| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||||
|
||||||
|
مناظر: 9228
|
||||||
| 17 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (02-08-10), فاروق سرورخان (02-08-10), کنعان (02-08-10), نورالدین (02-08-10), محمد عاصم (02-08-10), مرزا عامر (02-08-10), آصف وسیم (26-09-10), اویسی (03-08-10), ابن آدم (03-08-10), ابرارحسین (03-08-10), بلال اویسی (02-08-10), راجہ اکرام (09-08-10), شمشاد احمد (14-08-10), شاہ جی 90 (16-08-10), عبداللہ آدم (04-08-10), عروج (12-10-10), غلام خان (02-09-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
میرے خیال میں کسی کو بھی نہیں پتا
اگر پتا ہوگا تو وہ کاپی پیسٹ ہی ہوگا |
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
کاپی پیسٹ بھی بہت بڑی بات ہے
ورنہ اپنی ذہانت یا سمجھ سے کچھ کہیں تو بھی عقل کے طعنے سننے کو ملتے ہيں بعض اوقات خیر اچھا موضوع ہے ۔ ۔ ۔ احتیاط کرتے کرتے بھی کچھ نہ کچھ تلخیاں ہوجائیں گی مگر ایک موضوع واضح ہو جائے گا ۔۔ فی الحال عرض ہے کہ مجھے حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو خطبۂ حجۃ الوداع پر نبی اکرم کے شاندار اور یادگار حکم کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی تیسری جانب سے انے والے اقوال کو اپنے مذہب میں شامل کر لیتے ہيں بلکہ قرآن و صحیح حدیث کو اپنی عقل سے پرکھنے کے بجائے ان لوگوں کی عقل سے پرکھتے ہيں جو خود فرقہ واریت کے دور میں فتنوں سے لڑتے لڑتے اپنی زندگی گزار گئے اول تو قرآن خود اعلان کر رہا ہے کہ ولقد يسرنا القران للذكر فهل من مدكر ترجمہ : اور البتہ ہم نے تو سمجھنے کے لیے قرآن کو آسان کر دیا پھر کوئی ہے کہ سمجھے اس کے باوجود اگر کوئی مسئلہ سمجھ میں نہيں آ رہا تو اس کا یہ مطلب نہيں کہ قرآن نا مکمل ہے اور اس کو سمجھنے کے لیے کسی اور عالم ( جو صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی ) کی عقل پر انحصار کیا جائے آپ اپنی عقل استعمال کریں اور عقل نہيں ہے تو اسے بڑھائیں علم سے تحقیق سے ، مطالعہ کریں اپنے حمایت یافتہ لوگوں کو بھی اور مخالفین کو بھی تا کہ بات مزید واضح سے واضح ہو ۔ اس کے لیے بولیں کم اور سنیں زیادہ ___________________________________________ اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے والسلام ۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
|
|
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,726
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
تقلید پر جب سپیشل گفتگو کرنی ھے تو پہلے اس کی بیسک ڈیفینیشن بھی بیان کر دی جائے تو بہتر ہو گا تاکہ بعد میں کوئی ہوں،ہاں نہ کر سکے اس کے بغیر اسے جاری رکھنا کسی بھی طرح فائدہ مند ثابت نہیں ہو گا، کوئی کچھ کہے گا تو کوئی کچھ۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کنان بھائی اس کے لئے آپ کو زحمت دیتا ہوں
![]() تقلید کی بیسک ڈیفینیشن مختصرا آپ ہی بتادیں تاکہ ذہن بنا رہے |
|
|
|
|
#6 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,726
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
![]() ![]() ![]() السلام علیکم فیصل بھائی اگر طرف سے پیش کی ہوئی ڈیفینیشن مائنورٹی میں ھے اسی لئے میجورٹی والے بھائی کو ہی پیش کرنے دیں تاکہ میں بھی اس میں حصہ لے سکوں۔ اگر دو دن تک کچھ نہ بنا تو پھر اسے آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حقیقت تقلید
اس بات سے کسی مسلمان کو انکار نہیں ہو سکتا کہ دین کی اصل دعوت یہ ہے کہ صرف اللہ تعالی کی اطاعت کی جائے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت بھی اس لئے واجب ہے کہ حضور نے اپنے قول و فعل سے احکام الہی کی ترجمانی فرمائی ہے کونسی چیز حلال ہے؟ کونسی چیز حرام؟ کیا جاءز ہے؟ کیا ناجائز؟ ان تمام معاملات میں خالصة اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت کرنی ہے۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے بجائے کسی اور کی اطاعت کرنے کا قائل ہو اور اس کو مستقل بالذات مطاع سمجھتا ہو وہ یقینا دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ لہذا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآن وسنت کے احکام کی اطاعت کرے۔ لیکن قرآن و سنت میں بعض احکام تو ایسے ہیں کہ جنھیں ہر معمولی لکھا پڑھا آدمی سمجھ سکتا ہے ان میں کوئی اجمال ، ابہام، یا تعارض نہیں ہے، بلکہ جو شخص بھی انھیں پڑھے گا وہ کسی الجھن کے بغیر ان کا مطلب سمجھ لے گا۔ مثلا قرآن کریم کا ارشاد ہے۔ لا یغتب بعضکم بعضا ( الحجرات) تم میں سے کوئی کسی کو بیٹھ پیچھے برا نہ کہے۔ جو شخص عربی زبان جنتا ہو وہ اس ارشاد کے معنی سمجھ جائے گا اور چونکہ نہ اس میں کوئی ابہام ہے اور نہ کوئی دوسری شرعی دلیل اس سے ٹکراتی ہے اس لئے اس میں کوئی الجھن پیش نہیں آئے گی۔ یا مثلا آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے۔ لا فضل بعربی علی عجمی کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں۔ یہ ارشاد بھی بالکل واضح ہے اس میں کوئی پیچیدگی اور اشتباہ نہیں، ہر عربی داں بلا تکلف اس کا مطلب سمجھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس قرآن و سنت کے بہت سے احکام وہ ہیں جن میں کوئی ابہام یا اجمال پایا جاتا ہے اور کچھ ایسے بھی ہیں جو قرآن ہی کی کسی دوسری آیت یا آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہی کی کسی دوسری حدیث سے متعارض معلوم ہوتے ہیں، ہر ایک کی مثال ملاحظہ فرمائیے۔ (1) قرآن کریم کا ارشاد ہے۔ والمطلقت یتربصن بانفسھن ثلثة قروء۔ اور جن عورتوں کو طلاق دیدی گئی ہو وہ تین قرو گذرنے تک انتظار کریں گی۔ اس آیت میں مطلقہ عورت کی عدت بیان کی گئی ہے اور اس کے لئے تین قرء کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن قرء کا لفظ عربی زبان میں حیص ( ماہواری) کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور طہر ( پاکی ) کے لئے بھی، اگر پہلے معنی لئے جائیں تو آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ مطلقہ کی عدت تین مرتبہ ایام ماہواری کا گزر جانا ہے اور اگر دوسرے معنی لئے جائیں تو تین طہر گزرنے سے عدت پوری ہو گی اس موقع پر ہمارے لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان میں سے کون سے معنی پر عمل کریں ؟ (2) ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے۔ من لم یترک المخابرة فلیؤذن بحرب من اللہ و رسولہ۔ جو شخص بٹائی کا کارو بار نہ چھوڑے وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لے۔ اس حدیث میں بٹائی کی ممانعت کی گئی ہے لیکن بٹائی کی بہت سی صورتیں ہیں یہ حدیث اس بارے میں خاموش ہے کہ یہاں بٹائی کی کونسی صورت مراد ہے؟ کیا بٹائی کی ہر صورت نا جائز ہو گی؟ یا بعض صورتیں جائز قرار پائیں گی، اور بعض نا جائز حدیث میں ایک قسم کا اجمال پایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ بٹائی کو علی الاطلاق نا جائز کہہ دیں؟ یا اس میں کوئی تفصیل یا تقسیم ہے؟ (3) ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادگرامی ہے۔ من کان لہ امام فقراء ة لامام لہ قرا ءة۔ جس شخص کا کاکوئی امام ہو تو امام کی قراءت اس کیلئے بھی قراءت بن جائے گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں جب امام قراء ت کر رہا ہو تو مقتدی کو خاموش کھڑا رہنا چاہئے دوسری طرف آپ ہی کا ارشاد ہے۔ لا صلوة لمن لم یقرا بفاتحة الکتاب جس شخص نے سورہ فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں ہو گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخ کے لئے سورہ فاتحہ پڑھنی ضروری ہے۔ ان دونوں حدیثوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا پہلی حدیث کو اصل قرار دے کر یوں کہا جائے کہ دوسری حدیث میں صرف امام اور منفرد کو خطاب کیا گیا ہے اور مقتدی اس سے مستثنی ہے یا دوسری حدیث کو اصل قرار دے کر یوں کہا جائے کہ پہلی حدیث میں قراء ت سے مراد سورہ فاتحہ کے سوا کوئی دوسری سورہ ہے اور سورہ فاتحہ اس سے مستثنی ہے۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ قرآن و حدیث سے احکام کے مستنبط کرنے میں اس قسم کی بہت سی دشواریاں پیش آتی ہیں، اب ایک صورت تو یہ ہے کہ ہم اپنی فہم و بصیرت پر اعتماد کر کے اس قسم کے معاملات میں خود کوئی فیصلہ کر لیں اور اس پر عمل کر یں۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ اس قسم کے معاملات میں از خود کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے یہ دیکھیں کہ قرآن و سنت کے ان ارشادات سے ہمارے جلیل القدر اسلاف نے کیا سمجھا ہے؟ چنانچہ قرون اولی کے جن بزرگوں کو عم علوم قرآن و سنت کا زیادہ ماہر پائیں ان کی فہم و بصیرت پر اعتماد کریں اور انھوں نے جو کچھ سمجھاہے اس کے مطابق عمل کریں۔ اگر انصاف اور حقیقت پسندی سے کام لیا جائے تو ہمارے خیال کے مطابق اس بات میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ ان دونوں صورتوں میں سے پہلی صورت خاصی خطرناک ہے اور دوسری صورت بہت محتاط، یہ صرف تواضع اور کسر نفسی ہی نہیں ایک نا قابل انکار حقیقت ہے کہ علم و فہم ذکاوت و حافظہ، دین و دیانت، تقوی اور پرہیز گاری ہر اعتبار سے ہم اس قدر تہی دست ہیں کہ قرون اولی کے علماء سے ہمیں کوئی نسبت نہیں پھر جس مبارک ماحول میں قرآن کریم نازل ہوا تھا قرون اولی کے علماء اس سے بھی قریب ہیں اور اس قرب کی بنا پر ان کے لئے قرآن وس سنت کی مراد کو سمجھنا زیادہ آسان ہے اس کے بر خلاف ہم عہد رسالت کے اتنے عرصہ بعد پیا ہوئے ہیں کہ ہمارے لئے قرآن و حدیث کا مکمل پس منظر اس کے نزول کے ماحول اس زمانے کے طرز معاشرت اور طرز گفتگو کا ہو بہو اور بعینہ تصور بڑا مشکل ہے، حالانکہ کسی کی بات کو سمجھنے کے لئے ان تمام باتوں کی پوری وافقیت انتہائی ضروری ہے۔ ان تمام باتوں کا لحاظ کرتے ہوئے اگر ہم اپنی فہم پر اعتماد کرنے کے بجائے قرآن و سنت کے مختلف التعبیر پیچیدہ احکام میں اس مطلب کو اختیار کر لیں جو ہمارے اسلاف میں سے کسی عالم نے سمجھا ہے تو کہا جائے گا کہ ہم نے فلاں عالم کی تقلید کی ہے۔ یہ ہے تقلید کی حقیقت۔ اگر میں اپنے مافی الضمیر کو صحیح سمجھا سکا ہوں تو یہ بات آپ پر واضح ہو گئی ہو گی کہ کسی امام یا مجتہد کی تقلید صرف اس موقع پر کی جاتی ہے۔ جہاں قرآن و سنت سے کسی حکم کے سمجھنے میں کوئی دشواری ہو۔ خواہ اس بناء پر کہ قرآن و سنت کی عبارت کے ایک سے زائد معنی نکل سکتے ہوں۔ خواہ اس بناء پر کہ اس میں کوئی اجمال ہو یا اس بناء پر کہ اس مسئلہ میں دلائل متعارض ہوں۔ چنانچہ قرآن و سنت کے جو احکام قطعی ہیں یا جن میں کوئی اجمال و ابہام، تعارض یا اسی قسم کی کوئی الجھن نہیں ہے وہاں کسی امام و مجتہد کی تقلید کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مذکورہ بالا گزارشات سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ کسی امام یا مجتہد کی تقلید کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ اسے بذات خود واجب الاطاعت سمجھ کر اتباع کی جا رہی ہے۔ یااسے شارع ( شریعت بنانے والا، قانون ساز ) کا درجہ دیکر اس کی ہر بات کو واجب الاتباع سمجھا جا رہا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ پیروی تو قرآن و سنت کی مقصود ہے، لیکن قرآن و سنت کی مراد کو سمجھنے کے لئے بحیثیت شارح قانون ان کی بیان کی ہوئی تشریح و تعبیر پر اعتماد کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنت کے قطعی احکام میں کسی امام یا مجتہد کی تقلید ضروری نہیں سمجھی گئی۔ کیونکہ وہاں اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) کی اطاعت کا اصل مقصد اس کے بغیر باسانی حاصل ہو جاتا ہے۔۔ (از مولانا تقی عثمانی صاحب )
