واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


اسلام نے عورت کی حیثیت کو معاشرے میں بلند کر دیا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-05-09, 09:43 AM   #1
اسلام نے عورت کی حیثیت کو معاشرے میں بلند کر دیا
ایس اے نقوی ایس اے نقوی آف لائن ہے 23-05-09, 09:43 AM

کسی بھی تہزیب و تمدن اور مذہب نے عورت کواسکے‌حقوق کبھی عطا نہین کئے مشرق و مغرب ،روم،یونان و ترکی،مصر کی پرشکوہ حکومتوں نے بھی نہیں دیئے
کسی نے عورت کو زندہ گاڑ دیا۔
اس سے زندگی کا حق ہی چھین لیا گیا۔
کسی نے اس کی عصمت و آبرو کو برباد کر دیا،
کسی نے اس کی‌خرید و فروخت کے بازار لگا دیئے،
کسی نے اسے رہبانیت کےلئے مجبور کر دیا،
کسی نے جوتی کے مثل بنا دیا،
یہ اللہ رب العالمین ہی ہے جس نے اسے پیدا کیا اسکے اندر بے شمار صلاحیتیں رکھ دیں اپنی تخلیق کا ذریعہ اسے بنایا کہ جو گوشت پوست کا لوتھڑا دنیا میں آئے تو عورت ہی اسکی پرورش کی‌ذمہ دار ہے،جسمانی طور پر دیکھ بھال کے علاوہ اپنی صفت ربوبیت میں سے مامتا کے چشمے اسکے اندر انڈیل دیئے کہ انسان کی پرورش اسے ایک بوجھ ،ایکبار،ایک مصٰبت محسوس نہ ہو بلکہ محبت و شفقت سے اسے پروان چڑھائے ،
خالق کائنات نے عورت کو اسلئے پسند کیا کیونکہ اسکی تخلیق ہو وہی جامہ انسانیت پہنا سکتی ہے یہ عورت کےلئے کتنا بڑا اعزاز ہے وہ کہتا ہے جس سے میں کوئی کام لینا چاہتا ہوں اسے اپنے لئے منتخب کر لیتا ہوں اپنا کام خدا نے عورت کے ہاتھوں میں سونپ کر حکم دیا کہ تو اس خام مال کو کندن بنائے گی اور تیرے دم سے اس کائنات میں تنوع اور خوبصورتی ہوگی
”مرد“ کو سردار بنا کر تیری خدمت پر مامور کر دیا گیا ہے اور اگر تو نے اپنی نسوانیت کی صفات سے درست کام لیا تو اسکو بھی اپے افکار و تخیلات ،اپنی پسندیدہ زندگی کا ہمنوا بنا سکتی ہے تو اپنی لچک،شرافت،رحمت سے مرد کے دل پر حکمرانی بھی کر سکتی ہے اس اعزاز کے ساتھ اسلام نے تمدن و تہزیب اور صالح معاشرے کی خاطر اسکے درجات مزید بلند کئے ہیں
اسکی پیدائش کو اپنی رحمت قرار دیا
فرمایا کہ جس نے دو بیٹیوں کی پرورش خوش دلی کے ساتھ کی انہیں تعلیم و تربیت دی قیامت کے روز وہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ساتھ کھڑا ہو گا
جس کی بیٹی شوہر کے یہاں سے اجڑ کر واپس باپ کے گھر آ گئی پھر اس پر باپ کا جو کچھ خرچ کرے گا اسکا ردجہ و اجر خدا کے ہاں بہت بڑا ہو گا اسے تعلیم و تربیت کا پورا حق دیا گیا اس میں مردوں اور عورتوں کی کوئی تخصیص نہ رکھی گئی عورتیں اسلامی تہزیب سیکھنے اور سکھانے کا کام بھی کرتی ہیں ،علم و فنون کے جس درجہ پر پہنچنا چاہتی ہیں بلا روک ٹوک جا سکتی ہیں اسے انتخاب زوج کا پورا حق ہے اگر والدین اسکےلئے انتخاب کرتے ہیں تو اس لئے کہ بیٹی کی نسبت انکی نگاہ و عقل ،تجربہ و مشاہدہ تیز اور کئی گناہ زیادہ ہے ان سے اپنی بیٹی کی نسبت انتخاب شوہر میں کم سے کم غلطی ہو سکتی ہے وہ لڑکی کی صفات و عادات کو پہچان سکتے ہیں اور یہ لڑکی کی سعادت مندی ہے اور اپنے علم و تجربہ کی کمی کا احساس ہے کہ وہ اپنے والیدن کے انتخاب پر اپنی پسندیدگی کی مہر ثبت کر دیتی ہیں کیونکہ بیٹی کو اپنے والدین کی‌خیر خواہی پر کوئی شبہ نہیں ہوتا وہ ان پر پورا اعتماد کرتی ہے والدین کا لڑکی کےلئے شوہر کا انتخاب کرنا لڑکی پر جبر نہیں ہے کوئی زبردستی نہیں ہے وہ ہر طرح اپنی بیٹی کی مدد کرتے ہیں یہ ظلم نہیں ہے نہ حق تلفی
اسے پورا اختیار ہے کہ وہ اگر چاہے تو ماں باپ کے انتخاب کو مسترد کر سکتی ہے
ہاں!تہزیب مغرب کی طرح اسلام یہ گوارا نہیں کرتا کہ شادی سے پہلے وپ اپنی بیٹی کو ہونے والے داماد سے بے حجاب ملنے اور سیر وتفریح میں وقت گزارنے کی اجازت دیں
یہی ہماری تہزیبی اقدار کی روایات رہہی ہیں اور ان کو اب بھی قائم رہنا چاہیئے اس بے جا میل ملاپ پر پاندبی نے ہی ہمارے معاشرے کو تمام معاشروں میں منفرد رکھا ہےاگر خدا نخواستہیہ پابندی اٹھ گئی تو پھر جو کچھ معاشرے میں ہو گا اللہ ہی اس سے اپنی پناہ میں رکھے آمین
والدین چھان بین کر کے اچھا رشتہ تلاش کرتے ہیں اور بیٹی انکی محبت و توجہ پر اعتماد کرتے ہوئے بخوشی قبول کر لیتی ہے ان رشتوں کو تقدس اور پائیداری حاصل ہوتی ہے مسلمان معاشروں میں تو اس گئے گزرے دور میں بھی صرف بیٹیاں ہی نہیں بیٹے بھی ”رفیق حیات“کے انتخاب میں والدین کی ہی عقل و دانش ،محبت و تجربی پر اعتماد کرتے ہین اوت رشتے تو وہی پائیدار و مضبوط بنیادوں پر قائم ہو سکتے ہیں جن کےئ اندر خاندانی روایت،شرافت ،اعلی اخلاقی اقدار مستحکم ہوں
اللہ نے عورت کو یہ رتبہ دیا ہے کہ وہ اپنی آزادانہ و مختارانہ حیثیت سے شوہر کی ”رفیق حیات“ہے اسکی ملکیت نہیں ہے
زندگی کے سفر میں معاشرے کے اندر اپنے حصے کے فرائض ادا کرنے کےلئے دو ساتھی ہیں جن کو اپنے اپنے حصے کے فرائض انجام دیتے ہوئے زندگی کی منازل کو طے کرنا ہے شوہر کو ان پر کسی قسم کے مالکانہ حقوق حاصل نہین ہیں کہ جس طرح چاہے وہ اسکے ساتھ سلوک کرے اللہ اور اسکے رسول(ص) کا یہ منشاء‌ہر گز نہیں ہے
بیوی اپنے والدین کی طرف سے ترکے میں کو حصہ پاتی ہے وہ ااکی مالک و مختار خود ہے اس کا حق مہر ہو یا کسی اوت کی طرف سے ملی ہوئی نقد اشیاء یا جائیداد وغیرہ
وہ بلا شرکت غیرے ان کی مالک ہے وہ چیزیں اسکی اپنی ملکیت ہیں اس کا شوہر یا والدین،بھائی بہن یا اولاد کوئی بھی اس کی ملکیت پر اسکی مرضی کے بغیر تصرف کا اختیار نہیں رکھتے اسکے ذاتی مال سے اس سے بے حد و حساب محبت کرنے والا شوہر بھی اپنی محبت و یگانگت کی بناء پر ایک حصہ تک اسکی مرضی کے بغیر نہیں لے سکتا اور جو کوئی ایسا کرے گا وہ‌ظالم و غاصب ٹھہرے گا ہاں! خود بیوی جس کو جتنا چہاے اپنی مرضی سے دے سکتی ہے وہ اپنے مال کو جس طرح چاہے اپنے تصرف میں لا سکتی ہے شراکت داسری میں‌حصہ ڈالے یا خود کاروباراسلام اسے ہر گز نہین روکتا بیوی اپنے والدین سے ترکے میں حصہ پاتی ہے باپ ،ماں بہن،بھائی ،بیٹے اور شوہر کے مہر کے علاوہ زندگی بھراسکی کمائی خرچ کرتی ہے اور وہ اسکا حق رکھتی ہے شوہر کے انتقال کے بعد اسکے ترکے میں‌‌ حصہ پاتی ہے اگرچہ وہ اپنے والدین سے ملے ہوئے مال سے کتنی بھی مالدار کیوں نہ ہو شوہر سے نان نفقہ (اخراجات زندگی) اسکا شرعی حق ہے جسے کوئی غصب نہں کر سکتا
مہذب دنیا کی تاریخ کھنگالئے اور دیکھئے ہے کوئی دین ایسا دین اور مہذب جس نے عورت کی حیثیت کو معاشرہ میں اتنا بلند کر دیا ہو اور اس کی انسانی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی
اللہ ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطافرمائے آمین ثم آمین

