واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


::: اسلام کو جرمن کے سرکاری ادیان میں شامل ہونا چاہیے ؟؟؟ :::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-02-11, 08:45 PM   #1
::: اسلام کو جرمن کے سرکاری ادیان میں شامل ہونا چاہیے ؟؟؟ :::
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 08-02-11, 08:45 PM

::: اسلام کو جرمن کے سرکاری ادیان میں شامل ہونا چاہیے ؟؟؟ :::
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
مجھے ای میل کے ذریعے درج ذیل پیغام موصول ہوا ، میں نے اس کے مطابق عمل کیا ،
سب بھإئیوں اور بہنوں سے گذارش ہے کہ اس پر عمل کیجیے ، جزاکم اللہ خیرا ، و السلام علیکم۔

Assalam-o-alikum

In Germany the government started a survey to decide whether Islam should also be an official religion like Judaism and Christianity or not.

It is a sad that so far "No" votes are much more than "Yes" votes.

We need to change that. To make it possible for Islam to be one of the official religion in Germany please cast your vote by clicking
on the link below then choose "Ja" option and after that send it by clicking the "Zur Auswertung".

Aktuelle Nachrichten - Inland Ausland Wirtschaft Kultur Sport - ARD Tagesschau

After voting, please also email (and spread) this to as many other people you know.
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 256
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
ام حازم (08-02-11), رضی (08-02-11)
پرانا 08-02-11, 09:58 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا اسی طرح‌کسی اسلامی ملک میں عیسائیت کو سرکاری مذہب قرار دینے کی بھی حمائت کی جا سکتی ہے؟
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 08-02-11, 10:00 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گوگل ٹرانسلیشن کے مطابق

In his speech on the Day of German Unity President Wulff stressed that Christianity and Judaism were part of Germany. That is our Christian-Jewish history. And he made it clear: "But Islam is now also to Germany." Do you agree?

Editor's note: This poll is closed since October - a vote is not possible since then. Nevertheless, this survey is currently being "applied" in multiple networks - why, we do not know.

یہ سروئے اب بند ہو چکا ہے۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (09-02-11)
پرانا 09-02-11, 12:10 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ‌اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، منتظمین بھإئی ، اچھی خبر دی ہے ، اور اللہ مجھے معاف فرمإئے کہ میں نے اس ویب سإئٹ پر ووٹ کاسٹ کر کے کاونٹر میں اضافہ دیکھ کر یہ سمجھا کہ ابھی یہ کام چالو ہے ، و لا حول ولا قوۃ الا باللہ ،
اس کے بعد آپ کے سوال کا جواب پیش ہے ، آپ نے سوال کیا :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
کیا اسی طرح‌کسی اسلامی ملک میں عیسائیت کو سرکاری مذہب قرار دینے کی بھی حمائت کی جا سکتی ہے؟
منتظمین بھإئی اس کا سیدھا صاف اور مختصر جواب یہ ہے کہ """ ہر گز نہیں‌"""
اور اس کی تفصیل میں کچھ گذراش یہ ہے کہ :::
منتظمین بھائی ، یہ ہم مسلمانوں کی کمزوری ہی ہے کہ اللہ کی زمین کے کسی خطے پر اللہ ہی کے دین کو سرکاری دین کے طور ہر قبول کرنے یا نہ کرنے کے لیے اس طرح رائے شماریاں کروائی جاتی ہیں ، اگر ہم واقعتا سچے اور عملی مسلمان ہوتے تو اللہ کے دین اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر رہنے کے خواہشمند پم سے اجازت طلب کرتے اور ہمیں جزیہ دیتے ، لیکن افسوس کہ ہم طرح طرح کے فلسفوں کے زہر سے اس قدر آلودہ ہو چکے ہیں کہ ہر معاملے میں ہی فورا کفر اور غیر مسلموں کو اسلام اور مسلمانوں جیسے حقوق دینے کی بار کرنے لگتے ہیں ،
محترم بھإئی ، اگر کہیں کوئی اسلامی ملک ہو گا تو وہاں کسی کافر کو بھی ایسا سوچنے کی ہمت نہ ہوگی کہ اس ملک میں میراکفر بھی کسی طور سرکاری قبولیت حاصل کر لے ، جیسا کہ اسلامی سلطنت میں تھا ، اگر اسلام قبول نہیں کرنا تو جزیہ دے کر رہو اور اپنے کفر کو اپنے گھر کی چار دیواری تک محدود رکھو ،
بھائی میرے ، جو کوئی مسلمان ہے اسے یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ اللہ کے ہاں دین صرف اسلام ہے ، عسیائیت ، یہودیت ، اور اسلام کے علاوہ کوئی بھی اور دین اللہ کے ہاں مردود ہے ،
((((( إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ وَمَنْ يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ ::: بے شک اللہ کے ہاں دین تو اسلام ہے اور وہ جنہیں کتاب دی گئی انہوں نےاُن کے پاس عِلم آ جانے کے بعد ہی آپس میں بغاوت کرتے ہوئے اختلاف کیا ، اور جو کوئی اللہ کی آیات کا انکار کرے گا تو (یاد رکھو ) اللہ بہت ہی تیزی سے حساب کرنے والا ہے ::: فَإِنْ حَاجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ ::: پس(اے رسول ) اگر یہ لوگ آپ سے حجت بازی کریں تو آپ فرمایے میں نے اور میرے پیروکاروں نے اپنا چہرہ اللہ کے سامنے جھکا دیا ہے اور جنہوں نے اتباع کی ان کی طرف ، اوراہل کتاب اور مشرکین سے فرمایے ، کیا تُم لوگ اسلام قبول کرتے ہو ؟ پس اگر تو وہ اسلام قبول کر لیں تو یقیناً وہ ہدایت یافتہ ہو گئے اور اگر وہ منہ ُ پھیریں تو آپ کی ذمہ داری صرف پیغام پہنچانا ہے اور اللہ بندوں کو دیکھتا ہے))))) سورت آل عمران/آیات 19،20،
(((((وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ::: اور میں تم لوگوں کے لیے اسلام کے دین ہونے پر راضی ہو چکا ))))) سورت المائدہ/آیت3،
کون مسلمان چاہے گا کہ اللہ کے ہاں مقبول و مقرر دین کے علاوہ کسی کی ہمدردی یا کسی فلسفے کی بنا پر کسی اور دین کو بھی اللہ کی زمین پر نافذ رہنے کی خواہش ہی رکھے !!!
اللہ ہی کا فرمان ہے :::
(((((وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ::: اور جو کوئی بھی اسلام کے علاوہ کوئی اور دین چاہے گا تو (اللہ کے ہاں) اس سے کچھ قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں سے ہو گا)))))سورت آل عمران /آیت 85،
اس لیے میرے بھائی اولاً تو ان شاء اللہ اس کی امید ہی نہیں کہ کوئی مسلمان بھی ہو اور وہ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کو قبول کرنے اور کروانے کی بات کرے ،
اور اللہ نہ کرے اگر کبھی کسی مسلمان کی ایسی حالت ہو جائے کہ وہ اللہ کی طرف سے اس کے بندوں کے لیے پسند کردہ ، اختیار کردہ اور مقرر کردہ اکیلے دین اسلام کے علاوہ کسی اور دین کی ہمدردی تنگ کرنے گی تو وہ شیطان مردود سے جو اسے اللہ کے دین کے علاوہ دوسرے ادیان کی ہمدردی کا سبق سکھا رہا ہوگا، اللہ کی پناہ طلب کرے گا ، اللہ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے اور ہمیں یہ ہمت دے ہی دے کہ ہم اللہ کے دین سے اپنی نسبت کو سچا ثابت کرنے میں شرم اور خجالت محسوس نہ کریں اور اللہ کے دین کو اللہ کے دین کی ہی طرح نافذ کرنے کی کوشش کریں نہ کہ اپنی خواہشات اور فلسفوں کو اللہ کا دین بنانے کی کوشش کریں ، جسے اللہ نے عزت کا مستحق قرار دیا ہے اسے عزت دیں اور دلوإئیں اور جسے اللہ نے رسوا قرار دیا ہے اسے عزت دلوانے کی کوشش میں اللہ کی ناراضگی مول نہ لیں۔و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (09-02-11), shafresha (09-02-11)
جواب

Tags
color, email, germany, government, link, more, need, option, people, please, size, ہونا, گذارش, چاہیے, میل, مطابق, www, your, ؟؟؟, ای, اللہ, اسلام, جرمن, ذریعے, سرکاری


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
صدر کیا کریں گے؟؟؟ گلاب خان عمومی بحث 2 09-01-10 12:12 AM
اس میں نئ خبر کیا ھے ؟؟؟ Haya 786 سیاست 3 13-11-09 09:51 AM
سب کہاں ہیں ؟؟؟ محمدعدنان گپ شپ 22 20-09-09 09:11 PM
::: کیا ان کا درد ، درد نہیں ؟؟؟ ::: عادل سہیل میرا پاکستان 0 06-01-09 12:04 AM
کیا کریں ؟؟؟ فیصل ناصر تجاویز اور شکایات 7 06-11-08 07:06 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:22 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger