| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 364
|
||||
|
|
#2 |
|
Member
اجنبی
|
۔۔۔۔۔۔زندگی کو بامعنی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی کے سامنے ایک سوچا ہوا نشانہ ہو۔جس کی صداقت پر اس کا ذہن مطمئن ہو۔جس کے سلسلے میں اس کا ضمیر پوری طرح اس کا ساتھ دے رہا ہو،جو اس کی رگ و پے میں خون کی طرح اترا ہوا ہو۔یہی مقصدی نشانہ کسی انسان کو جانوروں سے الگ کرتا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں۔ اور جس آدمی کے اندر مقصدیت آجائے اس کی زندگی لازما ایک اور زندگی بن جائے گی۔ وہ چھوٹی چھوٹی غیر متعلق باتوں میں الجھنے کے بجائے اپنی منزل پر نظر رکھے گا ۔وہ یک سوئی کے ساتھ اپنے مقررہ نشانے پر چلتا رہےگا یہاں تک کہ منزل پر پہچ جائے۔
رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص11 |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے marhaba کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Member
اجنبی
|
۔۔۔۔۔ آج ہماری قوم نے مقصد کا شعور کھو دیا ہے۔وہ ایک بے مقصد گروہ ہو کر رہ گئے ہیں۔ان کے سامنے نہ دنیا کی تعمیر کا نشانہ ہے اور نہ آخرت کی تعمیر کا نشانہ۔ یہی ان کی اصل کمزوری ہے۔اگر لوگوں میں دوبارہ مقصد کا شعور زندہ کردیا جائے تو دوبارہ وہ ایک جاندار قوم نظر آئیں گے۔ وہ دوبارہ ایک باکردار گروہ بن جائیں گے جس طرح وہ اس سے پہلے ایک باکردار گروہ بنے ہوئے تھے۔
قوم کے افراد کے اندر مقصد کا شعور پیدا کرنا ان کے اندر سب کچھ پیدا کرنا ہے۔ مقصد آدمی کی چھپی ہوئی قوتوں کو جگاتا دیتا ہے،وہ اس کو نیا انسان بنا دیتا ہے۔ رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص14 |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے marhaba کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Member
اجنبی
|
۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بڑا فکری کام وہی شخص کر پاتا ہے جو اپنے سارے جسم کا خون اپنے دماغ میں سمیٹ دے۔۔۔
بیشتر لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوت کو تقسیم کئے ہوئے ہوتے ہیں۔وہ اپنے آپ کو ایک مرکز پر یکسو نہیں کرتے اسی لئے وہ ادھوری زندگی گزار کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ہر کام آدمی سے اس کی پوری قوت مانگتا ہے۔وہی شخص بڑی کایابی حاصل کرتا ہے جو اپنی پوری قوت کو ایک کام میں لگا دے۔ رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص15 |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے marhaba کا شکریہ ادا کیا | mama_shalla (17-11-11), حیدر (17-11-11) |
|
|
#5 |
|
Member
اجنبی
|
یاد رکھئے، ہمارا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم ایک با مقصد قوم تیار کریں۔ہمیں قوم کے افراد کو وہ تعلیم دینا ہے جس سے وہ ماضی اور حال کو پہچانیں ۔ان کے اندر وہ شعور بیدار کرنا ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود متحد ہونا جانیں۔ان کے اندر وہ حوصلہ ابھارنا ہے کہ وہ شخصی مفاد اور وقتی جذبات سے اوپر اٹھ کر قربانی دے سکیں۔یہ سارے کام جب قابل لحاظ حد تک ہو چکے ہوں گے اس کے بعد ہی کوئی ایسا اقدام کیا جاسکتا ہے جو فی الواقع ہمارے لئے کوئی نئی تاریخ پیدا کرنے والا ہو۔اس سے پہلے اقدام کرنا صرف موت کی خندق میں چھلانگ لگانا ہے نہ کہ زندگی کے چمنستان میں داخل ہونا۔
رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص19 |
|
|
|
| marhaba کا شکریہ ادا کیا گیا | mama_shalla (17-11-11) |
|
|
#6 |
|
Member
اجنبی
|
جب آدمی کی زندگی مقصد سے خالی ہو جائے تو اس کی نظر میں اپنے وقت کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔ وہ اپنا اندازہ خود اپنی رائے سے کرنے کے بجائے دوسروں کی رائے سے کرنے لگتا ہے۔ وہ رسمی جلسوں اور تقریبات میں رونق کا سامان بنتا رہتا ہے۔وہ اپنے لئے جینے کے بجائےدوسروں کے لئے جینے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی عمر پوری ہو جاتی ہے۔بظاہر مصروفیتوں سے بھری ہوئی ایک زندگی اس طرح اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے کہ اس کے پاس ایک خالی زندگی کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں ہوتا۔
رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص21 نوٹ: اس قتباس کو لکھتے ہوے میری عجیب حالت ہوئی۔رقت کی وجہ سے آنکھیں بھرآئیں ۔۔۔۔۔۔ دعاء کیجئے کہ اللہ ہمیں ان جیسے بے مقصد زندگی گزارنے والے لوگوں میں نہ بنائے۔۔ آمین |
|
|
|
| marhaba کا شکریہ ادا کیا گیا | mama_shalla (17-11-11) |
|
|
#7 |
|
Member
اجنبی
|
۔۔۔۔ ہرآدمی کو دنیا میں کام کرنے کی ایک مدت اور کچھ مواقع دئے گئے ہیں۔یہ مدت اور مواقع اس وقت تک نہیں چھنتے جب تک خدا کا لکھا پورا نہ ہو جائے۔اگر رات کے بعد خدا آپ کے اوپر صبح طلوع کرے تو سمجھ لیجئے کہ خدا کے نزدیک ابھی آپ کے عمل کے کچھ دن باقی ہیں۔اگر آپ حادثات کی اس دنیا میں اپنی زندگی کو بچانے میں کامیاب ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے منصوبہ کے مطابق آپ کو کچھ اور کرنا ہے جو ابھی آپ نے نہیں کیا۔
رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص22 |
|
|
|
| marhaba کا شکریہ ادا کیا گیا | mama_shalla (17-11-11) |
|
|
#8 |
|
Member
اجنبی
|
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک امکان جب ختم ہوتا ہے تو اسی وقت دوسرے امکان کا آغاز ہوجا تا ہے۔سورج غروب ہوا تو دنیا نے چاند سے اپنی بزم روشن کرلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدا کی اس دنیا میں کسی کے لئے پست ہمت یا مایوس ہونے کا سوال نہیں۔حالات خواہ بظاہر کتنے ہی ناموافق دکھائی دیتے ہوں، اس کے آس پاس آدمی کے لئے ایک نئی کامیابی کا امکان موجود ہوگا۔آدمی کو چاہئے کہ اس نئے امکان کو جانے اور اس کو استعمال کرکےاپنی کھوئی بازی کو دوبارہ جیت لے۔ رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص26 |
|
|
|
| marhaba کا شکریہ ادا کیا گیا | mama_shalla (17-11-11) |
|
|
#9 |
|
Member
اجنبی
|
۔۔۔۔۔ ہر سماج میں طرح طرح کے انسان ہوتے ہیں اور وہ طرح طرح کے حالات پیدا کئے رہتے ہیں۔ سماج میں کہیں "دلدل" ہوتا ہے اور کہیں "پٹرول" ۔ کہیں "کانٹا" ہوتا ہے تو اور کہیں "گڑھا"۔ عقل مند وہ ہے جو اس قسم کے سماجی مواقع سے بچ کر نکل جائے نہ کہ اس سے الجھ کر اپنے راستے کو کھوٹا کرے۔
جس آدمی کے سامنے کوئی مقصد ہو وہ راستہ کی ناخوشگواریوں سے نہیں الجھے گا۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ ان سے الجھنا اپنے آپ کو اپنے مقصد سے دور کر لینا ہے۔ بامقصد آدمی کی توجہ آگے کی طرف ہوتی ہے نہ کہ دائیں بائیں کی طرف ۔ وہ مستقل نتائج پر نظر رکھتا ہے نہ کہ وقتی کاروائیوں پر۔ وہ حقیقت کی نسبت سے چیزوں کو دیکھتا ہے نہ کہ ذاتی خواہشات کی نسبت سے۔ رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص28 |
|
|
|
| marhaba کا شکریہ ادا کیا گیا | mama_shalla (17-11-11) |
|
|
#10 |
|
Member
اجنبی
|
۔۔۔۔۔ درخت اپنے وجود کے نصف حصہ کو سر سبز و شاداب حقیقت کے طور پر اس وقت کھڑا کر پاتا ہے جب کہ وہ اپنے وجود کے نصف حصہ کو زمین کے نیچے دفن کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔درخت کا یہ نمونہ انسانی زندگی کے لئے خدا کا سبق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کی تعمیر اور استحکام کے لئے لوگوں کو کیا کرنا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ درخت زمین کے اوپر کھڑا ہوتا ہے۔مگر وہ زمین کے اندر اپنی جڑیں جماتا ہے۔وہ نیچے سے اوپر کی طرف بڑھتا ہے نہ کہ اوپر سے نیچے کی طرف ۔ درخت گویا قدرت کا معلم ہے جو انسان کو یہ سبق دے رہا ہے:اس دنیا میں داخلی استحکام کے بغیر خارجی ترقی ممکن نہیں۔ رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص31 |
|
|
|
| marhaba کا شکریہ ادا کیا گیا | mama_shalla (17-11-11) |
|
|
#11 |
|
Member
اجنبی
|
۔۔۔۔۔ دنیا کی زندگی میں کس طرح خدا نے ناخوش گوار چیزوں کے ساتھ خوش گوار چیزیں رکھ دی ہیں۔ جس طرح پھول کے ساتھ کانٹا ہوتا ہے اسی طرح زندگی میں پسندیدہ چیزوں کے ساتھ ناپسندیدہ چیزوں کا جوڑا بھی لگا ہوا ہے۔
اب جب کہ خود قدرت نے پھول اور کانٹے کو ایک ساتھ پیدا کیا ہے تو ہمارے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ ہم اس کے ساتھ نباہ کی صورت پیدا کریں۔ موجودہ دنیا میں اس کے سوا کچھ اور ہونا ممکن نہیں۔۔ دوسروں کی شکایت کرنا صرف اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے۔ یہ دنیا اس ڈھنگ پر بنائی گئی ہے کہ یہاں لازماً شکایت کے مواقع آئیں گے۔ عقل مند آدمی کا کام یہ ہے کہ وہ اس کو بھول جائے۔ وہ شکایت کو نظر انداز کرکے اپنے مقصد کی طرف اپنا سفر جاری رکھے۔ رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص33 |
|
|
|
| marhaba کا شکریہ ادا کیا گیا | mama_shalla (17-11-11) |
|
|
#12 |
|
Member
اجنبی
|
۔۔۔۔ ایک بات بظاہر سادی سی ہے مگر انسان اپنی عملی زندگی میں اکثر اسے بھول جاتا ہے۔وہ یہ کہ ہم اپنی بنائی ہوئی دنیا میں نہیں ہیں بلکہ خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں ہیں۔ جب صورتحال یہ ہے کہ یہ دنیا خدا کی دنیا ہے تو ہمارے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم خدا کے بنائے ہوئے قوانین کو جانیں اور اس کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ کریں۔ اس کے سوا کسی اور تدبیر سے یہاں ہم اپنے لئے جگہ حاصل نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔
رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص34 |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے marhaba کا شکریہ ادا کیا | mama_shalla (17-11-11), wajee (20-11-11) |
| کمائي نے marhaba کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 17-11-11 | حیدر | قتباسات-راز-حیات | 50 |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
الله آپ كا بهلا كرے- كيا دن ياد دلائے- - - مولانا
وحيدالدين خان كى شايد ہى كوئى تحرير هوگى جو ميرے بابا كے پاس نہ ہو اور اس بےفكرى كے دور ميں جو مطالعه رہا، اس ميں "راز حيات" سرفہرست ہے- واقعى بےمثل كتاب ہے- |
|
|
|
|
|
#15 |
|
Member
اجنبی
|
۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے کہ ناکامی اس کو فکری گہرائی عطا کرتی ہے۔ رکاوٹیں اس کے ذہن کے بند دروازے کو کھولتی ہیں۔ حالات اگر اس کے وجود کو تکڑے تکڑے کردیں تو اس کا ہر تکڑا دوبارہ نئی زندگی حاصل کر لیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس امکان نے اس دنیا میں کسی انسان کو ابدی طور پر ناقابل تسخیر بنا دیا ہے،شرط یہ ہے کہ وہ زندہ ہو، وہ ٹوٹنے کے بعد دوبارہ اپنی قوتوں کو متحد کرنا جانتا ہو۔ بازی کھونے کے بعد وہ اپنا حوصلہ نہ کھوئے۔ ایک کشتی ٹوٹنے کے بعد وہ دوبارہ نئی کشتی کے ذریعہ اپنا سفر شروع کر سکے۔ رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص36 |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, quot, ہوتا, فراز, کوئی, کوشش, کتاب, گا۔, پاک, والی, لگا, نٹ, آنکھیں, آدمی, اللہ, بخیر, حیات, حضرات, خوش, خصوصی, رفتار, راستہ, زندگی, طور, عزم |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| "احمد دیدات" کا "قرآن" اور "اختلاف قرات" والا کل كا "اسپیشل قرآن"۔۔۔؟ اٹھو قرآن کا دفاع کرو !!! | rana ammar mazhar | علوم قرآن کریم | 200 | 14-03-12 07:51 PM |
| انٹرنیٹ میں انقلابی سہولتوں کا اضافہ: "بنگ" اور "ویوز" | Hashims | Search Engines | 8 | 02-09-11 03:24 PM |
| اسلامی سکرین سیور """ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ؟ """" | عادل سہیل | اسلام اور معاشرہ | 17 | 23-02-11 07:37 PM |
| "کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا | حیدر | خبریں | 6 | 11-10-10 04:49 PM |
| کراچی میں پولیس کا "ناکے پہ ناکہ "اور ڈاکو ں کا "ڈاکے پہ ڈاکہ"جاری | جاویداسد | خبریں | 0 | 01-10-10 06:38 PM |