(تمام احباب کا شکریہ کہ انہوں نے تحریر مکمل ہونے تک کوئی تبصرہ نہیں کیا اور میری کوشش رہی ہے کہ تحریر میں الفاظ کی کمی رکھتے ہوئے جامع الفاظ میں مکمل کر سکوں تعاون کا شکریہ دعا گو سید انجم شاہ

Last edited by ایس اے نقوی; 23-05-09 at 12:46 PM..

 
ایس اے نقوی's Avatar
ایس اے نقوی
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 299
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
arshad khan (23-05-09), Real_Light (23-05-09), فیصل ناصر (23-05-09), wajee (23-05-09), ام غزل (25-05-09), راجہ اکرام (23-05-09), رضی (23-05-09), سام (23-05-09), سحر (23-05-09)
پرانا 23-05-09, 01:06 PM   #2
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ کرے یہ معاشرہ عورت کو وہ سارے حقوق دے جو اسلام نے اس کو دیے ہیں ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (23-05-09), ایس اے نقوی (23-05-09), ام غزل (25-05-09), راجہ اکرام (23-05-09), رضی (23-05-09), سام (23-05-09)
پرانا 23-05-09, 01:12 PM   #3
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھے شاہ جی
تبصرہ کچھ دیر میں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (23-05-09), ام غزل (25-05-09), راجہ اکرام (23-05-09), رضی (23-05-09)
پرانا 23-05-09, 02:05 PM   #4
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام نے تو عورت کے حقوق واضع کر دیئے ہیں ہم لوگوں نے ہی انہیں سلب کر لیا ہے اور آفرین ہے اس عورت پر بھی جو جانتے ہوئے بھی کے اس کے حقوق اس کو نہیں مل رہے پھر بھی خاموش ہے۔


بس ہماری عورتوں کی اس خاموشی کا فائدہ اٹھا کر کچھ گروہوں نیں انسانی حقوق کے علمبردار ھونے کا دعوٰی کرتے ہوئے کچھ غلط قسم کے تصورات بھی پیدا کر دئے ہیں جیسے کے عورت کے لئیے پردہ ضروری نہیں اس کی مرضی ہے کرے نہ کرے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________

عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
wajee (23-05-09), ایس اے نقوی (23-05-09), ام غزل (25-05-09), راجہ اکرام (23-05-09)
پرانا 23-05-09, 02:24 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,203
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ہی جاندار تحریر انجم بھائی

اور رازی بھائی آپ نے بالکل صیح کہا ہے
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (23-05-09), ام غزل (25-05-09), راجہ اکرام (23-05-09), رضی (23-05-09)
پرانا 23-05-09, 04:16 PM   #6
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام انسانیت کے لیے تحفظ کا پیغام لے کر آیا۔ اسلام سے قبل معاشرے کا ہر کمزور طبقہ طاقتور کے زیرنگیں تھا۔ اور معاشرے میں خواتین کی حالت سب سے زیادہ ناگفتہ بہ تھی۔ تاریخ انسانی میں عورت اور تکریم دو مختلف حقیقتیں رہی ہیں۔ یونانی فکر سے مغربی فکر تک یہ تسلسل قائم نظر آتا ہے۔
یونانی روایات کے مطابق پینڈورا (Pandora) ایک عورت تھی جس نے ممنوعہ صندوق کو کھول کر انسانیت کو طاعون اور غم کا شکار کر دیا۔
ابتدائی رومی قانون میں بھی عورت کر مرد سے کمتر قرار دیا گیا تھا۔
ابتدائی عیسائی روایت بھی اسی طرح کے افکار کی حامل تھی۔ سینٹ جیروم (St. Jerome) نے تو یہاں تک کہا:
"Woman is the gate of the devil, the path of wickedness, the sting of the serpent, in a word a perilous object."

جب کہ اسلام کی حقوق نسواں سب سے بڑا علمبردار ہے ۔ اسلام نے عورت کے مذہبی، سماجی، معاشرتی، قانونی، آئینی، سیاسی اور انتظامی کرادر کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ اس کے حقوق کی ضمانت بھی فراہم کی۔
اسلام کی آمد عورت کے لیے غلامی، ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کا موجب بنی
اسلام نے ان ساری قبیح رسموں کا قلع قمع کردیا جو عورت کے وقار کے منافی تھیں
اسلام نے عورت کو وہ تمام حقوق عطا کیے جس سے وہ معاشرے میں اس عزت و تکریم کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق پہلے صرف مرد ہوا کرتے تھے

المیہ یہ ہے کہ مغرب کے اسلام مخالف فنڈ پر چلنے والی کچھ نام نہاد این جی اوز عورتوں کے حقوق کا نعرہ بلند کرکے اپنے مذموم مقاصد کے لئے عورتوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوششیں کرتی ہیں اور ان کو روکنے والے دقیانوسی اور بنیاد پرست اور "مّلا" قرار دئے جاتے ہیں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (23-05-09), ام غزل (25-05-09), راجہ اکرام (25-05-09), رضی (23-05-09), سحر (23-05-09)
پرانا 23-05-09, 05:32 PM   #7
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,019
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت شکریہ تمام ممبران کا اور انکے بھرپور خیالات کا اور انکے تجزیات پیش کرنے کا
میں مشکور ہوں اور امید کروں گا کہ مزید حوصلہ افزائی و تنقید کا سلسلہ چلتا رہے گا علاوہ ازیں ایک اور تحریر منظر عام پر ہے
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (25-05-09), رضی (23-05-09)
پرانا 23-05-09, 11:21 PM   #8
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاہ جی مشکور تو ہم آپ کے ہیں کہ آپ ہمیں اتنے اچھے اچھے موضوعات پڑھنے کو دیتی ہیں، بہت بہت شکریہ۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 25-05-09, 10:56 AM   #9
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مذہب اسلام نے جتنے حقوق عورت کو دئیے ہیں کسی اور مذہب میں عورت کو یہ مقام حاصل نہیں ہے یہی وجہ ہے مغرب میں چلنے والی بیش بہا اسلام مخالف تنظیموں کے باوجود اسی معاشرے کی ذیادہ تر عورتیں ہر سال رو بہ اسلام ہورہی ہیں ، اور ان کا کہنا ہے کہ جو حقوق ان کو اس مذہب میں ملے اور جو عزت اور مقام اور تحفظ اس مذہب کی عورت کو حاصل ہے وہ اور کسی مذہب مذہب میں عورت کو وہ مقام حاصل نہیں ہے ، گو کہ مغرب کی عورت آذادانہ زندگی گزارتی ہ ے مگر دوسری طرف وہ اسی آزادی کی تلخیوں سے بھی عاجز و بے زار نظر آتی ہے ،

ایک اچھا موضوع !
انجم بھائی بہت بہت شکریہ ۔
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (25-05-09), رضی (25-05-09), سحر (25-05-09)
پرانا 25-05-09, 12:48 PM   #10
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,019
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شکریہ سحر،فیصل ناصر،وقاص علی،رازی اور ام غزل آپ تمام احباب کا میں تہہ دل سے مشکور ہوں کہ مجھ ناچیز کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے دعا کریں کہ اللہ ہم کو سیدھےراستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (26-05-09), رضی (25-05-09), سحر (25-05-09)
جواب

Tags
color, فروخت, پہچان, پسند, پسندیدہ, لڑکی, نظر, ماں, معاشرہ, اللہ, اسلام, بھائی, تلاش, تحریر, تعلیم, خواتین, خدا, دعا, طاقتور, عورت, عقل, عزت, غم, صندوق, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مصر کا عوامی انقلاب جیت گیا قاسم شاہ خبریں 0 11-02-11 09:21 PM
مشیت کو ہوئی منظور جب تخلیق عورت کی The Great شعر و شاعری 0 14-09-09 01:43 PM
اسلام کی نظر میں عورت کی اہمیت Real_Light خاندانی زندگی 0 10-05-09 01:14 PM
الطاف حسین کی ہدایت پر متحدہ کے پارلیمنٹیرین پبلک سیکریٹریٹ میں عوا می شکا عبدالقدوس خبریں 0 19-04-08 04:16 AM
عوام جیل جانے کو تیار ہوجائیں تو آئندہ نسلیں آمریت سے محفوظ ہوجائینگی،نوازشریف خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 08:29 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:22 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger