واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


آگسٹا آبدوزوں کے سودے میں کمیشن و رشوت اور کراچی کار بم دھماکے کا راز فاش

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-11-10, 10:45 AM   #1
آگسٹا آبدوزوں کے سودے میں کمیشن و رشوت اور کراچی کار بم دھماکے کا راز فاش
sahj sahj آف لائن ہے 19-11-10, 10:45 AM

پیرس (ایجنسیاں) فرانس میں کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کرنے والے جج نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ پاکستان کو آگسٹا آبدوزوں کی فروخت کے سودے میں رشوت دی گئی تھی۔ گزشتہ سال فرانس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پاکستان کو آگسٹا آبدوزوں کی فروخت کے سودے میں غیر قانونی طور پر کمیشن دیاگیا تھا۔ اور 2002 میں کراچی کے ایک ہوٹل کے باہر فرانسیسی انجینئروں پر خود کش بم حملہ پاکستان او ر فرانس کے اعلیٰ حکام کے درمیان کمیشن کی ادائیگی کے اختلافات کے بعدکیاگیا تھا، ان شخصیات میں فرانس کے موجودہ صدر نکولس سرکوزی کا نام بھی شامل ہے جو اس وقت کابینہ میں وزیر تھے۔ پیرس کی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل صفائی اولیور مورس نے کہا کہ جج نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ آبدوزوں کے سود ے میں رشوت دی گئی تھی3 آگسٹا 90 آبدوزوں کی خریداری کے لئے 95 کروڑ ڈالر کے سودے میں رشوت کے پونے دو کروڑ ڈالر فرانس بھیجے گئے تھے اور یہ رقم صدارتی انتخابی مہم میں استعمال کی گئی تھی جونکولس سرکوزی چلا رہے تھے۔

روزنامہ جنگ
19نومبر2010


السلام علیکم

سبحان اللہ ، اللہ تعالٰی نے جھوٹے اور مکار ایجنٹان کفار کا منہ کالا کردیا کچھ دنوں سے چھوٹی چھوٹی خبروں میں سننے کو مل رہا تھا کہ آگسٹا آبدوزوں کی خریداری اور تیاری کے معاملے میں حکومت پاکستان اور فرانس کے افراد نے رشوت اور کمیشن کا لین دین کیا تھا ۔ اسی کمیشن اور رشوت کے لین دین میں ناراض افراد کی جانب سے فرانسیسی انجینئروں کو کراچی میں پی سی ھوٹل کے سامنے کار بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ جس کے بعد پوری دنیا کے کافروں اور پاکستان میں موجود ان کے ایجنٹوں نے سارا الزام دیاتھا مجاھدین کو ۔ کہ وہ اس دھشتگردی کے ذمہ دار ہیں اور شاید کسی نے یہ ذمہ داری قبول بھی کرلی تھی۔ جیسا کہ آج کل کے واقعات کے بعد ھوتا ھے کہ دھماکے یا کسی بھی دھشتگردی کے بعد بی بی سی کو فون موصول ھاجاتا ھے کہ یہ دھماکہ فلاں فلاں مجاھدین کی جماعت نے کیا ھے ، وغیرہ

آفسٹا آبدوزوں کے معاملے کی خبریں آنے پر یہ راز فاش ھوچکا ھے کہ پی سی کار بم دھماکہ جس میں غالیباً 12 فرانسیسی مارے گئے تھے وہ دھماکہ بھی اسی رشوت خور اور کمیشن مافیہ کی آپس کی چپکلش کا نتیجہ تھا ۔

اسی تناظر میں اگر ہم اس وقت ھونے والی تمام دھشتگردی کی وارداتوں کا بنظر غور جائزہ لیں تو انشاء اللہ پاکستان میں ھونے والی دھشتگردی کی ہر واردات کے پیچھے مجاھدین نہیں عالم کفر اور ان کے ایجنٹ نظر آئیں گے ، بس تھوڑا سا اپنی سوچ اور فکر کا زاویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے یعنی ہر بنائی جانے والی خبر کو ویسی تسلیم نہ کریں جیسے میڈیا چاھتا ھے ، اچھی طرح جائزہ لیا جائے خبروں کا موازنہ کیا جائے اور سب سے بڑھ کر اگر زاتی زرائے سے تصدیق ھوسکے تو کرنے کے بعد ہی کوئی رائے قائم کی جائے۔

شکریہ

والسلام
حسین
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 210
Reply With Quote
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (19-11-10)
پرانا 19-11-10, 10:58 AM   #2
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,994
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اسلام آباد (انصار عباسی)سابق نیول چیف ایڈمرل عبدالعزیز مرزانے حالیہ فرانسیسی تحقیقاتی رپورٹ، جس میں اگوسٹا آبدوز کے سودے میں صدر زرداری اور نیوی افسران سمیت دیگر کی 49ملین ڈالرز کک بیکس وصولی کا ذکر ہے ،کو تقویت دی ہے اور انکشاف کیا ہے کہ اس وقت کی بینظیر بھٹو کی حکومت نے پاکستان نیوی سے درخواست کی تھی کہ وہ فرانسیسی آبدوزیں حاصل کرے۔عبدالعزیز مرزا نے مزید کہاکہ اس وقت کے نیول چیف ایڈمرل سعید خان نے بھی اقرار کیا تھا کہ بینظیر بھٹو کی حکومت کے وزیر دفاع آفتاب شعبان میرانی پاکستان نیوی کی ہائی کمان کو واضح کر دیا تھا کہ فرانسیسی آبدوزوں کی شمولیت بی بی کی حکومت کی ترجیح ہے ۔وزیر دفاع کے ان واضح اشاروں کے با وجود نیوی کے ہائی کمان سر جوڑ کر بیٹھے اور اس مسئلے پر غور وفکر کے بعد فیصلہ کیا کہ حکومت کے سامنے 2 نام رکھے جائیں جن میں سے ایک برٹش اپ ہولڈر اور دوسری فرانسیسی آگسٹا تھی۔پھر حکومت کی جانب سے آگسٹا کی منظوری دے دی گئی۔اکتوبر 99ء سے اکتوبر 2002ء پاکستان نیوی کی قیادت پر فائز رہنے والے عبدالعزیز مرزا نے کہا کہ نیوی کو باضابطہ طور پر آگسٹا کے سودے میں کک بیکس کی وصولی کا پہلی بار علم 1998میں ہوااور اس کے بعد کیپٹن اور کموڈورز کے عہدوں کے 3 افسرا ن کیخلاف رشوت وصولی کے الزام کے تحت کارروائی کرتے ہوئے انہیں نوکری سے برطرف کر دیا گیا۔ عبدالعزیز مرزا کا کہنا ہے کہ میرا اعتراض تو اس بات پر ہے کہ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ نیوی کے کموڈور کے اوپر کے عہدے داروں نے ہو سکتا رشوت وصول کی ہو جیسا کہ فرانسیسی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے ۔بہرحال ثبوت یا شواہد کی عدم دستیابی کی بناء پر ان (نیوی کے اعلیٰ عہدیدار)کی نشاندہی نہیں ہو سکی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہاں تک کہ سابق نیول چیف منصور الحق کو بھی آگوسٹا کے سودے میں کک بیکس وصول کرنے کا مجرم قرار نہیں دیا گیا بلکہ ان کو دیگر دفاعی سودوں میں رشوت وصول کرنے کا الزام لگایا گیا۔فرانس کے ایک صف اول کے اخبار کی حالیہ رپورٹ کے مطابق تحقیقات ظاہر کرتی ہیں کہ3 آگسٹا 90 کی 825ملین یورو کے عوض فروخت میں زرداری کو 4.3ملین ڈالرز کے کک بیکس وصول کئے۔1994میں بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں یہ معاہدہ ہو گیا تھا۔سابق ڈی جی نیول انٹیلی جنس کموڈور شاہد اشرف کے مطابق ، انہوں نے1995کے اوائل میں اس وقت کے نیول چیف منصور الحق اور ان کے نائب چیف وائس ایڈمرل اے یو خان کو دیگر نیوی کے افسران کو رشوت کی ادائیگی کی مد میں ملنے والی رقم کے حوالے سے آگاہ کر دیا تھا۔شاہد اشرف ،جنہیں بورڈ کی انکوائری کے بعد نوکری سے بر طرف کر دیا تھا، نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ 1998 میں انہوں نے نیول چیف اور ان کے نائب کو آگسٹا کے سودے میں کک بیکس کا بتایا لیکن مجھے اپنا منہ بند رکھنے کے احکامات دیئے گئے ۔ شاہد اشرف کا کہنا تھا کہ میں بے قصور تھا اور مجھے 1998میں پاکستان نیوی کی جانب سے مبینہ طور پر ادارے کے کرپٹ افسران (جنہوں نے آگسٹا سودے میں کک بیکس وصول کئے تھے)کو بچانے کیلئے مجھے نشانہ بنایا گیا۔ایڈ مرل مرزا نے ان حقائق کو تسلیم کیا کہ شاہد اشرف نے یہی دعویٰ اپنے 1998کے بیان میں کیا تھا اور یہ کہ ریٹائرڈ وائس ایڈمرل اے یو خان نے بھی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کے سامنے اس حقیقت کی تصدیق کی ۔لیکن ایڈمرل مرزا نے پھر اصرار کیا کہ سابق ڈی جی نیول انٹیلی جنس نے لازمی طور پر آگسٹا کے سودے میں کک بیکس وصول کئے جس کی دیگر 2افسران نے تصدیق بھی کی ، کیپٹن زیڈ یو علوی اور کیپٹن لیاقت علی ملک جن پر براہ راست فرانسیسیوں سے رشوت وصولی کا الزام لگایا گیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ اور اسی وجہ سے سابق ڈی جی نیول انٹیلی جنس پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کیپٹن زیڈ یو علوی اور کرنل اعجازدو اہم گواہ تھے اور وہ کک بیکس اور کرپشن کی تمام تفصیلات بتانے پر رضامند ہو گئے۔عبدالعزیز مرزا نے یہ تسلیم کیا کہ اشرف منصور الحق کے دست راست تھے ان پر کبھی بھی کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگا تھاسوائے اس کے کہ انہوں نے علوی سے 15لاکھ روپے وصول کئے جو کہ کک بیکس کا براہ راست وصول کنندہ تھا۔عبدالعزیز مرزا ،جوکہ ریاض میں سفیر پاکستان کی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں ، کا کہنا تھا کہ ظفر اقبال جوکہ فرانسیسی کمپنی کا مڈل مین تھا اس سے بھی تفتیش کی گئی اور اس نے اقرار کیا تھاکہ اسے 16لاکھ امریکی ڈالر دیئے گئے تھے کہ 4 کموڈوروں میں تقسیم کر دیئے جائیں ۔ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ اقبال اور اعجاز دونوں میں سے کسی نے بھی ان میں سے کسی کو یہ رقم نہیں دی ۔ سابق نیول چیف نے کہاکہ چاروں کموڈوروں کو کبھی چارج شیٹ نہیں دی گئی اور نہ ہی تحقیقاتی بورڈ کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ فیکٹ فائنڈنگ مشن نے ان کو پہلے ہی بے قصور قرار دے دیا تھاجس کی بناء پر ان کو ریئر ایڈ مرل تک ترقی بھی دی گئی۔ظفر اقبال نے تحقیقات کے دوران دعویٰ کیاکہ اسے فرانسیسی کمپنی کی جانب سے ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ کموڈور تک کے نیول حکام کو رشوت دے۔عبدالعزیز مرزا نے مزید بتایاکہ فظر اقبال نے دعوی ٰ کیا کہ نیوی کے اعلیٰ افسران اور سیاسی قائدین کیلئے عامر لودھی سمیت دیگر مڈل مین استعمال کئے گئے جن کی ذمہ داری تھی کہ وہ حکومت اور نیوی کے اہم افراد کو کک بیکس اور کمیشن پہنچائیں۔یہ مڈل مین کبھی بھی پکڑے نہیں گئے اور نہ ہی ان پر کوئی مقدمہ چلا جس کی وجہ سے یہ راز کھل ہی نہیں سکا کہ نیوی کے اہم افسرا ن سمیت کس کس نے کتنا پیسہ وصول کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ کچھ اہم افراد نے بھی کک بیکس وصول کئے اور پکڑے نہیں گئے۔آگسٹا کک بیکس کے حوالے سے فرانسیسی میڈیا کہ حالیہ رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان خبروں کو اس وجہ سے تقویت ملتی ہے کہ فرانسیسی ، جرمن ، اطالوی اور دفاعی آلات بنانے والے دیگر بھی معاہدے (سودے)کا 10فیصد کک بیکس ، تفریح ، تحائف وغیرہ کی مد میں رکھتے ہیں کیونکہ یہ ان کی پالیسی ہے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان کے دفاعی سودوں میں کمیشن یا کک بیکس کا خاتمہ ممکن ہے تو ان کا جواب تھا کہ اگر تھوڑی سی بھی کوشش کی جائے تو اس کا خاتمہ تو نہیں ہو سکتا لیکن اس میں کمی ضرور آ سکتی ہے۔

آبدوزوں کی خریداری میں سیاستدانوں اور نیول افسران نے رشوت وصول کی، سابق نیول چیف نے تصدیق کردی
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (19-11-10)
پرانا 19-11-10, 11:02 AM   #3
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,994
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

پیرس (ثناء نیوز/این آئی آئی )فرانس میں کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کرنے والے جج نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ پاکستان کو آگسٹا آبدوزوں کی فروخت کے سودے میں رشوت دی گئی تھی ۔ گزشتہ سال فرانس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 1995 ء میں پاکستان کو آگسٹا آبدوزوں کی فروخت کے سودے میں غیر قانونی طور پر کمیشن دیا گیا تھا اور 2002 ء میں کراچی کے ایک ہوٹل کے باہر فرانسیسی انجینئروں پر خود کش بم حملہ پاکستان اور فرانس کے اعلیٰ حکام کے درمیان کمیشن کی ادائیگی پر اختلافات کے بعد کیاگیا تھا ۔ ان شخصیات میں فرانس کے موجودہ صدر نکولس سرکوزی کا نام بھی شامل ہے جو اس وقت کابینہ میں وزیر تھے ۔ پیرس کی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل صفائی اولس مورنس نے کہا کہ جج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آبدوزوں کے سودے میں رشوت دی گئی تھی ۔3آگسٹا۔ 90 آبدوزوں کی خریداری کے لئے 95 کروڑ ڈالر کے سودے میں رشوت کے پونے دو کروڑ ڈالر فرانس بھیجے گئے تھے اور یہ رقم صدارتی انتخابی مہم میں استعمال کی گئی تھی جو نکولس سرکوزی چلا رہے تھے ۔ 11نومبر کو ایک فرانسیسی اخبار نے رپورٹ شائع کی تھی کہ آگسٹا آبدوزوں کے سودے میں پاکستان اور فرانس دونوں ملکوں میں کمیشن لئے جانے کا انکشاف کیا گیا تھا۔۔ اخبار نے دعویٰ کیا کہ پیرس میں جاری ایک تفتیش کے مطابق معاہدے کے لئے کمیشن کی طے شدہ رقم کی مکمل ادائیگی نہ ہونے پر کراچی میں 8 مئی 2002 ء کو دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوا۔اس واقعہ میں فرانس کی نیول ڈیفنس کمپنی کے 11 ملازمین ہلاک ہوئے تھے

پاکستان کو آبدوزوں کی فروخت سودے میں کمیشن دیا گیا،فرانسیسی جج کی تصدیق
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (19-11-10), عبدالقدوس (19-11-10), عبداللہ آدم (19-11-10)
جواب

Tags
color, فروخت, کراچی, گئی, پاکستان, ویسی, وقت, واقعات, وزیر, نام, میڈیا, موجودہ, آج, اللہ, اعلیٰ, دھماکہ, دنیا, سال, طور, عالم, عدالت, غور, صحافیوں, صدارتی, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سورہ نوح کی دلکش آواز میں تلاوت ،جو کبھی سنی عبیداللہ عبید تلاوت اور تجوید 2 24-01-11 02:30 PM
موت کا سوداگر پاکستانیوں کے نرغے میں ALI-OAD پاکستان میں دہشت گردی 3 08-01-11 01:12 AM
سٹار پلس ڈرامے ہمارے معاشرے کےلیے کیوں موزوں نہیں؟ یاسر عمران مرزا اپکے کالم 60 24-12-10 11:00 PM
آگستاآبدوزوں کے سودے میں رشوت دی گئی: فرانسیسی جج کی تصدیق گلاب خان خبریں 1 22-06-10 12:28 AM
آسٹریلوی کر کٹر ز نے بغاوت کا اعلان کر دیا ،پاکستان نہیں جائینگے champion_pakistani کرکٹ 2 26-07-08 11:26 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:19 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger