واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


ایک ہی پیمانہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-01-10, 05:51 PM   #1
ایک ہی پیمانہ
sahj sahj آف لائن ہے 15-01-10, 05:51 PM

اللہ اکبر و الحمدللہ! کیسے شکر ادا کروں اس عظیم اور بے مثال محسن کا، جس کے احسانات کی حد ہے نہ انتہا۔ پچاس برس ہوگئے اس کی نعمتوں کی بارش میں نہارہا ہوں۔ حیرت اس بات پر کہ اِدھر دغا اُدھر عطا، اِدھر جرم اُدھر کرم، اِدھر معصیت اُدھر مغفرت، اِدھر بغاوت اُدھر رحمت ہی رحمت، عنایت ہی عنایت۔ زبان گنگ ہے اور الفاظ درماندہ شکر ادا کروں تو کیسے کروں؟ رحمن و رحیم نے محض اپنے فضل و کرم سے ایک بار پھر اپنے کمزور، لاچار، سراپا خطا اور تہی دست بندے کو اپنے خاص دربار اور تجلیات کے مرکز میں بلالیا ہے۔ اب اس کا سر ہے اور مولیٰ کا در، بھکاری کے ہاتھ ہیں اور سخی داتا کا جود و کرم۔ آج جب یہ بھکاری لطف و احسان کے انتظار میں ملتزم پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ اچانک اسے وہ گیارہ مخلص داعی یاد آگئے جنہیں اکتوبر کی آخری تاریخوں میں سندھ کے علاقے تھر میں ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔




یہ وہ علاقے ہےں جہاں شاید ملک کے باقی علاقوں کے مقابلے میں جہالت بہت زیادہ ہے۔ ایسے مسلمان بے شمار ہیں جنہیں نماز تو کیا کلمہ تک یاد نہیں۔ مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے۔ شادی بیاہ سے لے کر موت اور غمی تک میں ہندوانہ رسمیں عام ہوچکی ہیں۔ وڈیروں، جاگیرداروں اور موروثی صاحبزادوں اور پیروں کا تسلّط ہے۔ عوام کالانعام ہیں۔ دینی اور دنیاوی دونوں تعلیم سے محروم، نہ ڈھنگ کے اسکول انہیں میسر ہیں نہ معیاری مدارس۔ ''الناس علی دین ملوکہم'' کے مصداق وہی کرتے ہیں جو ان کے سردار چاہتے ہیں، ان کے ذہنوں میں یہ بات بٹھادی گئی ہے کہ جنت میں جانے کے لیے ایمان وعمل کی نہیں، وڈیرے اور پیر کی رضا ضروری ہے۔ چنانچہ وہ خود بھوکے رہتے ہیں مگر ''سائیں'' کا نذرانہ قضا نہیں کرتے۔




نتیجہ یہ ہے کہ مرید کے گھر دیا نہیں جلتا، مگر پیر کا گھر بجلی کے قمقموں سے سے جگمگ جگمگ کرتا ہے۔ مرید کے بیمار بچے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرجاتے ہیں، مگر انہیں کسی کوالیفائیڈڈ ملکی ڈاکٹر کا علاج میسر نہیں آتا جبکہ وڈیرے کا علاج لندن اور امریکا کے مہنگے ہسپتالوں میں ہوتا ہے۔ ہاری کی اولاد نانِ جویں سے بھی محروم رہتی ہے، جبکہ جاگیر داروں کے کتوں کو صبح وشام گوشت اور مکھن کھلایا جاتا ہے۔ تھر کے جس علاقے میں ظلم وستم کی شرمناک واردات ہوئی، وہاں کا بے تاج بادشاہ ایک ایسے صاحب کو تسلیم کیا جاتا ہے جو سیاست اور اقتدار کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں۔ کم ازکم سندھ کی حد تک ان کی معاونت کے بغیر حکومت سازی محال ہے۔ سال بھر میں صرف ایک بار مریدوں کو اپنا دیدار کرواتے ہیں اور وہ بھی اتنی دور سے کہ محنت کشوں کے جسم اور منہ سے نکلنے والے جراثیم ان تک نہ پہنچ سکیں۔




رائیونڈ سے تشکیل ہونے کے بعد یہ گیارہ مخلص داعی جب تھر کے اس علاقے میں پہنچے جو ''پیر صاحب'' کے زیر اثر ہے تو انہیں مسجد میں داخل نہ ہونے دیا گیا۔ لڑنا بھڑنا انہیں آتا نہیں تھا۔ انہوں نے خاموشی سے بستر اُٹھائے اور درختوں کے نیچے جاکر بیٹھ گئے اور تعلیم وتعلم کا سلسلہ شروع کردیا۔ وڈیروں کو ان کا یہاں بیٹھنا بھی ناگوار گزرا۔ انہوں نے اپنے پالتو غنڈوں کو بلوالیا جنہوں نے ان سے بستر، ٹوپیاں، عمامے اور جوتے چھین لیے اور انہیں ایک قطار میں کھڑا کرکے ان کی ڈاڑھیاں مونڈ دیں۔




ہم شاید اس حزن والم کا تصور بھی نہ کرسکیں جو اس وقت ان کے سینے میں برپا ہوگا جب انہیں سنت رسول سے محروم کیا جارہا تھا۔ انہوں نے ہاتھ بھی جوڑے۔ منت سماجت بھی کی۔ آہ وزاری سے سنگ دلوں کو موم کرنے کی کوشش بھی کی، مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ انہوں نے انہیں سنت سے محروم کرکے ہی چھوڑا۔ ڈاڑھیاں مونڈنے کے بعد ڈنڈوں، کلہاڑیوں اور ٹوکوں سے ان پر حملہ کردیا گیا۔ ان میں جوان بھی تھے اور بوڑھے بھی۔ امیر بھی تھے اور غریب بھی، مگر ظالموں کو کسی پر بھی ترس نہ آیا۔ خاردار زمین میں کئی کلومیٹر تک انہیں ننگے پاؤں بھاگنے پر مجبور کیا گیا۔ جب ان میں سے کسی کے چلنے کی رفتار سست ہوجاتی تو اسے ڈنڈوں اور کلہاڑیوں سے مارا پیٹا جاتا حتیٰ کہ وہ گرتے پڑتے ان کے علاقے سے باہر نکل گئے۔




یک بستی والوں نے گیارہ لہولہان انسانوں کو دیکھا تو انہیں ترس آگیا۔ چنانچہ انہوں نے ہسپتال تک پہنچانے کا انتظام کیا۔ شاید یہ ترس اسی طرح کا تھا جیسے طائف والوں کے ہاتھوں زخمی ہونے والے داعیئ اعظم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیا تھا۔ آپ کا جرم بھی دعوت اور خیرخواہی کے سوا کچھ نہ تھا، جبکہ کندھوں پر بستر اُٹھاکر اور اپنے اخراجات خود برداشت کرکے تھر کے صحرا اور گوٹھوں میں گشت کرنے والوں کا جرم بھی یہی تھا۔ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سنگباری کرنے والوں کے لیے ہدایت کی دُعا کی تھی اور ان گیارہ دوستوں نے بھی دُعا ہی دی۔ نہ گالی کے جواب میں گالی، نہ مکا نہ تھپڑ، نہ ڈنڈا نہ گولی۔ انہوں نے تو تھانے میں مقدمہ تک درج نہیں کروایا۔ دل ہی دل میں یہ کہتے ہوئے معاملہ اللہ پر چھوڑدیا: ''اے اللہ! ہم اپنی قوت کے ضعف، اپنی تدبیر کی قلت اور لوگوں کی نظر میں اپنی عاجزی اور کمزوری کا شکوہ تجھی سے کرتے ہیں۔ اے ارحم الراحمین! تو نے ہمیں کس قسم کے انسانوں کے رحم وکرم پر چھوڑدیا ہے۔ کیا ان دشمنوں کے حوالے کیا، جن کے ماتھے پر ہمیں دیکھتے ہی بل پڑجاتے ہیں یا ان دشمنوں کے حوالے جنہیں تو نے ہمارے معاملات کا مالک بنادیا ہے۔ اگر تو ہم سے ناراض نہیں ہے تو ہمیں کوئی پرواہ نہیں، البتہ تیری عافیت ہمارے لیے کافی اور وسیع ہے۔''




ان اللہ والوں نے تو اپنی تربیت، عادت اور دستور کے مطابق معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا مگر کہاں گئے وہ حقوقِ انسانی کے علمبردار جو انسان تو انسان، حیوانوں پر بھی ظلم اور زیادتی برداشت نہیں کرسکتے؟ کہاں گئے ہمارے وہ سراپا درد لیڈران کرام جنہوں نے تشدد کے خاتمے کو اپنی زندگی کا مقصد ٹھہرا رکھا ہے۔ وہ کسی دور دراز علاقے میں رونما ہونے والے تشدد کے ہر چھوٹے بڑے واقعے پر آسمان سر پر اُٹھالیتے ہیں؟ کیا سب کو سانپ سونگھ گیا؟ قومی اخبارات میں اس سانحہ کی خبر شائع ہوئی؟ بی بی سی نے لندن سے رپورٹ نشر کی۔ ہم منتظر ہی رہے شاید کوئی قومی یا صوبائی لیڈر اس ننگی وحشت اور سربریت کی مذمت کرے۔ شاید کسی این جی او کا نمایندہ، کوئی صحافی، کوئی کالم نگار اور کوئی اینکر پرسن اس تشدد کے خلاف آواز اُٹھائے مگر ہماری اُمید صدا بصحرا ثابت ہوئی۔




آپ ایک لمحے کے لیے سوچیے! کلفٹن کے ساحل پر نیو ایر منایا جارہا ہوتا، نشے میں مدہوش لڑکے اور لڑکیاں طوفانِ بدتمیزی برپا کیے ہوتے۔ ہوائی فائرنگ سے پورا علاقہ گونج رہا ہوتا، خوفزدہ معصوم بچے اپنی ماؤں کی گود میں سمٹ چکے ہوتے، گانوں کے شور سے کانوں کے پردے پھٹ رہے ہوتے، جام سے جام اور جسم سے جسم سرعام ٹکرارہے ہوتے۔ بیمار، کمزور اور بوڑھے دل ہی دل میں تلملارہے ہوتے۔۔۔۔۔۔ پھر کوئی ایک یا چند سرپھرے نوجوان رنگ میں بھنگ ڈال دیتے، روک ٹوک کرتے، ڈیک توڑدیتے، جام چھین لیتے۔ اس چھینا جھپٹی میں کسی مدہوش دیوانے کے جسم پر خراش آجاتی یا کسی نازنین کے پاؤں میں موچ آجاتی تو کیا ہوتا؟ کتنی زبانیں چلتیں؟ کتنے صفحات سیاہ ہوتے؟ کتنے چینل اس واقعے کو فوکس کرتے؟ کتنے دانشور دینی طبقے پر تبرا کرتے اور تان آکر اس بات پر ٹوٹتی کہ اس قسم کے سارے سانحات کی ذمہ داری مولویوں، مدرسوں اور مساجد پر عائد ہوتی ہے۔ انہیں کنٹرول کرنا ضروری ہے۔




ممکن ہے چھینا جھپٹی کے اس عظیم سانحہ کے ذمہ دار دہشت گردوں کی تلاش میں چند مدارس پر چھاپہ بھی پڑجاتا۔ وہاں سے بے گناہ طلبہ کو گرفتار کرکے میڈیا کے سامنے پیش کردیا جاتا۔ خاکے میں رنگ بھرنے کے لیے اسلحہ بھی برآمد کیا جاسکتا۔
اے وہ لوگو! تشدد کا خاتمہ چاہتے ہو اور ملک کے چپے چپے میں امن کی بہار دیکھنا چاہتے ہو تو عدل کرو۔ قیامِ عدل ہی میں ملکوں اور قوموں کی بقا کا راز پوشیدہ ہے۔ یہ ارض وسما بھی عدل ہی سے قائم ہیں۔ سچی گواہی دو اور عدل کا دامن ہر جگہ مضبوطی سے تھامے رکھو۔ چاہے معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ مولوی کا ہو یا مسٹر کا۔ تھر کا ہو یا اپنے گھر کا۔ اگر ہم واقعی امن چاہتے ہیں تو ہمیں دوغلی پالیسی اور منافقانہ رویہ ترک کرنا ہوگا۔ دو دو پیمانے نہیں چلیں گے۔ یہ کیا ہوا کہ امریکیوں، سرمایہ داروں، وڈیروں، موروثی جاگیرداروں، مراعات یافتہ طبقوں اور بیوروکریسی کے افسروں کے لیے پیمانہ الگ اور غریبوں، محنت کشوں، کمزوروں، مولویوں اور دین داروں کے لیے پیمانہ الگ۔ پیمانہ ایک ہی رکھیے مگر اس پیمانے کی ساخت اور تراش خراش میں یہودوہنود سے نہیں کتاب وسنت سے راہنمائی لیجیے۔ جس چیز کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دہشت گردی اور تشدد کہیں آپ بھی کہہ دیں اور جسے وہ جہاد اور امن وعدل قرار دیں۔ آپ بھی سرتسلیم خم کردیں۔


(تحریر اک اللہ کے بندے کی جانب سے)
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 221
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (15-01-10), شاہ (15-01-10), طاھر (16-01-10), عبداللہ حیدر (15-01-10)
پرانا 15-01-10, 06:02 PM   #2
Senior Member
مقبول
 
شاہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 199
کمائي: 2,947
شکریہ: 32
139 مراسلہ میں 353 بارشکریہ ادا کیا گیا
شاہ کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

sahj صاحب شکریہ آواز حق اٹھانے کا

لیکن مطمئن رہیں جن افراد کے ساتھ یہ ظلم ستم ہوا ہے انکے لئے بڑا اجرتیار رکھا ہے کتنے خوش نصیب لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں تکلیفیں اٹھا تے ہیں
شاہ آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شاہ کا شکریہ ادا کیا
sahj (15-01-10), فیصل ناصر (15-01-10)
پرانا 15-01-10, 06:09 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لیکن اس شخص کا نام لکھنے کی جرات اپ میں بھی نہیں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (15-01-10)
پرانا 15-01-10, 06:23 PM   #4
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,995
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
لیکن اس شخص کا نام لکھنے کی جرات اپ میں بھی نہیں۔
خبر کا عکس حاضر ھے اور بڑے مجرم کا نام بھی

((((((((((((((((((سندھ کے ضلع سانگھڑ میں ایک تبلیغی جماعت میں شامل افراد کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ان کی داڑھیاں مونڈنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔

اس جماعت کے ایک رکن کے مطابق تشدد کے دوران تین افراد کے ہاتھ بھی توڑ دیےگئے۔

حاجی فضل اللہ ہنگورہ کے مطابق یہ تبلیغی جماعت جب سانگھڑ کے علاقے کھپرو کے نزدیک ایک گاؤں رئو جو تڑ پہنچی تو انہوں نے ناشتے کے بعد مقامی مسجد میں آرام کا فیصلہ کیا۔ اسی اثناء میں لگ بھگ تیس افراد لاٹھیوں اور ڈنڈوں کے ساتھ مسجد میں داخل ہو گئے اور انہوں نے ان لوگوں پر مبینہ طور پر حملہ کردیا۔ حاجی فضل کے مطابق حملہ آوروں کے ہمراہ دو مسلح افراد بھی تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ تبلیغ کرنے والے مسجد سے نکل کر بھاگے تو حملہ آوروں نے ان کے ساتھیوں کو چھ سات کلو میٹر تک بھگایا اور اس کے بعد قینچی سے ان کی ڈاڑھیاں مونڈ دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ افراد نے اس دوران مزاحمت کی اور اپنی داڑھی کو ہاتھ سے چھپا لیا جس پر ان کے ہاتھوں پر ڈنڈے برسائے گئے اور اس دوران قافلے میں شامل کھپرو کے ہی بشیر ہنگور شدید زخمی ہوگئے۔ یہ قافلہ ساہیوال، ملتان اور دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل تھا۔

کھپرو پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے سلسلے میں کوئی رپورٹ درج نہیں کرائی گئی ہے۔ اس حوالے سے حاجی فضل اللہ کا کہنا ہے کہ انہیں رائے ونڈ سے حکم ملا تھا کہ کسی قسم کے احتجاج اور مقدمہ بازی سے دور رہا جائے اس لیے پولیس کو مطلع نہیں کیا گیا۔ تاہم جب قافلے کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کی اطلاع کھپرو پہنچی تو سیاسی اور سماجی تنظیموں سے وابستہ لوگوں نے احتجاجی جلوس نکالا اور تھانے کے سامنے دھرنا دیا اور رپورٹ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔

رائے ونڈ سے نکلنے والے تبلیغی جماعت کے اس قافلے کو وسیع و عریض ریگستانی علاقہ اچھرو تھر میں پاکستان اور بھارت کی سرحد تک جانا تھا۔ رئو جو تڑ بھی اچھرو تھر میں واقع ہے۔ اس گاؤں میں راجپر قبیلے کے لوگ رہتے ہیں جو پیر پگارا کے مرید اور حر جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔))))))))))))))))))))
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (15-01-10), سحر (15-01-10)
پرانا 15-01-10, 06:37 PM   #5
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا فرق ہے ان پیروں اور تاریک دور کے کافروں میں ؟؟
اندرون سندھ میں تبلیغی جماعت کے ساتھ اس طرح کے واقعات پیش آتے ہی رہتے ہیں اور ان واقعات کی پشت پر اکثر یہی لوگ ہوتے ہیں خود ہمیں راتوں رات کچھ افراد نے ایک مسجد سے نکال کر قریبی گاؤں کی دوسری مسجد میں منتقل کیا اور سبب پوچھنے پر بتایا کے یہ آپ کی حفاظت کے لئے ہی کیا گیا ہے پرانی مسجد میں آپ کو خطرہ تھا
لیکن اللہ کا بڑا کرم یہ ہے کے اب کافی حد تک لوگوں میں سمجھ اور شعور آتا جارہا ہے انشااللہ تھوڑے عرصے میں اس قسم کے مسائل کا خاتمہ ہوجائے گا
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
sahj (15-01-10), سحر (15-01-10)
پرانا 15-01-10, 08:51 PM   #6
Senior Member

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,238
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ خیر کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
عدنان دانی آن لائن ہے   Reply With Quote
عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (16-01-10)
جواب

Tags
لندن, چینل, نماز, موم, موت, آج, اکبر, ایمان, اللہ, امیر, تلاش, تاج, ترک, تعلیم, جواب, جام, جرم, خلاف, خبر, دُعا, دستور, رفتار, زندگی, سیاست, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ھی۔۔۔ صحیح یا غلط پاکستانی لڑکی گپ شپ 95 09-03-11 01:14 PM
فوج کو دعوت ،عمران خان بھی الطا ف حسین کے پیچھے پیچھے جاویداسد خبریں 38 30-08-10 12:13 AM
عوام بھی الطا ف حسین کے پیچھے پیچھے فرحان دانش خبریں 5 24-08-10 11:39 PM
ایسا بھی ہوتا ہے کھیل کھیل میں مسافر دلچسپ اور عجیب 7 03-10-09 10:26 PM
قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے کے باوجود انڈین لیگ کھیلنے کا خواہشمند ہوں ،انڈین کرکٹ لیگ کھیلنے سے انکار بھی نہیں کیا ہے ۔ شعیب اختر کا خصوصی خرم شہزاد خرم کرکٹ 0 03-09-07 10:41 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:04 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger