| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 167
|
||||
| 2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا | یاسر عمران مرزا (09-11-11), رضی (09-11-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقبال! تیرے دیس کا کیا حال سناؤں؟
دہقان تو مرکھپ گیا، اب کس کو جگاؤں ملتا ہے کہاں خوشہ گندم، کہ جلاؤں شاہیں کا ہے گنبدِ شاہی پہ بسیرا کنجشک فرومایہ کو اب کس سے لڑاؤں مکاری و عیاری و غداری و ہیجان اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان قاری اسے کہنا تو بڑی بات ہے یارو اس نے تو کبھی کھول کے دیکھا نہیں قرآن بیباکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن مکاری و روباہی پہ اتراتا ہے مومن جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو وہ رزق بڑے شوق سے کھاتا ہے مومن شاہیں کا جہاں آج ممولے کا جہاں ہے ملتی ہوئی ملا سے ، مجاہد کی اذاں ہے مانا کہ ستاروں سے بھی آگے ہیں جہاں اور شاہیں میں مگر طاقت پرواز کہاں ہے؟ کردار کا، گفتار کا، اعمال کا مومن قائل نہیں، ایسے کسی جنجال کا مومن سرحد کا ہے مومن، کوئی بنگال کا مومن ڈھونڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن ہر داڑھی میں تنکا ہے، ہر آنکھ میں شہتیر مومن کی نگاہوں سے اب بدتی نہیں تقدیر توحید کی تلواروں سے خالی ہیں نیامیں اب ذوقِ یقین سے نہیں کٹتی، کوئی زنجیر دیکھو تو ذرا، محلوں کے پردوں کو اٹھاکر شمشیر و سِناں رکھی ہیں، طاقوں میں سجا کر آتے ہیں نظر مسندِ شاہی پہ رنگیلے تقدیرِ امم سوگئی، طاؤس پہ آکر مرمر کی سلوں سے کوئی بے زار نہیں ہے رہنے کو حرم میں کوئی تیار نہیں ہے کہنے کوہر شخص مسلمان ہے لیکن دیکھو تو کہیں نام کو کردار نہیں ہے محمودوں کی صف، آج ایازوں سے پرے ہے جمہور سے سلطانی جمہور ورے ہے تھامے ہوئے دامن ہے، یہاں پر جو خودی کا مر مر کے جئے ہے، کبھی جی جی کے مرے ہے پیدا کبھی ہوتی تھی سحر، جس کی اذاں سے اس بندہِ مومن کو اب میں لاؤں کہاں سے
__________________
![]() عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟ سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا | محمد یاسرعلی (10-11-11), محمدخلیل (09-11-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,348
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے
خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے عبث ہے شکوئہ تقدیر یرزداں تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں آؤ۔۔۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے
خراج کی جو گدا ہو ، وہ قیصری کیا ہے! بتوں سے تجھ کو امیدیں ، خدا سے نومیدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے! فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنھیں خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے اسی خطا سے عتابِ ملوک ہے مجھ پر کہ جانتا ہوں مآلِ سکندری کیا ہے کسے نہیں ہے تمنائے سروری ، لیکن خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے! خوش آگئی ہے جہاں کو قلندری میری وگرنہ شعر مرا کیا ہے ، شاعری کیا ہے! |
|
|
|
| رضی کا شکریہ ادا کیا گیا | محمدخلیل (09-11-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پریشان ھو کے میری خاک آخر دل نہ بن جاۓ
جو مشکل اب ہے یا رب پھر وہی مشکل نہ بن جاۓ نہ کر دیں مجھ کو مجبور نوا فردوس میں حوریں! مرا سوز دردں پھر گرمی محفل نہ بن جاۓ! کبھی چھوڑی ھوئی منزل یاد آتی ہے راہی کو کھنک سی ہے جو سینے میں غم منزل نہ بن جاۓ بنایا عشق نے دریاۓ نا پیدا کراں مجھ کو! یہ میری خود نگہداری مرا ساحل نہ بن جاۓ! کہیں اس عالم بے رنگ و بو میں بھی طلب میری وہی افسانہ دنبالہ محمل نہ بن جاۓ! عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں کہ یہ ٹوٹا ھوا تارا مہ کامل نہ بن جاۓ! |
|
|
|
| رضی کا شکریہ ادا کیا گیا | محمدخلیل (09-11-11) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لا پھر اک بار وہي بادہ جام اے ساقي
ہاتھ آ جاۓ مجھے ميرا مقام اے ساقي تين سو سال سے ہيں ہند کے ميخانے بند اب مناسب ہے ترا فيض ہو عام اے ساقي ميري ميناۓ غزل ميں تھي ذرا سي باقی شيخ کہتا ہے کہے يہ بھي حرام اے ساقي شير مردوں سے ہوا بيشہ تحقيق تہي رہ گۓ صوفي و ملا کے غلام اے ساقي عشق کي تيغ جگر دار اڑا لي کس نے؟ علم کے ہاتھ ميں خا لي ہے نيام اے ساقی سينہ روشن ہو تو ہے سوز سخن عين حيات ہو نہ روشن، تو سخن مرگ دوام اے ساقي تو مري رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ ترے پيمانے ميں ہے ماہ تمام اے ساقي |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عروس شب کي زلفيں تھيں ابھي نا آشنا خم سے
ستارے آسماں کے بے خبر تھے لذت رم سے قمر اپنے لباس نو ميں بيگانہ سا لگتا تھا نہ تھا واقف ابھي گردش کے آئين مسلم سے ابھي امکاں کے ظلمت خانے سے ابھري ہي تھي دنيا مذاق زندگي پوشيدہ تھا پہنائے عالم سے کمال نظم ہستي کي ابھي تھي ابتدا گويا ہويدا تھي نگينے کي تمنا چشم خاتم سے سنا ہے عالم بالا ميں کوئي کيمياگر تھا صفا تھي جس کي خاک پا ميں بڑھ کر ساغر جم سے لکھا تھا عرش کے پائے پہ اک اکسير کا نسخہ چھپاتے تھے فرشتے جس کو چشم روح آدم سے نگاہيں تاک ميں رہتي تھيں ليکن کيمياگر کي وہ اس نسخے کو بڑھ کر جانتا تھا اسم اعظم سے بڑھا تسبيح خواني کے بہانے عرش کي جانب تمنائے دلي آخر بر آئي سعي پيہم سے پھرايا فکر اجزا نے اسے ميدان امکاں ميں چھپے گي کيا کوئي شے بارگاہ حق کے محرم سے چمک تارے سے مانگي ، چاند سے داغ جگر مانگا اڑائي تيرگي تھوڑي سي شب کي زلف برہم سے تڑپ بجلي سے پائي ، حور سے پاکيزگي پائي حرارت لي نفسہائے مسيح ابن مريم سے ذرا سي پھر ربوبيت سے شان بے نيازي لي ملک سے عاجزي ، افتادگي تقدير شبنم سے پھر ان اجزا کو گھولا چشمہء حيواں کے پاني ميں مرکب نے محبت نام پايا عرش اعظم سے مہوس نے يہ پاني ہستي نوخيز پر چھڑکا گرہ کھولي ہنر نے اس کے گويا کار عالم سے ہوئي جنبش عياں ، ذروں نے لطف خواب کو چھوڑا گلے ملنے لگے اٹھ اٹھ کے اپنے اپنے ہمدم سے خرام ناز پايا آفتابوں نے ، ستاروں نے چٹک غنچوں نے پائي ، داغ پائے لالہ زاروں نے |
|
|
|
| رضی کا شکریہ ادا کیا گیا | محمد یاسرعلی (10-11-11) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجو د الکتاب گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ ذرہ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب شوکت سنجر و سیلم تیرے جلال کی نمود فقر جیند و با یز ید یرا جمال بے نقاب شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام میرا قیام بھی حجاب میرا سجود بھی حجاب تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئے عقل غیاب و جستجو عشق حضور و اضطراب فرحت کشمکش اور ایں دل بے قرار یک دو شکن زیادہ کن گیسو ئے تابدار را |
|
|
|
| رضی کا شکریہ ادا کیا گیا | محمد یاسرعلی (10-11-11) |
![]() |
| Tags |
| .net, color, jpg, net, purple, size, کھو, ڈے, قوم, نظر, مگر, مبارک, آج, اقبال, جلال, جمال, حال, حسن, دیس, دلوں, داڑھی, دریا, رعب, زندہ, سنہرا |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| گھنے اور دیدہ زیب بالوں کیلئے گھر پر تیار کردہ شیمپو | عصمت | فیشن اور بیوٹی ٹپس | 51 | 15-06-11 06:34 AM |
| دیکھو پھر تم ہمیں رلانے بیٹھ گئے ھو | The Great | شعر و شاعری | 0 | 14-08-09 09:12 PM |
| مکان تیار ھو گیا ۔ ۔ ۔ | J.S | دلچسپ اور عجیب | 10 | 10-08-08 02:54 AM |
| آئی ایس آئی نے اپنے ہی تیار کردہ عسکریت پسندوں کا کنٹرول کھو دیا، نیو یارک ٹائمز | شیخ ہمدان | سیاست | 2 | 16-01-08 01:53 AM |