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
| 11 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | shafresha (03-08-10), فیصل ناصر (03-08-10), منتظمین (03-08-10), محمدمبشرعلی (06-08-10), مرزا عامر (03-08-10), ابرارحسین (03-08-10), احمد بلال (03-08-10), بلال اویسی (03-08-10), راجہ اکرام (09-08-10), شاہ جی 90 (16-08-10), عبداللہ آدم (04-08-10) |
|
|
#8 | ||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
یعنی منصوص اور غیر منصوص نصوصِ شرعیہ میں باہم تعارض کہ وقت یا وہ نصوص شرعیہ جو کہ ایک سے زائد معنٰی کا احتمال رکھتی ہوں اور ان میں سے کسی ایک معنٰی کی تعیین یا ترجیح کرنا ممکن نہ رہے تو ایسے میں ایک غیر مجتھد کے لیے کسی معین مجتھد کی پیروی کرنا لازم ہوجاتا ہے اور اسی کو تقلید کہتے ہیں نیز اسی طرح وہ مسائل کہ جن کے بارے میں کوئی صریح نص شرعی نہ ہو تو ایسے میں ان کے صحیح اور شرعی حکم کو قرآن وسنت کے عموم اور ادلہ اربعہ کے خصوص کی روشنی میں اخذ و استنباط شدہ فقہی ذخیرے کے تناظر میں جاننے اور ماننے کو بھی تقلید کہتے ہیں ۔ ۔ ۔۔ اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
نوٹ :- تقلید کبھی بھی جمود طاری نہیں کرتی اور نہ دین میں اجتھاد کی راہوں کو روکتی ہے بلکہ جو بھی دین میں تقلید کی سطح سے اوپر اٹھنا چاہے تو اس کے لیے دین کی راہیں کھلی ہے اپنی جدو جہد کو اس دین کے حصول میں آخری حدوں تک لگادئے اور س کے نتیجہ میں اگر وہ درجہ اجتھاد پر فائز ہوجائے تو پھر شوق سے تقلید نہ کرئے کہ تقلید اس منصب کے لیے نہ تو روا ہے اور نہ ہی اس منصب کے حصول کی راہ میں کسی کے پاؤں کی بیڑی ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ والسلام |
||||
|
|
| 10 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | sahj (06-08-10), shafresha (03-08-10), فیصل ناصر (03-08-10), کنعان (03-08-10), نورالدین (04-08-10), مرزا عامر (03-08-10), احمد بلال (03-08-10), بلال اویسی (03-08-10), شمشاد احمد (07-08-10), شاہ جی 90 (16-08-10) |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,100
کمائي: 22,962
شکریہ: 3,391
830 مراسلہ میں 2,404 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کہ نظام تقلید رائج ہونے سے پہلے والے مسلمان جو کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے کیوںکہ اس وقت تقلید کا کوئی نظریہ سرے سے موجود ناں تھا ۔ ان کو کیسا مسلمان کہا جائے گا؟
__________________
صراط الھدیٰ فورم
www.siratulhuda.com اردو یونیکوڈ تحریر میں بنیادی دینی ، اخلاقی و اصلاحی تعلیمات اور سائینس و انفارمیشن ٹکنالوجی کی نفع مند معلومات کی ترسیل کا مرکز |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے ابن آدم کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (03-08-10), نورالدین (04-08-10), محمد عاصم (03-08-10), مرزا عامر (03-08-10), احمد بلال (03-08-10), راجہ اکرام (09-08-10), شاہ جی 90 (16-08-10), عبداللہ آدم (04-08-10), عبداللہ حیدر (03-08-10) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ابن آدم بھائی
اگر آپ تقلید کی حقیقت کو اس کے صحیح مفہوم میں سمجھیں تو آپ کو اپنا سوال بے مقصد نظر آئے گا۔۔۔۔ ۔یہ سوال اس وقت پیدا ہوا ہے جب تقلید کے ایک خود تراشیدہ مفہوم کو سامنے رکھا جائے۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
دین ہم کو مکمل اور اکمل ملا اب اس میں نئے نئے اصول قرآن و سنت کی کس دلیل سے بنالیے گئے ہیں؟؟؟ ہم کو اللہ اور نبی علیہ السلام کا یہی حکم ملا ہے کہ قرآن و سنت کی پیروی کی جائے، اماموں کی پیروی کا حکم اگر کہیں ہے تو بتایا جائے تاکہ ہم سب کسی نہ کسی امام کی پیروی پھر ضرور کریں۔ کیا قرآن کی وضاحت نبی علیہ السلام نہیں کرکے گے تھے؟؟؟ اور قرآن و سنت پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عمل نہیں کیا تھا؟؟؟ اگر کیا تھا تو وہی معیار آج ہم اپنائیں گے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنایا تھا اگر نہیں تو کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے چارو امام کا رتبہ زیادہ ہے؟؟؟اور کیا اللہ اور رسول علیہ السلام کا کوئی ایسا حکم ہے کہ نبی علیہ السلام بعد تم لوگ اماموں کی اتباع شروع کر دینا؟؟؟اگر ایسا واضح حکم ہے اور پھر کوئی کسی امام کی اتباع نہیں کرتا تو واقع وہ بندہ جہالت یا گمراہی پر ہے۔اور اگر ایسا حکم نہیں ہے تو آپ بھائی لوگ اس کو لازمی کیوں قرار دیتے ہو؟؟؟ اگر وجہ یہ ہے جو کہ پیش کی جاتی ہے کہ اس طرح ہر کوئی قرآن کی آیات یا احادیث کا غلط معنی لیتا پھیرے گا تو امت میں انتشار کا باعث ہوگا اس لیے کسی ایک امام کی پیروی یا تقلید لازم ہے۔ تو بھائی جان اگر ایسا ہی ہے تو مجھے آپ بھائی لوگ بتائیں کہ اس وقت ۵ امام ہیں جن کی اتباع و پیروی ہورہی ہے تو سب سے پہلے امت ۵ گروہوں میں تقسیم ہوئی، اور اس پر بس نہیں ہوا پھر ہر امام کے پیروکاروں میں بھی کئی کئی جماعتیں وجود میں آئیں اور آج حالت یہ ہے کہ اتنے زیادہ فرقے اور گروہ بن چکے ہیں کہ ان کو شمار کرنا بھی مشکل ہے۔اگر پیش کردہ بات مان لی جائے تو پھر کیوں اتنے فرقے وجود میں آئے؟؟؟ اس کا جواب یہ نہ دیا جائے کہ اگر یہ ۵ فقہ نہ ہوتی تو کتنے فرقے بننے تھے، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ساری امت صرف قرآن و سنت پر ہی عمل کررہی ہوتی تو حالات آج کی بنسبت بہت اچھے ہوتے، کیسے وہ ایسے کہ جب بھی ہم میں کوئی اختلاف بن جاتا تو ہم نے رجوع ۵ فقہ کی طرف نہیں تھا کرنا کہ جہاں سب کا اس اختلاف پر مختلف موقف ہوتا بلکہ ہم نے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ علیہ السلام کی طرف رجوع کرنا تھا کہ جہاں ایک ہی موقف ملنا تھا اور اس طرح اس اختلاف کو ختم کیا جاسکتا تھا، اب ہوتا کیا ہے کہ اگر اختلاف بن جائے تو کہا جاتا ہے کہ میں تو فلاں فقہ کا ماننے والا ہوں لہذا میں تو وہی لوں گا جو ہمارے امام صاحب نے لیا ہے تو دوسرا کہتا کہ جی میں تو فلاں فقہ کا ماننے والا ہوں میں تو اپنے ہی امام کی بات مانوں گا اور یہ فرضی بات نہیں کررہا ایسا ہی ہورہا ہے۔ اس لیے بھائیو اور بہنوں ہم سب کے درمیان جو چیز مشترک ہے وہ صرف اور صرف قرآن اور نبی علیہ السلام کی احادیث مبارکہ ہیں اس لیے آ جاؤ ان کی طرف اگر آپس میں متحد ہونا چاہتے ہو۔ اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اوراپنے میں سے (اہلِ حق) صاحبانِ اَمر کی، پھر اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو تو اسے (حتمی فیصلہ کے لئے) اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم):::قرآن و سنت::: کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، (تو) یہی (تمہارے حق میں) بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔ النساء :۵۹
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین |
|
|
|
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
السلام علیکم:
ابی بھائی سے گزارش ہے کہ مشکل اصطلاحات کو آسان الفاظ میں پیش کیا کریں تاکہ سب کو آسانی سے سمجھ اجائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ میرا مشورہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آگے اپ کی مرضی۔ والسلام |
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,909
شکریہ: 10,606
1,222 مراسلہ میں 3,228 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کسی بھی فقہ کا امام جب کسی مسلئے کا حل بتاتا ہے تو کیا ان میں سے ہر امام قرآن و سنت سے حل نہیں بتا رہا ہوتا؟؟
اگر قرآن و سنت سے بتا رہے ہوتے ہیں تو "اختلاف " کیسے پیدا ہو گیا؟حلانکہ سارے امام ماشاءاللہ دین کا کافی علم رکھنے والے تھے۔ |
|
|
|
|
#14 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,726
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ خیر جس طرح ایک انسان کی شکل دوسرے انسان کی شکل سے نہیں ملتی اسی طرح ایک انسان کا دماغ دوسرے انسان سے نہیں ملتا۔ ہر فقہ کے امام صاحب ہر مسائل کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں ہی بتاتے ہیں اس سے باہر نہیں۔ آپ کسی بھی مسئلہ و موضوع پر دھاگے/ مراسلات کو کھول کے دیکھ لیں دونوں، تینوں، چاروں طرفین سے آپ کو جتنی بھی کنورسیشن ملے گی سب حریف نے قرآن و سنت سے ہی دلائل پیش کئے ہونگے۔ قرآن و حدیث کسی گروپ کی پرسنل پراپرٹی نہیں ھے کہ جو وہ کہہ رہا ھے وہی سچ ھے، اور وہی اکیلا مسلمان ھے باقی نہیں تو اس کے دماغی حالت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ھے کہ کیسی ھے کیونکہ پڑھا لکھا اور ان پڑھ دونوں برابر نہیں ہیں۔ کوئی بھی ایک مسئلہ لے لیں مسئلہ کا ذکر میں نہیں کرتا تاکہ بات سمٹی رہے، کسی بھی ایک مسئلہ پر 4 امام/ علماء ڈبیٹ کرتے ہیں چاروں اپنے اپنے دلائل قرآن و سنت کی روشنی میں پیش کرتے ہیں۔ چاروں کے دیکھنے اور سوچنے کا ڈھنگ الگ الگ ھے۔ کسی بھی ایک مسئلے پر چاروں آپس میں اتفاق نہ کرتے ہوئے کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ پاتے، ایسٹیمیٹڈ 100 بندے ان کی ڈبیٹ سن رہے ہیں۔ خیال رہے کہ چاروں امام نے مسئلہ پر قرآن اور حدیث سے دلائل پیش کئے ہیں، اور 100 بندے جنہوں نے یہ مناظرہ دیکھا یہ سب ان چاروں اماموں کے کسی مسئلہ پر اتفاق نہ ہونے پر کنفیوز نہیں ہونگے بلکہ ہر بندے کی عقل اس کی تعلیم اور تجربہ کے مطابق کسی ایک امام کی بات پر ضرور اتفاق کرے گی چاروں پر نہیں۔ اختلافات خود پیدا کئے ہوئے ہیں، بندہ کا کام ھے قرآن و سنت کی روشنی میں کسی مسئلہ کا حل بتاتا ہوں اب کوئی دوسرا اسے قرآن و سنت کی روشنی میں مجھ سے بہتر اس مسئلہ کا حل بتا سکتا ھے مگر یہ سمجھنے والے پر منحصر ھے کہ اسے کس سے کہی ہوئی بات اچھی لگتی ھے۔ باقی پھر کبھی والسلام |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (04-08-10), فاروق سرورخان (19-08-10), نورالدین (04-08-10), مرزا عامر (04-08-10), احمد بلال (05-08-10), بلال اویسی (04-08-10) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم بھائی آپ کو ہمارے پیش کردہ مراسلہ میں جن جن امور کی سمجھ نہیں آئی انکی نشاندہی فرمادیجئے تو ہم ان امور کو مزید آسان کرکے پیش کردیں گے والسلام
|
|
|
| آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا گیا | احمد بلال (05-08-10) |
![]() |
| Tags |
| color, ہے۔, کس, گئی, قرآن, نظر, مکمل, موقع, مقصد, منتقل, آج, اللہ, انسان, بہترین, تعلیم, جرم, حل, خود, دنیا, زندگی, عقل, علم, عالم, غلطی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|