اسلام علیکم معزز قارئین کرام !
پاک نیٹ پر شروع کردہ اس گرما گرم موضوع یعنی قانون توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت نیٹ گردی کرتے ہوئے محترم جناب محمد اسماعیل قریشی کا یہ مضمون نظر سے گذرا سوچا آپ سب کے ساتھ بھی شئر کروں ۔ لیکن اس سے پہلے یہ عرض کردوں کہ یہ محترم جناب محمد اسماعیل قریشی ہی کہ مساعی جمیلہ ہیں کہ جن کی بدولت سے آج پاکستان کے تعزیراتی قانون میں قانون توہین رسالت کی سزا کو بطور حد سزائے موت مقرر کیا گیا لہذا آپ سے سے میری دلی استدعا ہے کہ اس موضوع پر انکی معرکۃ آلارہ تصنیف
" ناموس رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قانون توہین رسالت "
(قرآن و سنت ،تاریخ ،قانون،اور عدالتی فیصلوں کے آئینے میں )
ضرور مطالعہ فرمائیں خاص کرکے وہ احباب کہ جنکو اس قانون پر کچھ عقلی شبہات ہیں ۔ ۔۔ والسلام
توہین رسالت کے نئے مفہوم (محمداسماعیل قریشی)
[یہ مضمون ان اسلامیان پاکستان خواتین وحضرات کی توجہ کا متقاضی ہے جو توہین رسالت کے قانون کی مخالفت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اب توہین رسالت کے کیس میں ننکانہ صاحب کے نواحی گاﺅں کی خاتون آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف بطور فیشن احتجاج کرتے ہوئے اس کی آڑ میں توہین رسالت کے قانون کو ختم کرانے کے در پے ہیں۔ ماڈریٹ کہلانے والے ان خواتین و حضرات کو کیا امریکہ، برطانیہ سے قانونِ توہین مسیح کو ختم کرنے یا اس میں ہلکی سی ترمیم کا تقاضہ کرنے کی جرات بھی ہوسکتی ہے۔]
........٭٭٭........
ایاز امیر صاحب کے کالم بعنوان توہین رسالت کے قوانین کیوں دکھائی نہیں دیتے میں بعض امور توجہ طلب ہیں جس کیلئے اس قانون کے مختصر پس منظر کا ذکرضروری ہے۔ امتناع توہین رسالت کے قانون کے نفاذ کیلئے سال 1984ء میں راقم الحروف نے فیڈرل شریعت کورٹ میں اس وقت پٹیشن دائر کی تھی جب یورپ اور خاص طور پر ماسکو سے اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف گستاخانہ اوردل آزار حملوں کی یلغار ہورہی تھی جس کے لٹریچر کو آفاقی اشتمالیت کے نام سے ایک انتہا پسند کمیونسٹ نے کتابی شکل میں شائع کیا اور اس کو ہائی کورٹ بار اور دوسرے اداروں میں مفت تقسیم کرتا جا رہا تھا اس کتاب میں بتلایا گیا تھا کہ اسلام کا دور ختم ہو چکا ہے اور پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ اور نہایت نازیبا کلمات استعمال کئے گئے تھے۔
اس کتاب کی اشاعت سے قبل راقم کا ایک این جی او کے خلاف قانون توہین رسالت کا ایک مقدمہ فیڈرل کورٹ میں زیر سماعت تھا جس میں ملک کے چوٹی کے علما اور مسلمان دانشوروں کو طلب کیا گیا تھا جن کی متفقہ رائے تھی کہ توہین انبیاءاسلام کے علاوہ مسیحی اور موسوی قانون کی رو سے بھی ناقابل معافی جرم ہے۔ بائبل کی رو سے اس جرم کی سزا سنگسار یا زندہ جلادینے کی تھی جس کے مطابق گستاخانِ مسیح کو یہ سزا دی جاتی رہی ہے اسلام کی رو سے اس جرم کی سزا قتل مقرر ہے۔ اس بارے میں راقم کی پٹیشن فیڈرل شریعت کورٹ نے منظور کرلی تھی اور توہین رسالت کو ناقابل معافی جرم قرار دیتے ہوئے اس کی سزا قرآن وسنت کی رو سے سزائے موت مقررکردی گئی۔( ملاحظہ ہو فیصلہ بمقدمہ محمد اسماعیل قریشی بنام جنرل محمد ضیاءالحق وحکومت پاکستان PLD 1991 FSC 10 )اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائرکردی گئی جب اس اپیل دائر کردی گئی جب اس اپیل کی اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو اطلاع ملی تو انہوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا قانون توہین رسالت کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کسی اہلکار کی شرارت معلوم ہوتی ہے اگر توہین رسالت کی سزا موت سے بھی زیادہ سنگین ہوتی تو اس پر بھی عمل درآمد کیا جاتا۔
میاں صاحب نے فوری طور پر سرکاری وکیل کو حکم دیا کہ توہین رسالت کے مقدمہ کے فیصلہ سزائے موت کے خلاف اپیل واپس لی جائے جس کوبوجہ دستبرداری سپریم کورٹ نے خارج کردیا۔ جناب ایاز امیر میاں محمد نواز شریف کے ہم نشینوں میں ہیں اور ان ہی کی حمایت سے قومی اسمبلی میں پہنچے ہیں لیکن ان کے توہین رسالت کے خلاف مضمون پرمیاں صاحب کے حوالہ سے فارسی کی یہ مثل صادق آتی ہے ”من چہ می گویم وطنبورہ من چہ می سرائید۔“
صاحب موصوف کو قانون توہین رسالت کے خلاف اپنے مضمون توہین رسالت کے قانون کیوں دکھائی نہیں دیتے جس میںوہ لکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخی یا اہانت توہین رسالت نہیں۔ جس کسی کو قانون کی مروجہ اصطلاحات کا علم نہ ہو وہ بزعم خود قانون رسالت کے خود ساختہ معانی ومفہوم کو پیش کرنے کی جسارت کرے اس پر ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہیے۔ قانون کی تعبیر اورتشریح ماہرین قانون اور عدلیہ کا کام ہے اگر ہر کس وناکس یہ کام اپنے ہاتھ میں لے لے تو قانون بازیچہ اطفال ہوجائے گا جو ملک اورقوم کو تباہی کے کنارے پہنچادے گا۔
ایاز امیر صاحب کے بیان کئے ہوئے توہین رسالت کے مفہوم سے نہ تو واضعان قانون کو تخلیقی آگہی ہے اور نہ اعلیٰ عدلیہ اور سپریم کورٹ کے جج جن کی ساری عمر قانون کی تعبیر اور تشریح کرتے ہوئے گزری ہے ۔ اپنے حضرت ایاز امیر کی اس تحقیق انیق سے آشنا معلوم ہوتے ہیں توہین رسالت کے وضعی مفہوم کو بیان کرتے ہوئے ایاز امیر صاحب نے اپنے اس مضمون میں جس کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا ہے اصل توہین مذہب (رسالت) تو یہ ہے کہ ایک بچہ بھوک سے بلک رہا ہو یا کوئی بچہ پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے بھیک مانگنے پر مجبور ہو یا ایک عورت تنگ دستی کی وجہ سے بچوںسمیت دریا میں چھلانگ لگادے ....معلوم نہیں ان کاموںکا بالواسطہ یا بلاواسطہ توہین رسالت سے کیا تعلق ہے ؟ موصوف کا یہ کوئی معروضی جائزہ نہیں۔ صرف الفاظی جمع خرچ یا مولویانہ وعظ وتلقین کی ایک ماڈرن قسم ہے۔ کوئی ان سے پوچھے حضرت آپ نے اس سلسلہ میں کوئی اقدام بھی کیا ہے جیسا کہ بنگلہ دیش کے غازمین (خستہ حال) بینک کے ڈائریکٹر نے سرمایہ کاروں سے رقم لے کر تنگ دست خواتین کو ایک ایک ہزارقرض حسنہ ایک سال کے لئے دیا ان کی ضرورت کے مطابق سلائی یا کڑھائی کی مشین فراہم کی جس کی آمدن سے وہ اپنا گزارہ بھی کرتی رہیں اور قرض کی رقم بھی واپس کردی جس سے وہاں افلاس بڑی حد دور ہوگیا ہے آپ کے بھی ملک کے سرمایہ کاروں سے تعلقات ہیں آپ کو اس کارخیرسے کس نے روکا ہے....؟
آگے چل کر ارشاد ہوتا ہے (غضب ہے کہ) ہمارے لئے ایمان آئین سے کہیں بڑھ کر ہے بجافرمایا۔سیکولر ریاست میں ایمان کی کہاںگنجائش ہوسکتی ہے اسی نظریہ کے تسلسل میں یہ بھی لکھا ہے ”ہم نے اس خود ساختہ نعرے کو سینہ سے لگا رکھا ہے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے“ ساتھ ہی اس خود فریبی کا شکار ہیں کہ پاکستان ایک خاص مقصد کے لئے تخلیق کیا گیا تھا کہ خدائی مشن کی تکمیل ہوسکے۔ ایک طرف بظاہر سنجیدہ اورمعقول دکھائی دینے والے آرمی چیف جنرل کیانی نے بھی ایک موقع پر اعلان کیا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے مگر کسی ایک ملک نے کبھی عیسائیت کو اپنے ملک کا قلعہ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ دوسری طرف لاتعداد فرقوں کے ملاوﺅں کی بریگیڈ بار بار اسلام کے دفاع کے نام پر سڑکوں پر آجاتی ہے چیختی ہے چلاتی ہے اور بآواز بلند امریکہ کے خلاف نعرہ بازی کرتی ہے یہ سب موصوف کی نظر میں احمقانہ حرکت ہے اس لئے اس سے گریز کرنا پڑے گا اس لئے وہ قوم کو مشورہ دیتے ہیں کہ ہمیں اپنی کمزوریوں کے باعث امریکہ کی خواہش کے مطابق اپریشن کرنا ہی پڑتا ہے یعنی ہماری فوج کی اپنی کوئی حکمت عملی نہیں اورنہ ہی کوئی اپنی پالیسی ہے اس کو بھی ایا زامیر صاحب کی طرح امریکہ کے آگے جھکنا پڑتا ہے اس جھکنے کے خلاف ہرکاروائی کا تعلق توہین رسالت سے ہے اس لئے اس قانون کو منسوخ کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔
موصوف کا یہ بیان کہ کسی ایک ملک نے کبھی عیسائیت کو اپنے ملک کے قلعہ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ اس بارے میں جہاںتک لفظی دعویٰ کا تعلق ہے وہ درست ہے۔ ایاز امیر صاحب اور ان کی فیملی یقینا برطانیہ میں قیام پذیر رہی ہے ....افسوس کہ انہوں نے امریکہ اوربرطانیہ کا اندورن جھانک کرنہیں دیکھا جوعیسائیت کا قلعہ نہیں بلکہ مضبوط ترین قلعہ ہیں ....سیکولرازم کالیبل برائے نام لگا ہوا ہے مجھے بھی برطانیہ اور امریکہ میں کافی عرصہ قیام کا موقع ملا ہے میرے برادر عزیزسلیم قریشی بارایٹ لا برٹش نیشنل ہیں کورٹ کی اسپیشل اجازت ملنے پر میں اسلامی مقدمات میں پیش بھی ہوا ہوں۔ میں اسلامی ممالک کی لندن کانفرنس میں پریسڈیم کا ممبر بھی رہا ہوں کسی ملک کا قانون اور وہاں کی عدالتوں کے فیصلے اس ملک کی اصلی صورت کے آئینہ دار ہوتے ہیں برطانیہ میں عیسائیت کے بعد مسلمانوںکی اکثریت ہے۔
وہاں کے مسلمانوں نے سلمان رشدی کی شیطانی آیات Satanic versesکے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت کو درخواست دی کہ قانون توہین مسیح میں معمولی سی ترمیم کرکے تمام انبیا کے خلاف گستاخی کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے لیکن وہاں کے وزیرقانون مسٹرجان پیٹس نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے تحریری طور پر بتلایا کہ حکومت برطانیہ قانون توہین مسیح میں کسی قسم کی ترمیم کو جائز قرار نہیں دیتی۔ وہاںکی سب سے بڑی آخری عدالت ہاﺅس آف لارڈز نے اس بارے میں فیصلہ دیتے ہوئے حکومت برطانیہ کے موقف کو درست قرار دیا اورساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ برٹش لاء مذہب پر جارحانہ حملہ کوجائز قرار دیتا ہے مزید براں یہ ریمارکس بھی دئیے ہیں کہ اگر حکومت برطانیہ توہین مسیح میں اسلام کے قانون توہین رسالت کی کوئی کلاز شامل بھی کردے تو برطانیہ کی اعلیٰ عدلیہ اس قانون کو یہاں لاگو کرنے سے گریز کرے گی۔ اس فیصلہ کے خلاف یورپ کی ہیومن رائٹس کورٹ نے مسلمانوں کی نگرانی خارج کردی۔
برطانیہ میں توہین مسیح تو بڑی بات ہے وہاں حکومت نے جناب مسیح کی ایک عقیدت مندنن ٹریسا کے بارے میں سٹرونگروکی فلم کو ضبط کرلیا جس میںٹریساکو حالت وجد میں رقص کرتے ہوئے جناب مسیح کے جسم کے مختلف حصوں کو بو سے لیتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
فلم کی اس ضبطی کے خلاف برطانیہ اور یورپ کی اعلیٰ عدلیہ نے بھی سماعت سے انکار کردیا اب ذراایک جھلک امریکہ کی سپریم کورٹ کے موکس کیس کی بھی دیکھ لیجئے۔ جہاںیہ قرار دیا گیا کہ امریکی ریاست سیکولر ہونے کے باوجود عیسائی مذہب کی بنیاد پرقائم ہے کیونکہ وہاں صدر اراکین کانگریس عدالتوںکے جج انتظامیہ کے تمام افسر اوراہل کار بائبل پرحلف اٹھاتے اورعیسائی خدا کومانتے ہیں اس لئے یہاں کسی کوعیسائی مذہب کے کسی قانون کے خلاف پبلک میں تقریر کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ان تمام باتوں کو کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود ایاز امیر صاحب کو امریکہ میں یا یورپ کے کسی ملک میں عیسائیت کا قلعہ نظر نہیں آتا۔
اسلام کی تاریخ کو حضرت ایاز امیرنے اچھی طرح سے کھنگالا ہے اوراس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اسلام ہندوستان میں گزشتہ 800 سالوں سے موجودہے اسے کبھی کسی خطرے کا سامنا نہیں رہا۔ راقم اوربرصغیر ہندکے مسلمانوں کے خیال میں اگر اسلام یا مسلمانوں کو ہندوستان میں صدیوں سے کوئی خطرہ ہی نہیں تھاتوپھرکیوں علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح نے علیحدہ قومیت کا نعرہ بلندکیا اورہندوستان سے علیحدہ مملکت قائم کرنے کیلئے اپنی زندگی کھپا دی۔ اورپھر کس لئے ہندوستان کے لاکھوں مسلمانوںنے بے مثال قربانیاں دے کرپاکستان حاصل کیا۔میرے خیال میں اس کا جواب ایاز امیر اور اس جیسے سینکڑوں لادین لوگوں کے پاس قطعاً نہیں ہوگا۔
قائداعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض علی شاہ نے قائداعظم کے آخری کلمات کیا تھے کے بارے میں اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں ایک باردوا کے اثرات کودیکھنے کیلئے ہم انکے پاس بیٹھے تھے میں نے دیکھا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں لیکن ہم نے بات چیت سے منع کررکھا تھا اس لئے الفاظ لبوں پر آکر رک جاتے ہیں اسی ذہنی کشمکش سے نجات دلانے کیلئے ہم نے خود انہیں دعوت دی تو وہ بولے۔ تم جانتے ہو جب مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان بن چکاہے تو میری روح کو کس قدر اطمینان ہوتا ہے۔ یہ مشکل کام اورتمام امورمیں اکیلا میں کبھی نہ کرسکتا تھا۔
یہ رسول ؐ خدا کا روحانی فیض ہے کہ پاکستان وجود میں آیا۔ اب یہ پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اسے خلافت راشدہؓ کا نمونہ بنائیں تاکہ خدا اپناوعدہ پورا کرے اور مسلمانوں کو زمین کی بادشاہت دے لیکن ایاز امیر صاحب ترکی کی مثال دیتے ہیں کہ بدلتے ہوئے حالات میں ڈھال لینے کی وجہ سے وہ ایک کامیاب ملک بن گیا ہے صاحب موصوف کو کون بتلائے کہ جناب والا ترکی نے اتاترک کے یورپ کی کورا نہ تقلید کو ترک کرکے اسکی بجائے اسلام کی طرف مراجعت کی ہے جس کی وجہ سے وہاں کے عوام کی بھاری اکثریت سے طیب اردگان کی اسلام پسند جماعت برسر اقتدار آئی ہے۔
ایاز امیر صاحب نے اپنے قارئین کو یہ نہیں بتلایا کہ توہین رسالت کا قانون پاکستان کی ترقی میں کس طرح رکاوٹ یا مزاحم ہے پاکستان تو ہندوستان سے علیحدہ اس لئے ہوا کہ یہاںمحمد عربی ﷺ کا نظام حکمرانی قائم ہو۔ قائداعظم کے آخری الفاظ جو انہوں نے اپنے انتقال سے قبل اپنے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض علی شاہ کو بتلائے تھے جسے روزنامہ جنگ نے اپنی 11ستمبر 1988ء کی اشاعت میں شائع کیا‘ وہی پاکستان کی جدوجہد اور تشکیل کا سنگ میل ہے اسکی روئیداد ہم نے اوپر بیان کردی ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قائداعظم اس نوزائیدہ مملکت میں کس طرح خدائی مشن کیلئے کام کررہے تھے ایاز امیر صاحب قائداعظم کے ان الفاظ پر غور فرمائیں کہ وہ قوم کو یہ بتلا رہے ہیں کہ پاکستان ایک خاص مقصد کیلئے تخلیق کیا گیا تاکہ خدائی مشن کی تکمیل ہوسکے اورخدا اپنا وعدہ پورا کرے۔
ایاز امیر صاحب کا پاکستان کی تشکیل میں نہ کوئی حصہ ہے نہ وہ اس کے بنیادی مقاصد کی اہمیت سے واقف ہیں۔ قائداعظم پاکستان کی تشکیل کو رسول خداؐ کا روحانی فیض قرار دے رہے ہیں کیا موصوف کو یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ ملک عزیزمحمدعربیﷺ کی ذات گرامی کی بدولت وجود میںآیا‘ اگر ان کے نام گرامی کو نکال دیا جائے تو پھر ہندوستان سے اختلاف کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔آج اس نام نامی کو پاکستان سے معاذاللہ ہٹا دیجئے پھر دیکھئے ہندوستان بھی آپکوگلے لگائے گا۔
امریکہ اوریورپ کی اشیرباد بھی آپکو حاصل ہوجائیگی مگراسکے بعد پاکستان کے وجود اور بقاء کی وجہ Reason ofExistance ہی باقی نہیں رہے گی اس لئے ان کا نام نامی اسکی بقاء اور اسکی سالمیت کی ضمانت ہے‘ اگر اس نام کی عزت اور حرمت اس ملک میں بھی باقی نہ رہے تو اسلام اورمسلمانوں کے دشمنوں کو ساری دنیا میں کھل کھیلنے کا موقع مل جائیگا۔ اس مقدس نام کی توہین کو دنیا میںکسی مسلمان نے جہاں کہیں بھی ہو یورپ، امریکہ افریقہ میں کسی جگہ بھی برداشت کیا تقسیم ہند سے قبل جب غازی علم الدین شہید نے ایک گستاخ رسول پبلشرراج پال کو قتل کردیا تو اس پرعلامہ اقبال جنہوںنے پاکستان کا بلو پرنٹ تیار کیا تھا بے ساختہ فرمایا ترکھاناں دا منڈابازی لے گیا۔ علم الدین اورایک گستاخ رسول کے قاتل غازی عبدالقیوم جن کو گستاخان رسول کے قتل میں کراچی کی عدالت سے سزائے موت ہوئی تھی تو علامہ اقبال نے اپنی مایہ ناز تصنیف ضرب کلیم میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے۔
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدروقیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر
راج پال قتل کیس میں قائداعظم نے لاہورہائی کورٹ میں علم الدین کی طرف سے اسکے مقدمہ کی پیروی کی تھی قائداعظم کا اصول تھا کہ وہ کسی غلط مقدمہ کو لینے سے انکار کردیتے تھے لیکن ہمارے ترقی پسند دانشور ایاز امیر صاحب نے توہین رسالت کو جرم تسلیم کرنے سے ہی انکار کردیا ہے اس طرح وہ قرآن وسنت کے احکام کو چودہ سوسال سے امت مسلمہ کے اجماع تواترکو اسلامی ملکوں اورخاص طور سے پاکستان سپریم کورٹ فیڈرل شریعت کورٹ کے متفقہ فیصلوںکو نہیںمانتے۔ موصوف کا علم ودانش برطانیہ اوریورپ کی لکڑیوں کے سہارے چلنے کی کوشش کرتا ہے جس کے بارے میں مولانا روم نے فرمایا ہے کہ کارچوبیں بے تمکین بود ۔ موصوف یورپ اور امریکہ کی ریاستوں اور حکومتوں کو اس لئے پسند کرتے ہیں کہ وہ سیکولر یا لادین ہیں۔ اورعیسائیت کا قلعہ نہیں۔
معلوم ہوتا ہے کہ موصوف نے ان ملکوں کے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کو پڑھنے کی کبھی زحمت گوارا نہیںکی۔ ان سیکولر ملکوں میں توہین مسیحؑ کا قانون موجود ہے جس میں وہ کسی قسم کی ترمیم کرنے کیلئے تیارنہیں۔ ’’گے نیوز‘‘ کے ایڈیٹر لے مون نے جناب مسیحؑ کی مجردزندگی کے بارے میںایک مزاحیہ نظم شائع کی تھی جس پر برطانیہ کی ابتدائی عدالت نے اسے توہین مسیح کے جرم میں سزا دی۔ اسکی اپیل ہاؤس آف لارڈز نے خارج کردی اس نے یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس میں نگرانی دائرکی لیکن اس کو بھی اس بنا پر مسترد کردیا گیا کہ اس نظم سے عیسائی فرقہ کی دل آزاری ہوتی ہے جسے برداشت نہیںکیا جاسکتا البتہ اسلام کیخلاف کوئی بات کی جاتی ہے تو برٹش لاز کی رو سے وہ کوئی جرم نہیں لیکن اسی ہاؤس آف لارڈز کے جج لارڈ اسکارمن جن کو مشرق اورمغرب کے جمہوری ملکوںمیں اور روس میں بھی ترقی پسند لبرل جج شمار کیا جاتا ہے.
اپنے ایک معرکتہ الآرا فیصلہ میں قانون توہین مسیحؑ کو برطانیہ کی سالمیت کیلئے ایک ناگزیر جمہوری ضرورت قرار دیاہے اورکہا ہے کہ اس قانون کو دوسرے مذاہب کی توہین تک بھی وسیع کیا جانا چاہیے تاکہ انکے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں لیکن یہاں اپنے حضرت میاں امیر چاہتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مسلمان انکی طرح توہین رسالت کو نظراندازکردیں اوران کی نظرمیں اس قانون کو یہاں برقرار رکھنے کاکوئی جواز نہیں۔ اس ملک کو اسلام کا قلعہ کہنا بھی حماقت ہے کیونکہ یہ ملک کسی خاص مقصد یا مشن کیلئے نہیں تخلیق کیا گیا تھا مگرموصوف نے یہ نہیں بتلایا کہ اس ملک کو ہندوستان سے علیحدہ کرنے کیلئے اتنی جان کا ہی قربانیوں اور جدوجہد کی ضرورت کیا تھی اور اب صاحب موصوف کے پیش نظر کیا مشن ہے جس کی روسے وہ قانون توہین رسالت کو منسوخ کرنے کیلئے سرتوڑ کوششیں میں مصروف ہیں اورصاف طور پر اسلام کے قلعہ کو مسمار کرنے کے درپے نظرآتے ہیں ایسے ہی لوگوں کے بارے جو رسالت مآب ﷺ کی عزت وحرمت کو اپنا دین وایمان نہیں سمجھتے علامہ اقبالؒ نے فرمایا ہے …؎
بمصطفیٰ برساں خویش راکہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی است !
ماخذ