| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1031
|
||||
| 16 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا | abdulrehman303 (29-03-11), Kamran_Tabasum (04-03-11), ھارون اعظم (21-02-11), نورالدین (21-02-11), ناصحی (22-02-11), محمد عاصم (22-02-11), محمدعدنان (21-02-11), ایس اے نقوی (21-03-11), تانیہ رحمان ستارہ (25-02-11), حیدر (26-02-11), خالد ہاشمی (26-04-11), خالد حسین (30-07-11), شبنم (21-02-11), طارق راحیل (25-02-11), عدنان دانی (22-02-11), عروج (01-03-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,212
شکریہ: 1,155
6,271 مراسلہ میں 14,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
شکریہ نیلم اس اہم موضوع پر توجہ مبذول کروانے کا۔ ہماری معیشت کا انحصار زارعت پر بھی ہے جسکو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ زراعت پر توجہ دے کر غربت و مہنگائی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ پا کستان کے عام افراد کی اکثر یت کئی طرح کے معا شی ،سماجی اور سیاسی مسا ئل سے دو چار ہے۔اسے مطمئن کرنے کیلئے گڈ گورننس کے سا تھ سا تھ روٹی اور سیکور ٹی کی فراہمی حکومت کا بنیادی فر ض ہے ۔اس کیلئے اختیار ات کی مر کزیت ختم کر کے صو بوں کو زیادہ سے زیادہ خودمختاری دینے کی ضرورت ہے۔ زر اعت پر فو کس کر نے سے غربت اور مہنگا ئی سمیت کئی مسا ئل حل کرنے میں کا فی مدد مل سکتی ہے ۔ ہمارے لو گ کشکول لیکر پوری دنیا میں ار بوں ڈا لر کی امداد کیلئے گھوم رہے ہیں ۔ ہمیں اس سوچ کو ختم کر کے زر اعت پر توجہ دینی چاہیے ،جس سے غیر مما لک سے بھیک ما نگنے کی عادات ختم ہو سکتی ہیں ۔غیر ملکی امداد کے سہارے ڈھونڈنے کی بجا ئے ہمیں اپنے ملکی و سائل سے فا ئدہ اٹھانا چا ہیے ۔ ہمارے ملک میں 18سال سے 25سال عمر کے10کروڑ کے قریب نوجوان ہیں ،جو جدید ترین تعلیم و تر بیت سے آراستہ نسل ہے ،ہمیں امید ہے کہ یہ نو جوان پاکستان کی بنیادی اکنا مک فورس بن کر ملک کی ترقی و خو شحالی میں نمایاں کر دار ادا کر سکتے ہیں ۔ ہم اپنے حا لات ٹھیک کر نے پر تو جہ دینے کی بجائے دنیا سے بھیک ما نگتے پھر رہے ہیں ۔۔ اُصولاًیہہونا چاہئے کہ ملک کے بنیاد ی مسائل حل کرنے پر تو جہ دی جا ئے اور چا روں صو بوں کی شمو لیت سے قومی زرعی پا لیسی بنا ئی جائے تو شاید ہم کسی حد تک اس پر کنٹرل پا لیں۔ شکریہ |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا | Kamran_Tabasum (04-03-11), نیلم خان (21-02-11), نورالدین (21-02-11), محمدخلیل (21-02-11), محمدعدنان (21-02-11), حیدر (24-02-11), راجہ اکرام (22-02-11), شبنم (21-02-11), عروج (01-03-11) |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,166
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت شکریہ زارا سسٹر ۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
جو چیز مہنگی ہے وہ استعمال کرنا چھوڑ دو، خود بہ خود مانگ کم ہو گی تو سستی ہو جائے گی۔ ۔ ۔
__________________
سارےسنم مسمارکر، بس اک خداسےپیاکر
رکھ کرنبی کو سامنے، آرائش کردار کر |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
مہنگائی کیا ہوتی ہے؟پاکستان میں ہے کیا؟
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,212
شکریہ: 1,155
6,271 مراسلہ میں 14,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نہیں بھائی یہ دُنیاکامسئلہ ہے لیکن پاکستان میں کچھ زیادہ ہی سنگین ہے۔
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اگر مجھے پتہ ہوتا تو میں سب سے پہلے یہی کام کرتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
سب کو السلام و علیکم
انتہائی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم وہ کا م نہیں کرتے جو ہم کوکرنے چاہیے ۔ زراعت معاشرے کی بنیاد ہے ۔ مگر جو لوگ یہ کام کرتے ہیں کیا ان کا رجحان اس طرف ہے۔ ان کا دھیان کہیں اورہے ۔ جو لوگ معاشر ے کو غذا پیدا کر کے دے سکتے ہيں ان کو معاشرہ کیا دے رہا ہے اس لیے وہ غریب گاؤں سے شہر کی طرف کوچ کر رہے ہيں اور اس کی وجہ ظاہر ہے کہ آج کل کے زمانے میں غیر بنیادی ذریعہ معاش میں کم محنت کر کے امیر ہوجانے کے امکانات روشن ہيں ۔ مثلاً دفتروں میں کام کرنا سب کو اچھا لگتا ہے مگر کاغذوں اور آفسوں کے درمیان رہنے والے لوگ بھی کچھ کھا کر ہی زندہ رہتے ہیں ۔ معاشرے میں ہر شخص کا رجحان اگر پنڈ چھڈ کے شہر دی بتیاں ویکھنے کا ہو جائے تو کتنے لوگ غذا اگائیں گے اور کتنے لوگ کھائیں گے ۔ اگر زراعت کی اہمیت سمجھ میں آجائے تو کیا خیال ہے تمام لوگ غذا پیدا کرنے کے کام پر لگ جائیں ۔ نہيں پھر تو سب ہی لوگ اپنا اگائیں گے اور اپنا کھائیں گے اور کما کما کر ، کھا کھا کر اپنے دفاع کی طرف غافل ہو جائیں گے پھر اپنے کمائی میں سے دفاع کے لیے نکالنا ہو گا ۔ اس کا انتظام و انصرام الگ ! پھر جب کمائی بھی ضرورت سے زیادہ ہو اور کوئی خوف بھی نہ ہو ۔ تو انسان عیاش ہوجاتا ہے ( جیسے سعودی عرب کے لوگ ) اور پھر وحشی ہر شخص اپنی بھوک کے مطابق محنت کر کے کمانا نہيں جانتا ۔ جو زیادہ محنت کرے وہ زمیندار کہلائے اور جو کم محنت کرے وہ کمی کمین کہلائے ۔ بات کہیں اور نکلتی جا رہی ہے ۔ جب معاشرے میں کہیں زیادہ پیداوار ہو رہی ہو اور کہيں کم تو ان کے انتظامات کرنے والوں کی کھپت ہوتی ہے۔ اب بنیادی ذریعہ پیداوار میں سے ان انتظامات چلانے والوں کو بھی اہمیت کے مطابق دینا پڑتا ہے۔ کل ملا کر بات یہ ہوئی کہ ہمارے معاشرے میں دولت کی تقسیم کا نظام تو غیر منصفانہ ہے ہی ۔ محنت کے مواقع بھی اتنی آسانی سے دستیاب نہيں جس کی وجہ سے کچھ تو لوگ ۱۲، ۱۲ اور بعض اوقات ۱۸، ۱۸ گھنٹے کام کر کے بھی روکھی سوکھی کھانے پر مجبور ہیں اور کچھ لوگ صرف سوچنے کے اور بولنے کے لاکھوں کمالیتے ہيں ۔ اور بعض لوگ تو وہ بھی نہيں کرتے ۔ باپ دادا کی جائیداد چل رہی ہے کرائے کی آمدنی ہو رہی ہے۔ اور ان کی نظر میں اس گھر آئی آمدنی کے انتظار میں بیٹھے رہنا بھی بہت محنت کا کام ہے ۔ ہائے افسوس چالیس لاکھ روپے ماہانہ لے کر مارننگ شو کرنے والی اینکر پرسن ز غریب کسانوں اور محنت کشوں کی اہمیت پر تقریر تو بہت کرتی ہے ۔ مگر کبھی تبدیلی لانے کی کوشش نہيں کرتی ۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
|
|
|
|
|
#9 | ||
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 26
کمائي: 719
شکریہ: 20
19 مراسلہ میں 52 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لیکن ان جیسے تمام مسائل کا حل یہ ہی ہے جس کو موڈ نے ایڈیٹ کر دیا Last edited by Blue Chips; 21-02-11 at 11:15 PM. |
||
|
|
|
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,166
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا | asakpke (15-03-11), Kamran_Tabasum (04-03-11), محمد عاصم (22-02-11), حیدر (24-02-11), خالد ہاشمی (26-04-11), خالد حسین (30-07-11) |
|
|
#11 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,166
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,991
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مہنگائی کو ختم کرنے کیلیے پہلے ہمارے ملک میں اسکی وجوہات کو سمجھنے اور جاننے کی ضرورت ہے اور پھر انکو ختم کرنے کا موثر طریقہ ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ ہم جو باہر سے قرض لے رہے ہیں اسکو ادا کرنے کیلیے لوگوں کی دولت اور آمدن پر ٹیکس کی بجائے گورنمنٹ لوگوں کے استعمال کی چیزوں پر ٹیکس لگا رہی ہے۔ گورنمنٹ کی اپنے خزانے میں پیسے کی کمی کو نوٹ چھاپ کر پورا کرنے کی تدبیر بھی مہنگائی میں اضافہ کر رہی ہے۔ چیزیں کم اور انکو خریدنے والے زیادہ وغیرہ وغیرہ ہمارے ملک کےلوگوں کو اپنی ترجیعات درست کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ اسوقت تو یوں لگتا ہے کہ مہنگائی کی وجوہات کو ختم کرنے کا کام ہماری ترجیعات کی لسٹ پر کافی نیچے اور ریمانڈ ڈیوس سب سے اوپر ہے۔ اسطرح تو مہنگائی ختم نہیں ہوگئ
__________________
![]() |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,238
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر عورت میک اپ کرنا چھوڑ دے تو مہنگائی ختمہوجائیگی
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بات واقعی ترجیحات کی ہے
ہمارے ہاں ترقی اور خوشحالی کے معیارات کا تعین ابھی تک نہیں ہو سکا۔ ہم نے کمپیوٹر، انٹر نیٹ، موبائل اور لیز پر لی گئی گاڑی کو ہی ساری ترقی اور خوشحالی سمجھ لیا ہے۔ ہر حکومت ہر نئے بجٹ میں ان اشیاء کو مزید سستا کر کے یہ سمجھتی ہے کہ ہمارے لوگ بہت خوشحال ہیں ۔۔ اور کہہ دیتے ہیں کہ اب تو ریڑھی والا بھی موبائل استعمال کرتا ہے۔ جبکہ ہماری ضروریات کی چیزیں جیسے آٹا، دالیں، چینی اور پیٹرولیم مصنوعات ہر آنے والے دن کے ساتھ مہنگی ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ تو سب سے پہلے اپنی ترجیحات اور معیارات کو درست کرنا ضروری ہے لیکن معاشی ترقی کی ان ترجیحات کو اتنی زیادہ اہمیت بھی نہیں دینی کہ غیرت کا آخری قطرہ بھی خشک ہو جائے۔ ہم بھوکے سہی لیکن ریمنڈ جیسے لوگوں کو قرار واقعی سزا دینے کے لئے ہر لالچ کو ٹھکرا دینا چاہئے۔ کیوں کہ غیرت کے ساتھ اگر بھوکے بھی مر جائیں تو کوئی برائی نہیں
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | Kamran_Tabasum (04-03-11), skjatala (29-04-11), نورالدین (22-02-11), حیدر (24-02-11), عروج (01-03-11) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
ہر شخص میں اتنی ہمت نہيں ہوتی کہ غیرت کے نام پر مفلسی کا عذاب برداشت کر سکے ۔
اچانک آجانے والی موت انسان کے نظریات اور خیالات پر اتنا اثر انداز نہيں ہو سکتی ۔ مگر یہ مفلسی ہی ہے جو انسان کو دھیرے دھیرے اور لمحہ لمحہ موت کی طرف بڑھاتی ہے اور انسان کو پورا موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے موجودہ نظریات میں تبدیلی لے ائے -------- حتیٰ کہ بعض اوقات انسان خود کو مذہب بھی بدلنے کے لیے تیار کر لیتا ہے ۔ جیسے کہ افریقہ میں عیسائی مشنریوں کی کامیابی اور پاکستان میں غیر ملکی جاب ز حاصل کرنے کے لیے قادیانی بن جانا ۔ تو ایسے میں ترجیح غیرت اور مذہب نہيں بلکہ انسانی تربیت ہونی چاہیے کہ آپ سے آپ کا مذہب ، قومیت اور پہنچان نہ چھین کر لے جائے اس سے بچنے کے لیے ابھی اپنی حالت درست رکھیں اور وسائل کا بہتر استمعال کریں ۔ اگر ایسا نہ کریں گے تو مستقبل میں اپنی غربت اور بے چارگی کے خود ذمہ دار ہوں گے ۔ یا پھر زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا ۔ آپ اللہ توکل کے نام پر صبر اور برداشت سے کام لیں گے ۔ مگر ان کا کیا ہو گا جن کا رزق اللہ نے آپ کے ہاتھ میں باندھ رکھا ہے ۔ وہ بیوی بچے وہ کہاں جائیں گے ان میں تو وہ تحمل نہیں ہوتا نا جوصوفی ازم اور دنیا کو حقیر سمجھنے کے چکر میں آپ کے ذہن میں بٹھا دیا جاتا ہے ۔ کہنے کا مقصد یہ کہ اپنی حالت کو بہتر بنانے کا کام اللہ نے ہر آدمی کے خود اپنے ہاتھ میں دے رکھا ہے اب یہ اس آدمی کی ذمہ داری ہے کہ اپنی صلاحیت اور طاقت کی اہمیت کو سمجھے ۔ اور دین کو حاصل کرنے کے ساتھ دنیا کو بھی بنائے ۔ کم سے کم اتنا تو بنائے کہ کل کلاں کو اسے غربت اورمصیب کے وقت اپنے مذہب اور قومیت کو بیچنا نہ پڑے ۔ |
|
|
|
| نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (24-02-11) |
![]() |
| Tags |
| ہے۔, ہماری, پاک, پاکستان, لو, نیٹ, چار, مہنگائی, موضوع, ملکی, ممبران, مسائل, معزز, اپنے, السلام, توجہ, تعلیم, حل, دے, دنیا, سوچ, سال, ضرورت, عادات, غربت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|