میں ایک خوش فہم شخص ضرور ہوں مگر خوش فہموں کے قبیل سے ہرگز نہیں ہوں جو کئی عشروں تک ہٹلر کو زندہ سمجھتے رہے۔ جو سبھاش چندربوش کے برسوں منتظر رہے۔ صدام حسین کو ابھی تک زندہ تصور کرتے ہیں اور اب یہ سمجھتے ہیں کہ ایبٹ آباد کی بلال کالونی کے آخری سرے پر واقع گھر میں جاں بحق ہونے والا شخص اسامہ بن لادن نہیں تھا بلکہ اس کا ہم شکل تھا۔
میں اسامہ بن لادن کے خیالات ، اقدامات اور طریقہ کار سے بے شمار اختلافات رکھتا ہوں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ میرے نزدیک امت مسلمہ کے مسائل اور ان کا حل وہ ہرگز نہیں ہے جو اسامہ بن لادن اور القاعدہ نے طے کر رکھے ہیں اور اپنے خودساختہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ امریکہ بہادر جو کچھ کر رہا ہے وہ درست ہے۔ دونوں اطراف سے ہونے والی غلطیوں کی سزا دنیا بھر کے مسلمان بھگت رہے ہیں۔ بہانہ سازوں کے امام امریکہ کو جس قسم کے بہانوں کی ضرورت تھی اسامہ بن لادن کی پالیسیوں اور بیانات نے اسے فراہم کئے ۔
اسامہ بن لادن کے ساتھ کس نے دھوکہ کیا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اگلے کئی عشروں تک لوگوں کے ذہنوں میں موجود رہے گا لیکن مغربی پریس بڑے کھلے الفاظ میں کہہ رہا ہے کہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کو پتہ تھا کہ اسامہ بن لادن کہاں ہے بلکہ وہ تو یہ بھی کہہ رہا ہے کہ اسامہ انہی کی حفاظت میں تھا۔ اگر ان کا الزام درست ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکی جاسوسی نیٹ ورک نے اس حفاظتی حصار کو توڑ کر اپنے مطلوبہ ہدف کو نشانہ بنایا یا پھر محافظوں نے ڈبل کراس کیا؟ ہمارے پاس خیالات کے گھوڑے دوڑانے کیلئے میدان خاصا محدود ہے مگر مغربی میڈیا اس سلسلے میں قیاس آرائیوں کی آخری حد تک جاسکتا ہے اور پاکستان دشمنی میں وہ اس حد تک ضرور جائے گا لیکن اگر مغربی میڈیا کے ابتدائی الزامات کو یکسر رد بھی کردیں تو ہماری ایجنسیوں کی ناکامی میں رتی برابر شبہ باقی نہیں رہ جاتا۔
ریمنڈ ڈیوس کیس نے جہاں ہماری داخلی خودمختاری کا راز فاش کیا تھا وہیں ہماری حکومت کی امریکی ذہنی غلامی کا وہ پردہ بھی چاک کردیا تھا جو پچھلے ایک عرصے سے عوام کے علم میں تو تھا مگر اس کا اس طرح سرعام اعلان نہیں ہوا تھا تاہم اس بار تو ملکی سلامتی ، قومی اثاثوں کی حفاظت ، ایٹمی تنصیبات کی سکیورٹی اور دیگر اسٹریٹجک مقامات کے تحفظ پر صرف سوال نہیں اٹھایا بلکہ باقاعدہ اپنی نااہلی کا اعلان کردیا ہے۔ ایبٹ آباد میں کارروائی کرنے والے امریکی ہیلی کاپٹر کہاں سے آئے تھے؟ جواب جو بھی ، وہ شرمناک سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر وہ غازی ایئر بیس سے اڑے تھے کس کی اجازت سے اڑے تھے؟ کیا امریکی پاکستان میں حاصل کئے گئے اڈوں کے استعمال کے معاملے میں مکمل خودمختار ہیں اور پاکستانی حکومت یا دفاعی اداروں سے پوچھنے یا بتانے کے پابند نہیں ہیں؟ کیا وہ ان اڈوں سے اڑ کر پاکستان میں کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے کے مجاز ہیں؟ کیا پاکستان میں موجود امریکی کمانڈوز کسی قاعدے یا ضابطے کے پابند نہیں ہیں؟
اگر یہ ہیلی کاپٹر جلال آباد سے آئے تھے اور کارروائی کرکے واپس چلے گئے تو کیا جلال آباد سے لے کر ایبٹ آباد تک پاکستان کی فضائیں اتنی غیرمحفوظ ہوچکی ہیں کہ جو چاہے منہ اٹھا کر گھس آئے اور جب چاہے واپس چلا جائے؟ حملہ آور ڈرون نہیں تھے یا اسٹیلتھ طیارے نہیں تھے کہ انہیں راڈار پر تلاش کرنا ممکن نہ ہو۔ وہ ہیلی کاپٹر تھے جن کی رفتار کم اور شور زیادہ ہوتا ہے اور وہ پاکستان کے اندر سیکڑوں میل تک آکر اپنے ہدف کو نشانہ بنا کر ، لاشیں اٹھا کر بڑی تسلی سے واپس چلے گئے۔ صدر مملکت اور وزیراعظم گھنٹوں بعد بھی یہ فیصلہ نہ کر پائے کہ انہیں کیا بیان جاری کرنا ہے۔ امریکی صدر ہمیں یہ بتائیں کہ انہوں نے ہمارے ملک میں کیا کیا ہے۔ اگر حکومت کو اس کا علم تھا تو یہ بڑی بے حیائی اور بے غیرتی ہے اور اگر لاعلم تھی تو یہ ناقابل معافی کوتاہی ، نااہلی اور نالائقی ہے۔
اب ہندوستان اپنے مطلوبہ ملزموں اور اہداف کو نشانہ بنانے کی باتیں کرنے میں حق بجانب ہے کہ دنیا میں اصل موقف طاقت ہے اور کمزور کا کوئی موقف نہیں ہوتا۔
امریکی صدر باراک اوبامہ کا کہنا تھا کہ وہ اسامہ بن لادن کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔ کیا یہی امریکی انصاف ہے؟ انصاف سے مراد عدالتیں ، گواہ ، استغاثہ ، الزامات اور صفائی کے مواقع ہیں۔ کیا امریکی کمانڈوز نہتے اسامہ بن لادن کو زندہ گرفتار نہیں کرسکتے تھے؟ کیا امریکہ نے اسامہ کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا تھا؟ کیا اسامہ واقعتاً ایبٹ آباد میں ہی جاں بحق ہوا؟ کیا اسامہ واقعتاً ایبٹ آباد میں رہائش پذیر تھا؟ کیا مارا جانے والا واقعتاً اسامہ بن لادن تھا؟ امریکی پھرتیوں نے بہت سارے سوالات کو جنم دیا ہے۔ امریکی انصاف کا پردہ چاک کیا ہے اور سب کچھ عجلت میں کرکے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آخر امریکہ اسامہ کو زندہ گرفتار کیوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ آخر کیا وجوہات کہ امریکہ زندہ اسامہ بن لادن کو دنیا کے سامنے لانے اور اپنی عدالتوں میں پیش کرنے سے گریزاں تھا؟ یہ محض چند سوالات ہیں جو مزید بے شمار سوالات کو جنم دیں گے مگر ہمیں ان سوالات سے کیا غرض ؟ہم تو جواب دینے کیلئے پیدا ہوئے ہیں اور اگلے ایک عرصے تک جوابات دیتے رہیں گے۔ اس دوران مطلوب افراد کی ایک ختم نہ ہونے والی نئی فہرست مرتب کی جائے گی۔ ان میں سے اکثر پاکستان میں بتائے جائیں گے۔ ڈومور کا مطالبہ ایک بار پھر شدومد سے دوہرایا جائے گا۔ شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا مطالبہ اب مطالبہ نہیں حکم بن جائے گا۔ محکوم لوگ سوائے تعمیل کے اور کیا کرسکتے ہیں؟
ربط