| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
پاک ۔ نیٹ کے توسط سے میری ان والدین سے درخواست ہے ۔ جو اپنے بچوں کو امریکن سسٹم ایسے تعلیمی اداروں میں داخل کروا کر بڑا فخر محسوس کرتے ہیں ۔ کہ ان کے صاحبزادے بہت جلد فرفر انگلش بولنے پر عبور حاصل کر لیں گے ۔ اس طرح وہ اپنے عزیز و اقارب اور سوسائٹی میں اپنا سر فخر سے بلند کر سکیں گے ۔ میں تو عرض کروں گا کہ اگر ان والدین میں تھوڑی سی بھی دینی و وطنی غیرت موجود ہے ۔ تو انہیں علم ہونا چاہئیے کہ ان کی اولادیں بے جا سٹیٹس اور جدیدیت کے نام پر اپنی تہذیب و روایات سے محروم ہو رہی ہیں ۔ یاد رہے امریکن سسٹم اداروں میں ہماری نئی نسل کے ذہنوں میں جو زہر انڈیلا جا رہا ہے ۔ وہ نہایت ہی مہلک ہے ۔ بھاری فیسیں اور طرز معاشرت تو ایک طرف ان کے نصاب سے رمزِ مسلمانی اور اقدار اسلامی کو کھرچا جا رہا ہے ۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں ۔ جن سے اس گہری و گھناؤنی سازش کا اندازہ ہو جائے گا ۔
حضور والا ! ان اداروں میں پڑھائی جانے والی ساتویں جماعت کی کتاب ” Oxford History of Islam “ کے پہلے باب میں آفتاب نبوت ، محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے یوں ہرزہ سرائی کی گئی ہے ۔ When he was about forty he realised that God has called him to be a Prophet, just as Musa, Abrahim, Daud and Jeses had been ” جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً چالیس برس کے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو احساس ہوا کہ خدا نے انہیں پکارا ہے ۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح پیغمبرہیں جس طرح موسیٰ علیہ السلام ، ابراہیم علیہ السلام ، داؤد علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام پیغمبر تھے ۔ “ معاذاللہ۔۔ جناب والا ! حیرانی ہے کہ کتاب کے مصنف پیٹرموس نے تعصب کی بنا پر نہ صرف آداب نبوت سے اغماض کیا ہے یعنی PBUH کے الفاظ کو لکھا نہیں اور He کے H کو کیپیٹل ( Capital ) رسم الخط میں بھی نہیں لکھا ۔ بلکہ وحی الٰہیہ کو بھی ( توبہ نعوذ باللہ ) مشکوک ٹھہرایا ہے ۔ اسی طرح ( اسلام کی پیش رفت ) The Spread of Islam کے باب میں مسلمانوں کی فتح سپین کا ذکر صرف ایک جملے میں کر دیا گیا ہے ۔ فاتح اندلس کے سالار ان اسلام طارق بن زیاد رحمہ اللہ اور موسیٰ بن نصیر رحمہ اللہ کے نام لینا بھی گوارا نہیں ۔ اور ادھر فرانس کی 732ءکی جنگ میں امیر عبدالرحمن عاقی کے لشکر کی پسپائی اور اپنے چارلس مارٹل کی فتح کا قصہ تفصیلاً بیان کیا گیا ہے ۔ ظاہر ہے ، ایسے نصاب کی تدریس ہمارے بچوں کو اسلاف کے کارناموں سے دور کر رہی ہے ۔ وہ مصور پاکستان حضرت علامہ محمد اقبال مرحوم کی دردمندانہ شاعری اور مولانا الطاف حسین حالی کی شہرہ آفاق مسدس ” مدو جزر اسلام سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں؟ ۔ شاعر مشرق رحمہ اللہ تو یوں فرماتے ہیں ۔ ہسپانیہ تو خون مسلماں کا امیں ہے مانند حرم پاک ہے تو میری نظر میں پوشیدہ تری خاک میں سجدوں کے نشاں ہیں خاموش اذانیں ہیں تری باد سحر میں روشن تھیں ستاروں کی طرح ان کی سنانیں خیمے تھے کبھی جن کے ترے کوہ و کمر میں کیونکر خس و خاشاک سے دب جائے مسلماں مانا وہ تب و تاب نہیں اس کے شرر میں ادھر حضرت مولانا الطاف حسین حالی رحمہ اللہ نے فرزندان اسلام کی ترقی و منزلت ، فن لطافت و تعمیر ، علوم سے محبت اور انداز تمدن پر یوں تبصرہ فرمایا ہے ۔ ( ماخوذ مسدس حالی رحمہ اللہ ) کوئی قرطبہ کے کھنڈر جا کے دیکھے مساجد کے محراب و در جا کے دیکھے حجازی امیروں کے گھر جا کے دیکھے خلافت کو زیر و زبر جا کے دیکھے جلال ان کھنڈروں میں ہے یوں چمکتا کہ ہو خاک میں جیسے کندن دمکتا ایسے اسباق و رہنمائی سے ہماری نئی نسل محروم ہو رہی ہے ۔ آکسفورڈ کا نصاب غیور مسلمان کو کب گوارا ہو سکتا ہے ۔ تعلیم کے نام پر یہ نصاب فرزندان اسلام کی غیرت و ناموس پر کھلا ڈاکہ ہے ۔ میری والدین سے درخواست ہے کہ وہ ” امریکن سسٹم “ تعلیمی اداروں میں اپنے بچوں کو ہر گز داخل نہ کرائیں ۔ ارباب مقتدر سے بھی درخواست ہے ۔ کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کیلئے مرکزی اور صوبائی سطح پر ماہرین تعلیم پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو ان اداروں کے نصاب کو چھان پھٹک کے بعد تیار کریں اور محکمہ تعلیم سے باقاعدہ منظور کروائیں ۔ نہیں تو ہماری نئی پود کشتی سورۃ وطن کیلئے غیور ، مخلص ، بیباک اور دین پسند ناخدا ثابت نہیں ہو گی احمد نور
__________________
میں غلام ھوں آقا صلی اللہ علی وسلم کا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 9 صارفین نے sahj کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | shafresha (27-09-09), فرحان دانش (28-09-09), یاسر عمران مرزا (27-09-09), مسافر (10-10-09), wajee (30-09-09), ام طلحہ (28-09-09), بدرالزمان (28-09-09), رضی (27-09-09), عامرشہزاد (30-09-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
آپ نے دو باتوں کی نشاندہی کی، لیکن ہو سکتا ہے ان کے علاوہ اور بھی بہت سی باتیں ہوں جن پر سے آپکی نظریںنہیں گزریں۔ ہمیںاس معاملے کو اتنا غیر اہم خیال نہیں کرنا چاہیے
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
یہ پاکستانیوں کا شیوہ رہا ہے کہ ہر "امپورٹیڈ" شے پر فخر کرتے ہیں۔ اتفاق سے کوئی بھی ہیرو پاکستانی نہیں۔ کوئی ہیرو غزنی سے آیا تھا تو کوئی ابدال سے ، نہ کوئی ہیرو کراچی سے ہے اور نہ کوئی لاہور و پشاور سے۔ پچھلے ساٹھ سالوںمیں بھی کوئی ہیرو قرار نہیں پاتا۔ پاکستان میں کیا کچھ بھی ترقی نہیںہوئی؟ کیا اس ترقی کا سہرا کسی کے سر بھی نہیںباندھا جاسکتا؟ کیا پاکستان کے نہری نظام میںاضافہ نہیں ہوا؟ کیا پاکستان کے سڑکوںکے جال میں اضافہ نہیںہوا؟ کیا پاکستان کے اسکول و یونیورسٹیوں کی تعداد میں 1951 سے آج تک کوئی اضافہ نہیں ہوا؟ کیا پاکستان کی غذا کی پیداوار میںکوئی اضافہ نہیںہوا؟ پاکستان آج کیا کیا نئی چیز بناتا ہے؟ اس کا سہرا کس کے سر بندھتا ہے ؟
اس تمام اضافہ کے باوجود ہمارا کوئی ہیرو نہیں۔۔۔۔ ایسا کیوں؟ اگر ہم پوجتے ہیںتو مردہ پیروں کو لیکن زندہ ہیروؤں اور زندہ ہیروں کو پوچھتے بھی نہیں۔ جب تک پاکستانی اپنے آپ پر فخر کرنا نہیں سیکھے گا۔ اس وقت تک سب کچھ باہر سے درآمد ہوتا رہے گا۔ پاکستان کا ہر بڑا آدمی کئی کروڑ کی جرمن مرسیڈیز میں بیٹھنا پسند کرتا ہے ، ہم کہتے ہیں اس سے بھی بڑی کار میںبیٹھو ، بس اتنا ہو کہ وہ کار پاکستان کی بنی ہوئی ہو۔ تاکہ وہ کروڑ ہا روپیہ جو محنت سے بنتا ہے ، جرمنی جانے سے بچ جائے، پاکستانی مصنوعات پر فخر، پاکستانی تعلیم پر فخر، پاکستانی پر فخر یہ وہ طریقہ کار ہے جو پاکستانی طرز تعلیم پر فخر پیدا کرے گا، اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ پاکستانی تعلیم جدید ترین ہو۔ جب تک اپنے ہیروؤں اور ہیروں پر فخر کرنا نہیںسیکھیں گے سارا تقوی باہر سے ہی درآمد ہوتا رہے گا
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2009
عمر: 29
مراسلات: 4,459
کمائي: 18,471
ميرا موڈ:
شکریہ: 2,888
1,799 مراسلہ میں 4,516 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
زبردست !
یقینا ََ آپ نے اہم باتوں کی طرف توجہ دلائی۔ میں ہمیشہ سے کہتا آیا ہوں کہ مغرب نے یہ بات سیکھ لی ہے کہ وہ ہمارے سامنے اگر واضح الفاظ میں اسلام کے خلاف یا اکابرین اسلام کے خلاف بات کرے گا تو اسکو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا ہوگا ۔ اس لیے وہ اسلام کے خلادف بات کو خوش کن اور ذومعنی الفاظ کا لبادہ پہنا کر پیش کرتا ہے جس کے نتیجے میں کمزور ذہن متاثر ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہم مسلمانوں کی آج بد قسمتی یہ ہے کہ اگر ہماری اولاد کو چند کلمے (جن کا اگر مقصد و مفہوم کا نہیں پتا تو انکو وظیفہ کہہ لیں) اور نعتیں یاد ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ اچھا مسلمان بنا لیا۔ جبکہ یہ خطرہ اپنی جگہ موجود ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ وہ اسلام کے اصل مقصد و منشور سے ہٹتا چلے جائے گی۔ اس سلسلہ میں ایک اور مسئلہ بھی والدین یا ہم میں پایا جاتا ہے وہ ہے ایک چھوٹی سی سوچ۔ وہ یہ سوچ کہ ہم بھی مسلمان ہیں ۔ ۔ ۔ ہماری اولاد بھی مسلمان ہی رہے گی۔ اور یہ جو اتنے لوگ پڑھ کر نکل رہے ہیں وہ بھی تو مسلمان ہی ہیں۔ اگر تو کوئی مسلمان کا نام رکھ کر خوش ہونا چاہتا ہے تو پھر کوئی اعتراض والی بات نہیں۔ لیکن کیا نام کا مسلمان ہونا کافی ہے؟ آج ہم اپنے معاشرے کو آج سے صرف بیس سال قبل کے معاشرے سے تقابل کر کے دیکھ لیں کہ کس قدر بدل چکا ہے یہ معاشرہ۔ یہ بات تسلیم کہ کئی اور عوامل بھی عمل پیرا ہیں اس تبدیلی میں ۔ ۔ ۔ لیکن مخلوط اور مغربی طرز تعلیم بھی ان عوامل کا ایک اہم حصہ ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ چناچہ جس طرح موبائل کا بے محابا استعمال بُرا ہے، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کا غلط استعمال قابل مذمت ہے ، مخلوط و مغربی طرز تعلیم بھی قابل مذمت اور اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔
__________________
زندگی کیا ہے؟ پہلی سانس سے آخری ہچکی تک مسلسل کوشش . . . . . . ایک دوڑ . . . . . ایک ضد . . . . سب سے آگے نکل جانے کی' سب کچھ حاصل کر لینے کی ' جو نہ ملے اُسے چھین لینے کی۔ |
|
|
|
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 33
مراسلات: 3,848
کمائي: 195,681
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,648
2,917 مراسلہ میں 7,889 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
__________________
بدلا لینے والے سے معاف کرنے والا بڑا ہوتا ہے |
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
انگریزی زبان یا انگریزی زبان میں موجود معلومات سے دور رہنا علمی خود کشی کے مترادف ہے۔ مسخ شدہ تاریخکو درست کرنا اور اس کے خلاف احتجاج کرنا ضروری ہے۔
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2009
عمر: 29
مراسلات: 4,459
کمائي: 18,471
ميرا موڈ:
شکریہ: 2,888
1,799 مراسلہ میں 4,516 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فاروق سرور بھائی آپ نے شاید Sahjکا مراسلہ غور سے نہیں پڑھا اور اپنی رائے کا اظہار کر دیا۔ ان کا موقف یہ ہے کہ انگریز مصنفین "زبان دانی" کا استعمال کرتے ہوئے حقیقت میں ہمارے منہ سے ہمارے ہی اقدار اور ایمان کے منافی الفاظ کہلوا رہے ہیں۔ انہوں نے انگریزی کی مخالفت نہیں کی۔
شاید آپ نے اس فقرے کے مضمرات پر غور نہیں کیا When he was about forty he realised that God has called him to be a Prophet, just as Musa, Abrahim, Daud and Jeses had been ” جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً چالیس برس کے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو احساس ہوا کہ ۔ ۔ ۔ ۔ " یہ محض الفاط کا کھیل ہے۔ اب جو کوئی اس کو پڑھے گا اور ذہن نشین کرے گا وہ انکو استعمال بھی کرے گا۔ آپ شاید ہر بات کو کسی اور ہی پیرائے میں لے جاتے ہیں۔ اور اصل نقس مضمون کو چھؤڑ دیتے ہیں۔ بہر کیف سہج کا کہنا درست ہے کہ انگیریزی سکولوں سے محتاظ رہنا چاہیے خاص کر اور ان کے سلیبس سے متعلق خود بھی جانکاری رکھنی چاہیے۔ اور سرکاری سکولوں پر عموماََ توجہ دینی چاہیے۔ کیونکہ میرے خیال میں وہ بھی اسی لعنت میں مبتلا نظر آتے محسوس ہوتےہیں۔ |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 2 صارفین نے بدرالزمان کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | sahj (30-09-09), فاروق سرورخان (30-09-09) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
توجہ دلانے کا شکریہ کہ انگریزی زبان سے بیر نہیں ہے بلکہ جو کچھ پیش کیا جاتا ہے اس میں خرابی ہے۔
When he was about forty he realised that God has called him to be a Prophet, just as Musa, Abrahim, Daud and Jeses had been ” جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً چالیس برس کے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے آپ کو رسول بننے کے لئے منتخب کیا ہے۔ جیسا کہ موسی، ابراہیم، داؤد اور عیسی (نبی) ہوچکے تھے۔ اس جملہ میں سوائے اس کے صلی اللہ علیہ وسلم اور علیہ السلام کی کمی ہے، یہ جملہ درست ہے۔ اس سے لکھنے والے کی اسلامی معاشرہ سے کم علمی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ حکومت پاکستان کا کام ہے کہ وہ اسکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب کی باقاعدہ جانچ پڑتال کرے، تاکہ پاکستانیوں کے احساسات کی ترجمانی ہوسکے۔ پڑھایا انگریزی میں جائے یا اردو میں عزت و احترام مروجہ طریقوں سے درست رکھنا ضروری ہے۔ |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 4,800
کمائي: 43,383
ميرا موڈ:
شکریہ: 1,789
2,820 مراسلہ میں 5,980 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لیکن یہ تو ہماری ہی غلطی ہے نا کہ امریکن اسکول میں پڑھ رہیں ہیں کیا انکی کتابیں حکومت چیک نہیں کرتی ایسی غلطی تو ہم سے ہی ہو رہی ہے نا
__________________
ابھی تو قید میں ہیں جذبوں کی آندھیاں دل میں لیکن ہمارا جو صبر ٹوٹا تو قیامت ہو گی |
|
|
|
| wajee کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (30-09-09) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
یہ تو صرف ایک چھوتی سی جھلکی ہے ورنہ تو بڑے بڑے طوفان پوشیدہ ہیں
|
|
|
|
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| فن, کمر, پاک, پاکستان, پسند, قصہ, نظر, موسیٰ علیہ السلام, محمد اقبال, محبت, اللہ, انگلش, امیر, اسلامی, بچوں, تعلیم, جلد, خون, خدا, درخواست, شاعری, عیسیٰ, علامہ محمد اقبال, عزیز, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| میرا سسٹم ! | فیصل ناصر | گپ شپ | 47 | 26-12-09 12:19 PM |
| سسٹم انفارمیشن | wajee | آئیں کمپیوٹر سیکھیں | 6 | 17-11-09 11:09 AM |
| امریکہ میں تعلیم | پاکستانی | دیس ہوئے پردیس | 8 | 21-08-09 01:43 AM |
| تعلیم کی خبریں | زین خان | خبریں | 0 | 08-10-08 12:24 AM |
| کشمیر کے حل کیلئے عالمی برادری ذمہ داری محسوس کرے،کشمیر امریکن کونسل | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 05-02-08 10:25 AM |