19-11-10, 10:58 AM
|
#2
|
|
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,994
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام آباد (انصار عباسی)سابق نیول چیف ایڈمرل عبدالعزیز مرزانے حالیہ فرانسیسی تحقیقاتی رپورٹ، جس میں اگوسٹا آبدوز کے سودے میں صدر زرداری اور نیوی افسران سمیت دیگر کی 49ملین ڈالرز کک بیکس وصولی کا ذکر ہے ،کو تقویت دی ہے اور انکشاف کیا ہے کہ اس وقت کی بینظیر بھٹو کی حکومت نے پاکستان نیوی سے درخواست کی تھی کہ وہ فرانسیسی آبدوزیں حاصل کرے۔عبدالعزیز مرزا نے مزید کہاکہ اس وقت کے نیول چیف ایڈمرل سعید خان نے بھی اقرار کیا تھا کہ بینظیر بھٹو کی حکومت کے وزیر دفاع آفتاب شعبان میرانی پاکستان نیوی کی ہائی کمان کو واضح کر دیا تھا کہ فرانسیسی آبدوزوں کی شمولیت بی بی کی حکومت کی ترجیح ہے ۔وزیر دفاع کے ان واضح اشاروں کے با وجود نیوی کے ہائی کمان سر جوڑ کر بیٹھے اور اس مسئلے پر غور وفکر کے بعد فیصلہ کیا کہ حکومت کے سامنے 2 نام رکھے جائیں جن میں سے ایک برٹش اپ ہولڈر اور دوسری فرانسیسی آگسٹا تھی۔پھر حکومت کی جانب سے آگسٹا کی منظوری دے دی گئی۔اکتوبر 99ء سے اکتوبر 2002ء پاکستان نیوی کی قیادت پر فائز رہنے والے عبدالعزیز مرزا نے کہا کہ نیوی کو باضابطہ طور پر آگسٹا کے سودے میں کک بیکس کی وصولی کا پہلی بار علم 1998میں ہوااور اس کے بعد کیپٹن اور کموڈورز کے عہدوں کے 3 افسرا ن کیخلاف رشوت وصولی کے الزام کے تحت کارروائی کرتے ہوئے انہیں نوکری سے برطرف کر دیا گیا۔ عبدالعزیز مرزا کا کہنا ہے کہ میرا اعتراض تو اس بات پر ہے کہ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ نیوی کے کموڈور کے اوپر کے عہدے داروں نے ہو سکتا رشوت وصول کی ہو جیسا کہ فرانسیسی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے ۔بہرحال ثبوت یا شواہد کی عدم دستیابی کی بناء پر ان (نیوی کے اعلیٰ عہدیدار)کی نشاندہی نہیں ہو سکی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہاں تک کہ سابق نیول چیف منصور الحق کو بھی آگوسٹا کے سودے میں کک بیکس وصول کرنے کا مجرم قرار نہیں دیا گیا بلکہ ان کو دیگر دفاعی سودوں میں رشوت وصول کرنے کا الزام لگایا گیا۔فرانس کے ایک صف اول کے اخبار کی حالیہ رپورٹ کے مطابق تحقیقات ظاہر کرتی ہیں کہ3 آگسٹا 90 کی 825ملین یورو کے عوض فروخت میں زرداری کو 4.3ملین ڈالرز کے کک بیکس وصول کئے۔1994میں بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں یہ معاہدہ ہو گیا تھا۔سابق ڈی جی نیول انٹیلی جنس کموڈور شاہد اشرف کے مطابق ، انہوں نے1995کے اوائل میں اس وقت کے نیول چیف منصور الحق اور ان کے نائب چیف وائس ایڈمرل اے یو خان کو دیگر نیوی کے افسران کو رشوت کی ادائیگی کی مد میں ملنے والی رقم کے حوالے سے آگاہ کر دیا تھا۔شاہد اشرف ،جنہیں بورڈ کی انکوائری کے بعد نوکری سے بر طرف کر دیا تھا، نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ 1998 میں انہوں نے نیول چیف اور ان کے نائب کو آگسٹا کے سودے میں کک بیکس کا بتایا لیکن مجھے اپنا منہ بند رکھنے کے احکامات دیئے گئے ۔ شاہد اشرف کا کہنا تھا کہ میں بے قصور تھا اور مجھے 1998میں پاکستان نیوی کی جانب سے مبینہ طور پر ادارے کے کرپٹ افسران (جنہوں نے آگسٹا سودے میں کک بیکس وصول کئے تھے)کو بچانے کیلئے مجھے نشانہ بنایا گیا۔ایڈ مرل مرزا نے ان حقائق کو تسلیم کیا کہ شاہد اشرف نے یہی دعویٰ اپنے 1998کے بیان میں کیا تھا اور یہ کہ ریٹائرڈ وائس ایڈمرل اے یو خان نے بھی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کے سامنے اس حقیقت کی تصدیق کی ۔لیکن ایڈمرل مرزا نے پھر اصرار کیا کہ سابق ڈی جی نیول انٹیلی جنس نے لازمی طور پر آگسٹا کے سودے میں کک بیکس وصول کئے جس کی دیگر 2افسران نے تصدیق بھی کی ، کیپٹن زیڈ یو علوی اور کیپٹن لیاقت علی ملک جن پر براہ راست فرانسیسیوں سے رشوت وصولی کا الزام لگایا گیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ اور اسی وجہ سے سابق ڈی جی نیول انٹیلی جنس پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کیپٹن زیڈ یو علوی اور کرنل اعجازدو اہم گواہ تھے اور وہ کک بیکس اور کرپشن کی تمام تفصیلات بتانے پر رضامند ہو گئے۔عبدالعزیز مرزا نے یہ تسلیم کیا کہ اشرف منصور الحق کے دست راست تھے ان پر کبھی بھی کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگا تھاسوائے اس کے کہ انہوں نے علوی سے 15لاکھ روپے وصول کئے جو کہ کک بیکس کا براہ راست وصول کنندہ تھا۔عبدالعزیز مرزا ،جوکہ ریاض میں سفیر پاکستان کی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں ، کا کہنا تھا کہ ظفر اقبال جوکہ فرانسیسی کمپنی کا مڈل مین تھا اس سے بھی تفتیش کی گئی اور اس نے اقرار کیا تھاکہ اسے 16لاکھ امریکی ڈالر دیئے گئے تھے کہ 4 کموڈوروں میں تقسیم کر دیئے جائیں ۔ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ اقبال اور اعجاز دونوں میں سے کسی نے بھی ان میں سے کسی کو یہ رقم نہیں دی ۔ سابق نیول چیف نے کہاکہ چاروں کموڈوروں کو کبھی چارج شیٹ نہیں دی گئی اور نہ ہی تحقیقاتی بورڈ کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ فیکٹ فائنڈنگ مشن نے ان کو پہلے ہی بے قصور قرار دے دیا تھاجس کی بناء پر ان کو ریئر ایڈ مرل تک ترقی بھی دی گئی۔ظفر اقبال نے تحقیقات کے دوران دعویٰ کیاکہ اسے فرانسیسی کمپنی کی جانب سے ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ کموڈور تک کے نیول حکام کو رشوت دے۔عبدالعزیز مرزا نے مزید بتایاکہ فظر اقبال نے دعوی ٰ کیا کہ نیوی کے اعلیٰ افسران اور سیاسی قائدین کیلئے عامر لودھی سمیت دیگر مڈل مین استعمال کئے گئے جن کی ذمہ داری تھی کہ وہ حکومت اور نیوی کے اہم افراد کو کک بیکس اور کمیشن پہنچائیں۔یہ مڈل مین کبھی بھی پکڑے نہیں گئے اور نہ ہی ان پر کوئی مقدمہ چلا جس کی وجہ سے یہ راز کھل ہی نہیں سکا کہ نیوی کے اہم افسرا ن سمیت کس کس نے کتنا پیسہ وصول کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ کچھ اہم افراد نے بھی کک بیکس وصول کئے اور پکڑے نہیں گئے۔آگسٹا کک بیکس کے حوالے سے فرانسیسی میڈیا کہ حالیہ رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان خبروں کو اس وجہ سے تقویت ملتی ہے کہ فرانسیسی ، جرمن ، اطالوی اور دفاعی آلات بنانے والے دیگر بھی معاہدے (سودے)کا 10فیصد کک بیکس ، تفریح ، تحائف وغیرہ کی مد میں رکھتے ہیں کیونکہ یہ ان کی پالیسی ہے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان کے دفاعی سودوں میں کمیشن یا کک بیکس کا خاتمہ ممکن ہے تو ان کا جواب تھا کہ اگر تھوڑی سی بھی کوشش کی جائے تو اس کا خاتمہ تو نہیں ہو سکتا لیکن اس میں کمی ضرور آ سکتی ہے۔
آبدوزوں کی خریداری میں سیاستدانوں اور نیول افسران نے رشوت وصول کی، سابق نیول چیف نے تصدیق کردی
|
|
|