واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


ایک بھوکا، ایک پیاسا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-12-10, 09:47 PM   #1
ایک بھوکا، ایک پیاسا
اداس ساحل اداس ساحل آف لائن ہے 28-12-10, 09:47 PM

بھوکے کی لغت ہے، طلب……………….

پیاسے کی لغت ہے ،بیتابی………….


آپ کےخیال میں طالبان اور افغان حکومت میں کون پیاسا ہے اور کون بھوکا؟؟؟

اداس ساحل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 721
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (28-12-10), حیدر (30-12-10), غلام خان (19-07-11)
پرانا 28-12-10, 09:58 PM   #2
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اسکول کے زمانے میں‌ ایک کہانی پڑھی تھی۔

ایک لڑکا تھا، اس کو اسکول میں جب کبھی ٹیسٹ میں مضمون لکھنے کا کہا جاتا، تو وہ ہمیشہ ”میرا دوست“ والا مضمون تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اس میں شامل کردیتا۔ مثلاً اس کو کہا جاتا، میرا پسندیدہ استاد پر مضمون لکھو۔ وہ شروع ہوجاتا، فلاں میرا پسندیدہ استاد ہے۔ وہ ہمیں معاشرتی علوم پڑھاتے ہیں۔ ہمارے ساتھ کلاس میں اللٰہ بخش بھی ہے۔ اللٰہ بخش میرا بہت اچھا دوست ہے۔ اس کے ابو سرکاری ملازم ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پورا مضمون اللٰہ بخش کے بارے میں لکھ دیتا۔ اساتذہ نے تنگ آکر اس کو ہوائی جہاز پر مضمون لکھنے کو کہا، اور ساتھ میں یہ بھی بتایا کہ وہاں پر اللٰہ بخش نہیں ہے۔ اس نے لکھنا شروع کیا، میں اپنے ابو کے ساتھ ہوائی جہاز کے اڈے گیا۔ وہاں بڑے بڑے جہاز کھڑے تھے۔ ہم جہاز کے پروں پر بیٹھ گئے۔ وہاں‌ میرا دوست اللٰہ بخش نہیں تھا۔ اچانک میں نے نیچے دیکھا، تو اللٰہ بخش گلی میں جارہا تھا۔ اللٰہ بخش میرا بہت اچھا دوست ہے، اس کے ابو سرکاری ملازم ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔

گزارش یہی ہے، اللٰہ بخش کے علاوہ بھی کسی پر لکھیں۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (29-12-10), محمدمبشرعلی (20-01-11), مرزا عامر (16-01-11), مسٹر شیف (30-12-10), احمد نذیر (13-07-11), اسد لطیف (15-01-11), حیدر (30-12-10), شمشاد احمد (05-01-11), عبداللہ آدم (28-12-10), عبداللہ حیدر (30-12-10), عروج (16-01-11), غلام خان (19-07-11)
کمائي نے ھارون اعظم کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
05-01-11 شمشاد احمد گزارش یہی ہے، اللٰہ بخش کے علاوہ بھی کسی پر لکھیں۔ 0
پرانا 28-12-10, 11:38 PM   #3
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ہا ہا ہا ہ ا ہا ہا...............................

اللہ بخش
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (29-12-10), مرزا عامر (16-01-11), حیدر (30-12-10), شمشاد احمد (05-01-11), عبداللہ حیدر (30-12-10), غلام خان (19-07-11)
پرانا 29-12-10, 10:14 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,516
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ھارون اعظم مراسلہ دیکھیں
اسکول کے زمانے میں‌ ایک کہانی پڑھی تھی۔

ایک لڑکا تھا، اس کو اسکول میں جب کبھی ٹیسٹ میں مضمون لکھنے کا کہا جاتا، تو وہ ہمیشہ ”میرا دوست“ والا مضمون تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اس میں شامل کردیتا۔ مثلاً اس کو کہا جاتا، میرا پسندیدہ استاد پر مضمون لکھو۔ وہ شروع ہوجاتا، فلاں میرا پسندیدہ استاد ہے۔ وہ ہمیں معاشرتی علوم پڑھاتے ہیں۔ ہمارے ساتھ کلاس میں اللٰہ بخش بھی ہے۔ اللٰہ بخش میرا بہت اچھا دوست ہے۔ اس کے ابو سرکاری ملازم ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پورا مضمون اللٰہ بخش کے بارے میں لکھ دیتا۔ اساتذہ نے تنگ آکر اس کو ہوائی جہاز پر مضمون لکھنے کو کہا، اور ساتھ میں یہ بھی بتایا کہ وہاں پر اللٰہ بخش نہیں ہے۔ اس نے لکھنا شروع کیا، میں اپنے ابو کے ساتھ ہوائی جہاز کے اڈے گیا۔ وہاں بڑے بڑے جہاز کھڑے تھے۔ ہم جہاز کے پروں پر بیٹھ گئے۔ وہاں‌ میرا دوست اللٰہ بخش نہیں تھا۔ اچانک میں نے نیچے دیکھا، تو اللٰہ بخش گلی میں جارہا تھا۔ اللٰہ بخش میرا بہت اچھا دوست ہے، اس کے ابو سرکاری ملازم ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔

گزارش یہی ہے، اللٰہ بخش کے علاوہ بھی کسی پر لکھیں۔
ھارون بھائی

السلام علیکم

آپ نے بہت جلدی کہانی ختم کر دی اور اس ادھوری کہانی پر لوگ نجانے کیوں کھلکھلا کر ہنسنا شروع ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عجب سی بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہانی کا دوسرا حصّہ سنیے

یہ لڑکا بڑا ہوا اور اللہ بخش کو اپنا دوست ہی سمجھتا رہا۔ ہر بات میں اس کے ذہن میں اللہ بخش کا تصوّر رہنے لگا اور اس نے اپنے خیالات میں اس کو اپنا ماہی مان لیا۔ اس لڑکے نے اپنی مزہبی اور دوسرے افکار کو بھی اللہ بخش سے ہی منسوب کر لیا۔ ایک روز اخبار میں اس نے خبر پڑھی کہ اللہ بخش کی ماں نے لنگر میں بھوک کی آگ مٹانے والوں کے مسائل ہمیشہ کے لیے ختم کر دئیے ہیں۔ وہ لڑکا بہت خوش ہوا اور اپنے خیالی دوست کی ماں کو دل ہی دل میں مثالی بنا لیا۔

اس لڑکے کی معصومیت کی حد دیکھیے کہ ایک دن اللہ بخش اس کے پاس آیا۔ اس نے جب اپنی خیالی شخصیت کو سامنے دیکھا تو ڈگمگا سا گیا۔ پل بھر میں اس کے زہن میں اس کی ماں کا تصور ناچنے لگا۔ اس یقین نہیں آیا کہ اس کا خیالی دوست ایک دہشت گرد ہے، اس کی ابو سرکاری ملازم نہیں ہیں بلکہ مزہبی جنونیت سے تعلق رکھتے ہیں اور کی ماں مثالی نہیں بلکہ کتنی معصوم جانوں کی قاتل ہے۔

یہ اللہ بخش کتنے گھروں اور دوستوں کی اصلی کہانی ہو گا، سوچیے؟؟؟؟

باقی کہانی آپ آگے پڑھیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔کیوں کہ یہ کہانی آپ نے شروع کی تھی
اداس ساحل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (29-12-10), حیدر (30-12-10), غلام خان (19-07-11)
پرانا 29-12-10, 10:27 PM   #5
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

لو جی، پھر اللٰہ بخش۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
حیدر (30-12-10), شمشاد احمد (05-01-11), عبداللہ آدم (29-12-10), غلام خان (19-07-11)
پرانا 29-12-10, 11:58 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,516
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ھارون اعظم مراسلہ دیکھیں
لو جی، پھر اللٰہ بخش۔
پا جی پنڈ نہیں جلنا، فیر ادہی بس کیوں پھڑ دے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا فیر تھاڈے چھولے مک گئے نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اداس ساحل آف لائن ہے   Reply With Quote
اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (30-12-10)
پرانا 30-12-10, 07:08 AM   #7
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
پا جی پنڈ نہیں جلنا، فیر ادہی بس کیوں پھڑ دے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا فیر تھاڈے چھولے مک گئے نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بات کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اگر اللہ بخش پر بات کرنی ہے تو کرو ورنہ کسی اور تھریڈ جاؤ۔
واہ !
کل کلاں کو یہ ہو جائے گا کہ اگر اللہ بخش پر میرے موقف کے مطابق بات کرنی ہے تو کرو ورنہ کسی اور تھریڈ جاؤ۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (31-12-10), شمشاد احمد (05-01-11)
پرانا 30-12-10, 09:16 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,516
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
اس بات کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اگر اللہ بخش پر بات کرنی ہے تو کرو ورنہ کسی اور تھریڈ جاؤ۔
واہ !
کل کلاں کو یہ ہو جائے گا کہ اگر اللہ بخش پر میرے موقف کے مطابق بات کرنی ہے تو کرو ورنہ کسی اور تھریڈ جاؤ۔

حیدر بھائی

السلام علیکم

سب سے پہلے تو دور اندیشی کی مہارت کی مبارک ہو۔ دوسری بات اللہ بخش کسی کے بچپن کی یاد تھی جو نجانے ذہن سے نکل نہیں سکی ورنہ اللہ بخش کی یہاں ضرورت نہیں تھی۔ تیسری بات درپیش مسائل سے آنکھ چرانا کم از کم میرا شیوہ نہیں ہے۔ مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کرنا میرا مقصد ہے اور یہ خوش اسلوبی اتحاد سے آتی ہے، کسی کی ٹانگ کھینچنے سے نہیں۔ اگر میں مسلمانوں اور مسلم امت کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں تو سمجھ میں نہیں آتا کہ اتنی "عداوت" کیوں؟؟؟

خیر، آپ وہ کریں جو آپ کو کرنا ہے اور میں وہ کروں گا جو مجھے کرنا ہے۔ مجھے انتہا پسندی کو ختم کرنا ہے اور ابھی کچھ عرصے میں آپ دیکھیں گے کہ:

میں تنہا ہی چلا جانب منزل فقط

لوگ ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا
اداس ساحل آف لائن ہے   Reply With Quote
اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (31-12-10)
پرانا 31-12-10, 10:53 AM   #9
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ڈبل پوسٹنگ ڈیلیٹد ۔

Last edited by حیدر; 31-12-10 at 11:01 AM.
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 31-12-10, 11:00 AM   #10
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

معذرت کے ساتھ میرا آپ کے ساتھ محض اتنا اختلاف ہے کہ آپ اعتدال پسندی کے نام پر دھوکا کھا رہے ہیں اور ایک اور قسم کی انتہا پسندی میں پھنس گئے ہیں۔ اور بھی غم ہیں دنیا میں طالبان کو رونے کے سوا۔
میرے ساتھ چلیے گا رحیم یار خان کے جیسے جدید شہر کے بالکل پہلو میں واقع ، محض 70 کلومیٹر کے فاصلے پر روجھان مزاری میں۔ جہاں طالبان سے بڑی عفریتوں سےآپکی ملاقات کرواؤں گا۔ آپکو انکے کارنامے آپکی آنکھوں سے دکھاؤں گا۔
آپ میرے ساتھ چلیے گا بلوچستان کے علاقے کوہلو میں۔ میں آپکو دکھاؤں گا غربت کسے کہتے ہیں
اپ میرے ساتھ چلیے گا پنجاب کے تعلیم یافتہ ترین علاقے سیالکوٹ، میں آپ کو وہ گھر دکھاؤں گا جس کے دو چشم و چراغ توبہ کی مہلت دئیے بغیر سسکا سسکا کر مار دئیے گئے۔ میں تھرا اُٹھا تھا ظلم و بربریت کی انتہا دیکھ کر۔ اور دل میں شکر ادا کیا تھا کہ یہ واقعہ طالبان کے نام نہیں لگا ۔یہ واقعہ بلوچستان میں نہیں ہوا۔ یہ روشن پسندوں کے کارنامے ہیں۔
کبھی چلئیے گا میرے ساتھ جھڈو میں جہاں نویں جماعت کی ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی اور اسکی تصاویر اتار لی گئیں۔ کبھی اس بہن کی اشک شوئی بھی کر لیجیے گا۔کبھی میرے ساتھ چلیے گا خانپور کے اُس پولیس سٹیشن میں کہ جہاں ہمارے محافظ پولیس والوں نے ایک شخص پر تشدد کا نیا طریقہ ایجاد کیا کہ اس کے اس کے پیچھے سے مشروب کی بوتل اسکے اندر گھسانے کی کوشش کی ۔جس کے نتیجے میں وہ مارا گیا۔میرے ساتھ رحیم یار خان کے ان 70 خاندانوں سے ملیے جن کے افراد کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ میرے ساتھ کراچی بھی چلیے گا جہاں جدید انتہا پسند ہر چند ماہ میں ایک بار خون کی ایسی ہولی کا کھیل کھیلتے ہیں جس میں محض سیکڑوں غریب ہی مرتے ہیں

جناب اور بھی غم ہیں دنیا میں طالبان کے سوا۔ طالبان محض مارتے ہیں۔ ایسے مرنے کا محض دو دن دُکھ رہتا ہے۔کس کو یاد ہے کہ پشاور میں کیا ہوا تھا، طور خم میں کیا ہوا تھا، باجوڑ میں کیا ہوا تھا۔لیکن ہم جیسے جدید انتہا پسند تڑپا تڑپا کر مارتے ہیں۔ کراچی میں ڈاکؤوں کو زندہ جلا دیتے ہیں۔ سیالکوٹ میں ڈنڈنے مار مار کر اور گاڑیوں کے ساتھ گھسیٹ گھسیٹ کر جسم ادھیڑ دیتے ہیں۔ہم جدید پسندوں کے ظلم سے تو شیطان بھی تھرا اُٹھتا ہے۔میں نے طالبان کے ڈر سے کبھی بازار جانا نہیں چھوڑا۔ لیکن سیالکوٹ کے واقعہ کے بعد ہر اجنبی سے ڈر کر ضرور بات کرتا ہوں کہ نا جانے اسکی برادری میرے ساتھ کیا سلوک کرے۔
طالبان تو کل کی پیداوار ہیں۔ ان عفریتوں نے گزشتہ ساٹھ سال سے ہمارے ملک کو جکڑا ہوا ہے۔
میں صاف صاف کہتا ہوں طالبان خود ہماری پیداوار ہیں۔ ہمارے اعمال کی پیداوار ہیں۔ ہم میں سے جب کبھی کوئی کسی کمزور کا حق مارتا ہے وہ ایک خود کش حملہ کی بنیاد رکھ دیتا ہے۔جب کبھی پولیس کسی پر ستم کرتی ہے وہ اسکو کسی خود کش بریگیڈ میں بھرتی ہونے پر مجبور کر دیتی ہے۔
بے شک ماضی میں طالبان کسی بھی وجہ سے پیدا ہوئے ہوں۔ لیکن آج کے طالبان کو خود ہم طاقت بہم پہنچا رہے ہیں۔

جو اصل مسائل ہیں ان سے نظریں ہی چرائی جا رہی ہیں۔ طالبان کے نام پر ایک ہوا کھڑا کر کے اصل برائیوں کو چھپایا جا رہا ہے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (31-12-10), ھارون اعظم (31-12-10), منتظمین (16-01-11), مرزا عامر (16-01-11), مسٹر شیف (31-12-10), عبداللہ آدم (31-12-10)
کمائي نے حیدر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
31-12-10 فیصل ناصر طالبان کے نام پر ایک ہوا کھڑا کر کے اصل برائیوں کو چھپایا جا رہا ہے۔ 150
31-12-10 ھارون اعظم good 150
پرانا 05-01-11, 11:05 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,516
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
معذرت کے ساتھ میرا آپ کے ساتھ محض اتنا اختلاف ہے کہ آپ اعتدال پسندی کے نام پر دھوکا کھا رہے ہیں اور ایک اور قسم کی انتہا پسندی میں پھنس گئے ہیں۔ اور بھی غم ہیں دنیا میں طالبان کو رونے کے سوا۔
میرے ساتھ چلیے گا رحیم یار خان کے جیسے جدید شہر کے بالکل پہلو میں واقع ، محض 70 کلومیٹر کے فاصلے پر روجھان مزاری میں۔ جہاں طالبان سے بڑی عفریتوں سےآپکی ملاقات کرواؤں گا۔ آپکو انکے کارنامے آپکی آنکھوں سے دکھاؤں گا۔
آپ میرے ساتھ چلیے گا بلوچستان کے علاقے کوہلو میں۔ میں آپکو دکھاؤں گا غربت کسے کہتے ہیں
اپ میرے ساتھ چلیے گا پنجاب کے تعلیم یافتہ ترین علاقے سیالکوٹ، میں آپ کو وہ گھر دکھاؤں گا جس کے دو چشم و چراغ توبہ کی مہلت دئیے بغیر سسکا سسکا کر مار دئیے گئے۔ میں تھرا اُٹھا تھا ظلم و بربریت کی انتہا دیکھ کر۔ اور دل میں شکر ادا کیا تھا کہ یہ واقعہ طالبان کے نام نہیں لگا ۔یہ واقعہ بلوچستان میں نہیں ہوا۔ یہ روشن پسندوں کے کارنامے ہیں۔
کبھی چلئیے گا میرے ساتھ جھڈو میں جہاں نویں جماعت کی ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی اور اسکی تصاویر اتار لی گئیں۔ کبھی اس بہن کی اشک شوئی بھی کر لیجیے گا۔کبھی میرے ساتھ چلیے گا خانپور کے اُس پولیس سٹیشن میں کہ جہاں ہمارے محافظ پولیس والوں نے ایک شخص پر تشدد کا نیا طریقہ ایجاد کیا کہ اس کے اس کے پیچھے سے مشروب کی بوتل اسکے اندر گھسانے کی کوشش کی ۔جس کے نتیجے میں وہ مارا گیا۔میرے ساتھ رحیم یار خان کے ان 70 خاندانوں سے ملیے جن کے افراد کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ میرے ساتھ کراچی بھی چلیے گا جہاں جدید انتہا پسند ہر چند ماہ میں ایک بار خون کی ایسی ہولی کا کھیل کھیلتے ہیں جس میں محض سیکڑوں غریب ہی مرتے ہیں

جناب اور بھی غم ہیں دنیا میں طالبان کے سوا۔ طالبان محض مارتے ہیں۔ ایسے مرنے کا محض دو دن دُکھ رہتا ہے۔کس کو یاد ہے کہ پشاور میں کیا ہوا تھا، طور خم میں کیا ہوا تھا، باجوڑ میں کیا ہوا تھا۔لیکن ہم جیسے جدید انتہا پسند تڑپا تڑپا کر مارتے ہیں۔ کراچی میں ڈاکؤوں کو زندہ جلا دیتے ہیں۔ سیالکوٹ میں ڈنڈنے مار مار کر اور گاڑیوں کے ساتھ گھسیٹ گھسیٹ کر جسم ادھیڑ دیتے ہیں۔ہم جدید پسندوں کے ظلم سے تو شیطان بھی تھرا اُٹھتا ہے۔میں نے طالبان کے ڈر سے کبھی بازار جانا نہیں چھوڑا۔ لیکن سیالکوٹ کے واقعہ کے بعد ہر اجنبی سے ڈر کر ضرور بات کرتا ہوں کہ نا جانے اسکی برادری میرے ساتھ کیا سلوک کرے۔
طالبان تو کل کی پیداوار ہیں۔ ان عفریتوں نے گزشتہ ساٹھ سال سے ہمارے ملک کو جکڑا ہوا ہے۔
میں صاف صاف کہتا ہوں طالبان خود ہماری پیداوار ہیں۔ ہمارے اعمال کی پیداوار ہیں۔ ہم میں سے جب کبھی کوئی کسی کمزور کا حق مارتا ہے وہ ایک خود کش حملہ کی بنیاد رکھ دیتا ہے۔جب کبھی پولیس کسی پر ستم کرتی ہے وہ اسکو کسی خود کش بریگیڈ میں بھرتی ہونے پر مجبور کر دیتی ہے۔
بے شک ماضی میں طالبان کسی بھی وجہ سے پیدا ہوئے ہوں۔ لیکن آج کے طالبان کو خود ہم طاقت بہم پہنچا رہے ہیں۔

جو اصل مسائل ہیں ان سے نظریں ہی چرائی جا رہی ہیں۔ طالبان کے نام پر ایک ہوا کھڑا کر کے اصل برائیوں کو چھپایا جا رہا ہے۔



حیدر بھائی

السلام علیکم

بجا کہا آپ نے "اور بھی غم ہیں زمانے میں " اور فیصل بھائی اور ہارون بھائی سے شاباش بھی لے لی

آپ نے یہ بات 12 آنے درست کہی ہے، چار آنے میں آپ سے متفق نہیں ہوں

مسئلہ سارا کا سارا ہی "شدّت پسندی" کا ہے۔ آپ نے بھی اس شدّت پسندی کو اجاگر کیا ہے اور میں بھی شاید نہیں بلکہ یقینی طور پر اس شدّت پسندی کے خلاف ہوں۔ سیالکوٹ کا واقعہ، ڈاکووں کا واقعہ اور کئی ایسے واقعات امارت اور غربت سے داستانیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یعنی کہ امارت بھی شدّت کی اور غریبی بھی، غصّہ بھی شدّت سے بھرپور اور پیار بھی، ظلم بھی شدّت سے اور عیاشی بھی شدت سے۔


یار کوئی چیز ہے جو "نارمل" ہے؟؟؟؟

آپ کے عمران خان بھائی نے کل ہی کہا ہے کہ شدّت پسندی "شدّت" سے ختم نہیں ہوتی ہے بلکہ بات چیت سے ہوتی ہے۔ اور بات چیت کے لیے کون تیار ہے؟؟؟آپ نے گیارھویں کی اردو کی کتاب "مرقع ادب" میں ایک مضمون ضرور پڑھا ہو گا کہ بات چیت کی اہمیت کیا ہے اور اس بات چیت کو خاص طور پر بر صغیر میں کیسے عمل میں لایا جاتا ہے۔ کہانی کا آغاز سر سید احمد خان کے اقتباس سے شروع ہوتا ہے۔ ضرور پڑھیے گا۔۔۔۔۔
اداس ساحل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (05-01-11), حیدر (07-01-11)
پرانا 05-01-11, 11:28 PM   #12
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
آپ کے عمران خان بھائی نے کل ہی کہا ہے کہ شدّت پسندی "شدّت" سے ختم نہیں ہوتی ہے بلکہ بات چیت سے ہوتی ہے۔ اور بات چیت کے لیے کون تیار ہے؟؟؟آپ نے گیارھویں کی اردو کی کتاب "مرقع ادب" میں ایک مضمون ضرور پڑھا ہو گا کہ بات چیت کی اہمیت کیا ہے اور اس بات چیت کو خاص طور پر بر صغیر میں کیسے عمل میں لایا جاتا ہے۔ کہانی کا آغاز سر سید احمد خان کے اقتباس سے شروع ہوتا ہے۔ ضرور پڑھیے گا۔۔۔۔۔
تو تيار كيجئے نا اپني حكومت اور فوج كو اپنے ہي اللہ بخشوں سے بات چيت كرنے كےلئے۔۔۔۔ اور ہو سكے تو گياروھويں كي اردو كي كتاب تمام متعلقہ ذمہ داروں كو مضمون كي نشاندھي كے ساتھ ارسال كرديں۔۔۔۔ ويسے سلمان تاثير كے قتل پر جاہل مطلق رحمن ملك كا يہ تبصرہ توجہ طلب ہے كہ جب گھر والے ہي قاتل بن جائيں تو كس پر كوئي بھروسہ كرے۔۔۔۔۔۔۔۔ اب شايد احساس ہو رہا ہو كہ جب ا پنے ركھوالے ہي جان كےدشمن بن جائيں جسم كي تكليف سے زيادہ روحاني تكليف ہوتي ہے۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (07-01-11), مرزا عامر (16-01-11), حیدر (07-01-11), عبداللہ آدم (05-01-11)
پرانا 06-01-11, 01:41 AM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,516
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
تو تيار كيجئے نا اپني حكومت اور فوج كو اپنے ہي اللہ بخشوں سے بات چيت كرنے كےلئے۔۔۔۔ اور ہو سكے تو گياروھويں كي اردو كي كتاب تمام متعلقہ ذمہ داروں كو مضمون كي نشاندھي كے ساتھ ارسال كرديں۔۔۔۔ ويسے سلمان تاثير كے قتل پر جاہل مطلق رحمن ملك كا يہ تبصرہ توجہ طلب ہے كہ جب گھر والے ہي قاتل بن جائيں تو كس پر كوئي بھروسہ كرے۔۔۔۔۔۔۔۔ اب شايد احساس ہو رہا ہو كہ جب ا پنے ركھوالے ہي جان كےدشمن بن جائيں جسم كي تكليف سے زيادہ روحاني تكليف ہوتي ہے۔۔۔


شمشاد بھائی

کیا آپ میں صرف "نہیں" کا بٹن فٹ ہے؟ اگر ایسے ہی چلنا ہے تو ضرور چلیے لیکن شاید آپ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ ماشااللہ آپ قابل فہم ہیں، تھوڑا سا تو مثبت سوچیے۔ اور میں بالکل بھی نہیں سمجھ پا رہا ہوں آپ کے حکومت اور فوج کو اپنے ہی اللہ بخشوں سے بات چیت کرنے کی بات؟؟؟؟؟؟؟اگر ہو سکے تو تھوڑا سا کھل کر کہیں اور بھائی صاحب تھوڑا سا، تھوڑا سا، ماڑا جنا "ہاں" کا بٹن کو بھی چھیڑو۔ مجھے بہت عرصہ ہو گیا ہے اس مضمون کو پڑھے ہوئے لیکن میں ضرور آپ کو اس کا عنوان دوں گا

برا نہیں منانا اگر میں اوور ہو گیا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اداس ساحل آف لائن ہے   Reply With Quote
اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (07-01-11)
پرانا 07-01-11, 08:11 PM   #14
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ارے یہ اللٰہ بخش تو بہت مشہور ہوگیا۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (07-01-11)
پرانا 07-01-11, 08:49 PM   #15
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہیں ۔۔۔۔
اچھا اللہ بخشے یار اُسے
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہے۔, ہے،, کہانی, کلاس, گلی, پیاسے, پیاسا, پسندیدہ, لکھنے, لڑکا, لغت, ملازم, معاشرتی, افغان, اپنے, ابو, استاد, بھوکے, بڑے, حکومت, زمانے, ساتھ, شروع, طالبان, علوم


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
یک چڑیا کو سفید پھول سے پیار ھوگیا wajee اردو افسانے 5 09-10-09 12:21 AM
دھونی کیجانب سے کپتانی چھوڑنے کی پیشکش ، بھارتی کرکٹ بورڈ کی تردید تفسیر حیدر کرکٹ 0 22-11-08 07:52 PM
ننھا منا پیارا سا پولر بھالو حسن مغل گپ شپ 5 16-11-08 06:19 PM
ملتان:ماں نے 3دن سے بھوکے 5بچے فروخت کیلئے پیش کردیئے عبدالقدوس خبریں 3 20-04-08 05:44 AM
’نواز شریف کو دھوکے سے جدہ بھیجا‘ چاچا کمال خبریں 0 12-09-07 04:33 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:02 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger