| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 659
|
||||
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (26-09-09) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا
انسانی حقوق انصاف برابری حق خود ارادیت خود مختاری کا احترام اور اس طرح کی دیگر بنیادی اقدار کی پاسداری سے امن عالم کی امید رکھی جا سکتی ہے؟ یا اس کے لئے کچھ دیگر اقدامات کی ضرورت ہے؟؟ |
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (20-09-09) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آہ ! بھائی کچھ دیر قبل سے ہی میرے ذہن میں بھی ایسے ہی بلبلے اٹھ رہے ہیں جیس سے ملتا جلتا آپ نے سوال کیا۔ امن، ترقی، خود مختاری، صلاحیت، اعتماد، محبت، خلوص کہاں کیسے اور کب لایا جا سکتا ہے۔
آپکا سوال عالمی حالات کے تناظر میں تھا جو کہ اچھے مسلمان کی سوچ ہوتی ہے کہ وہ علاقائیت سے بڑھ کر سوچتا ہے ۔ لیکن میری پریشانی پاکستان کی حد تک تھی۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (26-09-09), راجہ اکرام (19-09-09) |
|
|
#4 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اصول ہے کہ Think Globally and Act Locally ، اس لئے جب بھی سوچنے کا عمل ہو تو سوچ کا دائرہ ذرا وسیع ہونا چاہیے۔ لیکن جب سوچ سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے عملی میدان میں قدم رکھیں گے تو پھر آپ کی جانب واپس آنا پڑے گا یعنی پہلے اپنے معاشرے، اور وطن کی بہتری کے لئے اقدامات۔ لیکن اس کی کیا حکمت عملی ہونی چاہیے اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔ لیکن اس سے پہلے ایک بات جو میرے ذہن میں آرہی ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں انسانی حقوق، خودمختاری، پر امن بقائے باہمی، آزادی فکر و اظہار۔۔۔ علی ہذا القیاس،۔۔۔ ان تمام اصطلاحات کے مفاہیم ہمیں خود وضع کرنے ہوں گے۔ ہماری تعلیمات اور اقدار، ہماری رسوم و روایات کا عکس ان میں نظر آنا چاہیے، مادر پدر آزادی کی فضا میں طے کی گئی حدود و قیود ہمارے لئے سم قاتل تو ہو سکتی ہیں لیکن تریاق اور مداوائے غم نہیں۔ اس بارے میں مزید آپ کی آراء کا انتظار رہے گا۔ |
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (20-09-09) |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
چلیں ٹھیک ہے میں آپکے ٹاپک کو خراب نہیں کرتا
![]() آپکا مو ضوع بہت پیچیدہ اور سنجیدہ ہے۔ خؤف ہے کم ہی لوگ اس میں دلچسپی لیں گے۔ خود میں نے کبھی اس موضؤع پر کبھی نہیں سوچا۔ میری سوچ کا دائرہ پاکستان کے اندر تک محدود ہے۔ امن عالم جس کا خواب آپ دیکھ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ کئی وجوہات کی بنا پر نا ممکن ہے۔ اس لیے اگر اُن وجوہات کو تلاش کر لیا جائے کہ کن وجوہات کی بنا پر یہ عالمی امن تباہ ہوتا ہے اور پھر ان وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے اصول مرتب کئیے جائیں تو ہی کامیابی ہو گی۔ جب تک مسئلہ کی جڑ کو نہ پکڑا جائے گا تب تک ہر قانون، ہر اصول، ہر سوچ ناکامی کا شکار ہوتی رہے گی۔ اس لیے امن عالم کے قائم کرنے میں پہلا قدم امن عالم کے تباہ ہونے کی اصل وجوہات کو تلاش کرنا (ProActiveہونا) دوسرا قدم ان وجوہات کی گروپ بندی کرنا تاکہ بڑے بڑے ایشوز کو ڈسکس کرتے ہوئے چھوٹے مسائل (Be Brave) تیسرا قدم ان وجوہات کو حل کرنے کے لیے لائحہ عمل تشکیل دینا، اصول بنانا، قوانین ترتیب دینا وغیرہ چوتھا قدم اپنا پرو ایکٹو پریشر گروپ تشکیل کرنا جو ہر وقت ہر کسی کے ساتھ کام کرنے اور مسائل پیدا کرنے کے بجائے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے یعنی نیک انسانوں کی تلاش اور انکو Motivateکرنا (اجتماعیت) پانچواں قدم کوشش کوشش کوشش (آری تیز کرنا) |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (20-09-09), راجہ اکرام (19-09-09) |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرے نزدیک کسی بھی دنیاوی معاملہ میں سب سے اہم کردار "انسان" کو ہوتا ہے۔ ہم سبھی انسانوں کو '"آچھا" یا نیک نہیں کر سکتے۔ یہ نا ممکن ہے۔ اس لیے ہم کو ایسے نیک انسانوں کی تلاش کرنی چاہیے جن میں عمل کا حوصلہ ، تبدیلی کا جذبی اور خدائی وجدان ہو۔ جنکو مصیبتوں کا خوف نہ ہو اور جو اللہ کو ہی اپنا آسرا سمجھتے ہوں۔ اگر ایسے متحد الخیال، لگن رکھنے والے اور اسی کو اپنا مقصد حیات سمجھنے والے چند ہزار افراد بھی میسر آ جائیں تو امن کا خواب کوئی نا ممکن بات نہیں۔ اس لیے سب سے اہم فیکٹر "انسان" خود ہے
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (20-09-09) |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بدر بھائی آپ نے بجا فرمایا
اس طرح کے موضوع میں بہت کم لوگ دلچسپی لیتے ہیں لیکن آپ نے اس کے خراب ہونے کا بہانا نہیں بنانا۔ کیوں کہ آپ کے بغیر بات اگے نہیں بڑھے گی۔ جہاں تک آپ کی سوچ کا تعلق ہے کہ آپ صرف پاکستان کے بارے میں سوچتے ہیں۔ تو اس سے فرق نہیں پڑتا کیوں کہ پاکستان میں بھی مسائل کے صورتحال تقریبا ویسی ہی ہے ، اس لئے آپ پاکستان کی بہتری کے لئے جو سوچتے ہیں اسے ذکر کریں، اس سے ہی رہنمائی ملے گی بات کو آگے بڑھانے کے لئے۔ اس لئے کنی مت کترائیں۔ اور میدان میں آئیں
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (20-09-09) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی سوچنا پڑے گا ۔ میں نے بتایا نا کہ کبھی سوچا ہی نہیں تھا اس موضوع پر بلکہ ان تمام موضوعات پر جن پر آج کل آپ مختلف تھریڈز پر گفتگو کر رہے ہیں۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (26-09-09), راجہ اکرام (24-09-09) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
بہت ہی عمدہ موضوع ہے۔
"انسانی حقوق، خودمختاری، پر امن بقائے باہمی، آزادی فکر و اظہار۔۔۔ علی ہذا القیاس،۔۔۔ ان تمام اصطلاحات کے مفاہیم ہمیں خود وضع کرنے ہوں گے"
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (24-09-09) |
|
|
#10 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
السلام علیکم عید مبارک میں تو دعوت فکر ہی دیتا ہوں، کیوں کہ میں نہ تو اہل قلم میں سے ہوں اور نہ ہی اہل فکر و دانش میں سے۔آپ جیسے احباب ان موضوعات پر سوچیں گے تو بات آگے بڑھے گی۔ ضرور سوچیئے اور ہمارے علم میں اضافہ کیجئے |
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (26-09-09) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اتنے بڑے موضوع پر بولنا بہت مشکل ہوگا۔۔۔
ہم تو فی الحا ل اس کوشش میں ہو تے ہیں کہ اپنے گھر میں امن قائم رہے۔۔۔ راجہ ۔۔۔ صاحب دنیا کے امن کی با ت کرتے ہیں،، بحث برائے بحث کیلئے بہت سے دلا ئل دیے جا سکتے ہیں بہت سے نکتے بتا ئے جا سکتے ہیں ۔۔۔ مگر امن قائم کرنے کی یہ خواہش ۔۔۔کی تو جا سکتی ہے۔۔۔ مگر بظاہر اسکے پورا ہونے کا امکان نہیں بڑے کھلاڑی اپنا کھیل ترتیب دے چکے ہیں ۔۔۔۔ اور اب کے بار میدان جنگ شا ید یہی پاکستان ، افغانستان، ایران ہی ہو۔۔۔۔ یہودیوں کی کچھ مذہبی کتابیں ۔۔۔ انکی بربادی کی ابتدا ۔۔۔۔ یہی تین ممالک یا ان سے منسلکہ کچھ علاقے ۔۔۔ کو بتاتی۔۔ہیں۔۔ سو یہودی ۔۔۔ خدا سے ۔۔ مقابلہ کرتے آئے ہیں۔۔۔ شا ید اب بھی کریں۔۔ وہ سمجھتے ہیں وہ اسلام تحریکوں کو کچل کر ۔۔۔ اپنا راستہ صاف کررہے ہیں ۔۔ مگر اصل میں ۔۔۔ وہ ان تحریکوں کو اور ابھار رہے ہیں۔۔ وہ کیا شعر ہے۔۔۔ اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے رہا امن عالم ۔۔۔ تو بھائی اصول واضح ہیں۔۔۔ صدیوں پہلے قران نے دیے۔۔۔تھے۔۔ انہی کو پکڑ لو۔۔۔ قران تو انسانوں اور جنوں کو مخاطب کرتا ہے۔۔ صر ف مسلمانوں کو نہیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب جو اس کے اصول لے لے ۔۔۔ اور قا بو کر لے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عدل وانصاف پہلا اصول ۔۔ ہے۔۔۔۔۔۔۔ صرف ایک اصول ہی پوری دنیا لاگو کر لے۔۔۔ دنیا میں امن قائم ہو جا ئے۔۔۔گا۔۔۔ کیونکہ جب انصاف کی بات ہوگی توسب سی باتوں ، اصولوں پر عمل کرنا پڑے گا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (26-09-09), راجہ اکرام (24-09-09) |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
![]() آپ کی کہی ہوئی بات پر کچھ حوالہ جات فراہم کررہا ہوںکہ قرآن یہ اصول 1400 سال پیشتر فراہم کرچکا ہے اور اگر لوگ بھول گئے ہوںتو اسلام یعنی سلامتی یعنی دنیا بھر کے امن کا دعویدار بھی صرف اسلام ہے۔ انسانی حقوق و مساوات کے بارے میں دیکھتے ہیں کہ قرآن کیا کہتا ہے۔ پیدایشی مساوی عزت و اکرام آدم کی اولاد کے لیے 17:70 اور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی اور ان کی خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو ستھری چیزیں روزی دیں اور ان کو اپنی بہت مخلوق سے افضل کیا صنفی (مرد و عورت کی) معاشی و معاشرتی مساوات 4:32 اور تم اس چیز کی تمنا نہ کیا کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، مردوں کے لئے اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا، اور عورتوں کے لئے اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا، اور اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو، بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے 33:35 بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، اور مومن مَرد اور مومن عورتیں، اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، اور صدق والے مرد اور صدق والی عورتیں، اور صبر والے مرد اور صبر والی عورتیں، اور عاجزی والے مرد اور عاجزی والی عورتیں، اور صدقہ و خیرات کرنے والے مرد اور صدقہ و خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں، اللہ نے اِن سب کے لئے بخشِش اور عظیم اجر تیار فرما رکھا ہے بہتر کردار ہی بہتر ہونے کی نشانی نہ کہ پیدایشی بادشاہت؟ 49:13 اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بیشک اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے 46:19 اور ہر ایک کے لیے ہیں درجے ان کے اعمال کے مطابق اور ضرور پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ان کے اعمال کا اور ان پر ہرگز ظلم نہ کیا جائے گا۔ قانون کی بالادستی نہ کہ فرد واحد کی بالا دستی 3:79 نہیں زیب دیتا کسی انسان کو، جسے دی ہو اللہ نے کتاب و حکمت اور نبوّت، پھر وہ کہے لوگوں سے کہ بن جاؤ تم میرے بندے اللہ کو چھوڑ کر بلکہ (وہ تو یہی کہے گا) کہ بن جاؤ تم اللہ والے کیونکہ تم تعلیم دیتے ہو کتابِ الہٰی کی اور اس بنا پر بھی کہ تم پڑھتے ہو خود بھی (اللہ کی کتاب) عدلیہ 7:181 اور ہماری ہی مخلُوق میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہے۔ جو ہدایت کرتے ہیں (ٹھیک ٹھیک) حق کے مطابق اور اُسی کے مطابق انصاف کرتے ہیں۔ مقننہ 3:104 اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں 9:71 اور اہلِ ایمان مرد اور اہلِ ایمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں۔ وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت بجا لاتے ہیں، ان ہی لوگوں پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا، بیشک اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے کام کا معاوضہ 53:39 اور یہ کہ نہیں ملتا انسان کو مگر وہی کچھ جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ 43:32 کیا وہ تقسیم کرتے ہیں تیرے رب کی رحمت؟ جبکہ ہم نے ہی تقسیم کی ہے ان کے درمیان ان کی روزی دنیاوی زندگی میں اور بلند کیے ہیں ان میں سے بعض کے بعض پر درجے تا کہ بنائیں ان میں سے بعض، بعض کو اپنا خدمت گار۔ اور تیرے رب کی رحمت (نبوت) کہیں بہتر ہے اس (مال و دولت) سے جو یہ جمع کرتے ہیں۔ بنیادی ضروریات کی فراہمی 20:118 یقینا تمہیں یہ آسائش حاصل ہے کہ نہ بھوکے رہتے ہو تم یہاں اور نہ ننگے رہتے ہو۔ معاہدہ کی پابندی 23:8 اور اپنے عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں۔ زندگی کی حفاظت سی وجہ سے فرض کردیا ہم نے نبی اسرائیل پر کہ جس نے قتل کیا کسی انسان کو بغیر اس کے کہ اس نے کسی کی جان لی ہو یا فساد مچایا ہو زمین میں تو گویا اس نے قتل کر ڈالا سب انسانوں کو اور جس نے زندگی بخشی ایک انسان کو تو گویا اس نے زندہ کیا سب انسانوں کو۔ اور بے شک آچُکے ہیں اُن کے پاس ہمارے رسول واضح احکام لے کر پھر بھی یقیناً بہت سے لوگ ان میں سے اس کے بعد بھی زمین میں زیادتیاں کرتے رہے۔ آزادی 2:256 دین میں کوئی زبردستی نہیں، بیشک ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہو چکی ہے، سو جو کوئی معبودانِ باطلہ کا انکار کر دے اور اﷲ پر ایمان لے آئے تو اس نے ایک ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جس کے لئے ٹوٹنا (ممکن) نہیں، اور اﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے 24:33 اور ایسے لوگوں کو پاک دامنی اختیار کرنا چاہئے جو نکاح (کی استطاعت) نہیں پاتے یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی فرما دے، اور تمہارے زیردست (غلاموں اور باندیوں) میں سے جو پروانہ آزادی کو خواہش کریں تو انہیں پروانہ آزادی لکھ کردے دو اگر تم اس میں موجود بھلائی(کے بارے میں) جانتے ہو، اور تم (خود بھی) انہیں اللہ کے مال میں سے (آزاد ہونے کے لئے) دے (کر رخصت) کرو، (وہ مال) جو اس نے تمہیں عطا فرمایا ہے، اور تم اپنی باندیوں کو دنیوی زندگی کا فائدہ حاصل کرنے کے لئے کریہہ بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاک دامن رہنا چاہتی ہیں، اور جو شخص انہیں (باندیوں کو) اس کریہہ بدکاری پر مجبور کرے گا تو اللہ ان (باندیوں) کے مجبور ہو جانے کی وجہ سے (ان کو) بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ مذہب کی آزادی 49:11 اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہے وہ لوگ اُن (تمسخر کرنے والوں) سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں ہی دوسری عورتوں کا (مذاق اڑائیں) ممکن ہے وہی عورتیں اُن (مذاق اڑانے والی عورتوں) سے بہتر ہوں، اور نہ آپس میں طعنہ زنی اور الزام تراشی کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کے برے نام رکھا کرو، کسی کے ایمان (لانے) کے بعد اسے فاسق و بدکردار کہنا بہت ہی برا نام ہے، اور جس نے توبہ نہیں کی سو وہی لوگ ظالم ہیں 18:29 اور فرما دیجئے کہ (یہ) حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے انکار کردے، بیشک ہم نے ظالموں کے لئے (دوزخ کی) آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی، اور اگر وہ (پیاس اور تکلیف کے باعث) فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو ان کے چہروں کو بھون دے گا، کتنا برا مشروب ہے، اور کتنی بری آرام گاہ ہے سچ کے اظہار کی آزادی 2:42 اور حق کی آمیزش باطل کے ساتھ نہ کرو اور نہ ہی حق کو جان بوجھ کر چھپاؤ 3:71 اے اہلِ کتاب! کیوں گڈ مڈ کرتے ہو تم حق کو باطل کے ساتھ اور (کیوں) چھپاتے ہو حق کو جبکہ تم جانتے ہو (کہ حق کیا ہے)؟۔ ازاواج کے انتخاب کی آزادی ے لوگو! جو ایمان لائے ہو، نہیں ہے جائز تمہارے لیے کہ میراث بنا لو تم عورتوں کو زبردستی۔ اور نہ دباؤ ڈالو اُن پر اس غرض سے کہ ہڑپ کر جاؤ تم کچھ حصّہ اس کا جو دیا ہے تم نے ہی اُنہیں (بصورتِ مہر و میراث) الاّیہ کہ وہ ارتکاب کریں صریح بدکاری کا اور برتاؤ کرو عورتوں کے ساتھ اچھّا۔ پھر اگر ناپسند ہوں وہ تم کو تو عجب نہیں کہ ناپسند کرو تم ایک چیز کو اور رکھی ہو اللہ نے اس میں خیرِ کثیر۔ 4:3 اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں، دو دو اور تین تین اور چار چار (مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے)، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم (زائد بیویوں میں) عدل نہیں کر سکو گے تو صرف ایک ہی عورت سے (نکاح کرو) یا وہ کنیزیں جو (شرعاً) تمہاری ملکیت میں آئی ہوں، یہ بات اس سے قریب تر ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو ظلم کا اعلان 4:148 اﷲ کسی (کی) بری بات کا بآوازِ بلند (ظاہراً و علانیۃً) کہنا پسند نہیں فرماتا سوائے اس کے جس پر ظلم ہوا ہو (اسے ظالم کا ظلم آشکار کرنے کی اجازت ہے)، اور اﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے ذاتی حقوق 33:53 اے ایمان والو! نبیِ (مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو سوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کے لئے اجازت دی جائے (پھر وقت سے پہلے پہنچ کر) کھانا پکنے کا انتظار کرنے والے نہ بنا کرو، ہاں جب) تم بلائے جاؤ تو (اس وقت) اندر آیا کرو پھر جب کھانا کھا چکو تو (وہاں سے اُٹھ کر) فوراً منتشر ہوجایا کرو اور وہاں باتوں میں دل لگا کر بیٹھے رہنے والے نہ بنو۔ یقیناً تمہارا ایسے (دیر تک بیٹھے) رہنا نبیِ (اکرم) کو تکلیف دیتا ہے اور وہ تم سے (اُٹھ جانے کا کہتے ہوئے) شرماتے ہیں اور اللہ حق (بات کہنے) سے نہیں شرماتا، اور جب تم اُن (اَزواجِ مطّہرات) سے کوئی سامان مانگو تو اُن سے پسِ پردہ پوچھا کرو، یہ (ادب) تمہارے دلوں کے لئے اور ان کے دلوں کے لئے بڑی طہارت کا سبب ہے، اور تمہارے لئے (ہرگز جائز) نہیں کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ (جائز) ہے کہ تم اُن کے بعد ابَد تک اُن کی اَزواجِ (مطّہرات) سے نکاح کرو، بیشک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا (گناہ) ہے 24:27 اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، یہاں تک کہ تم ان سے اجازت لے لو اور ان کے رہنے والوں کو (داخل ہوتے ہی) سلام کہا کرو، یہ تمہارے لئے بہتر (نصیحت) ہے تاکہ تم (اس کی حکمتوں میں) غور و فکر کرو بزرگوں اور محتاجوں سے بھلائی 4:36 اور تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں (سے) اور نزدیکی ہمسائے اور اجنبی پڑوسی اور ہم مجلس اور مسافر (سے)، اور جن کے تم مالک ہو چکے ہو، (ان سے نیکی کیا کرو)، بیشک اللہ اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو تکبرّ کرنے والا (مغرور) فخر کرنے والا (خود بین) ہو معصوم ہے، جب تک جرم تحقیق سے ثابت نہ ہو 49:6 اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق (شخص) کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کر لیا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تم کسی قوم کو لاعلمی میں (ناحق) تکلیف پہنچا بیٹھو، پھر تم اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ ان سارے حقوق سے ایک ا ُمی نے دنیا کو متعارف کرایا، جو ایک چھوٹے سے شہر میں ایک ریگستان میں رہتا تھا، عقل حیران ہے کہ بنا رسالت اور بنا ایک لامنتاہی الوہی عقل و فراست کے اس قدر انصاف کس طور پر ممکن ہے؟ باقی دنیا کو یہی کچھ سیکھنے کے لیئے آج بھی 1400 سال مزید چاہئیے ہیں۔ یہ و نظام ہے جو تمام نظاموں پر غالب آکر رہے گا۔ جاری ہے۔۔۔۔۔ والسلام |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | ڈاکٹرنور (26-09-09), راجہ اکرام (26-09-09) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
عموماً قرآن کو عبادات اور فرائض کا سرچشمہ جاتا ہے۔ جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ قرآن ایک انسانی حقوق ، انصاف اور بھائی چارہ کا ایک عظیم علمبردار ہے۔ قرآن ایک بہت بڑی نشانی اور گواہی ہے کہ اس کا لکھنے والا (اللہ تعالی) ایک لا متناہی دانش و حکمت کا حامل ہے۔ ورنہ اس کے سنہری اصول آج تک ساری دنیا کے لئے مشعل راہ نہ ہوتے۔ آئیے مزید دیکھتے ہیں۔
غلامی سے آزادی کا پر حکمت اعلان: 24:33 اور ایسے لوگوں کو پاک دامنی اختیار کرنا چاہئے جو نکاح (کی استطاعت) نہیں پاتے یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی فرما دے، اور تمہارے زیردست (غلاموں اور باندیوں) میں سے جو پروانہ آزادی چاہیں تو انہیں پروانہ آزادی دے کرآزاد کر دو اگر تم ان میں بھلائی جانتے ہو، اور تم (خود بھی) انہیں اللہ کے مال میں سے (آزاد ہونے کے لئے) دے دو جو اس نے تمہیں عطا فرمایا ہے، اور تم اپنی باندیوں کو دنیوی زندگی کا فائدہ حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاک دامن رہنا چاہتی ہیں، اور جو شخص انہیں مجبور کرے گا تو اللہ ان کے مجبور ہو جانے کے بعد (بھی) بڑا بخشنے والا مہربان ہے اپنے عہد پورے کرو 23:8 اور جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے وعدوں کی پاسداری کرنے والے ہیں زبان اور رنگ کی مساوات 30:22 اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق (بھی) ہے اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف (بھی) ہے، بیشک اس میں اہلِ علم (و تحقیق) کے لئے نشانیاں ہیں بنا نفرت انصاف 5:8 اے ایمان والو! اﷲ کے لئے مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے انصاف پر مبنی گواہی دینے والے ہو جاؤ اور کسی قوم کی سخت دشمنی (بھی) تمہیں اس بات پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم (اس سے) عدل نہ کرو۔ عدل کیا کرو (کہ) وہ پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے، اور اﷲ سے ڈرا کرو، بیشک اﷲ تمہارے کاموں سے خوب آگاہ ہے مذہب کی آزادی 22:40 (یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اﷲ ہے (یعنی انہوں نے باطل کی فرمانروائی تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا)، اور اگر اﷲ انسانی طبقات میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ (جہاد و انقلابی جد و جہد کی صورت میں) ہٹاتا نہ رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں (یعنی تمام ادیان کے مذہبی مراکز اور عبادت گاہیں) مسمار اور ویران کر دی جاتیں جن میں کثرت سے اﷲ کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے، اور جو شخص اﷲ (کے دین) کی مدد کرتا ہے یقیناً اﷲ اس کی مدد فرماتا ہے۔ بیشک اﷲ ضرور (بڑی) قوت والا (سب پر) غالب ہے (گویا حق اور باطل کے تضاد و تصادم کے انقلابی عمل سے ہی حق کی بقا ممکن ہے) سرحدوں کی حفاظت اور (اے مسلمانو!) ان کے (مقابلے کے) لئے تم سے جس قدر ہو سکے (ہتھیاروں اور آلاتِ جنگ کی) قوت مہیا کر رکھو اور رباط الخيل ترھبون (سوچ کے تانے بانے سے بھی بڑھ کر ڈرانے والی) اس (دفاعی تیاری) سے تم اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو ڈراتے رہو اور ان کے سوا دوسروں کو بھی جن (کی چھپی دشمنی) کو تم نہیں جانتے، اللہ انہیں جانتا ہے، اور تم جو کچھ (بھی) اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تمہیں اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور تم سے ناانصافی نہ کی جائے گی بد عہد قوموں سے عہد توڑ دینے کا حکم 8:58 اور اگر آپ کو کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو ان کا عہد ان کی طرف برابری کی بنیاد پر پھینک دیں۔ بیشک اللہ دغابازوں کو پسند نہیں کرتا دولت کا پھیلاؤ 59:7 جو کچھ پلٹا دے اللہ اپنے رسول کی طرف بستیوں کے لوگوں سے سو وہ ہے اللہ کا اور اس کے رسول کا اور رسول کے رشتہ داروں کا اور ہے یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے تاکہ نہ کرتا رہے وہ گردش تمھارے مالداروں کے درمیان ہی اور جو کچھ دے تمھیں رسول سو اسے لے لو اور جس سے روک دے تم کو رسول، پس رک جاؤ (اس سے)۔ اور ڈرو اللہ سے۔ بلاشبہ اللہ بہت سخت ہے سزا دینے میں۔ زندگی ، آزادی ، ملکیت کی حفاظت زندگی: 5:32 اسی وجہ سے فرض کردیا ہم نے نبی اسرائیل پر کہ جس نے قتل کیا کسی انسان کو بغیر اس کے کہ اس نے کسی کی جان لی ہو یا فساد مچایا ہو زمین میں تو گویا اس نے قتل کر ڈالا سب انسانوں کو اور جس نے زندگی بخشی ایک انسان کو تو گویا اس نے زندہ کیا سب انسانوں کو۔ اور بے شک آچُکے ہیں اُن کے پاس ہمارے رسول واضح احکام لے کر پھر بھی یقیناً بہت سے لوگ ان میں سے اس کے بعد بھی زمین میں زیادتیاں کرتے رہے آزادی 2:256 دین میں کوئی زبردستی نہیں، بیشک ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہو چکی ہے، سو جو کوئی معبودانِ باطلہ کا انکار کر دے اور اﷲ پر ایمان لے آئے تو اس نے ایک ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جس کے لئے ٹوٹنا (ممکن) نہیں، اور اﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے ملکیت کی حفاظت 2:188 اور نہ کھاؤ تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق اور (نہ) پہنچاؤ اس کو حاکموں تک اس غرض سے کہ کھاجاؤ کچھ حصّہ لوگوں کے مال کا ناجائز طریقے سے حالانکہ تم جانتے ہو۔ آمدنی پر ٹیکس آپ ان کے اموال میں سے صدقہ (زکوٰۃ یعنی ٹیکس) وصول کیجئے کہ آپ اس (صدقہ) کے باعث انہیں (گناہوں سے) پاک فرما دیں اور انہیں (ایمان و مال کی پاکیزگی سے) برکت بخش دیں اور ان کے حق میں دعا فرمائیں، بیشک آپ کی دعا ان کے لئے (باعثِ) تسکین ہے، اور اﷲ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے عوام کو روزگار پر لگاؤ 53:39 ور یہ کہ نہیں ہے انسان کے لیے کچھ بھی مگر وہی کچھ جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ اعمال کا خمیازہ فرما دیجئے: کیا میں اﷲ کے سوا کوئی دوسرا رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر شے کا پروردگار ہے، اور ہر شخص جو بھی (گناہ) کرتا ہے (اس کا وبال) اسی پر ہوتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تمہیں اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں ان (باتوں کی حقیقت) سے آگاہ فرما دے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے اوزان اور پیمانے 17:35 اور ناپ پورا رکھا کرو جب (بھی) تم (کوئی چیز) ناپو اور (جب تولنے لگو تو) سیدھے ترازو سے تولا کرو، یہ (دیانت داری) بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے (بھی) خوب تر ہے شراب اور جوا 22:19 آپ سے شراب اور جوئے کی نسبت سوال کرتے ہیں، فرما دیں: ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے کچھ (دنیوی) فائدے بھی ہیں مگر ان دونوں کا گناہ ان کے نفع سے بڑھ کر ہے، اور آپ سے یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کیا کچھ خرچ کریں؟ فرما دیں: جو ضرورت سے زائد ہے (خرچ کر دو)، اسی طرح اﷲ تمہارے لئے (اپنے) احکام کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو مرد و عورت کی صنفی مساوات 3:195 پھر ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرما لی (اور فرمایا یقیناً میں تم میں سے کسی محنت والے کی مزدوری ضائع نہیں کرتا خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے میں سے (ہی) ہو، پس جن لوگوں نے (اللہ کے لئے) وطن چھوڑ دیئے اور (اسی کے باعث) اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور (میری خاطر) لڑے اور مارے گئے تو میں ضرور ان کے گناہ ان (کے نامۂ اعمال) سے مٹا دوں گا اور انہیں یقیناً ان جنتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یہ اللہ کے حضور سے اجر ہے، اور اللہ ہی کے پاس (اس سے بھی) بہتر اجر ہے4:124 اور جو کوئی نیک اعمال کرے گا (خواہ) مرد ہو یا عورت درآنحالیکہ وہ مومن ہے پس وہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اوران کی تِل برابر (بھی) حق تلفی نہیں کی جائے گے 9:71 اور اہلِ ایمان مرد اور اہلِ ایمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں، وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت بجا لاتے ہیں، ان ہی لوگوں پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا، بیشک اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے مساوات، باعزت وہ جس کا کردار اچھا اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بیشک اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے دوسری قوموں کا احترام 49:11 اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہے وہ لوگ اُن (تمسخر کرنے والوں) سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں ہی دوسری عورتوں کا (مذاق اڑائیں) ممکن ہے وہی عورتیں اُن (مذاق اڑانے والی عورتوں) سے بہتر ہوں، اور نہ آپس میں طعنہ زنی اور الزام تراشی کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کے برے نام رکھا کرو، کسی کے ایمان (لانے) کے بعد اسے فاسق و بدکردار کہنا بہت ہی برا نام ہے، اور جس نے توبہ نہیں کی سو وہی لوگ ظالم ہیں 31:18 اور لوگوں سے (غرور کے ساتھ) اپنا رخ نہ پھیرو، اور زمین پر اکڑ کر مت چلو، بیشک اﷲ ہر متکبّر، اِترا کر چلنے والے کو ناپسند فرماتا ہے 31:19 اور اپنے چلنے میں میانہ روی اختیار کرو، اور اپنی آواز کو کچھ پست رکھا کرو، بیشک سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے گناہ مت کرو 6:120 اور تم ظاہری اور باطنی (یعنی آشکار و پنہاں دونوں قسم کے) گناہ چھوڑ دو۔ بیشک جو لوگ گناہ کما رہے ہیں انہیں عنقریب سزا دی جائے گی ان (اَعمالِ بد) کے باعث جن کا وہ ارتکاب کرتے تھے دیگر مذاہب کی دنیا میں آزادی، آخرت میں حساب 18:29 اور فرما دیجئے کہ (یہ) حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے انکار کردے، بیشک ہم نے ظالموں کے لئے (دوزخ کی) آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی، اور اگر وہ (پیاس اور تکلیف کے باعث) فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو ان کے چہروں کو بھون دے گا، کتنا برا مشروب ہے، اور کتنی بری آرام گاہ ہے باہمی مشاورتی شورائی نظام 42:38 اور جو لوگ اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور اُن کا فیصلہ باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور اس مال میں سے جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے خرچ کرتے ہیں بیواؤں اور یتیموںکے حقوق کی حفاظت 4:2 اور یتیموں کو ان کے مال دے دو اور بُری چیز کو عمدہ چیز سے نہ بدلا کرو اور نہ ان کے مال اپنے مالوں میں ملا کر کھایا کرو، یقیناً یہ بہت بڑا گناہ ہے مطـلـقہ عورتوں کا حق 65:1 اے نبی! (مسلمانوں سے فرما دیں جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو اُن کے طُہر کے زمانہ میں انہیں طلاق دو اور عِدّت کو شمار کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے، اور انہیں اُن کے گھروں سے باہر مت نکالو اور نہ وہ خود باہر نکلیں سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کر بیٹھیں، اور یہ اللہ کی (مقررّہ) حدیں ہیں، اور جو شخص اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو بیشک اُس نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، (اے شخص!) تو نہیں جانتا شاید اللہ اِس کے (طلاق دینے کے) بعد (رجوع کی) کوئی نئی صورت پیدا فرما دےقرآن ایسے سنہری اصولوں اور منصفانہ قوانین سے بھرپور کتاب ہے ۔ یہ وہ قوانین ہیں جو آج اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کی زینت ہیں اور ساری دنیا کے افراد چاہے وہ مسلمان ہوںیا نہ ہوںان اصولوں کی طرف کھنچتے چلے آرہے ہیں۔ اللہ تعالی کا دعوی ہے کہ اس کے بزرگ و برتر رسول اکرم نے جو نظام دنیا میں متعارف کروایا وہ بالآخر آکر ہی رہے گا۔ 9:33 وہی ہے وہ ذات جس نے بھیجا اپنا رسُول ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ غالب کردے اسے تمام ادیان پر خواہ (یہ بات) کتنی ہی ناگوار ہو مشرکوں کو۔ والسلام |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | ڈاکٹرنور (26-09-09) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
قانون سازی کے لئے بنیادی فریم ورک
آپ سب جانتے ہیں کہ عموماً دینی ٹیچرز، عبادات، عذاب و ثواب کے دائرے سے باہر بہت کم قدم رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے بہت سے لوگ قرآن کی آیات سن کر حیران ہو جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ----- کہیا یہ سب بھی قرآن میںہے؟ ----- میرا بنیادی مقصد یہ رہا ہے کہ اپنے صاحبوں و احبابوں کو قران کی ان جزئیات سے آگاہ کروں جن پر عام طور پر بات نہیں کی جاتی ۔ میں نے عموماً یہ دیکھا ہے کہ دینی کتب میں ذاتی احکامات کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور قومی سطح کے اجتماعی احکامات کو بہت کم اہمیت دی جاتی ہے۔ قرآن قانون سازی کے لئے ایک بہت ہی واضح اور مظبوط فریم ورک فراہم کرتا ہے ۔ دیکھئے باہمی مشورہ پر مشتمل شورائی نظام کو رب کا فرمان قبول کرنےکے مساوی قرار دیا گیا ہے۔ 42:38 [arabic]وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ[/arabic] اور جو لوگ اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور اُن کا فیصلہ باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور اس مال میں سے جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے خرچ کرتے ہیں اس قانون ساز شورائی نظام کے لئے ایک جماعت کی (فرد واحد کی نہیں) اہمیت 3:104 [arabic]وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ[/arabic] اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں قانون ساز شورائی ادارہ میں خواتین کی رفاقت کی ضرورت تاکہ خواتین کے حقوق کا دفاع کیا جاسکے 9:71 [arabic]وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَـئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّهُ إِنَّ اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ [/arabic] اور اہلِ ایمان مرد اور اہلِ ایمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں، وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت بجا لاتے ہیں، ان ہی لوگوں پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا، بیشک اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے یہ وہ اجتماعی احکامات ہیں جن پر ہمارے مولوی یعنی دینی ٹیچرز روشنی ڈالنے سے عموماً گریز کرتے ہیں۔ آپ دیکھیں گے عام طور پر قرآن کو طاق کی زینت بنانے پر زور دیا جاتا ہے۔ عام طور پر دینی کتب میں انسانی حقوق ، قانون سازی اور انصاف کے بارے میں آیات شاذ شاذ ہی پائی جاتی ہیں۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ
ماشاءاللہ کیا جاندار لکھا ہے فاروق سرور خان صاحب آپ نے۔۔۔ میری طرف سے اتنی شاندار تحریر پر مبارک باد۔ ۔۔۔۔۔۔ بات یہ ہے کہ ہم قرآن کو بھول کر مغرب کی طرف دیکھتے ہیں کہ وہ ہمیں امن قائم کرنے کے اصول دے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاش کاش۔۔ ہم پلٹ آئیں قرآن کی طرف۔۔ |
|
|
|
| ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (26-09-09) |
![]() |
| Tags |
| color, کوشش, پاکستان, قدم, لوگ, نظر, موجودہ, ممکن, مسائل, آج, آزادی, اللہ, انسان, بھائی, تلاش, جلتا, حل, علی, عمدہ, عالم, عالمی, غور, غم, صورتحال, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| قرآن کریم کو سمجھنے کے بنیادی اصول | عبداللہ حیدر | ترجمہ و تفسیر | 12 | 20-06-11 08:22 AM |
| چاہت کے اصول | راجہ اکرام | گپ شپ | 28 | 08-10-10 12:19 AM |
| ہمارا اصول یہ ہے کہ ہمارا کوئی اصول نہیں | فیصل ناصر | عمومی بحث | 36 | 08-10-09 03:03 AM |
| کامیابی کے سات اصول!!! | چیتا چالباز | گپ شپ | 0 | 07-02-09 08:19 AM |