| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 203
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 398
کمائي: 9,506
شکریہ: 1,248
330 مراسلہ میں 1,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اولاد سے سوال نہیں ھوگا کہ انہیں عقل و شعور دیا عمل کیوں نہیں کیا؟ کیا اولاد یہ کہہ سکتی ھے کہ والدین نے تعلیم نہیں دی؟ عمل سے روکتے تھے والدین؟ یہ سب وہاں سوال کرسکتی ہے اولاد کیا؟
__________________
رب میرا اللہ، دین میرا اسلام، محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے نبی ھیں۔۔۔!! |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,222
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
الســلامُ علیــکم
شافیہ سسٹریہ ایک طویل ٹاپک ہے ۔ کوشش ہے اختصار سے بیان کروں۔ دیکھیں اولاد کا ذہن ایک لوح سادہ کی مانند ہوتا ہے، اس پر جس طرح کی تعلیم و تربیت، ادب و تہذیب کی تحریریں لکھی جائیں گی، اسی انداز میں اولاد پروان چڑھے گی۔ اکثروالدین اولاد کی پرورش و تربیت میں والدین اسلامی آداب کو بالائے طاق رکھ کر بسم اللہ، کلمہ طیب، سلام، اللہ اور اس کے رسول کے مبارک ناموں کی تعظیم دینے کی بجائے گڈمارننگ، ہائے ہائے، بائے بائے کے مشرکانہ طور طریقے سکھلا کر اور ان کے کانوں میں اذان، قرآنی آیات، دعاء و ذکراللہ کا ورد کرنے کی بجائے فلمی گانوں، بجانوں، دھنوں اور فحش کلمات کی گونجیں سناتے ہیں، اس طرح بچپن ہی سے اولاد کو ماڈرن تہذیب کا شیدائی و دلدادہ بنا دیتے ہیں جبکہ اسلام میں اولاد کی تعلیم و تربیت کے لئے جو اصول و ضوابط اور ہدایات موجود ہیں، ان پر عمل پیرا ہو کر والدین اپنی اپنی اولاد کو صحیح و صالح اور پاکیزہ تعلیم و تربیت و پرورش کرکے اپنی اولاد کو جہنم کے شعلوں سے اور خود کو دنیا میں اولاد کے شر و فساد اور نافرمانیوں سے بچا سکتے ہیں اور آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی اپنی سرخ روئی، عزت و توقیر کا سامان فراہم کر سکتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ملاحظہ کیجئے کہ اولاد کی پرورش میں والدین کا کیا کیا کرادر ہونا چاہیے؟ اولاد کو بات بات پر ڈانٹنے جھڑکنے اور سرزنش کرنے سے سختی کے ساتھ پرہیز کرنے کا حکم ہے، ان کی کوتاہیوں اور غلطیوں پر نفرت و بیزاری کا اظہار کرنے کی بجائے حکمت و سوز کے ساتھ ان کی تربیت، محنت و مشقت کے ساتھ کیجئے۔ اپنے طرز عمل سے بچوں کے اوپر یہ خوف و ہراس بہرحال غالب رہے کہ ان کی کوئی خلاف شرع بات آپ ہرگز برداشت نہ کریں گے۔ اولاد کے ساتھ ہمیشہ نرمی، خوش اخلاقی، پیار و شفقت کا برتاؤ کیجئے۔ ان کی حسب منشاء ضرورتوں کو پوری کرکے ان میں اطاعت و فرمانبرداری اور وفاشعاری کے جذبات ابھارئے اگروہ خواہش نہ پوری کر سکتے ہوں تو اُنکو سمجھائیں۔ ایک بار احنف بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا، کہیے اولاد کے سلسلے میں کیا سلوک ہونا چاہیے؟ احنف بن قیس نے کہا، امیر المومنین اولاد ہمارے قلوب کا ثمرہ ہیں، کمر کی ٹیک ہیں، ہماری حیثیت ان کے لئے زمین کی طرح ہے، جو نہایت نرم اور بے ضرر ہے اور ہمارا وجود ان کے لئے سایہ فگن آسمان کی طرح ہے اور ہم انہیں کے ذریعہ بڑے بڑے کام انجام دینے کی ہمت کرتے ہیں۔ پس اگر وہ کچھ آپ سے مطالعہ کریں تو ان کے دلوں کا غم دور کیجئے، نتیجہ میں وہ آپ سے محبت کریں گے، آپ کی پدرانہ کوششوں کو پسند کریں گے اور کبھی ان پر ناقابل برداشت بوجھ نہ بنئے کہ وہ آپ کی نزدیکی سے اکتا جائیں اور آپ کی موت کے خواہاں ہوں، آپ کے قریب آنے سے نفرت کریں۔ حضرت معاویہ کو ان حکیمانہ باتوں نے کافی متاثر کیا اور آپ نے فرمایا احنف خدا کی قسم ! آپ جس وقت میرے پاس آکر بیٹھے ہیں یزید کے خلاف غصہ میں بھرا بیٹھا تھا، پھر حضرت احنف کے چلے جانے کے بعد امیر معاویہ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا، اور یزید سے راضی ہوگئے، اسی وقت یزید کو دوسو درہم اور دوسو جوڑے بھیجوائے، یزید کے پاس جب یہ تحفے پہنچے تو یزید نے ان کے دو حصے کئے اور سو درہم اور جوڑے حضرت احنف ابن قیس کی خدمت میں بھیجوائے۔ چھوٹے بچوں کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرئیے انہیں گود میں لے کر پیار کیجئے، ان کے ساتھ خوش روئی سے پیش آئیے۔ ہر وقت تند مزاج اور سخت گیر حاکم نہ بنے رہیے، اس طرز سے اولاد کے اندر والدین کے والہانہ جذبہ محبت بھی پیدا نہیں ہوتا، ان کے اندر خود اعتمادی و خودداری پیدا نہیں ہوتی اور ان کی طبعی نشوونماپر بھی خوشگوار اثرنہیں پڑتا۔ بچوں کی صفائی ستھرائی پر خاص خیال رکھنا چاہیے، ان کی طہارت و نظامت اور غسل وغیرہ کا خیال رکھا جائے، صاف ستھرے کپڑے رکھے جائیں، زیادہ بناؤ سنگھار، نام و نمود سے اجتناب کئے جائیں۔ لڑکی کے کپڑے بھی نہایت سادہ رکھئے، بھڑکیلے چمکدار، پرکشش لباس پہناکر بچوں کے مزاج و عادات کو خراب نہ کیا جائے، بچوں کے عیب دوسروں کے سامنے بیان نہیں کرنے چاہئیں، کیونکہ ایسا کرنے پر ان کی عزت و انا پر ٹھیس پہنچتی ہے، ان کی معمولی اچھائیوں کی خوب خوب تعریف کیجئے، ان کا دل بڑھانے اور ان میں خود اعتمادی اور حوصلہ پیدا کرنے کی کوشش کیجئے، تاکہ یہ لوگ اس دنیا میں اونچا سے اونچا مقام حاصل کر سکیں۔بچوں کو انبیاء و اولیائ، صلحاء و صالحین، صحابہ کرام اور مجاہدین اسلام کے قصے سنائیں جائیں، ان کی تربیت، کردار سازی، دین سے شغل و شغف کے لئے اس کو انتہائی ضروری سمجھے۔ ان کے سامنے قرآن پاک کو خوش الحانی کے ساتھ پڑھیے، موقع بموقع نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے فرمودات حسنہ کو بتائیں اور ابتدائی عمر سے ہی ان کے دلوں میں عشق رسول کی تڑپ پیدا کرنے کی کوشش کیجئے۔بچوں کے ذریعہ غریبوں محتاجوں کو کھانا، پیسے، کپڑے وغیرہ دلوائیے، جس سے ان کے دلوں میں محتاجوں کے ساتھ حسن سلوک صدقات و خیرات و عطیات و سخاوت کا جذبہ پیدا ہو۔ بھائیوں اور بہنوں میں خود ہی کھانے پینے کی چیزیں تقسیم کریں تاکہ ایک دوسرے کے حقوق کا احساس اور انصاف و دیانتداری کی عادت پیدا ہو۔ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اچھی شئیرنگ ہے
شکریہ |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | mama_shalla (03-04-11) |
![]() |
| Tags |
| com, jpg, فریضہ, کہہ, کیا؟, کردار, کرسکتی, ھوگا, ھے, وہاں, والدین, معاشرتی, اھم, اولاد, انہیں, تربیت, تعلیم, دینی, روکتے, سکتی, سوال, سازی, شعور, عقل, صدقات و خیرات |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| الفاظ کی بیت بازی | سیپ | شعر و شاعری | 10 | 20-01-11 03:21 PM |
| بیت بازی | ملک بھائی | شعر و شاعری | 16 | 06-08-10 09:28 PM |
| بیت بازی | nsa47 | شعر و شاعری | 14 | 25-06-10 07:16 AM |
| ہفتہ وار بیت بازی | خرم شہزاد خرم | شعر و شاعری | 213 | 07-02-10 11:20 AM |