واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


اسلام كا نظام خلافت اور دور حاضر ميں اس كا قيام

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-01-12, 08:39 AM   #1
اسلام كا نظام خلافت اور دور حاضر ميں اس كا قيام
شمشاد احمد شمشاد احمد آف لائن ہے 07-01-12, 08:39 AM

اسلامي نظام خلافت اور اس كے نظام اور قيام كو سمجھنے ميں دلچسپي ركھنے‌والےحضرات كو ضرور اس سوالات كے جواب كا مطالعہ كرنا چاہے۔۔
اگر يہاں واضح نظر نہيں آ رہا تو اس لنك پر كو آپ ديكھ‌ليں۔
اسلام كا نظام خلافت اور دور حاضر ميں اس كا قيام
islam-ka-nizam-khilafat1.jpg
islam-ka-nizam-khilafat2.gif

اہم سوالات اور ان کے جوابات (یا مفہوم) یونی کوڈ میں ٹائپ کر رہا ہوں۔ اُمید ہے شمشاد بھائی اپنے مراسلے میں بلا اجازت گھسنے پر ناراض نہیں ہو ں گے۔ انشا اللہ (حیدر)

سوال:اسلامی نظام کو لانے کا کوئی خاص طریقہ کار ہے یا کوئی بھی مروجہ طریقہ انقلاب ہو، وہ اپنایا جا سکتا ہے؟
جواب:ایک اسلامی حکومت کے قیام کے لیے سب سے بہتر اور ائیدیل طریقہ کار وہی ہے جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابہ کرام نے حضرت ابو بکر کو باہمی مشورہ اور بحث مباحثہ کے بعد اتفاق رائے سے خلیفہ منتخب کر کے اختیار کیا تھا۔ اس کے بعد مختلف خلفا راشدین کے انتخاب کے طریقے اور حضرات صحابہ کرام کی اختیار کردہ متفقہ صورتیں بھی اس طریق کار کی مختلف شکلیں ہو سکتی ہیں۔ لیکن ان کے لیے پہلے خلافت کا نظام اور سسٹم موجود ہونا ضروری ہے۔ اج کل چونکہ از سر نو خلافت کے دھانچے کی تشکیل کا مرحلہ درپیش ہے اس لیے حضرت صدیق اکبر کے انتخاب والا طریقہ ہی اس کے لیے درست طریق کار ہے۔

سوال نمبر 6:اسلامی نظام یا خلافت کا کوئی خاص حکومتی ماڈل ہوتا ہے؟ مثلاً سوریٰ کے چند ممبران یا پارٹی اور پارلیمانی نظام یا ایک حاکم وقت جو اپنے فیصلئے قرآن و سنت کی روشنی میں خودکرتا ہو؟ آخر اسلامی حکومت کا ماڈل کیسا ہوگا؟
جواب:خلافت کا بنیادی تصور یہ ہے کہ خلیفہ خود مستقل حکمران نہیں ہوتا بلکہ حکمرانی کے معاملات میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت و خلافت کرتا ہئے اور اس طرح خود حکومت کرنے کے بجائے جناب نبی اکرم صلی اللہ ولیہ وسلم کے حق حکمرانی کو ان کی تعلیمات اور ہدایات کے دائرے میں رہتئے ہوے نیابتاً استعمال کرتا ہے۔
؎%%خلیفہ کا انتخاب حضرت ابو بکر ی طرح عوام کی اجتماعی رائے سے ہوتا ہے۔ عوام کا اعتماد اور انتخاب ہی اس کے حق حکمرانی کی بنیاد ہے۔
%%وہ اپنی معاونت و مشاورت کے لیے اہلیت رکھنے والے افراد کا انتخاب کرے گا اور ان کے مشورہ سے حکومت چلائے گا۔
%%یہ طرز حکومت بظاہر شخصی ہے ۔ لیکن خلیفہ چونکہ اللہ کے قوانین کا پابند ہے اس لیے وہ اپنی زاتی خواہش کی بنیاد پر کوئی کام کرنے کا مجاز نہیں۔
%%رعیت کے ہر فرد کو بلا امتیاز مذہب خلیفہ سے کھلے بندوں باز پرس کرنے کا اختیار ہے۔ اور وہ ہر شخص کو مطمئن کرنے کا پابند ہے۔
%%خلیفہ کے کسی بھی حکم کو چلینج کیا جا سکتا ہے۔ وہ عدالت میں حاضری سے مستثنی نہیں
%% خلافت کی عملی تفصیلات اور طریق کار ہر زمانے میں اور ہر علاقے کے ماحول اور ضرورایت کو دیکھ کر ارباب حل و عقد طے کریں گے
%%ہمارے نزدیک قیام پاکستان کے بعد دستور ساز اسمبلی نے جو قرار داد مقاصد منظور کی تھی وہ آج کے دور میں اسلامی حکومت کے قیام اور اسلامی نظام کے نفاذ کی بہترین بنیاد بن سکتے ہئیں۔ اس کا خلاصہ دو اصولوں کی صورت میں کیا جا سکتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&&حکومت کا قیام عوام کی رائے سے ہوگا
--------------&&حکومت قرآن و سنت کے اھکام کی پابند ہو گی۔

سوال 17-18:جمہوریت اور خلافت میں کیا فرق ہے؟
جواب:
جمہوریت انسان کو انسان کی حکومت کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے۔پارلیمنٹ کو ہر قسم کے اختیارات دے کر احکام الہہ کے نفاذ یا عدم نفاذ کے اختیارات بھی دے دئیے گئے ہیں۔ اس کے برعکس خلافت بھی بے شک عوام کے اعتماد و رائے سے سامنے آتی ہے۔ لیکن اس میں خلیفہ کے پاس اختیار نہیں ہوتا کہ وہ اپنی من مانی مرضی کر سکے


؎

__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔

Last edited by حیدر; 12-01-12 at 11:44 AM..

 
شمشاد احمد's Avatar
شمشاد احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 426
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (13-01-12), نبیل خان (12-01-12), محمد عاصم (13-01-12), مرزا عامر (07-01-12), احمد نذیر (07-01-12), حیدر (07-01-12), عبداللہ آدم (15-01-12)
پرانا 07-01-12, 06:45 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تکلیف کیجئے اور اس کو یہاں‌ٹائپ کردیجئے۔ تاکہ سب پڑھ سکیں۔

میرا ذاتی خیال۔ یہ ایک حماقت آمیز تحریر ہے ۔

فرد واحد کی حکومت ہمیشہ سے ملاء کی خواہش رہی ہے۔ اس لئے کہ عوام کی عدالت میں یہ گھبراتا ہے ۔ قانون سازی شوری کی ہو اور پریزیڈینٹ منتخب شدہ ہو اس میں‌اور فراہم کردہ ڈاکومینٹ‌میں کیا فرق ہے ؟؟؟؟

ساری خواہش یہ ہے کہ کسی طور قرآن ہٹا کر اپنی ذاتی دستاویزات آئین بنادی جائیں
اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ رسول اکرم نے کیا فرمایا تھا؟ کسی عدالت میں دو افراد کی گواہی پر مبنی کوئی ثبوت ہے کسی کے پاس؟ اگر نہیں‌تو پھر موجودہ قوانین جو قرآن و سنت سے متصادم نہیں ہیں اس میں‌کیا خرابی ہے ؟

