واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


:::تقلید:::

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-08-10, 02:42 AM   #1
:::تقلید:::
فیصل ناصر فیصل ناصر آف لائن ہے 02-08-10, 02:42 AM

تقلید کے بارے میں کچھ سوالات پیش ہیں
1 تقلید کیا ہے ؟
2تقلید کتنی ضروری ہے ؟
3 کیا تقلید کے بغیر دین مکمل نہیں ؟
4 تقلید کس کی کریں ؟
5 تقلید نا کریں تو کیا ہوگا ؟




اس سلسلے میں دو نقطہ نظر کسی اور تھریڈ سے یہاں منتقل کررہا ہوں

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بلال اویسی مراسلہ دیکھیں
نہیں ایسا نہیں ہے کہ تقلید کے بغیر دین مکمل نہیں، آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر اعلان فرمایا کہ آج کے دن دین مکمل ہوگیالیکن ساتھ ہی فرمایا کہ تمہارے درمیان دوچیزیں چھوڑے جارہا ہوں، ایک کتاب دوسرا سنت،
اب کتاب کو سمجھنے کےلئے دو چیزوںمیں سے کسی ایک کی ضرورت ہوتی ہے، تقلید کی یا اپنی عقل کی
اب تقلید کےلئے واجبی علم کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ اپنی عقل استعمال کرنے کےلئے مکمل علم کی ضرورت ہوتی ہے جوکہ ایک مجتہد کے پاس ہوتا ہے۔
حاصل یہ ہے کہ تقلید سے انسان سے غلطی کے امکان نا ہونےکے برابر ہیں جبکہ اپنی عقل سے مسئلہ حل کرنے میں غلطی کے امکان بہت زیادہ ہیں،
اس دور میں جب لوگوں مین‌ دین کی تعلیم کا رحجان ناہونے کے برابر ہے۔ تقلید بہترین عمل ہے زندگی گزارنے کیلئے،
ویسے بھی کسی کے تجربات سے فائدہ اٹھانے میں ‌کوئی قباحت نہیں‌ہونی چائیے،

یہ میری رائے ہے کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
؟ کتاب (قرآن) کو سمجھنے کے لئے فلسفہ یا منطق کی کیا ضرورت ہے جب اللہ خود ہی فرماتا ہے
اسی طرح الله تمہارے لیے آیتیں کھول کر بیان کرتا ہے

اب ہم کس طرح‌ یقین کرلیں کے ان آیات کا مفہوم وہ نہیں جو بظاہر سمجھ میں آتا ہے بلکہ اس کے میں کوئی اور مفہوم مخفی ہے جس کے لئے ایک بڑے فلسفی و منطقی کی ضرورت ہے
اور اللہ نے یا اللہ کے رسول نے کب ہم سے کہا ہے کے اپنی عقل نا استعمال کرو ؟ بلکہ ہمیں تو ہدایت ہے کے علم حاصل کرو
تقلید تو یہ دروازہ بند کرتی نظر آتی ہے ( یہاں تقلید سے مراد وہ ہے جس پر آپ بات کررہے ہیں یعنی مسلک یا مکتبہ فکر کی تقلید )
اور دنیا میں کون یہ دعوی کرسکتا ہے کے 100 فیصد غلطی سے مبرا ہے ہوسکتا ہے کسی ایک عالم کسی تحقیق میں کچھ کمی رہ گئی ہو اور کسی دوسرے عالم کی تحقیق میں وہ کمی پوری ہوگئی ہو تب ہم اس کا فیصلہ کیسے کریں گے ؟

ہم تو تقلید کی زنجیر میں ایسے جکڑے ہیں کے اپنے ذہن کو استعمال جرم ہوجاتا ہے ؟

آپ کی یہ بات بالکل ٹھیک ہے کے دینی تعلیم میں کمی کا بہت رجحان ہے اس کی وجہ یہ ہے کے ہم مسلکہ اور فقہی تعلیم حاصل کررہے جس کا مقصد صرف اپنے مسلک یا فقہ کو بلند کرنا ہوتا ہے اور دیگر مسالک اور فقہوں کو نیچا دکھانا

"یہ میری رائے ہے کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں"


ذاتیات سے بالا تر اور اچھی بحث کی توقع ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

 
فیصل ناصر's Avatar
فیصل ناصر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 9228
17 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-08-10), فاروق سرورخان (02-08-10), کنعان (02-08-10), نورالدین (02-08-10), محمد عاصم (02-08-10), مرزا عامر (02-08-10), آصف وسیم (26-09-10), اویسی (03-08-10), ابن آدم (03-08-10), ابرارحسین (03-08-10), بلال اویسی (02-08-10), راجہ اکرام (09-08-10), شمشاد احمد (14-08-10), شاہ جی 90 (16-08-10), عبداللہ آدم (04-08-10), عروج (12-10-10), غلام خان (02-09-10)
پرانا 02-08-10, 10:53 AM   #2
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,108
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میرے خیال میں کسی کو بھی نہیں پتا
اگر پتا ہوگا تو وہ کاپی پیسٹ ہی ہوگا
محمدخلیل آن لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
اویسی (03-08-10), شاہ جی 90 (16-08-10)
پرانا 02-08-10, 11:42 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post

کاپی پیسٹ بھی بہت بڑی بات ہے
ورنہ اپنی ذہانت یا سمجھ سے کچھ کہیں تو بھی
عقل کے طعنے سننے کو ملتے ہيں بعض اوقات

خیر اچھا موضوع ہے ۔ ۔ ۔
احتیاط کرتے کرتے بھی کچھ نہ کچھ تلخیاں ہوجائیں گی
مگر ایک موضوع واضح ہو جائے گا ۔۔

فی الحال عرض ہے کہ
مجھے حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو خطبۂ حجۃ الوداع پر نبی اکرم کے شاندار اور یادگار حکم کو
نظر انداز کرتے ہوئے
کسی تیسری جانب سے انے والے اقوال کو اپنے مذہب میں شامل کر لیتے ہيں
بلکہ قرآن و صحیح حدیث کو اپنی عقل سے پرکھنے کے بجائے ان لوگوں کی عقل سے پرکھتے ہيں
جو خود فرقہ واریت کے دور میں فتنوں سے لڑتے لڑتے اپنی زندگی گزار گئے

اول تو قرآن خود اعلان کر رہا ہے کہ
ولقد يسرنا القران للذكر فهل من مدكر
ترجمہ : اور البتہ ہم نے تو سمجھنے کے لیے قرآن کو آسان کر دیا پھر کوئی ہے کہ سمجھے

اس کے باوجود اگر کوئی مسئلہ سمجھ میں نہيں آ رہا تو اس کا یہ مطلب نہيں کہ
قرآن نا مکمل ہے اور اس کو سمجھنے کے لیے کسی اور عالم ( جو صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی ) کی عقل پر انحصار کیا جائے

آپ اپنی عقل استعمال کریں
اور عقل نہيں ہے تو اسے بڑھائیں
علم سے
تحقیق سے ،
مطالعہ کریں
اپنے حمایت یافتہ لوگوں کو بھی
اور مخالفین کو بھی
تا کہ بات مزید واضح سے واضح ہو ۔

اس کے لیے بولیں کم اور سنیں زیادہ
___________________________________________ اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

والسلام ۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے  
7 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-08-10), فیصل ناصر (02-08-10), کنعان (02-08-10), مرزا عامر (02-08-10), احمد بلال (03-08-10), راجہ اکرام (09-08-10), شاہ جی 90 (16-08-10)
پرانا 02-08-10, 05:38 PM   #4
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,726
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

تقلید پر جب سپیشل گفتگو کرنی ھے تو پہلے اس کی بیسک ڈیفینیشن بھی بیان کر دی جائے تو بہتر ہو گا تاکہ بعد میں کوئی ہوں،ہاں نہ کر سکے اس کے بغیر اسے جاری رکھنا کسی بھی طرح فائدہ مند ثابت نہیں ہو گا، کوئی کچھ کہے گا تو کوئی کچھ۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (02-08-10), نورالدین (02-08-10), مرزا عامر (02-08-10), اویسی (03-08-10), شاہ جی 90 (16-08-10), عبداللہ آدم (04-08-10)
پرانا 02-08-10, 05:43 PM   #5
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کنان بھائی اس کے لئے آپ کو زحمت دیتا ہوں
تقلید کی بیسک ڈیفینیشن مختصرا آپ ہی بتادیں تاکہ ذہن بنا رہے
فیصل ناصر آف لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (02-08-10), نورالدین (02-08-10), مرزا عامر (02-08-10), اویسی (03-08-10), شاہ جی 90 (16-08-10)
پرانا 02-08-10, 06:41 PM   #6
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,726
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
کنان بھائی اس کے لئے آپ کو زحمت دیتا ہوں
تقلید کی بیسک ڈیفینیشن مختصرا آپ ہی بتادیں تاکہ ذہن بنا رہے
لولز

السلام علیکم فیصل بھائی

اگر طرف سے پیش کی ہوئی ڈیفینیشن مائنورٹی میں ھے اسی لئے میجورٹی والے بھائی کو ہی پیش کرنے دیں تاکہ میں بھی اس میں حصہ لے سکوں۔ اگر دو دن تک کچھ نہ بنا تو پھر اسے آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (02-08-10), نورالدین (02-08-10), مرزا عامر (02-08-10), اویسی (03-08-10), احمد بلال (03-08-10), شاہ جی 90 (16-08-10)
پرانا 03-08-10, 12:22 AM   #7
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حقیقت تقلید
اس بات سے کسی مسلمان کو انکار نہیں ہو سکتا کہ دین کی اصل دعوت یہ ہے کہ صرف اللہ تعالی کی اطاعت کی جائے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت بھی اس لئے واجب ہے کہ حضور نے اپنے قول و فعل سے احکام الہی کی ترجمانی فرمائی ہے کونسی ‌چیز حلال ہے؟ کونسی ‌چیز حرام؟ کیا جاءز ہے؟ کیا ناجائز؟ ان تمام معاملات میں خالصة اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت کرنی ہے۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے بجائے کسی اور کی اطاعت کرنے کا قائل ہو اور اس کو مستقل بالذات مطاع سمجھتا ہو وہ یقینا دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ لہذا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ قر‏آن وسنت کے احکام کی اطاعت کرے۔

لیکن قر‏آن و سنت میں بعض احکام تو ایسے ہیں کہ جنھیں ہر معمولی لکھا پڑھا ‏آدمی سمجھ سکتا ہے ان میں کوئی اجمال ، ابہام، یا تعارض نہیں ہے، بلکہ جو شخص بھی انھیں پڑھے گا وہ کسی الجھن کے بغیر ان کا مطلب سمجھ لے گا۔ مثلا قر‏آن کریم کا ارشاد ہے۔
لا یغتب بعضکم بعضا ( الحجرات)
تم میں سے کوئی کسی کو بیٹھ پیچھے برا نہ کہے۔
جو شخص عربی زبان جنتا ہو وہ اس ارشاد کے معنی سمجھ جائے گا اور ‌چونکہ نہ اس میں کوئی ابہام ہے اور نہ کوئی دوسری شرعی دلیل اس سے ٹکراتی ہے اس لئے اس میں کوئی الجھن پیش نہیں ‏آئے گی۔ یا مثلا ‏آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے۔
لا فضل بعربی علی عجمی
کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں۔
یہ ارشاد بھی بالکل واضح ہے اس میں کوئی پیچیدگی اور اشتباہ نہیں، ہر عربی داں بلا تکلف اس کا مطلب سمجھ سکتا ہے۔

اس کے برعکس قر‏آن و سنت کے بہت سے احکام وہ ہیں جن میں کوئی ابہام یا اجمال پایا جاتا ہے اور کچھ ایسے بھی ہیں جو قر‏آن ہی کی کسی دوسری ‏آیت یا ‏آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہی کی کسی دوسری حدیث سے متعارض معلوم ہوتے ہیں، ہر ایک کی مثال ملاحظہ فرمائیے۔
(1) قر‏آن کریم کا ارشاد ہے۔
والمطلقت یتربصن بانفسھن ثلثة قروء۔
اور جن عورتوں کو طلاق دیدی گئی ہو وہ تین قرو گذرنے تک انتظار کریں گی۔
اس ‏آیت میں مطلقہ عورت کی عدت بیان کی گئی ہے اور اس کے لئے تین قرء کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن قرء کا لفظ عربی زبان میں حیص ( ماہواری) کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور طہر ( پاکی ) کے لئے بھی، اگر پہلے معنی لئے جائیں تو ‏آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ مطلقہ کی عدت تین مرتبہ ایام ماہواری کا گزر جانا ہے اور اگر دوسرے معنی لئے جائیں تو تین طہر گزرنے سے عدت پوری ہو گی اس موقع پر ہمارے لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان میں سے کون سے معنی پر عمل کریں ؟
(2) ایک حدیث میں ‏آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے۔
من لم یترک المخابرة فلیؤذن بحرب من اللہ و رسولہ۔
جو شخص بٹائی کا کارو بار نہ ‌چھو‎ڑے وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لے۔
اس حدیث میں بٹائی کی ممانعت کی گئی ہے لیکن بٹائی کی بہت سی صورتیں ہیں یہ حدیث اس بارے میں خاموش ہے کہ یہاں بٹائی کی کونسی صورت مراد ہے؟ کیا بٹائی کی ہر صورت نا جائز ہو گی؟ یا بعض صورتیں جائز قرار پائیں گی، اور بعض نا جائز حدیث میں ایک قسم کا اجمال پایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے یہ سوال سامنے ‏آتا ہے کہ بٹائی کو علی الاطلاق نا جائز کہہ دیں؟ یا اس میں کوئی تفصیل یا تقسیم ہے؟
(3) ایک حدیث میں ‏آنحضرت صلی اللہ علیہ و‏آلہ وسلم کا ارشادگرامی ہے۔
من کان لہ امام فقراء ة لامام لہ قرا ءة۔
جس شخص کا کاکوئی امام ہو تو امام کی قراءت اس کیلئے بھی قراءت بن جائے گی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں جب امام قراء ت کر رہا ہو تو مقتدی کو خاموش کھڑا رہنا ‌چاہئے دوسری طرف ‏آپ ہی کا ارشاد ہے۔
لا صلوة لمن لم یقرا بفاتحة الکتاب
جس شخص نے سورہ فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں ہو گی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخ کے لئے سورہ فاتحہ پڑھنی ضروری ہے۔
ان دونوں حدیثوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ‏آیا پہلی حدیث کو اصل قرار دے کر یوں کہا جائے کہ دوسری حدیث میں صرف امام اور منفرد کو خطاب کیا گیا ہے اور مقتدی اس سے مستثنی ہے یا دوسری حدیث کو اصل قرار دے کر یوں کہا جائے کہ پہلی حدیث میں قراء ت سے مراد سورہ فاتحہ کے سوا کوئی دوسری سورہ ہے اور سورہ فاتحہ اس سے مستثنی ہے۔

‏آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ قر‏آن و حدیث سے احکام کے مستنبط کرنے میں اس قسم کی بہت سی دشواریاں پیش ‏آتی ہیں،
اب ایک صورت تو یہ ہے کہ ہم اپنی فہم و بصیرت پر اعتماد کر کے اس قسم کے معاملات میں خود کوئی فیصلہ کر لیں اور اس پر عمل کر یں۔
اور دوسری صورت یہ ہے کہ اس قسم کے معاملات میں از خود کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے یہ دیکھیں کہ قر‏آن و سنت کے ان ارشادات سے ہمارے جلیل القدر اسلاف نے کیا سمجھا ہے؟ ‌چنانچہ قرون اولی کے جن بزرگوں کو عم علوم قر‏آن و سنت کا زیادہ ماہر پائیں ان کی فہم و بصیرت پر اعتماد کریں اور انھوں نے جو کچھ سمجھاہے اس کے مطابق عمل کریں۔

اگر انصاف اور حقیقت پسندی سے کام لیا جائے تو ہمارے خیال کے مطابق اس بات میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ ان دونوں صورتوں میں سے پہلی صورت خاصی خطرناک ہے اور دوسری صورت بہت محتاط، یہ صرف تواضع اور کسر نفسی ہی نہیں ایک نا قابل انکار حقیقت ہے کہ علم و فہم ذکاوت و حافظہ، دین و دیانت، تقوی اور پرہیز گاری ہر اعتبار سے ہم اس قدر تہی دست ہیں کہ قرون اولی کے علماء سے ہمیں کوئی نسبت نہیں پھر جس مبارک ماحول میں قر‏آن کریم نازل ہوا تھا قرون اولی کے علماء اس سے بھی قریب ہیں اور اس قرب کی بنا پر ان کے لئے قر‏آن وس سنت کی مراد کو سمجھنا زیادہ ‏آسان ہے اس کے بر خلاف ہم عہد رسالت کے اتنے عرصہ بعد پیا ہوئے ہیں کہ ہمارے لئے قر‏آن و حدیث کا مکمل پس منظر اس کے نزول کے ماحول اس زمانے کے طرز معاشرت اور طرز گفتگو کا ہو بہو اور بعینہ تصور بڑا مشکل ہے، حالانکہ کسی کی بات کو سمجھنے کے لئے ان تمام باتوں کی پوری وافقیت انتہائی ضروری ہے۔

ان تمام باتوں کا لحاظ کرتے ہوئے اگر ہم اپنی فہم پر اعتماد کرنے کے بجائے قر‏آن و سنت کے مختلف التعبیر پیچیدہ احکام میں اس مطلب کو اختیار کر لیں جو ہمارے اسلاف میں سے کسی عالم نے سمجھا ہے تو کہا جائے گا کہ ہم نے فلاں عالم کی تقلید کی ہے۔
یہ ہے تقلید کی حقیقت۔ اگر میں اپنے مافی الضمیر کو صحیح سمجھا سکا ہوں تو یہ بات ‏آپ پر واضح ہو گئی ہو گی کہ کسی امام یا مجتہد کی تقلید صرف اس موقع پر کی جاتی ہے۔
جہاں قر‏آن و سنت سے کسی حکم کے سمجھنے میں کوئی دشواری ہو۔ خواہ اس بناء پر کہ قر‏آن و سنت کی عبارت کے ایک سے زائد معنی نکل سکتے ہوں۔ خواہ اس بناء پر کہ اس میں کوئی اجمال ہو یا اس بناء پر کہ اس مسئلہ میں دلائل متعارض ہوں۔ ‌چنانچہ قر‏آن و سنت کے جو احکام قطعی ہیں یا جن میں کوئی اجمال و ابہام، تعارض یا اسی قسم کی کوئی الجھن نہیں ہے وہاں کسی امام و مجتہد کی تقلید کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مذکورہ بالا گزارشات سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ کسی امام یا مجتہد کی تقلید کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ اسے بذات خود واجب الاطاعت سمجھ کر اتباع کی جا رہی ہے۔ یااسے شارع ( شریعت بنانے والا، قانون ساز ) کا درجہ دیکر اس کی ہر بات کو واجب الاتباع سمجھا جا رہا ہے۔

بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ پیروی تو قر‏آن و سنت کی مقصود ہے، لیکن قر‏آن و سنت کی مراد کو سمجھنے کے لئے بحیثیت شارح قانون ان کی بیان کی ہوئی تشریح و تعبیر پر اعتماد کیا جا رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قر‏آن و سنت کے قطعی احکام میں کسی امام یا مجتہد کی تقلید ضروری نہیں سمجھی گئی۔ کیونکہ وہاں اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) کی اطاعت کا اصل مقصد اس کے بغیر باسانی حاصل ہو جاتا ہے۔۔ (از مولانا تقی عثمانی صاحب )
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے  
11 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-08-10), فیصل ناصر (03-08-10), منتظمین (03-08-10), محمدمبشرعلی (06-08-10), مرزا عامر (03-08-10), ابرارحسین (03-08-10), احمد بلال (03-08-10), بلال اویسی (03-08-10), راجہ اکرام (09-08-10), شاہ جی 90 (16-08-10), عبداللہ آدم (04-08-10)
پرانا 03-08-10, 01:33 AM   #8
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
تقلید کے بارے میں کچھ سوالات پیش ہیں
1 تقلید کیا ہے ؟
تقلید کہتے ہیں غیر مجتھد کی مجتھد کی پیروی کرنے کو ۔۔
یعنی منصوص اور غیر منصوص نصوصِ شرعیہ میں باہم تعارض کہ وقت یا وہ نصوص شرعیہ جو کہ ایک سے زائد معنٰی کا احتمال رکھتی ہوں اور ان میں سے کسی ایک معنٰی کی تعیین یا ترجیح کرنا ممکن نہ رہے تو ایسے میں ایک غیر مجتھد کے لیے کسی معین مجتھد کی پیروی کرنا لازم ہوجاتا ہے اور اسی کو تقلید کہتے ہیں نیز اسی طرح وہ مسائل کہ جن کے بارے میں کوئی صریح نص شرعی نہ ہو تو ایسے میں ان کے صحیح اور شرعی حکم کو قرآن وسنت کے عموم اور ادلہ اربعہ کے خصوص کی روشنی میں اخذ و استنباط شدہ فقہی ذخیرے کے تناظر میں جاننے اور ماننے کو بھی تقلید کہتے ہیں ۔ ۔ ۔۔



اقتباس:
2تقلید کتنی ضروری ہے ؟
دین میں تقلید کا ضروری ہونا ایک تو اجماع امت سے ثابت ہے یا پھر جو اجماع نہ مانے تو جمہور کے طرز عمل سے ثابت ہے اور دوسرا بدیہی طور پر بھی ثابت ہے کہ دین و دنیا کہ ہر ہر شعبے میں ہر ہر شخص کسی نہ کسی صائب الرائے صاحب کی اس مخصوص شعبے میں کہ جس کا وہ شخص ماسٹر ہے کی پیروی کرتا ہی ہے فرق فقط اتنا ہے کہ اکثر تقلید کرتے ہیں اور مانتے بھی ہیں کہ ہاں ہم تقلید کررہے ہیں جبکہ بعض تقلید تو کرتے ہیں مگر مانتے نہیں حالانکہ وہ اس وقت بھی حقیقت میں بدترین تقلید ہی کررہے ہوتے ہیں اپنے ان پرکھوں کی کہ جنھوں نے تقلید کی مخالفت کی ہوتی ہے ۔ ۔

اقتباس:
3 کیا تقلید کے بغیر دین مکمل نہیں ؟
دین اسلام ایک عالمگیر دین ہے اور اس کے اصول بھی عالمگیر ہیں جو کہ قیامت تک کہ تغیرات زمانہ کو محیط ہیں لہزا یہی وجہ ہے کہ دین تو کب کا مکمل ہوچکا اور دین کا یہ مکمل ہونا اپنے ماخذ اور اصول کے اعتبار سے تھا چونکہ دین اسلام ایک عالمگیر دین ہے اور یہ ہمیں اصل ماخذات یعنی قرآن و سنت کی صورت میں دو مستقل ماخذ دیتا ہے کہ جن میں تمام مسائل کا اصولی و تفصیلی حل موجود ہے جنکا تفصیلی حل موجود ہے ان سے تو بحث نہیں لیکن جن مسائل کا فقط اصولی حل اس قرآن و سنت میں ہے ان پر عمل پیرا ہونے کے لیے ہمیں اسی قرآن و سنت کے دو ذیلی ماخذات یعنی اجماع و قیاس کا سہارا لینا پڑتا ہے لہذا تقلید کو انہی دو ذیلی ماخذات کی صورت میں اصل ماخذ یعنی قرآن و سنت سے مستنبط کیا گیا ہے لہذا تقلید کا امت پر واجب ہونا دین میں ہرگز کوئی اضافہ نہیں بلکہ خود قرآن و سنت سے ہی اخذ شدہ مسئلہ ہونے کی حیثیت سے یہ دین کا ہی حصہ ہے کہ اس پر عمل در آمد کی صورت ہمارے لیے براہ راست قرآن و سنت کے وضع کردہ اصولوں (یعنی اجماع و قیاس) کی روشنی میں نکلی لہزا تقلید قرآن و سنت سے اصولی طور پر اور اجماع و قیاس سے تفصیلی طور پر مستنبط شدہ امر کا نام ہے ۔ ۔ ۔ ۔

اقتباس:
4 تقلید کس کی کریں
5 تقلید نا کریں تو کیا ہوگا ؟ ؟
کسی بھی ایک معین امام کی تاکہ ایک تو دین بازیچہ اطفال نہ بن جائے اور دوسرے اس میں یعنی دین میں اپنی ذاتی خواہش نفس کو کوئی تعلق نہ رہے کہ جب اپنا جی ایک طرف کو ہو تو ایک امام سے مسئلہ لے لیا جب خواہش نفس دوسری طرف کو ہوئی تو وہی مسئلہ دوسرے سے لے لیا اور نہ کرنے کا نقصان کیا ہوگا؟؟؟؟؟ یہ تو سب پر واضح ہے کہ ہر ایرہ غیرہ نتھو خیرہ دین کا ٹھیکے دار بن جائے گا اور یوں دین سے کھلواڑ کرتا پھرے گا اور یوں امت میں شدید انتشار کا خطرہ ہوگا نیز یوں دین بازیچہ اطفال اور خواہش نفس کی آماجگاہ بن کر رہ جائے گا وغیرہ وغیرہ ۔ ۔
نوٹ :- تقلید کبھی بھی جمود طاری نہیں کرتی اور نہ دین میں اجتھاد کی راہوں کو روکتی ہے بلکہ جو بھی دین میں تقلید کی سطح سے اوپر اٹھنا چاہے تو اس کے لیے دین کی راہیں کھلی ہے اپنی جدو جہد کو اس دین کے حصول میں آخری حدوں تک لگادئے اور س کے نتیجہ میں اگر وہ درجہ اجتھاد پر فائز ہوجائے تو پھر شوق سے تقلید نہ کرئے کہ تقلید اس منصب کے لیے نہ تو روا ہے اور نہ ہی اس منصب کے حصول کی راہ میں کسی کے پاؤں کی بیڑی ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے  
10 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
sahj (06-08-10), shafresha (03-08-10), فیصل ناصر (03-08-10), کنعان (03-08-10), نورالدین (04-08-10), مرزا عامر (03-08-10), احمد بلال (03-08-10), بلال اویسی (03-08-10), شمشاد احمد (07-08-10), شاہ جی 90 (16-08-10)
پرانا 03-08-10, 10:16 AM   #9
Senior Member
 
ابن آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,100
کمائي: 22,962
شکریہ: 3,391
830 مراسلہ میں 2,404 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
تقلید کے بارے میں کچھ سوالات پیش ہیں
1 تقلید کیا ہے ؟
2تقلید کتنی ضروری ہے ؟
3 کیا تقلید کے بغیر دین مکمل نہیں ؟
4 تقلید کس کی کریں ؟
5 تقلید نا کریں تو کیا ہوگا ؟




اس سلسلے میں دو نقطہ نظر کسی اور تھریڈ سے یہاں منتقل کررہا ہوں







ذاتیات سے بالا تر اور اچھی بحث کی توقع ہے
اسلام علیکم بھائی ایک سوال میری طرف سے بھی شامل کر لیں
کہ نظام تقلید رائج ہونے سے پہلے والے مسلمان جو کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے کیوں‌کہ اس وقت تقلید کا کوئی نظریہ سرے سے موجود ناں تھا ۔
ان کو کیسا مسلمان کہا جائے گا؟
__________________
صراط الھدیٰ فورم
www.siratulhuda.com
اردو یونیکوڈ تحریر میں بنیادی دینی ، اخلاقی و اصلاحی تعلیمات اور سائینس و انفارمیشن ٹکنالوجی کی نفع مند معلومات کی ترسیل کا مرکز
ابن آدم آف لائن ہے  
9 قاری/قارئین نے ابن آدم کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (03-08-10), نورالدین (04-08-10), محمد عاصم (03-08-10), مرزا عامر (03-08-10), احمد بلال (03-08-10), راجہ اکرام (09-08-10), شاہ جی 90 (16-08-10), عبداللہ آدم (04-08-10), عبداللہ حیدر (03-08-10)
پرانا 03-08-10, 08:18 PM   #10
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ابن ‏آدم بھائی


اگر ‏آپ تقلید کی حقیقت کو اس کے صحیح مفہوم میں سمجھیں تو ‏آپ کو اپنا سوال بے مقصد نظر ‏آئے گا۔۔۔۔ ۔یہ سوال اس وقت پیدا ہوا ہے جب تقلید کے ایک خود تراشیدہ مفہوم کو سامنے رکھا جائے۔۔۔۔۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
کنعان (04-08-10), آبی ٹوکول (03-08-10), احمد بلال (03-08-10), بلال اویسی (03-08-10)
پرانا 03-08-10, 11:59 PM   #11
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,638
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ابن آدم مراسلہ دیکھیں
اسلام علیکم بھائی ایک سوال میری طرف سے بھی شامل کر لیں
کہ نظام تقلید رائج ہونے سے پہلے والے مسلمان جو کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے کیوں‌کہ اس وقت تقلید کا کوئی نظریہ سرے سے موجود ناں تھا ۔
ان کو کیسا مسلمان کہا جائے گا؟
اتنا لازمی اور اہم سوال کو مولوی صاحب بے معنی کہہ رہے ہیں۔
دین ہم کو مکمل اور اکمل ملا اب اس میں نئے نئے اصول قرآن و سنت کی کس دلیل سے بنالیے گئے ہیں؟؟؟
ہم کو اللہ اور نبی علیہ السلام کا یہی حکم ملا ہے کہ قرآن و سنت کی پیروی کی جائے، اماموں کی پیروی کا حکم اگر کہیں ہے تو بتایا جائے تاکہ ہم سب کسی نہ کسی امام کی پیروی پھر ضرور کریں۔
کیا قرآن کی وضاحت نبی علیہ السلام نہیں کرکے گے تھے؟؟؟
اور قرآن و سنت پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عمل نہیں کیا تھا؟؟؟
اگر کیا تھا تو وہی معیار آج ہم اپنائیں گے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنایا تھا اگر نہیں تو کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے چارو امام کا رتبہ زیادہ ہے؟؟؟
اور کیا اللہ اور رسول علیہ السلام کا کوئی ایسا حکم ہے کہ نبی علیہ السلام بعد تم لوگ اماموں کی اتباع شروع کر دینا؟؟؟
اگر ایسا واضح حکم ہے اور پھر کوئی کسی امام کی اتباع نہیں کرتا تو واقع وہ بندہ جہالت یا گمراہی پر ہے۔
اور اگر ایسا حکم نہیں ہے تو آپ بھائی لوگ اس کو لازمی کیوں قرار دیتے ہو؟؟؟
اگر وجہ یہ ہے جو کہ پیش کی جاتی ہے کہ اس طرح ہر کوئی قرآن کی آیات یا احادیث کا غلط معنی لیتا پھیرے گا تو امت میں انتشار کا باعث ہوگا اس لیے کسی ایک امام کی پیروی یا تقلید لازم ہے۔ تو بھائی جان اگر ایسا ہی ہے تو مجھے آپ بھائی لوگ بتائیں کہ اس وقت ۵ امام ہیں جن کی اتباع و پیروی ہورہی ہے تو سب سے پہلے امت ۵ گروہوں میں تقسیم ہوئی، اور اس پر بس نہیں ہوا پھر ہر امام کے پیروکاروں میں بھی کئی کئی جماعتیں وجود میں آئیں اور آج حالت یہ ہے کہ اتنے زیادہ فرقے اور گروہ بن چکے ہیں کہ ان کو شمار کرنا بھی مشکل ہے۔
اگر پیش کردہ بات مان لی جائے تو پھر کیوں اتنے فرقے وجود میں آئے؟؟؟
اس کا جواب یہ نہ دیا جائے کہ اگر یہ ۵ فقہ نہ ہوتی تو کتنے فرقے بننے تھے، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ساری امت صرف قرآن و سنت پر ہی عمل کررہی ہوتی تو حالات آج کی بنسبت بہت اچھے ہوتے، کیسے وہ ایسے کہ جب بھی ہم میں کوئی اختلاف بن جاتا تو ہم نے رجوع ۵ فقہ کی طرف نہیں تھا کرنا کہ جہاں سب کا اس اختلاف پر مختلف موقف ہوتا بلکہ ہم نے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ علیہ السلام کی طرف رجوع کرنا تھا کہ جہاں ایک ہی موقف ملنا تھا اور اس طرح اس اختلاف کو ختم کیا جاسکتا تھا، اب ہوتا کیا ہے کہ اگر اختلاف بن جائے تو کہا جاتا ہے کہ میں تو فلاں فقہ کا ماننے والا ہوں لہذا میں تو وہی لوں گا جو ہمارے امام صاحب نے لیا ہے تو دوسرا کہتا کہ جی میں تو فلاں فقہ کا ماننے والا ہوں میں تو اپنے ہی امام کی بات مانوں گا اور یہ فرضی بات نہیں کررہا ایسا ہی ہورہا ہے۔
اس لیے بھائیو اور بہنوں ہم سب کے درمیان جو چیز مشترک ہے وہ صرف اور صرف قرآن اور نبی علیہ السلام کی احادیث مبارکہ ہیں اس لیے آ جاؤ ان کی طرف اگر آپس میں متحد ہونا چاہتے ہو۔

اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اوراپنے میں سے (اہلِ حق) صاحبانِ اَمر کی، پھر اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو تو اسے (حتمی فیصلہ کے لئے) اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم):::قرآن و سنت::: کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، (تو) یہی (تمہارے حق میں) بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔
النساء :۵۹
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے  
9 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
sahj (06-08-10), shafresha (04-08-10), فیصل ناصر (04-08-10), نورالدین (04-08-10), مرزا عامر (04-08-10), ابن آدم (04-08-10), احمد بلال (04-08-10), راجہ اکرام (09-08-10), غلام خان (02-09-10)
پرانا 04-08-10, 12:06 AM   #12
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم:

ابی بھائی سے گزارش ہے کہ مشکل اصطلاحات کو آسان الفاظ میں پیش کیا کریں تاکہ سب کو آسانی سے سمجھ اجائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ میرا مشورہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آگے اپ کی مرضی۔

والسلام
عبداللہ آدم آن لائن ہے  
9 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
sahj (06-08-10), shafresha (04-08-10), فیصل ناصر (04-08-10), نورالدین (04-08-10), محمدخلیل (04-08-10), مرزا عامر (04-08-10), ابن آدم (04-08-10), احمد بلال (05-08-10), راجہ اکرام (09-08-10)
پرانا 04-08-10, 12:14 AM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,909
شکریہ: 10,606
1,222 مراسلہ میں 3,228 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کسی بھی فقہ کا امام جب کسی مسلئے کا حل بتاتا ہے تو کیا ان میں سے ہر امام قرآن و سنت سے حل نہیں بتا رہا ہوتا؟؟
اگر قرآن و سنت سے بتا رہے ہوتے ہیں تو "اختلاف " کیسے پیدا ہو گیا؟حلانکہ سارے امام ماشاءاللہ دین کا کافی علم رکھنے والے تھے۔
احمد بلال آف لائن ہے  
7 قاری/قارئین نے احمد بلال کا شکریہ ادا کیا
sahj (06-08-10), فیصل ناصر (04-08-10), کنعان (04-08-10), نورالدین (04-08-10), محمد عاصم (04-08-10), مرزا عامر (04-08-10), عبداللہ آدم (05-08-10)
پرانا 04-08-10, 06:06 PM   #14
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,726
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : احمد بلال مراسلہ دیکھیں
کسی بھی فقہ کا امام جب کسی مسلئے کا حل بتاتا ہے تو کیا ان میں سے ہر امام قرآن و سنت سے حل نہیں بتا رہا ہوتا؟؟

اگر قرآن و سنت سے بتا رہے ہوتے ہیں تو "اختلاف " کیسے پیدا ہو گیا؟

حلانکہ سارے امام ماشاءاللہ دین کا کافی علم رکھنے والے تھے۔
السلام علیکم

جزاک اللہ خیر

جس طرح ایک انسان کی شکل دوسرے انسان کی شکل سے نہیں ملتی اسی طرح ایک انسان کا دماغ دوسرے انسان سے نہیں ملتا۔

ہر فقہ کے امام صاحب ہر مسائل کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں ہی بتاتے ہیں اس سے باہر نہیں۔ آپ کسی بھی مسئلہ و موضوع پر دھاگے/ مراسلات کو کھول کے دیکھ لیں دونوں، تینوں، چاروں طرفین سے آپ کو جتنی بھی کنورسیشن ملے گی سب حریف نے قرآن و سنت سے ہی دلائل پیش کئے ہونگے۔

قرآن و حدیث کسی گروپ کی پرسنل پراپرٹی نہیں ھے کہ جو وہ کہہ رہا ھے وہی سچ ھے، اور وہی اکیلا مسلمان ھے باقی نہیں تو اس کے دماغی حالت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ھے کہ کیسی ھے کیونکہ پڑھا لکھا اور ان پڑھ دونوں برابر نہیں ہیں۔

کوئی بھی ایک مسئلہ لے لیں مسئلہ کا ذکر میں نہیں کرتا تاکہ بات سمٹی رہے، کسی بھی ایک مسئلہ پر 4 امام/ علماء ڈبیٹ کرتے ہیں چاروں اپنے اپنے دلائل قرآن و سنت کی روشنی میں‌ پیش کرتے ہیں۔ چاروں کے دیکھنے اور سوچنے کا ڈھنگ الگ الگ ھے۔ کسی بھی ایک مسئلے پر چاروں آپس میں اتفاق نہ کرتے ہوئے کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ پاتے، ایسٹیمیٹڈ 100 بندے ان کی ڈبیٹ سن رہے ہیں۔ خیال رہے کہ چاروں امام نے مسئلہ پر قرآن اور حدیث سے دلائل پیش کئے ہیں، اور 100 بندے جنہوں نے یہ مناظرہ دیکھا یہ سب ان چاروں اماموں کے کسی مسئلہ پر اتفاق نہ ہونے پر کنفیوز نہیں ہونگے بلکہ ہر بندے کی عقل اس کی تعلیم اور تجربہ کے مطابق کسی ایک امام کی بات پر ضرور اتفاق کرے گی چاروں پر نہیں۔

اختلافات خود پیدا کئے ہوئے ہیں، بندہ کا کام ھے قرآن و سنت کی روشنی میں کسی مسئلہ کا حل بتاتا ہوں اب کوئی دوسرا اسے قرآن و سنت کی روشنی میں مجھ سے بہتر اس مسئلہ کا حل بتا سکتا ھے مگر یہ سمجھنے والے پر منحصر ھے کہ اسے کس سے کہی ہوئی بات اچھی لگتی ھے۔

باقی پھر کبھی

والسلام
کنعان آن لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (04-08-10), فاروق سرورخان (19-08-10), نورالدین (04-08-10), مرزا عامر (04-08-10), احمد بلال (05-08-10), بلال اویسی (04-08-10)
پرانا 04-08-10, 10:51 PM   #15
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم:

ابی بھائی سے گزارش ہے کہ مشکل اصطلاحات کو آسان الفاظ میں پیش کیا کریں تاکہ سب کو آسانی سے سمجھ اجائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ میرا مشورہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آگے اپ کی مرضی۔

والسلام
اسلام علیکم بھائی آپ کو ہمارے پیش کردہ مراسلہ میں جن جن امور کی سمجھ نہیں آئی انکی نشاندہی فرمادیجئے تو ہم ان امور کو مزید آسان کرکے پیش کردیں گے والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے  
آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا گیا
احمد بلال (05-08-10)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
color, ہے۔, کس, گئی, قرآن, نظر, مکمل, موقع, مقصد, منتقل, آج, اللہ, انسان, بہترین, تعلیم, جرم, حل, خود, دنیا, زندگی, عقل, علم, عالم, غلطی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:10 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger