واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


اور میرا بلیڈ پریشر ہائی سے لو ہوگیا محترم محمد الیاس ندوی بھٹکلی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-09-11, 10:16 PM   #1
اور میرا بلیڈ پریشر ہائی سے لو ہوگیا محترم محمد الیاس ندوی بھٹکلی
سیفی خان سیفی خان آف لائن ہے 30-09-11, 10:16 PM

سَن تو مجھے حتمی طور پر یاد نہیں ،لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب تازہ تازہ دارالعلوم ندوة العلماء سے فضیلت کے بعد جامعہ میں میرا تقرر ہواتھایعنی کوئی 1990ء کے آس پاس کا زمانہ یعنی قصہ اس وقت کا ہے جب آتش جواں تھا۔

بھٹکل میں آباد مسلمانوں کے متعلق عام طور پر ہرآنے والا نووارد مہمان یہ تأثر ضرور لے کر جاتاہے کہ یہاں کی مساجد نہ صرف نمازیوں سے الحمدللہ بھری رہتی ہیں بلکہ اس میں بوڑھوں سے زیادہ جوان اور جوانوں سے زیادہ بچے رہتے ہیں ، اللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم کاحکم ہے کہ سات سال سے بچوں کو نماز کا حکم دو ، لیکن یہاں چار اور پانچ سال ہی سے اس کی تربیت کی جاتی ہے ، اس کم عمری ہی میں بچوں کو مساجد میں نماز باجماعت کے لیے لانے سے عام نمازیوں کو ان کے شور وشغب اور ہنگامہ آرائی سے جو ذہنی کوفت ہوتی ہے وہ بعض اوقات بیان سے باہر ہوتی ہے ، کچھ اسی طرح کاایک واقعہ جو میرے ساتھ پیش آیا وہ سننے اور پڑھنے سے تعلق رکھتاہے۔

میں اپنے محلہ کی مسجد طوبی میں ایک دن عشاء کی جماعت میں شریک تھا اور پہلی صف ہی میں تھا، جب امام صاحب نے تکبیر تحریمہ کہی تو ہم نے بھی نماز کی نیت باندھ لی، کچھ ہی دیر گذری تھی کہ پچھلی صف میں موجود بچوں نے پہلی رکعت میں اتنی زور سے آمین بالجہرکی کہ ایسا معلوم ہوتاتھاکہ کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے( یاد رہے کہ بھٹکل کے مسلمان امام شافعی رحمة الله علیہ کے مقلد ہیں) خیردوسری رکعت میں پھر امام صاحب کے اختتام سورہ فاتحہ پر کچھ اور بچوں کی جماعت میں شرکت سے ان بچوں کو اور تقویت ملی اور جو آواز مسجد کے صحن کے باہر تک تھی اب آس پاس کے گھروں تک بھی شاید پہنچ گئی ،بات خیر اتنی ہی رہتی تو کوئی حرج نہیں تھا کہ ان معصوم نونہالوں کو ہم نے ہی بتایا تھاکہ سورہ فاتحہ دراصل دعاہے اور دعا کے اختتام پرنماز میں بھی آمین کہنا باعث قبولیت دعاہے، لیکن اسی کے ساتھ ان کو ہم یہ بتانا بھول گئے تھے کہ بلند آواز سے آمین بالجہر کامطلب صرف اتنی بلند آواز سے کہنا ہے کہ بغل میں موجود نمازی سن سکیں ، وہ بچے بیچارے جلد قبولیت دعاکے شوق میں یہ سمجھ بیٹھے کہ جتنی بلند آواز سے ہم آمین کہیں گے شاید اتنی جلد ہماری دعا قبول ہوگی،خیر،تیسری رکعت شروع ہوئی، اب ان کو معلوم تھا کہ ان دو آخری رکعتوں میں ہمارے لیے آمین بالجہر کا موقع نہیں رہا ، چنانچہ بعض بچے آپس میں لڑنے لگے ، ایک دوسرے کو دھکا دینے لگے بلکہ ایک دوسرے کا گریبان پکڑ کر کھینچنے بھی لگے ، غرض یہ کہ اس قدر شورشغب اور ہنگامہ کرنے لگے کہ نماز سے میری پوری طرح توجہ ہٹ گئی اور میری حالت اس قدر ناقابل برداشت ہوگئی کہ میں نے ارادہ کرلیا کہ نماز توڑ کر ہی ان سب کی خبر لوں اور ان سب کی ایسی سخت پٹائی کروں کہ وہ اسی وقت مسجد سے بھاگ جائیں اورپھر کبھی جلد مسجد کا رخ نہ کریں، بالآخر میں نے یہ عزم مصمم کرلیا کہ سلام پھیرتے ہی امام کی دعاسے پہلے ہی ان سب کی خبر لوں گا اوران کو ایسے طمانچے رسید کروں گا کہ بڑے ہوکر بھی وہ یادرکھیں ، میں نے اس وقت نماز سے فارغ ہونے کی جلدی میں امام کے بعد نہیں بلکہ امام کے ساتھ ہی اپنا سلام پھیرااور تیزی سے اٹھ کر پیچھے ان کی طرف مڑ کر ان کو پکڑنے کی کوشش کی ،لیکن وہ بچے ہم سے زیادہ ہوشیار اور تیز نکلے ،وہ سب امام کے دونوں سلام پھیرنے کے انتظار میں رہ کر اپنے ممکنہ برے انجام سے بچنے کے لیے جس کا شاید ان کو اندازہ ہوگیا تھاامام کے دوسرے سلام پھیرنے سے پہلے ہی تیزی سے مسبوق مصلیوں کی صفوں کو پھاند کر مسجد سے باہر نکل گئے،میں بھی طیش وغصہ کی حالت میں صفوں کو پھاندتاہوا ان کے پیچھے بھاگا،اس وقت میرا بلیڈپریشر آخری درجہ کو پہنچ گیا تھا،بالآخرمحنت بسیار کے بعد ان میں سے کچھ بچے میرے ہاتھ لگے لیکن ان کو دیکھتے ہی اچانک میرا بلیڈ پریشر لو ہوگیا اور ان کی طرف اٹھنے والے میرے ہاتھ اچانک رک گئے ۔

آپ پوچھیں گے کہ کیا ان بچوں نے معافی مانگ لی، یا میرے پیچھے کوئی مصلی آگیا اور ا س نے مجھے ان کو مارنے سے روک دیا یاپھر مجھے خدا یاد آگیا، ان بچوں پر اٹھنے والے میرے ہاتھوں کے نتائج مجھے مستحضر ہوگئے اور میں اس سے باز آگیا،یا پھر میری طبیعت ہی اچانک بگڑگئی اور سر چکرا کروہیں بیٹھ گیا،یاپھر ان معصوم کلیوں کی شرارتوں پر رحمت عالم صلی الله علیہ وسلم کا مشفقانہ عمل مجھے یاد آگیا اور میرے ہاتھ رک گئے،لیکن ان میں سے کوئی بات نہیں تھی ،دراصل میرے ہاتھ لگنے اورپکڑے جانے والے اور نمازمیں ناقابل برداشت شرارت کرنے والے ان بچوں میں میرا ایک بھتیجہ بھی تھا جس کا مجھے پہلے سے علم نہیں تھا،اسی اپنے بچہ کی موجودگی نے میرے ہائی بلیڈ پریشر کو اچانک لوکردیا تھا اور اس پورے مجمع میں اپنے بھتیجہ کو پیٹ کر میں خود اپنے گھروالوں کو شرمندہ کرنانہیں چاہتا تھا،دوسرے الفاظ میں ان کاجرم تو ناقابل معافی تھا لیکن اس وقت تک جب ان شریر بچوں میں کسی اپنے بھتیجہ کے ہونے کا اندازہ مجھے نہیں تھا، خود اپنے بچہ کی طرف سے اس جرم کے سرزدہونے سے وہی ناقابل معافی جرم اچانک قابل معافی بن گیا،دوسرے الفاظ میں شرارتیں کچھ دیر پہلے تک دوسروں کی تھیں تو قابل سزا تھیں لیکن اپنوں کی اچانک قابل نظر انداز ہوگئیں۔

اس سرسری پیش آنے والے واقعہ کی روشنی میں آج ہم اپنے معاشرہ پر نظر دوڑائیں،ہمارا یہ طرز عمل زندگی کے ہرشعبہ میں نظر آتاہے دوسرے خاندان کاکوئی فرد کوئی معمولی جرم بھی کرتاہے تو اس کی مذمت بلکہ اس کی تشہیرمیں ہم زمین آسمان ایک کردیتے ہیں اور اس کاچرچہ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے ،لیکن اس سے بڑا بھیانک جرم کسی اپنے سے ہوجاتاہے تو ہم اس کی تاویل کرنے لگتے ہیں اور اس کے لیے بہانے تلاش کرتے ہیں، اپنے کسی ہم مسلک ،ہم مشرب، ہم فکر اور ہم خیال سے کوئی بڑی سے بڑی غلطی بھی ہوجاتی ہے تو ہم اس پر پردہ ڈالنے، اس کو چھپانے کے لیے کیا کچھ نہیں کرتے ، لیکن اپنے کسی حریف ،فریق یا نظریاتی یا فکری طور پر مخالف شخص سے اس سے کم درجہ کا بھی گناہ ہوجاتاہے تو ہمارا رد عمل کس قدر ناقابل برداشت ہوجاتاہے ۔

لیکن غلطی بہرحال غلطی ہے ،چاہے اپنوں سے ہویا غیروں سے،گناہ بہر حال گناہ ہے ،مجھ سے ہو یا کسی اورسے ، اگر میرے یا میرے کسی عزیز یا دوست یا ہم فکر کی غلطی قابل تاویل یا پردہ پوشی کے قابل ہے تو فریق مخالف کا جرم بھی اسی طرح ستر پوشی ودرگذر اور معافی کا استحقاق رکھتاہے، قرآن و حدیث کی روشنی میں یہی وہ مطلوب تصور واستحضار ہے جو ہمیں کسی کی تحقیر وتذلیل سے روک سکتاہے۔

محترم محمد الیاس ندوی بھٹکلی ۔ ۔ ماہنامہ الفاروق
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/

 
سیفی خان's Avatar
سیفی خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 206
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
کنعان (01-10-11), نبیل خان (01-10-11), بلال الراعی (30-09-11), حیدر (01-10-11), راجہ اکرام (01-10-11), عروج (01-10-11)
پرانا 01-10-11, 01:32 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہمارے اکثر ملاے اپنے اسی بلڈ پریشر کے مرض کی وجہ سے اکثر بچوں کو مذہب اور نماز سے باغی بنا دیتے ہیں۔۔ اللہ ان کے حال پر رحم فرمائے۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
حیدر (01-10-11), عروج (01-10-11)
پرانا 01-10-11, 02:22 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس تحریر کا بنیادی مقصد قابل ِ غورھے اور اس پر عمل کرنے سے ھم ا للہ کے ھاں بھی ُسُرخرو ھو سکتے ھیں۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (01-10-11), حیدر (01-10-11), سیفی خان (01-10-11)
پرانا 01-10-11, 02:35 PM   #4
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,513
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

درست کہا آپ نے
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
سیفی خان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (01-10-11)
پرانا 01-10-11, 02:39 PM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

غلطی غلطی ہے چاہے وہ کسی سے بھی سرزد ہو ۔۔ جب تک یہ تصور ہمارے ہاں راسخ نہیں‌ ہوتا اور اسی سوچ کے ساتھ ہر جرم کا حساب نہیں ہوتا حقیقی انصاف کی فراہمی ایک خواب ہی رہے گی
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (01-10-11), حیدر (01-10-11), سیفی خان (01-10-11)
جواب

Tags
ہنگامہ, قرآن, قصہ, نظر, موقع, مسجد, معلوم, معاشرہ, آج, اللہ, بچوں, تلاش, جلد, حدیث, خبر, خدا, دوست, زندگی, زمانہ, سال, شور, شخص, عالم, عزیز, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کھٹّی میٹھی کرسپی فرائیڈ چکن ۔ ام غزل باورچی خانہ 3 26-10-11 04:52 AM
پریڈ کرنے والے انڈین فوجیوں کے گھٹنے جواب دے گئے ۔ ڈھیلی ڈھالی پریڈ جاویداسد خبریں 20 17-11-10 05:22 AM
جیو آئندہ ماہ سے 3/ نئے پروگرام شروع کریگا کراچی(جنگ نیوز) جیو ٹی وی نے ہم عبدالقدوس خبریں 1 22-06-08 09:24 PM
لاہور:ڈی سی ایچ ڈی کے کارکنوں نے پریس کلب کے باہر اور جیو کے کیمپ میں دیئے جلائے خرم شہزاد خرم خبریں 0 10-12-07 09:58 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:00 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger