واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


ایودھیا میں آذان اور گھنٹیاں ساتھ ساتھ؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-09-10, 02:13 PM   #1
ایودھیا میں آذان اور گھنٹیاں ساتھ ساتھ؟
shafresha shafresha آف لائن ہے 23-09-10, 02:13 PM

babri_mosque_befor_demoli.jpg

(انہدام سے قبل کی بابری مسجد)


بات بہت پرانی نہیں ہے بلکہ سترہ اٹھارہ سال پہلے کی ہے۔ میں گیارہویں میں پڑھتا تھا۔ دن کے گیارہ بجے ہوں گے۔ ہم سڑک پر کرکٹ کھیل رہے تھے۔ تبھی ایک رکشہ اور اس کے ساتھ لوگوں کا ایک گروپ آتا ہوا نظر آیا جب پاس آئے تو ہم نے دیکھنے کی کوشش کی کہ آخر رکشہ پرہے کیا۔

کچھ نہیں تھا ایک اینٹ تھی جس کے سامنے کچھ روپے پڑے تھے اور ساتھ چلنے والے لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ رام مندر کےلیے چندہ دیجیئے۔ لاؤڈ سپیکر پر اعلان ہو رہا تھا کہ اس اینٹ سے مندر تعمیر ہو گا۔

کارواں گزر گیا لیکن اس کے دھول کچھ مہینوں بعد نظر آئی جب معلوم ہوا کہ کوئی مسجد توڑ دی گئی ہے۔ اس کے بعد کالونی میں جگہ جگہ پوسٹر لگے سر پر بگوا (گیرو یا ہلکہ بادامی رنگ) کپڑا باندھے نوجوانوں کے جن کے نیچے لکھا تھا کہ یہ شہید ہوئے ہیں۔

میں سوچتا رہا کہ بھارت نے کوئی لڑائی تو نہیں لڑی ہے تو یہ شہید کیسے ہوئے ہیں اور انہوں نے فوجیوں کی طرح کپڑے بھی نہیں پہنے۔

یہ وہ دور تھا جب ہماری کالونی کے نوجوان کافی پرتشدد ہونے لگے تھے۔ انتخابات میں نوجوانوں کو بلایا جاتا اور وہ بس ایک ہی نعرا لگاتے جئے شری رام تو ایسا لگتا کہ رام جی انتخابات لڑ رہے ہیں۔

ایک اور نعرا لگتا کہ ’آیودھیہ تو جھانکی ہے کاشی متھورا باقی ہے‘۔ اس کا مطلب کچھ سال پہلے تب پتا چلا جب کاشی اور متھورا جانے کا موقعہ ملا۔

ہندوؤں کو لڑنے کےلیے اکسانے والی یہ تقریریں نوجوانوں میں جوش بھر دیتی تھی۔

سادھوی رتمبھرا کی ایک تقریر بھی چلتی تھی۔ کیا بولتی تھی یاد نہیں لیکن خون کھولنے والا بولتی تھی۔ ہندوؤں کو لڑنے کےلیے اکسانے والی یہ تقریر نوجوانوں میں جوش بھر دیتی تھی۔ اُما بھارتی، لال کرشن اڈوانی اور واجپئی کے نام ان تقاریر سے ذہن میں نقش ہوئے۔

بعد میں فسادات کی خبر آئی۔ ہماری چھوٹی کالونی میں کم اخبار آتے تھے اس لیے معلومات بھی کم ملتی تھی۔ ایک دن میدان میں اچانک سنا کہ مسلمان نزدیک کی مسجد سے لوگوں کو مارنے آ رہے ہیں۔ گھر دور تھا تو میں پاس میں ایک بڑے درخت پر چڑھ کر انتظار کرنے لگا یہ سوچ کر کہ درخت پر تو کوئی نہیں دیکھے گا۔

کچھ نہیں ہوا۔ نہ مسلمان آئے اور نہ فساد دیکھنے کی میری خواہش پوری ہوئی۔

یہ باتیں اس وقت سمجھ میں نہیں آتی تھیں۔ اب سوچتا ہوں تو یاد آتا ہے کہ کیسے جئے شری رام کا نعرا لگانے میں نوجوان فخر محسوس کرتے تھے۔ میرے ایک بھائی کو انتخابات والی گاڑی کی چھت پر جئے شری رام کرتے ہوئے بابا نے دیکھا تو خوب پٹائی کی تھی۔ والد صاحب جئے شری رام اور انتخابات دونوں سے ناراض تھے۔

اپنے جئے شری رام، ڈنڈے کے ڈر سے تبھی بھاگ گئے تھے لیکن جئے شری رام نے ڈر کی وجہ سے مسلمانوں کی دل میں گھر بسا لیا تھا۔ مسلمان ہم سے بات کرنے سے کترانے لگے۔

اب سوچتا ہوں تو یاد آتا ہے کہ اس وقت ہم نے کئی مسلمان دوست بھی کھوئے کیونکہ ہم نہ سمجھی میں ان کے ڈر کو ناراضگی سمجھ بیٹھے۔

پھر نوکری کرنے لگے۔ چھبیس فروری دو ہزار دو کو جب کار سیوکوں کو لیکر جا رہی سابرمتی ایکسپریس میں آگ لگنے کی خبر فلیش ہوئی تو میرے منہ سے یہی نکلا کہ یہ تو خبر بڑی ہو جائے گی۔

جئے شری رام کے بھگتوں کے غصے کو گجرات میں خون سے ٹھنڈا کیا گیا

اس دن جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں آل انڈیا سٹوڈنٹ کونسل کا مشعل بردار جلوس بھلائے نہیں بھولتا۔ مشعلوں میں آگ اور آنکھوں میں چنگاری۔ اس وقت میرے دماغ میں صرف تین الفاظ گردش کر رہے تھے۔ ’جئے شری رام جئے شری رام جئے شری رام‘۔

خبر بہت بڑی ہوئی اور مجھ جیسے کئی لوگ سوچنے پر مجبور ہوئے۔ جئے شری رام کے بھگتوں کے غصے کو گجرات میں خون سے ٹھنڈا کیا گیا۔

جئے شری رام کا ڈر جسمانی روپ اختیار کر چکا تھا۔ وہ دور خود سے نفرت کرنے کا تھا کیونکہ بھگوان رام تو قربانی کے دیوتا تھے۔ انہوں نے کبھی بھی خون بہانے کی بات نہیں کی۔ یہاں تک کہ ان کا خون بہانے سے پہلے بھی ان سے بات چیت کی تجویز دی تھی جو ان کی گھروالی کو لے گیا تھا۔

لیکن وہ عظمت والے انسان تھے۔ یہ جئے شری رام تھے جن کے لیے انتقام لینا ضروری تھا، خون خرابہ ضروری تھا۔

اگر کسی کے بھگوان اتنے ڈراونے ہوتے ہیں تو بھگوان نہ ہوں تو اچھا ہے۔ اگر جئے شری رام اتنے ڈراؤنے ہیں تو میں رام سے کام چلانا زیادہ پسند کروں گا۔

اب اٹھارہ سال پہلے کے واقعہ کا فیصلہ آنا ہے۔ کوئی کہتا ہے وہاں ہسپتال بناؤ، کوئی کہتا ہے کہ لائبریری بناؤ۔ کورٹ کیا کہے کسی کو پتا نہیں ہے۔

میں تو بس اتنا کہتا ہوں کہ کاشی اور متھورا میں جب مندر مسجد ساتھ رہ سکتے ہیں تو آیودھیا میں کیوں نہیں۔ مندر بھی بنے اور مسجد بھی بنے اور دونوں کی دیواریں لگتی ہوں۔ آذان اور گھنٹیاں ساتھ ساتھ بجیں کیونکہ یہ دونوں آوازیں ہم سبھی نے ایک ساتھ کہیں نہ کہیں ضرور سنی ہوں گی۔ جنہوں نے نہیں سنی ان سے میرا دعویٰ ہے کہ یہ دونوں آوازیں ایک ساتھ بڑی خوبصورت لگتی ہیں۔


بی بی سی اُردو پر لکھا سُشیل جھا کا کالم!

__________________
میں‌تمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوں‌گا!

 
shafresha's Avatar
shafresha
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 161
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (23-09-10), مرزا عامر (23-09-10), احمد بلال (23-09-10), بلال اویسی (23-09-10), عبدالقدوس (23-09-10)
جواب

Tags
color, india, فلیش, کورٹ, کوشش, گھر, پسند, وقت, نفرت, نوکری, نظر, مسلمان, مسجد, مشعل, معلوم, انسان, بھائی, خون, خبر, دوست, دل, سال, عظمت, غصے, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پورٹیبل یوایس بی امیج ٹول زارا سوفٹ ویرز کے بارے میں آپکی رائے اور سوفٹ ویر کی درخواست 3 06-12-11 12:52 PM
گوگل میپس یا کوگل ارتھ؟ ahadar002 عمومی بحث 11 03-02-11 06:04 PM
کلوروکوئین کے مضر اثرات بکٹیریا کیلئے مزاحمت پیدا کر سکتے ہیں وجدان دلچسپ اور عجیب 0 21-07-08 04:19 PM
فلوریڈا میں خاتون نے گھر کے ساتھ خود کو بھی فروخت کے لئے پیش کردیا وجدان خبریں 15 07-07-08 01:13 PM
ایوان صدر کے اصرار پر گیلانی کی مشرف کے ساتھ اولمپک مشعل کی تقریب میں شرکت عبدالقدوس خبریں 0 19-04-08 04:15 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:02 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger