واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


بڑے لوگوں‌کا وقت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-06-08, 10:18 AM   #1
بڑے لوگوں‌کا وقت
میاں شاہد میاں شاہد آف لائن ہے 02-06-08, 10:18 AM

بڑے لوگوں کا وقت
داعئی قرآن حضرت مولانا مفتی عتیق الرحمن شہید رحمۃ اللہ
نوٹ: یہ مضمون گذشتہ دور حکومت میں وقت کی تبدیلی کے اعلان کے موقع پر لکھا گیا تھا
ایک غلام کی نگاہ میں اس کے آقا سے بڑی شخصیت کوئی نہیں ہوتی اور غلام کے دل میں ہمیشہ یہ خواہش انگڑائیاں لیتی رہتی ہے کہ کبھی میں بھی اپنے آقا جیسا لباس پہن کر، کرسی پر بیٹھ کر اور ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بڑا بن کر دیکھوں۔۔۔۔۔۔ ! صدیوں کی غلامی نے ہمارا بھی یہی مزاج بنادیا ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سفید چمڑی اور تھری پیس میں ملبوس ہوکر جو بھی کیا جائے وہ بڑا ہونے کی علامت ہے۔ انگریزی کے چند جملے بول لئے، دعوتوں میں کھڑے ہوکر کھانا کھالیا، شراب وکباب سے شغل کرلیا، کھڑے ہوکر ٹشوپیپر سے استنجا کرلیا، اس کے بعد ہمیں بڑا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ یورپ اور امریکا کی تعلیم وہنر میں ترقی، سائنس وٹیکنالوجی میں پیش رفت، صنعت وحرفت اور معیشت میں خودکفالت کے تکلفات کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔؟
پہلے زمانے میں چوڑی دار پاجامے کے اوپر بڑے گھرانے کی خواتین میں گھاگھرا پہننے کا رواج تھا، کام کے دوران اسے اوپر اٹھاکر اڑس لیاکرتی تھیں تاکہ رکاوٹ نہ بنے۔ کسی دیہاتی خاتون کو کسی بڑے گھرانے کی دعوت میں شرکت کا موقع ملا، میزبان خاتون نے مہمان خواتین کو دسترخوان پر بٹھا کر کھانا لگانا شروع کردیا، اس کا گھاگھرا میزبانی میں حائل ہورہاتھا، اس نے اوپر اٹھاکر اُڑس لیا اور مہمانوں کی خدمت میں مصروف رہی۔دیہاتی خاتون کو یہ منظر بہت عجیب محسوس ہوا، اس نے بھی اپنے ہاں جاکر ایک پرتکلف دعوت کا اہتمام کیا اور مہمانوں کو دسترخوان پر بٹھاکر میزبانی میں مشغول ہوگئی اور کھانا پانی وغیرہ دسترخوان پر لگاتے ہوئے نہایت اطمینان سے اس نے اپنا گھاگھرا اوپر اٹھا کر اڑس لیا اور بڑی لاپرواہی سے کھانا دینے اور پانی پلانے میں مصروف رہی۔۔۔۔۔۔ چوڑی دار پاجامے کے تکلف سے وہ ناآشنا تھی جس کی بناء پر شریک دعوت خواتین کے لئے یہ حیاء سوز منظر ناقابل برداشت ہورہا تھا۔ مہمانوں کے احتجاج پر وہ محترمہ کہنے لگیں ''آپ لوگ اطمینان سے کھانا کھائیں، گھبرائیں نہیں ''بڑے لوگ'' ایسا ہی کیا کرتے ہیں'' ہمارے ہاں بھی افسر قسم کی مخلوق اور بیوروکریسی کا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ کتے بلیوں کی طرح جنسی تسکین کی آزادی، سگریٹ کے کش پر کش لگانے اور گھڑیوں کا ٹائم آگے پیچھے کرکے ہم بھی ''بڑے لوگوں'' کی صف میں شامل ہوجائیں گے۔
وقت کو آگے پیچھے کرنے کا تصور سب سے پہلے زمانہ جاہلیت میں مشرکین مکہ نے پیش کیا، سال کے بارہ مہینوں میں چار مہینے حرمت والے شمار ہوتے تھے، ان چار ماہ میں لڑائی کرنے یا کسی کو قتل کرنے کو بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا مگر جنگ کے دوران اگر یہ مہینے آجاتے تو وہ انہیں آگے پیچھے کرلیتے اور رجب کو آگے بڑھا کر شعبان کو پیچھے کرکے اپنی جنگ جاری رکھتے، دل کو یہ کہہ کر مطمئن کرلیتے کہ ہم نے مہینہ آگے برھادیا ہے لہٰذا ہماری جنگ حرمت والے مہینے میں نہیں ہے قرآن کریم نے شدت کے ساتھ اس کی تردید فرمائی ''انماالنسّیء زیادۃ فی الکفر'' مہینوں کو آگے پیچھے کرنا کفر میں زیادتی ہے۔ حضور اکرم ؐ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اس رسم بد کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا ''آسمان وزمین کی تخلیق کے دن زمانہ جس ہیئت پر تھا، اسی ہیئت پر گھوم کر واپس آچکا ہے، لہٰذا حجۃ الوداع کے بعد کسی کو مہینے آگے پیچھے کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔'' اس طرح ان لوگوں نے ایام میں کمی بیشی اور مہینوں میں تقدیم وتاخیر کے نام سے جو انداز خود فریبی اپنایا ہوا تھا اسے ختم کردیا۔
جاہلیت جدیدہ نے گھنٹوں کو آگے پیچھے کرنے کا بچکانہ تصور پیش کرکے بتایا ہے کہ جاہلیت، جاہلیت ہی ہے، قدیم ہو یا جدید، اٹھارہویں صدی کے اواخر میں برطانیہ کے بعض دانشوروں نے یہ خیال پیش کیا کہ گرمیوں میں چونکہ سورج جلدی نکلتا ہے اس لئے صبح کا بہت ساوقت ضائع ہوجاتا ہے، اسی حساب سے ہمیں شام کے وقت مصنوعی روشنی کی مدد سے اپنے بہت سے کام سرانجام دینے پڑتے ہیں لہٰذا گھڑیوں کو ایک گھنٹہ آگے بڑھاکر اس وقت کو بچایا جاسکتا ہے اور قدرتی روشنی سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرکے شام کے وقت مصنوعی روشنی پر انرجی صرف کرنے سے بچا جاسکتا ہے۔ آ ہستہ آہستہ اس نظریے کو پذیرائی ملی اور امریکا، برطانیہ اور جرمنی کے علاوہ اوربھی بہت سے یورپین ممالک نے انیسویں صدی کے اوائل میں قانونی طور پر گھڑیوں کو گرمیوں کی ابتدا کے زمانے پر اپریل کے مہینے میں ایک گھنٹہ پیچھے کرکے اپنے اصلی وقت پر لانے کا نظام اپنایا، ان ممالک میں سردیوں اور گرمیوں کے طلوع وغروب میں ڈھائی تین گھنٹے بلکہ بعض مقامات پر اس سے بھی زیادہ فرق ہے، ان کے ہاں تہجد یا فجر کے لئے اٹھنے کا بھی کوئی رواج نہیں ہے اس لئے وہ گھڑیوں کو آگے برھاکر اپنے آپ کو فریب دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ابھی چھ نہیں سات بجے ہیں مگر اسلامی معاشرہ جہاں سحر خیزی اور نماز فجر کے لئے بیدار ہونے کا تصور موجود ہے اور رمضان کے مبارک مہینے میں سحری کے لئے اٹھنے کا پورے مہینے اہتمام کیا جاتا ہے، ایسے معاشرے میں اس تصور کو قبول کرلینا یورپ کی اندھی اور بھونڈی تقلید کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ ہمارے ہاں دن رات میں ز یادہ فرق نہ ہونے کی وجہ سے قدرتی روشنی اور انرجی سیونگ کا کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے اور اگر ایسا کوئی مسئلہ ہے بھی تو گرمی سردی میں مشغولیت کے اوقات ایک گھنٹہ پہلے اور ایک گھنٹہ بعد میں شروع کرنے کے ساتھ یہ مسئلہ نہایت خوش اسلوبی سے حل ہوجاتا ہے اور اس پر عمل درآمد بھی ہورہا ہے، نیز گھڑیاں آگے کرنے سے مصنوعی روشنی پر انرجی صرف کرنے سے ہم اس لئے بھی نہیں بچ سکتے کہ ہمارے ہاں تعمیرات اس قسم کی ہوتی ہیں کہ ان میں عین دوپہر کے وقت بھی ہمیں مصنوعی روشنی درکار ہوتی ہے، پھر اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ لوگوں کو فجر کی نماز کی پابندی کا عادی بناکر یہ مقصد زیادہ خوش اسلوبی کے ساتھ حاصل کیا جاسکتا ہے جلدی سونے اور جلدی جاگنے کے اصول پر عمل کرنے سے پنج وقتہ نمازوں کا اہتمام بھی ہوگا اور فجر کی نمازکے لئے جلدی اٹھنے کے نتیجے میں قدرتی روشنی سے استفادہ اور انرجی سیونگ پر بہتر طریقہ پر عمل بھی ہوجائے گا۔
ہمارے ملک میں تعلیم کے تناسب کی کمی کے پیش نظر گھڑیوں کو آگے پیچھے کرنے کے نظام پر عمل کرنے میں انتہائی پیچیدگی اور دشواری پیدا ہورہی ہے۔ لوگ اب تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جب ایک مرتبہ ٹائم آگے بڑھادیاتو چھ ماہ بعد پیچھے کیوں کیا جائے گا بلکہ بعض لوگ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر گھڑیاں آگے کرنے سے ترقی ہوتی ہے تو صرف ایک گھنٹہ ہی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟ دو تین گھنٹے تو آگے کرتے تاکہ ٹھیک ٹھاک ترقی ہوتی۔
ہمارے ہاں نماز کے اوقات اور سحروافطار کے لئے دائمی جنتریاں بنی ہوئی ہیں گھڑیاں آگے پیچھے کرنے سے یہ نظام الاوقات بھی بری طرح متاثر ہوگا، ابھی کل ہی کی بات ہے کہ میں قائدآباد میں ایک رشتہ دار کی بیمارپرسی کے لئے گیا اور میں یہ دیکھ کر چونک گیا کہ نئے وقت کے مطابق سوا ایک بجے برابر کی مسجد سے ظہر کی اذان کی آواز آرہی ہے یعنی اصلی وقت کے اعتبار سے سوابارہ بجے جبکہ زوال کا وقت بارہ بج کر تینتیس (٣٣) منٹ تھا، گویا ظہر کی نماز کا وقت شروع ہونے سے تقریباً بیس منٹ پہلے اذان ہورہی تھی۔ ایسے موقع پر کچھ کہیں تو مسلک کی بات آڑے آجاتی ہے یا پھر یہ کہتے ہیں کہ مولوی تو ہمیشہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرتے ہیں۔ اگر زوال اور طلوع وغروب نیز باقی نمازوں کے اوقات کو اصلی وقت کی بجائے نئے وقت کا پابند بنانے کی کوشش کی گئی تو یہ بھی ''نسییئ'' کی قسم ہوسکتی ہے جس کی قرآن کریم نے شدت سے تردید کرتے ہوئے اسے کفر قرار دیا ہے۔ بعض فیکٹریوں اور دفاتر میں ظہر، جمعہ اور عصر کی نماز کے لئے سرپھٹول تک کی نوبت آئی ہے، ایک سرکاری افسر سے میں نے پوچھا کہ نئے وقت سے کیا فائدہ ہوا، کہنے لگے ''بس یہ کہ ایک گھنٹہ پہلے گھر آجاتے ہیں'' میں نے کہا ایک گھنٹہ پہلے دفتر بھی تو جانا پڑتا ہے۔
ایک دکاندار نے بتایا کہ پہلے ہم مغرب کی نماز پڑھ کر دکانیں بند کرنا شروع کرتے تھے اور عشاء کی اذانوں تک فارغ ہوکر عشاء کی نماز باجماعت پڑھ کر گھر چلے جاتے تھے، میرا گھر پانچویں منزل پر ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ عصر کے بعد دکانیں بند ہوجاتی ہیں، مغرب کی نماز پڑھ کر گھر چلے جاتے ہیں اور پھر پانچویں منزل سے اتر کر عشاء کی نماز کے لئے آنا مشکل ہوجاتا ہے، تھکے ہارے اور پھر سیڑھیوں کا اترنا چڑھنا اس لئے گھر پر ہی بغیر جماعت عشاء کی نماز پڑھ رہے ہیں۔
ہمارے حکمران ہر دور میں اندھی تقلید کی روش اپنائے ہوئے ہیں۔ 1994ء میں بے نظیر کے دور حکومت میں یہ بے نظیر نظام اپنانے کی انتہائی بھونڈی کوشش کی گئی تھی، قصہ یہ ہوا تھا کہ آقاؤں کا حکم دیر سے پہنچا تھا، یورپ اور امریکا والے اپریل میں اپنی گھڑیاں آگے کرچکے تھے، ستمبر میں پاکستانی کابینہ کے سامنے یہ مسئلہ رکھا گیا کہ اکتوبر میں گھڑیاں پیچھے کی جائیں گی۔ آکسفورڈ کی تعلیم یافتہ وزیراعظم اور یورپ وامریکا کی یونیورسٹیوں کی فارغ التحصیل کابینہ نے یورپ کی نقالی میں اکتوبر 1994ء کی پندرہ تاریخ کو گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کرنے کا فیصلہ کرکے اخبارات اور ٹی وی میں اشتہاری مہم شروع کردی اور تسلسل کے ساتھ یہ اعلان ہونے لگے کہ یورپ اور امریکا کے شانہ بشانہ 15اکتوبر کو پاکستان میں بھی گھڑیوں کو ایک گھنٹہ پیچھے کردیا جائے گا، مگر وہ گھاگھرے کے نیچے چوڑی دار پاجامہ پہننا بھول گئے، انہیں ترقی یافتہ اور روشن خیال بننے کے شوق میں یہ خیال ہی نہ رہا کہ پاکستان میں گھڑیاں آگے ہی نہیں کی گئیں تو پیچھے کس طرح کی جائیں گی اور اس طرح انرجی بچانے کے چکر میں اچھی خاصی رقم ناجائز اشتہارات پر صرف ہوگئی۔۔۔۔۔۔ اب ہماری فوجی کابینہ نے سابقہ دور کی غلطیوں سے بچتے ہوئے گھڑیوں کو پہلے آگے بڑھانے اور پھر پیچھے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مگر یہ نہیں سوچا کہ اس سے ہمارے ملک میں اتنی انرجی بھی نہیں بچائی جاسکے گی جتنی کہ اشتہارات پر خرچ کردی گئی ہے۔ پہلے دوپہر کے کھانے اور ظہر کی نماز کے لئے ایک ہی وقفہ ہوتا تھا۔ اب نماز اور کھانے کے وقفے کو یکجا رکھنے میں دشواریاں ہورہی ہیں اور علیحدہ علیحدہ کرنے میں انرجی سیونگ کی بجائے انرجی مزید ضائع ہورہی ہے۔ اسے ایک نفسیاتی تدبیر بلکہ خودفریبی کہا جاسکتا ہے۔ بچے جھوٹ موٹ رات اور دن کھیلا کرتے تھے، اب ہم بھی چھ بجے کو سات بجے سمجھ کر بڑے لوگ بن جائیں گے۔ GMT یعنی گرین وچ مین ٹائم تو تھا ہی اب JMTیعنی ''جھوٹ موٹ ٹائم'' بھی متعارف ہوگیا ہے۔ چھ بجے کو سات بجے کہنا غلط بیانی اور جھوٹ کے زمرے میں داخل ہوسکتا ہے اور گھڑی کی سوئیاں آگے کرکے اصل وقت کی بجائے دوسرے وقت کا تاثر دینا فریب اور دھوکے کے دائرے میں بھی آسکتا ہے۔
اعدادوشمار کے ہیرپھیر سے ٹی وی اور اخبارات کے ذریعے بڑی مقدار میں انرجی بچانے اور ملک کو ناقابل یقین فوائد حاصل ہونے کی نوید سنائی جاسکتی ہے اور اشتہارات کا ٹھیکہ لینے والی فرم اور ٹی وی مکالمہ میں شرکت کرنے والی شخصیت کے بینک اکاؤنٹ میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سے قوم کو کیا واقعی فائدہ ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔؟ کچھ اور ہو یا نہ ہو ہمارے حکمران احساس برتری کا شکار تو ہوہی جائیں گے کہ ''بڑے لوگ'' ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔
__________________

 
میاں شاہد's Avatar
میاں شاہد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 288
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا
مسٹر گرزلی (02-06-08), عمیر نعیم (05-06-08)
پرانا 02-06-08, 10:49 AM   #2
Senior Member
 
مسٹر گرزلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,113
کمائي: 11,898
شکریہ: 152
334 مراسلہ میں 572 بارشکریہ ادا کیا گیا
مسٹر گرزلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: بڑے لوگوں‌کا وقت

مفتی صاحب رحمہ اللہ نے تو کمال ہی کردیا ۔۔۔۔۔بہت اچھی تحریر ہے شاہد بھائی۔۔۔شکریہ
مسٹر گرزلی آف لائن ہے   Reply With Quote
مسٹر گرزلی کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (02-06-08)
پرانا 02-06-08, 10:52 AM   #3
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,202
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: بڑے لوگوں‌کا وقت

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مسٹر گرزلی مراسلہ دیکھیں
مفتی صاحب رحمہ اللہ نے تو کمال ہی کردیا ۔۔۔۔۔بہت اچھی تحریر ہے شاہد بھائی۔۔۔شکریہ
حوصلہ بڑہانے کا شکریہ برادر
میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-06-08, 11:06 AM   #4
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,202
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: بڑے لوگوں‌کا وقت

میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
گھڑیاں, پاکستانی, وزیراعظم, قرآن, قصہ, نماز, مکہ, متعارف, مسجد, معاشرہ, اللہ, احتجاج, اسلامی, بے نظیر, تعلیم, جھوٹ, حل, خواتین, خوش, دل, رمضان, سائنس, سحری, شعبان, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کراچی کو خطرہ ”اپنوں“ سے ہے؟ راجہ اکرام اپکے کالم 39 13-04-12 01:39 PM
پاک کوئز : بچوں‌کا پروگرام ابرارحسین سوفٹ ویرز کے بارے میں آپکی رائے اور سوفٹ ویر کی درخواست 6 03-10-10 02:47 PM
اب اخلا قی رقص ہوں‌گے! جاویداسد خبریں 0 25-08-10 10:45 PM
محاوروں‌کی تشریح!!!! کانتا عمومی بحث 69 15-11-08 07:05 PM
’نواز شریف سے حرف بہ حرف متفق ہوں‘ محمدعدنان خبریں 0 04-05-08 05:44 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:08 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger