واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


معاملہ ایک قتل کا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-12-11, 12:19 PM  
معاملہ ایک قتل کا
حیدر حیدر آف لائن ہے 16-12-11, 12:19 PM

فورم پر اس وقت یزید کے جنتی یا جہنمی ہونے کی بابت بحث چل رہی ہے۔
اس وقت اس تھریڈ کا براہ راست موضوع ماضی کے کسی شخص کو ڈسکس کرنا نہیں ہے بلکہ چند اہم نقاط کی تشریح حاصل کرنا ہے۔ کیونکہ ماضی کی شخصیات کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ "وہ ایک ایسی امت تھی جو گزر گئی اس کے لیے وہ تھا جس کا اس نے کسب کیا اور تمہارے لیے وہ ہے جو تم کماؤ گے"

لیکن میرے ذہن میں جو نقاط ہیں میں ان کی تشریح ضرور چاہتا ہوں۔

1: اگر ہم قرآنی احکام و احآدیث کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی بے گناہ انسان کو قتل کرنے کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔ حتیٰ کہ اس کو جہنم کا ہمیشہ کے لیے مستحق قرار دے دیا جاتا ہے۔اس پر اللہ کی ہمیشگی لعنت مسلط کر دی جاتی ہے (اگر وہ دنیا میں ہی اپنے جرم کی سزا نہیں بھگت لیتا)
2: اگر ہم قوانین اور عدالتی فیصلوں کامطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قتل کا ارتکاب کرنے والا اور قتل کا حکم دینے والا یا قتل میں مدد دینے والا سبھی کو ایک ہی کیٹیگری میں رکھا جاتا ہے۔

لیکن حیرانگی ہوتی ہے جب ہم چند اشخاص کو اس کیٹیگری سے خآرج کر دیتے ہیں۔ مثلاً یزید کا ہی معاملہ لے لیں ۔ بے شک اس نے قتل نہیں کیا۔ لیکن قتل کے اہم عوامل میں اس کا کردار موجود ضرور ہے۔ کہاں تو اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتے کے مر جانے کے خؤف سے عمر جیسا عظیم الشان خلیفہ تھر تھر کانپا کرتا تھا اور کہاں 70 سے زائد معصوم مسلمانوں اور خانہ رسول کے افراد کے قتل عام اور اس پر بھی حکمران کی ڈھٹائی۔


یہ بات اپنی جگہ تسلیم کہ ماضی اس قدر پیچیدگیوں میں اُلجھا ہوا ہے کہ سچ تک پہنچنا مشکل ہے اور سکوت اختیار کرنا ہی سب سے بہتر عمل ہے کیونکہ (وہ ایک ایسی امت تھی جو گزر گئی۔۔۔۔۔قرآن)۔
لیکن سکوت سے مراد یہ ہونی چاہیے کہ اگر ہم انکی برائیوں کی کھوج میں نہ رہیں تو ڈھونڈ ڈھانڈ کر انکی فضلیت بیان کرنے کی کوشش بھی نہ کریں۔
مثلاً یزید کے بارے میں یہ کہا جانا کہ اس پر وہ بشارت نبوی صادق آتی ہے کہ جو لشکر قسطنطنیہ پر حملہ کرے گا وہ مغٍفور ہے۔
یہی وہ بات آتی ہے جس پر میں کہا کرتا ہوں کہ "سکوت کے حامیان کی باتوں میں تضاد ہے"۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ سکوت اختیار کرو دوسری طرف وہ یزید کی فضیلتیں اور فضلیت بھی ایسی کہ جس سے اس کا مغفرت شدہ ہونا اور جنتی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ارے بابا جب کسی کے بارے میں اس قدر واضح بات ہو کہ وہ جنتی ہے تو پھر کاہے کا سکوت۔ کھل کر کہو کہ وہ جنتی ہے خواہ اس نے نواسہ رسول تو کیا پورے خاندان رسول کو قتل کر ڈالا ہو۔ خواہ اس نے پوری انسانیت کا قتل کر ڈالا ہو۔

میرا سوال پھر وہی ہے کہ
1: کیا کسی بے گناہ انسان اور خاص کر مظلوم مسلمان کو قتل کرنے والا یا قتل کا حکم دینے والا کسی طور بھی جنتی ہو سکتا ہے (اگر اس نے اپنے جرم کا کفارہ ادا نہ کیا ہو)؟
2: اگر قرآن کی سورۃ النسا کی آیت کو ہی لیں تو اس میں ہمیشگی جہنم کی وعید ہے۔ اس بارے میں کیا تاویل ہے؟
3: احادیث کی بات میں اس لیے نہیں کروں گا کہ اس میں روایات والی پخ خود احادیث کے حامی نکال لاتے ہیں۔ قتل ایسا معاملہ ہے جس کے بارے میں خود قران بار بار بولتا ہے۔ اس لیے مجھے یہ بتائیں جس نے قتل کیا ہو، جس نے قتل کا حکم دیا ہو، جس نے قتل میں مدد دی ہو اس کے بارے میں قرآن کہہ رہا ہے کہ وہ ہمیشگی جہنم میں ہے۔ اس کے برعکس کوئی بھی مسلمان ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا۔

 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1684
Reply With Quote
26 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-12-11), فیصل ناصر (16-12-11), ہادی (16-12-11), کنعان (16-12-11), ھارون اعظم (16-12-11), نورالدین (21-12-11), ننھا بچہ (16-12-11), نبیل خان (19-12-11), مون (16-12-11), موجو (16-12-11), ملک اظہر (16-12-11), ملک زوالفقار (04-01-12), مجرم (04-01-12), محمد یاسرعلی (17-12-11), مرزا عامر (16-12-11), wajee (16-12-11), احمد نذیر (16-12-11), تبتیلا انجم (21-12-11), حیدر Rehan (17-12-11), حسن قادری (21-12-11), رضی (08-01-12), شھزادباجوہ (21-12-11), شمشاد احمد (21-12-11), شعبان نظامی (06-01-12), طارق راحیل (18-12-11), عبداللہ حیدر (16-12-11)
پرانا 05-01-12, 12:29 AM   #91
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 259
کمائي: 5,659
شکریہ: 447
126 مراسلہ میں 516 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب بطخہ

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
كربلا ميں‌حضرت حسين رضي اللہ تعالي عنہ كي شہادت كا نہ ہونے‌كا موقف يا تو رانا صاحب كا ہے۔۔۔‌جبكہ ميں يہ تسليم كر رہا ہوں‌كہ ان كي شہادت كربلا ميں ہي ہوئي تھي ۔۔اسي ليے تو ميرا سوال يہ ہے‌كہ آخر يزيد نے ايسا كون سا قصور كيا تھا جس كي وجہ سے حضرت حسين رضي اللہ تعالي عنہ كو ميدان ميں آنا پڑا۔۔۔‌اور حضرت علي نہ آئے۔۔۔

جي ريحان صاحب
کافی انتظار کے بعد جب ریحان صاحب جواب نہیں دے رہے تو معذرت کے ساتھ ایک اقتباس ملاحظہ ہو

اسلام کے عملی احکام کا صرف ایک حکم جسے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بیان کیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں کیا تھا ۔ اور یہ اسلامی نظام کے ارکان کا ایک اہم رکن ہے ۔ اور وہ حکم اور رکن یہ تھا کہ جب بھی یہ اسلامی نظام اور اسلامی معاشرہ کی گاڑی پٹری سے نیچے آجائے اور اس کانظام بالکل الٹ جائے تو اس وقت امت مسلمہ کی ذمہ داری کیا ہے ؟ اگر بانی اسلام تمام اسلامی احکام و قوانین بیان کرتے لیکن صرف یہ ایک حکم بیان نہ کرتے تو ان کا کام ناقص رہ جاتا لیکن انہوں نے یہ بھی بیان کر دیا تھا۔وہ مسلمانوں سےکہہ کر گئے تھے اگر کسی وقت بھی اسلامی معاشرہ اسلام کے دائرے سے باہر نکل جائے اور صاحبان قدرت و ثروت ، مسلم نما منافقین یا کوئی بھی اسلامی سماج کا رخ بدلنا چاہے تو اس کے مقابلے میں امت مسلمہ کو کیا کرنا ہوگا ؟ پیغمبر اکرم ( ص ) یہ کہہ کر گئے تھے لیکن خود عمل نہیں کر سکے کیونکہ پیغمبر اکرم ( ص ) جب تک با حیات تھے تب تک امت مسلمہ اور اسلامی معاشرے میں ایسا کوئی انحراف پیدا نہیں ہوا تھا ۔ اسلام کا یہ رکن پیغمبر اکرم ( ص ) نے اس لئے بیان کیا تھا کیونکہ ان کے بعد ان کے جانشینوں کے زمانے میں ایسا ہونا عین ممکن تھا چاہے وہ کسی بھی جانشین کے زمانے میں ہوتا ۔ جس امام کے زمانے میں بھی یہ صورتحال پیدا ہوتی اسے وہی کرنا ہوتا جو پیغمبر نے بتایا تھا ۔ اگر امیر المومنین علی علیہ السلام کے زمانے میں ہوتا تو وہ ویسا ہی کرتے جیسا پیغمبر ( ص ) نے بتایا تھا یا اگر امام علی نقی علیہ السلام یا امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانے میں ہوتا تب بھی ان کی یہی ذمہ داری تھی ۔ اب چونکہ یہ صورتحال امام حسین علیہ السلام کے زمانے میں پیش آئی لہٰذا ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس پر عمل کرتے ۔ تاکہ اسلامی نظام اور اسلامی سماج کو دوبارہ اسی حالت پر لے آتے جہاں پر وہ پہلے تھا ۔ یہ امام عالی مقام کی ذمہ داری تھی اور واقعہ عاشورا کی واقعیت اور حقیقت یہی ہے
اقتباس

اشکوں کا راز (فلسفہ عزاداری) آیت اللہ خامنہ ای کی نگاہ میں

کیوں حیدر ریحان صاحب اس پر کوئی اعتراض آپکو تو ہو گا ہی نہیں۔ثابت ہوا کہ
حضرت مولٰی علی رضی اللہ عنہ پر یہ رکن واجب نہیں ہوا کیونکہ آپ سے پہلے خلفاء ثلاثہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے غلام تھے اگر وہ غاصب منافق یا فاسق و فاجر ہوتے تو حضرت مولٰی علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوے اس رکن کو کیوں ترک فرماتے۔
البتہ ایک طرف یزید کا ذاتی فسق و فجور، بے حیائی، تعیش پسندی اور آوارگی۔۔۔ جو اسے مسلمانوں پر حکومت کرنے کے لئے بالکل نااہل ثابت کرنے کو کافی ہے۔۔۔ بلکہ حکومت پر مسلط ہوجانے کے بعد اسے معزول کرنے کی جدوجہد کا شرعی جواز ہے۔۔۔ اور دوسری طرف۔۔۔ ظلم و ناانصافی، فتنہ و فساد اور انتشار و بد امنی کو اس کے حکمران بنتے ہی جس قدر فروغ ملا۔۔۔ وہ یزید کی نااہلی اور بدکرداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۔۔

حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حکومت کے قائم ہونے، باقی رہنے اور ترقی کرنے کو از اول تا آخر عدل و انصاف پر موقوف ٹھہراتے ہوئے یہ تاریخ ساز فقرہ کہا ہے :

الملک يبقی مع الکفر ولا يبقی مع الظلم.

’’یعنی کفر پر مبنی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم و ناانصافی کے ساتھ حکومت ہرگز باقی نہیں رہ سکتی‘‘۔

کیا اس سب کو اطمینان سے برداشت کر لینا خانوادہ نبوت کے لئے ممکن تھا۔۔۔ کیا آغوش مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پروان چڑھنے والے حسین رضی اللہ عنہ ۔۔۔ جنہوں نے اپنی آنکھوں سے صدیقی، فاروقی، عثمانی اور علوی و حسنی ادوار میں اسلام کی پاکیزگی، تقدس، حرکت اور فعالیت کا مشاہدہ کیا تھا۔۔۔ جن کے رگ و ریشہ میں ایمان کی حرارت موجزن تھی۔۔۔ جن کا وجود ’’آیت مباہلہ‘‘ کے مصداق قیامت تک دین اسلام کی صداقت و حقانیت کی شہادت ہے۔۔۔ اس بنیادی اور ہمہ گیر تبدیلی کو خاموشی سے قبول کر سکتے تھے۔۔۔ کیا اپنے نانا جان کے دین کو اس طرح ناپاک یزیدی ہاتھوں سے مٹتا ہوا دیکھ سکتے تھے۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔
یہ معاملات تھے جس كي وجہ سے حضرت حسين رضي اللہ تعالي عنہ كو ميدان ميں آنا پڑا۔۔۔‌اور حضرت علي رضی اللہ عنہ کے وقت خلفا ثلاثہ میں ایسا کچھ تھا ہی نہیں جسکی وجہ سے وہ میدان میں نہ آئے۔۔۔
آپکا بہت شکریہ
__________________
یکے آنکہ در خویش خود بیں مباش
دوم آنکہ در غیر بد بیں مباش

Last edited by ملک اظہر; 05-01-12 at 12:33 AM.
ملک اظہر آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (05-01-12), ملک زوالفقار (06-01-12), آفتاب اعوان (06-01-12), بلال الراعی (05-01-12), حیدر (05-01-12), حیدر Rehan (05-01-12), شمشاد احمد (06-01-12), شعبان نظامی (06-01-12)
پرانا 05-01-12, 11:19 AM   #92
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام ان پر جو ’علم‘ کے طلبگار ہیں

اگر کوئی یہ رائے رکھتا ہے کہ میرے پاس جواب نہی ہے تو یہ انکی اپنی رائے ہے۔
میں اپنے جواب کو قدرے مستحکم کررہا ہوں اور اس پر بعد میں ہونے والے تمام سوالات پر غور کررہا ہوں۔

اور عرب و فارس اور پاکستان و ہندوستان کے جوابات پڑھونگا تو یہ بھی کہہ سکونگا کہ
یہ ’میرا جواب‘ ہے اور یہ بھی کہ

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے دیا جلا کے سرِ عام رکھ دیا
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (05-01-12), حیدر (05-01-12), شمشاد احمد (06-01-12), شعبان نظامی (06-01-12)
پرانا 05-01-12, 12:17 PM   #93
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ملک اظہر مراسلہ دیکھیں
واقعہ عاشورا کی واقعیت اور حقیقت یہی ہے
اقتباس

اشکوں کا راز (فلسفہ عزاداری) آیت اللہ خامنہ ای کی نگاہ میں

ملک اظہر بھائی ۔ ۔ ۔اپکا دیا ہوا لنک بہت ہی مفید ہے ۔۔شکریہ


اشکوں کا راز (فلسفہ عزاداری) آیت اللہ خامنہ ای کی نگاہ میں



۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (05-01-12), حیدر (05-01-12), شعبان نظامی (06-01-12)
پرانا 06-01-12, 01:54 PM   #94
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,187
شکریہ: 439
140 مراسلہ میں 371 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکاری صاحب
سلام علیک!

محترم! آپ کا رویہ دوہرا۔ جب میں نے ایک تھریڈ میں یزید کو لعن طعن کیا تو آپ جھٹ سے مختلف ائمہ کی روایات لے کر وارد ہوئے اور بڑی شد و مد کے ساتھ اس بات پر زور دیتے رہے کہ یزید کے بارے میں خاموشی ہی سب سے بہتر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اب یہاں پر تو بہت سے لوگ یزید کے چاہنے والے آ گئے ہیں مگر ان کے بارے آپ بالکل خاموش ہیں؟؟؟؟؟؟

اب یہاں پر چونکہ یزید ہی موضوع بحث ہے اس لیے میں ضرور چاہوں گا کہ اس شخص کا اصل چہرہ لوگوں کے سامنے لایا جائے۔ یزید کو ملعون کرنے کے حوالے سے بعض اہل سنت کا خاموشی کا موقف ہے لیکن یزید کی تعریف فضائل بیان کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔ھذا پرابلم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیدر بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے والے تھریڈ میں باغی صاحب نے یزید کے حوالے سے ایک تحریر پیش کی تھی میرا خیال ہے اس کی یہاں شدت سے ضرورت ہے اس لیے میں یہاں بھی وہ پیسٹ کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔

سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور یزید پلید
حضرت ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازھری رحمة اللہ علیہ ورضوانہ کا یادگار مقالہ
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور یزیدپلید
شخصی کردار
سب سے پہلے ہم زیاد بن سمیہ کی رائے پیش کرتے ہیں جو یزید اور اس کے خاندان کا دل و جان سے وفادار تھا۔ جس نے اور جس کے بیٹوں نے یزید کے لیے صرف تن من دھن ہی نہیں بلکہ اپنی شہرت اور اپنا دین و ایمان بھی اس پر نثار کر دیا۔ ایسے وفادار اور جان نثار شخص کی رائے پر دشمنی، جانب داری، تعصب وغیرہ کا الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے یزید کے بارے میں جوکچھ کہا ہو گا۔ حزم و احتیاط کے تقاضوں کو مدّنظر رکھتے ہوئے کہا ہو گا۔ موٴرخ شہیر ابن جریر طبری اپنی تاریخ میں یہ واقعہ نقل کرتے ہیں۔ اس کے مطالعہ سے یزید کے بارے میں زیاد کی جو رائے ہے وہ آپ کو معلوم ہو جائے گی۔
لما اراد معاویہ ان یبایع لیزید کتب الی زیاد یستشیرہ․․․․․․․․․․․․ ․․․․ شاور زیاد عبد بن کعب النمیوی واخبرہ ان امیر المومنین کتب الی یزعم انہ قدعزم علی بیعة یزید وھو یتخوف نفرة الناس ویرجوا مطابقتھم وعلاقة امر الاسلام وضمانہ عظیم۔ وزید صاحب رسلة وتھاون مع قد اولع بہ من الصید فالق امیر المومنین موٴدیا عنی فاخبرہ عن فعلات یزید وقل لہ رویدک بالامر ولا تعجل فان درکافی تاخیر خیر من تعجیل عاقبتہ الفوت
(تاریخ طبری 169۔ ج:6)
ترجمہ: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے (آئندہ خانہ جنگی کے خوف سے) جب یہ ارادہ کیا کہ لوگ یزید کی بیعت کر لیں تو آپ نے زیاد کی طرف لکھا کہ اس بارے میں اس کی کیا رائے ہے۔ زیاد نے اپنے ہمراز عبید بن کعب سے مشورہ کیا اوراسے بتایا کہ امیر الموٴمنین نے اس کی طرف لکھا ہے کہ وہ یزید کے لیے خلافت کی بیعت لینے کا عزم کر چکے ہیں، ساتھ ہی انھیں یہ خوف بھی ہے کہلوگ اس اقدام کو مبادا نفرت کی نگاہ سے دیکھیں، ان کی آرزو ہے کہ لوگ اس کی بیعت پر متفق ہو جائیں، زیاد نے عبید سے کہا: یہ بڑا اہم اسئلہ ہے اس کا تعلق اسلام سے ہے یہ بات اس کی ضمانت بڑی عظیم ذمہ داری ہے۔ یزید لا ابالی مزاج کا مالک ہے غفلت اور تہاون اس کاشعار ہے اس کے علاوہ شکار کا بڑا دلدادہ ہے۔ تم جاوٴ، امیر المومنین سے ملاقات کرو اوور میری طرف سے انہیں یہ پیغام دو اور یزید کی کارستانیوں سے بھی انھیں خبر کردار کرواورعرض کرو کہ آپ اس معاملہ میں صبر سے کام لیں اور جلد بازی نہ کریں، کیونکہ اگر گوہر مقصود تاخیر سے حاصل ہو جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انسان جلد بازی سے کام لے اور مقصد کو ضائع کر بیٹھے۔
علامہ ابنِ اثیر نے اپنی تاریخ ”الکامل“ میں بعینہ انہی الفاظ سے یہ واقعہ نقل کیا ہے۔ گویا زیاد جیسے وفادار کے نزدیک بھی یزید کا کردار نا پسندیدہ اور داغدار ہے لیکن بعد میں یہ طے پایا کہ حضرت امیر معاویہ کو یزید کے صحیح حالات سے آگاہ نہ کیا جائے بلکہ خود یزید کوسمجھایا جائے کہ وہ غلط کاریوں سے باز آئے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ کو یزید کے اطوار کا پوری طرح علم نہ تھا اور ان کے گورنر اور اعیانِ مملکت میں یہ جرأت مفقود تھی کہ وہ اس کے حالات سے آپ کو پوری طرح مطلع کریں۔
اور سنیئے!
”امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیز کی مجلس میں ایک روز یزید کا ذکر چھڑ گیا ۔ حاضرین میں سے کسی نے کہا: قال امیر المومنین یزید۔ یعنی امیر المومنین یزید نے یہ کہا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز غصہ سے بولے: تم یزید (جیسے نابکار) کوامیر المومنین کہہ رہے ہو۔ پھر آپ نے حکم دیا کہ امیر المومنین کہنے والے کوبیس درے لگائے“۔ (تہذیب التہدیب 361جلد 11)
سب جانتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کے خاندان بنی امیہ کے ایک فرد تھے، لیکن یزید کے بارے میں آپ یہ سننا تک گوارا نہ کر سکے کہ اسے کوئی شخص امیر المومنین کے معزز لقب سے یاد کرے۔ بلکہ آپ نے ایسا کہنے والے پر ناراضگی کا اظہارہی نہیں کیا بلکہ اسے بیس کوڑوں کی سزا دی، تاکہ آئندہ کوئی شخص اسے امیرالمومنین کہنے کی جرأت نہ کر سکے۔ کیا تیرہ سو سال بعد آنے والے یہ محققین یزید کے کردار و سیرت کو حضرت عمر بن عبدالعزیز سے بہتر جانتے ہیں۔ جب آپ اس کو اس منصب کا اہل نہیں سمجھتے تو پھر ہمیں یا کسی اور کو کیا حق پہنچتا ہے کہ ایسے شخص کو امیر المومنین اور خلیفہ راشد کے القاب سے ملقب کر کے ان عزت و حرمت والے القاب کی تذلیل کرے۔
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی شہادت سے پہلے کربلا کے تپتے ہوئے میدان میں اپنے نوجوان بچوں، بھائیوں اور عزیزوں کے بکھرے ہوئے لاشوں کے درمیان کھڑے ہو کر جو آخری خطبہ ارشاد فرمایا اس سے بھی اس مصنوعی خلیفہ راشد کی سیرت و کردار پر روشنی پڑتی ہے۔
آپ نے فرمایا:
یایھا الناس ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم قال من رایٴ سلطانا جائراً مستحلا لحرم اللہ۔ ناکثا لعھد اللہ مخالفا لسنة رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یعمل فی عباد اللہ بالاثم والعدوان فلم یغیر علیہ بفعل ولا بقول کان حقا علی اللہ تعالی ان یدخلہ مدخلہ الا وان ھولاء قد لزموا طاعة الشیطان وترکوا طاعة الرحمن واظھر والفساد وعطلوا الحدود و استاتروا بالفیٴ واحلوا حرام اللہ وحرموا حلالہ وانا احق من غیر ۔ (تاریخ طبری۔ 229جلد6۔ تاریخ کامل 48ج 4)
ترجمہ: اے لوگو! اللہ تعالیٰ کے رسول علیہ الصلوٰة والسلام نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایسے ظالم سلطان کو دیکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے حرام کو حلال کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑنے والا ہے، رسول اللہ کی سنت کی مخالفت کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ گناہ اورزینادتی کا برتاوٴ کرتا ہے پھر وہ دیکھنے والا اپنے عمل یا قول سے اس کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتا، تو وہ قیامت کے دن اس شخص کو بھی جہنم کے اس طبقہ میں داخل کیا جائے گا۔ جہاں وہ ظالم سلطان داخل ہو گا۔ اے لوگو! کان کھول کر سن لو۔ انھوں نے یزید اور اس کے حواریوں نے) شیطان کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کر لیا ہے۔ رحمن کی اطاعت کو چھوڑ دیا ہے، فساد برپا کر دیا ہے۔ حدود ِاسلام کو معطل کر دیا ہے۔ فیٴ کا مال خود ہڑپ کر جاتے ہیں۔ اللہ تعالی کے حلال کو حرام اوراس کے حرام کر حلال کر دیا ہے مجھ پہ یہ لازم ہے کہ میں ایسے ظالم سلطان کے خلاف علم بغاوت بلند کروں“۔
اس خطبہ میں یزید کے خلاف علم جہاد بلند کرنے کی وجہ آپ نے بڑی تفصیل سے بیان فرمادی۔ امام حسین جیسی ہستی کی زبان پر کبھی جھوٹ نہیں آ سکتا۔ خصوصاً زندگی کے آخری لمحوں میں جب آپ اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہونے والے ہیں۔ ذرا غور فرمائیے ! اور اس منظر کا تصور کیجئے کہ شیعان کوفہ صد ہا خطوط اور قاصد بھیج کر بڑی منت سماجت سے حضرت کو اپنے ہاں بلاتے ہیں، لیکن جب ابنِ زیاد کا کوڑا ان کی پیٹھ پر برسنے کے لیے ہوا میں لہراتا ہے، تو اپنی بیعت کوتوڑ دیتے ہیں، نہ صرف آپ کی امداد کرنے سے دست کش ہوتے ہیں بلکہ آپ کے مدّ مقابل خم ٹھونک کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ جس اپنے شیعہ کی طوطا چشمی کا یہ ہولناک منظر آ پنے دیکھا ہو گا تو آپ کے قلب مبارک پر کیا گزری ہو گی۔ آپ کو صاف نظر آ رہا تھا کہ اب جام شہادت پئے بغیر کوئی چارہ کار نہیں۔ اس دنیا کو چھوڑنخے سے پہلے اور خداوندِ ذوالجلال کی بارگاہ میں پیش ہونے سے پہلے یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ آپ نے یزید اور اس کے امراء حکومت پر جھوٹا بہتان لگایا ہو گا۔ کسی نازک سے نازک مقام پر حق و صداقت کا دامن چھوڑ دینا شان حسین سے بہت ہی بعید ہے بلکہ آپ نے اس وقت اپنے جہاد کی جو وجوہات بیان کی ہیں وہ حق و صداقت کی ترجمانی ہے۔ خود ہی انصاف فرمائیے کہ جس شخص کے بارے میں امامِ عالی مقام کی یہ رائے ہو اس کو خلیفہ راشد اورامیر المومنین کہنے کی جرأت وہی لوگ کر سکتے ہیں۔ جو امام کے مقامِ رفیع سے بے خبر ہیں۔
ایک اور شہادت سماعت فرمائیے: یہ شاہد حضرت عبد اللہ ہیں ان کے والد ماجد کا نام حنظلہ ہے جو شہیدِ احد اور غسیلِ ملائکہ ہے۔ ایسے نام ورباپ کا بیٹا ہونا ان کے لیے کوء یکم شرف نہیں، لیکن اپنی خوبیوں اور زہد و تقویٰ کی وجہ سے وہ راہب کے لقب سے ملقب تھے۔ دنیا ارو امورِ دنیا سے ان کی دلچسپی برائے نام تھی۔ زیادہ وقت خلوت میں ذکرِ الٰہی کرتے گزر جاتا ۔ یہ حضرت عبد اللہ اہلِ مدینہ کے ایک وفد کے ساتھ یزید کی ملاقات کے لیے گئے۔ وہاں کئی دن تک اس وفد نے قیام کیا۔ انھوں نے اس شخص کے صبح و شام کے معمولات پر آگاہی حاصل کی اور جب واپس آئے تو اہلِ مدینہ کو یزید کے احوال واطوار سے آگاہ کیا۔ اہلِ مدینہ اس کے فسق و فجور کے حالات سن کر حیران رہ گئے۔ چنانچہ تمام اہلِ مدینہ نے ایسے فاسق شخص کی بیعت کو توڑ دیا۔ اس وفد نے یزید ے بارے میں اہلِ مدینہ کو جو بتایا اسے ملاحظہ فرمائیے۔
قالوا قدمنا من عند رجل لیس لہ دین یشرب الخمر ویضرب بالطنا بیر ویعزف عندہ القیان ویلعب بالکاب ویسمر عند الحرّاب وھم اللصوص وانا نشھدکم انا قد خلعناہ“۔ (تاریخ طبری 4جلد7۔ تاریخ کامل صفحہ 103جلد 4)
ترجمہ: ہم ایک ایسے شخص کے پاس سے آئے ہیں جس کا کوئی دین نہیں، جو شراب پیتا ہے، طنبور بجاتا ہے، لونڈیاں اس کے سامنے گاتی ہیں، کتوں کے ساتھ کھیلتا ہے رات گئے تک چور اچکے لوگ اس کے پاس بیٹھ کر داستان سرائی کرتے ہیں اور اہلِ مدینہ ہم تمہیں گواہ بناتے ہیں کہ ہم نے اس شخص کی بیعت کا قلاوہ گردن سے اتارکر پھینک دیا ہے۔“
اس وفد کے ایک رکن حضرت زبیر کے فرزند تھے۔ یہ اس وفد کے ساتھ واپس نہیں آئے بلکہ دمشق سے کوفہ گئے۔ وہاں سے مدینہ طیبہ پہنچے۔ یزید کے بارے میں ان کی رائے بھی ملاحظہ ہو:
ان یزید واللہ لقد اجارنی بماتہ الف درھم وانہ لایمنعنی ماصنع الی ان اخبرکم خبرہ وادقکم عنہ واللہ انہ یشرب الخمر وانہ لیسر حتی یضیع الصلوٰة وا عابہ بمثل ما عابع اصحابہ الذین کانوا معہ۔ (تاریخ کامل 104جلد 4تاریخ طبری 4جلد 7)
ترجمہ: بخدا: یزید نے مجھے ایک لاکھ درہم کا عطیہ دیا ہے، لیکن یہ عطیہ مجھے یہ کہنے سے نہیں روک سکتا کہ اس کے بارے میں سچی بات بتاوٴں۔ وہ شرابی ہے وہ اتنی شراب پیتا ہے کہ نشہ کی وجہ سے نماز ترک ہو جاتی ہے۔ وفد کے دوسرے ارکان نے یزید کے بارے میں جو کچھ بتاتیا تھا۔ انھوں نے حرف بحرف اس کی تصدیق کر دی۔
اس موقع پر یزید کے مداح یہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ اور ان کے ساتھیوں نے حضرتِ سیدنا علی  کے فرزند محمد بن حنیفہ رضی اللہ عنہ کو بھی اس جہاد میں شرکت کی دعوت دی لیکن آپ نے اسے قبول نہ کیا اور جب اس وفد کے ارکان نے یزید کے ناشائستہ اخلاق و کردار کے بارے میں کہا تو آپ نے جواب دیا: ”میں بھی یزید کے پاس رہا ہوں میں نے کبھی اسے شراب پیتے نہیں دیکھا“۔ یہ صاحبان حضرت ابی حنیفہ کا یہ قول لے کر یزید کی پاکدامنی اور پارسائی ثابت کرنے کے لئے رطب اللسان ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ یہ سوچتے کہ آپ جیسی ہستی کی موجودگی میں یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ شراب پیتا یا دیگر قبیح حرکات کرتا آپ کی موجودگی میں اس کا یسا نہ کرنا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ آپ کی غیر موجودگی میں ان حرکات سے اپن یدامن کو آلودہ نہیں کرتا ہو گا۔ بڑے بڑے رند اور میخوار وقتی ضرورت کے مطابق زاہد و متقی بن جایا کرتے ہیں اور ہمارے پاس متعد دشواہد موجود ہیں جو اس کے کرتوتوں کی تصدیق کرتے ہیں۔
آگے پڑھنے سے پہلے ایک بات ضرور ذہن نشین کر لیجئے۔
اہلِ مدینہ کو کس چیز نے یزید کی بیعت توڑنے پر برانگیختہ کیا؟
یہ حادثہ کربلاکے خونیں سانحہ کے بعد پیش آیا جس میں یزیدی فوج نے حقوق نبوت، حقوق قرابت، احسان و مروت الغرض جملہ حقوق کو پس پشت ڈال کر گلستان رسالت کو برباد کر دیا۔ اہلِ مدینہ کو اس بارے میں قطعاً کوئی غلط فہمی نہ تھی کہ یزید ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ظالمانہ بلکہ اس سے بھی بد تر سلوک کر یگا۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ یزید کی سلطنت اسلامی قلمرو کے بیشتر صوبوں میں مستحکم ہو چکی ہے۔ مدینہ طیبہ کی تنہا ایک بستی اس کا کامیاب مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتی، فوج اسلحہ اوردیگر وسائل کی اس کے ہاں بڑی افراط تھی۔ مدینہ کے سارے پیر و جواں مل کر بھی اس کے لشکر کا عشر عشیر بھی نہیں بن سکتے ۔ وہ اس جہاد کے انجام کو اچھی طرح جانتے تھے، اس لیے یہ کہناحقائق سے چشم پوشی کرنا ہے کہ حضرت عبد اللہ نے خود خلیفہ بننے کے لیے اورمسند۔ِ اقتدار پر قابض ہونے کے لیے ایسا کیا تھا۔ ان کی طاقت اور یزید کی قوت میں توازن نام کی کوئی چیز نہ تھی، اس لیے ایک غیر جانبردار مبصر یہ کہنے پرمجبور ہو جاتا ہے کہ انھوں نے اسلام کے سیاسی نظام اور نظریہ خلافت کے تقدس کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ جراتمندانہاقدام کیا تھا، سانحہ کربال کے بعد و دنیا کو پھر یہ باور کرانا چاہتے تھے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے غلام ایسے شخص کو اسلامی مملکت کے سربراہ اور خلیفة المسلمین تسلیم کرنے کے لیے ہر گز تیار نہیں جس میں مندرجہ بالا امور پائے جاتے ہوں یہی وجہ سے قلت تعداد، اسلحہ اور دیگر وسائل کے فقدان کے باوجود اہلِ مدینہ اپنے قائد کے ساتھ میدان ِجہاد میں مردانہ وار کود پڑے۔دینِ حنیف کے ان مٹھی بھر پاسبانوں نے جس جرأت ، حوصلہ اورجاں نثاری سے یزید کے لشکرِ جرار کا مقابلہ کیا اس نے بدر و حنین کی یاد تازہ کر دی،۔ حضرت عبد اللہ بڑی بے جگری سے لڑ رہے تھے۔ گھمسان کا رن پڑرہا تھا آپ نے اپنے جواں سال بچوں کو للکارا کہ آوٴ نظامِ مصطفی کے ناموس کی حفاظت کے لیے جانیں لڑا دو۔ سر کٹا دو۔ سعادت مند بچے اپنے مجاہد باپ کی للکار پر ایک ایک کرکے آگے بڑھتے۔ عقاب کی طرح دشمن پر جھپٹتے اورجام شہادت نوش کر کے خلد بریں کو سدھارتے رہے۔ یکے بعد دیگرے آپ کے ساتوں بچوں نے اپنے سروں کا نذرانہ پیش کردیا۔ عین اس وقت جب ان کے جگر کے ٹکڑے کٹ کٹ کر گر رہے تھے ۔ اس مجاہد کی شان ایثار دیدنی تھی ہاتھوں میں تلوار تھی جو بجلی کی تیزی کے ساتھ چل رہی تھی، خود فرطِ جوش سے یہ رجز پڑھ رہے تھے اور مجاہدین کے دلوں کوگرما رہے تھے۔
بعد ا لمن رام الفساد وطغی وجانب الحق وایات الھدی
لا یعبد الرحمن الا من عصی
(تاریخ کامل ص117جلد 4)
ترجمہ: وہ شخص برباد ہو جائے جس نے فسادکا قصد کیا اورسرکشی کی جس نے حق کو اور ہدایت کی آیتوں کو نظر انداز کر دیا۔ خداوند رحمن اسی کو ہلاکرتا ہے جو سرکش ہوتا ہے۔
یہ رجز پڑھتے پڑھتے انھوں نے اپنی جان، جانِ آفرینش کے حوالے کردی۔اس رجز کے الفاظ سے بھی جومرنے سے پہلے ان کی زبان سے گونجے یزید کے بارے میں ان کے پہلے نظریہ کی تصدیق ہوتی ہے۔ ایک صحابی دار الآخرت کی طرف سفر کرتے وقت جو بات کہتا ہے۔ اس میں تصنع، ریاکاری اور جھوٹ کی آمیزش نہیں ہوتی، بلکہ وہ اس کے دل کی آواز ہوتی ہے۔ آپ کا یہ رجز یزید کے بارے میں آپ کے سابقہ خیالات کی تائید کرتا ہے۔
آخر میں یزید کے بارے میں علامہ ابنِ کثیر کی رائے پیش کرتا ہوں جو انھوں نے یزید کی مدخ اور قدخ میں مذکور جملہ اقوام و آثارکا بنظر غائر مطالعہ کرنے کے بعد اپنی تاریخ میں رقم کی ہے۔ یزید کے مداح بھی یہ حوالہ پیش کرتے ہیں، لیکن اس کی ابتدائی چند سطریں نقل کر کے رہ جاتے ہیں۔ میں پورا حوالہ لکھ رہا ہوں۔
ا س کے مطالعہ سے حقیقتِ حال واضح ہو جائے گی:
وقد کان یزید فیہ خصال محمودة من الکرم والحلم والفصاحة والشعر والشجاعة وحسن الرایٴ فی الملک وکان ذا جمال ، حسن المعاشرة وکان فی ایضاً اقبال عل یالشھوات وترک بعض الصلوٰة فی بعض الاوقات واماتتھا فی غالب الاوقات۔ (البدایہ والنہایہ ص 230جلد
ترجمہ: یزید میں چند عمدہ صفات بھی تھیں، سخاوت، حلم، فضاحت، شعر گوئی، شجاعت ملکی امور میں حسن رائے ، وہ خوش شکل تھا۔ لوگوں سے اچھا برتاوٴ کرتا تھا، اس کے باوجود اس میں یہ عیوب بھی تھے۔ وہ شہوات نفسانی کا گرویدہ تھا۔ بعض دفعہ نماز بھی نہیں پڑھا کرتا تھا ارو جب نماز پڑھا کرتا، تو اکثر وقت گزرنے کے بعد۔
اسی کتاب کے صفحہ 235پرعلامہ ابن کثیر یزید کے بارے میں لکھتے ہیں:
قد روی ان یزید کان قد اشتھر بالمعازف وشرب الخمر والغنا والصید واتخاد الغلمان والقیان والکلاب والنطاع بین البکاش والرباب والقرود ما من یوم الصبح فیہ مخموراً۔ (البدایة وانہایة۔ 235جلد
ترجمہ: یعنی یزید ان باتوں میں بڑی شہرت کا مالک تھا۔ گانا بجانا، میخوری، غنا، شکار، لونڈے لونڈیاں رکھنا، کتے پالنا، مینڈھوں، ریچھوں، بندروں کے درمیان کشتی کرانا وہ جب صبح کو بیدار ہوتا تو شراب کے نشے میں مست ہوتا۔
یہ ہے یزید جس کے بارے میں بادشاہ سے زیادہ بادشاہ کے وفادار زیاد کی رائے اور دیگر حضرات کی آراء آپ پڑھ آئے ہیں۔ ان اقوال کے آئینے میں یزید کی داغدار سیرت کے خدو خال آپ بآسانی دیکھ سکتے ہیں۔ ایسے شخص کی مدخ و ستائش میں آج کتابیں لکھی جا رہی ہیں، پمفلٹ شائع کئے جا رہے ہیں۔ تقریریں کی جا رہی ہیں اور قیامت بالائے قیامت یہہے کہ اس کو ایک ایسی شخصیت پر فضیلت دینے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے جس کا نام حسین رضی اللہ عنہ ہے فداہ ابی وامی جس کاذکر پاک سن کر مردو دل زندہ ہو جامتے ہیں۔ جس کی داستانِ جہاد کے مطالعہ سے پژمردہ حوصلے اور افسردہ ولولے زندہ ہو جاتے ہیں اور باطل سے ٹکر لینے کی آرزو بے چین کر دیتی ہے، وہ حسین  جس کے بارے میں محبوب رب العالمین ﷺ نے فرمایا:
عن اسامہ بن زید عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم انہ یاخذہ والحسن ویقول اللھم انی احبھما فاحبھما۔
ترجمہ: اسامہ بن زید کہتے ہیں: حضور ﷺ حسن و حسین  کو گلے لگا لیتے اکرپھر یہدعا فرماتے: اے اللہ: میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما۔
قال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ ھماریخانتای من الدنیا۔
ترجمہ: آپ نے فرمایا: اس دنیا کے باغ سے یہ میرے دو پھول ہیں۔
ترمذی کی کثیر احادیث میں سے صرف ایک حدیث سماعت فرمائیے:
عن ابی سعید قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الحسن والحسین سید اشباب اھل جنة۔
ترجمہ: کہ حسن اور حسین، جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔
یہ تو ہوا یزید کی شخصیت کا ایک ورق۔
یزید بحیثیت حکمران
اگرچہ یورپ کے ماہرینِ سیاست یہکہتے ہیں کہ ہمیں کسی کی شخصی زندگی سے سروکار نہیں، ہم توا س کوان اعمال کی کسوٹی پر پرکھیں گے جن کا تعلق قوم اورملک سے ہے۔ اسلام اس تفریق کا قائل نہیں۔ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا باہم چولی دامن کا ساتھ ہے، دونوں ایک دوسرے سے متاثر ہوتی ہیں اور ایک دوسرے پر اثر بھی کرتی ہیں لیکن آئیے! پہلے ان صاحبان کے ممدوح ”یزید۔“ کے ان کارناموں پر بھی سرسری نظریں ڈالی، جو بحیثیت حکمران اس نے انجام دیے اور یہ دیکھیں کہ اس مجاہد اور بطل جلیل نے اسلام اور ملتِ اسلامیہ کی کونسی سنہری خدمات انجام دی ہیں جن کے صلہ میں یہ حضرات اسے خلیفہ راشد کہنے پر مصر ہیں۔
سب سے پہلے سانحہ کربلا کو لیجئے، کیونکہ یزید کی حکومت کا آغاز اسی خونہ حادثہ سے ہوا۔ مجھے اس وقت ابنِ زیاد اور اس کے لشکرکی ستم کیشیوں اور جفاکاریوں سے بحث مطلوب نہیں، اس سانحہ سے یزید کا جہاں تک براہِ رسات تعلق ہے اس پر بحث کرنا ہے۔ آپ خود فیصلہ فرمائیں کہ یزید اس واقعہ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے یا نہیں۔ یزید نے ابنِ زیاد کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا اور اسے حکم دیا کہ مسلم بن عقیل کو جہاں پاوٴ قتل کردو۔ (تاریخ طبری ص194جلد 6
امام مسلم کو عبد الرحمن نامی ایک کوفی دھوکہ سے پکڑ کر لے آیا اور ابنِ زیاد کے سامنے پیش کردیا۔ ابنِ زیاد نے حکم دیا کہ انہیں محل کی سب سے اونچی چھت پر لے جاوٴ، واں ان کا سر قلم کر دواور ان کے دھڑ کو اتنی بلندی سے گلی میں پھینک دو۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
امر یزید بقتل مسلم فکتب الیہ ان یطلب مسلم بن عقیل فیقتلہ ان وجدہ فجاء بمسلم الیٰ عبید اللہ و امر بہ فاصعد الی اعلی القصر فضربت عنقہ والقی جثتہ الی الناس وامر بھا نی فسحب الی الکناسة فصلب ھنا۔(طبری ص 196جلد 6)
ترجمہ: ابنِ زیاد کے حکم سے ہانی کو بھی گھسیٹ کر لے گئے۔ جہاں غلاظت کا ڈھیر تھا۔ وہاں لے جا کرانھیں سولی دے دی گئی۔
تاریخِ کامل میں ہے:
بعث ابن زیاد براس مسلم وھانی الی یزید وکتب الیہ یزید یشکرہ۔ (صفحہ 36، جلد 6)
ترجمہ: پھر ابن زیاد نے ان دونوں شہیدانِ وفا کے سروں کو کوفہ سے دمشق یزید کے پاس بھیجا۔ (یزید کو اس سانحہ فاجعہ پر ذرا دکھ نہ ہوا) بلکہ اس نے ابن زیاد کو خط لکھا جس میں اس نے اس کا شکریہ ادا کیا۔ (گویا دو غیرمسلح افراد کو قتل کرکے اس نے شجاعت و بہادری کا ایک نادر نمونہ پیش کیا ہے)
یہ حضرات کہتے ہیں کہ خاندانِ نبوت کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کی ساری ذمہ داری ابنِ زیاد پرعائد ہوتی ہے۔ یزید تو وہاں سے صد ہا میل دور دمشق میں تھا جو کچھ ہوا اس کے حکم کے بغیر ہوا اور اس کے علم کے بغیرہواے۔ یزید کوجب اس حادثہ کا علم ہوا تو وہ بہت آزردہ ہوا اور رویا۔ اس کے محل میں مجلسِ ماتم برپا ہوئی جو تین دن تک جاری رہی۔ جس سے اس رنج و اندوہ کا پتہ چلتا ہے جو اس المناک واقعہ پر یزید کو ہوا۔
کاش! ایسا ہی ہوتا، لیکن تاریخ کے صفحات اس کے بالکل برعکس کہانی بیان کرتے ہیں، میدانِ کربلا میں جو لرزہ خیز اور شرمناک واقعات رونما ہوئے انہیں وہیں رہنے دیجئے۔ چلتے نیزوں کی انیوں پر آویختہ شہدائے گرامی کے سروں کے جلوس کے ساتھ چلیئے اہل ِ بیعت کی غمزدہ خواتین کے کارواں کے ساتھ ۔ ہم آپ کو شام لے۔ چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس سانحہ پر یزید کا پہلا اور حقیقی ردِّ عمل کیا تھا۔ علامہ ابنِ جریر کی عبارت ملاحظہ ہو:
اوفدہ الی یزید بن معاویة ومعہ الراس فوضع راسہ بین یدیہ وعندہ ابو برزہ الاسلمی وجعل ینکت باقضیب علی فیہ ویقول: #
یفلقن ھا ما من رجال اعزة علینا وھم کانو نواعق واظلما
وقال لہ ابر برزة ارفع قضیبک فوا للہ لربما رأیت رسو ل اللہ علیٰ فیہ یلثمہ۔ (تاریخ طبری ص 220۔ جلد 6)
ترجمہ: ابنِ زیاد نے قاتل حسین کے ہاتھ آپ کے سر مبارک کو یزید کے پاس بھیجا۔ اس نے وہ سر مبارک یزید کے سامنے رکھ دیا۔ ایک صحابی ابوبرزہ اسلمی وہاں موجود تھے یزید ایک چھڑی سے آپ کے لب ہائے لعلین پر کچوکے دینے لگا اور یہ شعر پڑھنے لگا۔ انھوں نے ایسے آدمیوں کی کھوپڑیوں کو پھاڑ دیا جو ہمیں عزیز تھے، لیکن وہ بہت نافرمان اورظالم تھے۔ ابو برزہ پیرانہ سالی کے باوجود اس گستاخی کو برداشت نہ کرر سکے اور فرمایا: اے یزید: اپنی چھڑی کو پرے ہٹا لو۔ بخدا! میں نے بکثرت حضور ﷺ کو اس منہ کوچومتے ہوئے دیکھا ہے۔“
علامہ ابنِ اثیر نے اس واقعہ کو ذرا تفصیل سے لکھا ہے:
ثم اذن للناس فد خلوا علیہ والرأس بین یدیہ و معہ قضیب وھو ینکت بہ شغرہ ثم قال ان ھذا وایانا کما قال الحصین بن ھمام
ابی قومنا ان ینصفونا فانصفت
قواضب فی ایماننا تقطر الدما
یفلقن ھا ما من رجال اعزة
علینا وھم کانوا اعق واظلما
ترجمہ: جب اس کے پاس سرِ مبارک رکھا گیا تو اس نے لوگوں کودربار میں آنے کا اذنِ عام دیا۔ جب لوگ جمع ہو گئے تو اس نے ایک چھڑی سے آپ کے دندانِ مبارک پر ضربیں لگانا شروع کیں اور ساتھ ہی کہنے لگا: بے شک ان کی اور ہماری حالت ایسی ہی ہے جیسے ایک شاعرنے کہا تھا: ہماری قوم نے انکارکیا کہ ہمامرے ساتھ انصاف کریں تو ہماری تلواروں نے انصاف کیا جو دائیں ہاتھ میں تھیں اور ان سے خون ٹپک رہا تھا۔ ان تلوارو ں نے ان لوگوں کی کھوپڑیوں کو پھاڑ دیا جو ہمیں عزیز تھے لیکن وہ بڑے نافرمان اور ظالم تھے۔
اب آپ غور فرمائیے کہ جو شخص نواسئہ رسول کے کٹے ہوئے سر مبارک کو یوں اپنے سامنے رکھنے کی جسارت کرتا ہے اور لوگوں پر اپنی قوت کی دھاک بٹھانے کے لیے انھیں یہ روح فرسا منظر دیکھنے کی عام اجازت دیتا ہے پھروہ گستاخ چھڑی سے ان ہونٹوں پر چوٹیں لگاتا ہے جن کو اللہ کا محبوب بکثرت چوما کرتا تھا۔ اور پھر وہ اپنی شوکت کو نمایاں کرنے کے لیے ایسے متکبرانہ شعر پڑھتا ہے کیا اس شخص کے بارے میں یہ خیال کرنا انتہائی سادگی بلکہ انتہائی بیہودگی نہیں کہ اسے اس سانحہ پر رنج تھا اور وہ بڑا افسردہ اور پژمردہ ہوا۔
حضرت ابو برزہ اسلمی وہاں بیٹھے تھے۔ اس گستاخانہ منظر کی تاب نہ لا سکے اور فوراً جھڑک دیا۔ آخر فرمایا: یہ ہونٹ ہیں جو نبی کریم کی بوسہ گاہ تھے۔ اے یزید! جب تو قیامت کے دن آئے تو تیرا شفیع ابنِ زیاد ہو گا۔ اور جب یہ تشریف لائیں گے تو ان کے جدِّ کریم محمد مصطفیٰ ﷺ ان کے شفیع ہو ں گے۔ پھر آپ اس محفل سے نکل گئے تھے۔
موٴرخین نے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے یہ تصریح کی ہے:
وجھزھم (ابن زیاد) رحملھم الی یزید فلما قدموا علیہ جمع من کان بخضرتہ من اھل شام ثم ادخلوھم فھنوٴ بالفتح۔ (تاریخ طبری ص 220جلد 6۔ البدایہ ص 197جلد
ترجمہ: ابن ِزیاد نے اس لٹے پٹے قافلے کو تیار کیا اور یزید کی طرف بھیجا۔ جب وہ دمشق پہنچے تو یزید نے ملک شام کے روٴسا کواپنے دربار میں اکٹھا کیا پھر اس بھری محفل میں خاندان نبوت کی مستورات اس کے سامنے پیش کی گئیں۔ اور اس کے درباریوں نے یزید کو اس فتح پر مبارک باد پیش کی۔
خود ہی سوچئے جو شخص دربار عام لگاتا ہے، ملک شام کے ہر قابل ذکرآدمی کو وہاں جمع کرتا ہے اوروہ اس کی خدمت میں اس فتح پر اسے مبارکیں پیش کرتے ہیں اوروہ ظالم اس بھرے دربار میں پردہ دارخواتین کو پیش کرنے کا حکم دیتا ہے۔ کیا ہم اس کے باوجود ان دوستوں کی بات مان لیں کہ یزید کو اس وقاعہ پر بہت صدمہ ہوا۔ بعض روایات میں یہ مذکور ہے کہ یزید نے بڑے افسوس کا اظہار کیا اور آنسو بھی بہائے اور ابن زیاد کو برا بھلا بھی کہا، لیکن اس ڈرامے سے علامہ ابنِ اثیر نے یہ کہہ کر پردہ اٹھا دیا:
لما وصل راس الحسین الی یزید حسنت حال ابن زیاد عندہ وزادہ ووصلہ وسدہ ما فعل ثم لم یلبث الا یسیراً حتی بلغہ بعض الناس لہ ولعنھم وسلبھم فندم علی قتل الحسین۔ (تاریخ کامل ص 87۔ جلد 4)
ترجمہ: جب شہید کربلا کا سر مبارک یزید کے پاس پہنچا تو یزدید کے دل میں ابنِ زیاد کی قدرو منزلت بہت بڑھ گئی۔ اس کی عزت میں ا ضافہ ہو گیا۔ جو کچھ اس نے کیا تھا یزید اس پر بڑا خوش ہوا۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد اسے یہ اطلاعیں ملنے لگیں کہ لوگ اس وجہ سے اس کے خلاف بغض رکھنے لگے ۔ اس پرلعنتیں بھیجتے ہیں اور اسے سب وشتم کرتے ہیں، تو پھر مام حسین  کے قتل پر اس کو ندامت ہوئی۔ ․․․․․․․․․․
پھر اس نے کہا:
فبغضنی بقتلہ الی الحسین وزرع فی قلوبھم العداوة فابغضنی البر والفاجر بما استعظموہ قتلی الحسین ، مالی ولا بن مرجانة لعنة اللہ وغضب علیہ۔
ترجمہ: ابن زیاد نے آپ کوشہید کرکے مجھے مسلمانوں کی نگاہوں میں مبغوض بنا دیا ہے، ان کے دلوں میں میری عداوت بھر دی ہے اور ہر نیک و برا شخص میرے ساتھ بغض کرنے لگا ہے کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ امام حسین  کو قتل کر کے میں نے بڑا ظلم کیا ہے۔ خدا ابن زیاد پر لعنت کرے اور اس پر اپنا غضب نازل کر کے، اس نے مجھے برباد کر دیا۔
اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ یزید ابتدا میں بڑا خوش ہوا کہ اس کا مدّ مقابل قتل کر دیا گیا ہے، لیکن جب اسے اپنی رسوائی اور بدنامی کا احساس ہوا، تو پھر اسے خجالت و ندامت ہوئی اور لوگوں پر یہ ظاہر کرنے کے لیے اس ن یآنسو بہائے لیکن وہ آنسو مگر مچھ کے تھے۔

اس دربارِ عام میں ایک اور المناک سانحہ پیش آیا جو یزید کی بد باطنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسی دربار میں ایک شامی کھڑا ہوا اور حضرت سیدہ فاطمہ ہمشیرہ زینب کی طرف اشارہ کر کے یزید کو کہنے لگا کہ یہ مجھے بخش دو۔ معصوم سیدہ یہ بات سن کر کانپ گئیں اور اپنی ہمشیرہ کے دامن کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ حضرت زینب شیرنی کی طرح گرجیں اور فرمایا:
اے شامی! تو جھوٹ بکتا ہے ، تو لعین اورکمینہ ہے۔ یہ پاک شہزادی نہ تجھے مل سکتی ہے اور نہ اس تیرے یزید کو۔
فغضب یزید وقال کذبت واللہ ان ذلک لی ولو شئت ان افعلہ لفعلتہ
یزید حضرت زینب کی بات سن کر غصے سے بے قابو ہو گیا اور کہنے لگا: زینب تم جھوٹ کہتی ہو۔ بخدا یہ میرے قبضہ میں ہے، اگر میں اسے شامی کو دینا چاہوں تو دے سکتا ہوں۔
قالت کلا واللہ ما جعل اللہ لک ذلک الا ان تخرج من ملتنا وتدین بغیر دیننا۔
حضرت زینب  نے جوش سے فرمایا: ہر گز نہیں، بخدا تمہیں ایسا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے ذرا حق نہیں دیا بجز اس کے کہ تم اعلانیہ ہماری ملت سے نکل جاوٴ اور ہمارے دین اسلام کو چھوڑ کر اور دین قبول کرنے کا اعلان کر دو۔
ان واقعات کو پڑھنے کے بعد اگر کوئی شخص اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ یزید کے دل میں خانوادئہ نبوت کی قدر و منزلت تھی تو اسے ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ دربار عام میں خاندانِ نبوت کی شہزادیوں کو عام لوگوں کے روبرو پیش کرنا ہی اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ یزید کے دل میں خاندانِ نبوت کی کوئی قدر و منزلت نہ تھی۔ وہ نبی رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جواپنے دشمن کی بیٹی کو بھی ننگے سر دیکھتے تو اپنی چادر مبارک اتار کر اس پر ڈال دیتے۔ یزید کو شرم نہ آئی کہ حضور کی نواسیوں کو یوں بھرے دربار میں پیش کرنے کی جرأت کی۔ اگریہ خلیفہ راشد ہے تو ظالم اور جابر کس کو کہتے ہیں۔
اگر ایک لمحہ کے لیے یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ یزید کے حکم او ر اس کے علم کے بغیر ابنِ زیاد نے یہ قیامتِ صغریٰ برپا کی تو جب یزید کو اس قتلِ عام کا علم ہوا تو اس کے بعد اس نے ابنِ زیاد، ابن سعد، شمروغیر ہم کے خلاف کیا کاروائی کی؟ کیا اس نے قصاص لیا؟ اگرایک غریب مسلمان بھی قتل کر دیا جائے تو حاکم کا فرض ہے کہ قاتل سے قصاص لے۔ یہاں تو معاملہ خاندانِ نبوت کا ہے۔ خاندانِ نبوت کے صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک ایک فرد کا ہے جو یزید کی تیغِ جفا کا شکارہوئے۔ اگر قصاص نہیں لیا تھا تو کم از کم ان کو بطورِ سزا ان کے عہدوں سے بَر طرف کر دیا ہوتا، لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ان سے کوئی قصاص لیا گیا، نہ ان ظالموں کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا گیا اور نہ ہی ان کو سرزنش اور ملامت کا کوئی خط تک لکھا۔ ان حالات میں ایک بچہ بھی بآسانی یہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ جوکچھ ہوا یزید کی اجازت اور حکم سے ہوا اور وہ اس پر مطمئن تھا۔
یزید کے عہد حکومت کا یہ پہلا کارنامہ ہے جس نے اسلام کی تاریخ کو خون میں ڈبو دیا اور کئی ہولناک فتنوں کے لئے راہ ہموار کر دی۔ اس خلیفہ راشد کا دوسرا کارنامہ ملاحظہ ہو:
آپ پہلے ان حالات کو پڑھ آئے ہیں جن کی وجہ سے اہلِ مدینہ نے یزید کی بیعت کو فسخ کیا اور تمام عواقب و نتائج سے بے نیاز ہو کر میدانِ جہاد میں کود پڑے۔ اب ذرا وہ المیہ ملاحظہ ہو جو اس نے رحمت للعالمین ﷺ کے شہر اور اس میں بسنے والوں کے ساتھ روا رکھا، وہ مدینہ اور اہلِ مدینہ جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا:
لا یکید اھل المدینة احد الا انماع کما ینماع الملح فی الماء (بخاری شریف)
ترجمہ: حضور نے ارشاد فرمایا جو شخص اہلِ مدینہ کے ساتھ مکرو فریب کرے گا۔ وہ یوں گل جائے گا جس طرح نمک پانی میں گلتا ہے۔
امام مسلم نے اپنی صحیح میں یہ حدیث روایت کی:
قال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لا یرید احد المدینہ بسوء لا اذابہ اللہ فی النار ذوب الرصاص، او ذوب الملح فی الماء
ترجمہ: ”جو شخص مدینہ کے بارے میں برائی کا ارادہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے آگ میں اس طرح پگھلا دے گا جس طرح قلعی پگھلتی ہے یا نمک پانی میں گل جاتا ہے“۔
امام احمد بن حنبل کی روایت کردہ ایک حدیث چشمِ ہوش کو کھولنے کے لیے کافی ہو گی۔
قال علیہ الصلوٰة والسلام من اخاف اھل المدینہ ظلما اخافہ اللہ تعالیٰ وعلیہ لعنة اللہ والملائکة والناس اجمعین لا یقبل اللہ منہ یوم القیامة صرفاً ولا عدلاً۔
ترجمہ: جو شخص ازراہ ظلم اہل مدینہ کو خوفزدہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوفزدہ کرے گا اور اس پراللہ تعالیٰ کی ، اس کے فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔ قیامت کے دن اس سے کوئی بدلہ اور معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
اس مدینہ اور اہلِ مدینہ کے ساتھ یزید نے جوسلوک کیا اسے سن کررونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جب اسے یہ اطلاع ملی کہ اہلِ مدینہ نے اس کی بیعت توڑ دی ہے تو اس نے ایک ظالم اور جابر فوجی مسلم بن عقبہ کواس لشکر کا سالار بنایا جو مدینہ طیبہ پرحملہ کرنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ یزید نے مسلم کو رخصت کرتے وقت یہ حکم دیا کہ پہلے قوم کو اس بات کی دعوت دو کہ وہ اطاعت قبول کر لے اور اگر ایسا کرے تو ان سے باز رہو اور اگر تین دن تک وہ اطاعت قبول نہ کریں تو پھر ان سے جنگ کرو۔ اگر یزید نے اتنا ہی کہا ہوتا تو اس کی توجیہہ کی جا سکتی ہے کہ اہلِ مدینہ نے بغاوت کی تھی اور یزید کیونکہ وقت کا حاکم تھا، ملک میں امن و امان برقرار رکھنا اس کی ذمہ داری تھی۔ بغاوت کو فرو کرنے کے لیے اس نے جو قدم اٹھایا وہ ناگزیر بھی تھا اور جائز بھی، لیکن یزید نے اس پر اکتفاء نہ کیا بلکہ اپنے جرنیل کو یہ حکم دیا:
فاذا ظھرت علیھم فابح المدینة ثلاثا۔
کہ جب تم غالب آ جاوٴتین دن تک مدینہ کے شہر کو اپنے لشکر کے لیے مباح کر دو، جو ان کا جی چاہے کریں، کسی کو قتل کریں، کسی کا مال لوٹیں، کسی کی آبرو ریزی کریں، کوئی بازپرس نہیں ہو گی، کوئی مواخذہ نہیں ہو گا۔ خود سوچئے کہ جو شخص مسلمانوں کی جان، مال اور آبرو کو اپنے فوجیوں کے لیے خوانِ یغما سمجھتا ہے کیا اس کے دل میں خدا کا خوف ہے، کیا اس کے دل میں خدا کے رسول کا احترام ہے؟ کیا اس کا قیامت پر ایمان ہے؟ کہ اسے اس روز بارگاہِ الٰہی میں پیش کیا جائے گا اور اس سے اس کی بدکاریوں کی بازپرس ہو گی۔
یزید کا یہ چنگیزی حکم لے کر مسلم، مدینہ طیبہ پر دھاوا بولتا ہے۔ اس جہاد میں اہل مدینہ نے اپنی جان سپاری کے بے نظیر کارنامے انجام دیے۔ ان کی ایک جھلک آپ پہلے پڑھ آئے ہیں۔ جب اہل مدینہ کے اکابر ایک ایک کر کے شہید ہو گئے۔ عبد اللہ بن حنظلہ اپنے سات بچوں کو ناموسِ اسلام پر قربان کر کے خود بھی اپنے سر پر شہادت کا تاج سجائے دارالبقاء کو سدھار گئے اور اہل مدینہ اپنی اس مہم میں کامیاب نہ ہوئے، تو پھر خون خوار بھیڑیوں کی طرح یزیدی لشکر کے سپاہی اور افسر اس شہر گرامی میں داخل ہو گئے اورتین دن تک جو اودھم انہوں نے مچایا نہ قلم میں اتنی قوت ہے کہ وہ اسے کما حقہ بیان کر سکے اور نہ دل میں یہ تاب ہے کہ اسے سن سکے۔ ابنِ کثیر کی چند سطریں دل پر ہاتھ رکھ کر آپ بھی سن لیجئے:
ثم اباح مسلم بن عقبہ الذی یقول فیہ السلف مسرف بن عقبہ قبحہ اللہ من شیخ سوءٍ ما اجھلہ المدینہ ثلاثة ایام کما امرہ یزید لا جزاہ اللہ خیرا قتل خلقا من اشرافھا وقرائھا وانتھب اموالا کثیرة منھا ووقع شر عظیم وفساد عریض علی ما ذکرہ غیرواحد
(البدایہ ص ۲۲۰۔ ج ۸)
ترجمہ: پھرمسلم بن عقبہ جسے اسلاف مسرف بن عقبہ کہتے ہیں۔ خدا اس کو ذلیل و رسوا کرے، وہ بڑا اجڈ اور جاہل بوڑھا تھا۔ اس نے مدینہ طیبہ کو تین دن کے لیے مباح کر دیا جس طرح یزید نے حکم دیا تھا۔ اللہ یزید کو کبھی جزائے خیر نہ دے۔ اس نے جنگ کے اختتام کے بعد وہاں کے بے شمار بزرگوں اور قاریوں کو تہ تیغ کیا اہل مدینہ کے اموال کو بے دردی سے لوٹا اور جس طرح متعدد موٴرخین نے بیان کیا اس کی اس حرکت سے وہاں شر عظیم اور فساد کبیر برپا ہوا۔
سید الانبیاء محمد مصطفی ﷺ نے حجة الوداع کے موقع پر اپنے تاریخ ساز خطبہ میں ارشاد فرمایا تھا:
کل المسلم علی المسلم حرام، دمہ ومالہ وعرضہ۔
ہر مسلمان کا خون، مال اور اس کی آبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔
اب یزید کو کیا حق پہنچتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حلال اورمباح کرے اور اپنے لشکر کو مدینہ طیبہ کے شہریوں پر قیامت توڑنے کی اجازت دے۔ اگر آپ یزید کو خلافت راشدہ کی مسند پر بٹھانے کے لیے مصر ہوں گے تو اس داغ داغ شخصیت کو دیکھ کر لوگ اسلام سے بھی متنفر ہو جائیں گے۔ اور یہ تصور کہ یہ دین، دینِ عدل و انصاب اور فضل و احسان ہے، ہمیشہ کے لیے درہم برہم ہو جائے گا۔ یزید نے جو ستم ڈھائے وہی ہمارے لیے کافی ہیں اب اس کے یہ بہی خواہ اگرمزید کرم فرمائیوں سے باز آ جائیں تو ان کی عنایت ہو گی۔
اس سانحہ کے بارے میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں جسے یہاں لکھتے ہوئے قلم خجالت سے سر نگوں ہے:
ووقعوا علی النساء حتی قل انہ حبلت الف امرأة فی تلک الایام من غیر زوج واللہ اعلم۔ قال المدائنی عن ابی کرّة قال قال ھشام بن حسان ولدت الف امرأة من اھل المدینة بعد وقعة الحرة من غیر زوج (البدایہ ص ۲۲۱۔ جلد ۸)
ترجمہ: یزید کے لشکری تین دن تک اہل مدینہ کی عصمتوں کو پامال کرتے رہے یہاں تک کہا گیا ہے۔ ان دنوں میں ہزار عورتیں ان کی اس بدمعاشی سے حاملہ ہوئیں۔ لا حول ولا قوة الا باللہ العلی العظیم۔
محتاط موٴرخ یہ درد انگیز حادثہ بیان کرنے کے بعد لکھنے پر مجبور ہو گیا:
فقد اخطاء یزید خطاء فاحشافی قولہ لمسلم بن عقبہ ان یبیع المدینہ ثلاثة ایام وھذا خطاء کبیر فاحش مع ما انضم الی ذلک من قتل خلق من الصحابة وابنائھم فقد تقدم انہ قتل الحسین واصحابہ علی یدی عبید اللہ بن زیاد وقد وقع فی ھذہ الثلاثة ایام من المفاسد العظیمہ فی المدینة النبویة ما لا یحد ولا یوصف ومما لا یعلمہ الا اللہ عزوجل۔
ترجمہ: یزید نے مسلم بن عقبہ کو تین دن تک مدینہ طیبہ کو مباح کرنے کا حکم دے کر بڑی اور فحش غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ بے شک یہ بہت بڑی اور سنگین غلطی ہے۔ مزید برآں بہت سے صحابہ کرام اور ان کے کثیر تعداد فرزند اس حادثہ میں شہید ہوئے۔ اس سے پہلے امام حسین  اور آپ کے ساتھیوں کے قتل کا جریمہ کیا اللہ تعالیٰ کے نبی کے شہر میں ان تین دنوں میں وہ عظیم تباہی اوربربادی ہوئی جس کی نہ کوئی انتہا ہے نہ اس کی تفصیل بیان کی جا سکتی ہے۔ اس کا صحیح علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
تاریخ میں اس واقعہ کو واقعہ حرة کہا جاتا ہے۔ علامہ ابن کثیر اس کے ذکر کے بعد کہتے ہیں کہ یزید نے مسلم بن عقبہ کو اس لیے بھیجا تھا کہ وہ اس کے مخالفین کا قلع قمع کر دے گا۔ اس کی سلطنت کی بنیادیں مضبوط ہو جائیں گی۔ اس کے عہدِ حکومت میں اس کا کوئی مدِّ مقابل نہ رہے گا۔
فعاقبہ اللہ بنقیض قصدہ وحال بینہ وبن ما یشتھیہ وقصمہ اللہ قاصم الجبابرہ واخذ اخذ عزیز مقتدر۔ (البدایہ ص ۲۲۲۔ جلد:۸)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے اس کے ارادہ کے برعکس اس کو سزا دی اور جو اس نے چاہا تھا، اس کو پورا نہ ہونے دیا۔ جابروں اور فرعونوں کی کمر توڑنے والے خدا نے اس کی کمر توڑ دی اور اس کو یوں پکڑا جس طرح عزت والا اور قدرت والا پکڑتا ہے۔
اب ہم اس المناک بحث کو چھوڑ کر آگے چلتے ہیں اور اس کے تیسرے سنہری کارنامے کی طرف اس کے مداحوں کی توجہ مبذول کرتے ہیں۔
ممکن ہے اہلِ بیت اطہار کے متعلق ان کے دلوں میں کوئی نرم گوشہ نہ ہو اور اس مقدس خاندان پرجو قیامت ٹوٹی اس سے ان کے دلوں پر کوئی چوٹ نہ لگی ہو۔ ممکن ہے حضور نبی رحمت ﷺ کے پاک شہر کی عزت و حرمت کی ان کی نگاہوں میں کوئی زیادہ اہمیت نہ ہو، لیکن کعبہ مقدسہ کے بارے میں بھی تو شائد ان کے دلوں میں عقیدت و احترام کے جذبات موجود ہوں۔
مدینہ طیبہ کو کھنڈرات کا ڈھیر بنانے کے بعد مسلم کو حکم ملا کہ وہ مکہ مکرمہ پر حملہ کرے اور وہاں کی اینٹ سے اینٹ بجا دے۔ چنانچہ یہ جفا کار اپنے درندہ صفت فوجیوں کو لے کر مکہ مکرمہ پر دھاوا بولنے کے لیے روانہ ہوا۔ موت کے فرشتہ نے راستہ ہی میں اس کی گردن مروڑ دی اور جہاں اسے پہنچنا تھا وہاں پہنچا دیا۔ اس کے ہلاک ہونے کے بعد حصین بن نمیر الکوفی نے لشکر کی قیادت سنبھالی اور مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوا، مکہ پہنچ کر باہر کھلے میدان میں قیام کیا اور جنگ شروع ہوئی۔ فریقین میں کئی مرتبہ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ کئی ماہ تک محاصرہ جاری رہا۔ ربیع الاول ۶۴ھ میں اس نے کعبہ مقدسہ کے بالمقابل اپنی منجنیقیں نصب کیں اور بیت اللہ شریف پر پتھر برسانے شروع کئے۔ صرف پتھر ہی نہیں پھینکے بلکہ آگ لگانے والا مادہ بھی پھینکا گیا۔ یہاں تک کہ کعبہ شریف کا غلاف بھی جل گیا اور ایک دیوار بھی جل کر گر گئی۔ اس حالت میں جب کہ یزید کا جرنیل حصین، کعبہ مقدسہ پر سنگباری کر رہا تھا اور آتش گیر مادہ پھینک رہا تھا، یزید کو موت کے فرشتے نے آ دبوچا اور جب اس کے مرنے کی اطلاع اس لشکرکو پہنچی تو اپنا محاصرہ اٹھا کر بے نیلِ مرام خائب و خاسر شام کو لوٹ گیا۔
تین سال ساڑھے سات ماہ کی اس مختصر مدت میں تاریخ نے یزید کے جن کارناموں کو بطورِ یادگار محفوظ رکھا ہے۔ وہ یہی واقعات ہیں۔ ہمیں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ یزید نے کوئی نیا ملک فتح کیا ہو۔ کسی دشمن کے قلعہ پر قبضہ کیا ہو۔ اندرونِ ملک رعایا کی فلاح و بہبود کے لیے اہم اقدامات کئے ہوں۔ جس شخص کی ساری زندگی کا سرمایہ گلشنِ خانوادئہ نبوت کی بربادی ۔ ہجرت گاہِ مصطفی علیہ التحیة والثنا کی بربادی اور کعبہ مشرفہ پر سنگباری ہو، اس کی توصیف و تعریف میں لوگ زمین و آسمان کے قلابے ملاتے رہیں، دفتروں کے دفتر سیاہ کرتے رہیں، وہ یزید کے دامن کے بد نما داغوں میں سے ایک داغ بھی نہیں دھو سکتے۔ اور جن رفعتوں اور بلندیوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کے نواسے حضرت امام حسین کو فائز کیا ہے وہاں سے انہیں ہٹایا نہیں جا سکتا۔
یزید کے محامد کا جائزہ
جب یزید کے متوالوں کو اپنے ممدوح کی سیرت میں کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس کی بنیاد پر وہ ا س کی عظمت کا قصر تعمیر کر سکیں، تو پھر وہ اس حدیث پاک کا سہارا لیتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اول جیش من امتی یغزون مدینة قیصرمغفور لھم
ترجمہ: یعنی میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر پر حملہ کرے گا وہ بخشا ہوا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ یزید بھی اس پہلے لشکر میں شامل تھا۔ اس لیے حضور علیہ الصلوٰة والسلام کے ارشاد کے مطابق وہ بھی مرحوم و مغفور ہے اور جنتی ہے۔
آئیے! تاریخ کے آئینے میں پہلے یہ تحقیق کر لیں کہ کیا وہی لشکر پہلا لشکر تھا جس میں یزید شامل ہوا یا اس سے پہلے بھی اسلامی مجاہدین نے قسطنطنیہ پر حملے کا شرف حاصل کیا۔
علامہ ابن کثیر کی یہ عبارت ملاحظہ فرمائیے:
وفیھا (۳۲ھ) غزا معاویہ بلاد الروم حتی بلغ المضیق مضیق القسطنطنیہ۔ (البدایہ ص ۱۵۹۔ ج ۷)
یعنی ۳۲ ہجری میں حضرت امیرمعاویہ نے مملکت روم کے شہروں پر حملہ کیا یہاں تک کہ قسطنطنیہ کی تنگ نائے تک پہنچ گیا۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ پہلا لشکر یہ تھا اور اس میں یزید شامل نہیں تھا، اس کی عمراس وقت چار یا پانچ سال کے لگ بھگ تھی۔
علامہ ابنِ خلدون لکھتے ہیں:
ودخل المسلمون سنة اثنتین واربعین الی بلاد الروم فھزموھم وقتلوا جماعة من البطارقة واثخنوا فیھا ثم دخل بسر بن ارطاط ارضھم ثلاث واربعین ومشیٰ بھا وبلغ القسطنطنیہ۔ (ابن خلدون صفحہ ۱۹، ج ۳)
ترجمہ: ۴۲ھ میں مسلمان بلادِ روم میں داخل ہوئے اوانہیں شکست دی اور بہت سے بطریقوں کو تہ تیغ کیا۔ پھر ۴۳ھ میں بسر بن ارطاط بلاد روم میں داخل ہوئے اور آگے بڑھتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ قسطنطنیہ تک جا پہنچے۔
ابنِ جریر اور ابن اثرنے بھی یہ قول نقل کیا ہے اور اسے واقدی کی طرف منسوب کیا ہے، اس کے بعد لکھا ہے کہ چند موٴرخین نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ بسر نے بلادِ روم پر حملہ کیا ہو، لیکن ابن خلدون جیسے نقاد موٴرخ کا اس قول کو نقل کرنے پر اکتفاء کرنا اس بات کی شہادت ہے کہ ابن خلدون کواس قول کی صحت پراعتماد ہے، لیکن اگر ان روایات کو قابلِ اعتناء نہ سمجھا جائے بلکہ اس پراصرار ہو کہ پہلا لشکر وہی تھا جس میں یزید شامل تھا۔ تو آئیے! آپ کو ایک عجیب و غریب بات بتائیں جس سے جہاد کے بارے میں یزید کے ذوق و شوق کا آپ بآسانی اندازہ لگا سکیں گے۔
علامہ ابنِ خلدون لکھتے ہیں:
ثم بعث معاویہ سنة خمسین جیشاکثیفاً الی بلاد روم مع سفیان بن عوف و ندب یزید ابنہ معھم فتثاقل فترکہ۔ (ابن خلدون ص ۱۹ جلد ۳)
ترجمہ: ۵۰ ہجری میں حضرت امیرمعاویہ نے ایک لشکرِ جرار سفیان بن عوف کی قیادت میں بلادِ روم پر حملہ کرنے کے لیے روانہ کیا اور اپنے بیٹے یزید کو بھی کہا کہ وہ اس لشکر میں شریک ہو، لیکن اس نے بڑی گرانی کا اظہار کیا۔ چنانچہ آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔
اس کے بعد علامہ ابنِ خلدون لکھتے ہیں:
ثم بلغ الناس ان الغزاة اصابھم جوع ومرض وبلغ معاویة ان یزید انشد فی ذلک #
ما ان ابا لی بما لا قت جموعھم
بالفد فد البید من حمّی ومن شوم
اذا اتطأت علی الانماط مرتفقا
بدیر مرّان عندی ام کلثوم
(ھی امرأتہ) فحلف لیلحقن بھم فساد فی جمع کثیر
(صفحہ ۲۰، ج ۳، ابن خلدون)
ترجمہ: پھر لوگوں کو یہ اطلاع ملی کہ اس لشکر میں جو مجاہدین شریک ہوئے تھے انہیں بھوک ا ور بیماری نے ہلکان کر دیا ہے۔ حضرت امیرمعاویہ کو بھی یہ بتایا گیا کہ جب اس لشکر کی خستہ حالی کی اطلاع یزید کو پہنچی تو اس نے یہ رباعی پڑھی:
مجھے اس بات کی قطعاً کوئی پروا نہیں ہے کہ بخار اور بدقسمتی کی وجہ سے اس کھلے صحرا میں لشکروں پر کیا گزری
جب کہ میں نرم و گداز قالینوں پر دیر مرّان میں بیٹھا ہوا ہوں اور میرے پہلو میں ام کلثوم موجود ہے۔ (یہ یزید کی بیوی تھی)۔
تو امیر معاویہ نے اس کو قسم دے کر مجبور کیا کہ وہ ہر قیمت پر لشکر میں شریک ہو یہی واقعہ بعینہ کامل ابن اثر میں بھی موجود ہے۔ (تاریخ کامل ص ۴۵۸، جلد ۳)
یہ پڑھنے کے بعد روز روشن کی طرح آپ پر عیاں ہو گیا ہو گا کہ یزید کے دل میں جہاد کا کتنا جذبہ تھا۔ حضرت امیرمعاویہ کے مجبور کرنے کے باوجود بھی اس نے جانا گوارا نہ کیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان مجاہدین کی بھی اس کے دل میں کوئی قدر و منزلت نہ تھی۔ قدرومنزلت تو رہی اپنی جگہ اس کے ان شعروں سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے دل میں ان غازیوں کے لیے ہمدردی کا جذبہ بھی مفقود تھا، بلکہ وہ ان کا مذاق اڑاتا تھا۔ اور اپنی بزم طرب کو اس جہاد پر ترجیح دیتا تھا۔ حضرت امیر معاویہ اس کی رباعی سن کر بے تاب ہو جاتے ہیں اور اس کو قسم دے کرمجبور کرتے ہیں کہ وہ ضرور اس مہم میں شریک ہو۔
مجاہد وہ نہیں ہوتا جسے زنجیروں میں باندھ کرمیدانِ جہاد میں ڈال دیا جائے۔ ایسا شخص اللہ تعالی کے حضور میں جس قسم کے اجر کا مستحق ہوتا ہے اس کا آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ غزوہ میں یزید کی شرکت طوعاً نہ تھی بلکہ کرہاً تھی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کی نیت سے گھر سے نہیں نکلا تھا بلکہ اپنے والد بزرگوار کے اصرار نے اس کے لیے فرار کی ساری راہیں بند کردی تھیں۔ اگر اس قسم کے آدمی کو آپ اس زمرہ میں شمار کرتے ہیں جن کے لیے زبانِ نبوت نے مغفورلہم کا مژدہ سنایا ہے تو ہم آپ کی فراخ دلی کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے۔