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (11-01-12), پاکستانی (10-01-12), مرزا عامر (07-01-12), حیدر (11-01-12)
پرانا 07-01-12, 08:27 PM   #3
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آرٹیکل کافی لمبا ہے -
میرا موقف ابھی تک بدلا نہیں ہے ۔ حقیقی جمہوریت اصل خلافت کا دوسرا نام ہے ۔ میرے لفظ حقیقی پر نظر کرم کیجئے گا ۔ پاکستانی جمہوریت پر نہیں ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (11-01-12), نبیل خان (12-01-12), محمد یاسرعلی (10-01-12), حیدر (11-01-12)
پرانا 07-01-12, 08:41 PM   #4
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
تکلیف کیجئے اور اس کو یہاں‌ٹائپ کردیجئے۔ تاکہ سب پڑھ سکیں۔

میرا ذاتی خیال۔ یہ ایک حماقت آمیز تحریر ہے ۔

فرد واحد کی حکومت ہمیشہ سے ملاء کی خواہش رہی ہے۔ اس لئے کہ عوام کی عدالت میں یہ گھبراتا ہے ۔ قانون سازی شوری کی ہو اور پریزیڈینٹ منتخب شدہ ہو اس میں‌اور فراہم کردہ ڈاکومینٹ‌میں کیا فرق ہے ؟؟؟؟

ساری خواہش یہ ہے کہ کسی طور قرآن ہٹا کر اپنی ذاتی دستاویزات آئین بنادی جائیں
اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ رسول اکرم نے کیا فرمایا تھا؟ کسی عدالت میں دو افراد کی گواہی پر مبنی کوئی ثبوت ہے کسی کے پاس؟ اگر نہیں‌تو پھر موجودہ قوانین جو قرآن و سنت سے متصادم نہیں ہیں اس میں‌کیا خرابی ہے ؟

والسلام
فاروق صاحب

خلافت راشدہ کے قیام اور چاروں‌خلفاء‌کے انتخاب کے بارے میں آپ کے زریں‌خیالات جاننے کا خواہش مند ہوں۔

والسلام

طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (08-01-12), rana ammar mazhar (11-01-12), نبیل خان (12-01-12), حیدر (11-01-12), رضی (12-01-12)
پرانا 10-01-12, 09:42 PM   #5
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
آرٹیکل کافی لمبا ہے -
میرا موقف ابھی تک بدلا نہیں ہے ۔ حقیقی جمہوریت اصل خلافت کا دوسرا نام ہے ۔ میرے لفظ حقیقی پر نظر کرم کیجئے گا ۔ پاکستانی جمہوریت پر نہیں ۔
اگر واقعي ايسا ہے تو اس كو خلافت كيوں نہيں‌كہا جاتا۔۔۔۔
اگر آپ يہ كہتے ہيں‌كہ چوں كہ يہ حقيقي جمہوريت نہيں ہے اس ليے اس كو خلافت نہيں‌كہا جاتا تو يہ آپ كے‌اور ميرے ليے تو قابل قبول ہے ليكن جمہوريت كے علمبردار ايسا تسليم نہيں‌كرتے۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (11-01-12), نبیل خان (12-01-12), حیدر (11-01-12)
پرانا 10-01-12, 10:18 PM   #6
Senior Member
 
محمد یاسرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
کمائي: 54,668
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,142 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد یاسرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد یاسرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ہم کو سمجھ نہیں‌آتی کہ پاکستان‌میں مکمل اسلامی نظام کے قیام کی بجائے خلافت کا مطالبہ کیوں کیا جاتا ہے
خلافت اور جمہوریت میں کیا فرق ہے
اگر خلافت کا مقصد ملک میں اسلامی نظام کا قیام ہے تو کیا موجودہ آئین میں یہ بات موجود نہیں‌کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنے گا جو اسلام کے مطابق نہ ہو
یا خلافت اس لیے چاہئے کہ کسی ایک کو تاحیات کے لیے خلیفہ بنا دیا جائے پھر وہ جو مرضی چاہے کرے
__________________
فیس بک پہ پاک نیٹ کا حلقہ احباب
https://www.facebook.com/groups/pak.net

دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے شائع کردہ موضوع کو یہاں بھی شئیر کردیا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک نیٹ کی فیملی کا حصہ بنایا جاسکے۔
محمد یاسرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (11-01-12), فاروق سرورخان (10-01-12), حیدر (11-01-12)
پرانا 10-01-12, 10:30 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یاسر علی بہت شکریہ ---- فرد واحد کی حکومت کا پول کھولنے کا ۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (11-01-12), محمد یاسرعلی (10-01-12), حیدر (11-01-12)
پرانا 11-01-12, 10:24 AM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہائیں اتنی جلدی پول کھُل گیا؟
اس ملک میں 63 برسوں سے سیاستدانوں کے پول نہیں کھل پا رہے۔
ابھی تو خود اس ملک کے پول کھلنے کا وقت آ رہا ہے۔
یہ پول اتنی جلدی کیسے کھُل گیا
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (11-01-12), نبیل خان (12-01-12), محمد عاصم (13-01-12), رضی (12-01-12)
پرانا 11-01-12, 11:41 AM   #9
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمد یاسرعلی مراسلہ دیکھیں
ہم کو سمجھ نہیں‌آتی کہ پاکستان‌میں مکمل اسلامی نظام کے قیام کی بجائے خلافت کا مطالبہ کیوں کیا جاتا ہے
خلافت اور جمہوریت میں کیا فرق ہے
اگر خلافت کا مقصد ملک میں اسلامی نظام کا قیام ہے تو کیا موجودہ آئین میں یہ بات موجود نہیں‌کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنے گا جو اسلام کے مطابق نہ ہو
یا خلافت اس لیے چاہئے کہ کسی ایک کو تاحیات کے لیے خلیفہ بنا دیا جائے پھر وہ جو مرضی چاہے کرے
یاسر بھائی یہی بات سمجھنے کی ہے کہ
خلافت اور جمہوریت میں فرق کیا ہے ۔
جمہوریت میں انسانوں نے قانون بنایا ہے کہ کوئی قانون اسلام کے خلاف نہیں بنے گا اب انسانوں کے اوپر ہے کہ وہ اپنئ بنائی ہوئی اس شق پر عمل کرتے ہیں یا نہیں
لیکن خلافت میں ایسا اختیار انسانوں کے پاس ہے ہی نہیں کہ وہ یہ کہیں کہ قانون اسلام کے مطابق ہوگا یا نہیں ۔
یہ تھوڑا سا باریک نکتہ ہے سمجھنے کے لیے ۔
خلافت میں حاکمیت اللہ کی ہے ۔
خلیفہ یا کسی پارلیمنٹ کو قانون بنانے کا اختیار نہیں ۔
یا یوں کہیں کہ پارلیمنٹ سے قانون سازی کا اختیار لے لیا جائے تو پہر جمہوریت باقی نہیں رہے گی ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (11-01-12), skjatala (13-01-12), نبیل خان (12-01-12), محمد عاصم (13-01-12), مرزا عامر (11-01-12), حیدر (11-01-12), حیدر Rehan (13-01-12), رضی (12-01-12), عبداللہ آدم (15-01-12), عبداللہ حیدر (12-01-12)
پرانا 11-01-12, 04:58 PM   #10
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ نکتہ بہت ہی زیادہ باریک ہے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (11-01-12)
پرانا 11-01-12, 05:40 PM   #11
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
یاسر بھائی یہی بات سمجھنے کی ہے کہ
خلافت اور جمہوریت میں فرق کیا ہے ۔
جمہوریت میں انسانوں نے قانون بنایا ہے کہ کوئی قانون اسلام کے خلاف نہیں بنے گا اب انسانوں کے اوپر ہے کہ وہ اپنئ بنائی ہوئی اس شق پر عمل کرتے ہیں یا نہیں
لیکن خلافت میں ایسا اختیار انسانوں کے پاس ہے ہی نہیں کہ وہ یہ کہیں کہ قانون اسلام کے مطابق ہوگا یا نہیں ۔
یہ تھوڑا سا باریک نکتہ ہے سمجھنے کے لیے ۔
خلافت میں حاکمیت اللہ کی ہے ۔
خلیفہ یا کسی پارلیمنٹ کو قانون بنانے کا اختیار نہیں ۔
یا یوں کہیں کہ پارلیمنٹ سے قانون سازی کا اختیار لے لیا جائے تو پہر جمہوریت باقی نہیں رہے گی ۔
بات وہی ہے نا کہ اگر جمہوری حکومت قوانین خداوندی پر عمل پیرا ہو جائے تو وہ اصل جمہوریت بن جائے گی اور وہی خلافت کہلائے گی۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (11-01-12), نبیل خان (12-01-12)
پرانا 11-01-12, 05:49 PM   #12
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
بات وہی ہے نا کہ اگر جمہوری حکومت قوانین خداوندی پر عمل پیرا ہو جائے تو وہ اصل جمہوریت بن جائے گی اور وہی خلافت کہلائے گی۔
نہیں ۔ بات ایک نہیں ہے ۔
ایک ہوتا ہے کہ انسان کے پاس اختیار ہو کہ وہ اللہ کے قانون پر عمل کرتا ہے یا نہیں
اور دوسرا یہ کہ انسان کے پاس اختیار ہی نا ہو ۔
یعنی کے اسے ہر حال میں اللہ کے قانون پر ہی عمل کرنا ہے ۔ چاہے اس کی مرضی ہو یا نا ہو، دونوں میں فرق ہے ۔
جیسے بادشاہت ہوتی ہے کہ رعایا کو ہر حال میں بادشاہ کی بات ماننی ہے چاہے کچھ بھی ہوجائے
تو خلافت میں بادشاہ اللہ کی ذات ہے ۔
خلافت میں کسی کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے ۔ کہ وہ مانے یا نا مانے
جہمہوریت میں مسلمان خود مانیں کہ ہم اللہ کا قانون کو مانیں گے ۔
مطلب اللہ کا قانون مسلمانوں کے ماننے کا محتاج ہے نعوذبااللہ ۔
میں نے کہا نا کہ یہ کافی باریک نکتہ ہے ۔
جیسے سود اور منافع کا فرق ۔ ان دونوں میں بھی فرق بہت باریک نکتہ ہی ہے لیکن ایک حرام اور دوسرا حلال
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (11-01-12), skjatala (13-01-12), نبیل خان (12-01-12), محمد عاصم (13-01-12), حیدر Rehan (13-01-12), رضی (12-01-12), عبداللہ آدم (15-01-12)
پرانا 12-01-12, 11:18 AM   #13
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یار عامر بھائی یہ ویسا ہی فرق ہے جیسے "خلیفہ یزید"۔۔۔"خلیفہ مروان" و دیگر اموی و عباسی خلفا اللہ کے قانون کے خلاف نہیں کر سکے تھے۔
آپ سمجھتے کیوں نہیں ہو

دوسری مثال سے سمجھاتا ہوں کہ
اگر ایک شخص فوج کے ذریعہ ملک پر قبضہ کر لے ، خود کوصدر کے بجائےخلیفہ کہلوائے۔ شرعی نظام نافذ کر دے۔ تو وہ خلیفہ ہے؎اور عین اسلامی ہے۔ بلکہ سند یافتہ اسلامی ہے۔ وہ اپنی سند کا پھریرا لہراتے جنت میں داخل ہوگا

اس کے بر عکس اگر
کوئی بدقسمت کسی سیاسی پارٹی کے ذریعے حکومت میں ا جائے۔۔۔خود کو وزیر اعظم کہلاتا ہو۔ ۔ ۔ زمین پر ناک رگڑ رگڑ کر اعلان کرے کہ اس ملک میں کوئی بھی قانون یا کام غیر اسلام نہیں ہو گا۔ اور اس پر عمل بھی کرے۔ ہرقسم کا غیر اسلامی کام بند کر دے۔ تب بھی اُس کو "عین اسلامی" کا سرٹیفیکیٹ جاری نہیں ہو گا۔ اور وہ واصل جہنم ہو گا۔ کیوں کہ اس نے ایک کفری ، شرکی نظام میں رہ کر ایسا کام کیا ہے۔

فہوالتشریح و الوضاحت و البطخہ
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (12-01-12), ابرارحسین (12-01-12), حیدر Rehan (13-01-12)
پرانا 12-01-12, 11:33 AM   #14
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں نے کہا تھا نا کہ یہ باریک نکتہ ہے سمجھنے والوں کے لیے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (13-01-12), نبیل خان (12-01-12), محمد عاصم (13-01-12), حیدر (12-01-12), رضی (12-01-12)
پرانا 12-01-12, 11:36 AM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 983
کمائي: 32,018
شکریہ: 1,331
738 مراسلہ میں 2,352 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر کوئی قوم جمہوریت(اکثریت )کے ذریعے اللہ کے قانون کےنفاذ کا فیصلہ کرے تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ وہ اس قانون پر عمل کریں گے اور اگر کوئی حکمران اسے تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کو کافی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا( جیسا کہ پاکستان میں ہورہا ہے ) کہ جب بھی کوئی غیراسلامی قانون کے نفاذ کی کوشش ہوتی ہے تو ہرسطح پر اس کی مخالفت نظر آتی ہے اور حکمران مجبور ہو جاتے ہیں کہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جو کہ کھلم کھلا خلاف اسلام ہو۔
جبکہ شخصی اور تاحیات حکمران کی موجودگی میں پوری قوم کو صرف اسی ایک حکمران یا اس کے گروہ پر انحصار کرنا پڑے گا کہ وہ اسلام کے مطابق چلتے رہیں ورنہ پوری قوم مجبور ہوگی کہ وہ اسی کو اسلام سمجھے جو کہ ان کے حکمران کہ رہے ہیں۔
حتیٰ کہ اسلام کا صرف وہ فرقہ ہی مسلمان سمجھا جائے گا جس کی حکمران پیروی کرتے ہیں دوسرے تو ان کی نظر میں بڑی حد تک اسلام کے دائرے میں ہی نہیں آئیں گے ۔
خواہ طالبان کا اسلام ہو یا سعودیہ کا یاپھر ایران کا ! کیا واقعی آپ کسی ایسے ہی اسلام کا نظام چاہتے ہیں، جہاں صرف کسی ایک فرقے کی حکمرانی ہو۔ اب اس خلافت کو کوئی کتاب و سنت میں لپیٹ کر دے گا تو کوئی امامت کی مثال پیش کرے گا، اور کوئی صحابہ سے جوڑ کے سامنے لائے گا

Last edited by ابرارحسین; 12-01-12 at 11:46 AM.
ابرارحسین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ابرارحسین کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (13-01-12), حیدر (12-01-12), حیدر Rehan (13-01-12)
جواب

Tags
نظام خلافت, اسلام


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ميڈيا ہميں سكھا رہاہے يا بتا رہا ہے۔۔ كيا كہتے ہيں آپ شمشاد احمد خبریں 13 04-10-11 03:48 PM
لو جي بتائيں اسلام آباد ميں سينما كيوں نہيں ہے؟ شمشاد احمد خبریں 22 02-08-11 05:07 AM
ايسے لوگ اب پھرکبھي لوٹ کرنہيں آئيں گے ALI-OAD اپکے کالم 4 14-06-11 02:06 PM
جنھيں ميں ڈھونڈتا تھا آسمانوں ميں زمينوں ميں بزم خیال شاعر مشرق علامہ اقبال 1 31-03-11 10:55 AM
تم مجھے بھول جاو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں نورین خان شعر و شاعری 81 12-09-09 10:59 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:22 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger