واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


ایک سوال

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-05-11, 08:19 PM   #1
ایک سوال
ali rana ali rana آف لائن ہے 25-05-11, 08:19 PM

السلامُ علیکم !
میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ مجھے اس کا تسلی بخش جواب ملے گا۔

جب تمام انسان آدم و حوا کی اولاد ہیں تو سب کی زبانیں الگ الگ کیوں ؟

ali rana
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 4
شکریہ: 4
4 مراسلہ میں 19 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 320
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے ali rana کا شکریہ ادا کیا
skjatala (25-05-11), فیصل ناصر (25-05-11), محمدخلیل (25-05-11), محمدعدنان (25-05-11), بزم خیال (31-05-11), روشنی (26-05-11), راجہ اکرام (25-05-11), سیپ (26-05-11), عبداللہ آدم (27-05-11)
پرانا 25-05-11, 08:33 PM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,222
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وعلیکم السلام
وقت کی کمی کے باعث جواب دینے سے قاصرہوں۔ اِنشاء عزوجل کل پہلے وقت ہی آپکو جواب مل جائے گا۔ جزاک اللہ۔
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
ali rana (25-05-11), skjatala (26-05-11), فیصل ناصر (25-05-11), محمدعدنان (25-05-11), بزم خیال (31-05-11), روشنی (26-05-11), عبداللہ آدم (27-05-11)
پرانا 25-05-11, 08:53 PM   #3
Senior Member
 
معظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: ولایت
مراسلات: 2,539
کمائي: 66,987
شکریہ: 3,000
1,870 مراسلہ میں 4,776 بارشکریہ ادا کیا گیا
معظم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں معظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں معظم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بیشک اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے۔

القرآن 49:13


جب اللہ تبارک وتعالٰی نے انسان کو قوموں‌اور قبیلوں میں‌تقسیم کیا تو کیسے ممکن تھا کہ سب کی زبان ایک ہوتی ؟
اگر زبان ایک ہوتی تو ان میں فرق کیا تھا پھر؟
__________________
اے اللہ! ان سنگین حالات میں ملکِ پاکستان کی حفاظت فرما۔ آمین ثم آمین
بزنس ایجوکیشن ایک تعلیمی بلاگ ، اب نئے انداز میں - http://bizedu.co.cc
معظم آف لائن ہے   Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے معظم کا شکریہ ادا کیا
skjatala (26-05-11), فیصل ناصر (25-05-11), کنعان (26-05-11), ھارون اعظم (29-05-11), محمد عاصم (27-05-11), محمدخلیل (25-05-11), محمدعدنان (25-05-11), آبی ٹوکول (26-05-11), بزم خیال (31-05-11), روشنی (26-05-11), راجہ اکرام (25-05-11), سیپ (26-05-11), سام (25-05-11), عبداللہ آدم (27-05-11)
پرانا 25-05-11, 09:48 PM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم برادرم علی
پاک نیٹ پر خوش آمدید
معظم بھائی نے جس قرآنی آیت کا ترجمہ نقل کیا ہے وہ آپ کے سوال کا بہترین جواب ہے
ایک ہی آدم و حوا کی اولاد ہیں لیکن زبانیں اور رہن سہن مختلف ہیں ۔۔ مختلف قبائل اور گروہ ہیں۔
اس تقسیم کی بنیادی وجہ جو قرآن نے بتائی ہے وہ ہے ’’لتعارفوا‘‘ تا کہ تعارف اور جان پہچان ہو سکے۔
اگر یہ تقسیم نہ ہوتی تو انسانوں کی اتنی بڑی تعداد میں تعارف اور جان پہچان مشکل عمل ہو جاتا۔
اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ یہ قبائل کہیں وجہ تفاخر نہ بن جائیں ۔۔ اس لیے اعلان کر دیا کہ ’’عزت و شرف کا معیار تقویٰ ہے‘‘۔

تفصیلات کچھ دیر کے بعد
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
کنعان (26-05-11), محمد عاصم (27-05-11), محمدعدنان (25-05-11), معظم (25-05-11), بزم خیال (31-05-11), روشنی (26-05-11)
پرانا 25-05-11, 09:58 PM   #5
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 4
کمائي: 261
شکریہ: 4
4 مراسلہ میں 19 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