نیز حضور کا یہ ارشاد ”مغفور لہم“ عام ہے، لیکن اگر کوئی خاص دلیل پائی جائے تو اس عموم میں داخل افراد کو اس خاص دلیل سے نکالا جا سکتا ہے جیسے حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
”من قال لا الٰہ الا اللہ دخل الجنة“۔
کہ جس شخص نے بھی لا الٰہ الا اللہ کہا وہ جنت میں داخل ہو گا، لیکن اگروہ صرف زبان سے کہتا ہے دل سے نہیں کہتا تو وہ اس بشارت کا مستحق نہیں ہو گا۔ اور اگر وہ ایک مرتبہ دل سے بھی کہتا ، لیکن بعد میں مرتد ہو جاتا ہے، تو بھی وہ اس بشارت سے خارج ہو جائے گا۔ یہاں بھی اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ یزید اس پہلے لشکر میں جہاد کی نیت سے شریک ہوا تب بھی اس کے بعد جو سیاہ کاریاں اپنے عہد حکومت میں اس سے سرزد ہوئیں ان میں سے ہر ایک اس کو اس بشارت سے خارج کرنے کے لیے کافی ہے۔
علامہ بدر الدین عینی اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مہلب اور اس کے دوسرے ہم مشرب لوگوں نے اس حدیث کو یزید کے لیے بطورمنقبت ذکر کیا ہے۔
قلت ای منقبة کانت لیزید وحالہ مشھور۔
یزید کے لیے اس حدیث میں تعریف کا کون سا پہلو ہے جب کہ اس کی کارستانیاں اظہر من الشمس ہیں۔ علامہ موصوف اس کے بعد لکھتے ہیں:
لا یختلف اھل العلم ان قولہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مغفور لھم، مشروط بان یکونوا من اھل المغفرة حتی لوارتد واحد ممن غزاھا بعد ذلک لم یدخل فی ذلک العموم فدل علی ان المراد مغفور لمن وجد شرط المغفرة فیہ“۔
ترجمہ: یعنی اہلِ علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضور کا یہ ارشاد ”مغفور لہم“ اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ وہ مغفرت کے مستحق ہوں یہاں تک کہ اگر کوئی شخص ان میں سے مرتد ہوجاتا ہے تو وہ اس عموم میں داخل نہیں ہو گا۔ پس معلوم ہوا کہ مغفور وہی ہو گا جس میں مغفرت کی شرط پائی جائے گی۔ (عمدة القاری۔ کتاب الجہاد)
علامہ قسطلانی نے بھی اپنی ”ارشاد الساری“ شرح بخاری میں یہی عبارت نقل کی ہے اور انہی خیالات کااظہار کیا ہے۔ (”ارشاد الساری“ ج۵، ص ۱۲۴)
کیا یزید لعنت کا مستحق ہے؟
یزید کے طرف داراس سلسلہ میں امام غزالی رحمة اللہ علیہ کا فتویٰ پیش کرتے ہیں کہ آپ نے یزید پر لعنت کرنے سے منع کیا ہے۔
گزارش ہے کہ امام غزالی کی اپنی رفعت شان اور علو مقام کے باوجود امامِ مجتہد نہیں بلکہ حضرت امام شافعی رحمة اللہ علیہ کے مقلد ہیں اور یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ جب امام اور اس کے مقلد کے اقوال میں تعارض آ جائے تو ترجیح امام کے قول کو دی جائے گی۔ علامہ ابن خلقان نے اپنی مشہور کتاب ”دفیات الاعیان“ جلد دوئم صفحہ ۴۴۹ میں ابو الحسن علی بن محمد المعروف بالکیا الہراسی الفقیہ الشافعی جو عماد الدین کے لقب سے ملقب تھے، کا فتویٰ نقل کیا ہے جو درج ذیل ہے:
وسئل الکیا الھراسی ایضا عن یزید معاویة قال انہ لم یکن من الصحابة لانہ ولد فی ایام عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ واما قول السلف فی لعنة ففیہ لا حمد قولان تلویح وتصریح اولما لک قولان تلویح وتصریح ولا حنیفة قولان تلویح و تصریح ولا قول واحد التصریح دون التلویح وکیف لا یکون کذلک وھو الاعب بالنرد والمتصید بالفھود ومد من الخمر وشعرہ فی الخمر معلوم ․․․․․․ الخ
ترجمہ: الکیا الہراسی سے یزید کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے جواب دیا کہ وہ صحابہ میں سے نہیں تھا، کیونکہ اس کی ولادت عہد فاروقی میں ہوئی اور اس پر لعنت بھیجنے میں سلف صالحین سے یہ منقول ہے۔ اس بارے میں امام احمد بن حنبل کے دو قول ہیں کہ تلویح اور تصریح یعنی کنایةً لعنت یا صراحتہً لعنت۔ امام مالک کے بھی دو قول ہیں تلویح اور تصریح۔ امام ابو حنیفہ کے بھی دو قول ہیں تلویح اور تصریح۔ اور ہمارا (یعنی امام شافعی کا) ایک ہی قول ہے یعنی تصریح۔ اس پر صراحةً لعنت بھیجی جائے اور ایسے کیوں نہ کیا جائے جب کہ وہ شطرنج کھیلتا تھا، لومڑیوں کے لیے شکار کھیلتا تھا۔ ہمیشہ شراب پیتا تھا اور شراب کی تعریف میں اس کے اشعار مشہور و معروف ہیں۔
چنانچہ انہوں نے چند اشعار بھی لکھے ہیں۔
گویاآئمہ اربعہ میں سے کوئی بھی یزید پر لعنت نہ بھیجنے کا قائل نہیں تھا۔ فرق صرف صراحةً اورکنایہ کا تھا۔ ان کے قول کے مطابق امام شافعی تصریح کے قائل ہیں۔ جب امام غزالی، امام شافعی کے مقلد ہیں تو ترجیح امام شافعی کے قول کو ہی دی جائے گی۔
ابنِ جوزی نے قاضی ابو یعلیٰ سے روایت کیا ہے کہ امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے ”صالح“ نے ان سے عرض کی:
ان قوما ینسبوننا الی یزید فقال یا بنی ھل یتولی یزید احمد یومن باللہ ولم لا لعن من لعنہ اللہ فی کتاب فقلت واین لعن اللہ یزید فی کتابہ فقال فی قولہ تعالیٰ فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم اولٰئک الذین لعنھم اللہ فاصمھم واعمی ابصارھم فھل یکون فساد اعظم من القتل۔ (الصواعق المحرقة، ص ۱۳۲)
ترجمہ: ایک قوم ہماری طرف اس بات کو منسوب کرتی ہے کہ ہم یزید کے دوست اور حمایتی ہیں۔ آپ نے فرمایا: اے بیٹا! جو شخص اللہ تعالیٰ پرایمان لاتا ہے وہ یزید کی دوستی کا دم بھر سکتا ہے؟ اور اس پر لعنت کیوں نہ بھیجوں جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں لعنت بھیجی ہے میں نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے کس جگہ پر اپنی کتاب میں یزید پر لعنت بھیجی ہے۔ فرمایا:
اپنے اس ارشاد میں فھل عسیتم الآیة پھر تم سے یہ توقع ہے کہ اگر تم حکمران بنا دیے جاوٴ، تو زمین میں فساد برپا کرو اور قطع رحمی کرو۔ ایسا کرنے والے وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت بھیجی ہے۔ پس بہرہ کر دیا ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں، اور اندھا کر دیا ہے ان کی آنکھوں کو اب بتاوٴ کیا قتل حسین سے بھی کوئی فساد بڑا ہے۔
احناف کے عقائد کی کتاب شرح عقائد نسفی کے محشی نے ”النبراس“ میں تصریح کی ہے:
وبعضھم اطلق اللعن علیہ منھم ابن الجوزی المحدث وصنف کتاباً سماہ الرد علی المتعصب العنید المانع عن ذم یزید، ومنھم الامام احمد بن حنمل ومنھم القاضی ابو یعلی۔ (نبراس شرح، شرح عقائد ص ۵۵۴)
ترجمہ: بعض نے یزید پر مطلقاً لعنت کو جائز قرار دیا ہے۔ ان میں سے محدث ابنِ جوزی ہیں، انہوں نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کا نام الرد علی المتعصب العنید مانع عن ذم یزید ، انہی میں سے امام احمد بن حنبل اور قاضی ابو یعلی وغیرہ حضرات ہیں۔
علامہ قسطلانی اپنے ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں رقمطراز ہیں:
وقد اطلق بعضھم فیما نقلہ المولی سعد الدین اللعن علی یزید لما انہ کفر بقتل حسین واتفقوا علی جواز اللعن علی من قتلہ او امر بہ او اجازہ ورضی بہ والحق ان رضا یزید بقتل الحسین واستبشارہ بذلک واھانتہ اھل بیت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لما تواتر معناہ وان کان تفاصیلھا احاد او نحن لا نتوقف فی شانہ بل ایمانہ لعنة اللہ علیہ وعلی انصارہ واعوانہ
(ارشاد الساری ص ۱۴۲، جلد ۵)
ترجمہ: جس طرح علامہ سعد الدین تفتاازانی نے نقل کیا ہے۔ بہت سے علماء نے یزید پر لعنت بھیجنے کا قول کیا ہے، کیونکہ وہ سیدنا حسین  کے قتل سے دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا اور سب علماء کا اس امر پر اتفاق ہے کہ جس نے آپ کو قتل کیا، جس نے آپ کے قتل کا حکم دیا، جس نے آپ کو قتل کرنے کی اجازت دی اور جو اس قتل پر راضی ہوا۔ اس پر لعنت بھیجنا جائز ہے اور حق یہ ہے کہ یزید امام حسین کے قتل پر راضی ہوا، اور اس پر بہت خوش ہوا، اور اہلِ بیت کی اس نے اہانت کی۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو معناً متواتر ہیں۔ اگرچہ ان کی تفاصیل احاد ہیں اور ہم اس کے بارے میں اور اس کے کفر کے بارے میں ذرا شک نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ اس پر، اس کے دوستوں پر اس کے مددگاروں پر لعنت بھیجے۔
سرِّ دست ان چند حوالوں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ یہ علماء کرام اس بات پر متفق ہیں کہ یزید لعنت کا مستحق ہے۔ البتہ اس کا مستحق لعنت ہونا اور بات ہے اور سارے کام چھوڑ کر اس پر لعنت بھیجے کو اپنامعمول اور وظیفہ بنا لینا اور بات ہے۔ ہم اس کام میں وقت ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔ اس سے بہتر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کے رسولِ کریم اور آپ کی آلِ اطہار پر صلوٰة و سلام پڑھا جائے۔
مُحَمّدًصلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
امام حسین علیہ السلام اور یزید پلید
شعبان نظامی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا
ملک زوالفقار (07-01-12), آفتاب اعوان (06-01-12), حیدر (07-01-12)
پرانا 06-01-12, 02:02 PM   #95
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا میں صبح شام یزید کو گالیاں دوں تو میری بخشش یقینی ہے ؟؟
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (06-01-12), مرزا عامر (07-01-12), احمد نذیر (06-01-12), حیدر (07-01-12), شعبان نظامی (06-01-12)
پرانا 06-01-12, 02:24 PM   #96
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,187
شکریہ: 439
140 مراسلہ میں 371 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
کیا میں صبح شام یزید کو گالیاں دوں تو میری بخشش یقینی ہے ؟؟
اس کے لیے نص قطعی کی ضرورت ہو گی؟؟؟؟
دیکھئے فیصل صاحب! یزید میں بہت سی خصوصیات پائی جاتی تھیں۔۔۔۔۔۔

کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا ذمہ دار یزید ہے۔
ایک روایت لائی جاتی ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام کا سر انور یزید کے سامنے لایا گیا تو اس نے اپنا سر پکڑ لیا اور ابن زیاد کو کافی ڈانٹا۔۔۔۔۔۔۔ اسی قسم کے الفاظ۔۔۔۔۔۔۔
اب آپ دیانت داری سے بتائیں بالفرض یزید واقعہ کربلا کا ذمہ دار نہیں تھا یعنی اس نے آپ کو شہید کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔۔۔۔۔۔
انصاف ملاحظہ فرمائیے!!! ایسا شخص جس نے خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اتنی بے دردی سے شہید کیا اور یزید صاحب اس سے قصاص لینے کے بجائے فقط اسے ڈانٹ رہے ہیں معزول تک نہیں کیا!!!!
کیا یہ انصاف ہے؟؟؟؟؟؟؟

یزید مکہ و مدینہ کی بے حرمتی میں بھی وہ ملوث تھا۔

آپ مکہ و مدینہ اور خانہ کعبہ کی بے حرمتی پر بھی خاموش ہیں۔ اب آپ کی ایسی محتاط سوچ پر میں کیا کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔
شعبان نظامی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا
حیدر (07-01-12), حیدر Rehan (07-01-12)
پرانا 06-01-12, 07:39 PM   #97
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شعبان نظامی مراسلہ دیکھیں
شکاری صاحب
سلام علیک!

محترم! آپ کا رویہ دوہرا۔ جب میں نے ایک تھریڈ میں یزید کو لعن طعن کیا تو آپ جھٹ سے مختلف ائمہ کی روایات لے کر وارد ہوئے اور بڑی شد و مد کے ساتھ اس بات پر زور دیتے رہے کہ یزید کے بارے میں خاموشی ہی سب سے بہتر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اب یہاں پر تو بہت سے لوگ یزید کے چاہنے والے آ گئے ہیں مگر ان کے بارے آپ بالکل خاموش ہیں؟؟؟؟؟؟

اب یہاں پر چونکہ یزید ہی موضوع بحث ہے اس لیے میں ضرور چاہوں گا کہ اس شخص کا اصل چہرہ لوگوں کے سامنے لایا جائے۔ یزید کو ملعون کرنے کے حوالے سے بعض اہل سنت کا خاموشی کا موقف ہے لیکن یزید کی تعریف فضائل بیان کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔ھذا پرابلم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیدر بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی، کھچڑی قسم کے دھاگوں‌میں‌بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس وجہ سے خود کو دور رکھا ہے۔ تھریڈ شروع کرنے والے صاحب نے چلاّ چلاّ کر فرمایا ہے کہ یزید موضوع بحث نہیں‌بلکہ ظالمانہ قتل کا شرعی حکم معلوم کرنا مقصود ہے۔ لیکن ہمارے بھائی لوگ اکثر و بیشتر جذباتی ہی واقع ہوئے ہیں۔ لہٰذا موضوع کا تعین خود ہی کر لیتے ہیں۔ بہرحال، یزید جس دھاگے کا موضوع تھا وہاں آپ نے اور ہم نے اپنا موقف بخوبی بیان کر دیا اب ہر موضوع میں‌اسی بحث کو گھسیٹ لانے کا کم سے کم میں تو طرفدار نہیں۔ اس لئے ایک بار پھر اس موضوع پر گفتگو سے معذرت قبول فرمائیں۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
skjatala (07-01-12), حیدر (07-01-12), شعبان نظامی (07-01-12)
پرانا 06-01-12, 10:05 PM   #98
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
سلام ان پر جو ’علم‘ کے طلبگار ہیں

اگر کوئی یہ رائے رکھتا ہے کہ میرے پاس جواب نہی ہے تو یہ انکی اپنی رائے ہے۔
میں اپنے جواب کو قدرے مستحکم کررہا ہوں اور اس پر بعد میں ہونے والے تمام سوالات پر غور کررہا ہوں۔

اور عرب و فارس اور پاکستان و ہندوستان کے جوابات پڑھونگا تو یہ بھی کہہ سکونگا کہ
یہ ’میرا جواب‘ ہے اور یہ بھی کہ

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے دیا جلا کے سرِ عام رکھ دیا
آپ تسلي و اطمينان سے‌جواب كو قدرے نہيں مكمل طور پر مستحكم كيجئے۔۔‌اور خوب غور كيجئے مجھے‌كوئي جلدي نہيں۔۔۔۔‌ويسے بھي اس دھاگے كا موضوع يزيد يا حسين رضي اللہ تعالي عنہ نہيں ہيں۔۔۔۔‌وہ تو حيدر بھائي كي بار بار كي وضاحت المعروف بے بسي پر ميں نے اپنا ايك بطخہ چھوڑ ديا تھا۔۔۔ اب لگتا ہے يہاں دنگل ہونے‌والا ہے۔۔۔ كيوں‌كہ كافي شہ سوار آ‌گے ہيں۔۔۔سو آپ‌كے‌جواب اور اس كے‌استحكام كا انتظار ہے۔۔۔ بس اتنا خيال كيجئے‌گا كا قائم آل محمد كي تشريف آوري سے قبل ہي دے ديجئے‌گا كيوں‌كہ اس كے بعد بقول آپ‌موجودہ قرآن اور اس كي تفسير كي ضرورت ہي باقي نہيں رہے‌گي۔۔‌تو آپ‌كے‌مستحكم جواب كا ہم كيا كريں‌گے۔۔۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔

Last edited by شمشاد احمد; 06-01-12 at 10:07 PM.
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (07-01-12), skjatala (07-01-12), حیدر (07-01-12), شعبان نظامی (07-01-12)
پرانا 07-01-12, 04:35 PM   #99
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,187
شکریہ: 439
140 مراسلہ میں 371 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ھذا پرابلم

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
بھائی، کھچڑی قسم کے دھاگوں‌میں‌بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس وجہ سے خود کو دور رکھا ہے۔ تھریڈ شروع کرنے والے صاحب نے چلاّ چلاّ کر فرمایا ہے کہ یزید موضوع بحث نہیں‌بلکہ ظالمانہ قتل کا شرعی حکم معلوم کرنا مقصود ہے۔ لیکن ہمارے بھائی لوگ اکثر و بیشتر جذباتی ہی واقع ہوئے ہیں۔ لہٰذا موضوع کا تعین خود ہی کر لیتے ہیں۔
آپ میری بات سمجھ نہیں پائے۔
دیکھئے! میں نے تو یہاں پر یزید کی بات شروع نہیں کی جو آپ مجھ پر الزام لگائیں کہ میں نے خود ہی موضوع کا تعین کر لیا۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
بہرحال، یزید جس دھاگے کا موضوع تھا وہاں آپ نے اور ہم نے اپنا موقف بخوبی بیان کر دیا اب ہر موضوع میں‌اسی بحث کو گھسیٹ لانے کا کم سے کم میں تو طرفدار نہیں۔ اس لئے ایک بار پھر اس موضوع پر گفتگو سے معذرت قبول فرمائیں۔
بالکل میں بھی نہیں چاہتا تھا کہ یہاں‌پر یہ بحث کرتا اور میں نے شروع میں ایسا ہی کیا۔حتی کہ میں نے مراسلہ لکھ کر پھر ڈیلیٹ کر دیا۔
مگر جب یہاں پر ایسی بے لاگ گفتگو ہوئی جس کا نہ سر نہ دھڑ تو پھر میں نے پوسٹ کی مجبورا۔


اب میں آتا ہوں کہ میں آپ پر کیا الزام عائد کیا۔ آپ صرف اس کا جواب دیں!!!!!!
میں نے آپ سے کہا کہ آپ یزید والے تھریڈ میں مجھے تو بہت زیادہ تلقین کر رہے تھے کہ اسے لعنتی
اور جہنمی نہ کہوں اور نہ ہی اسے جنتی اور امیر المومنین جیسے القابات سے نوازوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب آپ اپنا رویہ دیکھیں کہ مجھے تلقین کر رہے ہیں کہ اسے لعن طعن نہ کروں مگر یہاں محبانِ یزید کے لیے آپ بالکل خاموش ہیں؟؟؟؟؟؟؟
ما ھذا؟؟؟؟؟؟
شعبان نظامی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (08-01-12), ملک زوالفقار (07-01-12), شمشاد احمد (08-01-12)
پرانا 07-01-12, 09:44 PM   #100
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 45
کمائي: 878
شکریہ: 179
24 مراسلہ میں 64 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
کیا میں صبح شام یزید کو گالیاں دوں تو میری بخشش یقینی ہے ؟؟
آپ بات کو سمجھنے کی کوشش کریں الٹی طرف بات کو نہ لے کر جایں
ملک زوالفقار آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ملک زوالفقار کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (08-01-12), سائل (07-01-12), شمشاد احمد (08-01-12), شعبان نظامی (08-01-12)
پرانا 07-01-12, 09:58 PM   #101
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ نے بات کو سمجھنے کی کتنی کوشش کی ؟
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (08-01-12), شمشاد احمد (08-01-12), شعبان نظامی (08-01-12)
پرانا 09-01-12, 02:33 PM   #102
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
کیا میں صبح شام یزید کو گالیاں دوں تو میری بخشش یقینی ہے ؟؟
دوران حج سنت ابراہم علیہ سلام میں حجاج کرام کو شیطان پر کنکریاں مارنے کا لازمی حکم ہے اب اگر کوئی شیطان کو کنکریاں مارے ایسی حالت میں کہ دل ہی نہ ماننے تو

کیا ’صبح شام شیطان کو کنکریاں مارتے رہنے سے کسی کی بخشش ہوسکتی ہے ؟یا صرف حج ہی قبول ہوسکتا ہے ؟

جواب یقینا نفی میں ہوگا

تومیرا جواب بھی یہی ہے کہ ’صبح شام یزید کو گالیاں دینے سے بھی بخشش نہی ہوسکتی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔

لیکن جو لوگ معرفت دین ِاسلام رکھتے ہیں ان کا صرف تین بار ہی کنکریاں مارنا یقینا اللہ قبول کرلیے گا اور بخشش ہوجائے گی اور حج بھی قبول ہوگا۔


تو یہاں ضرورت کنکریاں مارنے سے زیادہ معرفت کی ہے
تو جو کنکریاں مار رہے ہیں انھیں بھی سوچنا چاہیے کہ اور جو ’کنکریاں مار نہی سکتے‘ انھیں بھی سوچنا چاہیے

کیا اللہ نے توفیق تو نہی چھین لی کہ شیطان کو کنکریاں مار سکیں ؟؟
۔۔۔۔۔۔۔میں کیا کہہ سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔حالات تو یہی بتارہے ہیں کہ شائد
اللہ نہی چاہتا کہ کربلا کے بعد بھی واقعہ کربلا کے زریعے ایسے لوگوں کی بخشش ہو جو حد سے گزرے ہوئے ہوں ۔

اب یہاں معرفت سے پہلے توبہ کی ضرورت پڑے گی
شائد اللہ توبہ قبول کرلے اور معرفت حاصل ہو اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپ بھی ہمارے ساتھ ۔۔۔۔۔کو کنکریاں ماریں ۔

جسٹ غور کریں ۔۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-01-12), شمشاد احمد (20-01-12), شعبان نظامی (17-01-12)
جواب

Tags
فورم, ہے۔, کوشش, گئی, یا, وقت, قرآنی, قران, نبوی, مسلمانوں, معلوم, اللہ, انسان, بے, جانے, جرم, حکم, خود, دے, دنیا, شخص, طور, عدالتی, عظیم, صادق


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:16 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger