واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


آسیہ بی بی اور قانونِ توہین رسالت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-12-10, 06:18 PM   #1
آسیہ بی بی اور قانونِ توہین رسالت
sahj sahj آف لائن ہے 12-12-10, 06:18 PM

آسیہ بی بی کا تعلق ننکانہ صاحب کے نواحی علاقے اٹانوالی سے ہے۔ پانچ بچوں کی 45 سالہ ماں آسیہ بی بی کو مقامی سیشن عدالت سے توہین رسالت کے الزام میں موت کی سزا سنائی جاچکی ہے۔ آسیہ بی بی پر الزام ہے کہ اس نے گزشتہ سال کئی افراد کی موجودگی میں توہین رسالت کی جس کے بعد اسے پولیس کے حوالے کیا گیا۔ پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت اس کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ اس مقدمے کی تفتیش ایس پی انویسٹی گیشن شیخوپورہ محمد امین شاہ بخاری نے کی اور ان کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش آسیہ بی بی نے مسیحی برادری کے اہم افراد کی موجودگی میں اعتراف جرم کیا اور کہا کہ اس سے غلطی ہو گئی ہے۔لہٰذا اسے معاف کر دیا جائے۔

آسیہ بی بی کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال کچھ مسلمان خواتین نے اس کے سامنے کہا کہ قربانی کا گوشت مسیحیوں کیلئے حرام ہوتا ہے جس پر غصے میں آکر اس نے کچھ گستاخانہ کلمات کہہ ڈالے جس پر وہ معافی مانگتی ہے۔ آسیہ بی بی نے اپنے خلاف مقدمے کے مدعی قاری سالم سے بھی معافی مانگی لیکن اس کا موقف یہ تھا کہ توہین رسالت کے ملزم کو معافی نہیں مل سکتی۔ ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب نوید اقبال نے گواہوں کے بیانات اور واقعاتی شہادتوں کو سامنے رکھتے ہوئے 8 نومبر 2010ء کو آسیہ بی بی کیلئے سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا اعلان کیا۔ اس سزا کے بعد وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی نے آسیہ بی بی کو بے گناہ قرار دیا اور ساتھ ہی تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کو بھی ظالمانہ قرار دے دیا۔

کچھ دنوں بعد گورنر پنجاب سلمان تاثیر شیخوپورہ جیل پہنچ گئے۔ انہوں نے بھی آسیہ بی بی کو بے گناہ قرار دیا اور کہا کہ وہ آسیہ بی بی کو صدر آصف علی زرداری سے معافی دلوادیں گے۔ سلمان تاثیر نے بھی 295 سی پر تنقید کی جس کے بعد آسیہ بی بی پس منظر میں چلی گئی اور 295 سی پر بحث شروع ہوچکی ہے۔ یہ بحث آسیہ بی بی کو مزید متنازع بنارہی ہے کیونکہ یہ تاثر تقویت پکڑرہا ہے کہ آسیہ بی بی کے نام پر ایک ایسے قانون کو بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس پر مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کا اتفاق ہے۔ پوپ بینیڈیکٹ کی طرف سے آسیہ بی بی کے رہائی کے مطالبے کے بعد کئی پاکستانی علماء اس معاملے کا عافیہ صدیقی کے معاملے کے ساتھ تقابلی جائزہ لے رہے ہیں اور یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ جن عناصر کو آسیہ بی بی کے ساتھ نا انصافی نظر آرہی ہے وہ عافیہ صدیقی کے معاملے میں خاموش کیوں رہتے ہیں؟

بہتر ہوتا کہ آسیہ بی بی کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی بجائے اسے افہام و فہیم سے حل کیا جاتا۔ یہ درست ہے کہ ماضی میں کئی افراد کی طرف سے 295 سی کا غلط استعمال کیا گیا لیکن یہ غلط استعمال صرف مسیحیوں کے خلاف نہیں کیا گیا بلکہ مسلمانوں نے مسلمانوں کے خلاف بھی کیا۔ بالکل اسی طرح جیسے کئی مرتبہ دفعہ 302 میں بے گناہ افراد پر قتل کا الزام عائد کردیا جاتاہے اسی طرح 295 سی میں بھی بے گناہ افراد پر توہین رسالت کا غلط الزام عائد کرنے کی مثالیں موجود ہیں۔ پچھلے بیس سالوں کے دوران توہین رسالت اور توہین قرآن کے الزام میں 700 سے زائد مقدمات درج ہوچکے ہیں جن میں سے نصف سے زیادہ مقدمات مسلمانوں نے مسلمانوں کے خلاف درج کرائے لہٰذا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ 295 سی کا نشانہ صرف غیرمسلم بنتے ہیں۔

قانون میں کوئی خامی نہیں ہے البتہ قانون کے غلط استعمال کو روکنے کی ضرورت ہے۔ توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کیلئے بھی سخت سزا قانون میں موجود ہے۔ جن فراد نے ماضی میں جھوٹے الزامات لگائے اگر ان کے خلاف کارروائی کی جاتی تو 295 سی کا غلط استعمال نہ ہوتا۔

اگر شہباز بھٹی اور سلمان تاثیر اپنی دانست میں آسیہ بی بی کو بے گناہ سمجھتے ہیں تو ان کے پاس دو مناسب راستے موجود تھے۔ اول یہ کہ وہ کسی اچھے وکیل کا انتظام کرتے اور آسیہ بی بی کے خلاف سزا کو ہائیکورٹ میں چیلنج کردیتے۔ ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ ہائیکورٹ نے توہین رسالت کے ملزمان کو رہا کردیا کیونکہ ان پر الزام ثابت نہ ہوسکا۔ دوسرا راستہ یہ تھا کہ پنجاب حکومت سمیت ملک کی اہم دینی جماعتوں کی قیادت اور جید علماء کو اعتماد میں لے کر ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جاتی اور اس کمیٹی کو یہ اختیار دیا جاتا کہ آسیہ بی بی کے بے قصور ثابت ہونے کی صورت میں صدر آصف علی زرداری سے اس کی سزا معاف کرنے کی سفارش کی جاتی۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ شہباز بھٹی اور سلمان تاثیر نے جو کچھ بھی کیا اس میں اصل مقصد آسیہ بی بی کو بچانا نہیں بلکہ 295 سی کو اڑانا نظر آتا ہے۔

295 سی کے تحت توہین رسالت کی سزا موت پر نہ صرف بریلوی، دیوبندی ۔۔۔ اور اہل حدیث کے جید فقہا اور علماء کا اتفاق ہے بلکہ یہ قانون پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظورشدہ ہے۔ 2 جون 1992ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی سے یہ قرارداد منظور ہوئی کہ توہین رسالت کی سزا موت ہونی چاہئے۔ اس سے قبل وفاقی شرعی عدالت حکومت کو حکم دے چکی تھی کہ توہین رسالت کی سزا عمرقید کی بجائے موت مقرر کی جائے۔ قومی اسمبلی میں اس معاملے پر بھرپور بحث ہوئی جس کے بعد 295 سی کی منظوری ہوئی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قانون جنرل ضیاء کے دور میں لایا گیا تھا اس لئے اس قانون کو ختم کردیا جائے۔

یہ بڑی عجیب منطق ہے جنرل ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کا رکن یوسف رضا گیلانی پیپلزپارٹی کی حکومت کا وزیراعظم بن جائے تو قبول لیکن وہی جنرل ضیاء توہین رسالت کا قانون لائے تو قبول نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ توہین رسالت کے قانون کی تشکیل کیلئے آئینی تحریک قیام پاکستان سے کئی سال قبل مولانا محمد علی جوہر نے شروع کی تھی جب لاہور ہائیکورٹ کے جج کنوردلیپ سنگھ نے ایک قابل مذمت کتاب ”رنگیلا رسول“ کے ناشر راج پال کو محض یہ کہہ کر چھوڑدیا کہ اس کی کتاب مروجہ قانون کی کسی دفعہ کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتی۔ مولانا محمد علی جوہر نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ قصور جج کا نہیں قانون کا ہے اور یوں توہین رسالت کیلئے قانون سازی کا مطالبہ 1927ء میں شروع ہوا۔ دو سال کے بعد 1929ء میں ایک مسلمان نوجوان غازی علم دین شہید نے راج پال کو لاہور میں قتل کردیا۔ غازی علم دین کو سزائے موت دی گئی تو علامہ اقبال رحمہ اللہ نے ان کی رہائی کیلئے محمد علی جناح کو وکالت پر آمادہ کیا۔ غازی علم دین شہید کی پھانسی کے بعد علامہ اقبال رحمہ اللہ نے ان کے جنازے میں شہید کو خراج تحسین پیش کیا۔

یاد رہے کہ غازی علم دین شہید کے جنازے میں میت کیلئے چارپائی کا بندوبست سلمان تاثیر کے والد ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر نے کیا تھا۔ اگر برصغیر میں توہین رسالت کا قانون موجود ہوتا تو غازی علم دین کی طرف سے راج پال کو قتل نہ کیا جاتا۔ توہین رسالت سے فساد پھیلتا ہے، توہین رسالت کے قانون پر صحیح عملدرآمد سے فساد کے تمام راستے مسدود کئے جا سکتے ہیں۔ اگر کوئی اس قانون کو بدلنے کی کوشش کرے گا تو وہ پاکستان میں فساد پھیلانے کا باعث بنے گا لہٰذا آسیہ بی بی کے نام پر اس قانون کو ٹارگٹ نہ کیا جائے۔ آسیہ بی بی اگر واقعی بے گناہ ہے تو اس کی رہائی کیلئے اعلیٰ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے۔ اس سلسلے میں میڈیا کو بہت ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اور جس کسی نے بھی زیادتی کی ہے اسے بے نقاب کرنا چاہئے۔
بہ شکریہ روزنامہ جنگ
حامد میر
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 153
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
shafresha (12-12-10), فیصل ناصر (12-12-10), حیدر (12-12-10), عبداللہ آدم (12-12-10)
پرانا 12-12-10, 06:25 PM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,787
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ پُرانی شئیرنگ ہے!!!
بہرحال شکریہ!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (12-12-10)
پرانا 12-12-10, 07:33 PM   #3
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,994
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default آسیہ بی بی بمقابلہ عافیہ صدیقی

پینتالیس سالہ آسیہ بی بی ننکانہ صاحب کے نواحی گاؤں اٹیاں والی میں کھیت مزدور ہے۔ 19جون 2009 کو آسیہ بی بی کاکھیتوں میں کام کاج کے دوران پانی پینے کے مسئلے پر علاقے کی دیگر کھیت مزدور مسلمان خواتین سے ان بن ہوگئی۔ مذکورہ واقعے نے اس وقت لڑائی جھگڑے کی شکل اختیار کرلی جب آسیہ بی بی نے مبینہ طور پر نہ صرف اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نازیبا کلمات استعمال کئے بلکہ اس نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان مبارک میں بھی بعض گستاخانہ الفاظ استعمال کئے۔
روایات کے مطابق مقامی لوگوں کی ناراضگی اور دباؤ کے باوجود جب آسیہ بی بی نے اپنی غلطی پر معافی نہیں مانگی تو تب اہل علاقہ نے یہ ایشو مقامی تھانے اور مقامی علماء کے روبروپیش کیا۔ جس کے نتیجے میں آسیہ بی بی کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کے آرٹیکل 295-Cکے تحت توہین رسالت کامقدمہ درج کیاگیا۔ تقریباً ڈیڑھ سالہ عدالتی کاروائی کے بعد شیخوپورہ کے ایڈیشنل سیشن جج نے آسیہ بی بی پر توہین رسالت کاالزام ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی۔

آسیہ بی بی کوسنائی جانے والی سزا کے خلاف پوری دنیا میں اگر ایک طرف آسیہ کی رہائی کے لئے ایک منظم مہم چلائی جارہی ہے تو دوسری طرف وطن عزیز میں بھی ایک باقاعدہ مہم کے تحت نہ صرف آسیہ بی بی کو معصوم اور بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے بلکہ اسکے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی کی آڑ میں توہین رسالت اور توہین قرآن پرمبنی قوانین کی منسوخی کا مطالبہ بھی کیا جارہاہے۔ ان قوانین کو وحشیانہ اور ظالمانہ قرار دے کر ماضی میں بھی ایک مخصوص لادین لابی منظم پروپیگنڈہ مہمات چلاتی رہی ہے اور اب یہی طبقات ایک بار پھر جارحانہ انداز میں ان قوانین کے خلاف لٹھ لیکر میدان میں نکل آئے ہیں۔ توہین رسالت اورتوہین قرآن کے ان مذکورہ قوانین کے خلاف دلیل، قانون اور شریعت کی بجائے سیاسی بنیادوں پر پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے ۔ ان قوانین کو آمرانہ دور کے قوانین قرار دے کر قوم کو ایسا تاثردیا جارہا ہے جیسے ان قوانین کو غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر ملکی قوانین کاحصہ بنایا گیا ہے۔ حالانکہ ان قوانین کے نفاذ کے لئے وہی جمہوری طریقہ کار اپنایا گیا جس کااستعمال جدید جمہوریتوں میں کیا جاتاہے اور جس کا ذکر آئین پاکستان میں واضح طور پر موجودہے۔

اس لئے جو لوگ یاطبقات اپنی افتاد طبع یا اپنے بعض مخصوص مفادات کی خاطر آسیہ بی بی کے خلاف ایک مقامی عدالت میں ہونے والے فیصلے کی بنیاد پر ان تمام قوانین کی منسوخی کامطالبہ کررہے ہیں تو انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ اس طرح کے قوانین صرف پاکستان ہی میں نافذ نہیں ہیں بلکہ انکے بعض پسندیدہ مغربی ممالک میں بھی اس طرح کے قوانین نافذالعمل ہیں۔ ان مفاد پرست اور مغرب کے دلالوں کو اپنے آقاؤں کے نظام میں اسی نوع کے قوانین پر تو کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان جس کاوجود ہی اسلام کامرہون منت ہے میں قرآن پاک اور نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان میں گستاخی کے خلاف قوانین پر انکے پیٹوں میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔ آسیہ بی بی اگر بے گناہ ہے اور بقول اسکے یابقول اس کے خیر خواہوں کے اگر وہ توہین رسالت کی مرتکب نہیں ہوئی تو انہیں اتنا شور مچانے اور مغربی میڈیا کے توسط سے پاکستان، اسلام اوراسلامی قوانین کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

آسیہ بی بی کی ایڈیشنل جج کی سنائی گئی سز اکے خلاف انہیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں جانے سے کس نے روک رکھا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں سے انہیں ایسے حالات میں انصاف ملنا زیادہ یقینی ہے جب ہماری اعلیٰ عدالتیں ملک کی تاریخ کے سب سے آزاد دور سے گزر رہی ہیں۔ ویسے بھی گزشتہ 20سالوں کے دوران جب سے یہ قوانین نافذ ہوئے ہیں تب سے اب تک توہین رسالت کے حوالے سے درج ہونے والے 700سے زائد مقدمات میں سے شایدہی کسی ملزم کو سزائے موت کاسامنا کرنا پڑا ہے۔ گزشتہ 20سالوں کے دوران آسیہ بی بی پہلی خاتون ہے جسے توہین رسالت کے جرم میں ایک مقامی عدالت کی جانب سے سزا ئے موت سنائی گئی ہے۔ اسی طرح توہین رسالت اور قرآن پاک کی بے حرمتی کے حوالے سے اب تک جتنے بھی مقدمات درج ہوئے ہیں ان میں نصف سے زائد مسلمانوں نے مسلمانوں کے خلاف درج کرائے ہیں۔ یعنی جو لوگ ان قوانین کے حوالے سے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ان کااستعمال صرف غیر مسلموں کے خلاف ہوتاہے تو وہ سو فیصد جھوٹ بول رہے ہیں۔ در اصل انکی اس دشنام طرازی کامقصد ان قوانین کے خلاف عام لوگوں کے ذہنوں میں شکوک وشبہات پیدا کرناہے۔

جو لوگ ان قوانین کی منسوخی کامطالبہ کررہے ہیں یہ دراصل وہ لوگ ہیں جنہیں اسلام کی ہر شق پر اعتراض ہے۔ روٹین کے ایک قانونی کیس کو عالمی میڈیا اور بالخصوص مغربی اور انتہا پسند عیسائی میڈیا میں اچھالنے کاسہرا گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے سر ہے جنہوں نے آسیہ بی بی اور انکے اہل خانہ سے جیل میں خصوصی ملاقات کرکے صدرمملکت آصف علی زرداری سے انکی رہائی کی تحریری اپیل کی ہے۔اور اس کاواحد مقصد مغرب اوربالخصوص امریکہ کو اپنی وفاداری کایقین دلاناہے۔ اگر پاکستان کے اس نام نہاد لبرل، روشن خیال اور انسانی حقوق کے چیمپئن طبقے کی حقیقتاً خواتین کے حقوق میں کچھ دلچسپی ہے تو ان سے پوچھا جاسکتاہے کہ اگر وہ آسیہ بی بی کے ایک قانونی کیس میں مدعی بن کر اعلیٰ عدالتوں میں اپیلوں اور اسکے فیصلوں کا انتظار کئے بغیر آئین سے ماوراء صدر مملکت سے آسیہ بی بی کی رہائی کی اپیل کرسکتے ہیں تو آخران نام نہاد روشن خیالوں کے دلوں میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لئے بھی ایسے ہی جذبات کیوں پیدا نہیں ہوتے۔

ان سے جب عافیہ صدیقی کے ساتھ روارکھے جانے والے امریکی مظالم کی بابت پوچھاجاتا ہے تو یہ کوتاہ قدروشن خیال ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس کو کبھی دہشت گردی سے جوڑ کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی اس ظلم کو امریکہ کااندرونی اور قانونی مسئلہ قرار دے کر اپنی بے بسی کااظہار کرتے ہیں۔

آسیہ بی بی کے فیصلے کے خلاف پوری مغربی دنیا میں نہ صرف احتجاج کاسلسلہ جاری ہے بلکہ اس ضمن میں یورپ او رامریکہ سے لیکر آسٹریلیا تک میڈیا اورانٹرنیٹ پر ایک بھرپور مہم بھی چلائی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ انٹرنیٹ پر آسیہ بی بی کے کیس کے حوالے سے 1380000 نتائج دستیاب ہیں۔ دنیا بھر کے گرجاگھروں میں آسیہ بی بی کی رہائی کے لئے خصوصی دعائیہ تقریبات منعقد کی جارہی ہیں۔ مختلف مسیحی تنظیموں کی طرف سے یورپی یونین، اقوام متحدہ اور حکومت پاکستان پر آسیہ بی بی کی غیر مشروط رہائی کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے ۔

بشکریہ عالمگیر آفریدی بشکریہ عالمگیر آفریدی
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (12-12-10)
جواب

Tags
پولیس, پاکستان, پاکستانی, وزیر, وزیراعظم, قرآن, لوگ, موت, ماں, اللہ, الزام, اعلیٰ, بچوں, جیل, جرم, حکم, حل, حدیث, خواتین, خلاف, راستہ, زرداری, علی, عدالت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہر ایک مقتول حسین ہی کا دیوانہ عبداللہ آدم شاعروں کی بیٹھک 20 06-02-11 01:15 PM
آسیہ بی بی اور قانونِ توہین رسالت گلاب خان اپکے کالم 29 02-12-10 12:40 PM
توہین رسالت کی مرتکب آسیہ جیل سے رہا،بیرون ملک بھجوانے کیلئے اسلام آباد منتقل، مظاہرے جاویداسد خبریں 0 22-11-10 09:10 PM
پاکستانی نژاد خاتون کینڈا سینٹ کی رکن نامزد جاویداسد خبریں 0 11-07-10 12:56 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:18 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger