امریکہ کے ترقیاتی امداد دینے کے ادارے یو ایس ایڈ نے امریکہ میں بچوں کے مقبول ترین پروگرام سیسمی سٹریٹ کو اردو زبان میں بنانے کے لیے دو کروڑ ڈالر مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔یو ایس ایڈ کی طرف سے ان پروگراموں کی اردو زبان میں تیاری کے لیے دو کروڑ ڈالر امداد دینے کے فیصلہ کو امریکہ کی پاکستانیوں کے دل اور دماغ جیتنے کی مہم کا حصہ کہا جا رہا ہے اور ان پروگرائموں کا مقصد پاکستان میں تعلیم کو فروغ دینا ہے۔سیسمی اسٹریٹ کے سلسلے کے پروگراموں کی عکس بندی اس سال لاہور میں کی جائے گی۔یوایس ایڈ کے ترجمان ورجن مورگن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان پرگراموں کی تیاری بھی اس منصوبے کا حصہ جس کا مقصد پاکستان میں تعلیم کے ڈھانچے کو ترقی دینا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں تعلیم کے شعبے کو امداد کی سخت ضرورت ہے۔
سیسمی سٹریٹ کی عکس بندی پاکستان میں دیہاتی پس منظر میں کی جائے گی جس میں چائے کے کھوکھے اور دیہاتیوں کو اپنے گھروں کے صحنوں میں بیٹھا ہوا دکھایا جائے گا۔
برطانوی اخبار گارڈئن کے مطابق سیسمی شو میں رانی نامی کی ایک پتلی مرکزی کردار ادا کرے گی جس کی عمر چھ سال ہے اور جو کہ ایک کسان کی بیٹی ہے۔
رفیع پیر تھیٹر پاکستان میں گزشتہ تیس سال سے اس شعبے میں کام کر رہا ہے۔ رفیع پیر تھیٹر کا نام اپنے ڈراموں کے علاوہ شدت پسندوں کی طرف سے ملنے والی دھمکیوں کی وجہ سے بھی ماضی قریب میں خبروں میں نظر آتا رہا ہے۔سنہ دو ہزار آٹھ میں اس کے مقبول ورلڈ پرفورمنگ آرٹ فیسٹیول پر بم حملہ کیا گیا تھا۔ گو کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا لیکن اس کی وجہ سے لاہور میں جسے پاکستان کے ثقافتی مرکز کا درجہ حاصل ہے فن کارانہ سرگرمیوں کو شدید دھچکا لگا تھا۔ ان سب دھمکیوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے باوجود فیضان اور عمران پیرزادہ سیسمی سٹریٹ کو پاکستان میں لانے کے بارے میں پرعزم رہے۔
اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں دونوں بھائیوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس پروگرام کو پاکستان کے دیہاتوں تک لے کر جائیں گے اور انھوں نے اگلے دو برس میں ملک میں چھ سو کے قریب شو کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔پروگراموں کا یہ سلسلہ جو کہ پانچ سے نو سال کے بچوں کو ذہن میں رکھ کر ترتیب دیا جائے گا پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل کے علاوہ علاقائی چینلوں پر بھی نشر کیا جائے گا۔
سیسمی سٹریٹ کے انگریزی زبان میں پروگرام انیس سو نوے کی دہائی میں پاکستان میں ٹی وی پر نشر ہوتے رہے ہیں اور اس کے کردار پاکستانیوں کے لیے اجنبی نہیں ہیں۔انگریزی زبان میں ہونے کی وجہ سے پاکستان کی ایک محدود آبادی ہی ان سے مستفید ہو سکی تھی۔رفیع پیر تھیٹر کو جو سیسمی ورکشاپ کے ساتھ مل کر اس کو اردو زبان میں تیار کر رہی ہے امید ہے کہ اس مرتبہ پاکستان کی اکثریت اس پروگرام کو سمجھ سکے گی۔عمران پیرزادہ نے امریکی جریدے نیوز ویک کو بتایا کہ اس میں جو پتلی مرکزی کردار ادا کر رہی ہے وہ ایک بہادر اور جرات مند لڑکی کا ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ اس ماحول کی عکاسی کرے گی جس میں پاکستان کے دیہات میں ایک لڑکی کو گزرنا پڑتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس لڑکی کا سفر لامحالہ طور پر پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو بھی چھوئے گا لیکن مذہبی بحث میں براہراست نہیں پڑے گا۔انھوں نے کہا کہ ’ہم بچوں پر کوئی لیبل نہیں لگانا چاہتے۔‘ انھوں نے کہا کہ پروگرام کا بنیادی مقصد تعلیم کو فروغ دینا ہے۔
بی بی سی اردو