| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
انسانی سمگلنگ، ایک سنگین مسئلہ:
منشیات اور جرائم کی روک تھام کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یونائٹیڈ نیشنز آفس ان ڈرگز اینڈ کرائمز (unodc) کے مطابق جنوبی ایشاء میں انسانوں کی سمگلنگ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ادارے کے مطابق انسانی سمگلنگ کی روک تھام کی کوششوں کے باوجود اس میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ اس سلسلے میں ایک نئی بیداری مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں حکومت، غیر سرکاری تنظیمیوں اور کارپوریشنز کو بھی شامل کیا جائےگا۔ یو این او ڈی سی کے اعداد و شمار کے مطابق جنوبی ایشاء میں ہر برس ڈیڑھ لاکھ سے بھی زیادہ خواتین اور بچے سمگل کیے جاتے ہیں۔ خطے میں اقوام متحدہ کے سربراہ گیری لیوس کا کہنا ہے کہ انسانوں کی سمگلنگ پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال میں بھی ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن سب سے تشویشناک صورت حال ہندوستان کی ہے۔ مسٹر گیری نے بی بی سی اردو کو بتایا ’ہندوستان کے بڑے شہر سیکس ورکرز کا ایک بازار ہیں اور اس کے لیے ملک کے مختلف علاقوں سے کم عمر بچیوں اور خواتین کو روزگار کا لالچ دیکر بڑے شہروں میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ پنجاب اور ہریانہ جیسی ریاستوں میں خواتین کی کمی ہے اور وہاں کمی پوراکرنے کے لیے کئی سرحدی علاقوں سے عورتیں سمگل کی جاتی ہیں۔‘ گیری لیوس کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی یہ مسئلہ سنگین نوعیت کا ہے۔ ’غربت، قدرتی آفات، شورش اور جنگ جیسی صورت حال انسانوں کی سمگلنگ کی اہم وجوہات ہیں، ہمیں صحیح تعداد تو نہیں پتہ کیونکہ یہ خفیہ بزنس ہے، وہاں بہت سے علاقوں میں تو پولیس کو بھی پتہ نہیں کہ انسانی سمگلنگ ہوتی کیا ہے، جہاں حالات خراب ہوں وہاں انسانوں کی سمگلنگ کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔‘ مسٹر لیوس نے بتایا کہ ہندوستان میں آندھرا پردیش، کرناٹک، اڑیسہ اور شمال مشرقی ریاستوں سے خواتین اور بچیوں کو روز گار کا لالچ دیکر لایا جاتا ہے لیکن بعد میں انہیں جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔’ بنگلہ دیش اور نیپال سے سمگل کی گئی خواتین کو انڈیا ہی کے ذریعے خلیجی ممالک بھیجا جاتا ہے۔‘ روما دیپندار انسانی سمگلنگ کا شکار خواتین کی بحالی کے لیے پریاس نامی ایک تنظیم چلاتی ہیں۔ انہوں نے ہزاروں لڑکیوں کو دلالوں کے چنگل سے آزاد کرایا ہے۔ وہ کہتی ہیں ’یہ بہت ہی سنگین مسئلہ ہے اور ہر طبقے کی لڑکیوں کے لیے ایک بڑا خطرہ، ہم نے اچھے اور مالدار خاندان کی ایسی بہت سی لڑکیوں کی زندگي بچائی ہے جنہیں اداکاری یا ماڈل بنانے کے بہانے قحبہ خانے پہنچا دیا گيا تھا، قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کے حوالے سے زیادہ حساسیت کا مظاہرہ نہیں کرتے۔‘ سینئر پولیس افسر ایم پی نائر انسانی سمگلنگ کے خلاف ایک مدت سے کام کرتے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں پولیس کو خصوصی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ ’یہ منظم جرائم کی ضمن میں آتا ہے، ہم نے بعض ریاستوں کے تقریباً آٹھ ہزار پولیس اہلکاروں کو تربیت دی ہے جس کے بہترین نتائج برآمد ہوئے ہیں، کئی سو لوگ گرفتار کیے گئے ہیں، ہزاروں کیس درج ہوئے ہیں اور اس میں ملوث کئی گروپ ختم کیے جا چکے ہیں۔‘ اقوام متحدہ نے اس سلسلے میں بیداری مہم کے لیے دس اور گيارہ اکتوبر کو دلی میں ایک کانفرنس کا اعلان کیا ہے جس میں اس کے متعلق حکمت عملی پر غور کیا جائےگا۔
__________________
تیرا پاکستان ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ میرا پاکستان ہے اس پہ دل بھی قربان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پہ جان بھی قربان ہے پاکستانی کی آواز----------------- پاکستان کے فورمز |
|
|
|
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| پولیس, لوگ, اقوام متحدہ, اردو, بہترین, حال, خواتین, خلاف, خصوصی, شہر, صحیح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ایک اھم مسئلہ کا حل | muhammad moosa | مذہبی مسائل اور ان کا حل | 5 | 05-12-07 04:22 PM |
| ایک مسئلہ | مونی | تجاویز اور شکایات | 4 | 02-11-07 08:05 PM |
| ایک چھوٹا سا مسئلہ | چاند | Ask Experts ماہرین کی رائے | 3 | 12-09-07 01:09 PM |
| انسانی نشوونما کاغذائی افلاس | پاکستانی | شعبہ طب | 1 | 11-08-07 12:28 AM |