| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1005
|
||||
| 13 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (15-01-12), rana ammar mazhar (07-01-12), فیصل ناصر (27-12-11), ھارون اعظم (30-12-11), نبیل خان (08-01-12), محمدمبشرعلی (31-12-11), مرزا عامر (27-12-11), ایکسٹو (30-12-11), حیدر (11-01-12), رضی (31-12-11), سحر (27-12-11), طاھر (29-12-11), عبداللہ آدم (28-12-11) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عبدالہادی بھائی جزاک اللہ
آجکل کا دور فتنوں کا دور ہے ۔ امت مسلمہ میں بہت سے متقی اور خالص ایمان رکھنے والے لوگ بھی ہیں ۔ جو دل سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا چاہتے ہیں اور دل میں شہادت کی تمنا رکھتے ہیں ۔ لیکن یہ لوگ منتشر ہیں ۔ یہ لوگ آج کے دور میں کیا کریں، جہاد فی سبیل اللہ کیسے کریں ؟
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (27-12-11), محمدمبشرعلی (31-12-11), مرزا عامر (27-12-11), حیدر Rehan (17-01-12), رضی (31-12-11) |
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ایک حدیث سنی تھی ۔ جسکا مفہوم بیان کرتا ہوں ۔ کہ تم پر ایک وہ وقت آئے گا جب فتنے یعنی آزمائیشیں تم پر ایسی آ پڑیں گی جیسے کہ بارش ۔ یعنی ایک کے بعد ایک ۔ اور ان سے نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ ہوگا۔ قران کے احکامات پر عمل ۔ الفاظ کی کمی بیشی پر اللہ معاف فرمائے صرف مفہوم بیان کیا ہے ۔ دوسری طرف اس حدیث کا مطلب کچھ یوں بھی ہو سکتا کہ جب قران کی تعلیمات پر عمل چھوڑ دیا جائے گا تو مصیبتیں گھیر لیں گی ۔ اکثر جگہوں آگ لگ جانے کے باعث جان بچانے کے لیئے ایمرجنسی دروازے لگائے جاتے ہیں ۔ تو جو شخص آگ لگنے کی صسورت میں اس دروازے تک پہنچ گیا وہ بچ گیا اور جو پھنسا رہا تو وہ گیا کام سے۔ یہ قران آج بھی ہمارے لیئے ایک ایمرجنسی دروازہ ہے - اس کا استعمال کر لیں اور اس کی روشن تعلیمات کو آگے بڑھائیں یہ ایک بڑا جہاد ہے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
|
| 12 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (06-01-12), فیصل ناصر (27-12-11), کنعان (29-12-11), نبیل خان (08-01-12), مافی الضمیر (27-12-11), محمدمبشرعلی (15-01-12), ایکسٹو (30-12-11), احمد نذیر (08-01-12), اداس ساحل (27-12-11), حیدر Rehan (17-01-12), رضی (31-12-11), سحر (27-12-11) |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,516
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بہت اعلی مرزا صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ نے واقعی ہی بہت خوب جہاد کے بارے میں معلومات دی ہیں اور قرآن مجید کو بروہے کار لانے کا جو مشورہ دیا ہے ۔ بس آپ کو "جزاک اللہ" ہی کہ سکتا ہوں
__________________
نہیں ہوں پر میں قائل شدت پسندی کا
میں ترے عشق کی آخری حد چاہتا ہوں Last edited by اداس ساحل; 27-12-11 at 10:30 PM. |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 269
کمائي: 5,568
شکریہ: 190
214 مراسلہ میں 506 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جہاں تک مکمن ہو سکے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی درس دیں جہاں تک اختیار ہے برائی کو ہاتھ سے روکنے کی کوشش کریں اور صرف زبان سے کہنے کا اختیار حاصل ہے تو زبان سے سمجاھئیں او اگر اس کی بھی سکت نہیں تو دل سے برا جانیں میرا خیال ہے ہر بندہ کم از کم اپنے گھر والوں پر کچھ نا کچھ تو اختیار رکھتا ہے تو اسے چاہئے خود سدھرے اور اپنے گھر والوں کو بھی سدھارے |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے اجمل کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (06-01-12), حیدر Rehan (17-01-12) |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,516
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس کا درس تو بہت سنتے ہیں، جمعہ کی نماز ہو یا بعد نماز درس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔لیکن عملی طور پر کرتے ہیں۔ جہاد اکبر کی جو آپ نے بات بتائی کہ نفس کے خلاف جہاد، تو بالکل صحیح ، یہ ہی جہاد تو سب سے مشکل ہے۔ لیکن ناممکن نہیں |
|
|
|
|
| اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (06-01-12) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سحر بی بی! آپ نے لکھا
"آجکل کا دور فتنوں کا دور ہے ۔ امت مسلمہ میں بہت سے متقی اور خالص ایمان رکھنے والے لوگ بھی ہیں ۔ جو دل سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا چاہتے ہیں اور دل میں شہادت کی تمنا رکھتے ہیں ۔ لیکن یہ لوگ منتشر ہیں ۔ یہ لوگ آج کے دور میں کیا کریں، جہاد فی سبیل اللہ کیسے کریں ؟" بجا کہ یہ فتنوں کا دور ہے۔۔۔مگرفتنے کے دور میں جہاد ساقط تو نہیں ہو جاتا،بلکہ فتنوں کے خاتمے کے لیے جہاد کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔آپ نے جن متقی لوگوں کی بات کی ہے،ان کے جذبہ جہاد اور شوق شہادت پر ہی اس امت کا انحصار ہے۔رہا یہ سوال کہ وہ جہاد کیسے کریں تو اس کا جواب قرآن میں موجود ہے ۔۔۔۔ایسے لوگ مجاہدہ کریں گے، تو اللہ تعالی انہیں درست راستہ خود بتا دے گا،یہ اللہ کا وعدہ ہے۔۔۔۔والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا۔ میں نے جس جہاد کی بات کی ہے وہ جان اور مال کا وہ جہاد ہے جو کفر کی طاقت اور غلبے کو توڑ دے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ہی زمانے کے بارے میں پیش گوئی فرماتے ہوئے کہا تھا:"یوشک ان تداعی علیکم الامم کما تداعی الاکلۃ علی قصصتہاقالوا: امن قلۃ نحن یومئِذِ یا رسول اﷲ؟ قال: ”بل اَنتم یومئذٍ کثیر، ولکنکم غثاءکغثاءالسیل، ولینزعن اﷲ المہابۃ من صدور اعدائکم، ولیقذفن فی قلوبکم الوھن قالوا، وما الوھن یا رسول اﷲ؟ قال حب الدنیا وکراھیۃ الموت۔(قریب ہے کہ دُنیا کی قومیں تم پر یوں ٹوٹ پڑیں جیسے بھوکے کھانے کے تھال پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔صحابہ نے عرض کی، اے اللہ کے رسول، کیا اس لیے کہ تب ہم بہت تھوڑے ہوں گے؟ فرمایا ”نہیں نہیں! اس روز تعداد میں تو تم بہت زیادہ ہو گے۔ مگر تم خس وخاشاک ہو گے جیسے خس وخاشاک سیلاب (کی سطح) پر ہوا کرتے ہیں۔ خدا تمہارے دشمنوں کے سینوں سے تمہاری ہیبت ختم کردے گا اور تمہارے دلوں میں وَھَن (کمزوری) ڈال دے گا۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول یہ وَھَن کیا ہوگا؟ فرمایا،دُنیا پہ ریجھ جانا اور موت سے جی چرانا(مسند احمدو ابوداؤد) دیکھ لیجیے !ایساف اور نیٹو کی افواج نے عراق اور افغانستان کے مسلمانوں کا جوحال کیا،اسرائیل فلسطین کے مسلمانوں سے اوربھارت کشمیر کے مسلمانوں سے جوسلوک کر رہا ہے،کیا وہ مِن و عَن وہی نہیں جس کی طرفٍ حضور رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا تھا۔۔۔قومیں ہم پر اسی طرح ٹوٹ پڑی ہیں جس طرح بھوکے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔صحابہ رسول نے وھن کے بارے میں پوچھاتھا،تو حضور نے جیسے ہماری نبض پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔۔۔حب الدنیا وکراھیۃ الموت۔ میرے بعض بھائی کہتے ہیں کہ جہاد ِ اکبر بھی تو ہے ،یعنی جہاد بالنفس کی بات بھی کرو۔۔۔جہاد اصغر یعنی قتال کی بات کرتے ہوتو جہاد اکبرکی بات بھی کرو۔لیکن نفس سےجہادبھی تب ہی ممکن ہوتاہے جب دنیا سے محبت اور موت سے نفرت کم ہو جائے۔حسنی مبارک پچاس ارب ڈالر سے بھی سیر نہ ہواتھا،زین العابدین علی سونے کا جہاز بھر کر بھاگا،قذافی سو ارب ڈالر مغربی بینکوں میں چھوڑ کر مرگیا۔اب دیکھیں ہمارے زرداری گیلانی کتنی لوٹ مار کرکےمرتے ہیں۔یہ سب وھن کے مریض ہیں۔یہ سب موت سے خوف زدہ ہیں،شہادت ان میں سےکسی کی منزل نہیں۔یہ نہ جہاد اکبر کے قائل ہیں نہ جہاد اصغر کے۔۔۔۔ رہا جہادِ اکبر کا معاملہ توجہاد اکبر تو جاری و ساری ہے۔چالیس لاکھ لوگ حج کے اجتماع میں ہوتے ہیں۔بنگلہ دیش اور رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماعات میں بھی تین سے چار ملین اہل ایمان موجود ہوتے ہیں۔ملتان میں سنتوں بھرے اجتماع میں بھی لاکھوں عشاقِ رسول یہ جہاد اکبر کرتے ہیں۔اس کے باوجوددنیا بھر میں مسلمانوں کو کچلا اور مسلا جا رہا ہے۔۔۔دوسری طرف چند ہزار طالبان امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے بندوق کی زبان میں بات کر رہے ہیں،ان کی بات کا نہ صرف وزن ہے بلکہ ان سے مذاکرات کے لیے منتیں کی جاتی ہیں۔کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ جہاد اکبر اسی وقت موثر ہوتا ہے جب جہاداصغر (قتال)ترک نہ کر دیا گیا ہو، یعنی قتال اور جہاداصغر کرنے والے ہی حقیقی جہادکرتےہیں اور ان ہی کو جہاد اکبر کرنے کی توفیق ملتی ہے۔یہ بات نہ ہوتی تو لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں جہادِ اکبر کرنے والےہمارے دشمن کی نگاہ میں اتنے بےوزن نہ ہوتے۔ سچ تویہ ہے کہ ایک سو ستر کروڑ مسلمان بھی ان کی نگاہ میں خس و خاشاک سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔ میں اسی لیےاس جہاد کی بات کرتا ہوں جو کفر کی نگاہ میں ہمیں وزنی بنا دے۔۔۔جو ہماری صحیح دفاعی قوت اورحقیقیDeterrent ہو۔۔۔وہ جہادکہ جس میں حق کی گواہی نقدِ جاں پیش کر کے دی جاتی ہے۔گرم گرم شہ رگ کا ابلتا لہو نچھاور کیا جاتا ہے۔جس سے ہم وھن کی بیماری سے شفا پا جائیں ۔جس کے بعد ہماری حالت سیلاب کے اوپر آئے ہوئے خس و خاشاک جیسی نہ رہے۔جس سے ہم اس پوزیشن میں آ جائیں کہ کفر کا زور توڑ سکیں۔جس سے امت کو حقیقی اتحاد نصیب ہو گااورہم منتشر نہیں رہیں گے۔ان شاءاللہ Last edited by عبدالہادی احمد; 30-12-11 at 09:53 AM. |
|
|
|
| 11 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا | کنعان (31-12-11), ھارون اعظم (31-12-11), نبیل خان (08-01-12), محمدمبشرعلی (31-12-11), مرزا عامر (30-12-11), ایکسٹو (30-12-11), حیدر (30-12-11), حیدر Rehan (17-01-12), رضی (31-12-11), سحر (30-12-11), عبداللہ حیدر (30-12-11) |
|
|
#8 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ عبدالہادی بھائی
آپ نے وہ بات کی جس سے کرتے ہوئے بھی آجکل لوگ ڈرتے ہیں۔ میں اپنا سوال تھوڑا بدل کر کرتئ ہوں میرا بھتیجا ہے 17 سال کا ہے حافظ قرآن ہے بہت نیک اور شریف ہے صحیح اسلام پر عمل کرنے والا پڑھائی کے ساتھ ، گھر کی ذمہ داریوں میں اپنے باپ کا بوجھ بھئ باٹتا ہے ماں باپ کو بہت امیدیں ہے اس سے کہ وہ اپنے پاوں پر کھڑا ہو گا تو ان کی مشکل زندگئ میں کچھ آسانئ آجائے گئ ۔ وہ جہاد پر جانا چاہتا ہے اس کی ماں اور باپ پریشان ہوتے ہیں تو کہتا ہے کہ مجھ جیسے نوجوان پر جہاد فرض نہیں تو پہر کس پرہے آپ اس کو یا اس کے ماں باپ کو کیا مشورہ دیں گے |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (06-01-12), نبیل خان (08-01-12), محمدمبشرعلی (31-12-11), حیدر Rehan (17-01-12), رضی (31-12-11), شعبان نظامی (30-12-11) |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,516
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ذرا اس نوجوان کو سوچنا چاہیے، جس طرح سے پاکستان کا ماحول ہے، اگر اس کے ماں باپ کو کوئی ضرورت پڑتی ہے تو اسے کون پورا کريگا۔ اگر ماں باپ کے پاس دوائی کوبھی پیسے نہیں، تو اس جہاد کی اہمیت کیا رہ جائے گی |
|
|
|
|
| اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (06-01-12) |
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2011
مراسلات: 440
کمائي: 7,019
شکریہ: 0
236 مراسلہ میں 412 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| کلمہ حق کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (06-01-12) |
|
|
#11 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
![]() ![]() ![]() میں تو مسائل پیدا کرنے والوں میں سے ہوں ۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (06-01-12), حیدر (30-12-11) |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جہاد انفرادی نہیں اجتماعی فریضہ ہے۔ لاریب دنیا کے سارے مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ جہاد کے قیام کا انتظام کریں۔یعنی ستاون اسلامی ملکوں پر فرض ہے کہ وہ اس کائنات ارضی پر اسلام کے کلمے کو بلند کرنے کے لیے جہاد کریں۔وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ يَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ (اے ایمان لانے والو، ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہےاور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے۔)۔اگر اللہ کے کلمے کی بلندی کے لیےاور کفار کے غلبے کو ختم کرنے کے لیے عالم گیر پیمانے پرجہاد نہیں کیا جائے گا تو سارے مسلمان گناہ گار اور اس فریضے کی ادائیگی کے سلسلےمیں اللہ کے ہاں جواب دہ ہوں گے،لیکن ساری امت پر جہاد فرض ہونے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ایک نوجوان پر ماں باپ کی اجازت کے بغیرکسی دوسرے ملک جا کر جہاد کرنا فرض ہو جائے گا۔ اسلام کا باقاعدہ عسکری نظام ہے،مسلمان مجاہدین بھیڑ بکریوں کا گلہ نہیں ہوتے نہ غیر منظم ملنگوں کی فوج ہوتے ہیں جہاد کی فرضیت کا باقاعدہ طریق کار ہے اور وہ یوں ہے کہ اسلامی ممالک کی مسلح اور تربیت یافتہ فوجیں جہاد کریں گی۔افواج نہ ہوں تا پھر امت میں عام لام بندی کا اعلان ہو گا۔اس وقت امت کے نوجوان نکلیں گے اور جنگ کی تربیت حاصل کریں گے اور جہاد کی صفوں میں شامل ہوں گے۔ پاکستان میں کہیں بھی جہاد نہیں ہو رہا ہے،کشمیر میں محدود پیمانے پر جہاد ہو رہا ہے،لیکن وہاں مقامی مجاہدین کی تعداد کفایت کرتی ہے۔صرف افغانستان میں جہاد ہو رہا ہے۔افغان مجاہدین کو بھی باہر سے امداد مانگنے کی ضرورت لاحق نہیں ہوئی۔افغانستان جا کر جہاد کرنا اسی صورت میں فرض ہو گا جب افغانستان میں لڑنے والے کم پڑ جائیں اور افغانستان کے مجاہدین کا سپہ سالار پاکستان سے باقاعدہ امداد مانگے۔پھر بھی اہل پاکستان پر جہاد اسی وقت فرض ہو گاجب پاکستان اس امداد کے لیے آمادہ ہو۔پھر بھی پہلے افواج پاکستان امداد کے لیے جائیں گی۔اگر فوج مدد کرنے کے لیے تیار نہ ہو،تو مجاہدین کی اجتماعی قیادت علماءکے فتوے کے ذریعےعام اعلان کرے گی۔اس کے بعد عام لوگوں کی باری آئے گی۔ اس صورت میں اگر جہادپر جاناہر لحاظ سے لازم بھی ہو جائےتب بھی،ماں باپ سے اجازت لازم ہو گی۔ماں باپ کی اجازت اس وقت ساقط ہوتی ہے جب سرزمین اسلام پر براہ راست حملہ ہو جائے،ملک کی آزادی،ایمان اور ناموس کو خطرہ لاحق ہو جائے اور مسلح افواج ملک کے دفاع کے قابل نہ رہیں۔ لہٰذاآپ کے بھتیجے کا جہاد یہ ہے کہ وہ اپنے والدین کی اطاعت کرے اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرے۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرا ایک اور سوال ہے
اگر کوئی والدین یہ چاہتے ہیں۔ یا ان کی زندگئ کا مقصد ہی یہی ہے کہ ان کا بیٹا اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوجائے تو وہ والدین آج کے دور میں کیا کریں |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (06-01-12), رضی (09-01-12) |
|
|
#15 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرا ایک اور سوال ہے
اگر کوئی والدین یہ چاہتے ہیں۔ یا ان کی زندگئ کا مقصد ہی یہی ہے کہ ان کا بیٹا اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوجائے تو وہ والدین آج کے دور میں کیا کریں |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (06-01-12), فیصل ناصر (31-12-11) |
![]() |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| میں خوش ہوں اور زندگی سےلطف اٹھاتا ہوں ۔۔۔ بازو اور ٹانگوں کے بغیر نک وجےچک | موجو | عمومی بحث | 7 | 02-01-12 08:56 AM |
| ہم غیروں سے نہیں اپنے ہی میرجعفروں اور میرصادقوں سے مارے جاتے ہیں، جسٹس رمدے | گلاب خان | خبریں | 4 | 11-06-11 01:45 AM |
| میدانی علاقوں میں گرمی کا زور، پہاڑی علاقوں ہلکی بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی | گلاب خان | خبریں | 0 | 10-03-11 06:01 AM |
| ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال | جاویداسد | خبریں | 1 | 20-12-10 06:51 PM |
| ::: محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: | ابو کاشان | خبریں | 0 | 23-12-07 11:01 PM |