| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 375
|
||||
| 11 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | skjatala (12-11-11), فاروق سرورخان (12-11-11), ھارون اعظم (12-11-11), محمد عاصم (12-11-11), محمدخلیل (12-11-11), مرزا عامر (12-11-11), احمد نذیر (12-11-11), حیدر (12-11-11), حیدر Rehan (14-11-11), رضی (12-11-11), سحر (12-11-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
صاحبان علم ۔۔۔
تو پھر مشکل ہے بھائی یہاں تو کوئی نہیں۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,976
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حالا نکہ آپ کا ساتھی جس کے چہرے پر آپ نے پاکستان کا جھنڈا بنا رکھا ہے ، وہ بھی آپ کا بازو پکڑ کر آپ کو منع کر رہا ہے۔
کافی دنوں سے آپ نے ایک ناراض بچے جیسا رویہ اپنایا ہوا ہے۔
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا |
| کمائي نے skjatala کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 12-11-11 | حیدر | حالا نکہ آپ کا ساتھی جس کے چہرے پر آپ نے پاکستان کا جھنڈا بنا رکھا ہے ، وہ بھی آپ کا بازو پکڑ کر آپ کو منع کر رہا ہے۔ hahahaha | 150 |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
وہ صاحب علم بندہ ہے۔ وہ پاکنیٹ پر روزانہ آتا ہے۔ لیکن پوسٹنگ کرنے سے میں نے منع کیا ہے
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟ |
|
|
|
| محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (13-11-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
اجتہاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اجتہاد اُس وقت کیا جاتا ہے جب کوئی ایسا مسئلہ بن جائے جس کا حل قرآن و حدیث سے واضح نہ ملتا ہو۔ دین میں حجت کے معاملے میں بس اتنا ہی کہونگا کہ اسلام میں کسی کے اجتہاد کی کوئی اہمیت نہیں ہے، مگر بعض لوگ اس کو اسلام میں حجت مانتے ہیں کہ کسی غیر نبی کے کسی معاملے میں کیئے گے اجتہاد کو ماننا لازم ہے اور بعض نادان انکار کرنے والوں پر کفر کے فتوے لگا دیتے ہیں، مگر اس کے حق میں دلیل ایک بھی نہیں دیتے، ان کی دلیل اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ جو ہمارے بڑوں نے کہہ دیا ہے بس وہی حق ہے اس کا انکار کفر ہے، اب بندہ ان سے پوچھے آپ کا بڑا کون ہے جس نے کسی کے ذاتی اجتہاد کا انکار کرنے والے پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا؟ یہ انتہائی آسان معاملہ ہے مگر اس کو بھی پیچیدہ مسئلہ بنادیا گیا ہے، دیکھیں کسی کے اجتہاد کو دین میں حجت ماننا ایسے ہی ہے کہ ہم کو یہ گارنٹی ہو کہ یہ اجتہاد اللہ کی رضا کے مطابق ہے، اور جبکہ معاملہ یہ ہے کہ اجتہاد کیا ہی تب جاتا ہے جب کسی معاملے میں قرآن اور حدیث سے واضح رہنمائی نہ ملتی ہو اگر واضح رہنمائی مل جائے تو کوئی کیوں اجتہاد کرئے گا، اب ایک معاملہ درپیش آ گیا ہے جس کی واضح رہنمائی قرآن و حدیث سے نہیں مل رہی توہی اجتہاد کیا جائے گا، ایک حدیث میں آتا ہے کہ جس بندے کا اجتہاد صحیح ہوا اُس کے لیئے دو اجر ہیں اور جس کا اجتہاد صحیح نہ ہوا اُس کے لیئے ایک اجر ہے، اس سے بھی معاملہ واضح ہے کہ اجتہاد صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی، تو ایسی چیز جو متشبہ ہے وہ دین میں حجت کیسے بن سکتی ہے؟؟؟ اور دوسرا یہ کہ اجتہاد کرنے والے کو وہ عمل جائز ہوگا جس کا اجتہاد اس نے کیا ہے وہ عمل کسی اور کے لیئے حجت نہیں بن سکتا ہے، جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ باقی اللہ سے دُعا ہے کہ وہم ہمیں حق بات سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے آمین
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہم سے عبد اللہ بن یزید مقری مکی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا ‘ انہوں نے مجھ سے یزید بن عبد اللہ بن الہاد نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن ابراہیم بن الحارث نے ‘ ان سے بسر بن سعید نے ‘ ان سے عمر بن العاص کے مولیٰ ابو قیس نے ‘ ان سے عمر بن العاص رضی اللہ عنہ نے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا ‘ آپ نے فرمایا کہ جب حاکم کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہوتو اسے دہرا ثواب ملتا ہے اور جب کسی فیصلہ میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے اکہرا ثواب ملتا ہے ( اجتہاد کا ) بیان کیا کہ پھر میں نے یہ حدیث ابو بکر بن عمر وبن حزم سے بیان کی تو انہوں نے بیاا کیا کہ مجھ سے ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے اسی طرح بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ عنہ نے بیان کیا ۔ اور عبد العزیز بن المطلب نے بیان کیا ‘ ان سے عبد اللہ بن ابی ابکر نے بیان کیا ‘ ان سے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بیان فرمایا ۔
__________________
![]() عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟ سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟ |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
چونکہ میں تو اہل علم میں نہیں ہوں۔ اس لیے اس سے متعلق علم رکھنے والی ایک مشہور شخصیت کی چند باتیں پیش کر دیتا ہوں۔ ہو سکتا ہے آپ کو باتیں بے ربط محسوس ہوں کیونکہ میں اقتباسات مختلف مضامین میں سے پیش کروں گا اس لیے سیاق و سباق کے بغیر بے ربطگی محسوس ہو سکتی ہے۔
اجتہاد کیا ہے ؟ اجتہاد کے لغوی معانی تو ہیں "کسی کام کی انجام دہی میں انتہائی کوشش صرف کرنا"۔ مگر اصطلاحا اس سے مراد ہے "یہ معلوم کرنے کی ایک انتہائی کوشش کہ ایک مسئلہ زیر بحث میں اسلام کا حکم یا اس کا منشا کیا ہے" بعض لوگ غلطی سے اجتہاد کو بالکل آزادانہ استعمال رائے کے معنی میں لے لیتے ہیں۔ لیکن کوئی ایسا شخص جو اسلامی قانون کی نوعیت سے واقف ہو اس غلط فہمی میں نہیں پڑ سکتا کہ اس طرح کے ایک قانونی نظام میں کسی آزاد اجتہاد کی بھی کوئی گنجائش ہو سکتی ہے۔ اس کی ضرورت کیوں ہے ؟ اگر تو ہم اجتہاد کے اصطلاحی معنی سمجھ لیتے ہیں تو ہمارے اس سوال کا جواب خود ہی ہمیں مل جائے گا۔ تاہم ایک دوسرے انداز میں بھی اس کو سمجھ جا سکتا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے اسلام میں قانون سازی ، اس کا دائرہ عمل اور پھر اس میں اجتہادکا مقام سمجھنا پڑے گا۔ ان چیزوں کو سمجھنے کے لیے ہمیں اسلام میں حاکمیت الہیٰ اور نبوت محمدی کے تصور کو سمجھنا پڑے گا۔ پھر جب ہم ان دائرہ کار کو سمجھ لیں گے تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ "حاکمیت الہیٰ اور نبوت محمدی" نے ہمیں ہر ممکنہ قوانین فراہم تو کئیے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک اسلامی ریاست میں انسانی قانون سازی کی سرے سے کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ اسلام انسانی قانون سازی کی قطعی نفی نہیں کرتا بلکہ اسے خدائی قانون کی بالاتری سے محض محدود کرتا ہے۔ یعنی اگر تو انسانی زندگی کے معاملات میں سے کسی معاملے میں قرآن و سنت نے کوئی واضح اور قطعی حکم دیا ہے یا کوئی خاص قائدہ مقرر کیا ہے تو اس طرح کے معاملات میں کوئی مفتی، کوئی قاضی، کوئی قانون ساز ادارہ، شریعت کے دئیے ہوئے حکم یا اس کے مقرر کئیے ہوئے قاعدے کو نہیں بدل سکتا۔ تام یہ بھی ایک تفصیل طلب موضوع ہے۔ انسانی زندگی کے چند معاملات ایسے ہیں جن کے بارے میں شریعت نے کوئی حکم نہیں دیا۔ مگر ان سے ملتے جُلتے معاملات سے متعلق وہ ایک حکم دیتی ہے۔ چناچہ یہاں پر قیاس کا دائرہ کار شروع ہو جاتا ہے۔ ایک دائرہ کار "آزادانہ قانون سازی کا دائرہ" ہے۔یہ وہ معاملات ہیں جن کے بارے میں شریعت بالکل خاموش ہے۔ یہ خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ حاکم اعلیٰ ان میں انسان کو خود اپنی رائے سے فیصلہ کرنے کا حق دے رہا ہے۔ اس لیے ان میں آزادانہ قانون سازی کی جا سکتی ہے۔ مگر یہ قانون سازی ایسی ہو کہ جواسلام کی روح اور اس کے اصول عامہ سے مطابقت رکھتی ہو، جس کا مزاج اسلام کے عمومی مزاج سے مختلف نہ ہو اور جو اسلامی کے نطام زندگی میں ٹھیک ٹھیک نصب ہو سکتی ہو۔ قانون سازی کا یہ سارا عمل ، جو اسلام کے قانونی نظام کو متحرک بناتا اور سمانے کے بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ساتھ اس کو نشو نما دیتا چلا جاتا ہے ایک خاص علمی تحقیق اور عقلی کاوش ہی کے ذریعے انجام پا سکتا ہے۔ اور اس کا نام اسلامی اصطلاح میں اجتہاد ہے۔ دین میں اس کا درجہ کیا ہے ؟ چونکہ کسی بھی قانون سازی کا مقصد نظام زندگی اور معاشرے میں آسانیاں پیدا کرنا اور نیکیوں کی اشاعت کرنا ہوتا ہے اور چانکہ روز روز بدلتے حالات و واقعات، منظر نامے، جدید ترقی اور اس کے پیدا کردہ مسائل ہر مرتبہ ہمارے نظام زندگی میں اور معاشرے پر مختلف اثرات مرتب کرتے رہتے ہیں جو کہ منفی بھی ہو سکتے ہیں اور مثبت بھی۔ چناچہ ان بدلتے ہوئے حالات کے منفی اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے اجتہاد یعنی قرآن و سنت کے رہنمائی میں انسانی قانون سازی یعنی اجتہاد تو انتہائی اہم اور قابل تعریف عمل ہے ۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (13-11-11), مرزا عامر (12-11-11), احمد نذیر (13-11-11), حیدر Rehan (14-11-11), رضی (12-11-11) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
چھوٹی عید کا اعلان بھی ہندوستان میں چاند نظر آنے کے بعد کیا گیا تھا ۔ جبکہ محکمہ موسمیات نے ایک دن پہلے ہی چاند نظر آنے کی پیشگوئی کر دی تھی ۔ محکمہ موسمیات کا اندازہ اتنا زبردست ہوتا ہے کہ یہ بات پہلے واضح کر دی جاتی ہے کہ چاند انسانی آنکھ سے دیکھا جا سکے گا یا نہیں لہٰذا ان کمیٹیوں کی کوئی ضرورت نہیں
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
اور میرے زاتی خیال سے ہر بندہ اپنی زات میں اچھے کے لیے اجتہاد کر سکتا ہے۔
|
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حیدر بھائی نے بہت اچھی طر ح وضاحت کی ہے
شکریہ ! لیکن محمد عاصم بھائی کی بات کچھ سمجھ میں نہیں آئی اقتباس:
|
|
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (14-11-11) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
ایک نظر یہاں بھی۔۔۔۔۔۔
علامہ اقبال کا تصور اجتہاد اور علمائے کرام اور اس سے بھی اچھا اپ کو یہاں ملے گا Society and Culture Articles : Hamariweb.com - اجتہاد اور علامہ اقبال |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
کیا اجتہاد کو ریسرچ اور مجتہد کو ریسرچر کہہ سکتے ہیں ؟؟؟
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اجتہاد کے حوالے سے ایک سوال کا اضافہ کر لیں
اجتہاد کرنے کی شرائط؟ یعنی ایک مجتہد کو کن خصوصیات کا حامل ہونا ضروری ہے۔ یا وہ کون سے بنیادی تقاضے ہیں جن کے بعد ہی اجتہاد کیا جا سکتا ہے
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| quote, کوئی, پکڑ, پاکستان, لوگ, نہیں۔, چہرے, منع, مشکل, ایسے, اجتہاد, اسلام, بھائی, بچے, بنا, جھنڈا, جیسا, حدیث, درکار, درجہ, رکھا, سوالات, ساتھی, ضرورت, علم |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|