آئین، جنابِ والا آئین ..ناتمام…ہارون الرشید
رحم کرو، خد اکے لیے اس ملک پہ رحم کرو۔
سلمان تاثیر کیس میں ایک سے بڑھ کر ایک فلسفہ ہے لیکن کسی کو انصاف کی فکر بھی ہے؟ عدل ہی معاشروں کو جما جڑا رکھتا ہے۔ آئین کے تحت ، قانون کے تحت۔ علّامہ جاوید غامدی یوں تو ادھورے آدمی ہیں۔ اسلام کی روح سے زیادہ الفاظ کے لیکن ایک بات ان کی سو فیصد درست ہے: آئین کو اگر مقدس نہ مانا جائے گا تو ملک کو قرار حاصل نہ ہوگا۔
آسیہ بی بی کیس میں عدالت نے فیصلہ کیا تھا۔ گوارا یا ناگوار ، اسے قبول کیا جاتا یا اعلیٰ تر عدالت سے رجوع۔ شک کا فائدہ دے کر اعلیٰ عدالتیں ملزموں کو ہمیشہ بری کرتی آئی ہیں۔ اسّی کے اسّی مقدمات میں ۔ گورنر مرحوم کو پریس کانفرنس نہ کرنی چاہئیے تھی۔ یہ نہ کہنا چاہئیے تھا کہ صدر صاحب آسیہ بی بی کو معاف کر دیں گے۔ عدالت رہا کرتی۔۔۔ اور یہ تو ہولناک تھا کہ قانونِ ناموسِ رسالت کو کالا قانون کہا ۔ اب سبھی مانتے ہیں کہ قانون درست ہے اور معاملہ بے حد نازک۔ وزیر داخلہ نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر ان کے سامنے کوئی توہینِ رسالت کرے تو وہ اسے گولی مار دیں( قانون ہاتھ میں لینے کا جواز کیا ہوگا؟) ۔ بابر اعوان کہہ چکے کہ ان کے جیتے جی کوئی اس قانون میں ترمیم نہیں کر سکتا۔ پیپلز پارٹی اور اس کے ترقی پسند دانشوروں کی طرف سے پیش کئے جانے والے موقف کا کھوکھلا پن اور تضادآشکار ہے ۔ سانحہ کے بعد حکمران جماعت کے دو ہدف ہیں ۔ ایک مذہبی پارٹیاں اور دوسرا شریف خاندان۔انصاف نہیں،قاتل کو سزا نہیں، حریفوں سے وہ بدلہ چاہتے ہیں۔ بابر اعوان ، راجہ ریاض اینڈ کمپنی نے کسی دلیل کے بغیر شریف برادران کو مجرم قرار دے دیا۔ یہ تکرار البتہ جاری رہے گی کہ مفاہمت ان کی سیاسی پالیسی ہے۔سبحان اللہ، سبحان اللہ۔
اسلام آباد انتظامیہ کے اعلیٰ افسر میت لے کر لاہور گئے تو گورنر سلمان تاثیر کے خاندان نے مقدمہ درج کرانے سے انکار کر دیا۔ عاصمہ جہانگیر کو بلایا گیا تو انہوں نے مذہبی جماعتوں کے خلاف مقدمہ داغنے کا مشورہ دیا۔ وہی برصغیر کا مقدمہ بازی کا مزاج کہ حادثہ ہو جائے توہر اس شخص کو پھنسا دیا جائے، جس سے ذاتی یا "نظریاتی"عداوت ہے ۔ مرحوم گورنر کی پریس کانفرنس اور شیریں رحمٰن کے مسوّدہ قانون جمع کراتے ہی آشکار تھا کہ طوفان اٹھے گا۔ بزرجمہر جو نہیں جانتے کہ معاشرے اتفاقِ رائے میں جیتے اور پھلتے پھولتے ہیں۔ قومی اور مذہبی جذبات کو ٹھیس نہ لگانی چاہئیے۔ ضد ایسی شدید کہ طوفان دیکھ کر بھی نہیں ٹلتے۔ معاشرہ منقسم ہے ، معیشت برباد، سیاست بے حد الجھی ہوئی، ملک کا مستقبل داؤ پر لیکن جذبات کا کھیل جاری ہے ۔ ہر شخص اپنے تعصبات کے پھریرے لہراتا ہوا۔ داناؤں کی دانا عاصمہ جہانگیر کل بھی فرما رہی تھیں کہ ایک میڈیا گروپ ان کے خلاف ہے۔ اختلاف رائے کے تین چار پیراگراف اور اسی اخبار میں کم از کم چالیس پچاس پیراگراف ان کی مدح میں لیکن اخبار ہی نہیں ، میڈیا گروپ ان کا مخالف ہے۔ پھر پوری قوم پہ احسان : اب بھی میں آزادیء اظہار کی قائل ہوں۔ مغرب کے نقطہ نظر سے وہ اس ملک کو دیکھتے ہیں مثلاً افغان مسئلے کو کبھی روس اور کبھی امریکی مفادات کی نظر سے اور اس پر علم و ادراک کا گھمنڈ
بجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو، پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو
تمام قومی ادارے ہمیشہ قوم کے مجموعی مزاج کو ملحوظ رکھ کر تعمیر ہوتے ہیں، جس طرح 1973کا آئین بھٹو نے بنایا تھا۔
تمام قوانین اسلام کے مطابق۔ اسلام کی اساس دو چیزیں ہیں۔ قرآن اور سنت۔ رحمتہ اللعالمین کی توہین ، اسلام کی عمارت کے دو ستونوں میں سے ایک کو گرا دینے کے مترادف ہے۔ جذبات کا نہیں ، یہ عقیدے کا معاملہ ہے ، ایمان کا۔ پانچ کے پانچ ، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اورجعفریہ مکاتبِ فکر سو فیصد اس پر متفق ہیں۔ اقبال# سے بڑھ کر کسی مفکر پر اتفاقِ رائے نہ ہوا، وہ بھی۔ بات سمجھ میں نہیں آتی تو ناموسِ رسالت کے قانون پر ریفرنڈم کرا لیجئے۔ کسی ایک شہر میں کوئی ادارہ سروے کرلے۔ 90فیصد لوگ اس قانون کے حامی ہیں۔ جو دانشور معترض ہیں، ان میں لاہور والوں کو میں جانتا ہوں۔ اقبال علیہ رحمہ اور قائداعظم علیہ رحمہ ہی نہیں ، اسلام کا بھی وہ مذاق اڑاتے ہیں۔ نام اورتفصیل نہ لکھوں گا کہ فتنہ بدترین گناہ اور عظیم ترین جرم ہے ۔ سوال بالکل سادہ ہے : آپ لوگ اپنی رائے ہم پر مسلّط کیسے کر سکتے ہیں؟ دانا اتنے ہیں کہ زندگی کے اولین سوال پر غور کرنے کی کبھی فرصت نہ پا سکے: اس حیات اور کائنات کو کس نے پیدا کیا۔ شرعی قوانین سے بحث کرتے ہیں حالانکہ قرآن کریم، حدیث اور اسلام کی علمی روایت کو چھوا تک نہیں۔ درختوں کی جڑیں زمین اور اداروں کی قومی مزاج ، تمدن ، تاریخ اور روایات میں ہوتی ہیں۔ مغربی تحریکوں کے زیرِ اثر یہ مفکرین ہوا میں جھولتے ہیں اور قوم سے ان کا مطالبہ یہ ہے کہ وہ بھی خلا میں معلق رہے۔ عام لوگوں کا اندازِ فکر عملی ہوتا ہے ۔ وہ احساسِ کمتری سے اگنے والے فلسفوں کے جنگلوں میں نہیں جیا کرتے۔
اب دوسری طرف آئیے۔ مولانا فضل الرحمٰن کو سرکار سے جو کچھ سمیٹنا تھا ، سمیٹ کر باہر نکلے اور تحریکِ ناموسِ رسالت کا اعلان ہوگیا۔ ٹی وی پر اور اس کالم میں بار بارعرض کیا: جذبات کی آگ مت بھڑکائیے ، جلسہ جلوس کی ضرورت کیا ہے ؟ ناموسِ رسالت کے قانون کو کون چھیڑ سکتا ہے۔ بحث مطلوب ہے تو اٹھارویں ترمیم کی طرح پارلیمنٹ ہاؤس کے کسی بند کمرے میں کر لیجئے۔ مشاورت کا دائرہ بتدریج بڑھا کر اتفاقِ رائے۔ بعض مقدمات عدالتیں بند کمروں میں سنا کرتی ہیں۔ یہ ویسا ہی معاملہ ہے۔ مسئلہ ہے قانون کے غلط استعمال کا۔ روکا جا سکتا ہے۔ بدنیتی سے الزام لگانے والے کے لیے سزا کا تعین ، ایک نئے قانون سے۔ یوں محترمہ عاصمہ جہانگیر سے پوچھیے: کیا قتل کے قانون کی وجہ سے ہر سال ہزاروں بے گناہوں کی زندگیاں برباد نہیں ہوتیں؟ کیا اسے ختم کر دیا جائے؟ کون سا قانون ، کون سا دفتر، کون سا ادارہ اور منصب ہے جو منفی مقاصد کے لیے برتا نہیں جاتا۔ خود ریاست بھی ۔ کیا سب کی بساط لپیٹ دی جائے؟ لیڈروں اور دانشوروں پہ خدا رحم کرے۔ سب کے سب معاشرے کو ادھیڑنے پر تلے ہیں۔ ترقی پسندوں کو اپنی دانائی اورعلماءِ کرام کو اپنے ایمان اور تقویٰ پرفخر بہت ہے ۔ غور لیکن وہ ہرگز نہ فرمائیں گے۔ اللہ کی کتاب سچ کہتی ہے : انسان بڑا ہی ظالم اور جاہل ہے ۔ اپنے آپ پر زعم ، اپنے فرض کی اہمیت سے بے خبر۔ سوچا: علماءِ کرام سے پوچھوں: اللہ کے نام پر بننے والے ملک کی آپ نے کیا خدمت کی؟ یاد آیا کہ ان میں جو زیادہ موثر ہیں، وہ تو پاکستان بنانے کے مخالف تھے۔ ریاست کو وہ مانتے نہیں، دہشت گردوں، حتیٰ کہ خود کش حملہ آوروں کی مذمت سے گریز ۔ ترقی پسند فرماتے ہیں: سیکولر ازم اختیار کیا جائے۔ کوئی انہیں تاریخ پڑھائے کہ مغرب میں ظالم چرچ حکمران تھا، جس کے خلاف بغاوت ہوئی۔ جیسا کہ قائداعظم علیہ رحمہ بار بار کہتے تھے:
اسلام میں پاپائیت کا وجود ہی نہیں۔ مسلم عوام علماء کوکارِ سیاست سے الگ دیکھنا چاہتے ہیں ۔ دو آدمیوں پر اتفاقِ رائے ہوا۔ اقبال علیہ رحمہ اور قائداعظم علیہ رحمہ ۔ بھٹو 35فیصد ووٹ لے کر جیتے، وہ بھی بھارت اور امریکی استعمار کے خلاف نعرہ زن ہو کر۔ غریب آدمی کے جذبات جگا کر۔ اعلان کیا کہ اسلام ہمارا دین ہے ۔ سوشلزم ترک کر کے مساوات محمدی کی اصطلاح وضع کی۔ قادیانیوں کو اقلیت کیا، حج کا کوٹہ ختم کر دیا۔ قوم کو مطمئن رکھنے کے لیے عالمِ اسلام سے قریبی روابط استوار کئے۔ دہلی کی دائم مخالفت کرتے رہے۔ ان کے وارث دوسرا ہی راگ گاتے ہیں۔ پہلے ماسکو اور اب واشنگٹن کا گیت۔اسلام آباد کے وکیلوں نے کمال کر دیاکہ قاتل پر پھول برسائے۔وہ کیا چاہتے ہیں؟انارکی؟ قانون کا خاتمہ؟ وزیر داخلہ کا بھی جواب نہیں کہ صبح سویرے ریمانڈ کی بجائے معاملے کو ملتوی کرتے رہے۔ کئی ایک بزرجمہر پولیس کو گالی دیتے رہے۔ اطلاعاً عرض ہے کہ مرحوم گورنر نے اسلام آباد پولیس کو دورے سے مطلع ہی نہ کیا تھا۔اسلام آباد پولیس کا قوم کو شکر گزار ہونا چاہئیے ۔ اوسطاً ہر ہفتے دو خودکش حملہ آور دارالحکومت میں داخل ہوتے ہیں۔ڈیڑھ سو گرفتار ہوئے ۔تحسین کی بجائے مذمت ؟پولیس کو حکومت اور بارسوخ لوگوں نے برباد کیا ۔ قوانین کے تحت آزادی سے کام کرنے دیا جائے تو آدھے جرائم فوراً ختم ہو جائیں۔یہاں مگر بھرتی میں سفارش، مناصب میں سفارش اور ایک ایک کیس میں سفارش۔اس کے بعد شکوہ کیا؟
رہنما اوردانشور پہلے ہی قوم کو تقسیم کر چکے،مزید تقسیم نہ کریں۔ اسے اعتدال پر رہنے دیں جو اس کا مزاج ہے اور جس پر بقا کا انحصار۔ آئین اور قانون کی اہمیت اجاگر کریں۔ طعنہ زنی کی بجائے دلیل دیں۔ پہلے ہی چوہدری، نواز شریف اور صدر آصف علی زرداری، جناب الطاف حسین اور حضرت مولانا فضل الرحمٰن اس کے مقدر میں ہیں۔ معیشت برباد، لوٹ مار بے حد؛چنانچہ استعمار پہ انحصار ۔۔۔ اب اورکیا؟ رحم کرو ، خدا کے لیے اس ملک پر رحم کرو۔
پسِ تحریر: جناب اعظم سواتی نے کہا: وزیر اعظم گیلانی 63سالہ تاریخ کے کرپٹ ترین آدمی ہیں۔ شاید ادھورا بیان چھپا۔پورا غالباً یہ تھا: گیلانی کرپٹ ترین ہیں اوریہ میں کہتا ہوں ، جو مولانا فضل الرحمٰن اور رحمت اللہ کاکڑ ایسے اجلے رہنماؤں کی پارٹی سے وابستہ ہے۔
اصل ماخذ