معظم صاحب اپ کا شوکر گوزار ھوں کے اپ نے اپنے جواب کا اندراج کیا۔ مگر میں جانتا ھوں کے اللہ تبارک وتعالٰی نے انسان کو قوموں‌اور قبیلوں میں‌تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکوـ مگر ھم سب وہ زبان استمال کرتے ھن جو ھماری ماں استمال کرتی ھے۔ جب ھماری ماں ایک تھی تو ایسا کسے ھوا کے ھم نے مختلف زبانیں بولنا شروع کر دیں۔
ali rana آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ali rana کا شکریہ ادا کیا
skjatala (26-05-11), محمدعدنان (25-05-11), معظم (25-05-11), شمشاد احمد (26-05-11)
پرانا 25-05-11, 10:54 PM   #6
Senior Member
 
معظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: ولایت
مراسلات: 2,539
کمائي: 66,987
شکریہ: 3,000
1,870 مراسلہ میں 4,776 بارشکریہ ادا کیا گیا
معظم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں معظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں معظم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ali rana مراسلہ دیکھیں
معظم صاحب اپ کا شوکر گوزار ھوں کے اپ نے اپنے جواب کا اندراج کیا۔ مگر میں جانتا ھوں کے اللہ تبارک وتعالٰی نے انسان کو قوموں‌اور قبیلوں میں‌تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکوـ مگر ھم سب وہ زبان استمال کرتے ھن جو ھماری ماں استمال کرتی ھے۔ جب ھماری ماں ایک تھی تو ایسا کسے ھوا کے ھم نے مختلف زبانیں بولنا شروع کر دیں۔
راجہ اکرام بھائی اور زارا ، اس موضوع کے لیے کچھ لکھ رہے ہیں ، اس لیے ان کی پوسٹ آنے تک انتظار فرما لیجئے۔
معظم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے معظم کا شکریہ ادا کیا
skjatala (25-05-11), شمشاد احمد (26-05-11)
پرانا 26-05-11, 12:14 AM   #7
Senior Member
 
skjatala's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,976
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تقریبا 70 میل کے بعد زبان اور لہجے میں فرق آ جاتا ہے-اور وقت کے ساتھ بھی آہستہ آہستہ زبانوں میں فرق آجاتا ہے، سوائے عربی زبان کے اور یہ عربی زبان کا معجزہ ہے-

جب لوگ ایک جگہ پر وسائل کم ہونے کی وجہ سے ہجرت کرتے رہے- تو آپس میں قبیلوں اور گروہوں میں بٹتے چلے گئے، اس طرح ان کی زبان اور لہجے میں بھی فرق آتا گیا۔ اسی طرح جب یہ قبائل اپنے مشترکہ دشمن سے نمٹنے کے لئے اتحاد کرتے تو مشترکہ افواج آپس میں گفتگو کرنے کے لئے ایسی زبان استعمال کرتی جس کے الفاظ مشترک ہوتے اس طرح بھی نئی زبانیں وجود میں آتی رہیں۔اردو زبان اس کی مثال ہے-
ہم آٹھ افراد ایک ماں باپ کی اولاد ہیں - کوئی کراچی میں رہتا ہے ،کوئی اندرون سندھ ، کوئی پنجاب اور کوئی بیرون ملک جب کسی غمی خوشی میں اکھٹے ہوتے ہیں تو، باوجود اس کے کہ جوانی تک ایک ساتھ رہے ہم سب کے لہجے جدا جدا ہو گئے ہیں- سندھ میں رہنے والا سندھی لب لہجے میں ، کراچی والے اردو کے الفاظ زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح کوئی کچھ کوئی کچھ بولتا ہے-
اور تو اور اگر آپ آج سے 30 ، 35 سال پرانی اردو کی کتاب کا مطالعہ کریں گے تو آپ دیکھیں گے کہ بہت سے ایسے الفاظ ہیں جو آج کل استعمال ہی نہیں ہوتے- اور بہت سے نئے الفاظ عام بول چال شامل ہوگئے ہیں، سو یہی وجہ ہے ہماری الگ الگ زبانوں کی
اس کے بارے میں حدیث بھی ہے مگر ابھی ذہن میں نہیں آرہی۔
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر

Last edited by skjatala; 26-05-11 at 12:19 AM.
skjatala آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
ali rana (26-05-11), کنعان (26-05-11), ننھا بچہ (26-05-11), محمد عاصم (27-05-11), محمدعدنان (27-05-11), بزم خیال (31-05-11), روشنی (26-05-11), سیپ (26-05-11), عبداللہ آدم (27-05-11)
پرانا 26-05-11, 12:51 AM   #8
Senior Member
 
روشنی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 389
کمائي: 6,365
شکریہ: 99
303 مراسلہ میں 791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشاءا للہ سے سب ہی کا علم وسیع ہے،
ربی زدنی علما
روشنی آف لائن ہے   Reply With Quote
روشنی کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 26-05-11, 12:54 AM   #9
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,048
کمائي: 22,680
شکریہ: 873
1,314 مراسلہ میں 2,842 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ali rana مراسلہ دیکھیں
السلامُ علیکم !
میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ مجھے اس کا تسلی بخش جواب ملے گا۔

جب تمام انسان آدم و حوا کی اولاد ہیں تو سب کی زبانیں الگ الگ کیوں ؟
ہممممم جی حضرت آپکی بات درست ہے مختصر عرض کئے دیتے ہیں شائد کہ دل میں اتر جائے میری بات ، یہ اللہ تعالٰی کی قدرت ہے تمام روئے زمین پر انسان نے اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے اپنی سہولت اور آسانی کی خاطر مختلف زبانیں بنا لیں طبیعت کے مطابق لب ولہجہ اپنا لیا یہ خصوصیت جانوروں میں دیکھنے کو نہیں ملتی ، اسکی مثال پاکستانی گدھے ، امریکی گدھا ، جرمن یا اسرائیلی نسل کے گدھے ان سب کی زبان ایک ہے سب ڈھینچوں ڈھینچوں کرتے ہیں اب تو یہ انسان کو انسان ہی نہیں سمجھتے ان کی بولی اور مقصد ایک ہے پاکستانی گدھے ڈالروں کیلئے اور باقی گدھے ڈالروں سے دنیا کے امن کو برباد کر رہے ہیں ۔
اب انسان جس کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اسے ہی اس کا کوئی حل ڈھونڈنا ہے زبانیں چاہے کتنی ہی مختلف کیوں نا ہوں اللہ تعالٰی ہماری مدد فرمائے ۔ آمین
__________________
اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور اسکی طرف وسیلہ ڈھونڈو (جس کی بدولت تمہیں اس کا قُرب حاصل ہو ) اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ (المائدہ 35)
ندامت میں جھکے ہوئے سر سے اطاعت میں جھُکا ہوا سر بہتر ہے
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا
ali rana (26-05-11), skjatala (26-05-11)
پرانا 26-05-11, 01:03 AM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,516
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم برادرم علی
پاک نیٹ پر خوش آمدید
معظم بھائی نے جس قرآنی آیت کا ترجمہ نقل کیا ہے وہ آپ کے سوال کا بہترین جواب ہے
ایک ہی آدم و حوا کی اولاد ہیں لیکن زبانیں اور رہن سہن مختلف ہیں ۔۔ مختلف قبائل اور گروہ ہیں۔
اس تقسیم کی بنیادی وجہ جو قرآن نے بتائی ہے وہ ہے ’’لتعارفوا‘‘ تا کہ تعارف اور جان پہچان ہو سکے۔
اگر یہ تقسیم نہ ہوتی تو انسانوں کی اتنی بڑی تعداد میں تعارف اور جان پہچان مشکل عمل ہو جاتا۔
اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ یہ قبائل کہیں وجہ تفاخر نہ بن جائیں ۔۔ اس لیے اعلان کر دیا کہ ’’عزت و شرف کا معیار تقویٰ ہے‘‘۔

تفصیلات کچھ دیر کے بعد
راجہ صاحب

بہت اچھی بات کی ہے آپ نے کہ تقوی عزت اور شرف کا معیار "تقوی " ہے اور واقعی یہ ہی فرق ہے عام انسانوں میں اور دوسروں میں - جس طرح سےنماز کا فرق ہے، مسلمانوں کے تمام دوسرے مزاہب سے۔ نماز ہی مسلمان اور غیر مسلمانوں میں فرق کرتی ہے

جہاں تک تعلق ہے زبان کا، تو اس کے لیے انسائیکلوپیڈیا کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔ لیکن ایک بات ضرور ہے کہ جب اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا کو ذمیں پر اتارا تو کافی عرصے سے بعد وہ ملے تھے، شاید ان کی زبان میں بھی اس وقت تک فرق آ گیا ہو (میری تصدیق کیجیے، کیونکہ مجھے اچھی طرح معلوم نہیں ہے
اداس ساحل آف لائن ہے   Reply With Quote
اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا گیا
skjatala (26-05-11)
پرانا 26-05-11, 08:46 AM   #11
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ میری اس بابت معلومات کُچھ بھی نہیں ہیں نہ ہی کبھی سوچا ہے اس بارے میں ۔۔۔
یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ
جب اماں حوا اور بابا آدم اس دنیا میں بھیجے گئے تو دونوں کی ایک ہی زبان ہو گی یقیناَ
پھر آہستہ آہستہ انکی اولاد ہونا شروع ہوئی
یقیناَ یہ اولاد بھی وہی زبان بولتی ہو گی جو انکے والدین بولتے ہوں گے۔
لیکن پھر اولاد میں کثرت ہونا شروع ہوئی۔
اولاد نے رُوئے زمین پر پھیلنا شروع کر دیا۔
کوئی کسی رُخ چلا گیا کوئی کہیں چلا گیا۔
اب چونکہ ہر کسی کا علاقہ مختلف ہو گیا ۔۔۔۔ اور اس کا رابطہ اپنے دوسرے رشتے داروں سے منقطع ہو گیا ۔۔۔۔اور مزید یہ کہ چونکہ انکے والدین ابتدائی زبان بولتے تھے۔۔۔اس پر مستزاد یہ کہ انسان کی فطرت میں نئی نئی معلومات کی بنیاد پر نئے نئے علوم ایجاد کرنے کی سعی تھی۔۔۔تو ان تمام عوامل کر ملا کر ہر علاقے کی اپنی زبان ڈویلپ ہونا شروع ہو گئی۔

اس کی مثال یوں لیں۔ فرض کرتے ہیں جب اماں حوا اور بابا آدم کو زمین پر اتارا گیا اور جب تک انکی اولاد زمین کے مختلف حصوں میں نہیں پھیلی۔۔۔انکے ذخیرہ علم میں محض چند درجن اشیا کے نام ہوں گے۔
پھر جب اولاد آدم پھلینا شروع ہوئی ۔۔اور وہ مختلف علاقوں میں گئے تو انکو نت نئی چیزوں سے واسطہ پڑا۔
مثلاً ہر کسی کے لیے درخت ایک نئی چیز ہو گی۔ چناچہ ایسا ہوا ہو گا کہ کسی نے تو پودوں کو درخت کہا، کسی نے ٹری کہا کسی نے کُچھ اور نام دیا۔ کسی کو پتھر نظر آیا تو اس نے پتھر کہا ، کسی نے حدید کہا ، کسی نے سٹون۔چونکہ ان سب کا آپس میں رابطہ نہ تھا چناچہ انہی چیزوں کی بنیاد پر رفتہ رفتہ نئی زبانیں وجود میں آ گئیں۔

یہ محض میرا اندازہ ہے۔ حقیقت کا علم صرف اللہ کو ہے۔ واللہ اعلم
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ali rana (26-05-11), skjatala (26-05-11), فیصل ناصر (26-05-11), ھارون اعظم (29-05-11), محمدعدنان (27-05-11), معظم (26-05-11), بزم خیال (31-05-11)
پرانا 26-05-11, 11:10 AM   #12
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,222
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

قرآن مجید کی سورۃ الحجرات میں ہے،

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌO

ترجمہ:
”اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تمہارے طبقات اور قبیلے بنا دیئے تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو بے شک اللہ کے نزدیک تو تم سب میں عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہو، بے شک اللہ باخبر ہےo“

یہاں اللہ تبارک وتعالیٰ نے خود فرمایاکہ ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکویعنی اس آیت کو بغورپڑھنے کے بعد سوا ل کی کہیں گنجائش نہیں رہتی۔ بلاشبہ ہم ایک ہی آدم و حواکی اولاد ہیں لیکن طبقے اورقبیلے ہمیں ایک دوسرے سے الگ بناتے ہیں۔ یہ قبیلے تودورِ اِسلام سے پہلے ہی بن چکے تھے جہاں لوگ قبائل سے پہچانے جاتے تھے کہ فلاں بنو خزاع کے قبیلے سے ہے یا بنواسرائیل کے وغیرہ اب یہ تومعلوم نہیں کہ اِنکی زُبان ایک تھی یا نہیں لیکن اگرزُبان ایک ہوتی توپہچان کیسے رہتی صرف قبیلہ پہچان ہوتا تو مشکل ہوتی۔

آپ دیکھیں اللہ نے اشرف المخلوقات کیساتھ ساتھ چرندپرند بنائے لیکن سب کی زُبانیں الگ ہیں یعنی کوا اگرکیں کیں کرتا ہے توبلی میاؤں میاؤں اورکُتا بھونکتا ہے اِسی طرح سب جانوروں اورپرندے مختلف ساؤنڈ کرتے ہیں جو اُنکی پہچان ہے۔ اگرسب ایک ہی آوازنکالتے تودیکھے بنا آپ پہچان کیسے کرتے؟ جبکہ آپ صرف آوازسے بتا سکتے ہیں کہ یہ مرغی ہے یا کوا یا پھرچڑیا۔

کافی دِن پہلے میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارے میں مطالعہ کررہی تھی جس میں وہ اپنے بیٹے یوسف علیہ السلام کے منتظرتھے۔ جب بھی کوئی مُسافرآتا وہ لب ولہجے سے پہچان کرتے اورکہتےبنیامن یہ کنعانی ہے، یہ مصرسے ہے اور فلاں عربی ہے یعنی زُبان کی تبدیلی اب سے نہیں ہے بلکہ آج سے کئی سو سال پہلے سے ہے جب مختلف قبائل / ملکوں میں مختلف زُبانیں بولیں جاتی تھیں۔

قبائل ہماری پہچان کیلئے بنے توزُبان اُس کی نشاندہی کیلئے لیکن میعار“تقویٰ رکھا۔ اُمیدہے آپ کوسمجھ آگئی ہو گی۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
skjatala (26-05-11), محمدعدنان (27-05-11), معظم (26-05-11), ابن جمال (26-05-11), بزم خیال (31-05-11)
پرانا 26-05-11, 11:11 AM   #13
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,222
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ali rana مراسلہ دیکھیں
معظم صاحب اپ کا شوکر گوزار ھوں کے اپ نے اپنے جواب کا اندراج کیا۔ مگر میں جانتا ھوں کے اللہ تبارک وتعالٰی نے انسان کو قوموں‌اور قبیلوں میں‌تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکوـ مگر ھم سب وہ زبان استمال کرتے ھن جو ھماری ماں استمال کرتی ھے۔ جب ھماری ماں ایک تھی تو ایسا کسے ھوا کے ھم نے مختلف زبانیں بولنا شروع کر دیں۔
آپ جتالہ انکل اورحیدر کی پوسٹ کے کچھ پوائنٹس پڑھیں گے تو آپکوخود معلوم ہو جائے گا اِسکا جواب۔ جزاک اللہ
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
skjatala (26-05-11), معظم (26-05-11), بزم خیال (31-05-11)
پرانا 26-05-11, 07:01 PM   #14
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 4
کمائي: 261
شکریہ: 4
4 مراسلہ میں 19 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ میری اس بابت معلومات کُچھ بھی نہیں ہیں نہ ہی کبھی سوچا ہے اس بارے میں ۔۔۔
یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ
جب اماں حوا اور بابا آدم اس دنیا میں بھیجے گئے تو دونوں کی ایک ہی زبان ہو گی یقیناَ
پھر آہستہ آہستہ انکی اولاد ہونا شروع ہوئی
یقیناَ یہ اولاد بھی وہی زبان بولتی ہو گی جو انکے والدین بولتے ہوں گے۔
لیکن پھر اولاد میں کثرت ہونا شروع ہوئی۔
اولاد نے رُوئے زمین پر پھیلنا شروع کر دیا۔
کوئی کسی رُخ چلا گیا کوئی کہیں چلا گیا۔
اب چونکہ ہر کسی کا علاقہ مختلف ہو گیا ۔۔۔۔ اور اس کا رابطہ اپنے دوسرے رشتے داروں سے منقطع ہو گیا ۔۔۔۔اور مزید یہ کہ چونکہ انکے والدین ابتدائی زبان بولتے تھے۔۔۔اس پر مستزاد یہ کہ انسان کی فطرت میں نئی نئی معلومات کی بنیاد پر نئے نئے علوم ایجاد کرنے کی سعی تھی۔۔۔تو ان تمام عوامل کر ملا کر ہر علاقے کی اپنی زبان ڈویلپ ہونا شروع ہو گئی۔

اس کی مثال یوں لیں۔ فرض کرتے ہیں جب اماں حوا اور بابا آدم کو زمین پر اتارا گیا اور جب تک انکی اولاد زمین کے مختلف حصوں میں نہیں پھیلی۔۔۔انکے ذخیرہ علم میں محض چند درجن اشیا کے نام ہوں گے۔
پھر جب اولاد آدم پھلینا شروع ہوئی ۔۔اور وہ مختلف علاقوں میں گئے تو انکو نت نئی چیزوں سے واسطہ پڑا۔
مثلاً ہر کسی کے لیے درخت ایک نئی چیز ہو گی۔ چناچہ ایسا ہوا ہو گا کہ کسی نے تو پودوں کو درخت کہا، کسی نے ٹری کہا کسی نے کُچھ اور نام دیا۔ کسی کو پتھر نظر آیا تو اس نے پتھر کہا ، کسی نے حدید کہا ، کسی نے سٹون۔چونکہ ان سب کا آپس میں رابطہ نہ تھا چناچہ انہی چیزوں کی بنیاد پر رفتہ رفتہ نئی زبانیں وجود میں آ گئیں۔

یہ محض میرا اندازہ ہے۔ حقیقت کا علم صرف اللہ کو ہے۔ واللہ اعلم
بحت مناسب جواب ے ماشاالللہ ۔۔۔
ali rana آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ali rana کا شکریہ ادا کیا
skjatala (26-05-11), معظم (26-05-11)
پرانا 26-05-11, 07:36 PM   #15
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 4
کمائي: 261
شکریہ: 4
4 مراسلہ میں 19 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھت خوب کھا حیدر بھای آپ نے۔
اگر میرے سوال کو با غور پرھا جاے تو یہ بات واظع ھے۔ کے میں زبان کی تاریخ کے مطلیق سوال کر رھا ھوں۔
آپ نے میرے سوال کا بہت ھی مناسب جواب دیا ھے۔ شوکر گوزار ھوں میں آپ کا۔
اور جو دوستوں نے قرانئ آیات کا حوالا دیا انحوں نے بھت اچھی کوشیش کی پروردی گار ان کو جزا دے۔
ایک بھای نے اردو کئ مثال دیتے ھوے خوب لیکھا۔
میں آپ سب کا اور خصوصی طور پر بھای عدنان کا شکریہ ادا کرتا ھوں جنھوں نے مجھے اتنے اچھے دوستوں میں شمولیت اختیار کرنے کی دعوت دی۔
الفاظ میں کمی پیشئ کے لے معافی کا طلب گار ھوں۔
ali rana آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ali rana کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (29-05-11), محمدعدنان (27-05-11), معظم (26-05-11), بزم خیال (31-05-11)
جواب

Tags
کمی, کرتا, گا۔, پہلے, پوچھنا, چاہتا, مل, ملے, آپکو, آدم, اولاد, الگ, السلامُ, انسان, امید, بخش, تمام, تسلی, جواب, جائے, حوا, زبانیں, سوال, عورت, عزوجل


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا عروج شاعر مشرق علامہ اقبال 9 15-05-11 01:07 PM
سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے گلاب خان خبریں 0 09-12-10 05:22 AM
بیت اللہ محسود نے خاموشی اختیار کر لی:حکیم اللہ محسود کا دعویٰ حیدر خبریں 6 13-08-09 11:01 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:03 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger