واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


انصاف کو پھانسی دیدو

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 31-12-11, 06:59 PM   #1
انصاف کو پھانسی دیدو
حسن قادری حسن قادری آف لائن ہے 31-12-11, 06:59 PM

کسی بوجھ کو دو برابر حصوں میں اس طرح بانٹ دیا جاے کہ ان میں ذرا بھی کمی بیشی نہ ہو تو اسکو عربی میں عدل کہتے ہیں (مفردات راغب اصفہانی)
اردو میں ہم اسے انصاف کہتے ہیں یعنی عدل وانصاف عدل خود اللہ کی صفت ہے اللہ کے 99 ناموں میں سے ایک عدل بھی ہے دنیا کا یہ سارا کار خانہ جو آسمان سے لے کر زمین تک پھیلا ہے صرف اللہ کے عدل وانصاف کے بل بوتے پہ قائم ہے اور عدل وانصاف صرف نظم سلطنت ہی کے لئے مخصوص نہیں ہے بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں اس کی ضرورت ہے اسی لئے اللہ جل شانہ نے فر مایا ان اللہ یامر بالعدل والا حسان
بے شبہ اللہ انصاف اور نیکی کرنے کا حکم دیتا ہے (سورۃ نحل پارہ 14 آیت 90)
نظم عالم کو قائم رکھنے کے لئے سب سے پہلے عدل کا حکم دیا اس کے بعد احسان کا اسلام نے عدل وانصاف کا جو حکم دیا ہے وہ اخلاق معاشرت اور سیاست کے ہر گوشے کو محیط ہے یعنی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس پہ اسلام کی یہ اخلاقی تعلیم حاوی نہ ہو جہاں اسلام یہ تقاضہ کرتا ہے کہ ہر مسلمان عادل ہو وہاں حاکم وقت کے لئے عادل ہونابہت ضروری ہے اس لئے رحمت عالم صل اللہ علیہ وسلم نے فر مایا قیامت کے دن جب کہ خدا کے سایہ کے سوا کوئی دوسرا سایہ نہ ہوگا سات شخصوں کو خدا اپنے سایہ میں لے گا جن میں ایک امام عادل بھی ہوگا لیکن ہمارے یہاں عوام میں انصاف خوف خدائی نظر آتی ہے مگر حکمران اس بادشاہ کی طرح ہیں جسنے انصاف کو پھانسی دیدی عقل اس کے محل کی لونڈی اور انصاف اس کا غلام تھااپنے وائٹ ہاوس کے باہر انصاف کو گھر گھر پہنچانے کا اعلان مرکزی دروازے پر لٹکا رکھاتھا جرم کی نوعیت کی بجاے مجرم کی حثیت پیش نظر رہتی تھی ایک دن ایک شخص گرتا پڑتا محل کے دروازے پہ پہنچا اور زنجیرعدل ہلادی ہر کارے دوڑےاور بادشاہ کے آرام میں خلل ڈالنے کی وجہ سے اس کی پٹائی کردی جس سے زخمی اور زور سے چیخا تو سایئڈ روم سے ایک منشی نما آدمی کان پہ پنسل ٹکاے آگے بڑھا اور مک مکا کر کے اسے بادشاہ کے سامنے پیش کیا بادشاہ نے جلدی سے تاج اٹھا کر سر پر رکھ لیا کہیں سائل اس کا گنج دیکھ کر بے تاج بادشاہوں میں شمار نہ کرے بادشاہ نے رعب دار آواز نکال کر پو چھا کس نا ہنجار نے تجھے اس حال تک پہنچا یا جلدی اپنی داستاں سناو تاکہ ہم (تحریک) انصاف کو تیرے دروازے تک پہنچا سکیں سائل نے عرض کی جہاں پناہ فدوی اس ملک کا آزاد شہری ہے آپ کے لطف وکرم کی وجہ غربت وافلاس کے ہاتھوں مجبور ہو کر چوری سینہ زوری کا پیشہ اختیار کر رکھا ہے اسی پیشے کی برکت سے پولیس بھی بندے کی آزادی میں مزاحم نہیں ہوتی کیونکہ بندہ ہر چوری کے بعد باقاعدگی سے ان کا حصہ پہنچاتا رہا ہے مگر جہاں پناہ آج مجھ پر یہ ظلم ہوا بندہ نے آج رات ایک مکان کو تاڑا اور اندر داخل ہونے کے لئے دیوار پہ کمند ڈالی ابھی اوپر چڑھ ہی رہا تھا کہ منڈیر کی چند اینٹیں کھسک گیئں اور بندہ دھڑام سے نیچے آگرا اور میری ٹانگ زخمی ہوگی مالک مکان نے مجھے اٹھایا اور پولیس کے حوالے کردیا جہاں پناہ پولیس والے اپنے واقف کار نکلے وہ مجھے یہاں چھوڑ گے
عالی جاہ آپکے انصاف کی کہانیاں میں الغزالی فورم پہ پڑھتا رہا ہوں بجلی گیس اور اخبارکا بل ادا کرنے کی آخری تاریخ ہے میں اب اس زخمی ٹانگ کی وجہ سے اپنا پیشہ کرنے سے معذور ہوں اور اس کی وجہ مالک مکان کی کمزور دیوار بنی لہذا علاج اور بلوں کی ادایئگی کا حکم صادر کرکے مالک مکان کو قرار واقعی سزادی جاے
بادشاہ نے کوتوال شہر کو طلب کیا اور 4 تاریخ کو ملزم کو پیش کرنے کا حکم دیا سائل کو سر کاری ہسپتال جانے کامشورہ دیا 4 تاریخ کو سارا شہر امڈ آیا کیونکہ سارے ویلے تھے (فارغ تھے) مالک مکان نے اپنی صفائی دیتے ہوے کہا جہاں پناہ اس میں میرا قصور نہیں میٹریل ناقص تھا سیمنٹ ڈیلر پر چھاپہ پڑا تو اس نے سیمنٹ کے نمونے پیش کر کے کہا یہ مستری کی حرام خوری ہے مستری کو حاضر کیا گیا تو مستری کہنے لگا جہاں پناہ آپ کا ہاتھی بد مست ہو کر بھاگا تو میں ڈر گیا جس سے سیمنٹ میں پانی زیادہ ڈل گیا مسالا کمزور رہ گیا
مہاوت کو بلایا گیا اسنے کہا یہ ہاتھی کا قصور ہے وہ بدک گیا تھا بادشاہ غصے میں بولا اس کے بدکنے کی وجہ بیان کی جاے مہاوت بولا جہاں پناہ ایک عورت پازیب پہن کے گزری اس کی جھنکا ر نے ہاتھی کو بہکادیا عورت حاضر کی گی اسنے کہا یہ سنار کا قصور ہے جس نے جھنکار والا زیور بنایا سنار حاضر ہوا مگر افسوس اس سے کوئی بات نہ بن سکی اگروہ رحمان ملک کے بیانات پڑھتا رہتا تو بڑی آسانی سے یہ الزام طالبان پر لگایا جا سکتا تھا
بادشاہ نے حکم صادر کیا سنار کو اگلے ماہ کی 10 تاریخ کو پھانسی پر لٹکا دیا جاے سائل نے رو کر کہا عالی جاہ سنار کی پھانسی سے میرے بل کیسے ادا ہو نگے مگر بادشاہ نے اسے بھی ڈانٹ دیا مقررہ تاریخ پہ سنار کو لایا گیا مگر وہ موت کے خوف سے سوکھ چکا تھا بہت کمزور ہو چکا تھابادشاہ کا غلامجس کا نام انصاف تھا بادشاہ کو مور پنکھ سے ہوا دے رہا تھا (شاید ان کے ہاں بھی بجلی جانے کارواج ہو گا)
بادشاہ نے جب سنار کی طرف دیکھا تو اسے ترس آگیا اور سوچا اتنے ماڑے بندے کو پھانسی دے کر مزا نہیں آے گا اس لئے اعلان ہوا کوئی موٹا تازہ بندہ تلاش کیا جاے مجمے میں کوئی موٹا تازہ نظر نہ آیا کیونکہ عوام مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ہو کر صرف ایک وقت روٹی کھاتے دو ٹائم صبر کرتے تھے اس بنا پہ سب ہی کمزور و لاغر ہو چکے تھے بادشاہ نے اپنی بایئں سایئڈ دیکھا تو غلام انصاف نظر آیا جو ویلیاں کھا کھا کے خوب موٹا تازہ ہو چکا تھا حکم دیا انصاف کو پھانسی دیدیجاے کیو نکہ ایسے بادشاہوں کو انصاف کی ضرورت نہیں رہتی (یہاں گرو چیلے والے پرانے لطیفے کو جدید بنایا گیا ہے گرو چیلے سے معزرت)جہاں انصاف کو ہی پھانسی دیدی جاے وہاں کیسے انصاف مل سکتا ہے
یاد رکھئے انصاف حکومت وسلطنت کی عمارت کا ستون ہے اسی لئے اسلام نےعدالتی فیصلوں کے لئے انصاف کو لازمی قرار دیا اگر یہ نہ ہو تو کسی بھی طرح امن وآشتی نہیں ہو سکتی


 
حسن قادری's Avatar
حسن قادری
Senior Member
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 115
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (31-12-11), قاسمی (02-01-12), مرزا عامر (01-01-12), بنت حوا (02-01-12), تبتیلا انجم (02-01-12), رضی (02-01-12)
پرانا 02-01-12, 04:58 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 329
کمائي: 6,309
شکریہ: 2,159
266 مراسلہ میں 795 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لئے اپلائی کرئیں
بہت اچھی تحریر یے شکریہ قادری صاحب حقیقت بھی یہ ہی ہے جب انصاف ہی پھانسی چڑھ جاے پھر کہاں سے انصاف مانگا جاے گا
قاسمی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے قاسمی کا شکریہ ادا کیا
بنت حوا (02-01-12), حسن قادری (10-01-12)
پرانا 02-01-12, 07:09 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 1,139
کمائي: 12,571
شکریہ: 3,450
702 مراسلہ میں 1,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہاںجی ،،،،ایک اچھی تحریر ہے اپلائی کریں،،،،،،،،،،،،،،
بنت حوا آف لائن ہے   Reply With Quote
بنت حوا کا شکریہ ادا کیا گیا
حسن قادری (10-01-12)
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پھانسی حسن قادری دلچسپ اور عجیب 8 26-10-11 05:19 PM
پھر کسی نے یاد کیا سیپ شاعری اور مصوری 2 25-02-11 12:34 AM
بی بی سی کا چھپا زہر راجہ اکرام عمومی بحث 4 11-02-11 09:58 PM
9افراد کے قاتل کانسٹیبل کو 18بار پھانسی 45لاکھ جرمانہ جاویداسد خبریں 0 17-06-10 07:09 PM
ایران: اسلامی حکومت کے خلاف سازش کے الزام میں دو افراد کو پھانسی راجہ اکرام خبریں 5 02-02-10 02:03 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:00 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger