واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


امریکی عسکری قیادت کے تضادات

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-10-10, 03:07 PM   #1
امریکی عسکری قیادت کے تضادات
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آن لائن ہے 18-10-10, 03:07 PM

امریکی عسکری قیادت کے افغانستان کے حوالے سے متنازعہ بیانات کا سلسلہ جاری ہے اور اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ وزیردفاع رابرٹ گیٹس قبل از وقت ریٹائر ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی فوج جولائی 2011ءمیں ضرور انخلاءکرے گی، جبکہ افغانستان میں موجود امریکی کمانڈر انچیف جنرل ڈیوڈ پیٹریس نے اس انخلا کو حتمی قرار نہیں دیا۔ 2011ءافغانستان اور امریکہ دونوں کے لیے انتہائی اہم ہے اور یہ سوال شدت کے ساتھ ہر طرف سے اٹھایا جارہا ہے کہ کیا امریکہ افغانستان سے انخلاءچاہتا ہے؟

اس میں شک نہیں کہ امریکہ اور خصوصاً وہاں موجود جنگجو تھنک ٹینک کی خواہش ہے کہ افغانستان میں قیام کرکے پورے خطے کو اپنی استعماری بالادستی کا شکار بنایا جائے، مگر افغانستان میں وہ تیزی کے ساتھ شکست کی طرف گامزن ہورہا ہے اور اس کا ہر قدم اس کو شکست سے قریب تر کرتا جارہا ہے۔ اب اس میں خواہش اور حقیقت کا مقابلہ ہے اور اسی بنیاد پر امریکی حکام اس جنگ کو ختم کرنے یا اسے جاری رکھنے کے حوالے سے سخت پریشان ہیں، خصوصاً اب امریکی اتحادی اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کو تیار نہیں، ہالینڈ کے انخلاءکے بعد اب کینیڈا کی فوجیں انخلاءچاہتی ہیں، جب کہ یورپ کے کئی ممالک اس لاحاصل جنگ سے تنگ آچکے ہیں اور اب افغان جنگ کے حوالے سے ان ملکوں میں عوامی دباﺅ بڑھتا جارہا ہے۔ امریکہ اب سازشوں اور لالچ کے سہارے اس جنگ کو طول دینا چاہتا ہے اور کچھ عرصے کے لیے اپنے اتحادیوں کو مزید افغانستان میں روکے رکھنے کی پالیسی پر گامزن نظر آرہا ہے۔ وکی لیکس کی رپورٹوں نے اس کی ناکامی کو اور بھی واضح کیا، جب کہ داخلی سطح پر اس کی اپنی بنائی ہوئی کٹھ پتلی انتظامیہ کی وفاداری پر بھی اب امریکہ کو شک ہے۔ دوسری جانب طالبان کی اسلامی تحریک کا بڑھتا ہوا عسکری دباﺅ ایسا عنصر ہے جس کا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس کوئی علاج نہیں۔ سب سے بڑھ کر اب امریکی حکام اور مغربی پریس بھی اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ طالبان کی قوت میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، وہ اب ملک کے شمال میں بھی بڑی آسانی کے ساتھ کارروائی کرتے نظر آرہے ہیں۔ خصوصاً ان صوبوں میں جن کو کسی زمانے میں شمالی اتحاد کا گڑھ سمجھا جاتا تھا اب وہاں طالبان نے کارروائیان شروع کردی ہیں۔ ایسی بھی اطلاعات موجود ہیں کہ دارالحکومت کابل میں بھی بہت بڑی تعداد میں طالبان سپاہ موجود ہیں جو مختلف شکلوں اور حلیوں میں رہ کر وہاں حالات پر نگاہیں رکھے ہوئے ہیں، اور انہوں نے وہاں اپنی موجودگی کو ثابت بھی کیا ہے، کیونکہ پچھلے مہینوں میں ایسی کارروائیاں ہوئیں جنہوں نے پوری دنیا کو ورطہ¿ حیرت میں ڈال دیا۔

گزشتہ دنوں ان نوجوانوں کی ویڈیو پہلی بار سامنے آئی جنہوں نے کچھ عرصہ قبل دارالحکومت کابل کے عین قلب میں واقع صدارتی محل کی قریبی عمارتوں اور کئی وزارتوں میں دن دہاڑے کارروائی کرکے ہلچل مچا دی تھی۔ اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد یہ تاثر مزید اجاگر ہوا ہے کہ امریکی حفاظتی نظام اور کٹھ پتلی انتظامیہ کی طاقت طالبان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ خود مغربی میڈیا بھی اس بات کا اعتراف کررہا ہے کہ امریکی اور ناٹو فورسز کو اس سے زیادہ نقصان ہوا ہے جتنے کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ تقریباً 32000 فوجی اس جنگ میں شدید زخمی ہوئے ہیں جب کہ 4400 سے زائد ہلاک ہوئے۔ یہ امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کی رپورٹ ہے، جب کہ کچھ آزاد ذرائع اس سے بھی زائد اموات کی بات کرتے ہیں۔ امریکی حکام اور ان کے دیگر قابض اتحادیوں نے اس عرصے میں صرف اور صرف سویلین ہلاکتوں میں دلچسپی لی ہے اور ہر آنے والا دن سویلین ہلاکتوں اور نقصان کے حوالے سے سابقہ ایام سے زیادہ ہلاکت خیز ہوتا ہے۔ امریکی حکام ان ہلاکتوںکی ذمہ داری طالبان پر ڈالتے ہیں، لیکن خود ان کا انتظامی سربراہ سویلین ہلاکتوں کو امریکی فوجیوں کی کارستانی قرار دیتا ہے۔ دسیوں بار حامد کرزئی کی زبان سے بھی یہ الفاظ نکلے ہیں کہ سویلین ہلاکتیں برداشت نہیں، اور ہم اس پر امریکہ سے احتجاج کریں گے۔ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے ادارے یوناما نے بھی اسی طرح کی رپورٹ شائع کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغان عوام کو اب دھوکا نہیں دیا جاسکتا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ امریکہ کی آمد کے بعد سے ہلاکتوں کے تناسب میں اضافہ ہوا ہے۔

ان حالات کو دیکھتے ہوئے طالبان نے پہلی بار ایک ایسے کمیشن کے قیام کی بات کی ہے جو سویلین ہلاکتوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کراسکے۔ طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف احمدی نے اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان ہلاکتوں کی تحقیقات کا فریضہ سرانجام دے اور اس کمیشن میں اسلامی کانفرنس تنظیم کے نمائندے، اقوام متحدہ کے اہلکار، ناٹو فورسز اور طالبان کے نمائندے شامل ہوں۔

طالبان نے اس حوالے سے انتہائی اہم قدم اٹھایا کیونکہ وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ سویلین ہلاکتوں میں ان کا ہاتھ نہیں۔ عام شہریوں کی تمام ہلاکتیں بمباری اور اندھا دھند فائرنگ سے ہوئی ہیں اور یہ کام امریکہ ہی کرسکتا ہے کیونکہ طیارے اور جدید ٹیکنالوجی اُسی کے پاس ہے۔ افغانستان کے اطراف و اکناف میں ایسے بہت سارے چھوٹے چھوٹے گاﺅں ہیں جو امریکہ کی بمباری کی وجہ سے صفحہ¿ ہستی سے مٹ چکے ہیں، اسی وجہ سے امریکہ عام لوگوں کی نفرت کا ہدف بنا ہوا ہے۔ امریکی تشدد کے اس کارڈ کو طالبان نے اپنے حق میں استعمال کیا ہے، ورنہ یہ بات سوچنے کی ہے کہ دنیا کے چالیس سے زائد ممالک کے فوجی جو اعلیٰ ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، جن کے پاس ہر قسم کے ہتھیار ہیں، کیوں مٹھی بھر مزاحمت کاروں کے سامنے ناکام ہوچکے ہیں؟

ملا محمد عمر کی قیادت میں جاری اس جنگ نے اب اہم موڑ لیا ہے اور مغربی قوتوں کے اپنے تضادات اور عدم اعتماد نے ان کے راستے کو مزید آسان بنادیا ہے۔

امریکی انخلاءکے حوالے سے بعض لوگوں کو اس بات کی تشویش ہورہی ہے کہ اس کے بعد پھر خون خرابہ ہوگا اور یہ لوگ آپس میں لڑیں گے۔ شاید ایسے لوگ افغانستان کے موجودہ حالات سے واقف نہیں اور خصوصاً طالبان کی صفوں میں جو انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں اور جس وسعت قلبی کا مظاہرہ ان کی جانب سے دیگر افغانوں کے لیے دیکھنے کو مل رہا ہے اس کی مثال سابقہ ادوار میں نہیں ملتی۔

امریکہ کے اہم اتحادی اور اس کے اہم عسکری رہنما اب آہستہ آہستہ اس جنگ سے علیحدہ ہورہے ہیں۔ میک کرسٹل اور ڈیوڈ رچرڈ کے بعد اب رابرٹ گیٹس کی سمجھ میں بھی یہ بات آچکی ہے کہ یہ جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔ جب کہ امریکہ کے قابض اتحادی اب ہالینڈ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس جنگ سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کب تک یورپ اور امریکہ کے فوجی افغانستان کے گلی کوچوں میں مرتے رہیں گے؟ کیونکہ یہ جنگ جیتی نہیں جا سکتی، اور نہ ہی افغان شکست کھا سکتا ہے۔

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1242
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (24-10-10), shafresha (24-10-10), فیصل ناصر (19-10-10), محمد عاصم (18-10-10), مرزا عامر (18-10-10), ابن آدم (18-10-10), حیدر (18-10-10), شمشاد احمد (21-10-10)
پرانا 20-10-10, 09:28 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,516
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
امریکی عسکری قیادت کے افغانستان کے حوالے سے متنازعہ بیانات کا سلسلہ جاری ہے اور اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ وزیردفاع رابرٹ گیٹس قبل از وقت ریٹائر ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی فوج جولائی 2011ءمیں ضرور انخلاءکرے گی، جبکہ افغانستان میں موجود امریکی کمانڈر انچیف جنرل ڈیوڈ پیٹریس نے اس انخلا کو حتمی قرار نہیں دیا۔ 2011ءافغانستان اور امریکہ دونوں کے لیے انتہائی اہم ہے اور یہ سوال شدت کے ساتھ ہر طرف سے اٹھایا جارہا ہے کہ کیا امریکہ افغانستان سے انخلاءچاہتا ہے؟

اس میں شک نہیں کہ امریکہ اور خصوصاً وہاں موجود جنگجو تھنک ٹینک کی خواہش ہے کہ افغانستان میں قیام کرکے پورے خطے کو اپنی استعماری بالادستی کا شکار بنایا جائے، مگر افغانستان میں وہ تیزی کے ساتھ شکست کی طرف گامزن ہورہا ہے اور اس کا ہر قدم اس کو شکست سے قریب تر کرتا جارہا ہے۔ اب اس میں خواہش اور حقیقت کا مقابلہ ہے اور اسی بنیاد پر امریکی حکام اس جنگ کو ختم کرنے یا اسے جاری رکھنے کے حوالے سے سخت پریشان ہیں، خصوصاً اب امریکی اتحادی اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کو تیار نہیں، ہالینڈ کے انخلاءکے بعد اب کینیڈا کی فوجیں انخلاءچاہتی ہیں، جب کہ یورپ کے کئی ممالک اس لاحاصل جنگ سے تنگ آچکے ہیں اور اب افغان جنگ کے حوالے سے ان ملکوں میں عوامی دباﺅ بڑھتا جارہا ہے۔ امریکہ اب سازشوں اور لالچ کے سہارے اس جنگ کو طول دینا چاہتا ہے اور کچھ عرصے کے لیے اپنے اتحادیوں کو مزید افغانستان میں روکے رکھنے کی پالیسی پر گامزن نظر آرہا ہے۔ وکی لیکس کی رپورٹوں نے اس کی ناکامی کو اور بھی واضح کیا، جب کہ داخلی سطح پر اس کی اپنی بنائی ہوئی کٹھ پتلی انتظامیہ کی وفاداری پر بھی اب امریکہ کو شک ہے۔ دوسری جانب طالبان کی اسلامی تحریک کا بڑھتا ہوا عسکری دباﺅ ایسا عنصر ہے جس کا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس کوئی علاج نہیں۔ سب سے بڑھ کر اب امریکی حکام اور مغربی پریس بھی اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ طالبان کی قوت میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، وہ اب ملک کے شمال میں بھی بڑی آسانی کے ساتھ کارروائی کرتے نظر آرہے ہیں۔ خصوصاً ان صوبوں میں جن کو کسی زمانے میں شمالی اتحاد کا گڑھ سمجھا جاتا تھا اب وہاں طالبان نے کارروائیان شروع کردی ہیں۔ ایسی بھی اطلاعات موجود ہیں کہ دارالحکومت کابل میں بھی بہت بڑی تعداد میں طالبان سپاہ موجود ہیں جو مختلف شکلوں اور حلیوں میں رہ کر وہاں حالات پر نگاہیں رکھے ہوئے ہیں، اور انہوں نے وہاں اپنی موجودگی کو ثابت بھی کیا ہے، کیونکہ پچھلے مہینوں میں ایسی کارروائیاں ہوئیں جنہوں نے پوری دنیا کو ورطہ¿ حیرت میں ڈال دیا۔

گزشتہ دنوں ان نوجوانوں کی ویڈیو پہلی بار سامنے آئی جنہوں نے کچھ عرصہ قبل دارالحکومت کابل کے عین قلب میں واقع صدارتی محل کی قریبی عمارتوں اور کئی وزارتوں میں دن دہاڑے کارروائی کرکے ہلچل مچا دی تھی۔ اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد یہ تاثر مزید اجاگر ہوا ہے کہ امریکی حفاظتی نظام اور کٹھ پتلی انتظامیہ کی طاقت طالبان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ خود مغربی میڈیا بھی اس بات کا اعتراف کررہا ہے کہ امریکی اور ناٹو فورسز کو اس سے زیادہ نقصان ہوا ہے جتنے کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ تقریباً 32000 فوجی اس جنگ میں شدید زخمی ہوئے ہیں جب کہ 4400 سے زائد ہلاک ہوئے۔ یہ امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کی رپورٹ ہے، جب کہ کچھ آزاد ذرائع اس سے بھی زائد اموات کی بات کرتے ہیں۔ امریکی حکام اور ان کے دیگر قابض اتحادیوں نے اس عرصے میں صرف اور صرف سویلین ہلاکتوں میں دلچسپی لی ہے اور ہر آنے والا دن سویلین ہلاکتوں اور نقصان کے حوالے سے سابقہ ایام سے زیادہ ہلاکت خیز ہوتا ہے۔ امریکی حکام ان ہلاکتوںکی ذمہ داری طالبان پر ڈالتے ہیں، لیکن خود ان کا انتظامی سربراہ سویلین ہلاکتوں کو امریکی فوجیوں کی کارستانی قرار دیتا ہے۔ دسیوں بار حامد کرزئی کی زبان سے بھی یہ الفاظ نکلے ہیں کہ سویلین ہلاکتیں برداشت نہیں، اور ہم اس پر امریکہ سے احتجاج کریں گے۔ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے ادارے یوناما نے بھی اسی طرح کی رپورٹ شائع کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغان عوام کو اب دھوکا نہیں دیا جاسکتا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ امریکہ کی آمد کے بعد سے ہلاکتوں کے تناسب میں اضافہ ہوا ہے۔

ان حالات کو دیکھتے ہوئے طالبان نے پہلی بار ایک ایسے کمیشن کے قیام کی بات کی ہے جو سویلین ہلاکتوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کراسکے۔ طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف احمدی نے اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان ہلاکتوں کی تحقیقات کا فریضہ سرانجام دے اور اس کمیشن میں اسلامی کانفرنس تنظیم کے نمائندے، اقوام متحدہ کے اہلکار، ناٹو فورسز اور طالبان کے نمائندے شامل ہوں۔

طالبان نے اس حوالے سے انتہائی اہم قدم اٹھایا کیونکہ وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ سویلین ہلاکتوں میں ان کا ہاتھ نہیں۔ عام شہریوں کی تمام ہلاکتیں بمباری اور اندھا دھند فائرنگ سے ہوئی ہیں اور یہ کام امریکہ ہی کرسکتا ہے کیونکہ طیارے اور جدید ٹیکنالوجی اُسی کے پاس ہے۔ افغانستان کے اطراف و اکناف میں ایسے بہت سارے چھوٹے چھوٹے گاﺅں ہیں جو امریکہ کی بمباری کی وجہ سے صفحہ¿ ہستی سے مٹ چکے ہیں، اسی وجہ سے امریکہ عام لوگوں کی نفرت کا ہدف بنا ہوا ہے۔ امریکی تشدد کے اس کارڈ کو طالبان نے اپنے حق میں استعمال کیا ہے، ورنہ یہ بات سوچنے کی ہے کہ دنیا کے چالیس سے زائد ممالک کے فوجی جو اعلیٰ ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، جن کے پاس ہر قسم کے ہتھیار ہیں، کیوں مٹھی بھر مزاحمت کاروں کے سامنے ناکام ہوچکے ہیں؟

ملا محمد عمر کی قیادت میں جاری اس جنگ نے اب اہم موڑ لیا ہے اور مغربی قوتوں کے اپنے تضادات اور عدم اعتماد نے ان کے راستے کو مزید آسان بنادیا ہے۔

امریکی انخلاءکے حوالے سے بعض لوگوں کو اس بات کی تشویش ہورہی ہے کہ اس کے بعد پھر خون خرابہ ہوگا اور یہ لوگ آپس میں لڑیں گے۔ شاید ایسے لوگ افغانستان کے موجودہ حالات سے واقف نہیں اور خصوصاً طالبان کی صفوں میں جو انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں اور جس وسعت قلبی کا مظاہرہ ان کی جانب سے دیگر افغانوں کے لیے دیکھنے کو مل رہا ہے اس کی مثال سابقہ ادوار میں نہیں ملتی۔

امریکہ کے اہم اتحادی اور اس کے اہم عسکری رہنما اب آہستہ آہستہ اس جنگ سے علیحدہ ہورہے ہیں۔ میک کرسٹل اور ڈیوڈ رچرڈ کے بعد اب رابرٹ گیٹس کی سمجھ میں بھی یہ بات آچکی ہے کہ یہ جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔ جب کہ امریکہ کے قابض اتحادی اب ہالینڈ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس جنگ سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کب تک یورپ اور امریکہ کے فوجی افغانستان کے گلی کوچوں میں مرتے رہیں گے؟ کیونکہ یہ جنگ جیتی نہیں جا سکتی، اور نہ ہی افغان شکست کھا سکتا ہے۔
السلام علیکم!!!

عبداللہ آدم!!!

اپ نے جس تحریر کا حوالہ دیا ہے وہ "الامارا" کی ویب سائٹ سے لی گئی ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ نے اس بغیر پڑھے ہی پوسٹ کر دیا ہے۔ ایک طرف اس میں لکھا ہے کہ فوجوں کا انخلاء 2011 تک ممکن ہے ہور دوسرے ہی پیراگراف میں لکھا ہے "اس جنگ کو طول دیا جا رہا ہے"۔ جب کسی بات میں تضاد ہو تو وہ بات پائیدار نہیں رہتی ہے اس لیے ایسے ذرائع بھی محض کچھ داموں کے ادھر ادھر کی خبروں کو چھاپتے رہتے ہیں۔

اس مضمون کے مطابق طالبان نے سابقہ ماہ بہت سی عمارات کو نقصان پہنچایا اور کئی وزارتوں کو نیست و نابود کر دیا۔ آپ کو یہ نہیں لگتا کہ صرف تباہی ہی تباہی کے کارنامے ہیں۔ کیا آپ ایک واقعہ یا قصّہ بتا سکتے ہیں جہاں پر طالبان نے کسی چیز کی حفاظت کی ہو یا کوئی چیز تعمیر کی ہو؟؟؟


عبداللہ آدم طالبان صرف تباہی اور بربادی کرتے ہیں، تعمیر یا ترقیاتی کام نہیں۔


آپ کا کیا خیال ہے؟؟؟؟
اداس ساحل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-10-10), شمشاد احمد (22-10-10)
پرانا 21-10-10, 02:04 AM   #3
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہم مساجد مزارات یا بازار کہیں بھی بم دھماکہ ہو اور بے گناہ انسانوں کا قتل عام ہو اس کو ہر کوئی حرام اور گناہ ہی سمجھتا ہے۔ اور اس کی اپنے اپنے طور پر شدید مذمت بھی کرتا ہے۔
مگر پھر بھی یہ دھماکے ہوتے ہیں اور طالبان کے نام پر ہوتے ہیں اور جہاد کے نام پر ہوتے ہیں۔۔۔۔۔
مجھے ایک بات سمجھ میں نہیں ‏آتی۔۔۔۔
جب طالبان منکر ختم کرنے میدان میں ‏آئے ہیں ہیں منکر کے پرستار اور اس کو بقول ان کے تحفظ دینے والے بازار میں ہوں یا مسجد میں، گھر میں ہوں یا عباد گاہ میں ان کو بم سے ا‎ڑا دیا جاتا ہے۔۔۔
لیکن
لیکن
لیکن
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ‏آج تک پاکستان کے کسی شراب خانے میں، کسی جوئے کے اڈے میں، کسی زنا کے ٹھکانے پر۔ غرض ان مقامات پر جو برائیوں کے محور ہیں وہاں۔ کوئی خود کش بمبار کیوں نہیں گیا؟؟؟
کیا یہ سب ‌چیزیں طالبان کو پسند ہیں؟
کیا طالبان ان خرافات سے زیادہ خرابی لڑکیوں کے سکولوں کو سمجھتے ہیں؟
کیا طالبان لوگوں کو عبادت گاہوں سے دور اور شراب خانوں اور جوا خانوں سے قریب رکھنے کے لئے یہ پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں؟۔۔۔۔
کیا واقعی؟؟؟؟؟؟؟ ان دھماکوں۔ اور تباہی میں ؟؟؟؟؟ طالبان ہی ہیں؟؟؟؟؟ یا طالبان کے نام پر؟؟؟؟؟؟؟؟ کوئی سفید کالا پانی حرکت میں ہے؟؟؟؟
جو یہ ‌چاہتا ہے کہ پاکستان کے لوگ عبادت خانوں سے دور اور شراب خانوں کے قریب رہیں؟؟؟؟؟؟؟؟
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (24-10-10), shafresha (24-10-10), فیصل ناصر (21-10-10), حسنین ایوب (04-11-10), عبداللہ آدم (21-10-10)
پرانا 21-10-10, 07:24 PM   #4
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اداس ساحل!

طالبان کا کام کفر اور کافروں کی تباہی ہے.....................جس کا کہ قرآن میں حکم ہے.............

آپ یہ بتائیں کہ اگر کوئی پاکستان پر قبضہ کر لے تو آپ اس کی تباہی کے کام کریں گے یا...............

اور کس کس چیز کی حفاظت فرمائیں گے یہ بھی بتا دیں.................

والسلام
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-10-10), شمشاد احمد (22-10-10)
پرانا 22-10-10, 02:25 PM   #5
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اور کس کس چیز کی حفاظت فرمائیں گے یہ بھی بتا دیں.................
قبضہ کرنے والوں کے مفادات کی۔۔۔۔ کیوں کہ اگر وہ نہ کیا تو قبضہ کرنے والے طالبان سمجھ کر دہشت گرد قرار دے دیں گے۔۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (24-10-10), shafresha (24-10-10), عبداللہ آدم (22-10-10)
پرانا 23-10-10, 10:55 AM   #6
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اداس ساحل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم!!!

عبداللہ آدم!!!

اپ نے جس تحریر کا حوالہ دیا ہے وہ "الامارا" کی ویب سائٹ سے لی گئی ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ نے اس بغیر پڑھے ہی پوسٹ کر دیا ہے۔ ایک طرف اس میں لکھا ہے کہ فوجوں کا انخلاء 2011 تک ممکن ہے ہور دوسرے ہی پیراگراف میں لکھا ہے "اس جنگ کو طول دیا جا رہا ہے"۔ جب کسی بات میں تضاد ہو تو وہ بات پائیدار نہیں رہتی ہے اس لیے ایسے ذرائع بھی محض کچھ داموں کے ادھر ادھر کی خبروں کو چھاپتے رہتے ہیں۔

اس مضمون کے مطابق طالبان نے سابقہ ماہ بہت سی عمارات کو نقصان پہنچایا اور کئی وزارتوں کو نیست و نابود کر دیا۔ آپ کو یہ نہیں لگتا کہ صرف تباہی ہی تباہی کے کارنامے ہیں۔ کیا آپ ایک واقعہ یا قصّہ بتا سکتے ہیں جہاں پر طالبان نے کسی چیز کی حفاظت کی ہو یا کوئی چیز تعمیر کی ہو؟؟؟


عبداللہ آدم طالبان صرف تباہی اور بربادی کرتے ہیں، تعمیر یا ترقیاتی کام نہیں۔


آپ کا کیا خیال ہے؟؟؟؟
ایک تو جو آپ نے تضاد بنا کر پیش کیا ہے وہ کوئی تضاد نہیں
2011 کی تاریخ بھی ان ہی لوگوں نے دی ہے اور دوسری طرف خفیہ و علانیہ طریقوں سے اپنے قیام کے طول کے لئے بھی وہی لوگ راہ ہموار کر رہے ہیں۔

اور یہ سوال تو بہت عجیب کیا ہے آپ نے کہ طالبان نے حفاظت کس کی کی ہے۔
اس وقت حکومت افغانستان بمع امریکی و حواری اور افغانستان سے باہر بیٹھنے امریکہ کے گن گانے والے، اس کے کارناموں کی تعریف و توصیف کرنے والے، سب کے سب طالبان کے خلاف برسر پیکار ہیں۔
ان کو شکست دینے اور پسپائی پر مجبور کرنے کے لئے وہ کچھ بھی تباہ کریں گے۔

اور حفاظت کی ہے انہوں نے خواتین کی عزت و ناموس کی، اسی لئے غیر مسلم بھی اسلام قبول کرتے اور طالبان کے گن گاتے ہیں۔
یاد رہے یہ حفاظت ہزاروں عمارتوں کی حفاظت بلکہ کعبہ کی عمارت سے بھی زیادہ اہم ہے۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (24-10-10), shafresha (24-10-10), فیصل ناصر (25-10-10), شمشاد احمد (25-10-10), عبداللہ آدم (24-10-10)
پرانا 24-10-10, 12:04 AM   #7
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اور ہم نے"پہلے پاکستان" کے نام پر پہلے افغآنستان بیچا..................

پھر اسی پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو بیچ دیا اور

پر قوم کی بیٹی کو بھی "قوم کے وسیع تر" مفاد میں بیچ دیا....................

اور کیا پایا؟؟؟؟؟؟؟؟؟/

خود کش حملے....................دھشت گردی...............کمر توڑ مہنگائی.................!!!

کیا خوب سودا نقد ہے اس ھات دے اس ھات لے
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
dxbgraphics (24-10-10)
پرانا 24-10-10, 12:06 AM   #8
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا
کیا خوب سودا نقد ہے ۔۔۔ شہر دے دیہات لے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (25-10-10)
پرانا 25-10-10, 02:39 PM   #9
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھے ذاتي طور پر ديہات يا شہر لينے‌دينے كا افسوس نہيں۔۔۔۔‌ديكھ يہ ہے‌كہ

قوموں كي تاريخ ميں وہ گھڑياں آہا ہي كرتي ہيں۔ ۔۔۔‌جب۔۔۔‌حالات انہيں موت كي اس پہاڑي كي طرف لے جاتے ہيں۔۔۔ جہاں اگے كھائي اور پيچھے كنواں ہوتا ہے۔۔۔۔بس فيصلہ قوم كے راہنماؤں كو يہ كرنا ہوتا ہے كہ۔۔۔ اس كي قوم نے كھائي ميں‌گر كر مرنا ہے يا كنوئيں ميں جان ديني ہے۔۔۔۔۔

كھائي سے زندہ بچ نكلنے‌كا امكان بہر حال ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اور كنوئيں سے نہيں۔۔ ليكن اگر كنوئيں سے‌زندہ نكل بھي آئے تو پھر دشمن كے سامنے ہي ہوں‌گے۔۔۔۔ عزت بھي گئي اور جان پھر گئي۔۔۔

ہمارے حكمرانوں نے پتھر كے‌دور ميں جانے سے ڈرتے ہوئے قوم كو كنوئيں كي موت اختيار كرنے پر مجبور كيا۔۔۔۔۔‌نتيجہ سامنے۔۔۔۔ ہم سسك سسك كر پتھر كے دور ميں‌جا رہے ہيں۔۔۔‌اور جب كنوئيں سے نكلنے كي كوشش كرتے ہيں۔۔۔ منڈھير پر دشمن كھڑا ہوتا ہے۔۔۔۔

طالبان نے كھائي ميں كود جانے كو ترجيح دي۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نتيجہ سامنے ہے۔۔۔۔۔۔ وہ بچ نكلنے ميں‌كامياب ہو گئے۔۔۔۔ جان بچي سو لاكھوں پائے كے مصداق آج ميدان ان كے ہاتھ ميں ہے۔۔۔۔۔۔
كل كا مؤرخ اگر غير جانبدار ہوا۔۔۔۔ اور يقينا ہر دور ميں ايسے غير جانبدار مؤرخ ہوتے ہيں۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ اسلامي كے قلعہ قرار دينے جانے والے ملك پاكستان كا كردار اور دہشت گرد قرار دينے جانے‌والے طالبان كا كردار كيا لكھے گا۔۔۔۔۔وہي كہے گا۔۔۔۔

طالبان نے اسامہ كو كافروں كے حوالے نہ كر كے۔۔۔۔‌اسي سنت رسول كو زندہ كيا۔۔۔ جو صلح حديبہ كا باعث بني۔۔۔۔۔ كہ حضور نے حضرت عثمان كو كافروں كے حوالے كرنے سے‌انكار كر ديا تھا۔۔۔۔ اور
ہم نے۔۔۔ تو خوف كے‌مارے اپني بيٹياں تك فروخت كر دي تھيں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قوميں۔۔۔۔ روٹي سے نہيں۔۔۔ غيرت سے‌زندہ رہتي ہيں۔۔۔۔۔اور ہماري آنے والي نسلوں كو كو اپنے آباؤ اجداد كو باغير ثابت كرنا بہت مشكل ہو جائے‌گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (25-10-10), حسنین ایوب (04-11-10), عبداللہ آدم (26-10-10)
پرانا 26-10-10, 03:12 PM   #10
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شمشاد بھائی::

غیرت تھی بڑی چیز جہان تگ و دو میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (26-10-10), شمشاد احمد (26-10-10)
پرانا 26-10-10, 07:42 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,516
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عبداللہ آدم بھائی اور شمشاد بھائی!!!


السلام علیکم!!!

آپ سب کے جواب کا بہت شکریہ

عبداللا بھائی آپ کے باتوں سے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ آپ دہشت گردی کی حمایت کر رہے ہیں اور آپ مہنگائی کی شکایت کر رہے ہیں۔ دیکھیے یہ تو آپ جانتے ہیں کہ دہشت گردی معاشیت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا ہوتی ہے اور یہ دہشت گردی ایک عام انسان نہیں کر سکتا ہے جو سارا دن دو روٹی کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے۔ اس کے پیچھے ایک منظم گروہ ہی ہو سکتا ہے اور وہ اس وقت "طالبان" ہیں۔ میں شمشاد بھائی کی طرح ہی ایک سوال کرناچانتا ہوں کہ "جہاد" لوگوں کے خلاف کیوں ؟؟؟ جہاد معاشرے کی برائیوں کو مٹانے کے لیے ہے، معاشرے میں رہنے والے لوگوں کے لیے نہیں ہے کیونکہ قتل و غارت اور خون ریزی جہاد نہیں ہے۔

ہم سب کو سب سے پہلے کم از کم اپنے دماغوں سے طالبان کو نکالنا ہو گا اور اس معاشرے میں اپنے آپ کو دہشت سے پاک کرنا ہوگآ۔

شکریہ
اداس ساحل آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-10-10, 08:04 PM   #12
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ساحل بھائي
پاكستان اور انڈيا كا تنازعہ مسئلہ كشمير پر برسوں سےچل رہاہے۔۔۔پاكستان اس كواپني شہ رگ قرارديتاہے تو انڈيا اس كو اپنا اٹوٹ انگ كہتاہے۔۔۔ دونوں ملكوں كے سياست دانوں اور فوج كي روزي روٹي اس سے‌چل رہي ہے۔۔۔ آپ نے سناہو گا كہ وقتا فوقتا دونوں ملكوں كو مسئلہ كشمير پر بات كرنے كي مروڑ اٹھتي ہے۔۔۔ چھ ماہ كي سفارتي سر گرميوں كے بعد سيكٹري سطح كي ميٹنگ ہوتي ہے جس ميں‌وزير خارجہ كي ميٹنگ كا شيڈول بنتا ہے۔۔ اس شيڈول بنانے پر يہ تواتفاق ہوتاہے كہ جي مسئلہ كشمير پر بات كريں‌گے۔۔۔ ليكن

انڈيا كہتاہے۔۔۔‌جناب ہم تو اس كشمير كي آزادي كي بات كر رہے ہيں جو آپ كے پاس ہے۔۔ آپ يہ بتائيں آپ وہ كب اور كس طرح ہميں ديں‌گے۔۔۔
پاكستان كہتا ہے۔۔۔۔۔۔ نہيں ہم تو اس كشمير پر ميٹنگ كے لئے آئے ہيں جو آپ كے قبضے ميں ہے۔

بھائي نہ تو اتنا وقت ہے اور نہ ہي اتني توانائي كے ہم اس طرح بات كو شروع كريں اور پھر نتيجہ پر جانے سے قبل ہي بات ختم ہو جائے۔۔۔۔

جہاد كيا ہے اور كيا نہيں۔؟ في الحال اس كو ايك طرف رہنے ديں ضرورت محسوس ہوئي تو اس پر بات كر ليں‌گے۔۔۔۔۔ في الحال تو آپ اور ہم مل كر يہ طے كر ليں كہ جناب ہم كون سے كشمير۔۔۔۔ يعني۔۔۔ طالبان كي بات كر رہے ہيں۔۔۔
پاكستان ميں طالبان كے نام پر جو كچھ ہو رہا ہے۔۔۔۔ يا افغانستان ميں جو كچھ ہو رہا ہے۔۔۔

ميں جو بات كر رہا ہوں۔۔۔ يا كرنا چاہتا ہوں۔۔۔‌وہ افغانستان كے طالبان كے حوالے سے ہے۔۔۔ پاكستان ميں كيا ڈارمے چل رہے ہيں۔ اس كا مجھے علم بھي نہيں جو ہے وہ بھي ميڈيا كي حد تك۔۔ اور ميڈيا كو ميں اتني آساني سے معتبر نہيں مانتا۔۔۔۔ كہ آنكھيں بند كر كے اس كي ہر بات پر يقين كر لوں۔۔۔
بہر حال آپ بتائيں آپ كا مسئلہ كشمير كون سا ہے؟؟؟؟؟
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (26-10-10), عبداللہ آدم (26-10-10)
پرانا 26-10-10, 11:01 PM   #13
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اداس ساحل مراسلہ دیکھیں
عبداللہ آدم بھائی اور شمشاد بھائی!!!


السلام علیکم!!!

آپ سب کے جواب کا بہت شکریہ

عبداللا بھائی آپ کے باتوں سے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ آپ دہشت گردی کی حمایت کر رہے ہیں اور آپ مہنگائی کی شکایت کر رہے ہیں۔ دیکھیے یہ تو آپ جانتے ہیں کہ دہشت گردی معاشیت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا ہوتی ہے اور یہ دہشت گردی ایک عام انسان نہیں کر سکتا ہے جو سارا دن دو روٹی کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے۔ اس کے پیچھے ایک منظم گروہ ہی ہو سکتا ہے اور وہ اس وقت "طالبان" ہیں۔ میں شمشاد بھائی کی طرح ہی ایک سوال کرناچانتا ہوں کہ "جہاد" لوگوں کے خلاف کیوں ؟؟؟ جہاد معاشرے کی برائیوں کو مٹانے کے لیے ہے، معاشرے میں رہنے والے لوگوں کے لیے نہیں ہے کیونکہ قتل و غارت اور خون ریزی جہاد نہیں ہے۔

ہم سب کو سب سے پہلے کم از کم اپنے دماغوں سے طالبان کو نکالنا ہو گا اور اس معاشرے میں اپنے آپ کو دہشت سے پاک کرنا ہوگآ۔

شکریہ
................................................
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (27-10-10)
پرانا 27-10-10, 12:00 AM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,516
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
ساحل بھائي
پاكستان اور انڈيا كا تنازعہ مسئلہ كشمير پر برسوں سےچل رہاہے۔۔۔پاكستان اس كواپني شہ رگ قرارديتاہے تو انڈيا اس كو اپنا اٹوٹ انگ كہتاہے۔۔۔ دونوں ملكوں كے سياست دانوں اور فوج كي روزي روٹي اس سے‌چل رہي ہے۔۔۔ آپ نے سناہو گا كہ وقتا فوقتا دونوں ملكوں كو مسئلہ كشمير پر بات كرنے كي مروڑ اٹھتي ہے۔۔۔ چھ ماہ كي سفارتي سر گرميوں كے بعد سيكٹري سطح كي ميٹنگ ہوتي ہے جس ميں‌وزير خارجہ كي ميٹنگ كا شيڈول بنتا ہے۔۔ اس شيڈول بنانے پر يہ تواتفاق ہوتاہے كہ جي مسئلہ كشمير پر بات كريں‌گے۔۔۔ ليكن

انڈيا كہتاہے۔۔۔‌جناب ہم تو اس كشمير كي آزادي كي بات كر رہے ہيں جو آپ كے پاس ہے۔۔ آپ يہ بتائيں آپ وہ كب اور كس طرح ہميں ديں‌گے۔۔۔
پاكستان كہتا ہے۔۔۔۔۔۔ نہيں ہم تو اس كشمير پر ميٹنگ كے لئے آئے ہيں جو آپ كے قبضے ميں ہے۔

بھائي نہ تو اتنا وقت ہے اور نہ ہي اتني توانائي كے ہم اس طرح بات كو شروع كريں اور پھر نتيجہ پر جانے سے قبل ہي بات ختم ہو جائے۔۔۔۔

جہاد كيا ہے اور كيا نہيں۔؟ في الحال اس كو ايك طرف رہنے ديں ضرورت محسوس ہوئي تو اس پر بات كر ليں‌گے۔۔۔۔۔ في الحال تو آپ اور ہم مل كر يہ طے كر ليں كہ جناب ہم كون سے كشمير۔۔۔۔ يعني۔۔۔ طالبان كي بات كر رہے ہيں۔۔۔
پاكستان ميں طالبان كے نام پر جو كچھ ہو رہا ہے۔۔۔۔ يا افغانستان ميں جو كچھ ہو رہا ہے۔۔۔

ميں جو بات كر رہا ہوں۔۔۔ يا كرنا چاہتا ہوں۔۔۔‌وہ افغانستان كے طالبان كے حوالے سے ہے۔۔۔ پاكستان ميں كيا ڈارمے چل رہے ہيں۔ اس كا مجھے علم بھي نہيں جو ہے وہ بھي ميڈيا كي حد تك۔۔ اور ميڈيا كو ميں اتني آساني سے معتبر نہيں مانتا۔۔۔۔ كہ آنكھيں بند كر كے اس كي ہر بات پر يقين كر لوں۔۔۔
بہر حال آپ بتائيں آپ كا مسئلہ كشمير كون سا ہے؟؟؟؟؟

السلام علیکم!!!

شکریہ آپ کے جواب کا۔

میں ضرور اس عنوان پر آپ سے بات کروں گا اور آپ مجھے ضرور بتائیے کہ کیا آپ مجھ سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر ہم دونوں کا مقصد ہے "حل" تو شاید انفرادی طور پر کم از کم ہم اپنا کردار تو ادا کر سکتے ہیں۔

اب آئیے اصل عنوان کی جانب۔

آپ کا سوال کہ میں افغانی طالبان کا حوالہ دے رہا ہوں یا پاکستان طالبان کا تو--------

آپ نے ریاضی میں" آرڈر آف آپریشن" ضرور پڑھی ہوں گی جس میں ایک کومن انٹیجر کو بریکٹ کے اندر حل کیا جاتا ہے۔

ہمارا کومن انٹیجر "طالبان" ہے جو بریکٹ کے اندر ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دوسری تنظیموں کے ساتھ جمع، تفریق، تقسیم اور ضرب کھاتا ہے۔

اصل مسئلہ موقف کا نہیں، مسئلہ موقف کے ذرائع ہیں۔ آپ اپنے چھوٹے بھائی یا بچے کو زبر دستی کوئی بات منواء کر دیکھ لیں۔ تو پھر جس اسلام کو طالبان (چاہے افغان یا پاکستان یا جنتان) زبر دستی پھیلاء رہے رہیں چاہے وہ کتنا ٹھیک ہے، کیا آپ کو منظور ہے؟؟؟

اگر آپ ادھر تک مجھ سے متفق ہیں تھ پھر بتائیے ، آگے چلتے ہیں۔


۔
اداس ساحل آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-10-10, 12:36 AM   #15
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اداس ساحل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم!!!

شکریہ آپ کے جواب کا۔

میں ضرور اس عنوان پر آپ سے بات کروں گا اور آپ مجھے ضرور بتائیے کہ کیا آپ مجھ سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر ہم دونوں کا مقصد ہے "حل" تو شاید انفرادی طور پر کم از کم ہم اپنا کردار تو ادا کر سکتے ہیں۔

اب آئیے اصل عنوان کی جانب۔

آپ کا سوال کہ میں افغانی طالبان کا حوالہ دے رہا ہوں یا پاکستان طالبان کا تو--------

آپ نے ریاضی میں" آرڈر آف آپریشن" ضرور پڑھی ہوں گی جس میں ایک کومن انٹیجر کو بریکٹ کے اندر حل کیا جاتا ہے۔

ہمارا کومن انٹیجر "طالبان" ہے جو بریکٹ کے اندر ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دوسری تنظیموں کے ساتھ جمع، تفریق، تقسیم اور ضرب کھاتا ہے۔

اصل مسئلہ موقف کا نہیں، مسئلہ موقف کے ذرائع ہیں۔ آپ اپنے چھوٹے بھائی یا بچے کو زبر دستی کوئی بات منواء کر دیکھ لیں۔ تو پھر جس اسلام کو طالبان (چاہے افغان یا پاکستان یا جنتان) زبر دستی پھیلاء رہے رہیں چاہے وہ کتنا ٹھیک ہے، کیا آپ کو منظور ہے؟؟؟

اگر آپ ادھر تک مجھ سے متفق ہیں تھ پھر بتائیے ، آگے چلتے ہیں۔
۔
پہلی بات یہ موجودہ حالات کی ذمہ داری صرف طالبان، القاعدہ اور ان کے ساتھ جمع تفریق، ضرب کھاتی تنظیموں پر ہی عائد نہیں ہوتی۔۔۔ اس کے عاصر اور بھی بہت سے ممالک جمع تفریق شامل ہے۔۔

دوسری بات ‏آپ نے زبر دستی کی ۔۔۔ تو جناب میں بھی زبردستی کا قائل نہیں۔۔ ‌چاہے وہ کسی کی بھی ہو۔۔۔۔۔ اگر زبر دستی سے اسلام کا نفاذ نہیں ہو سکا دس سال تک دنیا بھر کی بوجیں جمع کر کے۔ ہر قسم کا گولہ بارود استعمال کر کے بھی تو امن قائم ‏آپ نہیں کروا سکے۔۔۔۔۔

دس سال قبل افغانی طالبان کہ رہے تھے مسئلہ مذاکرات سے حل کرو۔۔۔۔ لیکن ہمارا مائی باپ اکڑا ہوا تھا۔۔۔۔ اس لئے ہم بھی کمر ٹھونک کر کھڑے تھے۔۔۔۔ لیکن اب مائی باپ کی ‌چولیں ڈھلی ہو گئی ہیں۔۔۔ تو ہوا ہماری بھی نکل ‌چکی ہے۔۔

لہذا میں کہوں گا۔۔۔ کہ ہمارا موضوع بحث متعین نہیں ہوا۔۔۔۔ کیوں کہ اس ریاضی کی جمع تقسیم میں صرف طالبان القاعدہ جمع تفریق ہوتی ان کی تنظمین ہی شامل نہیں بلکہ اور بھی بہت کچھ اس میں شامل ہے۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (27-10-10), عبداللہ آدم (27-10-10)
جواب

Tags
کارڈ, قدم, نفرت, نظر, موجودہ, مقابلہ, اقوام متحدہ, انتظامیہ, امریکہ, احتجاج, اسلامی, اعلیٰ, خون, خبر, طالبان, عوامی, علیحدہ, علاج, عنصر, عدم, عرصہ, عسکری, صوبوں, صدارتی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
عسکریت پسند لینے کیلئے پاکستان کو بھاری دی اور ڈرون حملے کرائے:بش جاویداسد خبریں 1 10-11-10 09:13 PM
چین کی عسکری تیاری پر پینٹا گون کو تشویش لاحق جاویداسد خبریں 0 24-09-10 06:55 PM
ہماری قبائلی روایات اور عسکری حکمت عملی ھارون اعظم پاکستان میں دہشت گردی 23 16-03-10 10:46 PM
یہودی مدارس میں عسکریت کی تعلیم sahj عمومی بحث 1 07-03-10 10:29 AM
خوش آمدید حسن عسکری محمدعدنان تعارف 3 01-07-07 06:48 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:59 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger