واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


افغانیوں کی ہلاکتوں پر ضمیر پتھر کیوں؟(کالم: روف عامر)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-09-08, 09:46 AM   #1
افغانیوں کی ہلاکتوں پر ضمیر پتھر کیوں؟(کالم: روف عامر)
وجدان وجدان آف لائن ہے 18-09-08, 09:46 AM

امریکہ میں ہر سال نائن الیون کے ہاتھی کے پاوں تلے کچلے جانیوالے امریکیوں کی یاد بڑے جوش و خروش اور وقار و تمکنت سے منائی جاتی ہے۔مرنے والوں کی ارواح کے سکون کے لئے مذہبی تقاریب منعقد ہوتی ہیں۔ٹوئن ٹاور کی اگ میں بھسم ہونے والے انسانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے موم بتیاں جلائی جاتی ہیں۔اور سچ تو یہ ہے کہ دنیا بھر کے اہل دل انسان نائن الیون کے صہیونی و صلیبی مکر و فریب کی چٹانوں تلے دب کر موت کے سفرپر روانہ ہونے والوں کے لئے اپنی پلکیں تک بھیگی کرکے احترام انسانیت کا ملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔کسی انسان کا تعلق خواہ دنیا کے کسی مذہب سے ہو، وہ کالا ہو یا گورا، مسلمان ہو یا عیسائی وہ چاہے دنیا کے کسی بھی براعظم سے تعلق رکھتا ہو اسکی بے گناہ موت پر پتھر دل انسان بھی اہ و فغاں اور کف افسوس ملنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔یورپ کو اپنی انسان دوستی اور حقوق انسانیت پر بڑا ناز ہے لیکن خاکسار کے زہن کی گدلی سوچوں میں ہر سال نودوگیارہ کے موقع پر ایک سوال بڑی روانی کے ساتھ ٹھاٹھیں مارنے لگتا ہے کہ ٹوئن ٹاورز کے خود ساختہ امریکی ڈرامے کے کتھارس کے طور پر افغانستان و عراق میں موت کی وادیوں میں جا بسنے والے لاکھوں بے گناہ افغانیوں و عراقیوں کی یاد کیوں نہیں منائی جاتی؟انسانی حقوق کو اپنا اوڑھنا بچھونا سمجھنے والے مغربی باشندوں و یورپی حکمرانوں کی انکھیں بے گناہ مسلمانوں کی شہادت پر نم کیوں نہیں ہوتیں؟ امریکہ اور اسکے ظالم حلیف جب خدا کی زمین کو مسلمانوں کے مقدس خون سے سیراب کرتے ہیں تو اسوقت یورپئنز کو سانپ کیوں سونگھ جاتا ہے؟ ہر سال نو دو گیارہ کے موقع پر امریکہ کے غم میں شریک ہونے والے مسلم ڈکٹیٹروں و بادشاہوں سے بھی پوچھا جانا ضروری ہے کہ وہ ٹوئن ٹاور کی بربادی پر تو دھاڑیں مار مار کر امریکیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار فرماتے ہیں لیکن وہ افغانستان سے لیکر بغداد تک اور فلسطین سے لیکر لیبیا تک امریکی جارہیت کا نشانہ بننے والے مسلمانوں کی ہلاکت پر مگر مچھ ٹائپ انسووں کے ٹسوے بہا کر آخرت کی فکر کیوں نہیں کرتے اور انکے گورے چٹے اور لال و سپید چہروں پر احساس ندامت کیوں نہیں چھلکتا؟سچ تو یہ ہے کہ واشنگٹن کی غلامی میں جکڑے ہوئے مسلم حکمران سامراجی مظالم کے خلاف ایک حرف بولنے کے روادار نہیں بلکہ انہیں ہر وقت یہ دھڑکہ لگا رہتا ہے کہ کہیں وائٹ ہاوس کے بڑے گھوڑے کے ماتھے کی جبیں پر شکن نہ پڑ جائے یا ان کے پیروں کے نیچے سے ڈکٹیٹرشپ کا تخت نہ سرکا دیا جائے۔ نیٹو کی افواج قاہرہ نے افغانستان کے طول و عرض میں ایک ایک انچ پر بارود کی قالینیں بچھادیں۔امریکی طیاروں نے درجنوں مرتبہ وہاں شادی کی باراتوں پر میزائل برسائے۔لاکھوں لوگوں کی املاک نیست و نابود کر دی گئیں۔خوشیوں کے گہواروں کو ماتم کدہ بنادیاگیا۔یقین کیجئیے کہ گورے سورماوں نے افغانستان کے چپے چپے پر ظلم و ستم کی ایسی مثالیں قائم کیں کہ چنگیز خانوں اور ہلاکو خان ایسے تاریخ ساز قاتلوں و جلادوں کی روح تک شرما گئی۔امریکی وحشت کی بھینٹ چڑھ جانے والے مرحوم افغانی بچوں بوڑھوں اور نوجوانوں کا کسی بھی طور پر نائن الیون کے سانحے کے ملزمان سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی وہ کبھی امریکی مخالف کاروائیوں میں حصہ دار تھے۔بے گناہوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ اج بھی جاری و ساری ہے۔کسی درویش کی کہاوت ہے کہ جب انسانی جبلت میں حیوانیت اور درندگی کے عناصر شامل ہوجائیں تو پھر وہ احسن التقویم کے بلند قامت منصب سے اسفل السافلین کی پستیوں میں مگن ہوکر انسانوں کا لہو پینے میں مست ہوجاتا ہے۔یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ افغانستان میں رقص بسمل باٹنے والے گورے فوجی انسانوں کے روپ میں بھیڑیوں کا روپ دھار چکے ہیں۔مغرب کے باضمیر دانشور ‘ پیٹر برگن ‘ نے لاس ایجنلس ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے مضمون( بے گناہ افغانیوں کی ہلاکتوں) میں سیاہ نصیب افغانیوں کی ہلاکت پر اشک بہاتے ہوئے لکھا ہے کہ جنازوں اور باراتوں پر سفاک ترین حملے اتحادیوں کے نذدیک معمولی کاروائی تصور کئے جاتے ہیں اور ان حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افغانیوں کی ہلاکت پر امریکی اور ہمرکاب اتحادی یہ دلیل دیتے ہیں کہ عسکریت پسند بھی باراتوں و جنازوں میں شامل ہوتے ہیں ۔یوں انتہاپسندوں کو نابود مٹی کرنے کے لئے بے گناہوں کو بھی قربان کرنا پڑتا ہے۔پیٹر لکھتا ہے کہ ایک کمزور موقف کو بنیاد بنا کر بے گناہوں کو قتل کیا جارہا ہے۔نیویارک ٹائمز کی صحافی خاتون ‘ کارلوٹا گال ‘ نے اپنی رپورٹ میں چشم کشا حقائق کو یوں بیان کیا ہے کہ امریکی طیاروں نے حال ہی میں جن افغان دیہاتوں پر بمباری کی بربریت برسائی تو وہاں تازہ کھودی جانے والی قبروں میں چھوٹی چھوٹی قبریں بھی ظاہر ہوئیں جہاں جنگی بھٹی میں راکھ کا ڈھیر ہوجانے والے بچوں کو دفنایا گیا تھا۔ایسی ننھی منھی قبروں کو دیکھر امریکی ترجمانوں کے یہ دعوے کھوکھلے نظر اتے ہیں کہ فوجی کاروائیاں صرف عسکریت پسندوں کے خلاف کی جارہی ہیں۔بے گناہ افغانیوں کی ہلاکت پر پوری افغان قوم بروفراختہ ہے اور اسی نفرت کی کوکھ سے افغان پٹی اور پاکستانی قبائلی علاقوں میں خود کش بمباری کا رواج روز بروز پختہ ہورہا ہے۔ہیومن رائٹس واچ کمیٹی کی مرتب کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے سال وہاں 136 خود کش حملے ہوئے جبکہ اس سال خود کش بمباری کا ہندسہ150کراس کرچکا ہے.پاکستان میں ہونے والے خود کش حملے اس کے علاوہ ہیں۔2006 میں 230 سویلین باشندے ہلاک ہوئے۔جن میں سے116 نیٹو کے چھنگھاڑتے جہازوں کی ظلمت میں مارے گئے2007 میں یہ تعداد تین سو سے تجاوز کرگئی جبکہ اس سال کے اٹھ مہینوں میں 290 بے گناہ مارے گئے جبکہ سچ تو یہ ہے کہ نیٹو کے ترجمان کی بتائی گئی ہلاکتوں کی تعداد میں کافی تضاد ہے کیونکہ ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں کی لائن کراس کرچکی ہے۔ بے گناہوں کی اموات پر جب عوامی سطح پر واویلا کیا جاتا ہے تو نیٹو کے جادوگر تحقیقات کا پتہ استعمال کرکے بری الذمہ بن جاتے ہیں۔افغانستان عراق کے مقابلے میں ابادی اور رقبے کے لحاظ سے بڑا ملک ہے اسی لئے یہاں فضاووں میں ہر وقت دہشت و موت برسانے والے جنگی جہاز گھومتے پھرتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق امریکی طیاروں نے جنوری سے اگست تک افغانستان میں تین ہزار سے زائد فضائی حملے کئے۔امریکہ کو افغان قوم نے جارح ملک کا درجہ دیا ہے.وائٹ ہاوس نے افغانیوں کو جمہوری ازادیوں و معاشی خوشحالی کے جو سپنے دکھائے تھے وہ سب چور چور ہوچکے ہیں۔یوں افغانیوں نے اپنے ملک کو امریکہ کی استبدادیت سے ازاد کروانے کے لئے طالبان کی دستگیری و شفقت کا روز روشن فیصلہ کیا جسکے کارن نیٹو کے خلاف طالبان کی مزاحمت روز بروز بڑ ھ رہی ہے۔افغان قوم کو اج تک کوئی جارح قوم مسخر نہیں کرپائی۔سویت یونین سے لیکر برطانیہ تک اور سکندر اعظم سے لیکر چنگیز خان تک جس نے بھی افغانوں کی ازادی سلب کی اسے عبرت ناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ مٹھی بھر طالبان نے جدید فوجی الات و موت کا رقص کرنے والے میزائلوں و غاروں تک سے اکسیجن چوس کر زندگی کے امکانات کو ہمیشہ کے لئے دفن کرنے والے کلسٹر بموں،توپوں اور ایٹمی بموں سے لیس نیٹو افواج کے لمبے لاو لشکر کو زچ کردیا ہے۔امریکیوں سے مسلمانوں کے ازہان و قلوب میں نفرت کے الاو دہک رہے ہیں.کیونکہ امریکہ نے افغانستان ایسے پر امن ملک پر ٹنوں کے حساب سے بارود برسا کر وہاں کے نوجوانوں کو مزاحمت پر امادہ کیا۔امریکہ نے طاغوتی مفادات کی پاسبانی کے لئے اس خطے میں خونی اتحصال کا بیج بویا تھا جو دہشت گردی انتہاپسندی اور خود کش بمباری کے پھلوں کی شکل میں ہویدا ہے۔امریکہ شکست کھا رہا ہے جو بیج اس نے کاشت کئے تھے اسی کی فصل اسے شکست کی صورت میں کاٹنی ہے۔امریکہ اور اسکے مسلم اتحادیوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب اپ ایمان داری کا بیج بوتے ہیں تو اپکو اعتماد کا پھل نصیب ہوتا ہے جب اپ انکساری کا بیج بوتے ہیں تو اپکو عظمت نصیب ہوتی ہے ،جب اپ استقامت کا بیج کا شت کرتے ہیں تو اپکوکامیابی کا ثمر ملتا ہے لیکن اسکے برعکس جب اپ گھمنڈ کا بیج استعمال کرتے ہیں تو اپکو ناکامی نفرت اور بربادی کا درخت ملتا ہے،جب اپ عداوت کے بیج کے ساتھ کھیتوں میں ہل چلاتے ہیں تو اپکو عوامی حقارت ہی نصیب ہوتی ہے۔امریکہ نے مسلم علاقوں میں ظلم و جبر، بارود کی بارش، میزائلوں کی یلغار،موت کی بھرمار، خون کی ہولیوں،تفرقہ بندیوں ، جارہیت پسندی لوٹ مار ،فتنہ گری اور تشدد کے جو بیج نائن الیوں کے موسم میں کاشت کئے تھے وہی اج مزاحمت و خود کش بمباری کی فصل کی شکل میں لہلہا رہے ہیں اور امید واثق ہے کہ امریکی بیجوں کی کوکھ سے جن سرفروش مجاہدوں نے جنم لیا ہے وہی امریکہ کوزلت امیز شکست سے دوچار کرنے والے ہیں جن کا اغاز ہوچکا ہے۔حرف آخر جس طرح امریکہ میں نائن الیون کے دلخراش وقوعے کی نذر بن کر ہمیشہ کے لئے عالم بالا کے سفر پر روانہ ہونے والے امریکیوں کی یاد میں نودو گیارہ کو جن یادوں کا تزکرہ کیا جاتا ہے تو عین اسی طرح مسلمانوں کو بھی بے گناہ مسلمانوں کی شہادت پر نو دو گیارہ کا اہتمام کرنا چاہیے۔

 
وجدان's Avatar
وجدان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 30
مراسلات: 1,284
شکریہ: 919
594 مراسلہ میں 1,518 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 243
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے وجدان کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (16-10-10), مرزا عامر (14-10-10), عروج (14-10-10)
پرانا 14-10-10, 02:42 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کفار آپس میں دوست ھیں ۔ مسلمان یاد منائیں؟
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (16-10-10), مرزا عامر (14-10-10)
پرانا 14-10-10, 04:54 PM   #3
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کالم پرانا ہے لیکن اچھا ہے ۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم (16-10-10)
پرانا 16-10-10, 01:07 AM   #4
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,638
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ خیرا بھائی
عروج بہن کا بھی شکریہ کہ انہوں نے اس کو تلاش کیا۔
بہت ہی اچھا لکھا گیا ہے، مگر پھر بھی ہمارے حکمران
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (19-10-10)
جواب

Tags
پاکستانی, پسند, واشنگٹن, نفرت, چور, نظر, موقع, موم, موت, ایمان, امریکہ, بچوں, حال, خون, خلاف, خدا, دل, زندگی, سال, طالبان, ظالم, عالم, غم, صحافی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سردیوں کی راتوں میں سیپ شاعری اور مصوری 0 10-02-11 05:53 PM
عورتوں / لڑکیوں کا دماغ محمدعدنان گپ شپ 28 06-10-09 06:54 PM
شہریوں کی ہلاکتوں کا اعتراف وجدان خبریں 0 13-10-08 10:02 AM
میں پتھر تھی تو آخر اب پگھلنے کیوں لگی ہوں The Great شعر و شاعری 0 08-08-08 02:55 PM
بن مانس درختوں پر کیوں چڑھے محمدعدنان دیگر تحقیقات 1 20-05-08 12:05 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:24 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger