| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 320
|
||||
| 9 قاری/قارئین نے ali rana کا شکریہ ادا کیا | skjatala (25-05-11), فیصل ناصر (25-05-11), محمدخلیل (25-05-11), محمدعدنان (25-05-11), بزم خیال (31-05-11), روشنی (26-05-11), راجہ اکرام (25-05-11), سیپ (26-05-11), عبداللہ آدم (27-05-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,222
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وعلیکم السلام
وقت کی کمی کے باعث جواب دینے سے قاصرہوں۔ اِنشاء عزوجل کل پہلے وقت ہی آپکو جواب مل جائے گا۔ جزاک اللہ۔
__________________
![]() |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بیشک اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے۔
القرآن 49:13 جب اللہ تبارک وتعالٰی نے انسان کو قوموںاور قبیلوں میںتقسیم کیا تو کیسے ممکن تھا کہ سب کی زبان ایک ہوتی ؟ اگر زبان ایک ہوتی تو ان میں فرق کیا تھا پھر؟
__________________
اے اللہ! ان سنگین حالات میں ملکِ پاکستان کی حفاظت فرما۔ آمین ثم آمین بزنس ایجوکیشن ایک تعلیمی بلاگ ، اب نئے انداز میں - http://bizedu.co.cc |
|
|
|
| 14 قاری/قارئین نے معظم کا شکریہ ادا کیا | skjatala (26-05-11), فیصل ناصر (25-05-11), کنعان (26-05-11), ھارون اعظم (29-05-11), محمد عاصم (27-05-11), محمدخلیل (25-05-11), محمدعدنان (25-05-11), آبی ٹوکول (26-05-11), بزم خیال (31-05-11), روشنی (26-05-11), راجہ اکرام (25-05-11), سیپ (26-05-11), سام (25-05-11), عبداللہ آدم (27-05-11) |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم برادرم علی
پاک نیٹ پر خوش آمدید معظم بھائی نے جس قرآنی آیت کا ترجمہ نقل کیا ہے وہ آپ کے سوال کا بہترین جواب ہے ایک ہی آدم و حوا کی اولاد ہیں لیکن زبانیں اور رہن سہن مختلف ہیں ۔۔ مختلف قبائل اور گروہ ہیں۔ اس تقسیم کی بنیادی وجہ جو قرآن نے بتائی ہے وہ ہے ’’لتعارفوا‘‘ تا کہ تعارف اور جان پہچان ہو سکے۔ اگر یہ تقسیم نہ ہوتی تو انسانوں کی اتنی بڑی تعداد میں تعارف اور جان پہچان مشکل عمل ہو جاتا۔ اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ یہ قبائل کہیں وجہ تفاخر نہ بن جائیں ۔۔ اس لیے اعلان کر دیا کہ ’’عزت و شرف کا معیار تقویٰ ہے‘‘۔ تفصیلات کچھ دیر کے بعد
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 4
کمائي: 261
شکریہ: 4
4 مراسلہ میں 19 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
معظم صاحب اپ کا شوکر گوزار ھوں کے اپ نے اپنے جواب کا اندراج کیا۔ مگر میں جانتا ھوں کے اللہ تبارک وتعالٰی نے انسان کو قوموںاور قبیلوں میںتقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکوـ مگر ھم سب وہ زبان استمال کرتے ھن جو ھماری ماں استمال کرتی ھے۔ جب ھماری ماں ایک تھی تو ایسا کسے ھوا کے ھم نے مختلف زبانیں بولنا شروع کر دیں۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ali rana کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے معظم کا شکریہ ادا کیا | skjatala (25-05-11), شمشاد احمد (26-05-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,976
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تقریبا 70 میل کے بعد زبان اور لہجے میں فرق آ جاتا ہے-اور وقت کے ساتھ بھی آہستہ آہستہ زبانوں میں فرق آجاتا ہے، سوائے عربی زبان کے اور یہ عربی زبان کا معجزہ ہے-
جب لوگ ایک جگہ پر وسائل کم ہونے کی وجہ سے ہجرت کرتے رہے- تو آپس میں قبیلوں اور گروہوں میں بٹتے چلے گئے، اس طرح ان کی زبان اور لہجے میں بھی فرق آتا گیا۔ اسی طرح جب یہ قبائل اپنے مشترکہ دشمن سے نمٹنے کے لئے اتحاد کرتے تو مشترکہ افواج آپس میں گفتگو کرنے کے لئے ایسی زبان استعمال کرتی جس کے الفاظ مشترک ہوتے اس طرح بھی نئی زبانیں وجود میں آتی رہیں۔اردو زبان اس کی مثال ہے- ہم آٹھ افراد ایک ماں باپ کی اولاد ہیں - کوئی کراچی میں رہتا ہے ،کوئی اندرون سندھ ، کوئی پنجاب اور کوئی بیرون ملک جب کسی غمی خوشی میں اکھٹے ہوتے ہیں تو، باوجود اس کے کہ جوانی تک ایک ساتھ رہے ہم سب کے لہجے جدا جدا ہو گئے ہیں- سندھ میں رہنے والا سندھی لب لہجے میں ، کراچی والے اردو کے الفاظ زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح کوئی کچھ کوئی کچھ بولتا ہے- اور تو اور اگر آپ آج سے 30 ، 35 سال پرانی اردو کی کتاب کا مطالعہ کریں گے تو آپ دیکھیں گے کہ بہت سے ایسے الفاظ ہیں جو آج کل استعمال ہی نہیں ہوتے- اور بہت سے نئے الفاظ عام بول چال شامل ہوگئے ہیں، سو یہی وجہ ہے ہماری الگ الگ زبانوں کی اس کے بارے میں حدیث بھی ہے مگر ابھی ذہن میں نہیں آرہی۔
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر Last edited by skjatala; 26-05-11 at 12:19 AM. |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 389
کمائي: 6,365
شکریہ: 99
303 مراسلہ میں 791 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشاءا للہ سے سب ہی کا علم وسیع ہے،
ربی زدنی علما |
|
|
|
| روشنی کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (27-05-11) |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اب انسان جس کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اسے ہی اس کا کوئی حل ڈھونڈنا ہے زبانیں چاہے کتنی ہی مختلف کیوں نا ہوں اللہ تعالٰی ہماری مدد فرمائے ۔ آمین
__________________
اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور اسکی طرف وسیلہ ڈھونڈو (جس کی بدولت تمہیں اس کا قُرب حاصل ہو ) اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ (المائدہ 35) ندامت میں جھکے ہوئے سر سے اطاعت میں جھُکا ہوا سر بہتر ہے
|
|
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,516
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بہت اچھی بات کی ہے آپ نے کہ تقوی عزت اور شرف کا معیار "تقوی " ہے اور واقعی یہ ہی فرق ہے عام انسانوں میں اور دوسروں میں - جس طرح سےنماز کا فرق ہے، مسلمانوں کے تمام دوسرے مزاہب سے۔ نماز ہی مسلمان اور غیر مسلمانوں میں فرق کرتی ہے جہاں تک تعلق ہے زبان کا، تو اس کے لیے انسائیکلوپیڈیا کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔ لیکن ایک بات ضرور ہے کہ جب اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا کو ذمیں پر اتارا تو کافی عرصے سے بعد وہ ملے تھے، شاید ان کی زبان میں بھی اس وقت تک فرق آ گیا ہو (میری تصدیق کیجیے، کیونکہ مجھے اچھی طرح معلوم نہیں ہے |
|
|
|
|
| اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا گیا | skjatala (26-05-11) |
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ میری اس بابت معلومات کُچھ بھی نہیں ہیں نہ ہی کبھی سوچا ہے اس بارے میں ۔۔۔
یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ جب اماں حوا اور بابا آدم اس دنیا میں بھیجے گئے تو دونوں کی ایک ہی زبان ہو گی یقیناَ پھر آہستہ آہستہ انکی اولاد ہونا شروع ہوئی یقیناَ یہ اولاد بھی وہی زبان بولتی ہو گی جو انکے والدین بولتے ہوں گے۔ لیکن پھر اولاد میں کثرت ہونا شروع ہوئی۔ اولاد نے رُوئے زمین پر پھیلنا شروع کر دیا۔ کوئی کسی رُخ چلا گیا کوئی کہیں چلا گیا۔ اب چونکہ ہر کسی کا علاقہ مختلف ہو گیا ۔۔۔۔ اور اس کا رابطہ اپنے دوسرے رشتے داروں سے منقطع ہو گیا ۔۔۔۔اور مزید یہ کہ چونکہ انکے والدین ابتدائی زبان بولتے تھے۔۔۔اس پر مستزاد یہ کہ انسان کی فطرت میں نئی نئی معلومات کی بنیاد پر نئے نئے علوم ایجاد کرنے کی سعی تھی۔۔۔تو ان تمام عوامل کر ملا کر ہر علاقے کی اپنی زبان ڈویلپ ہونا شروع ہو گئی۔ اس کی مثال یوں لیں۔ فرض کرتے ہیں جب اماں حوا اور بابا آدم کو زمین پر اتارا گیا اور جب تک انکی اولاد زمین کے مختلف حصوں میں نہیں پھیلی۔۔۔انکے ذخیرہ علم میں محض چند درجن اشیا کے نام ہوں گے۔ پھر جب اولاد آدم پھلینا شروع ہوئی ۔۔اور وہ مختلف علاقوں میں گئے تو انکو نت نئی چیزوں سے واسطہ پڑا۔ مثلاً ہر کسی کے لیے درخت ایک نئی چیز ہو گی۔ چناچہ ایسا ہوا ہو گا کہ کسی نے تو پودوں کو درخت کہا، کسی نے ٹری کہا کسی نے کُچھ اور نام دیا۔ کسی کو پتھر نظر آیا تو اس نے پتھر کہا ، کسی نے حدید کہا ، کسی نے سٹون۔چونکہ ان سب کا آپس میں رابطہ نہ تھا چناچہ انہی چیزوں کی بنیاد پر رفتہ رفتہ نئی زبانیں وجود میں آ گئیں۔ یہ محض میرا اندازہ ہے۔ حقیقت کا علم صرف اللہ کو ہے۔ واللہ اعلم |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,222
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
قرآن مجید کی سورۃ الحجرات میں ہے،
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌO ترجمہ: ”اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تمہارے طبقات اور قبیلے بنا دیئے تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو بے شک اللہ کے نزدیک تو تم سب میں عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہو، بے شک اللہ باخبر ہےo“ یہاں اللہ تبارک وتعالیٰ نے خود فرمایاکہ ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکویعنی اس آیت کو بغورپڑھنے کے بعد سوا ل کی کہیں گنجائش نہیں رہتی۔ بلاشبہ ہم ایک ہی آدم و حواکی اولاد ہیں لیکن طبقے اورقبیلے ہمیں ایک دوسرے سے الگ بناتے ہیں۔ یہ قبیلے تودورِ اِسلام سے پہلے ہی بن چکے تھے جہاں لوگ قبائل سے پہچانے جاتے تھے کہ فلاں بنو خزاع کے قبیلے سے ہے یا بنواسرائیل کے وغیرہ اب یہ تومعلوم نہیں کہ اِنکی زُبان ایک تھی یا نہیں لیکن اگرزُبان ایک ہوتی توپہچان کیسے رہتی صرف قبیلہ پہچان ہوتا تو مشکل ہوتی۔ آپ دیکھیں اللہ نے اشرف المخلوقات کیساتھ ساتھ چرندپرند بنائے لیکن سب کی زُبانیں الگ ہیں یعنی کوا اگرکیں کیں کرتا ہے توبلی میاؤں میاؤں اورکُتا بھونکتا ہے اِسی طرح سب جانوروں اورپرندے مختلف ساؤنڈ کرتے ہیں جو اُنکی پہچان ہے۔ اگرسب ایک ہی آوازنکالتے تودیکھے بنا آپ پہچان کیسے کرتے؟ جبکہ آپ صرف آوازسے بتا سکتے ہیں کہ یہ مرغی ہے یا کوا یا پھرچڑیا۔ کافی دِن پہلے میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارے میں مطالعہ کررہی تھی جس میں وہ اپنے بیٹے یوسف علیہ السلام کے منتظرتھے۔ جب بھی کوئی مُسافرآتا وہ لب ولہجے سے پہچان کرتے اورکہتےبنیامن یہ کنعانی ہے، یہ مصرسے ہے اور فلاں عربی ہے یعنی زُبان کی تبدیلی اب سے نہیں ہے بلکہ آج سے کئی سو سال پہلے سے ہے جب مختلف قبائل / ملکوں میں مختلف زُبانیں بولیں جاتی تھیں۔ قبائل ہماری پہچان کیلئے بنے توزُبان اُس کی نشاندہی کیلئے لیکن میعار“تقویٰ رکھا۔ اُمیدہے آپ کوسمجھ آگئی ہو گی۔ |
|
|
|
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,222
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#14 | |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 4
کمائي: 261
شکریہ: 4
4 مراسلہ میں 19 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 4
کمائي: 261
شکریہ: 4
4 مراسلہ میں 19 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھت خوب کھا حیدر بھای آپ نے۔
اگر میرے سوال کو با غور پرھا جاے تو یہ بات واظع ھے۔ کے میں زبان کی تاریخ کے مطلیق سوال کر رھا ھوں۔ آپ نے میرے سوال کا بہت ھی مناسب جواب دیا ھے۔ شوکر گوزار ھوں میں آپ کا۔ اور جو دوستوں نے قرانئ آیات کا حوالا دیا انحوں نے بھت اچھی کوشیش کی پروردی گار ان کو جزا دے۔ ایک بھای نے اردو کئ مثال دیتے ھوے خوب لیکھا۔ میں آپ سب کا اور خصوصی طور پر بھای عدنان کا شکریہ ادا کرتا ھوں جنھوں نے مجھے اتنے اچھے دوستوں میں شمولیت اختیار کرنے کی دعوت دی۔ الفاظ میں کمی پیشئ کے لے معافی کا طلب گار ھوں۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ali rana کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| کمی, کرتا, گا۔, پہلے, پوچھنا, چاہتا, مل, ملے, آپکو, آدم, اولاد, الگ, السلامُ, انسان, امید, بخش, تمام, تسلی, جواب, جائے, حوا, زبانیں, سوال, عورت, عزوجل |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا | عروج | شاعر مشرق علامہ اقبال | 9 | 15-05-11 01:07 PM |
| سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے | گلاب خان | خبریں | 0 | 09-12-10 05:22 AM |
| بیت اللہ محسود نے خاموشی اختیار کر لی:حکیم اللہ محسود کا دعویٰ | حیدر | خبریں | 6 | 13-08-09 11:01 PM |