واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے ما لوں سے اور اپنی جانوں سے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-12-11, 07:23 AM   #1
اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے ما لوں سے اور اپنی جانوں سے
عبدالہادی احمد عبدالہادی احمد آف لائن ہے 27-12-11, 07:23 AM

میں نے آج ہی یہ مضمون لکھا ہے اس میں آپ کےدونوں سوالوں کا جواب بھی موجود ہے۔تاہم اس کے نتیجے میں کچھ سوال اور بھی پیدا ہوں گے۔ میں چاہتا ہوں آپ بھی اور دیگر بھائی بہن بھی ان کا جواب ضرور لکھیں:




امت مسلمہ جرمِ ضعیفی میں مبتلا ہے۔ اس سے بڑا جرم اور ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ قوم جو خود کو پیغمبر آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرتی ہے، غیرت اور حمیت سے عاری ہو جائے۔ وہ شخص مسلمان ہو ہی نہیں سکتا کہ جو کفار کی غلامی پر راضی ہو، طاقت ور کی کاسہ لیسی کرے اورخود کو طاقت اور مزاحمت کی صلاحیت سے یکسر محروم کر دے۔ وہ شخص جسے کفر کی طاقت کے آگے سجدہ ریز ہونے میں ذرا باک نہ ہو، مسلمان تو کیا، انسان کہلانے کا مستحق بھی نہیں۔ قوموں کی بزدلی اورکمزوری کا صرف یہی نتیجہ بر آمدنہیں ہوتا کہ ان کو طاقت کے سامنے سجدہ ریز ہوناپڑتا ہے، بلکہ طاقت ور قومیں انہیں اپنے سامنے جھکانے کے بعد اپنے گھٹیا ترین مقاصد کے لیے استعمال بھی کرتی ہیں۔ پاکستان کی افوج کا سپہ سالارجب امریکہ کے آگے جھک گیا، تودس برس تک ساری فوج کوبھی امریکہ اورصلیب کے آگے سر جھکائے رکھنا پڑا۔ اکیلامشرف ہی بش کے آگے سجدہ ر یزنہیں ہو گیا، ساری پاکستانی فوج ہی امریکی مقاصد کے لیے استعمال ہونے لگی۔ ملک اور فوج کے سارے وسائل بھی امریکہ کو خدمات مہیا کرتے رہے۔ وہ فوج جو اللہ کے دین کی محافظ تھی، اللہ تعالیٰ کے آگے سر جھکانے والوں کا خون بہانے اور اسامہؒ بن لادن جیسے اللہ کے مجاہد بندوں کا تعاقب کرنے میں مصروف ہو گئی۔
آخر اس بات کا جواز کیا تھا کہ پاکستان کے ہوائی اڈوں سے صلیبی طیارے اڑکرافغانستان اوراس کے ملحقہ علاقوں میں مسلمانوں پر بم اور میزائل برساتے رہیں۔ اس جنگ میں شرکت سے ہم نے امریکہ اورعالم کفر کو خوش کرنے کی کوشش میں کیااپنے رب کو ناراض نہیں کرلیا؟ اورکیااللہ کے غضب کو للکار کر بھی امن وسکون اور خوش حالی سے رہنا ممکن ہے؟ ان جرائم پر پاکستانی عوام کی مجرمانہ خاموشی اورحکومت اور فوج کی جانب سے ظالموں کی نصرت وحمایت کو برقرار رکھنے کی وجہ سے پاکستان پرعمومی مصیبتیں اور آفات آرہی ہیں۔ جہاد کو دہشت گردی کہنے میں نام نہاد مسلمان حکومتیں اور اسلامی ممالک کے ذرائع ابلاغ ہی پیش پیش نہ رہے، مسلمان دانش وراور نام نہاد علمائے امت بھی امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے لگے۔ خصوصاً جب نائن الیون کے بعدہزاروں مسلمان جہاد میں حصہ لینے کے جرم میں قتل کردیے گئے یاگوانتا نامو بے اور دیگر امریکی جیلوں میں ڈال دیے گئے، اس وقت خوف سے کلیجے منہ کو آنے لگے۔ امریکہ دندناتا ہوا افغانستان اور پھرعراق میں جا گھسا تو مسلمان قوم کی بے بسی دیکھی نہ جاتی تھی، بڑے بڑے شیخ الاسلام اور علم وفضل کے دریااپنی خانقاہوں میں سمٹ گئے، یاخوف سے گھروں میں دبک گئے۔ ہم نے چیچنیا کے شہر گروزنی اورکوسوو میں سروں پر سامان لادے بچوں کی انگلیاں پکڑے آنکھوں میں آنسو لیے پناہ کی تلاش میں مسلمان عورتوں کوبھاگتے دیکھااورچپکے بیٹھے رہے۔ کشمیر میں نوجوانوں کی لاشوں پر سینے پیٹتی مائیں دیکھیں اور ٹس سے مس نہ ہوئے۔ کابل، قندھار، بغداد، فلوجہ، بصرہ، بیروت اور غزہ میں خون کے دریا بہتے یوں دیکھتے رہے جیسے تماش بین فلمیں دیکھتے ہیں۔ ہمارا رویہ ایسا تھا جیسے مرغیوں کے ڈربے سے ذبح کرنے کے لیے چندمرغیاں نکال لی جاتی ہیں تو زندہ بچ جانے والی مرغیاں اطمینان کا سانس لیتی ہیں کہ چلو اپنی جان بچ گئی۔ ہم نے معلومات کے تبادلے کے طور پر اور کبھی دہشت گردی کی جنگ میں شرکت کے نام پراپنے بھائیوں اور بہنوں کو پکڑ پکڑ کر امریکی قاتلوں کے سپرد کیا۔ ملک کے تمام وسائل امریکہ کے حوالے کیے رکھے اور اس کی خوش نودی کے لیے اپنے لوگوں کا قتل عام تک کر گزرے۔ پاکستان اس وقت جس بدامنی، غربت ومہنگائی، قتل وغارت، چوری، ڈاکے، لوٹ مار، کرپشن، گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ، ڈرون حملوں، صلیبی قبضے، امریکی غلامی، بھارتی ثقافت اور ہندوکلچرکے غلبے کا سامنا کر رہا ہے کیا ہم نہیں سمجھتے کہ یہ ہماری ہی بد اعمالیوں کا شاخسانہ ہے؟ برس ہا برس سے ہم ظالم وجابر حکمرانوں کے تسلط، بے کردار لیڈروں کی سیاسی وفکری غلامی، ڈینگی وائرس، زلزلوں، طوفانی بارشوں، سیلابوں اورخشک سالی سمیت مختلف مصائب کے گرداب میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں، کیا ہمیں کبھی خیال آتا ہے کہ یہ اللہ کے غیظ وغضب کو للکارنے کا نتیجہ ہو سکتاہے!
پاکستانی عوام اللہ تعالیٰ کے مختلف عذابوں کو دیکھ کر صرف آنکھیں موندلینے پر اکتفا کیے ہوئے ہیں۔ اگروہ ان جرائم کا ذمے دارصرف حکمرانوں کو سمجھ ر ہے ہیں اورخود کوبے گناہ خیال کرتے ہیں۔ اگر وہ نہیں سمجھتے کہ ظلم کرنا بھی ظلم ہے اور ظلم ہوتے دیکھ کر خاموشی اختیار کرنا بھی ظلم ہے۔ یا اگران کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ ویسے ہی ان سے راضی ہوکر انہیں معاف کردے گاتوان کی یہ سوچ سراسر غلط ہے۔ اللہ تعالی کا ایک قانون اور نظام ہے جس میں کبھی ردوبدل نہیں ہوسکتا۔ اللہ کی سنت کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ اہل پاکستان کا پہلا جرم توپاکستان کے مقصدِ قیام سے انحراف ہے۔ ہم نے اللہ سے وعدہ کیا تھاکہ اس خطے میں اللہ کے دین کوسربلند اورشریعتِ مطہرہ کونافذ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ضروری تھا کہ ہم بحیثیت امت مضبوط تر ہوتے، فروعی اختلافات ختم کرتے اور حق کے قیام اور جہاد کے اجرا ءکی ہرتدبیر کرتے۔ مسلمان کی حیثیت سے ہم میں سے ہر ایک پر فرض تھا کہ یہ ملک جو اللہ کے دین کے نفاذ کے لیے حاصل کیا گیا تھااس میں اللہ کے دین کو عملاً نافذکرنے کے لیے اپنی جان لڑا دے۔ اگراسلام کے دشمن بزور طاقت اسلام کے نفاذکو روکتے، تواس مقصد عظیم کے لیے ہم جہاد کرتے، ان کے خلاف قوت استعمال کرتے۔ بدر و احد اوراحزاب وحنین میں اللہ کے رسول ﷺنے تنفیذِ دین میں رکاوٹ بننے والوں کے خلاف جہاد کر کے اس کا عملی نمونہ پیش فرمایاہے۔
دراصل پاکستان تو ہم نے بنا لیا، مگر حقیقی پاکستان بنانے کے لیے ضروری تھاکہ اسے قرآن کی تجربہ گاہ بنایا جاتا۔ وہ لوگ جو اس ملک کے اختیار و اقتدار پر فائز ہوئے ان کا قرآن سے کوئی تعلق نہ تھا۔ حضرت قائداعظمؒ نے قرآن کو پاکستان کی منزل قرار دیا تھا۔مسلمانانِ پشاور کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےآپ نے فرمایاتھا:
"اسلامی حکومت کا یہ امتیاز پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ اس میں اطاعت اور فرامین کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذا ت ہے جس کے لیے تعمیل کا مرکز قرآنِ مجیدکے احکام اور اصول ہیں قرآنِ کریم کے احکام ہی سیاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدود متعین کرتے ہیں۔’اسلامی حکومت‘ دوسرے الفاظ میں قرآنی اصول اور احکام کی حکمرانی ہے۔ " تاہم قائد کے جانشینوں نے قرآن کو پسِ پشت ڈال دیا۔ ہماری موجودہ حالت دراصل قرآن سے دوری کا شاخسانہ ہے۔ قرآن سے دوری کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ہم اسلام کی اصل قوت یعنی جذبہ جہاداور شوق شہادت سے نا آشنا ہو گئے۔ مغرب ومشرق میں ہمارے سب دشمن ہماری اسی طاقت سے خوف زدہ ہیں، ورنہ عسکری اعتبار سے تو ان کو اسلام اور مسلمانوں پر واضح برتری حاصل ہے۔ اپنے اس غلبے کو قائم رکھنے کے لیے انہوں نے دس برس پہلے مسلمانوں کے خلاف جو جنگ چھیڑی اس میں اس بات کا پورا اہتمام کیا کہ مسلمانوں کا جذبہ جہاد بیدار نہ ہونے پائے۔ اس کام پر وہ آج بھی کھربوں ڈالر کا سرمایہ خرچ کرتے ہیں جوہتھیاروں، افواج اور دیگر سامانِ جنگ کے علاوہ عالم گیر سطح پرپروپیگنڈے پر صرف ہوتا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں اربوں ڈالر تقسیم ہوتے ہیں تا کہ اسلامی جہاد کو دہشت گردی ثابت کیا جا سکے۔ اس سرمائے کا ایک بڑا حصہ مسلمانوں کے درمیان ایسے افراد کی’ خدمت‘ پر صرف ہوتا ہے جو جہاداور جذبہ جہادکے خلاف مغربی دلائل کو اسلامی رنگ میں پیش کر تے ہیں۔ یہ لوگ جہاد کے معجزانہ اثرات کی نفی کے لیے’منطق‘ پر مبنی مواد ا کٹھا کر کے مسلما نوں کو یہ با ور کروا تے ہیں کہ مغرب اورامریکہ کی ہر بات کو من و عن تسلیم کر ناہی حکمت کا تقاضاہے، اسی میں ہما ری بھلا ئی ہے اورامریکہ سے لڑنا دیوار سے سر ٹکرانے کے مترادف ہے۔ اہل مغرب کے بینکوں سے نکلنے والی رقوم سے پاکستان میں ان گنت این جی اوز، چینلز اور اخبارات وجراید چلتے ہیں۔ مغرب کی تجوریوں سے ڈالر اور پائونڈ وصول کر نے والے دانش فروش سکالرزاور علمائے سوکی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کوبھی اس مد میں بھاری وسائل بطور امداد حاصل ہیں، نوجوان نسل کومتاثر کرنے والی یونیورسٹیوں اور دانش گاہوں کوبھی ان کے تصرف میں دے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چینل کو دیکھیں وہاں پر مخلوط نوجوان نسل کے ساتھ مذاکرے کے پرگرام میں اسلام کی نئی تشریح کے ساتھ روشن خیالی کا پیغام دیا جا رہا ہو گا۔ کہیں جاوید غامدی، ڈاکٹر خالد ظہیر اور خورشید ندیم جہادکی مغرب کے لیے قابلِ قبول تشریح پیش کرتے نظر آتے ہیں تو کہیں پیپلز پارٹی اور اے این پی کے سیاسی قائدین جہاد کے خلاف وعظ و ارشاد فرماتے دکھائی دیتے ہیں۔ حسن نثار، نذیرناجی اورہودبھائی جیسے مفکرین تو جذبہ جہاد کو انتہا پسندی اور مسلمانوں کے زوال و تباہی کااصل سبب ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاکستان کی بزدل قیادت نے جہا د کا نام تک لینا چھوڑ دیاہے۔ کشمیری مجاہدین اور ان کی جد وجہد سے منہ موڑ لیاگیا ہے۔ بڑی بے شرمی سے جہاد کو دہشت گردی اور مجاہدین کو دہشت گرد کہا جاتا ہے۔ اسلام واہل اسلام سے دشمنی اور امریکہ وعالم کفرکی غلامی کی راہ اس لیے اختیار کی گئی، تاکہ ان پرکہیں جہاد کی حمایت کا الزام نہ لگ جائے، امریکہ کہیں ان کا تورہ بورا ہی نہ بنا ڈالے۔ تورا بورہ بننے سے تو وہ بچ گئے مگراس کے بدلے پاکستان کوبے پناہ قدرتی آفات ومصائب کا سامنا کر نا پڑا جواللہ کی سرکشی اختیارکرنے کا لازمی نتیجہ ہوتاہے۔ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں امریکا، اقوام متحدہ اوریورپی یونین کے اسلام دشمن قوانین جاری ہو گئے اور پاکستان پر یہودونصاریٰ کی بالادستی قبول کرلی گئی۔ حکومت کے ارکان و اعیان خاموشی سے مسلمانوں کو ملیامیٹ ہوتا دیکھ کرخوش ہوتے اور ڈالروں کے منتظر رہتے ہیں۔ بلکہ ان میں ایسے بھی ہیں جوجہاد کو پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ امریکی نقطہ نظر کی ترجمانی کرنے والے پاکستانی نژاد مفکرین میں حسین حقانی پیش پیش ہیں۔ ا مریکہ میں مو جود ا سلا می گروہ جیسے" اسلا مک سو سا ئٹی آف نا رتھ امریکہ "کو نسل آن امیریکن اسلا مک ریلیشنز اور مسلم ا سٹوڈنٹ ایسو سی ایشن حسین حقانی کی مسلم دشمن تنظیم کے خاص نشانے پر ہے۔ حسین حقانی نے "جیوش انسٹی ٹیوٹ آف سیکو ر ٹی "کے پلیٹ فارم پر تقریر کر تے ہو ئے پا کستان اور پا کستا نیوں کا خوب مذاق اڑا یا اورپاک ا مریکہ تعلقات میں باعث اضطراب پہلوئوں کی نشان دہی کر تے ہو ئے کہا کہ" پاکستان اور سعودی عرب ا مریکہ کے سب سے بڑے مشکل دو ا تحادی ہیں"۔ پا کستان اور ا مریکہ کے تعلقات کو مشکل بنانے والے با عث اضطراب اور خطرناک پہلوئوں کی نشان دہی کرتے ہوئے حقانی نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیا روں کے پھیلا ئوکے رحجان اورپا کستان کے اسلا می عسکری تحریک کے مر کز کے طور پرکر دار کی دہائی دی ہے۔ پا کستان کو اسلا می عسکری تحریک کا مرکزقرا ر د یتے ہو ئے حسین حقانی نے کہا" پا کستان مستقبل میں ا مریکہ اور مغربی دنیا کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ رہے گا۔" مولانا سید ابو ا علیٰ مو دودیؒ کی ”الجہاد فی الاسلام“ حسین حقانی کے نزدیک"عا لمی جہا دی کوششوں کے لیے ایک ا بلنے والی پلیٹ"ہے۔ پاک فوج کے خلاف ز ہر ا فشا نی کر تے ہو ئے کہتے ہیں: "پا کستان کی فوج ا سٹریٹجک و جو ہ کی بنا پر وقتاًفوقتاً اسلامی عسکریت پسندوں کے ساتھ اتحاد کر تی ر ہتی ہے اور مسجد اور فوج کے درمیان یہ اتحاد ہی تھا جس نے طالبان کو جنم دیا۔" حسین حقانی کشمیر کے مسئلے کو عسکری قیادت کی چال کہتے ہیں: "جس کے ذریعے وہ پا کستان پر حکمرا نی کر نا چا ہتی ہے۔"
افسوس اہلِ پاکستان نے حق کی قدر کرنے کا حق ادا نہیں کیا۔ پاکستانیوں نے قرآن کی پکار کا کماحقہ جواب نہیں دیا۔ جہاد جو ہماری اصل قوت اور دنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ اوردفاع کا سامان ہے، ہم نے اس سے منہ موڑ لیا۔ جہاد تر ک کرنے کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ہم نے ساری دنیا میں پرچم الٰہی کو لہرانے کے لیے اپنی صلاحیتیں استعمال نہ کیں، اسی لیے ہماری وحدت تتر بتر ہوہو گئی اور ہمارے دشمن بھوکے کتوں کی طرح ہمارے اوپر جھپٹ پڑے۔ آج وہ ہمیں بھنبھوڑ رہے ہیں، نوچ رہے ہیں اور ہم نہ صرف ان سے بچتے پھر رہے ہیں بلکہ ان کی خوشی کے لیے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی گردنیں کاٹ کر ان کے قدموں میں ڈال رہے ہیں۔ پورے عالم اسلام کا یہی حال ہے۔ ہم سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں، ایک سو ستر کروڑ کی تعداد میں ہوتے بھی تنہا ہیں۔۔۔ ستاون ممالک ہوتے ہوئے بھی ہمیں اکیلا ہونے کی شکایت ہے۔ہمارا مرض لا علاج ہے، ہمارے دکھ کا کوئی مداوا ہو بھی نہیں سکتاجب تک ہم قرآن کی طرف رجوع نہیں کریں گے۔ اگر مومن کا نور مبین کھو جائے اور وہ ظلمات میں ٹھوکریں کھا رہا ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ کھوئے ہوئے نور کو ڈھونڈے اور اس سے اپنے ماحول کو روشن کرے اور پھر اس نور کو چار دانگ عالم میں پھیلا دے۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ تمام عالم کو روشن کرنے کی صلاحیت صرف ہمارے پاس ہے۔ وہ نور ہم نے چھپا کر کیوں رکھا ہوا ہے جو اس لق ودق اندھیرے میں ہمیں بھی منور کر سکتا ہے اور کل عالم میں بھی روشنی پھیلا سکتا ہے۔
مومن کو نوید دی گئی ہے کہ اس کو وہ سب ملے گا جس کے لیے وہ کوشش اور جدوجہد کرے گا۔ اگر پسینہ بہائے گاتو اس کا اجر پائے گا اورحق کی شہادت دیتے ہوئے اپنا گرم خون نچھاور کرے گا، تواس کے اجرِعظیم سے بھی محروم نہیں رہے گا۔ مسلمانوں کے امراضِ قلب وروح کا علاج صرف اور صرف جہاد میں مضمر ہے۔ جہادہی ہماری داخلی وخارجی سلامتی کا ضامن ہے۔ جہادہی ہمارااصل ایٹم بم ہے اورموثرترین deterrent ہے، یقین نہیں آتا تو افغانستان میں مٹھی بھر طالبان کو جہاد لڑتے دیکھ لیں۔ امریکہ وہاں جہاد کی طاقت سے عاجز آ چکا ہے۔ اس سے پہلے جہاد سوویت یونین کے پر خچے اڑاچکا ہے۔ جہاد ہے تو یہ امت ہے جہاد نہیں تو نہ امت ہے نہ اس کا وقاراور شرف ہے، نہ اس کے لیے امن و سلامتی کی کوئی ضمانت ہی ممکن ہے۔"جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے(سورئہ عنکبوت 69)۔"سورئہ صف میں عذابِ الیم سے نجات دلانے کے لیے ایک تجارت کی نشان دہی کی گئی ہے:
" اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بتائوں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذاب الیم سے بچا دے؟ ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول پر، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے ما لوں سے اور اپنی جانوں سے یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمھیں عطا فرمائے گا۔ یہ ہے بڑی کامیابی اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو وہ بھی تمہیں دے گا، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہو جانے والی فتح۔ اے نبی، اہل ایمان کو اس کی بشارت دے دو۔" (الصف:13-10 )

عبدالہادی احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1005
Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (15-01-12), rana ammar mazhar (07-01-12), فیصل ناصر (27-12-11), ھارون اعظم (30-12-11), نبیل خان (08-01-12), محمدمبشرعلی (31-12-11), مرزا عامر (27-12-11), ایکسٹو (30-12-11), حیدر (11-01-12), رضی (31-12-11), سحر (27-12-11), طاھر (29-12-11), عبداللہ آدم (28-12-11)
پرانا 27-12-11, 09:18 AM   #2
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عبدالہادی بھائی جزاک اللہ
آجکل کا دور فتنوں کا دور ہے ۔ امت مسلمہ میں بہت سے متقی اور خالص ایمان رکھنے والے لوگ بھی ہیں ۔ جو دل سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا چاہتے ہیں اور دل میں شہادت کی تمنا رکھتے ہیں ۔
لیکن یہ لوگ منتشر ہیں ۔
یہ لوگ آج کے دور میں کیا کریں، جہاد فی سبیل اللہ کیسے کریں ؟
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (27-12-11), محمدمبشرعلی (31-12-11), مرزا عامر (27-12-11), حیدر Rehan (17-01-12), رضی (31-12-11)
پرانا 27-12-11, 12:29 PM   #3
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
عبدالہادی بھائی جزاک اللہ
آجکل کا دور فتنوں کا دور ہے ۔ امت مسلمہ میں بہت سے متقی اور خالص ایمان رکھنے والے لوگ بھی ہیں ۔ جو دل سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا چاہتے ہیں اور دل میں شہادت کی تمنا رکھتے ہیں ۔
لیکن یہ لوگ منتشر ہیں ۔
یہ لوگ آج کے دور میں کیا کریں، جہاد فی سبیل اللہ کیسے کریں ؟
یہ ضروری نہیں ہے کہ جہاد ہمیشہ تلوار سے کیا جائے ۔ بلکہ اللہ کے دین کی خاطر کسی بھی شعبہ میں اپنا وقت لگانا اس جدو جہد کی ایک شاخ ہے ۔ جو تلوار سے جہاد کر رہے ہیں۔ ان کی تعداد ٹھیک ہے اور وہ اپنا کام بخوبی نباہ رہے ہیں ۔
ایک حدیث سنی تھی ۔ جسکا مفہوم بیان کرتا ہوں ۔ کہ تم پر ایک وہ وقت آئے گا جب فتنے یعنی آزمائیشیں تم پر ایسی آ پڑیں گی جیسے کہ بارش ۔ یعنی ایک کے بعد ایک ۔ اور ان سے نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ ہوگا۔ قران کے احکامات پر عمل ۔ الفاظ کی کمی بیشی پر اللہ معاف فرمائے صرف مفہوم بیان کیا ہے ۔
دوسری طرف اس حدیث کا مطلب کچھ یوں بھی ہو سکتا کہ جب قران کی تعلیمات پر عمل چھوڑ دیا جائے گا تو مصیبتیں گھیر لیں گی ۔
اکثر جگہوں آگ لگ جانے کے باعث جان بچانے کے لیئے ایمرجنسی دروازے لگائے جاتے ہیں ۔ تو جو شخص آگ لگنے کی صسورت میں اس دروازے تک پہنچ گیا وہ بچ گیا اور جو پھنسا رہا تو وہ گیا کام سے۔
یہ قران آج بھی ہمارے لیئے ایک ایمرجنسی دروازہ ہے - اس کا استعمال کر لیں اور اس کی روشن تعلیمات کو آگے بڑھائیں یہ ایک بڑا جہاد ہے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (06-01-12), فیصل ناصر (27-12-11), کنعان (29-12-11), نبیل خان (08-01-12), مافی الضمیر (27-12-11), محمدمبشرعلی (15-01-12), ایکسٹو (30-12-11), احمد نذیر (08-01-12), اداس ساحل (27-12-11), حیدر Rehan (17-01-12), رضی (31-12-11), سحر (27-12-11)
پرانا 27-12-11, 10:19 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,516
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
یہ ضروری نہیں ہے کہ جہاد ہمیشہ تلوار سے کیا جائے ۔ بلکہ اللہ کے دین کی خاطر کسی بھی شعبہ میں اپنا وقت لگانا اس جدو جہد کی ایک شاخ ہے ۔ جو تلوار سے جہاد کر رہے ہیں۔ ان کی تعداد ٹھیک ہے اور وہ اپنا کام بخوبی نباہ رہے ہیں ۔
ایک حدیث سنی تھی ۔ جسکا مفہوم بیان کرتا ہوں ۔ کہ تم پر ایک وہ وقت آئے گا جب فتنے یعنی آزمائیشیں تم پر ایسی آ پڑیں گی جیسے کہ بارش ۔ یعنی ایک کے بعد ایک ۔ اور ان سے نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ ہوگا۔ قران کے احکامات پر عمل ۔ الفاظ کی کمی بیشی پر اللہ معاف فرمائے صرف مفہوم بیان کیا ہے ۔
دوسری طرف اس حدیث کا مطلب کچھ یوں بھی ہو سکتا کہ جب قران کی تعلیمات پر عمل چھوڑ دیا جائے گا تو مصیبتیں گھیر لیں گی ۔
اکثر جگہوں آگ لگ جانے کے باعث جان بچانے کے لیئے ایمرجنسی دروازے لگائے جاتے ہیں ۔ تو جو شخص آگ لگنے کی صسورت میں اس دروازے تک پہنچ گیا وہ بچ گیا اور جو پھنسا رہا تو وہ گیا کام سے۔
یہ قران آج بھی ہمارے لیئے ایک ایمرجنسی دروازہ ہے - اس کا استعمال کر لیں اور اس کی روشن تعلیمات کو آگے بڑھائیں یہ ایک بڑا جہاد ہے ۔
واہ جی واہ

بہت اعلی مرزا صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ نے واقعی ہی بہت خوب جہاد کے بارے میں معلومات دی ہیں اور قرآن مجید کو بروہے کار لانے کا جو مشورہ دیا ہے ۔ بس آپ کو "جزاک اللہ" ہی کہ سکتا ہوں
__________________
نہیں ہوں پر میں قائل شدت پسندی کا
میں ترے عشق کی آخری حد چاہتا ہوں


Last edited by اداس ساحل; 27-12-11 at 10:30 PM.
اداس ساحل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (06-01-12), مرزا عامر (27-12-11), احمد نذیر (08-01-12)
پرانا 27-12-11, 11:17 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 269
کمائي: 5,568
شکریہ: 190
214 مراسلہ میں 506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
عبدالہادی بھائی جزاک اللہ
آجکل کا دور فتنوں کا دور ہے ۔ امت مسلمہ میں بہت سے متقی اور خالص ایمان رکھنے والے لوگ بھی ہیں ۔ جو دل سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا چاہتے ہیں اور دل میں شہادت کی تمنا رکھتے ہیں ۔
لیکن یہ لوگ منتشر ہیں ۔
یہ لوگ آج کے دور میں کیا کریں، جہاد فی سبیل اللہ کیسے کریں ؟
ایسی مسلمانوں کو چاہئے کہ جہاد اکبر کریں اپنے نفس کے ساتھ جہاد کریں
جہاں تک مکمن ہو سکے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی درس دیں
جہاں تک اختیار ہے برائی کو ہاتھ سے روکنے کی کوشش کریں اور صرف زبان سے کہنے کا اختیار حاصل ہے تو زبان سے سمجاھئیں او اگر اس کی بھی سکت نہیں تو دل سے برا جانیں
میرا خیال ہے ہر بندہ کم از کم اپنے گھر والوں پر کچھ نا کچھ تو اختیار رکھتا ہے تو اسے چاہئے خود سدھرے اور اپنے گھر والوں کو بھی سدھارے
اجمل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے اجمل کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (06-01-12), حیدر Rehan (17-01-12)
پرانا 29-12-11, 05:17 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,516
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اجمل مراسلہ دیکھیں
ایسی مسلمانوں کو چاہئے کہ جہاد اکبر کریں اپنے نفس کے ساتھ جہاد کریں
جہاں تک مکمن ہو سکے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی درس دیں
جہاں تک اختیار ہے برائی کو ہاتھ سے روکنے کی کوشش کریں اور صرف زبان سے کہنے کا اختیار حاصل ہے تو زبان سے سمجاھئیں او اگر اس کی بھی سکت نہیں تو دل سے برا جانیں
میرا خیال ہے ہر بندہ کم از کم اپنے گھر والوں پر کچھ نا کچھ تو اختیار رکھتا ہے تو اسے چاہئے خود سدھرے اور اپنے گھر والوں کو بھی سدھارے
امر بالمعروف و نہی عن المنکر

اس کا درس تو بہت سنتے ہیں، جمعہ کی نماز ہو یا بعد نماز درس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔لیکن عملی طور پر کرتے ہیں۔ جہاد اکبر کی جو آپ نے بات بتائی کہ نفس کے خلاف جہاد، تو بالکل صحیح ، یہ ہی جہاد تو سب سے مشکل ہے۔ لیکن ناممکن نہیں
اداس ساحل آف لائن ہے   Reply With Quote
اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (06-01-12)
پرانا 30-12-11, 09:22 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سحر بی بی! آپ نے لکھا
"آجکل کا دور فتنوں کا دور ہے ۔ امت مسلمہ میں بہت سے متقی اور خالص ایمان رکھنے والے لوگ بھی ہیں ۔ جو دل سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا چاہتے ہیں اور دل میں شہادت کی تمنا رکھتے ہیں ۔
لیکن یہ لوگ منتشر ہیں ۔
یہ لوگ آج کے دور میں کیا کریں، جہاد فی سبیل اللہ کیسے کریں ؟"



بجا کہ یہ فتنوں کا دور ہے۔۔۔مگرفتنے کے دور میں جہاد ساقط تو نہیں ہو جاتا،بلکہ فتنوں کے خاتمے کے لیے جہاد کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔آپ نے جن متقی لوگوں کی بات کی ہے،ان کے جذبہ جہاد اور شوق شہادت پر ہی اس امت کا انحصار ہے۔رہا یہ سوال کہ وہ جہاد کیسے کریں تو اس کا جواب قرآن میں موجود ہے ۔۔۔۔ایسے لوگ مجاہدہ کریں گے، تو اللہ تعالی انہیں درست راستہ خود بتا دے گا،یہ اللہ کا وعدہ ہے۔۔۔۔والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا۔
میں نے جس جہاد کی بات کی ہے وہ جان اور مال کا وہ جہاد ہے جو کفر کی طاقت اور غلبے کو توڑ دے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ہی زمانے کے بارے میں پیش گوئی فرماتے ہوئے کہا تھا:"یوشک ان تداعی علیکم الامم کما تداعی الاکلۃ علی قصصتہاقالوا: امن قلۃ نحن یومئِذِ یا رسول اﷲ؟ قال: ”بل اَنتم یومئذٍ کثیر، ولکنکم غثاءکغثاءالسیل، ولینزعن اﷲ المہابۃ من صدور اعدائکم، ولیقذفن فی قلوبکم الوھن قالوا، وما الوھن یا رسول اﷲ؟ قال حب الدنیا وکراھیۃ الموت۔(قریب ہے کہ دُنیا کی قومیں تم پر یوں ٹوٹ پڑیں جیسے بھوکے کھانے کے تھال پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔صحابہ نے عرض کی، اے اللہ کے رسول، کیا اس لیے کہ تب ہم بہت تھوڑے ہوں گے؟ فرمایا ”نہیں نہیں! اس روز تعداد میں تو تم بہت زیادہ ہو گے۔ مگر تم خس وخاشاک ہو گے جیسے خس وخاشاک سیلاب (کی سطح) پر ہوا کرتے ہیں۔ خدا تمہارے دشمنوں کے سینوں سے تمہاری ہیبت ختم کردے گا اور تمہارے دلوں میں وَھَن (کمزوری) ڈال دے گا۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول یہ وَھَن کیا ہوگا؟ فرمایا،دُنیا پہ ریجھ جانا اور موت سے جی چرانا(مسند احمدو ابوداؤد)
دیکھ لیجیے !ایساف اور نیٹو کی افواج نے عراق اور افغانستان کے مسلمانوں کا جوحال کیا،اسرائیل فلسطین کے مسلمانوں سے اوربھارت کشمیر کے مسلمانوں سے جوسلوک کر رہا ہے،کیا وہ مِن و عَن وہی نہیں جس کی طرفٍ حضور رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا تھا۔۔۔قومیں ہم پر اسی طرح ٹوٹ پڑی ہیں جس طرح بھوکے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔صحابہ رسول نے وھن کے بارے میں پوچھاتھا،تو حضور نے جیسے ہماری نبض پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔۔۔حب الدنیا وکراھیۃ الموت۔
میرے بعض بھائی کہتے ہیں کہ جہاد ِ اکبر بھی تو ہے ،یعنی جہاد بالنفس کی بات بھی کرو۔۔۔جہاد اصغر یعنی قتال کی بات کرتے ہوتو جہاد اکبرکی بات بھی کرو۔لیکن نفس سےجہادبھی تب ہی ممکن ہوتاہے جب دنیا سے محبت اور موت سے نفرت کم ہو جائے۔حسنی مبارک پچاس ارب ڈالر سے بھی سیر نہ ہواتھا،زین العابدین علی سونے کا جہاز بھر کر بھاگا،قذافی سو ارب ڈالر مغربی بینکوں میں چھوڑ کر مرگیا۔اب دیکھیں ہمارے زرداری گیلانی کتنی لوٹ مار کرکےمرتے ہیں۔یہ سب وھن کے مریض ہیں۔یہ سب موت سے خوف زدہ ہیں،شہادت ان میں سےکسی کی منزل نہیں۔یہ نہ جہاد اکبر کے قائل ہیں نہ جہاد اصغر کے۔۔۔۔
رہا جہادِ اکبر کا معاملہ توجہاد اکبر تو جاری و ساری ہے۔چالیس لاکھ لوگ حج کے اجتماع میں ہوتے ہیں۔بنگلہ دیش اور رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماعات میں بھی تین سے چار ملین اہل ایمان موجود ہوتے ہیں۔ملتان میں سنتوں بھرے اجتماع میں بھی لاکھوں عشاقِ رسول یہ جہاد اکبر کرتے ہیں۔اس کے باوجوددنیا بھر میں مسلمانوں کو کچلا اور مسلا جا رہا ہے۔۔۔دوسری طرف چند ہزار طالبان امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے بندوق کی زبان میں بات کر رہے ہیں،ان کی بات کا نہ صرف وزن ہے بلکہ ان سے مذاکرات کے لیے منتیں کی جاتی ہیں۔کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ جہاد اکبر اسی وقت موثر ہوتا ہے جب جہاداصغر (قتال)ترک نہ کر دیا گیا ہو، یعنی قتال اور جہاداصغر کرنے والے ہی حقیقی جہادکرتےہیں اور ان ہی کو جہاد اکبر کرنے کی توفیق ملتی ہے۔یہ بات نہ ہوتی تو لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں جہادِ اکبر کرنے والےہمارے دشمن کی نگاہ میں اتنے بےوزن نہ ہوتے۔ سچ تویہ ہے کہ ایک سو ستر کروڑ مسلمان بھی ان کی نگاہ میں خس و خاشاک سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔
میں اسی لیےاس جہاد کی بات کرتا ہوں جو کفر کی نگاہ میں ہمیں وزنی بنا دے۔۔۔جو ہماری صحیح دفاعی قوت اورحقیقیDeterrent ہو۔۔۔وہ جہادکہ جس میں حق کی گواہی نقدِ جاں پیش کر کے دی جاتی ہے۔گرم گرم شہ رگ کا ابلتا لہو نچھاور کیا جاتا ہے۔جس سے ہم وھن کی بیماری سے شفا پا جائیں ۔جس کے بعد ہماری حالت سیلاب کے اوپر آئے ہوئے خس و خاشاک جیسی نہ رہے۔جس سے ہم اس پوزیشن میں آ جائیں کہ کفر کا زور توڑ سکیں۔جس سے امت کو حقیقی اتحاد نصیب ہو گااورہم منتشر نہیں رہیں گے۔ان شاءاللہ

Last edited by عبدالہادی احمد; 30-12-11 at 09:53 AM.
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
کنعان (31-12-11), ھارون اعظم (31-12-11), نبیل خان (08-01-12), محمدمبشرعلی (31-12-11), مرزا عامر (30-12-11), ایکسٹو (30-12-11), حیدر (30-12-11), حیدر Rehan (17-01-12), رضی (31-12-11), سحر (30-12-11), عبداللہ حیدر (30-12-11)
پرانا 30-12-11, 12:10 PM   #8
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ عبدالہادی بھائی
آپ نے وہ بات کی جس سے کرتے ہوئے بھی آجکل لوگ ڈرتے ہیں۔
میں اپنا سوال تھوڑا بدل کر کرتئ ہوں
میرا بھتیجا ہے 17 سال کا ہے حافظ قرآن ہے بہت نیک اور شریف ہے صحیح اسلام پر عمل کرنے والا پڑھائی کے ساتھ ، گھر کی ذمہ داریوں میں اپنے باپ کا بوجھ بھئ باٹتا ہے ماں باپ کو بہت امیدیں ہے اس سے کہ وہ اپنے پاوں پر کھڑا ہو گا تو ان کی مشکل زندگئ میں کچھ آسانئ آجائے گئ
۔ وہ جہاد پر جانا چاہتا ہے اس کی ماں اور باپ پریشان ہوتے ہیں
تو کہتا ہے کہ مجھ جیسے نوجوان پر جہاد فرض نہیں تو پہر کس پرہے
آپ اس کو یا اس کے ماں باپ کو کیا مشورہ دیں گے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (06-01-12), نبیل خان (08-01-12), محمدمبشرعلی (31-12-11), حیدر Rehan (17-01-12), رضی (31-12-11), شعبان نظامی (30-12-11)
پرانا 30-12-11, 08:40 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,516
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
جزاک اللہ عبدالہادی بھائی
آپ نے وہ بات کی جس سے کرتے ہوئے بھی آجکل لوگ ڈرتے ہیں۔
میں اپنا سوال تھوڑا بدل کر کرتئ ہوں
میرا بھتیجا ہے 17 سال کا ہے حافظ قرآن ہے بہت نیک اور شریف ہے صحیح اسلام پر عمل کرنے والا پڑھائی کے ساتھ ، گھر کی ذمہ داریوں میں اپنے باپ کا بوجھ بھئ باٹتا ہے ماں باپ کو بہت امیدیں ہے اس سے کہ وہ اپنے پاوں پر کھڑا ہو گا تو ان کی مشکل زندگئ میں کچھ آسانئ آجائے گئ
۔ وہ جہاد پر جانا چاہتا ہے اس کی ماں اور باپ پریشان ہوتے ہیں
تو کہتا ہے کہ مجھ جیسے نوجوان پر جہاد فرض نہیں تو پہر کس پرہے
آپ اس کو یا اس کے ماں باپ کو کیا مشورہ دیں گے
والدین کے حقوق کا کوئی ثانی نہیں ۔ والدین کی خدمت کو اللہ کی راہ میں جہاد سے بھی افضل قرار دیا ہے۔ اور شاید کوئی حوالہ بھی ہے کہ ماں باپ کی خدمت کے واسطے ایک نوجوان کو جہاد پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا جہاد ختم ہو گیا ہے۔ ماں باپ کی خدمت، گھریلو ذّمہ داری اور نفس سے جہاد بھی تو جہاد ہے۔

ذرا اس نوجوان کو سوچنا چاہیے، جس طرح سے پاکستان کا ماحول ہے، اگر اس کے ماں باپ کو کوئی ضرورت پڑتی ہے تو اسے کون پورا کريگا۔ اگر ماں باپ کے پاس دوائی کوبھی پیسے نہیں، تو اس جہاد کی اہمیت کیا رہ جائے گی
اداس ساحل آف لائن ہے   Reply With Quote
اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (06-01-12)
پرانا 30-12-11, 08:51 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مراسلات: 440
کمائي: 7,019
شکریہ: 0
236 مراسلہ میں 412 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
یہ ضروری نہیں ہے کہ جہاد ہمیشہ تلوار سے کیا جائے ۔ بلکہ اللہ کے دین کی خاطر کسی بھی شعبہ میں اپنا وقت لگانا اس جدو جہد کی ایک شاخ ہے ۔ جو تلوار سے جہاد کر رہے ہیں۔ ان کی تعداد ٹھیک ہے اور وہ اپنا کام بخوبی نباہ رہے ہیں ۔
ایک حدیث سنی تھی ۔ جسکا مفہوم بیان کرتا ہوں ۔ کہ تم پر ایک وہ وقت آئے گا جب فتنے یعنی آزمائیشیں تم پر ایسی آ پڑیں گی جیسے کہ بارش ۔ یعنی ایک کے بعد ایک ۔ اور ان سے نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ ہوگا۔ قران کے احکامات پر عمل ۔ الفاظ کی کمی بیشی پر اللہ معاف فرمائے صرف مفہوم بیان کیا ہے ۔
دوسری طرف اس حدیث کا مطلب کچھ یوں بھی ہو سکتا کہ جب قران کی تعلیمات پر عمل چھوڑ دیا جائے گا تو مصیبتیں گھیر لیں گی ۔
اکثر جگہوں آگ لگ جانے کے باعث جان بچانے کے لیئے ایمرجنسی دروازے لگائے جاتے ہیں ۔ تو جو شخص آگ لگنے کی صسورت میں اس دروازے تک پہنچ گیا وہ بچ گیا اور جو پھنسا رہا تو وہ گیا کام سے۔
یہ قران آج بھی ہمارے لیئے ایک ایمرجنسی دروازہ ہے - اس کا استعمال کر لیں اور اس کی روشن تعلیمات کو آگے بڑھائیں یہ ایک بڑا جہاد ہے ۔
مرزا جی آپ نے اچھی طرح مسئلے کو حل کیا ہے، جہاد ہو یا کوئی بھی اور مسئلہ ہو ہمیں اسے قرآن اور سنت کی روشنی میں دیکھنا چاہیے، اللہ ہم سب کو دین کو سمجھنے کی طوفیق عطا فرمائے۔ "وما علینا الا البلاغ المبینا"
کلمہ حق آف لائن ہے   Reply With Quote
کلمہ حق کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (06-01-12)
پرانا 30-12-11, 09:33 PM   #11
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کلمہ حق مراسلہ دیکھیں
مرزا جی آپ نے اچھی طرح مسئلے کو حل کیا ہے، جہاد ہو یا کوئی بھی اور مسئلہ ہو ہمیں اسے قرآن اور سنت کی روشنی میں دیکھنا چاہیے، اللہ ہم سب کو دین کو سمجھنے کی طوفیق عطا فرمائے۔ "وما علینا الا البلاغ المبینا"
ما شااللہ ماشا اللہ۔۔۔۔کس مدرسے قرآن پڑھنے جا رہے ہیں آج کل
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (08-01-12), مرزا عامر (30-12-11), احمد نذیر (08-01-12)
پرانا 30-12-11, 09:40 PM   #12
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کلمہ حق مراسلہ دیکھیں
مرزا جی آپ نے اچھی طرح مسئلے کو حل کیا ہے، جہاد ہو یا کوئی بھی اور مسئلہ ہو ہمیں اسے قرآن اور سنت کی روشنی میں دیکھنا چاہیے، اللہ ہم سب کو دین کو سمجھنے کی طوفیق عطا فرمائے۔ "وما علینا الا البلاغ المبینا"
میں نے مسئلہ حل کر دیا ؟؟؟
میں تو مسائل پیدا کرنے والوں میں سے ہوں ۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (06-01-12), حیدر (30-12-11)
پرانا 31-12-11, 09:23 AM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
جزاک اللہ عبدالہادی بھائی
آپ نے وہ بات کی جس سے کرتے ہوئے بھی آجکل لوگ ڈرتے ہیں۔
میں اپنا سوال تھوڑا بدل کر آتی ہوں
میرا بھتیجا ہے 17 سال کا ہے حافظ قرآن ہے بہت نیک اور شریف ہے صحیح اسلام پر عمل کرنے والا پڑھائی کے ساتھ ، گھر کی ذمہ داریوں میں اپنے باپ کا بوجھ بھئ باٹتا ہے ماں باپ کو بہت امیدیں ہے اس سے کہ وہ اپنے پاوں پر کھڑا ہو گا تو ان کی مشکل زندگئ میں کچھ آسانئ آجائے گئ
۔ وہ جہاد پر جانا چاہتا ہے اس کی ماں اور باپ پریشان ہوتے ہیں
تو کہتا ہے کہ مجھ جیسے نوجوان پر جہاد فرض نہیں تو پہر کس پرہے
آپ اس کو یا اس کے ماں باپ کو کیا مشورہ دیں گے

جہاد انفرادی نہیں اجتماعی فریضہ ہے۔
لاریب دنیا کے سارے مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ جہاد کے قیام کا انتظام کریں۔یعنی ستاون اسلامی ملکوں پر فرض ہے کہ وہ اس کائنات ارضی پر اسلام کے کلمے کو بلند کرنے کے لیے جہاد کریں۔وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ يَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ (اے ایمان لانے والو، ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہےاور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے۔)۔اگر اللہ کے کلمے کی بلندی کے لیےاور کفار کے غلبے کو ختم کرنے کے لیے عالم گیر پیمانے پرجہاد نہیں کیا جائے گا تو سارے مسلمان گناہ گار اور اس فریضے کی ادائیگی کے سلسلےمیں اللہ کے ہاں جواب دہ ہوں گے،لیکن ساری امت پر جہاد فرض ہونے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ایک نوجوان پر ماں باپ کی اجازت کے بغیرکسی دوسرے ملک جا کر جہاد کرنا فرض ہو جائے گا۔
اسلام کا باقاعدہ عسکری نظام ہے،مسلمان مجاہدین بھیڑ بکریوں کا گلہ نہیں ہوتے نہ غیر منظم ملنگوں کی فوج ہوتے ہیں جہاد کی فرضیت کا باقاعدہ طریق کار ہے اور وہ یوں ہے کہ اسلامی ممالک کی مسلح اور تربیت یافتہ فوجیں جہاد کریں گی۔افواج نہ ہوں تا پھر امت میں عام لام بندی کا اعلان ہو گا۔اس وقت امت کے نوجوان نکلیں گے اور جنگ کی تربیت حاصل کریں گے اور جہاد کی صفوں میں شامل ہوں گے۔
پاکستان میں کہیں بھی جہاد نہیں ہو رہا ہے،کشمیر میں محدود پیمانے پر جہاد ہو رہا ہے،لیکن وہاں مقامی مجاہدین کی تعداد کفایت کرتی ہے۔صرف افغانستان میں جہاد ہو رہا ہے۔افغان مجاہدین کو بھی باہر سے امداد مانگنے کی ضرورت لاحق نہیں ہوئی۔افغانستان جا کر جہاد کرنا اسی صورت میں فرض ہو گا جب افغانستان میں لڑنے والے کم پڑ جائیں اور افغانستان کے مجاہدین کا سپہ سالار پاکستان سے باقاعدہ امداد مانگے۔پھر بھی اہل پاکستان پر جہاد اسی وقت فرض ہو گاجب پاکستان اس امداد کے لیے آمادہ ہو۔پھر بھی پہلے افواج پاکستان امداد کے لیے جائیں گی۔اگر فوج مدد کرنے کے لیے تیار نہ ہو،تو مجاہدین کی اجتماعی قیادت علماءکے فتوے کے ذریعےعام اعلان کرے گی۔اس کے بعد عام لوگوں کی باری آئے گی۔
اس صورت میں اگر جہادپر جاناہر لحاظ سے لازم بھی ہو جائےتب بھی،ماں باپ سے اجازت لازم ہو گی۔ماں باپ کی اجازت اس وقت ساقط ہوتی ہے جب سرزمین اسلام پر براہ راست حملہ ہو جائے،ملک کی آزادی،ایمان اور ناموس کو خطرہ لاحق ہو جائے اور مسلح افواج ملک کے دفاع کے قابل نہ رہیں۔ لہٰذاآپ کے بھتیجے کا جہاد یہ ہے کہ وہ اپنے والدین کی اطاعت کرے اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرے۔
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (31-12-11), رضی (09-01-12), سحر (31-12-11)
پرانا 31-12-11, 12:05 PM   #14
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرا ایک اور سوال ہے
اگر کوئی والدین یہ چاہتے ہیں۔ یا ان کی زندگئ کا مقصد ہی یہی ہے کہ ان کا بیٹا اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوجائے
تو وہ والدین آج کے دور میں کیا کریں
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (06-01-12), رضی (09-01-12)
پرانا 31-12-11, 12:05 PM   #15
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرا ایک اور سوال ہے
اگر کوئی والدین یہ چاہتے ہیں۔ یا ان کی زندگئ کا مقصد ہی یہی ہے کہ ان کا بیٹا اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوجائے
تو وہ والدین آج کے دور میں کیا کریں
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (06-01-12), فیصل ناصر (31-12-11)
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
میں خوش ہوں اور زندگی سےلطف اٹھاتا ہوں ۔۔۔ بازو اور ٹانگوں کے بغیر نک وجےچک موجو عمومی بحث 7 02-01-12 08:56 AM
ہم غیروں سے نہیں اپنے ہی میرجعفروں اور میرصادقوں سے مارے جاتے ہیں، جسٹس رمدے گلاب خان خبریں 4 11-06-11 01:45 AM
میدانی علاقوں میں گرمی کا زور، پہاڑی علاقوں ہلکی بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی گلاب خان خبریں 0 10-03-11 06:01 AM
ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال جاویداسد خبریں 1 20-12-10 06:51 PM
:::‌ محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: ابو کاشان خبریں 0 23-12-07 11:01 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:00 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger