واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


بہادر شاہ ظفر کے ورثاء کا لال قلعہ پر دعوی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-10-07, 11:55 AM   #1
بہادر شاہ ظفر کے ورثاء کا لال قلعہ پر دعوی
چاچا کمال چاچا کمال آف لائن ہے 04-10-07, 11:55 AM

آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کے ورثاء رونق زمانی بیگم اور ان کی بہن زینت محل شیخ اب دہلی کے تاریخی لال قلعہ پر ملکیت کا دعویٰ کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔
رونق اور زینت، کلکتہ میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہی سلطانہ بیگم کی بیٹیاں ہیں۔ سلطانہ بیگم کی شادی بہادر شاہ ظفر کے پڑ پوتے شہزادے مرزا بدر بخت بہادر سے ہوئی تھی جن کا کلکتہ میں ہی انیس سو اسی میں انتقال ہو گیا تھا۔

رونق شادی کے بعد ممبئی سے دور بسائے گئے شہر نوی ممبئی کے علاقہ نیرول میں ایک چھوٹے سے گھر میں اپنےشوہر اقبال نواب اور اپنے بیٹے کے ساتھ رہتی ہیں۔ رونق کو بہت افسوس ہے کہ ’وہ انگریزوں کے سامنے سر نہ جھکانے والے شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کی اولاد ہوتے ہوئے آج اس آزاد ملک میں کس طرح کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہیں جبکہ انگریزوں سے دشمنی مول نہ لینے والے راجہ اور نواب آج انڈیا میں اپنے محلوں میں اور کروڑوں کی جائیداد کے ساتھ عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔‘

رونق کے شوہر اقبال نواب کا کہنا ہے کہ ان کی ساس سلطانہ بیگم کو آزادی کے بعد سے آج بھی محض چار سو روپیہ ماہانہ پینشن ملتی ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے۔

رونق کے شوہر اقبال نواب اب لال قلعہ پر دعویٰ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ان کے مطابق سن دو ہزار چھ میں لکھنؤ کے محمود آباد کے نواب محمد عامر محمد خان کو ان کی چھ ہزار کروڑ کی جائیداد واپس ملی تھی۔وہ گزشتہ پینتالیس برسوں سے مقدمہ لڑ رہے تھے۔ان کی جیت کے بعد ہی انہوں نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ عدالت سے انصاف طلب کریں گے۔

اقبال کا کہنا ہے کہ اگر حکومت لال قلعہ واپس نہیں دے سکتی تو کم سے کم ہمیں اس کا معاوضہ دیا جائے۔ان کے آباؤ اجداد کی بے پناہ دولت سے آج ہندستان مالا مال ہے لیکن آج ان کے ورثاء غربت سے بھی بدتر زندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔ ’آپ سوچیے کہ جتنی پینشن سلطانہ بیگم کو ملتی ہے اس سے زیادہ رقم ملک کے ایک چپڑاسی کو ملتی ہے۔ کیا یہ حکومت کا سوتیلا رویہ نہیں ہے ؟‘

اقبال رمضان کے بعد عامر خان سے مشورے کے لیے لکھنؤ جائیں گے اور پھر مقدمہ دائر کریں گے۔

انیس سو اسی میں شہزادے محمد بخت بہادر کے انتقال کے بعد لوک سبھا میں اٹھے ایک سوال کے جواب میں ریاستی وزیر مملکت یوگیندر مکوانا نے کہا تھا کہ ’اگر ان کے ورثا پینشن میں اضافہ کی درخواست کرتے ہیں تو حکومت اس پر ہمدردی کے ساتھ غور کرے گی۔‘

رونق بیگم کو حکومت کے اس رویہ پر افسوس ہے۔ ان کے مطابق انہیں رحم یا ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے۔ ’برسہا برس تک شان کے ساتھ ہندستان جیسے ملک پر بادشاہت کرنے والے مغلوں کی نسل کو ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے۔‘

تاریخ کے مطابق بہادر شاہ ظفر کو اٹھارہ سو اٹھاون میں انگریزوں نےگرفتار کر کے اس وقت کے برما بھیج دیا تھا۔انگریزوں نے اس سے پہلے بہادر شاہ ظفر کے دونوں بیٹوں کا سر قلم کر دیا تھا۔ برما میں بہادر شاہ ظفر کو نظر بند کر کے رکھا گیا تھا۔

بہادر شاہ ظفر کی آٹھ بیویاں تھیں جن میں زینت محل بھی ایک تھیں۔ان سے ایک بیٹے جواں بخت تھے۔بخت کی شادی برما میں ہی ہوئی جہاں انیس سو بیس میں انہیں ایک بیٹا ہوا جس کا نام جمشید بخت رکھا گیا۔ جمشید بخت کے دو بیٹے تھے۔ایک مرزا سکندر اور دوسرے بیدار بخت جن کی بیوی سلطانہ بیگم ہیں آج بھی کلکتہ میں ہیں۔

رونق کے مطابق ان کی والدہ کہتی ہیں کہ ’انیس سو پچیس میں مولانا ابوالکلام آزاد نے بہادر شاہ ظفر کے خاندان کو واپس دلی بلانے کی کوشش کی تھی لیکن انگریزوں نے اس کی مخالفت کی تھی اور کہا کہ انہیں کلکتہ لے جاؤ لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ وہاں کسی پر یہ ظاہر نہ کریں کہ وہ بہادر شاہ ظفر کے خاندان سے ہیں۔نتیجے میں انہیں پھولوں کے بکس میں چھپا کر ہندستان لایا گیا تھا۔‘

رونق کا کہنا ہے کہ ’اب تو ہم آزاد ہیں اور انگریزوں کی غلامی بھی نہیں کر رہے ہیں تو پھر ایک ایسے شہنشاہ کے خاندان کے ساتھ اس طرح کا سوتیلا رویہ کیوں جنہوں نے اپنے وطن اور اس کے وقار پر اپنی شان و شوکت کو قربان کر دیا۔‘

بی بی سی

 
چاچا کمال's Avatar
چاچا کمال
Senior Member
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 501
Reply With Quote
پرانا 04-10-07, 05:17 PM   #2
Administrator
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: دل
مراسلات: 2,759
کمائي: 8,530
شکریہ: 0
561 مراسلہ میں 1,027 بارشکریہ ادا کیا گیا
زبیر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: بہادر شاہ ظفر کے ورثاء کا لال قلعہ پر دعوی

ہی ہی کافی مزدار خبر ہے اب لال قلعے کے مالک بھی آئیں گے
زبیر آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
وزیر, نظر, آج, بادشاہت, جیت, جواب, خان, خبر, درخواست, رمضان, زینت،, زندگی, شہر, عدالت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بلیک ہول کا راز فشاں کرنے کا دعوی Real_Light کائنات کے راز 11 05-12-10 11:05 AM
نبوت کا دعوی کرنے والا جھوٹا ہے غازی اسلام عقیدہ رسالت 1 21-03-09 10:51 AM
انڈیا کا دو مزید پاکستانی مارنے کا دعوی راجہ اکرام خبریں 0 26-01-09 11:38 AM
ایسا جو کہ یہ دعوی کرتا ہے کہ اسے چوری شدہ اشیاء کی جگہ کا علم ہے ۔ چیتا چالباز جادو کا اسلامی علاج 0 05-01-09 06:36 PM
کابل میں کئی غیر ملکی فوجی ہلاک ، طالبان کا دعوی خرم شہزاد خرم خبریں 0 04-01-08 09:12 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:08 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger