واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


امریکہ کی بڑھتی ہوئی بدمعاشی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-02-11, 02:02 PM   #1
امریکہ کی بڑھتی ہوئی بدمعاشی
زارا زارا آف لائن ہے 22-02-11, 02:02 PM

جا رج ڈبلیو بُش نے تو عراق، جنوبی کو ریا اور ایران کو Axix of Evil یعنی برائیوں کا محور اور مر کز کہاتھا مگر میں تو امریکہ بھارت ، اسرائیل اور بر طانیہ کو تمام برائیوں کی جڑ کہتا ہوں۔ کتنی افسوس کی بات ہے کہ نیٹو کے 27 ممالک بشمول امریکہ اور بر طانیہ نے ہیری اور ہیلن کی رپورٹ کے مطابق نائن الیون کے بعدافغانستان میں نہ صرف20 ہزار بے گناہ لوگ شہیدکئے بلکہ علاوہ ازیں نام نہاد دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ میں 49 ہزار بے گناہ لوگ زخمی بھی کئے۔ اسی طر ح عراق میں امریکہ اور اتحادی افواج نے نہ صرف 10 لاکھ لوگ شہید کئے بلکہ 17 لاکھ بے گناہ عام نہتے شہری زخمی اور 5 لاکھ بچے یتیم بھی ہو گئے۔ امریکیوںنے پاکستان کی قومی اسمبلی ، سینیٹ اور چا روں صوبائی اسمبلیوں کی قرارداوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے 2004 سے فر وری2011 تک 222 ڈرون حملوںمیں 2189 بے گناہ لوگ بھی شہید کئے۔ امریکہ کی نام نہاد دہشت گر دی کی جنگ میں 2004 سے 2009 تک 10 ہزار عام شہری 3700 سکیورٹی کے اہل کار اور بقول حکومت کے دہشت گر دوں کے 32276 جنا زے اُٹھائے گئے مگر اب بھی امریکہ کا کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا۔اسکے علاوہ عراق میں ان ممالک کے قابل اور لائق لوگوں جس میں ٹیچر ، ڈا کٹر ،پرو فیسر، سائنسدان اور صحافی شامل ہیں انکو غائب کر کے مارا بھی جاتا ہے۔ سال 2010 میں عراق میں11 یو نیور سٹیوں کے 7پروفیسروں کو اسلئے ما را گیاتاکہ یہاں کی پڑھی لکھی قیادت کو ختم کیا جائے۔

ایک انتہائی مختا ط اندازے کے مطابق روس نے 1980 سے 1988 تک افغان جنگ پر 90 ارب ڈالر خرچ کئے جبکہ اس کے بر عکس امریکہ نے نائن الیون کے بعد افغانستان میں وسطی ایشیائی ممالک کے وسائل پر قبضہ کر نے، سر مایہ دارانہ نطام کے تحفظ کے لئے چین کی تیز اقتصادی ترقی کا راستہ روکنے ، گریٹ گیم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور پاکستان میں افرا تفری پھیلانے کے لئے دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی نام نہاد جنگ پر 2300ارب ڈالر خرچ کئے۔ اور تو بات یہاں تک پہنچی کہ اب تو امریکی سر عام پاکستان کی سر زمین پر پاکستانیوں کو مارنے پر بھی تُلے ہوئے ہیں۔کچھ عر صہ پہلے ایک امریکی نے سر عام آب پا رہ بازار میں ایک آدمی کو پیٹا اورابھی ابھی امریکہ سفارت خانہ کے ایک اہل کار نے لاہور میں ذیشان حیدر اور فہیم کو گولی مار کر شہید کیا۔ اور پھر ڈیوڈ ریمینڈ کی مدد کے لئے گا ڑی نمبر ایل زیڈ این 6970 نے مو ٹر سائیکل پر سوار ایک راہ گیر عباد الر حمن کو کچل ڈالا۔ اس بر بریت کے بعد دیدہ دلیری اور سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈیوڈ ریمینڈ اپنے مو بائیل فون سے خون میں لت پت دونوں لاشوں کی ویڈیو بنا نے میں مشغول تھا۔ اور بد قسمتی سے اُسی وقت پاکستان کے قانون نافذ کر نے والے اداروں کے چند بے ضمیراہل کاروں نے بغیر کسی تصدیق کے دونوں کو چور اورڈاکو قرار دیا۔ پاکستانی حاکم اب اس کو شش میں ہے کہ ان دونوں کو ڈاکو اور چور ثا بت کیا جائے۔ اور حکومت کی طر ف سے ایسے بیانات آرہے ہیں کہ گو یا یہ چور اورڈاکو تھے۔

میرے خیال میں ان دونوں کا ڈاکہ، راہ زنی اور چو ری سے کوئی تعلق نہ تھا ۔ویسے یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ اگر امریکن ان دونوں پر فائر کر کے ان دونوں کو 8 جگہ گولی لگ سکتی تھی تو پھر ذیشان حیدر اور اُنکا ساتھی جو بقول اُس امریکی کے تعاقب میں تھے اُنکو ما رتے کیوں نہیں تھے۔ ہمارے معا شرے میں اگر کوئی چو ر اور ڈاکو بھی ہے تو وہ بھی ہمارے حکمرانوں جس میں فوجی مطلق لعنان اور ساری سیاسی پا رٹیاں شامل ہیںانکی غریب اور سماج دشمن پالیسیوں کی وجہ سے بنے ہیں، جس ملک میں گیس ،بجلی ، غریب کو دو وقت کی روٹی، مریض کے لئے دوائی، سر چھپانے کی جگہ، سماجی اور معاشی انصاف ، اور پڑھے لکھے جوان بچوں اور بچیوں کے لئے نوکری میسر نہ ہوتواُس ملک میں لوگ چور اور ڈاکو نہیں تو اور کیا بنیں گے ۔ پاکستان کے غیرت مند قوم کو چند لاکھ سر مایہ داروں ، جاگیر داروں اور کا رخانہ داروں نے کرپشن ، بد عنوانیوں اور ملکی وسائل کو لوٹنے کی وجہ سے ذلیل بنایا ہے۔ و رنہ یہ ایک زبر دست اور خو د دار قوم ہے۔ اب امریکہ کی پو ری پو ری کو شش ہے کہ اس امریکی کو رہا کیا جائے ۔حالانکہ 1997میں جب جا رجیا کی سفیر جیوگی مکر دی جی نے جب ایک بچے کو گا ڑی سے کچل ڈالا تو امریکی صدر بل کلنٹن نے اس سفارت کار کی امریکی immunity یعنی استثنی کی درخواست مسترد کی اور امریکہ کی ہی عدالت نے اُس کو 21 سال قید کی سزا سُنادی۔ اسی طرح1961 کے جنیوا معاہدہ کے مطابق صرف اُس سفارت کار کو Immunity استثناء دیا جاتا ہے اگر اُس سفارت کار نے کوئی جُرم سفارت خانے کے حدود کے اندر کیا ہو۔ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم کبھی امریکہ کوسٹریٹیجک پا رٹنر کہتے ہیں، مگر بد قسمتی سے امریکہ اور یو رپ ہاتھ سے کوئی ایسا مو قع جانے نہیں دیتے جس سے پوری دنیا میں مسلمانوں کی دل آزاری تذلیل اور رسوا ئی نہ ہو۔ کبھی وہ پاک پیغمبر نبی آخر الزمان خضرت محمد کی شان میں گستا خی کر کے اُنکے کا رٹون بناتے اور کبھی اُ نکی شان میں گستا خانہ کتابیں لکھنے والے ملغونوں اور خبیثوں جیسے کہ سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کو نہ صرف پناہ دیتے بلکہ اُنکو انعامات اور میڈلز سے نوازتے رہتے ہیں۔

کبھی قُر آن مجید اور فُرقان حمید کو گندگی میں پھینکتے اور کبھی اس کتاب الہی کو سور کے آگے پھینکنا اُنکا ایک معمول ہے۔اور کبھی اُن کے ننگ انسانیت پادری قر آن عظیم کو جلانے کاا علان کرتے ہیں۔ عراق پر اٹیمی ہتھیار بنانے کا الزام لگا کر اُنکے خلاف فو ج کشی اور افغانستان اور قبائیلی علاقہ جات پر دہشت گر دی اور انتہا پسندی کا الزام لگاکر سر حد کے اُ س اور اس پار بے گناہ پختونوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ ایک طر ف اُمت مسلمہ کی ماؤں بہنوں کا ایر پو رٹس پر ننگا سکریننگ ٹسٹ کر کے تضحیک کی جاتی ہے جبکہ دوسری طر ف بے گناہ لوگوں کو دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ میں مارا جاتا ہے ۔ امریکہ نے 200 کروڑ مسلمانوں کی بہن، بیٹی اور بہو کو جھوٹے الزامات کی پا داش میں گذشتہ کئی سالوں سے پابند سلاسل کر کے اُن پر بے پناہ مظالم ڈھائے جارہے ہیں ۔ جبکہ دو سری طر ف تین بے گناہ لوگوں کے قاتلوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔کدھر گئی انسان حقوق کی وہ تنظیمیں ، کدھر گئے انسانی حقوق کے وہ علمبر دار۔ ویسے مُجھے سمجھ نہیں آتی آخر مسلمان اپنے حکمرانوں کی وجہ سے کب تک ذلیل ہوتے رہینگے؟۔ آخر ہماری ماؤں بہنوں کی کب تک یہو د و ہنود کے آگے رسوائی اور ذلالت ہوتی رہے گی؟۔ ایک اکلوتی مسلمان طاقت کب تک امریکہ کے آگے ہاتھ باندھ کر امریکہ کے ڈرون حملوں کو دیکھتی رہے گے؟۔ آخر کب تک امریکہ اور دوسرے یو رپی ممالک میں ہمارے ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی سکریننگ ٹسٹ ہوتی رہے گی؟۔آخر ہم کب تک اُنکی دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ لڑ کے اپنے ملک اور قوم کا بیڑہ غرق کر تے رہینگے؟۔ آخر ہم کب تک اپنے ملک کے پُر امن لوگوں کو دہشت گر د اور انتہا پسند کہتے رہینگے؟۔ویسے وہ کونسی بات ہماری رہ گئی جسکے بعد ہمارا سویا ہوا ضمیر جاگے گا۔ وہ کونسی کسررہ چکی ہے جو ابھی باقی ہے۔

اعجازاحمد

والسلام
زارا

 
زارا's Avatar
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
شکریہ: 1,155
6,271 مراسلہ میں 14,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 228
Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 22-02-11, 03:37 PM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھا لکھا ہے صاحب مضمون نے
لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اپنی حرکتوں کی بدولت اب امریکہ ہر آنے والے دن کے ساتھ کھائی کے کنارے پہنچ رہا ہے۔
بس ہمت کی ضرورت ہے ۔۔ یہ اونٹ پہاڑ کے نیچے بہت جلد آ جائے گا
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-02-11, 03:48 PM   #3
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,212
شکریہ: 1,155
6,271 مراسلہ میں 14,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دیکھتے ہیں کیونکہ اُمید پر ہی دُنیا قائم ہے۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
evil, کلنٹن, پاکستان, قید, لوگ, چین, نوکری, چور, مجید, آدمی, ایران, الزام, امریکہ, بچوں, خون, خلاف, درخواست, راستہ, سال, عدالت, غائب, صوبائی, صحافی, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بڑھتی ہوئی کمر ۔۔۔۔۔۔ بیماری کی علامت سائرہ علی فیشن اور بیوٹی ٹپس 1 01-01-12 02:29 AM
اروندھتی رائے کا بیان shafresha خبریں 0 28-10-10 11:27 AM
کون بنے گا کروڑ پتی راجہ اکرام عمومی بحث 6 31-10-09 11:41 AM
ہندچین کنٹرول لائن پر بڑھتی کشیدگی Student خبریں 0 01-09-09 05:46 PM
کروڑپتی ابو عمار قہقہے ہی قہقے 2 12-05-08 01:19 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:25 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger