واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


بارہ ربیع الاول،غوروفکر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-02-12, 01:30 PM   #1
بارہ ربیع الاول،غوروفکر
فیصل ناصر فیصل ناصر آف لائن ہے 05-02-12, 01:30 PM

ربیع الاوّل کے بابرکت مہینے میں ہمارے پیارے نبیﷺ اس دنیا میں تشریف لائے۔ مشیتِ الٰہی کے تحت اس دنیا سے آپﷺ کی واپسی بھی اسی ماہ میں ہوئی۔ یہ صرف ایک اتفاق ہی نہیں بلکہ ربُ العزّت کی طرف سے ہم مسلمانوں کا ایک خاص قسم کا امتحان بھی ہے۔ اس امتحان کی اہمیت اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے، جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آپ کی پیدائش کا دن اور آپ کا یومِ رحلت بھی ایک ہی یعنی بارہ ربیع الاوّل ہے۔ ہم اس وقت ایک عجیب قسم کے دوراہے پر کھڑے ہوجاتے ہیں کہ ہم آج کے دن آپ کی پیدائش کی خوشی منائیں یا آپ کی وفات کا دُکھ اور صدمہ!

ایک بارہ ربیع الاوّل وہ تھا جس دن آپﷺ اس دنیا میں تشریف لائے۔بے شک اس موقع پر کئی بابرکت اُمور ظاہر ہوئے مگر کلی طور پر کوئی بھی اس بات کا اِحاطہ نہیں کرسکتا تھا کہ یہ پیدا ہونے والی ہستی کون ہے اور انسانیت کے کس اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہونے والی ہے، کیونکہ مستقبل کا کامل علم اللہ کے علاوہ کسی اور کے پاس نہیں۔

پھر درجہ بدرجہ آپﷺ اپنی عمر مبارک کی منازل طے کرتے گئے حتیٰ کہ عمر عزیز کے چالیسویں سال آپ کو مقامِ نبوت سے سرفراز فرمایا گیا اور دنیا میں آپﷺکی تشریف آوری کا اصل مشن آپ کے سپرد کیا گیا۔ یہ مشن تھا بھٹکی ہوئی انسانیت کو اس کے خالق سے ملانا اور اس کی عبادت اور اِطاعت کے ذریعے اسی کے ساتھ وابستہ کرنا۔

آپ ﷺنے اس مشن کو توفیقِ ایزدی کے ساتھ اس شان سے کمال تک پہنچایا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر نے گواہی دی کہ آپﷺنے اپنا فرض کماحقہ پورا کردیا۔ حج کے انہی ایام میں ،منیٰ میں ہی سورۃ النصر نازل ہوئی تو جہاں یہ آپ کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تکمیل مشن کی بشارت تھی، وہیں اس میں آپﷺکے لئے اب دنیا سے رخصتی کا اشارہ بھی تھا۔ سمجھ دار صحابہ اس اشارے کو سمجھ گئے تھے اور غمگین اور افسردہ ہوگئے۔ پھر بارہ ربیع الاوّل کا وہ دن بھی آگیا جب آپ اس دنیاے فانی سے تشریف لے گئے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون!

اس دن صحابہ کرام کے غم و الم کا کیا عالم تھا۔حضرت عمرجیسے جری او ربہادر صحابی غم کے اس کوہِ گراں کو برداشت نہ کرسکے اور تلوار لے کر کھڑے ہوگئے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ محمدﷺ فوت ہوگئے ہیں تو اس کی گردن اُڑا دوں گا۔ ابوبکر صدیق نے بڑی ہوش مندی اور تدبر کے ساتھ سب کے سامنے حقیقت بیان کی۔ فرمایا :
''جو شخص محمدﷺ کو پوجتا تھا تو وہ سمجھ لے کہ بلا شبہ محمدﷺ فوت ہوگئے ہیں او رجو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ ہمیشہ زندہ ہے او رکبھی مرنے والا نہیں۔''
پھر آپ نے سورہ آل عمران کی آیت نمبر 144 تلاوت فرمائی: وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ
''محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے۔اگر وہ وفات پاجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم اُلٹے پاؤں پھر جاؤ گے۔ (یعنی اسلام چھوڑ دوگے)''
عبداللہ بن عباس کہتے ہیں: گویا ہم لوگوں کو پتہ ہی نہیں تھا کہ اللہ نے یہ آیت بھی نازل فرمائی ہوئی پھر جسے دیکھو وہ یہی آیت پڑھ رہا تھا اور خود سیدنا عمر کہتے ہیں:
''اللہ کی قسم!مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں نے یہ آیت ابوبکر کے تلاوت کرنے سے پہلے سنی ہی نہ تھی او رجب سنی تو سہم گیا۔ دہشت کے مارے میرے پاؤں نہیں اُٹھ رہے تھے۔ زمین پر گر گیا او رجب میں نے ابوبکر کو یہ آیت پڑھتے سنا تب معلوم ہوا کہ واقعی رسول اللہﷺ کی وفات ہوگئی ہے۔'' (صحیح بخاری: 4454)

بلالِ حبشی موذّنِ رسولﷺ کو ایسی چپ لگ گئی کہ نبیﷺ کے بعد وہ اذان نہ دے سکے۔ رسو ل اللہﷺ کے وصال کے بعد فقط دو دفعہ اذان دی۔ ایک دفعہ حضرت حسن وحسین کے مجبور کرنے پر اَذان دینا شروع کی مگر أشھد أن مُ مُ محمد تک پڑھا اور اس سے آگے نہ بڑھ سکے۔صد حیرت اور افسوس ہے ہم پر کہ بارہ ربیع الاوّل کو ہماری یہ کیفیت کیوں نہیں ہوتی۔ آپﷺ کے یومِ پیدائش کی خوشی میں آپﷺکے یومِ وصال کو ہم قطعاً بھول جاتے ہیں۔ قارئین!اگر ایسا ہو کہ ہمارا کوئی بہت ہی پیارا عزیز اسی تاریخ پرفوت ہوجائے جس تاریخ پر وہ پیدا ہوا تو آپ دل پر ہاتھ رکھ کر انصاف سے بتائیے کہ کیا اس تاریخ کو پیدائش کی خوشیاں منائیں گے یا وفات کا غم !

جس دن نبیﷺپیدا ہوئے، کسی کو کامل ادراک نہیں تھا کہ کیسی ہستی دنیا میں تشریف لائی، لیکن اپنی بے مثال زندگی گزار کر جب آپ 63سال کے بعد وفات پاتے ہیں تو صحابہ کرام اور سارے عرب کو اندازہ تھا کہ کون سی ہستی ہم سے جدا ہوگئی ہے۔ اسی لئے ان کے غم و اَندوہ کی یہ کیفیت تھی کہ جیسے اُن پر پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو۔

ہم اگر چند دہائیاں پیچھے کو جائیں تو بہت سے لوگوں کو یاد ہوگا کہ ہمارے ہاں بارہ ربیع الاوّل کو بارہ
وفات کا نام دیا جاتاتھا اور اس دن لوگوں کے احساسات و جذبات افسردہ اور اُداس ہوتے تھے۔ اس دن ان کی سرگرمیاں ایسے ہی جذبات کی عکاسی کرتیں۔ نجانے کس روشن خیالی کے تحت ایسی سب سوچوں پر پہرہ لگا دیا گیا او راس کو صرف اور صرف خوشیوں اور مسرتوں کا ایک ایسا موقع سمجھ لیا گیا کہ 'عید'سے کم کسی نام پر اطمینان ہی نہیں۔ حالانکہ ایسی مذہبی ، ملی او راجتماعی خوشیوں کے مواقع مقرر کرنا اللہ اور اس کے رسولﷺکا حق ہے اور ان دو ہستیوں نے ہمارے لئے سال بھر میں دو عیدیں مقرر فرمائیں: عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ۔ عیدین کے فلسفہ پر غور کریں تو واضح ہوتا ہے کہ دونوں عیدوں کے ساتھ اسلام کے دو بنیادی فرائض وابستہ ہیں:رمضان اور حج،او ران کی ادائیگی کی خوشی اور شکرانے میں اللہ تعالیٰ ہمیں مسرت کا ایک موقع فراہم کرتے ہیں کہ اللہ کے بندوں نے اللہ کی رضا پانے کے لئے اللہ کے عائد کردہ فرائض بجا لانے میں محنت کی۔ آخرت میں اللہ نے حسن قبولیت کا پروانہ دیا اور دنیا میں اجتماعی ملّی خوشی کا دن مقرر کردیا۔ عیدمیلادالنبیﷺ کے ساتھ ایسا کوئی فریضہ وابستہ نہیں بلکہ صرف اور صرف اللہ رب العزّت کا بے پایاں کرم ہے کہ اس نے ہمیں امام الانبیاء رحمۃ للعالمین محمدﷺ سے نوازا۔اس موقع پر اللہ کا شکر ادا کریں اور محمد رسول اللہﷺ کی اتباعِ کامل کا عہد و اقرار کریں تو اللہ رب العزّت کی اس نعمتِ عظمی کا کچھ حق ادا ہوسکتا ہے۔

کسی بھی عمل کو بطورِ ایک شرعی فریضے کے ادا کرنے کے لئے ہمارے پاس دو بنیادیں ہوتی ہیں:قرآن کریم اور سنت مطہرہ میں اس کے بارے میں شرعی حکم ۔جس کے بارے میں دورِ نبوی اور خلافتِ راشدہ کے دور کے بعد ہمیشہ سے اُمتِ مسلمہ کا اجتماعی عمل بھی ہمارے شوقِ عمل کو مہمیز دیتا ہے۔
عیدمیلادالنبیﷺ کے حوالے سے ہم قرآن و سنت میں غور کریں تو واضح نظر آتا ہے کہ اَحادیث میں ہمیشہ 'عیدین'یعنی دو عیدوں کے احکام اور تفاصیل ہی ملتی ہیں نہ کہ تین عیدوں کی۔رہ گیا اُمت کا تعامل تو سب سے پہلے ان میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پاکیزہ جماعت کا نمبر ہے ، دوسرے نمبر پر تابعین کا او رپھر تبع تابعین کا۔ نبیﷺ نے اپنی ایک حدیث میں فرمایا ہے: '' سب سے بہترین میرا زمانہ ہے پھر اس کے ساتھ کا او رپھر اس کے ساتھ کا۔'' (صحیح بخاری:2651)

اگر ہم ان تینوں ادوار کو دیکھیں تو ان پاکیزہ نفوس نے بارہ ربیع الاوّل کےحوالے سے ہمارے لئے کوئی نمونہ قائم نہیں کیا۔ ہمارے لئے ان اَدوار کے صالحین کا عملی نمونہ بن سکتا ہے،کیونکہ انہیں آنحضورﷺ نے بہترین قرار دیا۔پھر بعد کے اَدوار میں دین پر عمل کے حوالے سے لوگوں میں ویسی پابندی اوراہتمام نہ رہا، اس لئے بعد کے لوگوں کا عمل ہمارے لئے حجت نہیں ہے۔
نبیﷺ کے یومِ میلاد کے سلسلے میں ایک تاریخی پہلو سے بھی جائزہ لیں۔مسلمانوں میں معروف ہے کہ نبیﷺ 22/اپریل 571ء میں بروز سوموار پیدا ہوئے۔ جبکہ اسلامی مہینے کے لحاظ بارہ ربیع الاوّل عام الفیل کے اگلے سال بروز سوموار صبح کو پیدا ہوئے۔

محققین کی تحقیق کے مطابق 22/اپریل 571ء ، 12 ربیع الاوّل سن1 ہجری عام الفیل میں پیر کا دن نہیں بنتا بلکہ جمعرات کا دن بنتا ہے۔پیر کا دن 9 ربیع الاوّل میں پڑتا ہے۔اس لئےآپﷺکی یوم پیدائش 9 ربیع الاوّل ہے، نہ کہ 12ربیع الاوّل۔ یہ تحقیق سیرتِ نبویﷺ پر عالمی انعام یافتہ کتاب 'الرحیق المختوم'کے مصنف علامہ صفی الرحمٰن مبارکپوری کی ہے۔اُنہوں نے اپنی اس کتاب میں علامہ محمد سلیمان منصورپوری اور محمود پاشا فلکی کی تحقیق کا حوالہ دیا ہے۔

قارئین!غور فرمائیں اگر منشائے الٰہی یہ ہوتا کہ اُمتِ محمدیہ اپنے نبی محمدﷺ کا یوم پیدائش بطورِ عید منائے تو کم از کم اس کی تاریخ کے بارے میں اختلاف نہ ہوتا۔ دوسری طرف 12 ربیع الاوّل آپﷺ کا یوم رحلت ہونے کے بارے میں اُمت میں کوئی اختلاف نہیں۔ لہٰذا بارہ ربیع الاوّل آپﷺ کا یومِ میلاد ہو یا نہ ہو مگر یہ نبیﷺکا یوم رحلت ضرور ہے۔ مگر ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیں کہ اس سنگ دل اُمت نے اپنے نبیﷺ کے یوم رحلت کو'یومِ عید'بنا ڈالا۔ عیسائی حضرت عیسیٰ کے یومِ پیدائش کو بطورِ عید مناتے ہیں تو مسلمانوں نے بھی اُن کی دیکھا دیکھی اپنے نبیﷺکے یومِ پیدائش کو عید بنا ڈالا۔مگر جوشِ نقالی میں وہ یہ بھی غور نہ کرسکے کہ یومِ پیدائش کو عید منا رہے ہیں یا یوم ِوصال کو۔

پھر اس عید کو منانے کے لئے نئے سے نئے انداز اختیار کرلیے۔ پہلے تو صرف جلوس نکلتے تھے۔جس کی قیادت ہاروں سے لدے پھندے کچھ 'پير' کرتے ہیں۔ ساتھ میں کچھ ڈھول بجانے او ربھنگڑا ڈالنے والے بھی ہوتے ہیں۔ پھر آخر میں سب پیٹ بھر کر اعلیٰ کھانا کھاتے ہیں۔نام نبی ﷺکا اور شان اپنی دوبالا کرتے ہیں۔کام و دہن کی لذت خود حاصل کرتے ہیں۔ اُس نبیﷺ کے نام پر جنہوں نے کبھی پیٹ بھر کر اچھا کھانا نہیں کھایا تھا اور کئی کئی دن تک اُن کے ہاں چولہا ہی نہیں جلتا تھا۔

ہر سال اس عید کو منانے میں جدت پیدا کرلی جاتی ہے۔ اس دفعہ کی خبر یہ ہے کہ عیدمیلاد النبیﷺ پر مشعل بردار جلوس نکالا جائے گا۔ یہ فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ یہ مشعلیں خوشی کی علامت ہوں گی یا غم کی؟کیونکہ مغرب میں تو غم کے موقع پر مشعلیں جلا کر خاموشی اختیا رکی جاتی ہے۔ نوائے وقت میں یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ مدینہ منورہ سے اشیا حاصل کرکے یہاں پاکستان میں تین من کیک تیار کیا جائے گا۔ اگریہ کیک 'برتھ ڈے'کیک ہے تو پھر اس کو 63 من کا ہونا چاہئے، کیونکہ حضورﷺ کی عمر مبارک 63 سال تھی اور اگر یومِ رحلت کے لئے ہے تو خود ہی اپنے عمل کی سنگینی پر غور فرمالیں۔
''یہ اُمت روایات میں کھوگئی!''

یہ بات واضح ہے کہ عوام الناس اپنے آباء اَجداد او رنام نہاد 'مولویوں'کو دیکھتے سنتے ہوئے یہ سب کچھ کرتے ہیں مگر ان کی غلطی اور کوتاہی یہ ہے کہ دین کے معاملات کو کم اہم سمجھتے ہوئے اُن میں خود سمجھ پیدا نہیں کرتے اور کچھ نہیں تو اُنہیں علمائے حق سے ہی راہنمائی لے لینی چاہئے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ لوگ نبیﷺ سے اپنی محبت اور عقیدت کے اظہار کے لئے ہی یہ سب کچھ کرتے ہیں مگر ... اظہارِ عقیدت و محبت کے لئے ہمارے سامنےکتاب و سنت او راُسوہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہونا چاہئے نہ کہ مروّجہ رسوم و رواج!

کتاب و سنت اور اُسوہ صحابہ کرامکی روشنی میں حب ِرسولﷺ کے عملی تقاضے پورے کرنے کے لئے ہمارے سامنے واضح احکام اور ہدایات ہیں جن پرپورا اُترنے سے ہی حب رسولﷺ کا کچھ اظہار ہوسکتا ہے۔جس بات سے رسول اللہﷺ منع فرمائیں، ہم رک جائیں او رجس کام کو کرنے کا حکم دیں، پوری رضا و رغبت سے اس پر عمل پیرا ہوں، یہی ہمارے دین کا مطالبہ ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں اتباع رسول کا راستہ اختیار کرنا ہوگا اور اتباع سے مراد یہ ہے کہ اطاعت سے آگے بڑھ کر رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہر معاملے میں اتباع اور پیروی کو اختیارکیا جائے یعنی آپﷺ کی پسند و ناپسند کو اپنی پسند اورناپسند بنا لینا۔

آپ سے محبت کا ایک طریقہ یہ بھی ہےکہ نبیﷺپرمسنون طریقے سے مسنون الفاظ میں زیادہ سے زیادہ درود و سلام پڑھا جائے۔اذان کے بعد آپﷺ کے لئے مقامِ وسیلہ کی دعا کی جائے ۔اس کے لئے مسنون دعا کو ہی اختیار کیا جائے او راللہ تعالی سے اُمید رکھی جائے کہ وہ روزِ قیامت ہمیں رسول اللہﷺ کی شفاعت نصیب فرمائیں گے۔

بیگم عطیہ انعام الٰہی
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

 
فیصل ناصر's Avatar
فیصل ناصر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 604
Reply With Quote
18 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
Miss Khan (05-02-12), shafresha (05-02-12), یاسر عمران مرزا (06-02-12), نبیل خان (07-02-12), محمد عاصم (13-02-12), مرزا عامر (11-02-12), معظم (06-02-12), ایکسٹو (13-02-12), اجمل (06-02-12), احمد بلال (05-02-12), بلال الراعی (08-02-12), سحر (05-02-12), شکاری (05-02-12), شھزادباجوہ (05-02-12), عبیدرضا (12-02-12), عبداللہ آدم (06-02-12), عبداللہ حیدر (05-02-12), عبداللہ خراسانی (05-02-12)
پرانا 06-02-12, 05:12 PM   #2
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,187
شکریہ: 439
140 مراسلہ میں 371 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

غیر منطقی دلائل کا بہت بہت شکریہ!
گویا 12 ربیع الاول کو حضور کے وصال کا غم منانا چاہیے!!!!!!!
شعبان نظامی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-02-12), مرزا عامر (12-02-12)
پرانا 06-02-12, 06:17 PM   #3
Senior Member
مقبول
 
اعجازلاثانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مراسلات: 199
کمائي: 2,500
شکریہ: 276
125 مراسلہ میں 228 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين
أما بعد فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمان الرحيم

عید میلاد النبی ﷺکے بارے میں چند اعتراضات کے جوابات

اعتراض:عیدیں تو اسلام میں صرف دو ہی ہیں ایک عید الفطر اور دوسری عید الاضحی، یہ تیسری عید یعنی عید میلاد النبی ﷺکہاں سے آگئی؟
جواب: لغت میں عید ایسی چیز کو کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آئے، اور کیونکہ یہ دونوں مذہبی تہوار ہر سال آتے ہیں اس لیے ان کو عید کہتے ہیں، پھر مجازاً اسے خوشی کے موقع کے لیے بھی استعمال کرنے لگے۔
آئیے اب یہ دیکھتے ہیں کہ کیا خوشی کے ان دو اَیام کے علاوہ کسی دوسرے دن کو عید کہنا جائز ہے یا نہیں؟
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک یہودی آیا اور اس نے کہا کہ اے امیرالمومنین آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس کے نزول کے دن کو ضرور عید مناتے، فرمایا کون سی آیت ؟
اس نے آیت ''الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ''[المائدۃ:03] پڑھی آپ نے فرمایا میں اس دن کو جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی تھی اور اس کے مقامِ نُزول کو بھی پہچانتا ہوں وہ مقام عرفات کا تھا اور دن جمعہ کا۔
(صحيح بخاري، کتاب الإيمان، باب زيادة الإيمان ونقصانه)
آپ کی مراد اس سے یہ تھی کہ ہمارے لئے وہ دن عید ہے ۔
ترمذی شریف میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے آپ سے بھی ایک یہودی نے ایسا ہی کہا آپ نے فرمایا کہ جس روز یہ نازل ہوئی اس دن ۲ دو عیدیں تھیں جمعہ و عرفہ ۔(سنن الترمذي، کتاب تفسيرآن، باب ومن سورة المائدة)
یوں عید الفطر اور عید الاضحی کے علاوہ سال میں 53 عیدیں ہوئیں، 52جمعہ اور 1یوم عرفہ،تو ان 53عیدوں کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
جس دن نعمت حاصل ہو اس دن عیدمنانا انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت ہے، قرآن حکیم میں ہے : حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کی
: اللَّهُمَّ رَبَّنَا أَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا،
اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے (کھانوں کا) ایک دستر خوان نازل کر جو ہمارے پہلے اور پچھلے (سب کیلئے) عید بن جائے"۔[سورۃ البقرۃ:91]
معلوم ہوا کہ نزول نعمت کے دن عید اور جشن منانے کی اصل قرآن مجید میں موجود ہے، اسی قرآنی اُصول کے تحت اللہ کریم کی سب سے بڑی نعمت اور رحمت حضور سید عالم ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری کے دن عید منانا شرعاً جائز و مستحسن ہے۔

اعتراض: اس دن عید الفطر والاضحی کی طرح نماز کیوں نہیں پڑھتے؟

جواب: ہم اسے شرعی عید نہیں سمجھتے بلکہ عرفی عید کے طور پر مناتے ہیں کیونکہ خوشی کے موقع کو عرفِ عام میں عید سے تعبیر کرتے ہیں جیسے آپ نے ابھی سنا کہ دین کی تکمیل کے دن کو حضرت سیدنا عمر اور حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عید کہا، یونہی حضرت عیسی روح اللہ علیہ السلام نے نزول نعمت کے دن کو عید فرمایا۔ مزید یہ کہ جب اللہ کا فضل ورحمت حاصل ہو اس دن خوشی منانے کا حکم خود اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن عظیم میں دیا:
"قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُون،
تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پہ چاہیے کہ خوشی کریں کہ وہ ان کے سب دَھن دولت سے بہتر ہے"[سورۃ یونس:58]

اللہ اکبر!رحمت خداوندی پر خوشی منانے کا حکم خودقرآن حکیم دے رہا ہے اور کیا کوئی ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بڑھ کر بھی کوئی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے؟ دیکھئے قرآن مقدس صاف صاف لفظوں میں اعلان کر رہا ہے:"وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلاَّ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، یعنی ہم نے آپ کو سارے جہان کے لیے رحمت بنا کر بھیجا"۔[سورۃ الانبیاء:107]
ان سب باتوں کے باوجود کیا پھر بھی ہم سرکار مدینہ ﷺ کی ولادت کے دن عید نہ منائیں؟ آخر کیوں؟

اعتراض: یہ تو عیسائیوں کی نقل ہے، جیسے وہ کرسمس مناتے ہیں ویسے ہی آپ لوگ عید میلاد النبی ﷺ مناتے ہیں، اور حدیث پاک میں ہے:"مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ"، جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہیں میں سے ہے۔(سنن أبي داود، کتاب اللباس، باب في لبس الشهرة)
جواب::پہلی بات یہ کہ عید میلاد کو کرسمس ڈے سے مشابہت دینا ہی درست نہیں کیونکہ مشابہت تو اس وقت ہوتی جبکہ ہم بھی کرسمس ڈے مناتے، دوم یہ کہ ہر مشابہت ناجائز بھی نہیں ہوا کرتی، آئیے یہاں میں آپ کو ایسی مثال پیش کرتا ہوں جس میں نبی کریم ﷺنے یہودیوں کو ایک فعل کرتے دیکھا اور فرمایا کہ ہمیں زیادہ حق حاصل ہے کہ ہم یہ کام کریں تو ناصرف خود وہ کام کیا بلکہ اسے کرنے کا بھی حکم دیا:
حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺجب مدینہ منورہ تشریف لائے، تو یہودیوں کو عاشورا کا روزہ رکھتے پایا، تو فرمایا:"یہ روزہ کیسا؟"عرض کی:یہ بڑا عظیم دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کو ان کے دشمن (فرعون)سے نجات دی، تو موسیٰ علیہ السلام نے بطور شکرانہ روزہ رکھا(تو ہم بھی روزہ رکھتے ہیں)، ارشاد فرمایا: موسی ٰ علیہ السلام کی موافقت کرنے میں بہ نسبت تمہارے ہم زیادہ حق دار ہیں، تو سرکار مدینہ ﷺنے خود بھی روزہ رکھا اور اس روزے کا حکم بھی دیا۔(
صحيح بخاري، کتاب الصوم، باب صيام يوم عاشوراء)
اب کیا کہیں گے؟ کیا نبی کریم ﷺنے یہودیوں کی مشابہت اختیار کی (معاذ اللہ)۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسا کام کرنے میں کوئی حرج نہیں جس سے قرآن وحدیث میں منع نہ کیا گیا ہو، اب قرآن و حدیث میں کہیں آپ عید میلاد کی ممانعت دیکھا دیں تو ہم اسے فوراً ترک کر دیں گے۔

اعتراض:عید میلاد النبی ﷺ منانے کی دلیل کیا ہے جبکہ مروَّجہ طریقہ کار کے مطابق یہ کام نبی کریم ﷺ نے نہیں کیا اور نہ ہی صحابہ کرام علیہم الرضوان سے یہ ثابت ہے؟

جواب: عید میلاد النبیﷺمنانا یقیناً ثواب ہےاور اس کے جواز کے لیےاتنا کافی ہے کہ قرآن و حدیث میں کہیں اس کام سے منع نہیں کیا گیا، اور احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ جو چیز منع نہ کی گئی اور وہ قرآن وحدیث کے مخالف بھی نہ ہو تو وہ جائز ہوا کرتی ہے، اور یہ مسلّمہ قاعدہ ہے:"اَلأصلُ فِي الأشْيَاءِ إبَاحَة"،یعنی چیزوںمیں اصل اباحت ہے، جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے، چنانچہ بزار نے حضرت سیدنا ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ عزوجل وﷺنے فرمایا:''اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی کتاب میں حلال فرمایا وہ حلال ہے اور جسے حرام فرمایا وہ حرام ہے اور جس کے بارے میں سکوت فرمایا تو وہ معاف ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کی عافیت کو قبول کرو، بے شک اللہ عزوجل کی یہ شان نہیں کہ وہ کوئی چیز بھولے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:"وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا، یعنی تمہارا رب بھولنے والا نہیں" [مریم:64] (بزار نے کہا: اس کی اسناد صالح ہیں اور حاکم نے اس کی تصحیح فرمائی) (مسند البزار، مسند أبي الدرداء رضي الله تعالی عنه)
دار قطنی نے حضرت سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ رسول کریمﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کچھ فرائض کو لازم کیا، تم لوگ ان کو ضائع نہ کرو اور کچھ حدود مقرر فرمائیں تو ان حدوں سے تجاوز نہ کرو اور کچھ چیزیں حرام فرمائیں تو ان سے باز رہو اور کچھ چیزوں کے بارے میں سکوت (یعنی خاموشی) فرمایا، تم پر رحمت کرتے ہوئے بغیر نسیان (یعنی بھولنے) کے، تو ان کے بارے میں بحث نہ کرو۔
(سنن الدرقطني، کتاب الرضاع)
اعتراض: عید میلاد النبی ﷺمنانا بدعت ہے، اورحدیث پاک میں ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے؟

جواب: بدعت دو طرح کی ہے، بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ، جیسا کہ حدیث پاک میں ہے:"جو کوئي اسلام ميں اچھا طريقه جاري کرے اسے اس کا ثواب ملے گا اور ان لوگوں کا بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گےاور ان کے ثواب میں سے کچھ کم نہ ہوگا ، یونہی جو کوئی اسلام میں برا طریقہ جاری کرے اسے اپنے عمل کا گناہ بھی ہوگا اور ان لوگوں کا بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے اور ان کے گناہ میں کچھ کمی نہ ہوگی۔
(صحيح مسلم ، كتاب العلم، باب من سن سنة حسنة)
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ دین میں کوئی نیا اچھا کام شروع کرنا باعث ثواب جاریہ ہے، اور ایسا کام بدعت حسنہ کہلاتا ہے، اور اگر کوئی ایسا نیا کام جاری کیا جو قرآن وحدیث کے مخالف ہو تو وہ برا ہے اور بدعت سیئہ کہلاتا ہے۔ اگر آپ اس کا انکار کریں اور يه کہیں كه ہر بدعت بري ہے تو صرف اس بات کا جواب دے دیجئے کہ حضرت سيدنا عمر رضی اللہ تعاليٰ عنہ نے باجماعت تراویح کے بارے میں فرمایا: نِعْمَ البِدْعَةُ هَذِهِ، یہ کیا ہی اچھی بدعت ہے۔(صحيح بخاري، کتاب صلاة التراويح، باب فضل من قام رمضان)
کیا باجماعت تراویح (جسے حضرت سيدنا عمر رضي الله تعاليٰ عنہ بدعت فرما رہے ہیں)گمراہی اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے؟

اعتراض: صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عید میلاد النبی ﷺ کیوں نہیں منائی؟ کیا آپ ان سے زیادہ عاشق رسول ہیں؟ یا کیا یہ آیات و اَحادیث انہیں معلوم نہ تھیں؟

جواب:اس کا مختصر سا جواب یہ ہے کہ اولاً: توقرآن و حدیث میں کسی کام کے حرام یا ناجائز ہونے کی یہ دلیل بیان نہیں کی گئی کہ اگر وہ کام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے نہیں کیا تو وہ ناجائز ہے۔ ثانیاً: آپ کا یہ اعتراض تو خود صحابہ کرام و سلف صالحین پر وارد ہو تا ہے، کیوں کچھ کام وہ ہیں جو نبی کریم ﷺنے تو نہیں کیے مگر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے وہ کام کیے، یوں آپ کے اُصول کے مطابق ان پر یہ اعتراض ہو گا کہ کیا اس کام کی اہمیت نبی کریم ﷺکو معلوم نہ تھی، کیا صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ان سے زیادہ نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے تھے؟ ایسے بہت سے افعال ہیں جنہیں نبی کریم ﷺنے تو ترک فرمایا لیکن صحابہ کرام علیہم الرضوان نے وہ کام سسرانجام دیئے، اس کی مشہور ترین مثال صحابہ کرام علیہم الرضوان کا قرآن پاک کو ایک مُصحَف میں جمع کرنا ہے، کیا صحابہ کرام پر یہ اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے یہ کام کیوں کیا جبکہ نبی کریم ﷺنے ایسا نہیں کیا؟ اور کیا وہ اس کام کی اہمیت کو رسول کریم ﷺسے زیادہ جانتے تھے؟ ہرگز نہیں، تو اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ،یا صحابہ کرام علیہم الرضوان کا کسی کام کو نہ کرنا اس کام کے ناجائز ہونے کی دلیل نہیں۔

اعتراض:12 ربيع الاول تو نبي كريم ﷺكي وفات كا دن هے تو اس دن عید منانا کیسا؟

جواب:اول تو یہ کہ 12 ربیع الاول کو نبی کریم ﷺکے یوم وفات ہونے کے بارے میں جملہ روایات ضعیف ہیں اور پھر علم تقویم کی رو سے بھی 12 ربیع الاول کو رسول پاک ﷺ کا یوم وفات ممکن نہیں،کیونکہ اَحادیث صحیحہ سے دو باتیں ثابت ہیں:
1: 10هجري میں حجۃ الوَداع میں یوم عرفہ یعنی 9ذوالحجہ جمعۃ المبارک کا دن تھا۔
2: رسول الله ﷺکا وصال سوموار کے روز ماہ ربیع الاول میں ہوا۔
اب 9ذوالحجہ10هجري اور ماہ ربیع الاول کے درمیان محرم اور صفر دو ہی مہینے آتے ہیں، لہذا ذوالحجہ، محرم اور صفر تینوں مہینوں کو جس طرح بھی شمار کریں، یعنی چاہیں تو تینوں ماہ تیس دن کے، دو ماہ تیس دن کے، ایک ماہ اُنتیس دن کاایک ماہ تیس دن کا ، دو ماہ انتیس کےیا پھر تینوں ماہ انتیس دن کے، کسی بھی صورت میں 12ربیع الاول سوموار کے دن نہیں بن سکتی۔ بلکہ 12ربیع الاول 11ہجری میں بالترتیب اتوار، ہفتہ، جمعہ یا جمعرات میں سے کسی ایک دن بنے گی، لہذا شارح بخاری حافظ ابن حَجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے 12ربیع الاول يوم وفات والي روايت كو عقل و نقل کے خلاف قرار دیا ہےاور 2ربیع الاول والی روایت کو ترجیح دی ہے۔
جب 12ربیع الاول کے دن نبی پاک ﷺ کی وفات ثابت نہیں تو اعتراض سرے سے ختم ہو جاتا ہے۔اور اگر بالفرض مان بھی لیا جائے کہ 12ربیع الاول حضور ﷺکا یوم وصال ہے تو بھی اس دن عید میلاد منانے میں کوئی امر مانع نہیں،کیونکہ حدیث پاک میں ہے : "ہمیں شوہر کے سوا کسی وفات پانے والے پر تین دن کے بعد سوگ (غم)منانے سے منع کیا گیا"۔(صحيح البخاري، کتاب الحيض، باب الطيب للمرأة عند غسلها من المحيض)
اس حديث پاک سے ثابت ہوا کہ وفات کے بعد سوگ منانا شرعاً صرف تین دن تک جائز ہے، لہذا ہر سال نبی کریم ﷺکے وصال کے دن سوگ منانا شرعاً ناجائز ہے جبکہ حضورﷺکی تشریف آوری کے دن خوشی منانے کی شرعاً کوئی حد نہیں، ہر سال جائز ہے۔
مزيد يه كه حدیث پاک میں جمعہ کی فضیلت کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بیان ہوا کہ اس دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی دن آپ کی وفات ہوئی،(سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلاة والسنة، باب في فضل الجمعة) ليكن شريعت ميں جمعہ کے دن سوگ منانے کا حکم نہیں بلکہ جمعہ کو يوم عید قرار ديا گیا، جیسا حدیث نبوی میں ہے:"إِنَّ هَذَا يَوْمُ عِيدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ، یعنی بے شک یہ جمعہ عید کا دن ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے مسلمانوں کے لیے یوم عید بنایاہے"۔(سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلاة والسنة، باب ما جاء في الزينة يوم الجمعة)
اب بتائیے کہ جس دن آدم علیہ السلام فوت ہوئے کیا اس دن کو عید کہنا درست ہے؟ اور اس دن خوشی منانی چاہیےیا غم کرنا چاہیے؟ اور کیا بیوہ کے علاوہ کسی کو تین دن سے زیادہ سوگ جائز ہے ؟
مزید یہ کہ اَنبیاء کرام علیہم السلام ہم جیسے نہیں بلکہ ان کا تووصال بھی امت کے لیے باعث رحمت ہوتا ہےجیسا کہ اَحادیث مبارکہ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے ، چنانچہ:
نبی کریم ﷺنے فرمایا:"اللہ عزوجل جس امت پر رحمت کا ارادہ فرماتا ہے تو ان کے نبی کو ان کی ہلاکت سے پہلے وصال عطا فرماتا ہے اور اسے امت کے لیے شفیع بناتا ہے، اور جب کسی امت کی ہلاکت کا ارادہ فرماتا ہےتو انہیں ان کے نبی کے سامنے عذاب میں مبتلا کرتا ہے اور اس کی آنکھوں کو ان کی ہلاکت کے سبب قرار بخشتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اس کا کہنا نہ مانا"۔(صحيح مسلم، کتاب الفضائل، باب إذا أراد الله رحمة أمة۔۔۔)
ایک دوسری حدیث پاک میں نبی کریم ﷺنے فرمایا: "میری ظاہری حیات تمہارے لیے سراپا خیر ہے تمہیں کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو اس کے لیے حکم آجاتا ہے اور میرا وصال بھی تمہارے لیے سراپا خیر ہے (کیونکہ)تمہارے اعمال میری بارگاہ میں پیش کئے جاتے رہیں گے، جب اچھے کام دیکھوں گا تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کروں گا اور جب بُرے اعمال دیکھوں گا تو تمہارے لیے اللہ سے مغفرت وبخشش مانگوں گا"۔
(مسند البزّار، مسند عبد الله بن مسعود رضی الله تعالیٰ عنه)
تو اگر 12 ربیع الاول کو نبی کریم ﷺکا یوم وصال مان بھی لیں تب بھی اس دن خوشی ماننے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ خود حدیث پاک میں آپ ﷺکی حیات و ظاہری وفات دونوں ہمارے لیےباعث خیر فرمایا گیا۔
هذا ما ظهر لي والله أعلم بالصواب وما علينا إلا البلاغ
لا تنسوا في صالح دعائكم
اعجازلاثانی آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے اعجازلاثانی کا شکریہ ادا کیا
compaq (11-02-12), shafresha (06-02-12), اجمل (06-02-12), احمد نذیر (07-02-12), شعبان نظامی (07-02-12), عبیدرضا (11-02-12)
پرانا 07-02-12, 03:26 PM   #4
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,187
شکریہ: 439
140 مراسلہ میں 371 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اعجاز لاثانی صاحب! بہت اچھا مضمون ہے ۔
یقینا فیصل صاحب کو سارےسوالات کے جواب مل گئے ہوں گے!!!!
شعبان نظامی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا
compaq (11-02-12), اعجازلاثانی (08-02-12)
پرانا 07-02-12, 03:35 PM   #5
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,187
شکریہ: 439
140 مراسلہ میں 371 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فیصل صاحب! جب پہلے اسی موضوع پر بات ہو چکی تھی تو دوبارہ کیا ضرورت پیش آ گئی تھی۔
اور ان تمام سوالات کا جواب تو پہلے ہی دیا جا چکا ہے۔
کیا آپ نے وہ تھریڈ نہیں پڑھا تھا؟؟؟
بلکہ آپ ہی نے تو اس تھریڈ کو بند کیا تھا؟؟؟
شعبان نظامی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا
compaq (11-02-12), اعجازلاثانی (08-02-12)
پرانا 07-02-12, 05:09 PM   #6
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,486
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میلاد النبی، ایک تحقیقی مطالعہ
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (08-02-12), محمد عاصم (13-02-12), حیدر (08-02-12), شکاری (08-02-12), شعبان نظامی (10-02-12)
پرانا 07-02-12, 06:07 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
بدعتیں اور بھی وصل کی بدعت کے سوا
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (08-02-12), محمد عاصم (13-02-12), حیدر (08-02-12), شعبان نظامی (10-02-12)
پرانا 08-02-12, 07:58 AM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھے تو سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ہمارے بھائی قرآن اور احادیث‌سے ہی عید میلاد کا ثبوت بھی دے ڈالتے ہیں‌اور پھر یہ بھی تسلیم کر لیتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس کام کو نہیں‌کیا۔ عید میلاد کو بدعت حسنہ بھی مان لیتے ہیں‌اور قرآن و احادیث‌سے اسی بدعت حسنہ کا ثبوت بھی کشید کر لاتے ہیں۔ دلائل طرفین کے علمائے کرام طویل طویل ابحاث‌ کی صورت میں‌دے دلا کر فارغ‌ہو چکے ہیں۔ اب تو بس دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ‌ ہی ہدایت دے جو بھی گمراہ ہے۔ اور حق بات کی قبولیت کی توفیق دے بلا کسی تعصب کے۔ ہم ان بھائیوں کے لئے دعا کرتے ہیں‌اور ان سے گزارش کرتے ہیں‌کہ ہمارے لئے دعا کیا کریں۔۔۔!!!
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (08-02-12), نورالدین (08-02-12), محمد عاصم (13-02-12), بلال الراعی (08-02-12), حیدر (08-02-12), حیدر Rehan (08-02-12), شعبان نظامی (10-02-12), عبداللہ حیدر (08-02-12)
پرانا 08-02-12, 10:21 AM   #9
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
مجھے تو سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ہمارے بھائی قرآن اور احادیث‌سے ہی عید میلاد کا ثبوت بھی دے ڈالتے ہیں‌اور پھر یہ بھی تسلیم کر لیتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس کام کو نہیں‌کیا۔ عید میلاد کو بدعت حسنہ بھی مان لیتے ہیں‌اور قرآن و احادیث‌سے اسی بدعت حسنہ کا ثبوت بھی کشید کر لاتے ہیں۔۔!!!
سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں

جب میں فیصل بھائی کا مراسلہ اور دیگر بھائیوں کے جوابات پڑھ رہا تھا تو میرے زہن میں یہی سوال آٹھے یعنی یہ سطحی سوالات ہیں لیکن عقلی دلیل کہ ساتھ ہیں ۔میں لکھنے کے بارے میں سوچا تو مجھے اچھا نہی لگا کہ کہیں کسی کے لیے رنج کا باعث نہ بن جائے اور کہیں کوئی یہ نہ سمجھئے کہ میں میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم منانے کے خلاف ہوں۔

یعنی یہ عقلی سوالات تو ہیں مگر سطحی ہیں
سطحی سوالات کا کسی پڑھے لکھئے شخص سے کیا جانا مجھے بہت دکھ دیتا ہے

شکاری بھائی کو چاہیے کہ وہ یہ بتائیں کہ کس صورتحال میں عید میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم منایا جاسکتا ہے۔ اور وہ کون کون سی باتیں ہونگی جن سے انکار کیا جانا پڑے گا اور کن کن باتوں کو اپنانا ہوگا۔ ’نوٹ اگرچہ وہ عقیدہ شکاری بھائی کا نہ بھی ہو‘
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
compaq (11-02-12), شعبان نظامی (10-02-12)
پرانا 08-02-12, 11:15 AM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی، اس موضوع پر جن کو مزید معلومات چاہئے ہوں‌وہ عادل سہیل بھائی کی کتاب ، میلاد النبی ایک تحقیقی مطالعہ، کی جانب رجوع کریں۔ یہ علمی سے زیادہ جذباتی نوعیت کا مسئلہ بن گیا ہے۔ جس میں‌فریقین فوری طور پر اشتعال میں‌آ جاتے ہیں۔ اور جذباتی بنیادوں پر تو مسائل کی تفہیم یا حل ممکن نہیں۔ اسی لئے دعا کی درخواست کی تھی کہ ہمیں‌میلاد منانے والے گمراہ نظر آتے ہیں‌اور انہیں‌نہ منانے والے گمراہ محسوس ہوتے ہیں۔ اور ہم سب کے دلوں کو ہدایت کی جانب تو اللہ تعالیٰ‌ہی پھیر سکتے ہیں۔
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (13-02-12), شعبان نظامی (10-02-12), عبداللہ حیدر (08-02-12)
پرانا 08-02-12, 12:16 PM   #11
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شکاری بھائ اپ کے دیے گئے عادل سہیل بھائی کے مراسلے پر گیا تھا پہلی ہی لائن نوٹ کریں

ربیع الاول اللہ کی طرف سے مقرر کردہ مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے ، جِس کے بارے میں قُرآن اور سُنّت میں کوئی فضلیت نہیں ملتی۔۔عادل سہیل ظفر۔
اب ان کے باقی تفصیل کیا پڑھوں



اس جملہ پر میرا عقلی فیصلہ یہ ہے کہ میلاد مصطفی صلی علیہ والہ وسلم کو اور زیادہ منانا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ مسلمانوں جیسا اچھا سا نام رکھ لینے سے ہر کوئی مسلمان نہی ہوجاتا۔


میلاد مصطفی ص منانے والوں کے لیے دلیل میں اضافہ
میلاد مصطفی ص کا منانا مختلف اُمتیوں کو پردے کے پیچھے سے نکالنے کا سبب اور وسیلہ ہے۔۔۔۔ریحان حیدر
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
compaq (11-02-12), اعجازلاثانی (08-02-12), شعبان نظامی (10-02-12)
پرانا 08-02-12, 12:43 PM   #12
Senior Member
مقبول
 
اعجازلاثانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مراسلات: 199
کمائي: 2,500
شکریہ: 276
125 مراسلہ میں 228 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
بدعتیں اور بھی وصل کی بدعت کے سوا
1-چھے کلمے: پہلا کلمہ طیب، دوسرا کلمہ شہادت، تیسرا کلمہ تمجید، چوتھا کلمہ توحید، پانچواں کلمہ استغفار، چھٹا کلمہ ردِ کُفر یہ تمام کلمے ، ان کے نام ان کی ترتیب بدعت، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری زمانہ مبارک سے ثابت نہیں۔ تمام دیوبندی وہابی پاک کی کسی صورت سے یا احادیث مبارکہ کسی کتاب سے مذکورہ چھ کلمے، ان کے نام اور ان کی ترتیب نہیں دکھا سکتے لیکن پھر بھی دین کا کام سمجھ کر اپنے بچوں کو یاد کرواتے ہیں۔
2۔ ایمان کی صفتیں: ایمان مفصل، ایمان مجمل یہ دونوں صفات، ان کے نام اور ان کی ترتیب بدعت، لیکن پھر بھی دین کا کام سمجھ کر یاد کی جاتی ہیں۔
3۔ قرآن پاک کی موجودہ کتابی صورت، اس کے تیس پارے بنانا، ان میں رکوع قائم کرنا، اس کے رموز واوقاف، اس پر اعراب لگانا اور آیات کے نمبر لکھنا ، سب بدعت۔
4۔احادیث مبارکہ کو کتابی شکل میں جمع کرنا، حدیث کی اقسام بنانا کہ یہ صحیح ہے یہ حسن ہے یہ ضعیف ہے پھر ان کے احکام مقرر کرنا، سب بدعت ۔
5۔ اصول حدیث اور اصول فقہ کے تمام قوانین بدعت۔
6۔ فقہ اور علم کلام جن پر آج دین کا دارومدار ہے یہ بھی تمام بدعت۔
7. تبلیغی جماعت ، جماعت اسلامی، مجلس احرار، مجلس تحفظِ ختم نبوت، حزب التحریر،الدعوۃ والارشاد، جماعت اہل حدیث، سپاہ صحابہ، جمیعت علماء اسلام، جمیعت اشاعت التوحیدو السنہ، لشکر، جھنگوی سب جماعتیں بدعت۔
8۔ رائے ونڈ کا اجتماع، جماعت سلامی کا اجتماع، سیرۃ النبی کانفرنس، محمد رسول اللہ کانفرنس، سیدالبشر کانفرنس، ختم بخاری،دورہ حدیث، دورہ تفسیرسب بدعت۔
9۔ چالیس روزہ،سہ روزہ پر بستر باندھ کر لوٹا، مصلیٰ،چائے دانی، چولہا، اور نسوار کی ڈبیہ لے کر اہل خانہ کے حقوق کو پس پشت ڈال کر، گھر سے نکلنابدعت۔
؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
اعجازلاثانی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے اعجازلاثانی کا شکریہ ادا کیا
compaq (11-02-12), نورالدین (08-02-12), شعبان نظامی (10-02-12)
پرانا 08-02-12, 12:53 PM   #13
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک قسم کی لڑائی کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں کہ ہمارے مسلمان بھائی دوسری قسم کی لڑائی ڈال لیتے ہیں۔ یار یہ پاک نیٹ کو تو مناظروں کا فورم بنانے کا تہیہ کر رکھا ہے بعض لوگوں نے۔ مخصوص مراسلہ جات کے علاوہ اور کسی میں پوسٹ ہی نہیں کرتے۔

حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (08-02-12), حیدر Rehan (08-02-12), شعبان نظامی (10-02-12), عبداللہ آدم (10-02-12)
پرانا 08-02-12, 01:13 PM   #14
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حیدر تمھاری یہ بات کافی حد تک درست ہے
لیکن یہ بھی تو ہےکہ جہاں زخم ہوگا مرہم وہیں رکھا جائےگا
اور جس زخم کے بارے میں کوئی جانتا ہوگا اور اگر اس کے پاس مرہم بھی ہو تو ’زخم پر مرہم رکھنا‘ بری بات تو نہی ہے۔

فائدہ و نقصان
زخم کھلا رہے تو ناسور بن جاتا ہے
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
compaq (11-02-12), حیدر (08-02-12), شعبان نظامی (10-02-12)
پرانا 08-02-12, 01:18 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اعجازلاثانی مراسلہ دیکھیں
1-چھے کلمے: پہلا کلمہ طیب، دوسرا کلمہ شہادت، تیسرا کلمہ تمجید، چوتھا کلمہ توحید، پانچواں کلمہ استغفار، چھٹا کلمہ ردِ کُفر یہ تمام کلمے ، ان کے نام ان کی ترتیب بدعت، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری زمانہ مبارک سے ثابت نہیں۔ تمام دیوبندی وہابی پاک کی کسی صورت سے یا احادیث مبارکہ کسی کتاب سے مذکورہ چھ کلمے، ان کے نام اور ان کی ترتیب نہیں دکھا سکتے لیکن پھر بھی دین کا کام سمجھ کر اپنے بچوں کو یاد کرواتے ہیں۔
2۔ ایمان کی صفتیں: ایمان مفصل، ایمان مجمل یہ دونوں صفات، ان کے نام اور ان کی ترتیب بدعت، لیکن پھر بھی دین کا کام سمجھ کر یاد کی جاتی ہیں۔
3۔ قرآن پاک کی موجودہ کتابی صورت، اس کے تیس پارے بنانا، ان میں رکوع قائم کرنا، اس کے رموز واوقاف، اس پر اعراب لگانا اور آیات کے نمبر لکھنا ، سب بدعت۔
4۔احادیث مبارکہ کو کتابی شکل میں جمع کرنا، حدیث کی اقسام بنانا کہ یہ صحیح ہے یہ حسن ہے یہ ضعیف ہے پھر ان کے احکام مقرر کرنا، سب بدعت ۔
5۔ اصول حدیث اور اصول فقہ کے تمام قوانین بدعت۔
6۔ فقہ اور علم کلام جن پر آج دین کا دارومدار ہے یہ بھی تمام بدعت۔
7. تبلیغی جماعت ، جماعت اسلامی، مجلس احرار، مجلس تحفظِ ختم نبوت، حزب التحریر،الدعوۃ والارشاد، جماعت اہل حدیث، سپاہ صحابہ، جمیعت علماء اسلام، جمیعت اشاعت التوحیدو السنہ، لشکر، جھنگوی سب جماعتیں بدعت۔
8۔ رائے ونڈ کا اجتماع، جماعت سلامی کا اجتماع، سیرۃ النبی کانفرنس، محمد رسول اللہ کانفرنس، سیدالبشر کانفرنس، ختم بخاری،دورہ حدیث، دورہ تفسیرسب بدعت۔
9۔ چالیس روزہ،سہ روزہ پر بستر باندھ کر لوٹا، مصلیٰ،چائے دانی، چولہا، اور نسوار کی ڈبیہ لے کر اہل خانہ کے حقوق کو پس پشت ڈال کر، گھر سے نکلنابدعت۔
؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
درست کہا آپ نے
اس لیے میں اسلام کی بنیاد کو اہمیت دیتا ہوں ۔ نہ کہ مذکورہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو
یہ بدعتیں جلسے جلوس ۔ کانفرنس ۔ ڈیڑھ اینٹ کے فرقے ۔ قرآن کا دکھاوا ۔ یہ روایات ۔ یہ سب بعدکی باتیں ہیں ۔ مجتہدوں کے پیٹ کے اپھارے کا نتیجہ ہیں ۔
ایک مسلمان دین پر عمل کرنے کے لیے پہلے کیا دیکھتا ہے ۔
پہلے اللہ کی کتاب کو سمجھنا اور باقی سب بعد میں ۔ ۔ ۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
حیدر (08-02-12), شعبان نظامی (10-02-12)
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ربیع الاول کا مہینہ آنے والا ہے رضی پاک۔نیٹ پراجیکٹس 35 16-12-11 08:11 PM
ربیع الاول کا چاند نیلم خان خبریں 0 14-02-10 06:32 PM
ربیع الثانی کا مہینہ naeemuddin میری ڈائری 0 25-04-09 11:04 PM
عدنان سمیع خان اور مائیکل جیکسن کا مشترکہ البم؟ طارق راحیل خبریں 0 23-02-09 09:02 PM
خوش آمدید ندیم رفیع صاحب! منتظمین تعارف 6 07-07-07 08:30 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:05 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger