائے بغیر پہنچا دینا ""


حکمتِ دعوت، دعوت ہی کو چھپا دینے کا نام نہیں ہے.........جو کہ بدقسمتی سے آج ہو رہا ہے !!!
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (17-01-12), نبیل خان (17-01-12), حیدر (17-01-12), حیدر Rehan (17-01-12), سحر (17-01-12)
پرانا 17-01-12, 04:21 PM   #68
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ایک کافر کو تبلیغ کرتے ہوئے منہ پر کافر کہنا یقینا حکمت سے عاری ہونے کی نشانی ہے لیکن اس کو کافر سمجھا ہی نہ جائے تو انسان کو اپنی فکر کرنے کی شاید زیادہ ضرورت ہے. . . . !!!
یہی تو وہ غلط فہمی ہے جو آپ ہمارے بارے میں پالے ہوئے ہیں۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (17-01-12), ہادی (18-01-12), نبیل خان (17-01-12), حیدر Rehan (17-01-12)
پرانا 17-01-12, 06:14 PM   #69
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یار گل کھل کے کریا کرو تے پہیلیاں نا بجھوایا کرو تے پوائینٹ نا ماریا کرو سنجیدہ ڈسکشن دے اندر.

سمجھے او؟؟
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (17-01-12), نبیل خان (17-01-12), حیدر (18-01-12)
پرانا 17-01-12, 10:00 PM   #70
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,612
شکریہ: 8,509
1,592 مراسلہ میں 3,520 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جناب غصہ بھی حکمت کے تابع ہو تو اچھا ہے ۔
نبیل خان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 18-01-12, 02:26 PM   #71
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
اوکے،

پھر بتائیں کہ حکمت سے بات آج کر کون رہا ہے؟؟ مداہنت سے کس کا لہجہ لتھڑا ہوا نہیں ہے؟؟

کون ہے جو قولوا قولا سدیدا پر عمل پیرا ہے؟؟

جنہیں اس نظام کے درست ہونے کی ہی خوش فہمی ہے ان کو تو رہنے دیں فی الحال کتنے ہیں جو اس نظام کو غلط مانتے ہیں ، اورپھر اس سے ہم آغوشی کے مجرم نہیں ہیں؟؟

معاف کیجئے گا صاحبان جو آپ لوگوں کو مایوسی لگ رہی ہے وہ صرف حقائق کا ایک پرتو تھا، حقائق اس سے کہیں تلخ ہیں.

پھر حکمت دعوت کا اسلوب تشکیل دیتی ہے خود حقائق ہی سے نظریں چرانا حکمت نہیں ہے، ایک کافر کو تبلیغ کرتے ہوئے منہ پر کافر کہنا یقینا حکمت سے عاری ہونے کی نشانی ہے لیکن اس کو کافر سمجھا ہی نہ جائے تو انسان کو اپنی فکر کرنے کی شاید زیادہ ضرورت ہے. . . . !!!

اس قوم ہی نہیں اس امت کا المیہ ہے کہ ہم مرض کی تشخیص ہی میں حکمتوں اور مصلحتوں کے نام پر مداھنتوں اور آنکھیں بند کرنے والی پالیسیاں اپنا لیتے ہیں، نتیجتا جب ہم مرض کے علاج سے فارغ ہونے کو ہوتے ہیں تو وہی مرض کسی اور شکل میں کہیں اور ظاپر ہو جاتا ہے.......

اپ دیکھ لیں، توحید ہی کے مسئلے کو کہیں فرقہ وارانہ نام دے کر اور کہیں مملکت اور ملکوں کے چکر میں کس قدر ڈائیلیوٹ کر دیا گیا ہے کہ ٹھیٹھ توحید کی بات یا تو انتہا پسندی لگتی ہے یا پھر فرقہ واریت. ...

حکمت دعوت کیا ہے؟؟""صورتحال اور افراد کی رعایت رکھتے ہوئے درست ٹون میں پیغام حق کچھ بھی چھپائے بغیر پہنچا دینا ""


حکمتِ دعوت، دعوت ہی کو چھپا دینے کا نام نہیں ہے.........جو کہ بدقسمتی سے آج ہو رہا ہے !!!


عبداللہ آدم بھائی! یہ بحث اب بے مقصد ہوگئی ہے اس لیے اب بس!
حکمت مداہنت نہیں ہوتی جناب!
میں تو آپ کو اس حکمت کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جسے میں نےآیات قرآنی کے حوالوں سے پیش کیا اور جو قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تفویض کردہ مشن کا ایک ناقابلِ تقسیم جزو ہے اور جسے اہل ایمان کے لیے"خیر کثیر" کہا گیا ہے۔یہ بڑی جسارت ہے کہ ہمیں حکمت کو مداہنت قرار دینے میں بھی تامل نہ ہو۔
عبداللہ آدم صاحب! عین ممکن ہے میری ہی سوچ غلط ہو۔۔۔ اس لیے بہتر ہے میں اس بحث سے ہی دست بردار ہو جائوں ۔
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 18-01-12, 02:38 PM   #72
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
یار گل کھل کے کریا کرو تے پہیلیاں نا بجھوایا کرو تے پوائینٹ نا ماریا کرو سنجیدہ ڈسکشن دے اندر.

سمجھے او؟؟
میں تو سمجھ گیا ہوں۔ بد قسمتی سے آپ میری کھلی باتوں کو پوائینٹ مارنا سمجھ رہے ہو۔
میں نے آپ کا ہی ایک جملہ کوٹ کیا تھا جو آپ نے اپنے زاویہ نظر سے منفرد افراد کے بارے میں کہا تھا ۔یعنی کافر کو مسلمان تو نہ سمجھو۔ تو میں نے کہا تھا کہ بھائی آپ غلط فہمی کا شکار ہو۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم بھی افواج پاکستان کو مجاہدین اسلام نہیں سمجھتے اور نہ ہی قرآنی آیات سے انکو مجاہدین اسلام ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔لیکن ہم ان کو کفار بھی نہیں سمجھتے۔ بس اختلاف کرنے کے طریقہ کار کا فرق ہے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 18-01-12, 03:57 PM   #73
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جناب عبد الھادی بھائی !

مابدولت نے صرف حمکت اور مداہنت میں فرق بتایا تھا، کہیں بھی حکمت کو مداھنت نہیں کہا تھا.

اور ساتھ میں اتنا پوچھنے کی گستاخی کی تھی کہ کون ہے جو آج صحیح حکمت کو بروئے کار لا رہا ہے، کسی زندہ جماعت ہستی رفد اجتماعیت کا نام لے دیں. .. .

والسلام
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
میں خوش ہوں اور زندگی سےلطف اٹھاتا ہوں ۔۔۔ بازو اور ٹانگوں کے بغیر نک وجےچک موجو عمومی بحث 7 02-01-12 08:56 AM
ہم غیروں سے نہیں اپنے ہی میرجعفروں اور میرصادقوں سے مارے جاتے ہیں، جسٹس رمدے گلاب خان خبریں 4 11-06-11 01:45 AM
میدانی علاقوں میں گرمی کا زور، پہاڑی علاقوں ہلکی بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی گلاب خان خبریں 0 10-03-11 06:01 AM
ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال جاویداسد خبریں 1 20-12-10 06:51 PM
:::‌ محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: ابو کاشان خبریں 0 23-12-07 11:01 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:15 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger