واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


توہین رسالت ناقابل معافی ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-01-11, 03:43 AM   #1
توہین رسالت ناقابل معافی ہے
غیاث غیاث آف لائن ہے 10-01-11, 03:43 AM

السلام علیکم
قانونی طور پر گستاخی رسول ناقابل ضمانت،ناقابل راضی نامہ اور ناقابل معافی جرم ہے۔ پاکستانی قانون میں بھی اس جرم کی معافی کا حق صدر تک کو بھی نہیں۔ یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے جو اس قانون کو دشمنوں کی نظروں میں متنازعہ بناتاہے۔ جسکی ہر ایک کو تکلیف ہے۔ یہ کام بھی اللہ تعالی نے اپنے ایک بندہ خاص کے ذریعے لیا ہے جسکا نام ابھی تک اس فورم پر نہیں لیا گیا ۔
جس شخصیت نے اسپر مرکزی دلائل دیئے تھے اسکا نام ڈاکٹر محمد طاہر القادری ہے۔ جو اس بات کی تصدیق کرنا چاہے وہ وفاقی شرعی عدالت سے جاکے کرسکتا ہے۔

نیزاس دور کے کسی بھی اخبار سے بھی یہ بات مل سکتی ہے۔

غیاث
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 215
شکریہ: 203
179 مراسلہ میں 518 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 325
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے غیاث کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-01-11), ھارون اعظم (10-01-11), نورالدین (10-01-11), آبی ٹوکول (10-01-11), ارشد کمبوہ (10-01-11), شمشاد احمد (14-01-11)
پرانا 10-01-11, 01:16 PM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,787
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی کیا آپ شئیر کرسکتے ہیں؟؟؟؟
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
ارشد کمبوہ (10-01-11)
پرانا 10-01-11, 02:43 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
جس شخصیت نے اسپر مرکزی دلائل دیئے تھے اسکا نام ڈاکٹر محمد طاہر القادری ہے۔

وعلیکم السلام
میں اس بارے میں ڈاکٹر صاحب کے خیالات مزید جاننا چاہوں گا ۔
اگر کوئی ویڈیو ہے تو برائے مہربانی اسے یونی کوڈ میں لکھ کر شیئر کردیں ۔
کیوں کہ ویڈیو دیکھنے کی نسبت یونی کوڈ کو پڑھنا تیز تر کام ہے ۔
وقت کی بچت بھی ہوگی اور تحریری ثبوت بھی مل جائے گا کہ ڈاکٹر صاحب نے اس بارے میں کیا کیا بیانات دیے ۔


شکریہ
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا
ارشد کمبوہ (10-01-11)
پرانا 10-01-11, 04:13 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 215
کمائي: 4,134
شکریہ: 203
179 مراسلہ میں 518 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس موضوع پر انکی کتاب "تحفظ ناموس رسالت" موجود ہے۔ مگر آن لائن نہیں۔

نیز اس لنک سے آپ انکا خطاب سن سکتے ہیں۔



اس موضوع پر انہوں نے قرآن مجید کی سورہ احزاب کی آیت نمبر 61 سے دلیل پکڑی ۔

60. لَئِن لَّمْ يَنتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًاO
60. اگر منافق لوگ اور وہ لوگ جن کے دلوں میں (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بُغض اور گستاخی کی) بیماری ہے، اور (اسی طرح) مدینہ میں جھوٹی افواہیں پھیلانے والے لوگ (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایذاء رسانی سے) باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان پر ضرور مسلّط کر دیں گے پھر وہ مدینہ میں آپ کے پڑوس میں نہ ٹھہر سکیں گے مگر تھوڑے (دن)o
60. If the hypocrites and those in whose hearts is the disease (of malice and insolence against the Holy Prophet [blessings and peace be upon him]) and (likewise) those who spread false rumours in Madina do not desist, then We shall certainly make you overmaster them. Then they will not be able to stay in the neighbourhood of Madina but for a few (days).

61. مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًاO
61. (یہ) لعنت کئے ہوئے لوگ جہاں کہیں پائے جائیں، پکڑ لئے جائیں اور چُن چُن کر بری طرح قتل کر دیئے جائیںo
61. (These) accursed people (who spread false rumours, promote hatred, strife and terrorism and denigrate the Holy Messenger and his family), wherever found, are to be seized and mercilessly killed by way of target killing.
62. سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًاO
62. اللہ کی (یہی) سنّت اُن لوگوں میں (بھی جاری رہی) ہے جو پہلے گزر چکے ہیں، اور آپ اللہ کے دستور میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پائیں گےo
62. This practice of Allah has (continued) through generations that have passed before, and you will never find any amendment in the way practised by Allah.


اس کے علاوہ انہوں نےحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ایک منافق کو قتل کرنے پر آیت قرآنی کا نازل ہونا جسمیں انہیں خون بہا سے نجات دی گئی ۔ میرے پاس کتاب بھی موجود نہیں مگر کل میں نے اسکا مطالعہ کیا تھا۔
گھر میں موجود ہے مگر لاہور میں میرے پاس نہیں۔

اگر کسی کے پاس ہو تو اسکو سکین کرکے لگا دیں۔
کا خالصہ یہ ہے
غیاث آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے غیاث کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (11-01-11), ھارون اعظم (10-01-11), نورالدین (10-01-11), ارشد کمبوہ (10-01-11), عبداللہ آدم (10-01-11)
پرانا 10-01-11, 06:15 PM   #5
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام علیکم محترم غیاث بھائی !
یہ سچ ہے کے محترم جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیت سپریم کورٹ کی رٹ پیٹیشن پر عدالت میں معاونت کے لیے ڈاکٹر طاہر القادری صاحب جو اپنے منطقی زور استدلال سے کسی بھی مسئلہ کو مبرھن کرنے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں پیش ہوئے مگر ان کے ساتھ دیگر تمام مکاتب فکر نے بھی اس مسئلہ میں نمایاں خدمات انجام دیں جن میں جماعت اہل حدیث کہ جناب حافظ صلاح الدین صاحب کا نام قابل زکر ہے اور انکے علاوہ محمد اسماعیل قریشی صاحب نے اپنی کتاب میں جن نمایاں ناموں کا ذکر کیا ہے وہ درج زیل ہیں ۔
مفتی غلام سرور قادری
مولانا محمد عبد الفلاح
مولانا فضل ہادی
مولانا سبحان محمود
مولانا سعید الدین شیر کوٹی
مولانا سید محمد متین ہاشمی
اور جناب سید ریاض الحسن نوری

اب آخر میں ہم آپکی آسانی کے لیے محترم جناب محمد اسماعیل قریشی کی کتاب "ناموس رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قانون توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم " سے محترم جناب طاہر القادری صاحب کے دلائل کے متعلق چند اقتباسات نقل کریں گے ۔

محترم محمد اسماعیل قریشی رقمطراز ہیں کہ ۔ ۔
۔
پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری پاکستان اور بیرون پاکستان کی ایک معروف علمی اور دینی شخصیت ہیں فیڈرل شریعت کورٹ میں صاحب موصوف نے صدر اور حکومت پاکستان کہ خلاف توہین رسالت کی سزا کے بارے میں ہماری شریعت پیٹیشن اور اس میں اٹھائے گئے نکات کی اور ہماری آئینی اور قانونی بحث کی نہ صرف مکمل تائید اور حمایت کی بلکہ اپنے منطقی زور استدلال سے عدالت کی بھی بھرپور قوت کے ساتھ معاونت کی مگر راقم الحروف اور معاونین علمائے عدالت کا پروفیسر صاحب موصوف سے جرم توہین رسالت کے سلسلہ میں صرف "نیت" اور "ارادے" (intention and motive) کے مسئلہ پر دیانت درانہ اور تحقیقی اختلاف رہا ہے ۔
(یاد رہے اسماعیل قریشی صاحب نے اس اختلاف کی تفصیلات ذکر نہیں کیں مگر عرض کہ جناب محترم ڈاکٹر طاہر القادری صاحب اس مسئلہ میں مجرم کی نیت کو جانچنے کے قائل نہیں جبکہ اسماعیل قریشی کا مؤقف اس کے خلاف ہے۔ آبی ٹوکول)
اب زیل میں ڈاکٹر صاحب کے دلائل مختصرا پیش کیے جاتے ہیں ۔ ۔


کیا شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توبہ قبول ہے ۔
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسئلہ توبہ
:
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ کا وجود اس لائق نہیں کہ وہ زمین پر موجود رہے بلکہ اس فی الفور واصل جہنم کرنا ضروری ہوتا ہے ۔
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا عمل اس پر شاہد و عادل ہے کہ انھوں نے جب دیکھا کہ اس شخص کو محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ منظور نہیں تو انھوں نے اسے توبہ کرنے کے لیے نہیں کہا بلکہ فی الفور اندر سے تلوار لاکر اس کا سر تن سے جدا کردیا ۔اور اس پر اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نہیں کہا کہ اسے توبہ کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے تھا بلکہ ان کے فیصلے کی تحسین فرماتے ہوئے تاقیامت امت مسلمہ کو سنت فاروقی پر عمل کرنے کا حکم دیا بلکہ اسے علامت ایمان قرار دیا۔
( اس بارے میں یہی دلائل امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے مضمون میں تفصیل کہ ساتھ آچکے ہیں۔اس لیے انکا یہان اعادہ نہیں کیا گیا از مصنف )
عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچانے کہ بعد جب تائب ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو علم ہونے کہ باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ملاقات نہ فرمائی بلکہ تاخیر فرمائی تاکہ کوئی مسلمان اسے قتل کردے ۔

شیخ ابن تیمیہ
اس روایت کو نقل کرنے کہ بعد لکھتے ہیں کہ ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل اس بارے میں نص ہے کہ اسکی توبہ قبول نہیں ہوئی ۔

اگر اسے فی الفور قتل نہ کیا جاسکے اور وہ توبہ کرلے تو اس کی توبہ پر توجہ نہیں دی جائے گی بلکہ اس پر حد جاری ہوگی کہ جس طرح دیگر جرائم میں ہوتا ہے ۔ اس سلسلے میں فقہاء اسلام کی تصریحات ملاحظہ ہوں۔

فقہاء اسلام کی تصریحات :

(فقہاء اسلام کی تصریحات میں امام شامی ،امام ابن ھمام کی ان آراء کا یہاں تزکرہ نہیں کیا جائے گا کہ جن کا حوالہ علامہ احمد سعید کاظمی کے مضمون میں ہوچکا ان کے علاوہ فتاوی جات درج زیل ہیں۔ از مصنف کتاب )

امام صدر شہید حنفی کا فتوٰی بھی ہے ۔

ہم اس کی توبہ اور اسلام لانے کو قبول نہیں کریں گے بلکہ اسے قتل کردیں گے ۔
" اسکی توبہ نہ اللہ کے ہاں مقبول ہے اور نہ لوگوں کہ ہاں اور اسکا حکم سوائے قتل کے کچھ نہیں۔ اس پر تمام متاخرین علماء کا اجماع ہے ۔اور یہی رائے اکثر متقدمین کی ہے ۔(خلاصۃ الفتاوٰی 386:4)

گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم دیگر مرتدین سے الگ ہے :
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم گستاخی کی وجہ سے مرتد ہوجاتا ہے مگر چونکہ اس کا جرم دیگر جرائم سے بڑھ کر ہے کیونکہ اس نے اس ہستی کی عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالا جو اس کائنات میں سب سے بڑھ کر ہے ۔لہذا یہ جرم دیگر مرتدین کے جرم سے زیادہ سنگین تر ہے ۔یہی وجہ ہے کہ دیگر مرتدین پر اسلام پیش کیا جائے گا اور اگر وہ اسے قبول کرلیں تو انھے چھوڑ دیا جائے گا مگر گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اسلام نہیں پیش کیا جائے گا ۔
یہ معاملہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی تعطیم و توقیر سے متعلق ہے اور غیرت الٰہیہ کا تقاضا اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایسا ہی ہے۔
امام بن نجیم حنفی : رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے والے شخص کو مرتد قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ دیگر مرتدین سے اس کا حکم جدا ہے کیونکہ دیگر مرتدین کی توبہ قبول کی جائے گی مگر گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توبہ قابل قبول نہیں۔

" ہر ارتداد برابر ہوتا ہے اگر مرتد اسلام کی طرف راغب ہوجائے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا مگر اس سے کچھ مسائل مستثنٰی ہیں ان میں پہلا یہ ہے کہ جو گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو اسے نہیں چھورا جائے گا اور اسکی توبہ نہیں قبول کی جائے گی " ۔ (بحرالرائق 135:5)

امام شامی اسیے شخص کے جرم کو دیگر مرتدین کہ جرم سے زیادہ سنگین تر قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

" شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارتداد دوسرے ارتداد کی طرح نہیں ہے کیونکہ دیگر ارتداد انفرادی عمل ہوتے ہیں اور اس میں کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا اس لیے اسکی توبہ قابل قبول ہوتی ہے مگر شاتم اگر توبہ کرلے تو بھی صحیح مذہب کے مطابق اسے حدا قتل ہی کیا جائے گا۔ " ۔(تنقیح حامدیہ 157)

امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں :
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سب وشتم کرنا اسلام سے اعراض (ارتداد) کی بنسبت بدرجہ ہا بدتر ہے (الصارم المسلول 892)

گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم زندیق ہے اس کا عمل قابل معافی نہیں ۔
امام خیر الدین رملی حنفی فتاوٰی بزازیہ میں رقمطراز ہیں ۔
شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بہر طور حدا قتل کرنا ضروری ہے ۔اس کی توبہ بالکل قبول نہیں کی جائے گی خواہ یہ توبہ گرفت کے بعد ہو یا پھر وہ اپنے طور پر تائب ہوجائے کیونکہ ایسا شخص زندیق کی طرح ہوتا ہے جسکی توبہ قابل توجہ ہی نہیں اور یہ بات ذہن نشین رہے کہ اس میں کسی مسلمان کے اختلاف کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اس جرم کا تعلق حقوق العباد سے ہے یہ صرف توبہ سے ساقط نہیں ہوسکتا جس طرح دیگر حقوق چوری اور زنا وغیرہ توبہ سے ساقط نہیں ہوتے اور جس طرح حد تہمت توبہ سے ساقط نہیں ہوتی یہی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ،امام اعطم ،اہل کوفہ اور امام مالک کا مذہب ہے ۔(تنبیہ الولاۃ والحکام 32

علماء اور عدالتوں پر لازم ہے کی وہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے پیش نظر ایسے شخص کے قتل کا حکم جاری کریں۔

امام محمد بن عبداللہ صاحب تنویر الابصار عدم قبول توبہ کے بارے میں فرماتے ہیں ۔

میری رائے کہ مطابق یہی قول قوی ہے کہ جو شخص صاحب شرع کو برا کہتا ہے اسکی توبہ قبول نہیں کی جائے گی ۔فتاوٰی اور قضاء کی صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کے پیش نظر علماء اور عدالت پر لازم ہے کہ وہ اس کے قتل کا حکم دیں ۔

پھر ڈاکٹر طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں کہ آیا :

کوئی عدالت یا حکومت اس سزا کو معاف نہیں کرسکتی ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
آخری بات یہ ہے کہ کیا کوئی عدالت یا حکومت اس کو معاف کرسکتی ہے ؟
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قتل بطور حد لازم ہے اور حد کوئی ساقط نہیں کرستا حد کی تعریف ہی یہ ہے کہ اس میں انسان کوئی تغیر و تبدل نہیں کرسکتا بلکہ یہ اللہ پاک کی طرف سے مقرر ہوتی ہے اور عدالت اور حکومت پر اسکا اجراء لازم ہوتا ہے جبکہ اس کو ساقط کرنا کسی کہ اختیار میں نہیں ۔
یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اسے کوئی معاف نہین کرسکتا جس طرح دیگر افراد کے حقوق وہی معاف کرسکتے ہیں ۔

امام خیر الدین اسی امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے رقمطراز ہیں :
شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قتل بطور حد لازم ہے جو توبہ سے ساقط نہیں ہوسکتا اور اس بارے میں کسی مسلمان کہ اختلاف کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ ایسا حق ہے جس کہ ساتھ عبد خاص ( حضور صلی اللہ علیہ وسلم) کا حق متعلق ہے اس لیے فقط توبہ سے ساقط نہیں ہوگا جیسے دوسرے لوگوں کہ ہر قسم کے حقوق کے لیے خود حق دار کا معاف کرنا ضروری ضروری ہے۔
(تنبیہ الولاۃولحکام )

جب چوری ،زنا اور شراب جیسے جرائم پر لاگو حد کوئی عدالت اور حکومت منسوخ نہیں کرسکتی اور نہ ہی اس کا ارتکاب کرنے والون کو معاف کرسکتی ہے تو پھر اتنے عظیم جرم کی سزا کو کیسے معاف کیا جاسکتا ہے ۔

قارئین کرام یہ تھا محمد اسماعیل قریشی کی کتاب "ناموس رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قانون توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم " میں سے ڈاکٹر طاہر القادری کہ فیڈرل شریعت کورٹ میں بیان کیے گئے دلائل کا مختصر بیان جس کسی کو تفصیل درکار ہو تو وہ محترم جناب ڈاکٹر طاہر القادری کی کتاب" تحفظ ناموس رسالت " کا مطالعہ فرمائے نیز آپ سب کی معلومات کہ لیے عرض کردوں کہ جناب محترم ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی فقط اس ایک مسئلہ میں امت اور دین اسلام کے لیے عدالتی خدمات نہیں ہیں بلکہ شادی شدہ زانی کی اسلامی سزا رجم کے سلسہ میں 14 گھنٹوں سے زائد دورانیہ کے عدالتی دلائل اور مسئلہ ختم نبوت کے سلسلہ میں قادیانیوں کہ دائر کردہ مقدمہ میں انکے خلاف اس مؤقف کہ قادیانی اسلامی شعار کا استعمال نہیں کرسکتے پر بھرپور دلائل بھی موجود ہیں کہ اس مقدمہ میں عدالت کی کاروائی فقط ڈاکٹر صاحب کی کینڈا یا غالبا ناروے سے تشریف آوری میں تاخیر کی وجہ سے معطل رہی تھی اور جب جناب پاکستان پہنچے تو اپنی منطقی قوت استدلال سے مسلمانوں کو ایک ہارا ہوا مقدمہ جتوایا موصوف چونکہ خود بھی ماہر قانون دان تھے کہ موصوف کی پی ایچ ڈی ہی اسلامی سزاؤں اور انکی تشریحات کہ موضوع پر ہے نیز موصوف ایک ماہر وکیل اور ایک ماہر استاد بھی رہے ہیں کہ ان سے لاء کالج میں پڑھ کر آج یقینا کئی وکلاء ججز کی کرسیون پر براجمان ہونگے ۔



جزاکم اللہ خیرا ۔ ۔ ۔ ۔ والسلام





ِ
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا

Last edited by آبی ٹوکول; 10-01-11 at 06:27 PM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (11-01-11), پاکستانی (11-01-11), ھارون اعظم (10-01-11), نورالدین (11-01-11), منتظمین (10-01-11), ارشد کمبوہ (10-01-11), شمشاد احمد (14-01-11), عبداللہ آدم (10-01-11), غیاث (10-01-11)
پرانا 10-01-11, 06:22 PM   #6
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچانے کہ بعد جب تائب ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو علم ہونے کہ باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ملاقات نہ فرمائی بلکہ تاخیر فرمائی تاکہ کوئی مسلمان اسے قتل کردے ۔
میرے لیے یہ نئی معلومات ہیں۔۔۔ اس پر مزید تفصیل اگر بیان کریں تو سب کے لیے فائدہ ہوگا۔

دوسرا میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے شاتم کے لیے قتل کا فتوئ کس نے جاری کیا۔

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ارشد کمبوہ (10-01-11), شمشاد احمد (14-01-11)
پرانا 10-01-11, 07:02 PM   #7
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,486
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں :
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سب وشتم کرنا اسلام سے اعراض (ارتداد) کی بنسبت بدرجہ ہا بدتر ہے (الصارم المسلول 892)
السلام علیکم،
قانون توہین رسالت پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب "الصارم المسئول علی شاتم الرسول" ایک بہترین کتاب ہے۔المکتبۃ الوقفیہ پر تین جلدوں میں موجود ہے۔ اس ربط سے اتاریں:
http://www.waqfeya.com/book.php?bid=649
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (10-01-11), آبی ٹوکول (10-01-11), شمشاد احمد (14-01-11), عبداللہ آدم (10-01-11)
پرانا 10-01-11, 08:57 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاتمَ رسولْ کے بارے میں چند اہم نکات
1۔سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اجازت نہیں دی کہ وہ حضور رسالت ماب کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرنے والے کو معافی عطا فرمائیں،یہی وجہ ہے کہ فتح مکہ کے موقعے پر جب آپ نے تمام اہالیان مکہ کو’’لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ‘‘کہہ کرعمومی معافی عطا فرما دی تھی،لیکن رسالت پناہ نے گستاخِ رسول کے بارے میں ارشاد فرمایا اسے قتل کرڈالو اگرچہ وہ خانہ کعبہ کے غلاف سے چمٹا ہوا ہو۔یہ غور کامقام ہے کہ عین حرم شریف میں قتل کردینے کا حکم دیا گیا جب کہ کعبۃ اللہ شریف کے بارے میں ارشاد خدا وندی ہے جو شخص اس میں داخل ہوا وہ امن والا ہے۔(سورہ آل عمران ۔97) ہر شخص خانہ کعبہ میں داخل ہوتے ہی امن و سلامتی پالیتا ہے،اگر کوئی حرم شریف میں اپنے باپ کے قاتل کو دیکھ لے تو اس کو بھی یہ حق نہیں کہ حرم شریف میں اسے تکلیف پہنچائے لیکن جن افراد نے بارگاہِ نبوت میں گستاخی کی زمین کا کوئی خطہ ایسےمجرموں کی پناہ گاہ نہیں بن سکتا۔یہاں تک کہ اگر وہ حرم کعبہ میں غلاف کعبہ سے چمٹے ہوئے ہوں تب بھی اُنہیں پناہ نہیں ملے گی۔ ان گستاخوں کا انجام صرف یہ ہے کہ انہیں قتل کردیا جائے۔ ان بدنصیبوں میں عبدالعزیٰ بن خطل سچ مچ کعبہ کے پردوں میں چھپ گیا تھا ،حضرت سعید بن حریث مخزومی رضی اللہ عنہ نے اسےقتل کیا۔ حویرث بن نقید اور حارث بن ہشام ان دونوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہٗ نے قتل کیا۔ مقیس بن صبابہ کونُمَیْلَہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا ، ابن خطل کی باندی ’’قریبہ‘‘ کو بھی قتل کیا گیا۔
2 مشہورشاتم رسول کعب بن اشرف یہودی کے قتل کے لیے رسول اللہ علیہ وسلم نے خود صحابہ کو حکم دیا اوراس کے پیچھے بھیجا۔کعب بن اشرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے ساتھ بے انتہا دشمنی اور عداوت رکھتا تھا۔ اس ملعون شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر وہ تکلیف دی جو وہ دے سکتا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن اشرف کی شرارتوں سے تنگ آکر فرمایا: کعب بن اشرف کو کون ٹھکانے لگائے گا ؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) کو بہت تکلیف دی ہے۔آقائے نامدار صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ آرزو دیکھ کر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بولے: کیا آپ پسند فرمائیں گے کہ میں اسے قتل کردوں ؟
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےاجازت دی۔محمد بن مسلمہ دربار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت پاکرسیدھے کعب بن اشرف کے پاس پہنچے اور انتہائی موثر چال چلتے ہوئےاپنے ساتھیوں کی مدد سے اسےقتل کردیا۔(بخاری شریف)
3 .ایک نابینا صحابی نے( دو بیٹوں کی ماں) اپنی بیوی کو شان ِ رسالت میں گستاخی کرنے پرقتل کر دیا،یہ کام (حضورؐ کی) عدالت میں جانے سے پہلے ہی کر دیامگرحضورؐ نے اس فعل کی توثیق فرمائی۔حضرت عمرؓ نے حضورؐ کے فیصلے پر عدم اطمینان کرنے والے منافق کی گردن اڑا دی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فیصلے کی بھی تائید فرمائی۔ اسی لیے فقہاء کہتے ہیں کہ اگر کوئی مسلمان رسول اکرم ؐ کی توہین کرنے والے شخص کو عدالت کے فیصلے کے بغیر بھی قتل کردے گا تو اس کا خون مباح ہو گا۔ یعنی قتل کرنے والے کو سزا نہیں ملے گی۔

Last edited by عبدالہادی احمد; 10-01-11 at 09:10 PM.
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (10-01-11), عبداللہ آدم (10-01-11), غیاث (10-01-11)
پرانا 11-01-11, 03:23 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 215
کمائي: 4,134
شکریہ: 203
179 مراسلہ میں 518 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اسلام علیکم محترم غیاث بھائی !
یہ سچ ہے کے محترم جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیت سپریم کورٹ کی رٹ پیٹیشن پر عدالت میں معاونت کے لیے ڈاکٹر طاہر القادری صاحب جو اپنے منطقی زور استدلال سے کسی بھی مسئلہ کو مبرھن کرنے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں پیش ہوئے مگر ان کے ساتھ دیگر تمام مکاتب فکر نے بھی اس مسئلہ میں نمایاں خدمات انجام دیں جن میں جماعت اہل حدیث کہ جناب حافظ صلاح الدین صاحب کا نام قابل زکر ہے اور انکے علاوہ محمد اسماعیل قریشی صاحب نے اپنی کتاب میں جن نمایاں ناموں کا ذکر کیا ہے وہ درج زیل ہیں ۔
مفتی غلام سرور قادری
مولانا محمد عبد الفلاح
مولانا فضل ہادی
مولانا سبحان محمود
مولانا سعید الدین شیر کوٹی
مولانا سید محمد متین ہاشمی
اور جناب سید ریاض الحسن نوری

عابد عنایت بھائی بہت شکریہ ۔ میں نے اپنی طرف سے یہ بالکل بھی نہیں کہا تھا نہ ہی میرا یہ مؤقف ہے کہ اس میں سارے دلائل صرف ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب نے دئے تھے۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی قانون کسی فرد واحد کیوجہ سے نہیں بن سکتا ۔ نہ کسی فرد واحد کیلیے مہذب معاشروں میں قانون سازی کی جاتی ہے۔

اس فورم پر ایک جگہ چند نام پڑھے تھے جنمیں یہ نام شامل نہ تھا لہذا اپنی معلومات کیمطابق یہاں ذکر کر دیا۔
باقی لوگوں کا مجھے علم نہیں تھا وہ آپکے ذریعے پتہ چل گئے۔
غیاث آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے غیاث کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (11-01-11), شمشاد احمد (14-01-11)
پرانا 11-01-11, 10:31 PM   #10
Senior Member
 
مسافر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Lahore, Pakistan
مراسلات: 2,069
کمائي: 34,309
شکریہ: 1,693
1,085 مراسلہ میں 2,456 بارشکریہ ادا کیا گیا
مسافر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اے اللہ ! جس جس نے میرے آقا کی ناموس و عزت کی حفاظت کی ۔ اس کے داراجات کو بلند فرمائیں
مسافر آف لائن ہے   Reply With Quote
مسافر کا شکریہ ادا کیا گیا
شمشاد احمد (14-01-11)
پرانا 14-01-11, 08:52 PM   #11
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام علیکم ! مسئلہ توہین رسالت پر محترم انصار عباسی کا صاحب کا کالم پیش خدمت ہے ۔ ۔ ۔

مسئلہ توہین رسالت... کس سے منصفی چاہیں… انصار عباسی


گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کو پاکستان میں موجود ایک مغرب زدہ سیکولر طبقہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کررہا ہے تاکہ قانون ناموس رسالت کو ختم کیا جاسکے۔ ایک انگریزی اخبارنے تو اس قانون کو ہی سلمان تاثیر کے قتل کا ذمّہ دار ٹھہرا دیا۔ موم بتیاں جلا کر مقتول کو خراج تحسین پیش کرنے والے روشن خیالی کے عَلم بردار قانون ناموس رسالت کو انسانوں کا بنایا ہوا قانون کہہ کرجھٹلانے کی کوشش میں ہیں جیسا کہ وہ دوسرے اسلامی قوانین اوردینی شعائر پر مکمل عمل پیرا ہوں۔ قارئین کی رہنمائی کے لیے اس قانون کی شرعی حیثیت کے متعلق محترم علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے اپنے خیالات کا اظہار اس طرح کیا:
" توہین رسالت کی سزا پاکستان کے قانون کے مطابق قتل ہے۔کیا یہ سزا قرآن و سنّت سے ثابت ہے؟ اس حوالے سے ایک نئی بحث اس وقت سامنے آئی جب آسیہ نامی عورت کو ڈسٹرکٹ کورٹ ننکانہ نے توہین رسالت کے جرم میں مجرم قرار دیا۔ اس واقعہ کے کافی عرصے کے بعد پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر ڈسٹرکٹ جیل ننکانہ میں گئے جہاں انہوں نے آسیہ سے ملاقات کی اور ملاقات کے بعد عدالتی فیصلے کو غلط قرار دیا اور قانون توہین رسالت کو کالا قانون قرار دیا۔انہوں نے آسیہ کی معافی کی اپیل کو صدر پاکستان تک پہنچانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔بعض علماء نے رسول ﷺکو رحمة اللعالمین قرار دے کر عام معافی کے فلسفے کو پروموٹ کرنے کی کوشش بھی کی اور دانستہ یا نادانستہ گورنر کی رائے کو بھی تقویت دینے کی کوشش کی۔
رسول ﷺکی عزّت و ناموس مسلمانوں کیلئے دنیا کے تمام رشتوں اور مال و متاع سے زیادہ اہم ہونی چاہئے اور قرآن مجید نے رسولﷺ کی مخالفت کرنے والے شخص کی بہت شدید انداز میں مذمّت کی ہے۔سورة مجادلہ کی آیت نمبر20 میں اللہ نے فرمایا ہے۔ترجمہ”یقیناً جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہی ذلیل ترین لوگ ہیں“۔
اسی طرح اللہ نے سورة کوثر کی آخری آیت میں ارشاد فرمایا ہے۔ترجمہ”یقیناً تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے“۔
جہاں تک تعلق ہے توہین رسالت کی سزا کا تو میں سب سے پہلے اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مسئلہ اجتہادی نوعیت کا نہیں بلکہ قرآن و سنّت کی نصوص سے ثابت یا واضح ہے۔قرآن کی متعدد آیات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضورﷺکے گستاخ کی سزاقتل ہے۔اس سلسلے میں سب سے پہلے میں سورة فرقان کی ان تین آیات کو پیش کرنا چاہتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ آیات27 تا29 میں ارشاد فرماتے ہیں۔ترجمہ”جس دن ظالم اپنے ہاتھ کو کاٹے گا اور کہے گا،اے کاش میں نے رسولﷺکے ساتھ راستہ پکڑ لیاہوتا۔ ہے ہائے میری شامت،کاش میں فلاں کو دوست نہ بناتا۔البتہ اس نے مجھے نصیحت سے بہکایا،اس کے بعد جبکہ وہ میرے پاس پہنچ گئی اور شیطان انسان کو (عین وقت پر) تنہا چھوڑ جانے والا ہے“۔
تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہ،تفسیر جلالین،تفسیر ابن کثیر کے مطابق یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب ابی بن خلف کے اکسانے پر عقبہ بن ابی معیط نے رسول ﷺ کی شان میں کستاخی کی تھی اور نبیﷺنے اس کو تنبیہ کی کہ اگر تو مکہ کے باہر مجھے ملا تو میں تجھے قتل کروں گا۔رسولﷺ نے بدر کی جنگ کے موقع پر اس کو گرفتاری کی حالت میں قتل کیا تھا۔اسی طرح اللہ نے قرآن مجید میں اپنے اور اپنے رسولﷺ سے جنگ کرنے والوں اور زمین پر فساد پھیلانے والوں کی سزا سورة مائدہ کی آیت نمبر33 میں بتلائی ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔ترجمہ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ سے جنگ کرتے ہیں اور زمین پر فساد پھیلاتے ہیں ان کی سزا صرف یہ ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا سولی چڑھائے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیئے جائیں یا ان کو ملک سے باہر نکال دیا جائے، یہی ان کے لئے دنیا کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔"
اس آیت مبارکہ میں فسادی کی سزا واضح طور پر قتل بتلائی گئی ہے۔عرف عام میں فسادی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو خاندانوں اور برادریوں کے مابین الٹی سیدھی باتیں پھیلا کر اشتعال پیدا کرتا ہے جس سے نفرتیں اور کدورتیں پیدا ہوتی ہیں اور بات دشمنی تک جا پہنچتی ہے۔اس شخص سے بڑھ کر فسادی کون ہو سکتا ہے جو رسولﷺکے بارے الٹی سیدھی باتیں کر کے مسلمانوں کو طیش دلاتا ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ بعض نام نہاد دانش ور زنا،ڈکیتی اور قتل کرنے والے کو فساد فی الارض کا مرتکب قرار دیتے ہیں لیکن مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے اور ان کے عقیدے کی بنیاد پر حملہ کرنے والے کو فسادی ماننے کے لئے تیار نہیں۔یقیناً توہین رسالت کا جرم ہر اعتبار سے قتل اور ڈکیتی سے زیادہ سنگین ہے۔
اسی طرح سورة توبہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے دین میں طعن کرنے والے شخص کے بارے میں کہا ہے کہ ایسا شخص اپنے عہد کو توڑنے کا مرتکب ہوتا ہے، یعنی مسلم ریاست کا غیر مسلم ریاست یا اپنی ریاست میں رہنے والی اقلیتوں سے جو امن کا معاہدہ ہوتا ہے، وہ دین میں طعن کرنے کی وجہ سے ٹوٹ جاتا ہے اور دین میں طعنہ دینے کی کوئی قسم بھی توہین رسالت سے بڑی نہیں ہو سکتی اور ایسا طعن کرنے والے کی سزا بھی اللہ نے قتل ہی تجویز کی ہے۔
اللہ تعالیٰ سورة توبہ کی آیت نمبر12 میں ارشاد فرماتے ہیں۔ترجمہ”اور اگر اپنے عہد کے بعد وہ اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں عیب لگائیں تو کفر کے عَلم برداروں کو قتل کرو۔یقیناً ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں شاید کہ وہ باز آجائیں“۔ یہ اور واضح دلیل ہے کہ دین میں طعن کرنے والا بندہ قتل کی سزا کا مستحق ہوتا ہے اور اگر وہ قسمیں بھی اٹھائے تو اس کی قسم کو نہیں مانا جا سکتا۔
یہ تو قرآن مجید کے بعض مقامات ہیں جن سے رسولﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی سزا ثابت ہوتی ہے۔جہاں تک تعلق ہے رسولﷺ کے اپنے عمل یا اپنے دور کا تو بہت سے مصدقہ واقعات سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے کی سزا موت ہے۔ بخاری شریف میں اس سلسلے میں دو احادیث وارد ہوئی ہیں۔
پہلی حدیث میں کعب بن اشرف کے قتل کا ذکر ہے۔کعب بن اشرف رسولﷺ کی شان میں گستاخی کرتا تھا۔محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے حکم اور آپ کی رضامندی کے ساتھ اس کو قتل کر دیا،جب محمد بن مسلمہ یہ کام کرکے پلٹے تو رسولﷺ نے ارشاد فرمایا تھا ”وہ چہرے کامیاب ہوئے جنہوں نے یہ کام کیا اور جواب میں جناب محمد بن مسلمہ نے عرض کیا اور آپ کا چہرہ بھی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم(کامیاب ہوا)“۔
دوسری حدیث میں ابو رافع یہودی کا ذکر ہے۔ یہ بدگو یہودی حضورﷺ کی شان میں گستاخیاں کرتا تھا۔رسولﷺ نے اس کی سرکوبی پر عبداللہ ابن عتیق کو مامور کیا تھا۔عبداللہ ابن عتیق اس کو قتل کرنے کے لئے اس قلعہ میں داخل ہوئے، جہاں وہ مقیم تھا۔اس قلعہ میں وہ اپنی دانست میں مکمل طور پر محفوظ تھا لیکن شمع رسالت کے پروانے نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر اسے جہنّم واصل کیا۔واپس آتے ہوئے تیزرفتاری میں اندازے کی غلطی کی وجہ سے آپ سیڑھی سے نیچے گرے اور آپ کی پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔رسول ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو نبیﷺ نے آپ کی ہڈی پر ہاتھ پھیرا تو وہ اس طرح ہو گئی جیسے کبھی ٹوٹی ہی نہیں تھی۔
سنن ابوداؤد اور نسائی شریف میں ایک نابینا صحابی کا واقعہ موجود ہے جنہوں نے اپنے دو بیٹوں کی ماں اور خدمت گزار لونڈی کو صرف توہین رسالت کے جرم کی پاداش میں قتل کر دیا تھا۔نابینا صحابی اس کو تنبیہ کرتے رہے جب وہ باز نہ آئی تو انہوں نے گھریلو سطح پر کی جانے والی گستاخی کو بھی برداشت نہ کیا اور اس کا پیٹ چاک کر دیا۔معاملہ جب نبیﷺ کی بارگاہ میں پیش ہوا تو آپﷺ نے کہا گواہ رہو اس خون کا کوئی تاوان اور بدلہ نہیں ہے۔
اسی طرح ایک اور ملعونہ اسماء بنت مروان کو عمیر ابن عدی نے توہین رسالت کے جرم میں قتل کیا تھا۔
فتح مکہ کے روز جبکہ رسولﷺ عفو ودرگزر کے مقام بلند پر فائز تھے اور ہر کسی کو معاف کر رہے تھے، آپﷺ نے توہین آمیز شاعری لکھنے کی پاداش میں عبداللہ بن خطل اور اس کی غلیظ شاعری کو پڑھنے والی اس کی لونڈیوں کے قتل کا حکم جاری کیا۔عبداللہ بن خطل کو اس حالت میں قتل کیا گیا کہ وہ حرم شریف میں پناہ گزین تھا۔
یہیں ایک اور سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ کیا توبہ سے توہین کا جرم معاف ہو سکتا ہے؟یقیناً سچی توبہ انسان کے اُخروی فائدہ کا سبب بن سکتی ہے لیکن دیگر جرائم کی طرح جب معاملہ عدالتی یا عوامی سطح پر آجائے گا تو دنیا میں اس کو اس جرم کی سزا سہنا ہی پڑے گی، جس طرح سچی یا جھوٹی توبہ سے زنا،قذف،چوری،شراب اور قتل کی سزا معاف نہیں ہو سکتی تو ان سے کہیں زیادہ سنگین جرم کی سزا فقط توبہ سے کس طرح معاف ہو سکتی ہے؟"
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا گیا
شمشاد احمد (14-01-11)
جواب

Tags
فورم, ہے۔, پاکستانی, لیا, ناقابل, نامہ, مل, محمد, مرکزی, اپنے, اللہ, السلام, ابھی, اخبار, بڑا, تعالی, جرم, خاص, دور, دلائل, رسول, سکتی, طور, عدالت, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جعلی پیر کا خاتون پر تشدد،کپڑے پھاڑ دیے‘متاثرہ خاتون کا خود سوزی کا اعلان ابن جلال خبریں 21 06-06-11 08:45 PM
جن باٹوں سے تول كر دوگے، تمہيں بھی تو اُن ہی باٹوں سے تول كر ملے گا ناں! ابو عمار گپ شپ 3 13-01-11 08:31 AM
wajee ذیلی ناظم کی ملک توڑنے کی بات "ہندوستان کو توڑ دیا یہ کیا چیز ہے" اویسی تھانہ 27 23-04-10 04:41 PM
پشتونستان سے خیبر پختونخواہ تک ھارون اعظم سیاست 15 12-04-10 01:34 PM
تعلق توڑتا ہوں تو مکمل توڑ دیتا ہوں The Great شعر و شاعری 0 26-08-09 11:20 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:11 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger